کتاب ’’اختر کاظمی: شخصیت اور صحافت‘‘ کی تقریبِ اجراء وجلسۂ تہنیت میں مقررین کااظہارِ خیال
بھیونڈی :۱۹؍ مارچ (پریس ریلیز) : بھیونڈی کے فعال ومتحرک علمی وادبی ادارہ ’’اردو قبیلہ فائونڈیشن ‘‘ کے زیرِ اہتمام گذشتہ دنوں اردو کے معروف صحافی اختر کاظمی کی ۴۵؍ سالہ صحافتی خدمات کے اعتراف میں عابد عثمان مومن کی مرتب کردہ کتاب ’’اختر کاظمی: شخصیت اور صحافت‘‘ کی تقریبِ اجراء اور جلسۂ تہنیت کاانعقاد ہوا۔
بھیونڈی کے غلام محمد مومن ویمنس کالج آڈیٹوریم میں منعقد ہ اس تقریب کی صدارت محترم مولانا ابوظفر حسّان ندوی ازہری نے کی اور اختر کاظمی کی صحافتی کارکردگی سے سامعین کو روشناس کیا۔ اس تقریب ِ اجراء اور جلسۂ تہنیت کاآغاز معروف گلوکار سہیل اختر انصاری نے اپنی پُرکیف آواز میں حمدِ باریٔ تعالیٰ پیش کرکے کیا ۔ناظمِ تنظیم جمیعۃ علماء مہاراشٹر محترم مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی نے انتہائی پُر مغز افتتاحی تقریر فرمائی۔
دہلی یونیورسٹی سے تشریف لائے پروفیسر محمد کاظم نے اختر کاظمی کی پوری صحافتی زندگی کو حادثاتی واقعات قرار دیا۔ ساتھ ہی انھوںنے کہا کہ شہر بھیونڈی میں رہتے ہوئے انھوںنے یہاں کی علمی، ادبی ،سیاسی ،سماجی،تعلیمی ، فلاحی وصنعتی مسائل ومعاملات پر بطور خاص توجہ دی اور کبھی بھی اپنی ذمہ داریوں سے دامن نہیں بچایا۔
دہلی سے تشریف لائے ایک اور مہمان اردو کے معروف ادیب ، صحافی ،شاعر ،ناقد ومبصرجناب حقانی القاسمی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اختر کاظمی مزاحمتی صحافت کی ایک معتبر آواز ہیں۔ انھوںنے کہا کہ اختر کاظمی میدانِ صحافت کے قلندر ہیںاور قلندر انہ شان ، جذبۂ جنون اور بے نیازی کے ساتھ صحافتی زندگی اور مزاحمتی صحافت سے اپنا رشتہ قائم رکھا کہ دراصل حقیقی صحافت مزاحمت سے ہی عبارت ہے ۔جب تک جبرواستحصال کی قوتوں کے خلاف مزاحمت نہ ہو تو وہ صحافت اعتبار اور استناد کا درجہ حاصل نہیں کرسکتی۔ان کی صحافت میں مزاحمتی اور مقاومتی ردِ عمل موجود ہے۔ اسی لئے سودوزیاں سے بے نیاز ہوکر صحافت کرتے رہے اور عوامی مسائل وموضوعات کو بے خطر ہوکر اٹھاتے رہے۔انھوں نے قلم کی حرمت کا ہمیشہ پاس رکھا۔ ایک باضمیر مسئول اور ذمہ دار صحافی کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی۔
ڈرامہ تھیٹر ٹی وی اور فلموں کے معروف آرٹسٹ جناب محمد سلیم عارف نے صحافت کے تعلق سے اپنے زرّیں خیالات کااظہار کرتے ہوئے اختر کاظمی کی صحافتی زندگی سے متعلق بھرپور گفتگو کی اور ان کے حوالے سے بتایا کہ صحافت اور بطور خاص اردو صحافت سے دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو اختر کاظمی کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے۔
انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا ،ممبئی کے سینئر جرنلسٹ محمد وجیہ الدین نے اپنی تقریر کے دوران اردو اخبارات کی زبوں حالی ، مالکان کی مفاد پرستی ، اردو کے صحافیوں کی زبوں حالی اور مالی تنگ دستی پر اپنے گہرے رنج اور فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس عہد میں جہاں قدم قدم پر پیسے کی ضرورت ہوتی ہے ،اردو کے صحافیوں کو اگر اٹھارہ اٹھارہ ماہ تک تنخواہ نہ ملے تو اس کی اور اس صحافی کے اہلِ خانہ کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔
ممبئی سے شائع ہونے والے ہندی روزنامہ ’’ دبنگ دنیا‘‘ کے سینئر جرنلسٹ ٹھاکر کرشن گوپال سنگھ نے اختر کاظمی سے اپنے دیرینہ تعلقات اور ان کی طویل صحافتی زندگی کا بھرپور احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ حالات کیسے بھی رہے ہوں ،اختر کاظمی کو کبھی حوصلہ کھوتے نہیں دیکھا۔ انھوں نے ہمیشہ مثبت صحافت کی اور قومی یکجہتی کے فروغ کواپنی قلم کا پُر زور سہارا دیا۔
اس موقع پر شمیم اقبال نے اپنا تحریر کردہ تہنیت نامہ اردو قبیلہ فاؤنڈیشن کے حوالے سے پڑھ کر پیش کیا۔ جناب عامر صدیقی نے بحسن وخوبی نظامت کے فرائض انجام دئیے جبکہ جناب مخلص مدعو نے تمام مہمانان اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

