بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام 5 جون 2026ء کو بیساکھی ریسٹورنٹ، الوکرہ، دوحہ قطر میں ایک تعزیتی و شاندار شعری نشست منعقد ہوئی، جس میں قطر کےبیشترشعراء، ادباء، دانشوروں اور ادب دوست سامعین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔صدارت سینئر شاعر عتیق انظر نے کی مہمان خصوصی زوار حسین زائر مہمان اعزازی مقصود انور مقصود تھے جبکہ نظامت احمد اشفاق کے حصہ میں آئی۔تقریب کا آغاز تعزیتی اجلاس سے ہوا۔ اس موقع پر اردو ادب کے نامور شاعر بشیر بدر مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عزیز نبیل نے ان کی ادبی خدمات، شعری عظمت اور اردو ادب پر ان کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں سید فاروق مرحوم کے حوالے سے ندیم ماہر نے اپنے تاثرات پیش کیے اور ان کی علمی و ادبی خدمات کو یاد کیا۔اس کے بعد معروف صحافی، ادیب اور روزنامہ تاثیر کے مدیر، ناشر و مطبع، مرحوم محمد گوہر کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ راقم اعظمی نے اپنے خطاب میں محمد گوہر مرحوم کی صحافتی، ادبی اور سماجی خدمات کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی صحافت، ادب اور سماجی شعور کی بیداری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کے انتقال سے نہ صرف بہار بلکہ پورے ہندوستان کے ادبی اور صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔نشست کی صدارت قطر کے ممتاز شاعر جناب عتیق انظر نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے مرحومین کی ادبی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ اپنے کردار، فکر اور تخلیقی ورثے کے باعث ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب زوار حسین زائر تھے، جنہوں نے بزمِ اردو قطر کو اس خوبصورت اور بامقصد ادبی محفل کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور بزم کی ادبی خدمات کو سراہا۔ مہمانِ اعزازی اور بزمِ اردو قطر کے نائب صدر جناب مقصود انور مقصود نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بزم کی ادبی سرگرمیوں کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔تعزیتی اجلاس کے بعد شعری نشست کا آغاز ہوا جس میں بائیس شعراء و شاعرات نے اپنے معیاری اور فکر انگیز کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ محفل میں عتیق انظر، زوار حسین زائر، مقصود انور مقصود، عزیز نبیل، احمد اشفاق، قیصر مسعود، آصف شفیع، اطہر اعظمی، راشد عالم راشد، ثمرین ندیم ثمر، رضا حسین رضا، راقم اعظمی، سانول عباسی، رانا علی رانا، ممنون بنگش، سمیر حسن موسیٰ، اجمل بسہمی، اظہر اعظمی، وندنا راج، رامش حفیظ، الطاف فریفتہ اور مختار خان نے اپنا منتخب کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔محفل میں سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ معزز حاضرین میں علی گڑھ ایسوسی ایشن کے علی عمران، اتر پردیش ایسوسی ایشن کے اسامہ شمسی، بزمِ اردو قطر کے رکن اجمل قیامی، فہد اعظمی، معظم ندوی، گوہر الطاف اور دیگر ادبی و سماجی شخصیات شامل تھیں، جن کی موجودگی نے تقریب کی وقعت میں اضافہ کیا۔پروگرام کے اختتام پر بزمِ اردو قطر کے جنرل سیکریٹری جناب احمد اشفاق نے تمام مہمانانِ گرامی، شعراء و شاعرات، سامعین اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایسی ادبی نشستیں آئندہ بھی منعقد کی جاتی رہیں گی۔ بعد ازاں شرکاء کے اعزاز میں عشائیہ پیش کیا گیا اور یوں یہ کامیاب، پُروقار اور یادگار ادبی محفل کا خوشگوار ماحول میں اختتام ہوا۔ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
عود و لوبان کے جنگلوں کی مہک
میرے دل میں ہے اب تک سمائی ہوئی
اب بھی رہ رہ کے مجھ کو ستاتی ہے وہ
جنگلی فاختہ جو پرائی ہوئی
عتیق انظر
اک زہر جو رگوں میں اتارا نہ جا سکا
اس دن کا کیا کریں جو گزرا نہ جا سکا
دونوں ہی صورتوں میں مجھے مات ہو گئی
جیتا نہ جا سکا کبھی ہارا نہ جا سکا
سید زوار حسین زائر
اپنے سجدوں سے سیہ بختی مٹانی ہے مجھے
چاہے اسود کی طرح ہوجائے پیشانی کا رنگ
میرے لہجے میں مرا مقصود در آیا ہے کیا
دیکھتا ہوں میں سخن فہموں پہ حیرانی کا رنگ
مقصود انور مقصود
میں ایک دریا ہوں خواہشوں کا،بدن سے باہر چھلک رہا ہوں
تمہارے ساحل پہ اپنے جذبوں کی مست لہریں پٹک رہا ہوں
عزیز نبیل
شہر کا حال سنائیں گے چلے جائیں گے
ہم تو آئینہ دکھائیں گے چلے جائیں گے
احمد اشفاق
توڑ دی میں نے اخری توبہ
ہائے توبہ مری مری توبہ
خوبصورت گناہ کرتے ہوئے
مجھ کو اچھی نہیں لگی توبہ
قیصر مسعود
ہم کو نفرت سے دیکھنے والو!
ہم محبت کی بات کرتے ہیں
آگہی کے جہان کھلتے ہیں
چوٹ لگتی ہے جب محبت میں
آصف شفیع
کل مرا اک شعر دیکھ ا اس نے اک دیوار پر
پھر لگا میری بھی غزلیں آ کے پڑھتا ہے کوئی
اطہر اعظمی
پرندے پھڑپھڑاتے جا رہے ہیں
سیاست جال بنتے جا رہی ہے
راشد عالم راشد
اے خدا نور سے دل میرا منور کر دے
پائوں صحرا میں رکھوں اس کو سمندر کر دے
ثمرین ندیم ثمر
عہد وفا کی جو بھی یہ بات کر رہے ہیں
بس بات کر رہے ہیں اس بات پر نہ جانا
رضا حسین رضا
درمیاں دو دلوں کے یہ کون آگیا
ہو گئے ہم جدا دیکھتے دیکھتے
راقم اعظمی
ظلمتِ شب میں کوئی دیپ جلا کر چلنا
سنگ چلنا ہو تو گھر بار لٹا کر چلنا
سانول عباسی
میری سوچوں کے گلستان میں ہیں
سب پرندے ابھی اڑان میں ہیں
رانا انور علی
وہ غزل میں فکر کی آگہی، وہ سخنوری میں بھی دلکشی
مرا حرف حرف نکھار دو، مرا لفظ لفظ سنوار دو
ممنون احمد بنگش
تصویر بتاتی ہے حالات زمانے کے
حالات بتاتے ہیں جذبات زمانے کے
وندنا راج
پوچھتے ہیں یہ لوگ حیرت سے
آپ کیسے یہاں تلک پہنچے
اجمل بسمہی
ہم بھی قابل تمہارے ہو جائیں پھر کہیں گے کہ ہم تمہارے ہیں
اس بھرے پیار کے سمندر میں ڈوب کر ہی تو ہم کنارے ہیں
اظہر اعظمی
مری خوبیوں کو عروج دے مری خامیوں کو زوال دے
میں بجھا ہوا سا چراغ ہوں، مری زندگی کو اجال دے
رامش حفیظ
مری طلب کو کہاں وہ طلب سمجھتا تھا
میں فرض تھا وہ مجھے مستحب سمجھتا تھا
الطاف فریفتہ
مختار احمد خان نے نعت پیش کی اور سمیر حسن موسی نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

