المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام تذکرہ پرگرام کا انعقاد
دربھنگہ(نمائندہ)29 اپریل2022 بروز اتوار شام چار بجے المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی زیر اہتمام معروف شاعر و افسانہ نگار انور آفاقی کی کتاب ”میزانِ فکر و فن“ پر ایک پرگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ اس پروگرام کی صدارت پروفیسر عبدالمنان طرزی نے کی۔ مہمان خصوصی پروفیسر احتشام الدین صاحب رہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اپنی تمہیدی گفتگو میں ڈاکٹر آزاد نے انور آفاقی کی کتاب ”میزانِ فکر و فن“ کی گونا گوں خصوصیات کا ذکر کیا۔کتاب کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحی نے کہا کہ کتاب کے مضامین توجہ طلب ہیں ۔ انور آفاقی کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ مزید محنت جاری رکھیں تو یقینی طو ر پر تحقیقی کام انجام دے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شہنواز عالم نے کہا کتاب کے مشمولات پر گفتگو کی ۔ کتاب میں جو مضامین اور تبصرے شامل ہیں ان سے لگتا ہے کہ وہ فنی لوازمات سے واقف ہیں۔ پروفیسر سید احتشام الدین نے کہا کہ ڈاکٹر انور آفاقی سنجیدگی سے کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے بہت اچھے انداز میں گفتگو کی اور مختلف مضامین پر روشنی ڈالی ۔ صفی الرحمن راعین نے کہا کہ انور آفاقی نے ڈاکٹر ہرگانوی ، ڈاکٹر طرزی ، سید محمود احمد کریمی، ڈاکٹر مجیر احمد آزاد، ڈاکٹر احسان عالم ، ڈاکٹر منصور خوشتر وغیرہ کی تخلیقات پر فکر انگیز تجزیات غیر جانبدارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ سید محمود احمد کریمی نے کہا کہ انور آفاقی کی تحریر میں جامعیت ، حقیقت بیانی اور تاریخی شواہد کی جلوہ سامانی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر منصور خوشتر نے انور آفاقی کی تحقیقی صلاحیت پر روشنی ڈالی ۔ پروگرام کے صدر پروفیسر عبدالمنان طرزی نے اپنے منظوم تاثرات میں کہا کہ :
انور جناب لائے ہیں میزانِ فکر و فن
نسریں ہے کوئی نقش تو کوئی ہے نسترن
آفاقی اُن کے نام کا حصّہ ہے ثانوی
آفاقیت شعار ہے کاوش جناب کی
اظہارِ مُدّعا کا سلیقہ ہے خوب ہی
تاثیر سے بیان کا رشتہ ہے خوب ہی
وہاٹس ایپ پر اپنے منظوم تاثرات پیش کرتے ہوئے نذیر فتح پوری نے کہا :
آفاقیت ہے آپ کے فن شعور میں
لفظ و بیاں پہ آپ کو حاصل ہے دسترس
مغرور واہ واہی پہ ہوتے نہیں کبھی
تعبیر ڈھونڈتے ہیں یہ دیرینہ خواب کی
شمیم قاسمی نے کہا ہر چند کہ اس سے اقبال کے تئیں آپ کی ادبی و ذہنی وابستگی عیاں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سر اقبال کی سن پیدائش کو آپ نے فوکس کرتے ہوئے بعض شک و شبہات و گمراہ کن اطلاعات کا ازالہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ ”میزان فکر و فن “ ہاتھوں میں ہے۔ آپ نے ایک نہایت خوبصورت انجمن سجائی ہے۔ ایسے کئی نادر روزگار شخصیات اور ان کے فن کا بہترین انداز میں تعارف کروایا جن سے میں واقف نہیں تھا۔ اظہار خضر نے کہا آپ ایک سنجیدہ اور محنت سے لکھنے والے قلمکار ہیں ۔ ادبی گروہ بندیوں سے دور ادب اور آرٹ کے تئیں آپ کی سپردگی لائق تحسین ہے۔
آن لائن موجود مران غنی صبا نے "میزانِ فکر و فن ” کے مضامین اور تبصروں میں معروضیت ہے۔ انور آفاقی ایک معتبر شاعر اور افسانہ نگار بھی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر میں بھی تخلیقیت ہے۔ معروضیت اور تخلیقیت کے امتزاج سے پیدا ہونے والے آفاقی نور کا نام انور آفاقی ہے۔صالحہ صدیقی، الہ آباد ،غلام نبی کمارشری نگر نے انور آفاقی کی ادبی خوبیوں کو سراہتے ہوئے کیا کہ آپ کے اچھے ادیب کے ساتھ اچھے انسان بھی ہیں۔ آپ کی تحریریں قارئین کو یقینی طور پر متاثر کرتی ہیں۔ انور آفاقی کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔
٭٭٭
—
Mansoor Khushter
09234772764
09472059441
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

