اردو کے لیے چندربھان خیال، کشمیری کے لیے ولی محمد اسیر کشتواڑی سرفراز
دیگر ہندستانی زبانوں کے ادبا کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا
پریس ریلیز
نئی دہلی، 11 مارچ (پریس ریلیز)۔ساہتیہ اکادمی کا سالانہ جلسہ تقسیم ایوارڈ آج دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں شام پانچ بجے منعقد ہوا جس کی صدارت اکادمی کے چیئرمین پروفیسر چندرشیکھر کمبار نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر مراٹھی کے ممتاز شاعر، ادیب و نقاد جناب بھال چندر نیماڈے نے شرکت کی۔ جناب نیماڈے نے اس موقع پر کہا کہ ہندوستان کثرت میں وحدت کی مثال ہے اور یہ ملک کی مختلف تہذیب و ثقافت، کھان پان، زبان اور کردار وغیرہ میں ہم محسوس کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی ادبی روایت دنیا میں سب سے قدیم ہے۔ انھوں نے آگے کہا کہ ہماری تہذیب کی جڑیں بہت گہری اور مضبوط ہیں۔ انھوں نے نوجوان ادیبوں سے درخواست کی کہ ہمیں اپنی زندگی کی طاقت تہذیب و ثقافت سے لینی چاہیے لیکن اگر اس میں مختلف تہذیب اور زبانوں کے ادب کا رس بھی ملتا جائے تو اس سے ہماری ثقافت مفصل اور زیادہ ہم آہنگ ہوجائے گی۔
تقریب کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر کے شری نواس راؤ نے اپنے تفصیلی خیرمقدمی تقریر میں اکادمی کی کارکردگیوں کو پیش کیا اور انعام یافتگان کو اکادمی کی جملہ اراکین کی طرف سے مبارکباد پیش کی۔ اکادمی کے چیئرمین پروفیسر چندرشیکھر کمبار نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ آزادی کے دوران ہندوستان کے دیہی علاقوں میں جو لوک ادب ہم نے رچا اس نے ہمارے عوام کو ابھی تک متاثر کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کرونا وبا کے دوران بھی ساہتیہ اکادمی کو متواتر محرک رکھنے کے لیے کیے گئے کاموں کی پذیرائی کی۔ اکادمی کے وائس چیئرمین جناب مادھو کوشک نے اظہار تشکر پیش کیا اور کہا کہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ میں آپ ایک چھوٹے ہندوستان کو محسوس کرسکتے ہیں جس میں ہندوستان سے کونے کونے سے 24 زبانوں کے ادیبوں کو انعام سے سرفراز کیا جاتا ہے۔
انعام یافتگان میں انورادھا شرما پجاری (آسامی)، براتیہ بسو (بنگالی)، مودائے گاہائے (بوڈو)، راج راہی (ڈوگری)، یگیش دوے (گجراتی)، دیا پرکاش سنہا (ہندی)، ولی محمد اسیر کشتواڑی (کشمیری)، سنجیو ویرینکار (کونکنی)، جگدیش پرساد منڈل (میتھلی)، جراج اونکو (ملیالم)، تھاک چام اباہنبی سنگھ (منی پوری)، کرن گورو (مراٹھی)، چھوی لال اُپادھیائے (نیپالی)، ہرشی کیش ملک (اڑیہ)، خالد حسین (پنجابی)، میٹھیس نرموہی (راجستھانی)، وندھیشوری پرساد مشر ’ونے‘ (سنسکرت)، ارجن چاؤلہ (سندھی)، ابئی (تامل)، مورٹی ونکنا (تیلگو) اور چندربھان خیال (اردو) شامل تھے۔
(محمد موسیٰ رضا)
ساہتیہ اکادمی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

