مولانا الطاف حسین حالی کی یاد میں – ڈاکٹر عمیر منظر
نام کتاب : مولانا الطاف حسین حالی کی یاد میں
مرتب : پروفیسر اشتیاق احمد ظلی
سال اشاعت : 2015
قیمت : 250
ملنے کا پتا : دارالمصنفین شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ ۔یوپی
مبصر : عمیر منظر
شعبۂ اردو ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی ۔لکھنؤ کیمپس
حالی و شبلی صدی تقریبات کے موقع پر پورے ملک میں علمی و ادبی مذاکروں کا اہتمام کیا گیا اور ان کے کارناموں کو یاد کیا گیا ۔بیشتر پروگرام ان دونوں شخصیات پر مشترکہ طور پر منعقد کیے گئے البتہ درالمصنفین شبلی اکیڈمی نے الطاف حسین حالی کی یاد میں الگ سے ایک سمینار کا اہتمام کیا۔اس کے بعدسمینار کے مقالات کو شبلی صدی مطبوعات کے تحت کتابی شکل میں نہایت اہتمام سے شائع بھی کیا ۔زیر تبصرہ کتاب دراصل انھیں مقالات کا مجموعہ ہے ۔۲۲۲صفحات پر مشتمل اس کتاب میں حالی سے متعلق تقریباً تمام گوشوں کا احاطہ کرنے کی کام یاب کوشش کی گئی ہے اس کے لیے کتاب کے فاضل مرتب اور شبلی اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر اشتیاق احمد ظلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
حالی اور شبلی کے تعلقات علی گڑھ سے استوار ہوئے تھے اور پھر ان میں کبھی کمی نہیں آئی ۔حیات سعدی پر تبصرہ کرتے ہوئے شبلی نے حالی کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’ملک کے جو نامور مصنف اردو زبان میں معلومات سود مند کا ذخیرہ مہیاکررہے ہیں ان میں مولو ی حالی صاحب کا قدم سب سے آگے ہے ‘‘۔۱۸۸۶ کی یہ تحریر لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہی البتہ شبلی اور حالی کے تعلقات کو حیات جاوید کے تناظر میں اس طرح دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ دونوں بزرگوں کے تعلقات کی حریفانہ صورت گری کی گئی ۔حالانکہ خطوط شبلی اور حیات شبلی کے مطالعہ سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ شبلی کے یہاں حالی کا کس قدر احترام تھا اور شبلی حالی کی سخن فہمی کے نہ صرف قائل تھے بلکہ کھلے عام اس کے معترف بھی تھے ۔مولانا حالی کو جب شمس العلما کا خطاب ملا تو شبلی نے انھیں مبارک باد دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’مولانا آپ کو تو نہیں ۔خطاب شمس العلما کو مبارک باد دیتا ہوں ۔اب جاکر اس خطاب کو عزت ملی ہے ‘‘حالی کی کتابوں کے تئیں اپنے احباب اور شاگردوں کے خطوط میں ذکر کرتے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب میں حالی کی سخن فہمی اور سخنوری کے ساتھ ساتھ ان دونوں بزرگوں کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔کتاب کے مقدمہ میں پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے لکھا ہے :
فرشتہ صفت مولانا حالی نے اپنی پوری زندگی میں کسی کے لیے کوئی ناملائم لفظ بھی استعمال نہ کیا ہوگا لیکن جن حضرات کو ان سے محبت کا دعوی تھا اور ان سے عقیدت کا دم بھرتے تھے وہ علامہ شبلی کی مخالفت میں ہر حد سے گذر گئے ۔(ص:ب)
زیر تبصرہ کتاب کا پہلا مضمو ن ’حالی کہانی خود ان کی زبانی کے‘ نام سے ہے۔ دراصل یہ مضمون حالی نے نواب عماد الملک بلگرامی کی خدمت میں بھیجا تھا جو نواب صاحب کی وفات کے بعد ان کے کاغذات میں ملا جو ماہنامہ معارف مئی ۱۹۲۷ میں شائع ہوا ۔معارف کا یہی مضمون اب اس کتاب کی زینت بھی ہے ۔چونکہ اپنے بارے میں خود یہ حالی نے معلومات فراہم کی ہیں اس لیے اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے ۔ماہنامہ فروغ اردو لکھنؤ نے حالی پر ایک خاص نمبر شائع کیا تھا جس میں شجاعت علی سندیلوی نے حالی کی تصانیف کا ایک گوشوارہ مرتب کیا تھا اسی مضمون کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے ۔حالی اور سرسید کے عنوان سے پروفیسر اصغر عباس کا مقالہ شامل ہے ۔اس سے سرسید حالی ،پانی پت،دلی اور علی گڑھ کی تاریخ اور اس کی بہت سی گمشدہ کڑیاں سامنے آتی ہیں ۔ پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے حالی ایک جامع کمالات شخصیت کے عنوان سے مقالہ لکھا ہے ۔اس میں انھوں نے حالی کے امتیازات اور نثر وشاعری میں ان کے کمالات کو پیش کیا ہے ۔انھوں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ تحقیق و تدوین کے جدید اصولوں کے مطابق ان کی تمام تصانیف اور مقالات و مکاتیب کو از سرنو مرتب کرنا اور انھیں شائع کرنا ضروری ہے ۔پروفیسر قمر الہدی فریدی نے ’حالی کی تنقیدی بصیرت کے حوالے سے بعض باتیں ‘کے عنوان سے مقالہ لکھا ہے ۔اس میں علمیت اور تجزیے دونوں کا رنگ نمایاں ہے اور انھوں نے تنقید کے حوالے سے بہت سی وہ عام باتیں جو حالی کے خلاف اکثر لکھ دی جاتی ہیں ان کا جائزہ لیا ہے اور اس رائے پر اصرار کیا ہے کہ ’حالی کی کائنات ایک وسیع النظر ناقد کی کائنات ہے ‘‘۔ ڈاکٹر صفدر امام قادری نے ’حالی کی نثر غیر افسانوی ادب کا مثالی اسلوب‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔انھوں نے حالی کی متعدد تصانیف کی اس کی مثالیں پیش کی ہیں اور یہ لکھا ہے :
حالی سادگی ،بے ساختگی اور مطلب نگاری کے عناصر کے سہارے جس نئی نثر کو فروغ دینا چاہتے تھے اس کی حقیقی پہچان اس غیر شخصی رنگ میں سامنے آتی ہے جہاں وہ غیر افسانوی نثر بالخصوص سوانح نگاری کے لازوال نمونے تیار کرتے ہیں ۔(ص۷۶)
اس کے علاوہ حالی شناسی کے حوالے سے مولانا عمیر الصدیق ندوی ،ڈاکٹر محمد عزیر شمس ،ڈاکٹر شباب الدین ،ڈاکٹر محمد اکرم السلام،عمیر منظر ،مولانا کلیم صفات اصلاحی ،مولوی فضل الرحمن اصلاحی کے مقالے بہت اہم ہیں ۔کتاب کے آخر میں ڈاکٹر شاہ نواز فیاض نے متعلقات حالی کے حوالے سے حالی کا اشاریہ تیار کیا ہے ۔یہ اشاریہ چار حصو ں میں منقسم ہے یعنی پہلے حالی پر لکھی جانے والی کتابیں،دوسرے حصے میں ان کتابوں کا ذکر ہے جن میں حالی پر کوئی مضمون شامل ہے ۔تیسرے حصے میں خصوصی شماروں کو جگہ دی گئی ہے اور چوتھے حصہ میں ان رسالوں کا ذکر ہے جن میں حالی سے متعلق مضامین شائع ہوئے ہیں۔اس اشاریہ کی وجہ سے کتاب کی معنویت دوچند ہوگئی ہے ۔سب سے آخر میں کتاب کا اشاریہ ہے جسے مولانا کلیم صفات اصلاحی نے تیار کیا ہے ۔مجموعی طور پر حالی شناسی کے باب میں ایک یادگار کتاب ہے اہل علم و ادب سے اس سے خاص طور پر استفادہ کرنا چاہیے ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

