آپ اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلے بہت سوچ سمجھ کر اور بڑے غور و فکر کے بعد لیتے ہیں۔ بعض دفعہ آپ خود کو ایک کمرہ میں بند کر لیتے ہیں اور اپنے ان منصوبوں کے متعلق گھنٹوں سوچتے رہتے ہیں جن کے لیے آپ کو ایک فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں ایک اہم فیصلہ مقصد حیات کا ہے۔ آپ زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ آپ ایک دم سے نہیں لیتے ہیں۔ اپنا ہدف متعین کرنے سے قبل آپ اپنے والدین، اساتذہ اور دوستوں سے رجوع کرتے ہیں اور ان کا مشورہ طلب کرتے ہیں۔ آپ خود بھی اپنے ہدف کے امکانات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی حصول یابی کے سارے نکات کا مطالعہ کرتے ہیں اور مشکلوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ آپ جب ہر طرح سے مطمئن ہو جاتے ہیں تو آپ ایک فیصلہ لیتے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔
اپنی زندگی کا ہدف متعین کرنا در اصل ایک خواب دیکھنا اور اس کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ آپ اپنے ہدف کی طرف عام طور پر بڑی خاموشی سے آگے بڑھتے ہیں۔ آپ خود کو ہر چیز سے الگ کر لیتے ہیں۔ کسی بھی طرح کی پارٹی میں آپ کی دلچسپی نہیں ہوتی ہے۔ آپ دوست و احباب کی شادیوں میں شریک نہیں ہوتے ہیں۔ آپ اپنے مقصد کو پانے میں کبھی کبھی اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ آپ کے اپنے اور قریبی لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کہاں ہے اور کیا کر رہے ہیں۔ اچانک کسی دن بڑا شور ہوتا ہے اور پھر سب کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ، جو اب تک سب کے لیے گمنام تھے، آئی اے ایس بن گئے ہیں یا آپ نے اس سے بھی بڑا کوئی مقام حاصل کر لیا ہے۔ یہ در اصل اپنے مقصد کو پا لینے کا وہ طریقہ ہے جس میں آپ کی محنت بڑی خاموشی سے ہوتی ہے اور آپ کی کامیابی اچانک شور مچاتی ہے۔
خاموشی سے محنت کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اور آپ کے خواب کے درمیان کوئی Dream Stealer یعنی "خواب چور” حائل نہیں ہوتا ہے۔ یہ خواب چور منفی سوچ کے حامل نہایت ہی سست اور کاہل انسان ہوتے ہیں۔ یہ آپ کی آنکھوں سے خواب چرا کر ان میں نیند بھر دیتے ہیں۔ یہ صبح سے شام تک بس ایک ہی کام کرتے ہیں، یہ ہر محنت کرنے والوں سے یہی کہتے ہیں کہ آپ کی محنت رایگاں چلی جائے گی۔ یہ ہر خواب دیکھنے والوں کو اس کے خواب کی ایک ہی تعبیر بتاتے ہیں کہ آپ کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو گا۔ ان کو ہر ممکن کام ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ ان کو ہر منزل راستہ نظر آتا ہے۔ یہ صرف ڈوبتا ہوا سورج دیکھتے ہیں اور نکلتا ہوا آفتاب ان کو نظر نہیں آتا۔ یہ رات کی تاریکی سے خوف دلاتے ہیں مگر یہ اندھیرے میں چمکتے چاند اور جگمگاتے ستاروں کی بات نہیں کرتے۔ یہ مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور آسانیوں کی طرف سے آنکھ بند کر لیتے ہیں۔ ان کا ایمان یہ ہوتا ہے کہ کامیابی کا کوئی فارمولا بنا ہی نہیں ہے۔ یہ محنت کو فضول سمجھتے ہیں اور ناکامی کو مقدر گردانتے ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی چیز کو پانے کے لیے محنت نہیں کی ہوتی ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ محنت کے درخت پر کتنے میٹھے پھل لگتے ہیں۔ آپ جب بھی ان سے ملیں گے یہ آپ کو محنت کرنے سے روکیں گے۔
آپ زندگی میں جب بھی کوئی بڑا کام کرنے کا ارادہ کریں تو اس کی تکمیل کے لیے خاموش محنت کریں۔ کسی بڑے پروجیکٹ پر کام کرنے سے قبل بلا شبہ آپ صاحب عقل و خرد سے مشورہ کر سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کا گول سیٹ کرنے سے پہلے آپ ضرور دس لوگوں سے ملیں۔ لیکن جب آپ ایک فیصلہ لے لیں تو اس کو بار بار دس لوگوں کے درمیان کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے سماج میں آپ کو ہر دس میں تین آدمی ایسے ضرور ملیں گے جو "خواب چور” ہوں گے۔ باقی سات میں بھی کچھ ایسے انسان ملیں گے جو آپ کے خواب اور آپ کی محنت سے حسد کرنے لگ جائیں گے۔ حصول مقصد کی کوشش میں کبھی ایسا مرحلہ بھی آئے گا جہاں دس کے دس آپ کی ٹانگ کھینچنا شروع کر دیں گے۔ آپ جب اس مرحلے میں پہنچ جائیں جہاں آپ کو لگے کہ سبھی آپ کو پیچھے دھکیلنے میں اپنی توانائی خرچ کر رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ اپنی منزل سے قریب تر ہیں۔ یہ دنیا اس طرح کی ہے کہ یہاں لوگ آپ کو آپ کے کامیاب ہونے پر مبارکباد تو دیتے ہیں لیکن یہی لوگ آپ کو پیچھے دھکیلنے میں اس وقت اپنی طاقت زیادہ صرف کرتے ہیں جب آپ اپنی کامیابی سے محض ایک قدم دور ہوتے ہیں۔
اگر آپ کو ایسا ماحول نہیں مل رہا ہے جہاں آپ چپ چاپ اور بنا کسی رکاوٹ کے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہ سکیں یا پھر آپ کی طبیعت ہی اس طرح کی ہے کہ بنا دس لوگوں کے بیچ اٹھے بیٹھے آپ کا دن نہیں گزرتا تو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک عام سی بات ہے اور یہی اصل زندگی بھی ہے۔ آپ کے لیے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے گول پر نظر رکھیں۔ اگر آپ دن میں دس لوگوں سے ملتے ہیں تو آپ پندرہ بار خود کو یہ یاد دلائیں کہ آپ کی منزل کیا ہے اور آپ کہاں ہے۔ کبھی کسی "خواب چور” سے سامنا ہو جائے اور وہ آپ سے کہنے لگے کہ "ارے بھائی، آپ جو خواب دیکھ رہے ہیں وہ کبھی مکمل نہیں ہو گا۔” تو آپ پلٹ کر اس کو جوزف جوبیر (Joseph Joubert) کا یہ قول یاد دلائیں:
Un rêve est la moitié d’une réalité
اور اس کا ترجمہ بھی کر کے بتائیں کہ خواب نصف حقیقت ہے۔ آپ اس سے کہیں کہ بھائی میری منزل کا تو آدھا سفر تو اسی وقت پورا ہو گیا تھا جب میں نے اپنی منزل کا خواب دیکھا تھا۔ اب تو صرف آدھا راستہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ آپ "خواب چور” کے جملے پر بھی غور کریں۔ وہ خود بھی در اصل یہی کہہ رہا ہوتا ہے کہ آپ کا نصف راستہ طے ہو چکا ہے۔ اس کا پسندیدہ جملہ "ارے بھائی، آپ جو خواب دیکھ رہے ہیں وہ کبھی مکمل نہیں ہو گا۔” یہاں وہ یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ آپ خواب ہی نہیں دیکھ سکتے۔ "مکمل نہیں ہوگا” کا مطلب تو یہی ہے کہ خواب دیکھنے والا کہیں بیچ راستے میں ہے۔ یعنی خود بقول "خواب چور” آپ کا نصف راستہ مکمل ہو چکا ہے۔
جب ہم کوئی خواب دیکھتے ہیں یعنی جب ہم اپنا مقصد حیات متعین کرتے ہیں تو در اصل اسی وقت ہم اپنے دماغ کو ایک پیغام اور ٹاسک دیتے ہیں۔ ہمارا دماغ میسج پا کر Active ہو جاتا ہے اور وہ اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ دماغ کی "شکتی” کیا ہے اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنا بتاتا چلوں کہ دماغ کے پاور پر اعتبار کر کے ہی یہ کہا جاتا ہے:
If you can think, you can do
اے پی جے عبد الکلام نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ خواب وہ نہیں ہے جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے ہیں بلکہ خواب وہ ہے جو آپ کو سونے نہیں دے۔
DREAM is not what you see in sleep, DREAM is something which doesn’t let you sleep
یہاں سونے نہیں دینے والی بات کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کو پانے کا ایک بار ارادہ کر لیتے ہیں اور آپ کے دماغ کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اسے کیا حاصل کرنا ہے، تو پھر وہ آرام سے نہیں بیٹھتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف یقین اور اعتماد کا ہے۔ کبھی آپ خود پر یقین نہیں کرتے اور کبھی آپ "خواب چور” کی باتوں میں آ کر اپنے دماغ پر اعتماد نہیں کرتے۔ جب آپ کو اس بات کا علم ہو جائے یا آپ کا یقین اتنا پختہ ہو جائے کہ آپ زندگی میں جیسے ہی کچھ کرنے کا خواب دیکھتے ہیں تب وہ خواب صرف خواب نہیں رہ جاتا بلکہ وہ نصف حقیقت بن جاتا ہے۔ وہ خواب جو دیکھتے ہی نصف حقیقت بن جائے تو پھر میرا یقین مانیں کہ وہ خواب نہ تو آپ کو سونے دے گا اور نہ دوسروں کی باتوں میں پھنسنے دے گا یہاں تک کہ وہ مکمل حقیقت نہ بن جائے۔۔۔
محمد ریحان
جامعہ ملیہ اسلامیہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

