Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras مئی 31, 2022
by adbimiras مئی 31, 2022 0 comment

زندہ اور متحرک ادب کا ترجمان ’اثبات‘: وسیم احمد فدا

 

کتابی سلسلہ اثبات اپنے پہلے دور سے ہی ادبی دنیا میں ایک منفرد شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

اس ادبی جریدے سے میرا باقاعدہ تعارف اس کی نشاۃِ ثانیہ کے زمانے سے ہوا۔ اثبات کی اشاعت کے دوسرے دور میں مسلسل کئی ادبی، تحقیقی، اور اوردستاویزی نوعیت کے خصوصی شمارے سرقہ، ادب میں فحش نگاری، احیائے مذاہب اور مشاعرہ وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر اس اہتمام اور طمطراق سے شائع ہوئے کہ مجھ سمیت ادب کے ایک معتد بہ حلقے کو اس ادبی جریدے نے اپنا گرویدہ بنا لیا۔

مذکورہ خصوصی شماروں کے علاوہ اثبات کے عام شمارے بھی ادب شائقین کے لیے ایک خاص قسم کی ادبی ضیافت کا مکمل سامان کیے ہوتے ہیں۔

سابقہ شمارے سے اثبات نے میری محدود معلومات کے مطابق ہندوستان کے ادبی جرائد کی تاریخ میں ایک نیا اور خوبصورت سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے یہ انداز پاکستان کے "دنیا زاد” اور "آج” میں دیکھنے کو ملتا تھا کہ وہ اپنے شمارے میں معمول کے کالمز کے علاوہ کوئی ایک پورا ناول یا خود خودنوشت وغیرہ شامل کرتے ہیں۔۔۔ لیکن اب اشعر نجمی صاحب نے گذشتہ شمارہ نمبر 33 میں عبد الرزاق گرناہ (نوبل انعام یافتہ 2021ء) کے مکمل ناول The Memory of Departure کے ترجمے کی اشاعت کے ساتھ  "اثبات” میں بھی اس خوبصورت اور اہم سلسلے کا آغاز کر دیا ہے۔ کم از کم مجھ جیسے ادب کے طالب علم کے لیے تو یہ واقعی خوش آئند بات ہے جو اردو کے معاصر ادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادب بالخصوص فکشن کو بھی اپنے مطالعے میں رکھنا چاہتا ہے۔

زیرِ نظر شمارہ (34) اس اعتبار سے تو اہمیت کا حامل ہے ہی کہ اس میں سعید نقوی کے ذریعے ترجمہ کیا ہوا  اسماعیل کادارے کا مکمل ناول Broken April اور اطالوی ناول نگار اٹالو کالوینو کے چھ افسانے شامل ہیں۔ بلکہ یہ شمارہ اس وجہ سے بھی خاص ہے کہ اس میں اردو کے کئی رسائل کی مروجہ روش سے انحراف کرتے ہوئے بھرتی کی کوئی چیز شامل نہیں کی گئی ہے۔ اور یہ اس شمارے کی ہی کیا، اثبات کے کم و بیش ہر شمارے کی خصوصیت ہے۔

پچھلے شمارے کے موقع پر میں نے یہ سوچا تھا کہ مکمل ناول سمیت پہلے پورا شمارہ پڑھ لوں پھر ٹوٹے پھوٹے لفظوں می اپنے تاثرات لکھوں گا، لیکن میری تساہلی کی وجہ سے اُس شمارے کو مکمل پڑھنے میں اتنا وقت کھنچ گیا کہ تبصرہ تو کجا؟ میں بروقت صحیح طور سے اس کی رسید بھی نہ دے سکا۔  اسی خوف سے اس بار کے شمارے کا مکمل ناول اور اٹالو کالوینو کے افسانے میں نے بعد کے لیے رکھ چھوڑے ہیں  ، البتہ باقی مشمولات مطالعے میں آ چکے ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں اداریے کی۔ گذشتہ تین شماروں سے ایک تسلسل کے ساتھ ادب اور اس کے بنیادی سروکار، ادیب اور قاری کے باہمی روابط نیز مصنف اور قاری کے مابین در آنے والی ترجیحاتی تفریق  پر اشعر نجمی صاحب "نادیدہ قاری” کے نام خط لکھ کر ایک اہم مکالمے کی فضا بنائے ہوئے ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ایک اہم اور لابدی گفتگو میں ہمارے ثقہ ادیب اور دیگر افراد (قارئین) اس طور پر حصہ نہیں لے رہے جس سے کار آمد اور صحت مند مکالمے کی فضا قائم ہو اور یہ ادبی جمود ٹوٹے۔

اگر ذرا دیر کے لیے میں اشعر نجمی صاحب کے ان متذکرہ اداریوں کا مخاطب نادیدہ قاری خود کو تصور کروں تو میں بھی اس اہم گفتگو میں کچھ حصہ لینا اپنی سعادت سمجھوں گا۔

جس طرح یہ مصنف کا بنیادی حق اور اختیار ہے کہ وہ کیا لکھے اور کیسے لکھے۔۔۔؟ اسی طرح قاری (ادب کا سنجیدہ قاری) بھی اپنی ترجیحات کے اختیار میں حق بجانب ہے۔ ویسے بھی۔۔۔ کسی بھی ادبی تحریک کی حمایت میں لکھی جانے والی ہر دور کی سکہ بند تنقید اپنی نظریاتی بنیادوں کے حوالے سے ادب اور اس کے قاری کے لیے کبھی پوری طرح شفاف اور غیر جانبدار نہیں رہی۔ ہر آنے والا نظریاتی اور اسلوبیاتی ادبی رجحان اکثر اوقات قاری کی موجودگی یا ادب پر اس کی اثر انگیزی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ‘اپنی ڈھپلی، اپنا راگ’ الاپتا نظر آتا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف تو  ادبی تنقید اس طرح کے خیالات کی حامل نظر آتی ہے کہ ‘ادب اور مذہب دو علیحدہ چیزیں ہیں’۔۔۔ ‘مذہب کی آمیزش کسی بھی ادب پارے کو دوسرے درجے کی تحریر بنا سکتی ہے’۔۔۔ ‘ادب میں کسی مذہبی شریعت کی ترویج قبیح چیز ہے’۔۔۔ یا ‘ادب کی خود اپنی شریعت ہے’ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن دوسری جانب ادب میں مذہب کا یہی تڑکا اور مسیحی تعلیمات و عقائد کا تفصیلی تذکرہ یوسف زیدان کے ناول "عزازیل” کو ادبی تنقید میں اعلٰی مقام عطا کردیتا ہے، اور اورحان پامک کے محض مشرقی تہذیب و ثقافت کے تناظر میں لکھے بیانیہ پر (خواہ ڈھکے چھپے لفظوں میں ہی سہی) فکشن کو اسلامیانے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔

اردو میں بھی کئی ایسی مثالیں ہیں جن کی روشنی میں ہماری ادبی تنقید جانبداری یا Duplicity کا نمونہ نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر ہماری تنقید "آگ کا دریا” میں برہنمواد اور بدھ مت کی تاریخ، فلسفے اور عقائد کے بیان کو تو اس ناول کی عظمت کی علامت گردانتی ہے مگر اردو کو "پیتل کا گھنٹہ” جیسا شاہکار دینے والے قاضی عبد الستار کے تاریخی ناولوں کو فکشن کے تذکروں میں عمداً نظر انداز کر دیتی ہے۔ کم و بیش یہی hippocracy پاپولر لٹریچر اور سنجیدہ ادب کی درجہ بندی کے مباحث میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ میں تو حیران ہوتا ہوں اس بات پر کہ ادب کے فاضل ناقدین نے "جانگلوس” کی طرح شوکت صدیقی کے ناول "خدا کی بستی” کو پاپولر لٹریچر کے خانے میں کیوں نہیں ڈالا۔ شاید اس ناول کو ادب عالیہ کی فہرست میں رکھنا ہمارے ناقدین کی مجبوری ہو، کیوں کہ اُس دور میں (اور میری ناقص معلومات میں اب تک) اردو ادب میں نو آبادیاتی نظام پر اس سے عمدہ ناول نہیں لکھا گیا۔۔۔

اس ساری تمہید کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کوئی بھی ادبی فن پارہ محض کسی ایک وجہ سے مقبولیت کے درجے کو نہیں پہنچتا (یہ بھی الگ بحث کا موضوع ہے کہ کسی ادبی تخلیق کی مقبولیت کا تعین کرنے کے لیے ٹولز اور پیمانے کیا ہونے چاہئیں؟) بلکہ ہر تخلیق اپنے زمان و مکان، سماجی، معاشرتی و سیاسی حالات و ادوار کے تناظر میں بھی اپنے تفہیمی مدارج طے کرتی ہے۔ قاری کی بتدریج صیقل ہوتی ذہانت بھی اس کے مطالعے کے رجحان کا تعین کرتی ہے۔ مثلاً عمر کے ابتدائی حصے میں جو کتابیں یا ادب کا جو اسلوب ایک قاری کو مرغوب ہو ضروری نہیں کہ آئندہ سالوں میں بھی لٹریچر کا وہی Genre یا اسلوب اس کو راس آئے۔۔۔ عمر اور ذہن کی پختگی کے ساتھ مطالعے کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ البتہ مطالعے کی عمر جب ایک معتد بہ مرحلے کو پینچ جاتی ہے تب ہم قاری سے ترجیحات کی صحیح سمت طے کرنے کی امید اور مطالبہ کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کسی کے تربیت یافتہ قاری نہ ہونے کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر کرنا کہ اس کی طبیعت کسی غیر مانوس، نسبتاً جدید پیرایہء اظہار یا unpredictable ادبی متن سے لگّا نہیں کھاتی، پوری طرح صائب نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ مجھ جیسے بہت سے قاری ہوں گے جو بیک وقت خالد جاوید کی ‘موت کی کتاب’ اور محسن خان کے ‘اللہ میاں کا کارخانہ’ سے پوری طرح ادبی حظ اور مطالعاتی سرور حاصل کرتے ہیں۔

اثبات کے اداریوں کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اشعر نجمی اپنے کسی بھی شمارے میں اردو کی زبوں حالی یا اردو رسائل کی میت پر نوحہ لکھ کر اپنے صفحات ضائع نہیں کرتے، بلکہ ہر تازہ شمارے کے ساتھ وہ اپنی گفتگو سے قارئین کی فکر کے دروازوں پر نئی دستکیں دے کر صحیح معنوں میں اثبات کے زندہ اور متحرک ادب کا ترجمان ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

خالد جاوید صاحب  کے مضمون ” عتیق اللہ: وجود کی متبادل جمالیات کا شاعر” کے علاوہ شمارے میں موجود تمام مضامین دو ماہ قبل غالب انسٹیٹیوت میں ہونے والے "معاصر اردو ادب میں نئے تخلیقی رویے” کے موضوع پر منعقد سیمینار میں بنفس نفیس سننے کا شرف حاصل رہا۔  اب تحریری صورت میں ان کے بالاستیعاب مطالعے سے مزید ان میں موجود علمی باتوں سے استفادے کا موقع میسر آیا۔ اشعر نجمی صاحب کے ناول "اس نے کہا تھا” پر شمارے میں موجود مضمون کی قرات جب خورشید اکرم غالب انسٹیٹیوت میں کر رہے تھے اس دوران مسلسل ہونے والی سرگوشیوں کا ناچیز بھی گواہ ہے۔۔۔ خورشید اکرم صاحب نے اس ناول پر بہت عمدگی اور بے باکی سے گفتگو کی ہے۔

خالد جاوید صاحب نے اپنے مضمون میں عتیق اللہ صاحب کی شعری کائنات سے ایک الگ اور منفرد انداز میں روبرو کرایا ہے۔ بالخصوص مغرب میں فکشن اور مصوری کی جدید صنف Boddy Horror کے استعمال کو عتیق اللہ کی شعری روایات سے مربوط کر کے انہوں نے جو گفتگو کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

طارق چھتاری صاحب فی زمانہ اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہیں، انہوں نے خالد جاوید کے ناول "نعمت خانہ” کو جس طرح اپنے مضمون میں ڈسکس کیا ہے اس سے احساس ہوتا ہے کہ ایک جینوئن تخلیق کار جب کسی فن پارے کو تنقیدی نقطہ نظر سے شامل گفتگو کرتا ہے تو تبصرے کے دوران وہ نرا مبصر ہی نہیں رہ جاتا، بلکہ اس کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں بھی زیر بحث فن پارے کو کچھ ایسے زاویوں سے ڈی کوڈ کرتی ہیں جو صرف ایک فکشن لکھنے والا ہی کر سکتا ہے۔

افسانوں اور شعری تخلیقات  کے باب میں اشعر نجمی صاحب نے اس شمارے میں جن تخلیق کاروں کو شامل کیا ہے اس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ وہ محض رسالے کا پیٹ بھرنے کے لیے کسی تحریر کو شامل نہیں کرتے۔ فارحہ ارشد کے تعلق سے جو بات مدیر محترم نے اپنے ادارتی نوٹ میں تحریر کی ہے میں بھی اسی سوچ کی وجہ سے اب تک فارحہ ارشد کے افسانوی حیرت کدے سے نا آشنا رہا تھا۔ میرا بھی یہی گمان تھا کہ "عموماً معاصر پاکستانی افسانہ نگاروں میں تکنیکی تنوع کم اور رومانیت کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے” اسی لیے فیس بک پر کئی مختلف افسانوی گروپس میں فارحہ ارشد صاحبہ کا نام نظر سے گزرنے کے باوجود اب تک ان کو پڑھ نہیں سکا تھا۔۔۔ یہ بلا مبالغہ اشعر صاحب نے بہت احسن فیصلہ کیا کہ ان کے افسانوں کو شامل کر کے ایک بہترین افسانہ نگار کو ہم جیسے لاعلم قاری سے متعارف کرایا۔ ورنہ سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے با کمال فکشن نگار موجود ہیں جن کے ہم بس نام پڑھ کر سرسری گزر جاتے ہیں۔ شمارے میں شامل فارحہ ارشد کا پہلا افسانہ ” بی فور دی ایور آفٹر ” واقعی ایک تصویری کینوس کا سا احساس کراتا ہے۔ ایک عورت ہوتے ہوئے مرد کے داخلی جذبات اور احساسات کو افسانہ نگار نے جس ہنر مندی سے افسانے کا حصہ بنایا ہے، وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ اس کے علاوہ "تلووں سے چپکا آخری قدم” اور ” آرکی ٹائپل کڈھب کردار” کے مطالعے کے بعد کہنا پڑتا ہے کہ فارحہ ارشد کے یہاں نہ تو موضوعات کی کمی ہے اور نہ ہی اسلوب اور تکنیک کے تنوع کی۔ ان کے تینوں افسانے بالترتیب سادہ بیانیہ، نیم علامتی اور علامتی طرز اظہار کی عمدہ مثالیں ہیں۔

خورشید اکرم صاحب کا افسانہ "بھول بھلیاں” بظاہر ایک گھریلو زندگی کی ہلکی پھلکی کہانی پیش کرتا ہے لیکن خورشید صاحب جس طرح چھوٹی چھوٹی جزئیات کے سہارے کہانی کہتے ہیں وہ قاری کو آخر تک باندھے رکھتا ہے۔ ان کی افسانہ نگاری کا اصل جوہر ان افسانوں کا اختتام ہے۔ اثبات کے ہی شمارہ نمبر 32 میں شامل ان کا افسانہ ” آپ مجھے تم کہیے” بھی کچھ ایسے  ہی تاثرات ذہن پر نقش کرتا ہے۔

جاوید نہال حشمی کے افسانچے اس شمارے کی سج دھج میں ایک عمدہ رول ادا کرتے ہیں۔

شعری حصے میں خصوصی اشاعت کے تحت شامل فرحت احساس صاحب کی بیس غزلوں کا کومبو پیک ان کی شاعری کے تیور اور رجحان  دونوں کو سمجھنے میں بڑی حد تک معاون ہے۔ سچ کہوں تو فرحت احساس کی شاعری آسانی سے دستیاب ہونے کے باوجود میرے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ میں ان کی شاعری کے مختلف رنگوں سے روبرو کراتی اتنی غزلیں ایک ساتھ پڑھ سکا۔ اس کے لیے اثبات کا بطور خاص شکر گزار ہوں۔۔۔ ؂

ہار کر ایک بڑی جنگ، کہانی ہونا

جسم کو باعثِ اعزاز ہے فانی ہونا

شمارے میں شامل ان کی تمام غزلیں ایک خاص لہجے اور ہم عصر شعری روایات سے یک گونہ انحراف کو ظاہر کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن جس اہتمام اور priority کے ساتھ ان کو شمارے میں شامل کیا گیا ہے، اس اہتمام کے ساتھ ان کی غزلوں کی پروف خوانی نہیں ہو پائی ہے۔ کئی اشعار پروف کی وجہ سے بے وزن ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر میں چند اشعار یہاں کوٹ کرنا چاہوں گا جو مجھے بطور خاص پسند آئے لیکن ان میں پروف کی خامی ان اشعار کو اک ذرا متاثر کر رہی ہے۔ ؂ دو جسم ہیں، دو دل ہیں اگر زور لگائیں / کیوں ہجر کا کہسار جگہ سے نہ ہلے گا (یہاں دوسرے مصرعے میں ‘سے’ کی جگہ ‘ہے’ کمپوز ہوا ہے)۔ ؂ میں روز صبح پرندوں سے پہلے جاگتا ہوں / کہ سیکھنے ہیں نیے طرز کچھ بیاں کے لیے (دوسرے مصرعے میں ‘سیکھنے’کی بجائے ‘سیکھتے’ لکھا گیا ہے)۔ ؂ تاکہ تنہائی یوں نہ ہو تنہا / اب کے تنہائی اجتماعی کرائیں (پہلے مصرعے سے لفظ ‘ہو’ غائب ہے)۔ شعری تخلیقات میں پروف اور ٹائپو کے اسقام نثر کی بنسبت زیادہ کھٹکتے ہیں۔

بہرحال ۔۔۔ فرحت احساس صاحب کی یہ یکمشت بیس غزلیں شمارے کے حسن کو دوبالا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے علاوہ عرفان ستار، ضیا فاروقی، کاشف حسین غائر اور سعید سارق کی غزلیں بھی مدیر کے حسن انتخاب پر دال ہیں۔

سلیم شہزاد کی دس نظمیں ” قسم ہے کفارے کی ” اپنے اسلوب اور لفظیات کے خوبصورت انتخاب کی بنا پر اتنی عمدہ ہیں کہ پڑھ کر سلیم شہزاد کی شاعری میں ایک الگ نوع کی فکری حسیت کا ادراک ہوتا ہے۔ نہ جانے کیوں یہ نظمیں پڑھتے ہوئے اثبات کے گذشتہ شمارے  میں شامل احمد نصیب خان کی نظموں کی طرف ذہن گیا۔

ارتکاز افضل کی نظمیں ‘دیا’ ‘دامن’ ‘رختِ سفر’ اور ‘محبت’ بھی متاثر کرتی ہیں۔ شمارے میں شامل  شکیل اعظمی کی کئی نظمیں فطرت سے انسانی رشتوں کے ارتباط کا عمدہ تخلیقی بیانیہ ہیں۔ عابد حسین کے یہاں سادہ لفظوں کے پردے میں طنز کی ہلکی ہلکی کاٹ صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔

اس بار ‘شریک مطالعہ’ کے تحت معید رشیدی کے شعری مجموعے ‘ آخری کنارے پر’ اور مقصود دانش کے تنقیدی مضامین کے مجموعے پر اشعر نجمی صاحب اور رضوان الحق صاحب کے پہلے ناول ‘ خودکشی نامہ ‘ پر محترم بھائی مالک اشتر کے تبصرے بھی شامل اشاعت ہیں۔ حمیرا عالیہ کے ناول ‘ محصور پرندوں کا آسمان ‘ پر راقم کے ذریعے کیے گیے تبصرے کو بھی اثبات کے صفحات پر جگہ بخشی گئی اس کے لیے میں اشعر نجمی صاحب کا صمیم قلب سے شکر گزار ہوں۔

آخر میں اشعر نجمی صاحب کے لیے نیک خواہشات کہ اثبات کے ہر شمارے کو ترتیب دینے میں وہ جس محنت، لگن اور خوش ذوقی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ ہمیں مزید ان کا گرویدہ کر دیتا ہے۔

 

_________  وسیم احمد فدا

سکندر گیٹ، ہاپوڑ (یوپی)

موبائل : 9027374558

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
انور آفاقی کی کتاب ”میزانِ فکر و فن“ پر گفتگو
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں