معروف شعراء ادباء، دانشوران اور میڈیا اہلکاروں کی شرکت
بتیا. گزشتہ شام مقامی سجاد پبلک اردو لائبریری میں قدیم ادبی تنظیم ادبی سنگم کے زیرِ اہتمام محمد ذاکر کے ناول مڈل کلاس کا اجراء عمل میں آیا.
ڈاکٹر نسیم احمد نسیم. سکریٹری ادبی سنگم نے نظامت کرتے ہوئے اپنی تمہیدی تقریر میں کہا کہ محمد ذاکر کا ناول معاصر ناول نگاری کے باب ایک اضافہ ہے کیونکہ ناول نگار نے عام روش سے ہٹ کر سماجی اور سیاسی سطح پر قارئین کو جدوجہد اور احتجاج کا پیغام دیا ہے. اس ناول پر اظہار خیال کرتے ہوئے معروف شاعر ڈاکٹر ظفرامام نے کہا کہ محمد ذاکر خاموشی کے ساتھ تخلیقی کام کرتے رہتے ہیں. ان کا یہ ناول دراصل سماج میں مڈل کلاس کے دگرگوں حالات کا ایک شفاف آئینہ ہے.
اس موقعے ادبی سنگم کے سرپرست اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر جاوید قمر نے کہا کہ اس ناول میں خالص دیسی اور فطری زبان کا استعمال ہوا ہے. اور یہ مختصر ہوتے ہوئے بھی بھاری بھرکم ناولوں پر حاوی ہے.
آلتقوی ایجوکیشنل گروپ کے چیرمین اور ماہنامہ رہنما کے ایڈیٹر رضوان ریاضی نے ناول نگار سے اپنے پرانے اور گہرے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ ناول معاشرے کو ایک ایسی سمت میں لے جانے کی ترغیب ہے جہاں سماج کے ہر طبقے کے ساتھ انصاف ہو.
رسم اجراء سے قبل سرسیید ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ نرکٹیا گنج کے سکریٹری اور معروف معالج ڈاکٹر آفتاب عالم نے ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور نفرت و تعصب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا ماحول ہماری صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے پر کمر بستہ ہے. اس لیے ہمیں آپنے آئین اور ملک کو بچانے کے لئے آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا. ایڈووکیٹ ارون ڈیوڈ نے کہا کہ ہمارے بھائی چارے کی جڑیں بہت گہری ہیں، اسے کوئی اکھاڑ نہیں سکتا. اس موقعے سے سینئر ایڈووکیٹ اور ادب نواز شخصیت ابو ارشد ارمان نے صاحب کتاب کو مبارکباد دیتے ہوئے ان سنہرے مستقبل کی دعا کی. معروف سرجن ڈاکٹر آر اعظم نے بھی محمد ذاکر کو مبارکباد دی اور کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو زبان کا ہر سطح پر تحفظ کیا جائے ورنہ آنے والا وقت اس زبان کے لیے مہلک ثابت ہوگا.
اس موقعے سے ایک شاندار شعری نشست کا بھی انعقاد ہوا. ادبی سنگم بتیا کے صدر، معروف سینئر شاعر ابوا لخیر نشتر نے اس کی صدارت فرمائ. نظامت کے فرائض ڈاکٹر نسیم احمد نسیم نے انجام دیئے. اس محفل میں اردو اور ہندی کے متعدد شعراء نے اپنے منتخب کلام کے ذریعے سامعین کو محفوظ کیا. اس مشاعرے میں عبدالمجید خان مجید، ایس اے شکیل، اختر حسین، گیانیشور گنجن، ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر ،ڈاکٹر ظفر امام، سریش گپت ،انل, سید عارف لکھنوی، انل ،محمد قمرا لزماں قمر نے بالخصوص اپنی شرکت سے محفل کو باوقار بنایا. اس کے علاوہ زبیر احمد،ڈاکٹر فیصل صدیقی، نصیر عالم، شفیع احمد، فخر عالم، شہاب الدین احمد، محمد جاوید عالم ،دلشاد احمد، محمد عاصم وغیرہ نے آخیر تک پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنی موجودگی درج کرائی. آخیر میں صدر مجلس کے شکریے کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

