شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں ’’ عالمی یوم مادری زبان‘‘ پروگرام کا انعقاد
میرٹھ21؍ فروری2023ء
اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مادری زبان کی اہمیت و افادیت ہمیشہ مسلم اور ہر زمانے اور ہرقوم نے اسے تسلیم بھی کیا ہے اور اسے رائج کر نے کے لیے ہمیشہ کو ششیں ہوتی رہی ہیں۔خود ہمارے ملک ہندوستان نے اس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے2020ء سے لاگو نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP)میںتو اسے مزید مستحکم کر نے کا منصوبہ بنایا ہے۔در اصل زبانیں تہذیب و ثقافت اور نسل انسانی کی بقا کی ضا من ہیں۔اس لیے مادری زبان کا فروغ نہایت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو کے جو شعبے میں منعقدہ پروگرام’’عالمی یوم مادری زبان‘‘کے موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ مادری زبان کی اہمیت پر زور دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ دیگر زبانوں کی اہمیت کم ہے یا ان کا سیکھنا ضروری نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ زبانوں کا جاننا بے شک تابناک مستقبل کی ضمانت ہے ۔اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔پروگرام کی نظا مت ڈاکٹر ارشاد سیانوی استقبالیہ کے فرائض سعید احمد سہارنپوری اور شکریے کی رسم محمد شمشاد نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے شعبے کے استاد ڈا کٹر آصف علی نے کہا کہ مادری زبان کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی نیز نئی تعلیمی پالیسی کے سبب مادری زبانوں کا مستقبل مزید روشن ہو گا۔ مادری زبانوں پر خصوصی زور دینا اس لئے ضروری ہے کیونکہ نئی نسل بہتر مستقبل کی تلاش میں مادری زبان سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ خود ہندوستان میں پچھلے پچاس برسوں میں تقریباًسینکڑوں ہندوستانی زبانیں ختم اور تقریباًاتنی ہی مزید زبانیںاختتام کی جانب گامزن ہیں۔اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔مادری زبانوں کو فروغ دینے کے لیے ہمیں سر پرستوں، اساتذہ اور حکومتوں تینوں سطحوں پر منصو بہ بند کوششیں کرنی ہوں گی۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی اس سلسلے میں حکومتی سطح پر اٹھائے جانے والا ایک اچھا قدم ہے۔
ڈاکٹرشاداب علیم نے کہا کہ آج بہت سی علاقائی زبانیں معدوم ہو تی جا رہی ہیں جوایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ہم سبھی کو اس کے عوامل پر نہایت سنجیدگی سے غوکرنا ہوگا اور مادری زبان کی بقاء کے لیے موثرٔ اور حتی الامکان کوشش کر نی ہوگی تبھی ہم اپنی تہذیبی وراثت کو باقی رکھ پائیں گے۔اس مو قع پر ڈا کٹر الکا وششٹھ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

