خواتین اور خدمتِ قرآن / ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین – پروفیسر محمد اسحاق
اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی ہدایت کے لیے آسمانی کتابیں نازل کیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے ۔ اس نے انسانوں میں سے ہی ایسے برگزیدہ لوگوں کا انتخاب کیا جن پر اپنی کتاب نازل کی ، جنھیں ہم رسول کہتے ہیں ۔ رسول آسمانی کتابوں کے ترجمان ہوتے ہیں ۔ ان میں کیا کیا احکام اور کیا کیا حکمتیں پوشیدہ ہیں ، انھیں واضح کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺکو رسول بنا کر بھیجا اور اس بات کا اعلان بھی کر دیا کہ آپؐ پر نبوت کا اختتام ہوتا ہے ۔ وہ فرماتا ہے : مَا کانَ مُحَمَّدٌ أبا أحَدٍ مِّن رِجَالِکُم وَ لکِن رَّسُولَ اللّہ وَ خَاتَمَ النَبِیّینَ (الاحزاب:40 )۔ آپ ؐنے جس دین کی تبلیغ و اشاعت کی ، بس وہی انسانوں کی ہدایت کے لیے ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : اَ لۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا( المائدۃ:۳) ۔ آپؐ کی زندگی کا ہر پہلو قرآن کاترجمان تھا ۔ ایک مرتبہ چند صحابہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے امّ المومنین ! اللہ کے رسول ﷺکے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے ۔ عائشہ صدیقہؓ نے جواب دیا : کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟کان خُلُقُ رَسُولِ اللہِ القرآن ”رسول اکرمﷺ کا اخلاق قرآن تھا _”
(ابوداؤد) ۔ آپﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے قرآن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ رات دن قرآن کی تلاوت اور غور فکر میں منہمک رہتے ۔ جن صحابۂ کرام نے خاص طور سے قرآن سے لَو لگایا اور جن سے تفسیری اقوال سامنے آئے ان میں علی ؓبن ابی طالب ، عبداللہ بن مسعودؓ ، ابی بن کعبؓ اور عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ کے نام پیش پیش ہیں ۔ مذکورہ بالا صحابہ تفقہ فہ الدین ، وسعت وگہرائی علم ، فراست ، سرعت ذہن کے معاملے میں بے مثال تھے ۔
قرآن ہر دور کے لوگوں کے لیے سر چشمۂ ہدایت ہے اور قیامت تک کے لیے اس کا فیض جاری رہے گا ۔ ہر دور میں قرآن کے مطالب اور اللہ کا منشا جاننے کی انسانی کوشش ہوتی رہی ہے ، جس کے نتیجے میں سیکڑوں کتبِ تفسیر سامنے آئی ہیں ۔ مثلاً عربی تفسیروں میں طبری کی ’جامع البیان فی تفسیرالقرآن‘ ، امام رازی کی’مفاتیح الغیب‘ ، زمخشری کی ’کشاف‘ ، جلال الدین سیوطی و جلال الدین المحلی کی’تفسیر جلالین‘ اور ابن کثیر کی’تفسیر القرآن العظیم‘ وغیرہ ۔ اردو تفاسیر میں سر سید احمد خان کی ’تفسیر القرآن‘ ،مولانا ابولکلام آزاد کی ’ترجمان القرآن‘ ، مولانا امین احسن اصلاحی کی ’تدبّرقرآن‘ ، مولانا ابولاعلیٰ مودودی کی’تفہیم القرآن‘ ، مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن‘ اور پیر کرم شاہ ازہری کی ’ضیا القرآن‘ وغیرہ بہت اہم ہیں ۔
علم تفسیر ایک ایسا فن ہے جو اپنے اندر کئی علوم کو سموئے ہوئے ہے ۔ ایک مفسر کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم لغت کا ماہر ہو ، علم نحو و صرف کے قواعد سے واقف ہو ، علم الاشتقاق ، علم البیان ،علم المعانی اور علم البلاغت سے آگاہ ہو ، قراء ت کے اختلاف سے واقف ہو ، علم الکلام ، اسباب نزول ، علم الناسخ والمنسوخ اور حدیث نبوی میں مہارت رکھتا ہو ، اسالیب قرآن میں اسے تبحر ہو ، وغیرہ ۔ یہ تمام علوم اپنے آپ میں اتنے پیچیدہ اور مشکل ہیں کہ بعض لوگوں نے ایک ایک فن پر اپنی پوری زندگی لگا دی ۔ ہر آدمی کا ان تمام علوم پر دست رس حاصل کرانا بہت مشکل ہے ۔ پھر بھی توفیق الٰہی سے کچھ لو گ اپنے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کر لیتے ہیں ۔ ان علوم میں مہارت پیدا کرنے میں کافی وقت اور سرمایے کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی وجہ سے علم تفسیر کے میدان میں خواتین کے ذریعے لکھی گئی تفاسیر کم نظر آتی ہیں ۔ پھر بھی میری معلومات کے مطابق تقریباً تیرہ (۳۱) تفاسیر ایسی ہیں جو خواتین نے لکھی ہیں ۔ مسلم خواتین کے اندر بھی اچھی علمی صلاحیت پائی جاتی ہے ۔ اگر ان کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ بہت اچھے کام کر سکتی ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (سابق ریسرچ فیلو آکسفورڈ یونی ورسٹی) نے عربی زبان میں الوفاء في أسماء النساء کے نام سے تقریباً نو (۹) ہزار محدثات کا تذکرہ جمع کیاہے ۔ ان کی یہ کتاب پچاس(50) سے زائد جلدوں پر مشتمل ہے ۔
مصنفہ نے اس کتاب میں ان تمام خواتین کا ذکر نے کی کوشش کی ہے جو کسی نہ کسی صورت سے علوم قرآنی سے وابستہ رہی ہیں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ازواج مطہرات کے عہدسے لے کر موجودہ دور تک کی خواتین کو شامل کتاب کیا ہے ۔ عالم عرب اور ہندو پاک کی خواتین کے علاوہ وہ خواتین جن کا تعلق کسی مغربی ملک سے ہے اور انھوں نے روایتی انداز سے یا اس سے ہٹ کر جدید رجحانات کے تحت قرآن کی تفسیر یا ترجمہ کیا ہے ، یا قرآن مجید کی روشنی میں کسی موضوع پرلکھا ہے ، ان کو بھی شامل کتاب کیا ہے ۔ یہ ان کی تھیسس کا حصہ نہیں تھا ، لیکن کتاب کے موضوع کے لحاظ سے اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔ یہ ایک عمدہ اور نیا موضوع ہے ، کیوں کہ خواتین کی قرآنی خدمات کو اتنی بڑی تعداد میں اس سے پہلے جمع نہیں کیا گیا ۔ امید ہے کہ اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے یہ کتاب بہترین معلومات کا سبب بنے گی ۔
در اصل مصنفہ ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین کا یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے ، جس پر انھیں شعبۂ اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی سے پی ، ایچ ، ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ہے ۔ پروفیسر فریدہ خانم صاحبہ کے سبک دوش ہو جا نے کے بعد یہ میری نگرانی میں آئیں ۔ اپنے مقالے کا زیادہ تر کام وہ پروفیسر موصوفہ کی نگرانی میں کر چکی تھیں ۔ ابھی تک اس موضوع پر ایسا کوئی کام نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے اپنی لگن اور محنت سے اس کام کو پائے تکمیل تک پہنچایا ۔ مصنفہ کا تعلق بہرائچ(صوبہ اتر پردیش) سے ہے ۔ جامعۃ الصالحات سے انہوں نے عالمہ کی ڈگری حاصل کی ، اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی اے اور ایم اے کیا ۔ علی گڑھ میں انہوں نے فیکلٹی ٹاپ کیا اورگولڈ میڈل حاصل کیا ۔ فی الوقت مصنفہ شعبۂ اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ ان کے اس کام کو شرفِ قبولیت بخشے اور عوام الناس کے اندر قرآن فہمی کا ذوق فروغ دے ۔
محمد اسحاق
10 جولائی 2019 ء
صفحات :376
قیمت :350 روپے
ناشر :ہدایت پبلشرز نئی دہلی
رابطہ :9891051676
نوٹ : یہ پروفیسر محمد اسحاق صاحب کی تحریر ہے جو ‘‘خواتین اور خدمتِ قرآن /( ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین ) میں بطور مقدمہ شامل ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
یہ کتاب خریدنی ہے
میرا رابطہ وغیرہ لکھتا ہوں قیمت بھی ادا کروں گا
حافظ محمد احسن ماجدی جامع مسجد امیر حمزہ ؓ (دارا کبوتراں)مین بازار وزیرآباد گوجرانوالہ پنجاب پاکستان
03014030796