اردو زبان مقبول بھی مظلوم بھی (صحافی و ادیب سہیل انجم کے اردو سے متعلق مضامین کا انتخاب)
مرتب:ڈاکٹر سید احمد خاں
قیمت :۳۰۰ روپے
سال اشاعت :دسمبر ۲۰۲۲
ناشر :اپلائڈ بکس ،پٹودی ہاؤس ۔دریاگنج ۔نئی دہلی ۲
مبصر :عمیر منظر ،شعبۂ اردو ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی ۔لکھنؤ کیمپس
oomairmanzar@manuu.edu.in
سہیل انجم صاحب ہمارے زمانے کے ان قلم کاروں میں ہیں جن پر اردو صحافت اور زبان دونوں کو ناز ہے ۔ان کے کالم صحافت کے گہرے شعور اور زبان و بیان کے تازہ کار اسلوب کے غماز ہیں۔ ان کی ہر کتاب ایک ادبی واقعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ’اردو زبان مقبول بھی مظلوم بھی‘ ہمارے لیے غور و فکر کا سامان رکھتی ہے ۔زبانی جمع خرچ کر نے والوں کے لیے یہ ایک سامان عبرت ہے اور وہ جو نام نہاد خدمت کا دعوی کرتے ہیں ان کے لیے اس میں راہ ہدایت ہے ۔کتاب میں شامل کالموں سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہر جگہ اور ہر ماحول میں اردو کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔
سہیل انجم ادبی روایت کے ادا شناس ہیں ان کی نگاہ میں اردو کا منظرنامہ پوری طرح واضح ہے ۔انھیں خوب معلوم ہے کہ پانی کہاں مررہا ہے۔چونکہ وہ زبان کے ایک سچے ہمدرد ہیں اسی لیے انھوں نے دونوں پہلوؤ کو اجاگر کیا ہے ۔تاکہ اردو سے محبت کرنے والے ٹکنالوجی کے اس دور میں اردو ز بان کی مزید خوبیوں اور اس کے دور رس اثرات سے جہاں واقف ہوں وہیں ان پر یہ بھی واضح ہوکہ وہ کون سے پہلو ہیں جہاں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ان مضامین سے ایک بات تو طے ہوگئی ہے کہ اردو کا جادو اپنی جگہ مسلّم ہے ۔جناب سہیل انجم نے حالات وواقعات کو سمجھنے اور سمجھانے میں نہایت سلیقہ مندی کا مظاہر ہ کیا ہے ۔دونوںطرح کے مضامین کے مطالعہ سے سہیل انجم کی مثبت فکر کو داد دیے بغیر نہیں رہا جاسکتا ۔وہ کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے اور خوش کن لمحات میں بھی احتساب کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔۴۲ کالموں کے مجموعے کا نام ’اردو زبان‘ ہے ۔مقبولیت کے اکیس پہلو ہیں جبکہ تصویر کے دوسرے رخ یعنی مظلوم کے گیارہ پہلو۔کتاب کے مطالعہ سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ اتنا کچھ ہونے کے باجود اردو کی مقبولیت کا گراف بلند ہے ۔یہ اردو زبان کے ساتھ ساتھ سہیل انجم کے قلم کا بھی کمال ہے کہ اردو کی مقبولیت کے کیسے کیسے پہلو ان کے سامنے ہیں ۔پہلے کالم کا عنوان جوش ملیح آبادی کا ایک مصرعہ (کتنے حسین افق سے ہویدا ہوئی ہے تو )سے ماخوذ ہے ۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح دوست دشمن سب اردو کے چاہنے والے ہیں۔اور اپنی بات کو پرقوت بنانے کے لیے اردو شاعری کا سہارا لیتے ہیں ۔ہندستانی سیاست اور مقننہ کی اہم شخصیات سے نمایاں مثالیں پیش کی گئی ہیں ۔سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے اردو کے حق میں جو تاریخ ساز فیصلہ سنایا تھا اسے بھی ایک کالم کا موضوع بنایا گیا ہے ۔ایک کالم کا عنوان ہے ’پولیس تھانو ں کی اردو ‘۔اصلاً دہلی ہائی کورٹ نے پولس تھانوں کو آسان زبان استعمال کرنے کی ہدایت دی تھی۔سہیل انجم نے بہت سے الفاظ بطور مثال درج کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایف آئی آر میںجو زبان استعمال ہوتی ہے وہ بہت مشکل ہے ۔یہ اصطلاحیں انگریزوں کے ز مانے سے رائج ہیں ۔ایک صدی گذرجانے کے بعد زبان و بیان میں جو تبدیلی ہوئی ہے اس کو اختیارکرنا چاہیے ۔کرونا کے بعد آن لائن تعلیم اور دیگر ادبی سرگرمیوں کا جو سلسلہ شروع ہواتو اسے سہیل انجم نے اردو کے لیے ایک نئی کھڑکی سے تعبیر کیا ہے ۔ ’صحرائے عرب میں اردو کا جلوہ ‘،سماجی موضوعات سے اردو کا رشتہ ،ٹیلی ویژن بھی اردو کا محتاج ‘جیسے موضوعات ہمیں اردو کے بارے میں غور وفکر کی نئی راہ دکھاتے ہیں۔اردو صحافت سے متعلق کئی مضامین ہیں جن میں صحافت کی تاریخ،کردار ،نئے مراحل ،صحافت کے فروغ میں علما کا کردار ،اردو اور ہندوستان کے دینی مجلات ،اردو اخبار اور عالمی مسائل جیسے موضوعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحافت اور اس کے مختلف پہلوؤں کو نہ صرف انھوں نے پیش کیا ہے بلکہ اس کے نئے امکانات اور کردار کو بھی پیش کیا ہے ۔سہیل انجم نے مختلف اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بتایا ہے کہ اردو صحافت کا دامن روزگار سے خالی نہیں ہے ۔انھوں نے اخبارات و رسائل کی ایک طویل فہرست دی ہے اور صحافت کے تکنیکی پہلوؤں کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دیگرزبانوں کے اخبارات کے قافلے میں اردو کے اخبارات بھی شامل ہیں ہم پیچھے ہوسکتے ہیں الگ نہیں ۔ان تمام کالموں میں دعوے کی دلیل فراہم کی گئی ہے ۔ان کے لکھنے میں جذبات کو مہمیز نہیں کیا گیا ہے بلکہ اعداد وشمار اور دیگر احوال و کوائف کا سہارا لیا گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کالموں کو پڑھنے کا ایک دوسرا فائدہ معلومات کی شکل میں ملتا ہے ۔
کتاب کا دوسرا باب یعنی تصویر کا دوسرا رخ بہت اذیت ناک ہے ۔یہ اذیت ہماری اپنی پہنچائی ہوئی ہے ۔دوسرے رخ کا بڑا حصہ زبان وبیان اور عام روز مرہ کے استعمال میں اردو کی خراب صورت حال کے مختلف پہلوؤں پر نہایت کارآمد روشنی ڈالی گئی ہے ۔یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں اس طرح روانی اور فخر کے ساتھ اردو بولنے والے کم ہوتے جارہے ہیں ۔اردو معاشرے میں ہی اس زبان کی صورت بہت بگڑچکی ہے ۔آج خود ہم نے اردو کی کیا حالت بنا رکھی ہے یہی نہیں کہ ہمیں خود اردو نہیں آتی بلکہ ہم خود اردو کی ٹانگ توڑ رہے ہیں ۔ان تمام باتوں کو سہیل انجم نے زمرہ بندی کرکے دکھا یا ہے ۔مثلاً ’اردو بامحاورہ زبان سے بے قاعدہ بول چال تک ‘،’خبر لیجیے زباں بگڑی ‘،’زبان سنبھال کے ‘،’خدا راہ اردو کی ٹانگ نہ توڑیے ‘اور ’ایک اردو مصنف کی درد بھری داستان ‘کالم کے عناوین سے ہی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ ایک محنت طلب کام کو نہایت سلیقہ کے ساتھ انجام دیا گیا ہے۔یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اسے وہی انجام دے سکتا ہے جسے اپنی ز بان اور ادب سے نہ صرف محبت ہو بلکہ وہ اس سے گہرا تعلق بھی رکھتا ہو۔کتاب کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں اور اسی سے سہیل انجم کی فکر مندی اور صورت حال دونوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔
جب زبان کا زوال ہونے لگتا ہے تو ادب کے پروان چڑھنے کے باوجود زبان کا معیار پست ہوتا رہتا ہے۔آج اردو ادب مائل بہ ترقی ہے مگر وہ ادیب پیدا ہونا بند ہوگئے جو پہلے کبھی ہوا کرتے تھے اورجن کے دم سے اردو زبان کا ادبی سرمایہ مالا مال ہوتا رہا ہے ۔(ص ۱۵۴)
یہ کتاب زبان سے محبت کے آداب و اطوار بتاتی ہے اور یہ بھی کہ زبان سے سچی محبت یہی ہے کہ ہم وہ زبان بولیں اور لکھیں جو درست ہو اور یہ عمل انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر ضروری۔زیر تبصرہ کتاب کی ایک نمایاں خوبفی اس کا انداز و اسلوب ہے ۔سہیل انجم بہت رواں اور شگفتہ نثر لکھتے ہیں اور انھیں کسی بات کو کہنے کا سلیقہ بھی آتا ہے ۔اس کتاب کے کالموں سے یہ بھی سیکھ ملتی ہے کہ کہ کن موضوعات اور کیسے لکھا جاسکتا ہے ۔
سہیل انجم کے کالموں کا یہ مجموعہ عالمی یوم اردو کے بانی ڈاکٹر سید احمد نے مرتب کیا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس دن کا کوئی تصور سید احمد خاں صاحب کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔اس دن کی معنویت پر ایک عمدہ کالم بھی کتاب میں موجود ہے جس میں جذبہ وفکر کے ساتھ ساتھ احساس کی شدت بھی ہے جو کسی کو بھی اپنی زبان اور تہذیب سے ہوتی ہے ۔اردو اپنے عاشقوں سے پہچانی جاتی ہے ۔حالات چاہے جیسے ہوں مگر اس زبان سے محبت کرنے والے کبھی کم نہیں ہوئے۔ڈاکٹر سید احمد خاں اور جناب سہیل انجم بھی اسی زمرے میں آتے ہیں ۔
یہ کتاب اردو سے محبت کا اعلامیہ ہے مگر اس میں صرف عقیدت و محبت نہیں بلکہ اس سے کہیںزیادہ فہم و فراست کی ایک دنیا آباد ہے۔
مرتب اور مصنف دونوں صاحبان میرے لیے بزرگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی محبتیں اور عنایتیں مجھے حاصل ہیں۔جو میرے لیے سرمایہ افتخار ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

