نشاناتِ نور از تنویر احمد علوی / مرتبہ ڈاکٹر ثمر جہاں – ڈاکٹر جاوید حسن
ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی غیرمطبوعہ تصنیف’’نشاناتِ نور‘‘ کی ترتیب و تدوین ڈاکٹر ثمر جہاں نے کی ہے۔ اِس کتاب کے ناشرڈاکٹر تنویر احمد علوی کے لائق فرزند اور معروف سائنسداں ڈاکٹر نوید اقبال علوی ہیں۔ مذکورہ کتاب مشہورصوفی شاعر سنت درشن جی کے شعری مجموعوں تلاشِ نور، منزلِ نور، متاعِ نور اورجادۂ نور کے تجزیاتی مطالعے پر مبنی ہے۔ سنت درشن جی کی شاعری کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ اُنھوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ باہمی میل جول ، اخوّت ومودّت، بھائی چارے اور اتحاد ِانسانی کا پیغام دیا ہے ۔
تنویر احمد علوی کی شخصیت اور اُن کی علمی کارناموں سے ایک زمانہ واقف ہے۔ موصوف اُردو اور فارسی کے معروف ناقد ومحقق، شاعر، مترجم تھے، جنھیں کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھا۔وہ ہندوستان کے صوفیوں سے بھی بہت متاثر رہے ہیں۔ مذکورہ کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ درشن سنگھ جی کے صوفیانہ خیالات اور تنویر احمد علوی کے صوفیانہ مزاج میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے جس سے متاثر ہوکر علوی صاحب نے درشن سنگھ کے شاعرانہ کلام کا تجزیاتی مطالعہ’’ نشاناتِ نور‘‘ کی شکل میں پیش کیا۔دراصل یہ کتاب۱۹۹۶ء میں لکھی گئی مگر بوجوہ منظرِ عام پر نہ آسکی تھی۔بقول مرتبِ کتاب ڈاکٹرثمر جہاں اُن کو اِس کتاب کا مسودہ علوی صاحب کے ذاتی کتب خانے سے ملا جس کو اُنھوں نے’’ اپنے علمی شوق اور علوی صاحب سے عقیدت کے سبب اِس کو کتابی شکل میں منظر عام پر لانے کا عزم کیا۔‘‘اس کتاب کی اشاعت میں کر پال آشرم کے مہاراج شری راجندرسنگھ مہاراج جی کی اجازت کے ساتھ ساتھ اُن کی دعائیں بھی شامل حال رہی ہیں۔

’’نشانات نور ‘‘ چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ’’تصوف ،روایت ، درایت اور انسان دوستی کی قدریں ‘‘ کے عنوان سے مفصل اور کار آمد گفتگو کی گئی ہے۔دوسراباب ’روشنی کی میراث‘ کے عنوان سے ہے جس میں سنت درشن کے روحانی و علمی سفر کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ باب تین تا چھ سنت درشن جی مہاراج کے چاروں شعری مجموعوں بالترتیب تلاشِ نور، منزلِ نور، متاعِ نور اور جادۂ نور کے جامع تجزیاتی مطالعے پر مبنی ہے ۔ مذکورہ بالا شعری مجموعوں کو تنویر احمد علوی نے بانیان دین کی خوشبو کا سفر ، مختصر صحیفہ ، کلاسیکی شاعری کا استعارہ اور تصوف اور روحانی طریق ِرسائی کا عنوان دیا ہے اور ان مجموعوں پر مبسوط اور سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
درشن جی کے شعری مجموعہ ’’ منزل نور‘‘ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’ ان میں بابا گرونا نک دیو سے متعلق طویل مسدس اور بابا جی کے کلام کے ایک بہت چھوٹے سے حصہ کا منظوم ترجمہ ہے۔سنت درشن جی کے مجموعہ کلام ’’متاعِ نور کو وہ’ کلاسیکی شاعری کا استعارہ‘ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’اس کتاب میں فارسی کے مشہور شاعر نظیری کے شعر کو ایک ایسے روشن نقطے کے طور پر پیش کیا گیا جس کی چمک کبھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتی اور زندگی کے نشیب وفراز اور گاہ گاہ تاریک راہوں میں کر مک شب تاب (جگنو) کی طرح ہمیں اپنا سفر اپنے ہی دل کی روشنی میں جاری رکھنے کی طرف اشارہ کرتی رہتی ہے۔‘‘
اسی طرح’ جادۂ نور‘ کو وہ تصوف اور روحانی طریقِ رسائی کا عنوان دیتے ہیں جس میں’’ مسائل تصوف کی مختلف جہتوں اور معنوی نزاکتوں پر مذہب ،اخلاقیات اور روحانیت کے تحت غور وفکر کیا گیا ہے۔‘‘
کتاب کی مرتب ڈاکٹر ثمر جہاں ڈاکٹر تنویر احمد علوی اور اُن کی تصنیفات و تالیفات نیز اُن کی مجموعی علمی خدمات سے بہت متاثر رہی ہیں۔ اِس سے قبل دو جلدوں میںاُن کی ترتیب کردہ کتاب ’’تنویر احمد علوی کاجہان ِ معانی‘‘شائع ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر ثمر جہاں نے تنویر احمد علوی پر ایک مونوگراف بھی لکھاہے جوز یرطبع ہے، نیز تنویر احمد علوی کی لکھی ایک غیر مطبوعہ کتاب ’’شیخ یحیٰ منیری کے مکتوبات کا سماجی و تنقیدی مطالعہ‘‘ کو بھی اُنھوں نے مرتب کیا ہے جوکتابی صورت میں شائع ہونے والی ہے۔’’ نشاناتِ نور‘‘ کی ترتیب کے دوران ڈاکٹر ثمر جہاں نے سنت درشن سنگھ جی مہاراج کے چاروں شعری مجموعوں کا بغور مطالعہ بھی کیا ہے، جس کے لیے وہ بجا طور پر مبارکباد کی مستحق ہیں۔ اُمید ہے’’ نشاناتِ نور‘‘ اردو حلقے میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔232 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 200روپے ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے رابطے کا نمبر9560244692ہے۔
٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

