ــــــــ پروفیسر عبدُ البرکات
مہدی حسن روڈ، برہم پورہ، مظفرپور
Mob. : 8210281400
میرامن کی تصنیف’’باغ و بہار‘‘ ایک مکمل داستان ہے۔داستانی قصّہ کو مختصر ہونے کی بناپر اس کو داستان اور ناول کی درمیانی کڑی نہیں قرار دیا جاسکتا اور نہ ہی صفحات کی کم مائیگی؛ داستان کے زمرے سے ’’باغ و بہار‘‘ کو خارج کرسکتی ہے۔گرچہ’’داستان امیر حمزہ‘‘ کے سات ضخیم جلدوں میں سے ایک جلد ’’طلسم ہوش رُبا‘‘ کی ضخامت کی برابری بھی ’’باغ وبہار‘‘ نہیں کرسکتی ہے۔دراصل اکیسویں صدی میں بذریعہ تحقیقی بازیافت کے ساتھ نئی نئی دریافتوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ خصوصاً نینو تکنالوجی کی مدد سے نہایت اختصار سے طویل اور مکمل روداد جمع کرنے کی روِش عام ہوگئی ہے، جس کے اثرات سے ادب بھی مبرّا نہیں اور اس کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا کہ انسانی فکرو شعور اور ادراک؛ اپنے ماحول میں ہی پروان چڑھتے ہیں اور ادب اس کا ایک مہذب شاخسانہ ہے۔لہٰذا رواں دَور میں مقدار سے زیادہ معیار؛نیز تفصیلات سے زیادہ قطعیت اور افادیت کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ اس صورتِ حال میں کسی صنف کی شعریت یا فنی شناخت؛ اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے کہ اصناف کا تعین فنی اعتبار سے ہی ممکن ہے۔ اس طرح کسی صنف کی حدیں مقرر ہوتی ہیں اور فن ہی، ایک صنف کو دوسرے سے ممیز کرتا ہے۔
’’باغ و بہار‘‘ کے جز سے کُل تک، درجۂ میٹرک سے ایم۔اے اردو کے آخری درجے تک کے نصاب میں شامل ہے۔لہٰذا نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے بعد اس کے تدریسی رویہ میں تفریق لازمی ہے کہ اب سوالات تین زمرے میں ہوتے ہیں جو مصنف کے احوال سے لے کر پوری کتاب کا احاطہ کرتے ہیں۔ معروضی(objective) سوالات کے جواب حتمی ہوتے ہیں۔ جواب کے لیے الف، ب، ج اور د جیسی علامت ہوتی ہے، جو صحیح ہے،اس کو جوابی کاپی پر لکھ دینے یا علامت کو نشان زد کردینے سے ایک دو نمبر حاصل ہوجاتے ہیںیا کھو دیا جاتاہے۔مختصر ( short) سوالات کے جواب میں بھی قطعیت درکار ہوتی ہے کہ کم الفاظ میں اس کے جواب مطلوب ہوتے ہیں اور تفصیلی(long) کے جواب میں بھی قیاس پر مبنی مفروضات کو دلائل کے توسط سے حقائق آشنا کرانا،ناگزیر ہوتاہے۔ اگر مگر کی گنجائش نہیں ہوتی کہ وقت متعینہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں بھی دو ٹوک اور واشگاف کی ضرورت ہوتی ہے،اس لیے درس و تدریس میں نتیجہ خیز سنین، معلومات اور واقعات یا مواد (material) اہمیت اختیار کرلیتے ہیں۔لہٰذا نئی تعلیمی پالیسی کے مد نظر میرامن، باغ و بہار اور داستان کے تناظر میں حقائق کو نشان زد کرنا، وقت کا تقاضہ ہے۔اس لیے حسب ذیل تین ذیلی عنوانات کی صراحت سے ’’باغ وبہار‘‘ کی سبق آموزی سہل ہوجائے گی۔
(۱) میرامن کے احوال و کارکردگی
(۲) باغ و بہار کا ماخذ
(۳) باغ وبہار کی داستانی حیثیت
(۱) میرامن کے احوال وکارکردگی:
میرامن کی جائے پیدائش دہلی ہے۔انھوں نے خود کو ’’میرامن دلّی والا‘‘ لکھاہے۔ان کے بزرگ ہمایوں بادشاہ کے عہد میں دلّی آئے اور ہر بادشاہ کے رکاب میں اپنی خدمات انجام دیں اور جاگیر و منصب پایا۔میرامن کے بیان کے مطابق ’’سورج مل جاٹ نے جاگیر ضبط کرلیا اور احمد شاہ درّانی نے گھربار تاراج کردیا۔‘‘دہلی پر احمد شاہ دُرانی کا حملہ ۱۷۶۱ء میں ہوا تھا۔ اس کے بعد میر امن عیال و اطفال کے ہمراہ عظیم آباد(پٹنہ) میں روزگار کے لیے وارد ہوئے۔ ان کے ’’گھر میں دس آدمی چھوٹے بڑے تھے۔‘‘لیکن یہاں بھی ان کے سامنے روزی روزگار کا سنگین مسئلہ تھا۔ لہٰذا عظیم آباد سے تن تنہا کشتی پر سوار ہو شرف البلاد کلکتے میں آب و دانہ کے زور سے آ پہنچے، جہاں نواب دلاور جنگ کے چھوٹے بھائی میرمحمد کاظم خاں کے اتالیق مقرر ہوئے اور قریب دو برس تک انھوں نے اس خدمات کو انجام دیا۔پھر منشی میربہادر علی کے وسیلے سے جان گل کرسٹ تک رسائی ہوئی اور ۴؍مئی ۱۸۰۱ء کو فورٹ ولیم کالج کے ہندوستانی شعبے میں ماتحت منشی کی حیثیت سے چالیس روپئے ماہانہ اُن کا تقرر ہوا اور جون ۱۸۰۶ء تک وہ کالج سے وابستہ رہے۔
میرامن کی زندگی کے حالات اور ان کے حوالے سے مستند سنین اتنا ہی ہیں۔اس کے علاوہ جو کچھ بیانات ملتے ہیں، وہ قیاس پر مبنی مفروضے ہیں۔میرامن کی تاریخ پیدائش ، تاریخ فوتگی اور جائے مدفن کہاں ہے؟والدین، بیوی اور بچوں کے تعلق سے کوئی مستند جانکاری ، تلاشِ بسیار کے باوجود؛ دو سو برس گزرنے کے بعد بھی دستیاب نہیں ہے۔میرامن دہلوی نے اپنے حوالے سے جو کچھ ضبطِ تحریر میں لایا ہے، وہی سند ہے۔اس سے واضح ہوتاہے کہ میرامن کے عہد میں ان کے حوالے سے دوسروں نے کچھ نہیں لکھا کہ میر امن ایک عام قلم کار تھے لیکن ’’باغ و بہار‘‘ کی زندہ نثر اور میرامن کے داستانی اسلوب نے اس کتاب کو کلاسیک کا درجہ دیاہے۔میرامن عام آدمی تھے تو ان کے ہم عصروں نے ان کے تعلق سے کچھ نہیں لکھا،پھر ’’باغ و بہار‘‘ نے میرامن کو عام سے خواص بنادیا۔اب ان کی کیفیات و حالاتِ زندگی کے لیے ، کھدائی تضیع اوقات ہے۔
رشید حسن خاں نے میرامن کی کتاب’’باغ وبہار‘‘ اور ’’گنج خوبی‘‘ کے حوالے سے لکھے گئے تمام مباحث و دلائل کا محققانہ جائزہ کے بعد ان مفروضات کی تردید کی ہے اور صحیح صورتِ حال کو واضح کیاہے۔لہٰذا رشید حسن خاں کا مرتب کردہ ’’باغ و بہار: میرامن دہلوی‘‘ میں بیسویں صدی کی آخری دہائی تک کی غیرمطبوعہ اور مطبوعہ تحریروںکو باریک بینی و جاںفشانی سے جائزہ کے بعد ’’باغ وبہار‘‘ کو تدوین کیاہے جس کی طباعت بہ سلسلۂ مطبوعات انجمن ترقی اردو(ہند)،ایڈیشن ۲۰۲۳ء،اہلِ دانش کو متوجہ کرتاہے۔اردو کے اساتذہ اور طلبہ اس سے کسبِ فیض بھی اُٹھارہے ہیں۔اس ایڈیشن میں اعراب، علامات اور رموز و اوقاف کا اہتمام کیا گیاہے جس سے قرأت میں سہولت ہوتی ہے۔معنی واضح ہوتاہے، فرحت محسوس ہوتی ہے اور طبیعت باغ باغ ہوجاتی ہے۔
میرامن المتخلص بہ لطف وطن دلّی اور معروف میر امن دہلوی مصدقہ ہے۔میرامن کے کلام (شاعری) ’’باغ وبہار‘‘ اور ’’گنج خوبی‘‘ میں موقع محل کے مطابق بکھرے پڑے ہیں جس سے موضوع کی معنویت کے ساتھ قاری لطف اندوز بھی ہوتاہے۔ عام طور پر میرامن بطور شاعر نہیں جانے جاتے لیکن ان کی شاعری میں جو عصری زبان و بیان، لب ولہجہ، لفظی تراکیب اور محاورے کا استعمال ہے وہ متاثر کن ہے۔بطور شاعر متعارف کراتے ہوئے رشید حسن خاں رقم طراز ہیں:
’’باغ وبہار کے آخر میں جو قطعۂ تاریخ ہے، اُس کے آخری شعر میں بھی یہ تخلص آیا ہے:
تو کونین میں لُطف پر لُطف رکھ
خُدایا بہ حَقِّ رَسولِ کِبار
گنج خوبی میں جس قدر اُردو اشعار آئے ہیں، وہ ان کی اپنی صراحت کے مطابق ،میرامن ہی کے نظم کیے ہوئے ہیں۔’’باغ وبہار‘‘ کے آخر میں جو قطعۂ تاریخ ہے، وہ بھی انھی کا کہا ہوا ہے۔‘‘۱؎
’’باغ وبہار‘‘ کا اختتام انھوں نے دعائیہ قطعہ سے کیاہے جس سے چند اشعار ملاحظہ کریں:
کرو سَیر اب اِس کی تم رات دِن
کہ ہے نام و تاریخ ’’باغ و بہار‘‘
خزاں کا نہیں اس میں آسیب کچھ
ہمیشہ ترو تازہ ہے یہ بہار
میرے خونِ دل سے یہ سیراب ہے
اور لختِ جگر کے ہیں سب بَرگ و بار
مجھے بھول جاویںگے سب بعد مرگ
رہے گا مگر یہ سُخن یادگار
اس قطعہ کے علاوہ ’’باغ و بہار‘‘ میں میرامن لطف دہلوی کے بہت سارے اشعار ملتے ہیں جو تھوڑی سی رد و بدل کے ساتھ آج بھی لوگ باگ ان اشعار کو کہتے ہیں:
خُدا اِس پاس، یہ ڈھونڈھے جنگل میں
ڈھنڈھورا شہر میں، لڑکا بغل میں
خواہ تم پانو گھِسو، یا کہ رکھو سَر بہ سُجود
بات پیشانی کی جو کچھ ہے پیش آنی ہے
اِس دردِ دل سے موت ہو، یا دل تاب ہو
قسمت میں جو لکھا ہو اِلٰہی، شتاب ہو
(۲) باغ و بہار کا ماخذ:
عام طور پر ’’باغ وبہار‘‘ کو فارسی تصنیف ’’چہار درویش‘‘ یا’’نو طرزِ مرصع‘‘ کا ترجمہ کہا جاتا ہے، جب کہ میرامن نے نہ ’’چہار درویش‘‘ اور نہ ہی ’’نوطرزِ مرصع‘‘ کا ترجمہ کیا ہے بلکہ سلیس اور رواں دواں زبان اور داستانی اسلوب میں تحریر کیاہے۔اس کا تقابلی مطالعہ بابائے اردو مولوی عبد الحق نے اپنے مضمون ’’تحقیق: باغ وبہار کا ماخذ‘‘ میں کیاہے اور یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ ’’باغ وبہار‘‘ عطا حسین خاں کی مرصع و مغلق اُردو کتاب ’’نوطرزِ مرصع‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بعض مقامات پر اس کی کہانی ’’باغ وبہار‘‘ سے من و عن ضرور ملتی ہے، لیکن زبان اور اندازِ بیان نے ’’باغ و بہار‘‘ کو تخلیقیت کا پیرہن عطا کردیا ہے جس کی وجہ سے ’’نوطرزِ مرصع‘‘ کو از سرِ نو لکھنے کا ذائقہ پیدا ہوگیاہے۔جہاں دوسری زبانوں سے واقعہ اخذ کیا گیاہے، اس مقام پر موقع محل کے مطابق الفاظ، تراکیب، محاورے، دوہے، کبت اور خود کے اشعار کے وسیلے سے بیانیہ میں نیاflavour پیدا ہوگیاہے، جس نے ’’باغ وبہار‘‘ کو کلاسیک کا درجہ عطا کردیاہے۔اس لیے جس قدر وہ فورٹ ولیم کالج کے دَور میں مقبول تھی، اسی طرح آج بھی ہے اور کل بھی یہ کتاب مقبول و معروف رہے گی۔’’باغ وبہار‘‘ کی مقبولیت کا راز اس کی فصاحت و سلاست میں ہے۔ کئی زاویہ سے تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے بابائے اردو مولوی عبد الحق لکھتے ہیں:
’’لیکن ’نوطرزِ مرصع‘ اور ’باغ وبہار‘ کے طرزِ بیان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ’نوطرزِ مرصع‘ کی عبارت نہایت رنگین اور سرتاپا تشبیہات و استعارات سے مملو ہے یہاں تک کہ بعض اوقات پڑھتے پڑھتے جی متلانے لگتاہے۔تحسین نے اپنے بیان میں عام قصہ گویوںکا طرز اختیار کیاہے۔آج کل اس کو پڑھنا طبیعت پر بار ہوتاہے۔ زبان کا ڈھنگ پرانا ہے اور فارسی ترکیبوں اور الفاظ سے بھرپور ہے۔ ’باغ وبہار‘ سے اُسے کچھ نسبت نہیں۔‘‘ ۲؎
رشید حسن خاں نے متعدد کتابوںکا ذکر کیاہے جنھیں فارسی زبان سے اُردو میں ترجمہ کیاگیاہے، لیکن ان کو تالیف یا ترجمہ نہیں کہا جاتا۔ بطور مثال پنڈت دیاشنکر نسیم نے فارسی سے ترجمہ کیا ہوا ’’مذہبِ عشق‘‘ کو پیش نظر کرتے ہوئے ایجاز و اختصار اور شاعری کی مخصوص فنی صفت میں ’’گلزارِ نسیم‘‘ رقم کیاہے، اس کو کوئی ترجمہ نہیں کہتا۔لہٰذا ’’باغ وبہار‘‘ کو بھی ترجمہ کے بجائے تصنیف لکھا جانا چاہیے اور یہ بجا ہے۔
(۳) باغ وبہار کی داستانی حیثیت:
’’باغ وبہار‘‘ ایک مکمل داستان ہے۔ داستان کی پہلی شرط ہے؛ قصہ در قصہ کا ہونا۔افسانوی ادب میں ناول، افسانے اور ڈرامے کی طرح داستان میں پلاٹ نہیں ہوتا ہے۔ اس میں قصہ در قصہ ہوتاہے۔داستان پر گفتگو کے دوران ایک دن ایم۔اے کے کلاس کے دوران میں اس کا اظہار کیا تو ایک طالبہ علم نے اعتراض درج کیا کہ میں نے کتاب میں پڑھا ہے اور لکچر میں بھی سُنا ہے کہ داستان میں پلاٹ ہوتاہے مگر بہت ڈھیلا ڈھالا ہوتاہے۔ اس کے بعد سوال اُٹھنا لازم تھا کہ پلاٹ کسے کہتے ہیں؟اس حوالے سے متعدد ناقدین کے تصورات سامنے آئے۔ پھر واضح ہوگیاکہ قصہ کے ڈھانچے کو پلاٹ کہتے ہیں جس کے اِرد گرد کہانی گھومتی ہے یا کسی نظریہ کو مرکزی خیال بناکر بھی پلاٹ کی بنت کی جاتی ہے اور نظریات کی باہمی ربط و ترتیب سے قصہ کا ڈھانچہ تیار ہوتاہے، جو کہانی کی تشکیل میں پلاٹ کا کام انجام دیتاہے۔اس تناظر میں ’’باغ وبہار‘‘ کو ملاحظہ کریں۔اس میں چار درویش اور ایک بادشاہ کی سرگذشت شامل ہے، اور ہر سرگذشت میں ایک سے زائد پُرلطف، دلچسپ اور سنسنی خیز قصے اُبھرتے ہیں۔ہر قصّہ نیاباب کھولتاہے جس سے مرکزی قصہ یعنی سرگذشت بیان کرنے والے کردار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اس بناپر پلاٹ کا تصور باطل ہوجاتاہے، لیکن قصہ در قصہ، موضوع و مواد، مخلوط کردار، مافوق الفطرت عناصر اور زبان و بیان؛جس میں زبان کی وسعت اور بیان کی نیرنگی چھ لوازم موجود ہیں، اس لیے ’’باغ وبہار‘‘ فنی طور پر مکمل اور کامیاب داستانی صحیفہ قرار پاتاہے۔
’’باغ وبہار‘‘ کی سرگذشتوں پر ایک سرسری نظر کے توسط سے اہم قصے و کردار اور بنیادی نکات کو نشان زد کرکے نئی تعلیمی پالیسی کے تقاضے پورا کرسکتے ہیں۔پہلا درویش ملکِ یمن کے ملک التجار خواجہ احمد کا فرزند ہے۔آرام و آسائش اور مرفع حالی میں زندگی بسر ہورہی تھی کہ چودہ برس کی عمر میں والدین کا انتقال ہوگیا۔اس کی ایک بہن تھی جس کی شادی خواجہ احمد سوداگر نے اپنی حیات میں ایک بڑے تاجر سے کردی تھی۔پہلے درویش کو وراثت میں کافی مال و زر اور کئی شہروںمیں کوٹھی ملی تھی۔ چالیس دن رو دھوکر پرساں میں گزر گئے۔چہلم کی رسم کے بعد عزیز و اقارب رخصت ہوگئے اور پہلے درویش نے دوستوںکے ساتھ دل بہلانا شروع کیا۔رنگین محفلیں سجنے لگیں۔ نوکر اور رفیقوں نے جب غفلت دیکھی، لوٹ مچادی۔اس کے پاس فقط ٹوپی اور لنگوٹی باقی رہی۔فاقہ کشی کا عالم ہوگیا جو دانت کاٹی روٹی کھاتے تھے وہ دیکھ کر راستے کاٹنے لگے۔اس وقت درویش کو اپنی بہن کی یاد آئی اور وہ بہن کا مہمان ہوا۔برسوں خاطرداری کے بعد بہن نے درویش کو تجارت کے لیے آمادہ کیا۔بہن نے پچاس توڑے اشرفی اصیل، اس کے آگے رکھوا دی اور کہا کہ بازار سے سودا سلف خرید کر؛ سوداگروں کا قافلہ دمشق جارہاہے، ان سے قول و قرار کرلے اور تجارتی سودا کے ساتھ روانہ ہوجا۔درویش نے خشکی کی راہ سے سفر کیا۔ غرض جب شہر کے دروازے پر پہنچا، رات ہوچکی تھی۔ دربان نے فصیل کا دروازہ بند کردیا تھا۔ وہ شہرپناہ کی دیوار تلے گھوڑے کی زین پوش بچھاکر بیٹھ گیا۔ جیسے ہی آدھی رات اِدھر اور آدھی رات اُدھر ہوئی؛شہر کی فصیل سے ایک صندوق گرا۔وہ قریب جاکر صندوق کھولا تو ایک نازنیں بُری طرح زخمی حالت میں کراہ رہی تھی۔صبح ہوتے ہی وہ شہر میں داخل ہوا اور کرایہ کی کوٹھی میں قیام کے بعد اس نازنین کے علاج و معالجہ کی فکر میں نکلا۔معلوم ہوا،عیسیٰ نام کا ایک جراح ہے جو اپنے فن میں مہارت رکھتاہے۔ اس کے مرہم پٹی اور علاج سے کچھ دنوں بعد وہ نازنین صحت یاب ہوگئی۔
دراصل وہ نازنین ملک دمشق کے سلطان کی اکلوتی بیٹی تھی۔اس نے اپنے محسن و کفیل (پہلے درویش) کی مالی تنگی دیکھ کر ایک شقّہ، دستخطِ خاص سے درویش کو دیا اور بتایاکہ قلعے کے پاس ترپولیا ہے، اس کوچے میں ایک بڑی حویلی ہے، اس کا مالک سیدی بہار ہے، اس تک اس رقعہ کو پہنچا دے۔لہٰذا رقعہ سیدی بہار تک پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد گیارہ کشتیاں سر بہ مہر، زربفت کے تورہ پوش؛ غلام کے سر پر دھرے باہر آیا اور دریش کے ساتھ کوٹھی تک پہنچانے کا حکم کیا۔نازنین نے اشرفی پاکر کہا کہ دو توڑے اشرفی کے ساتھ یوسف سوداگر کی دُکان جو چوک پر ہے، وہاں سے ضروری اسباب و جواہرات خریدلا۔ درویش کے حلیہ اور گفت و شنید سے یوسف سوداگر متاثرہوا اور اپنی دولت کدہ پر مدعو کیا۔ نازنین کی اجازت لے کر درویش نے اس کی محفل خورد و نوش میں شرکت کی۔یوسف سوداگر کو بھی نازنین کے کہنے پر دعوت کرکے لوٹا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اتنے کم وقتوں میں اس کی رہائش گاہ پر شاہانہ تیاری کیسے ہوگئی۔اس نے اس بابت نازنین سے دریافت کیا تو اس نے کچھ بھی بتانے سے گریز کیا۔یوسف سوداگر درویش کے یہاں دعوت میں شریک ہوا۔باہم موسیقی اور شراب وکباب سے لطف اُٹھایا گیا۔ یوسف سوداگر نے اپنی محبوبہ کو بھی بلانے کی خواہش ظاہر کی۔یوسف سوداگر کی محبوبہ کالی کلوٹی بھوتنی جیسی تھی اور یوسف اس پر دل وجان سے فریفتہ تھا۔شراب اور موسیقی کی محفل اس قدر سجی کہ آدھی رات کے بعد سب بے سدھ ہوگئے۔ صبح میں درویش بیدار ہوا تو مکان کا نظارہ ہی بدل گیاتھا۔ وہاں کوئی آدم و آدم زاد نہیں تھا۔ ایک کونے میں یوسف سوداگر اور اس کی محبوبہ کی سرکٹی لاش پڑی تھی۔ درویش نے ان دونوں سرکٹی لاش کو ٹھکانہ لگوایا اور مجنوں کی طرح ترپولیا کے اس کوچے میں پھرنے لگا،جہاں سیدی بہار کا مکان تھا۔رات میں وہ مسجد میں قیام کرتا، یہ خبر اس نازنین تک پہنچ گئی۔اس نے ایک دن درویش کو اپنے مکان میں بلوایا اور اس سے تمام ماجرا سننے کے بعد اپنی حقیقت بتائی اور یوسف سوداگر سے اپنے عشق اور واقعات کی تفصیلات بیان کی۔پھر درویش کی ضد اور اس کے احساس کی وجہ سے نازنین نے درویش سے نکاح کرلیا اور جگ ہنسائی کے ڈر سے دونوں رات کے پچھلے پہر گھوڑے پر سوار ہوکر محل سے نکل گئے۔ راستے میں ایک سنسان دریا ملا جس کو پار کرنے اور نازنین کوآرام و راحت کے مدنظر تن تنہا چھوڑکر ناؤ کی تلاش میں نکلا اور لوٹنے پر دیکھاکہ نازنین غائب ہے۔اس کی جدائی اور تلاش میں مجنوں بن کر پہلا درویش جنگل، پہاڑ سے گاؤں تک گھومنے لگا اور سراغ نہیں ملنے سے خود کو پہاڑ سے گراکر ماردینا چاہا کہ آواز آئی، تین درویش تمہارے جیسے اور ہیں اور جب روم کے بادشاہ سے چاروں درویش کی ملاقات ہوگی، پھر سب کی مرادیں پوری ہوجائیں گی۔
چاروں درویشوں میں طویل سرگذشت ’’سیر دوسرے درویش کی‘‘ ہے۔دوسرے درویش کا وطن فارس(ایران) ہے۔ اس کے والد فارس کے بادشاہ تھے۔ اس لیے چودہ برس کی عمر تک بادشاہوں کے لائق تمام علوم و فنون اس نے حاصل کرلی۔مصاحبوں میں سے ایک نے ایک دن حاتم طائی کا ماجرا سنایاکہ کس طرح حاتم کی سخاوت اور ناموری کی حسد میں عرب کا ایک بادشاہ نوفل نے اس کی ریاست پر چڑھائی کردی، لیکن عوام کی جان اور مال کے زیاں سے بچانے کے لیے تن تنہا حاتم ، جنگل کے اندر ایک پہاڑی میں چھپ گیا۔ نوفل نے حاتم کو پکڑکر لانے والے کو پانچ سو اشرفی انعام دینے کا اعلان کردیا۔ ایک بوڑھا اور اس کی بوڑھی ایک دن جنگل میں لکڑیاں توڑتے ہوئے گفتگو کر رہے تھے کہ حاتم ہاتھ لگ جائے تو بادشاہ کے حوالے کرکے پانچ سو اشرفیاں پا لیتے اور باقی زندگی آرام سے گزر جاتی۔یہ سخن حاتم کی کان میں پڑی تو اس جیسا سخی، روپوش کیسے رہتا! نکلا اور اُن سے کہا کہ ہم کو بادشاہ کے پاس لے چلو اور انعام کا حقدار بن جاؤ، لیکن بوڑھا اور بوڑھی کی غیرت اس بات پر آمادہ نہیں تھی اور حاتم سے بحث چل رہی تھی کہ دوسرے لوگ جمع ہوگئے اور ہر کوئی پکڑنے کا دعویٰ کرتے ہوئے نوفل کے پاس گئے۔بوڑھا اور بوڑھی الگ کھڑے تھے۔حاتم نے بوڑھا و بوڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ انھوںنے ہم کو پایا ہے، وہی انعام کے حقدار ہیں۔حاتم کی سخاوت دیکھ کر بادشاہ نوفل بہت خوش ہوا اور آزاد کرتے ہوئے حاتم کی ریاست بھی واپس کردی۔
حاتم کی سخاوت سے متاثر ہوکر دوسرے درویش نے بھی شہر سے باہر چالیس بلند دروازے کا ایک عالیشان مکان تعمیر کرایا جس کے ہر دروازے سے حاجت مند آتے اور صبح سے شام تک ان کی حاجت روائی کی جاتی۔ایک روز ایک فقیر سامنے کے دروازے سے داخل ہوا اور ایک اشرفی پایا اور چالیسوں دروازے سے ایک ایک اشرفی حاصل کرنے کے بعد پھر وہ پہلے دروازے سے گھس آیا۔ دوسرے درویش نے فقیر سے کہا کہ تم کیسے فقیر ہو کہ فقر کے تین حرفوں سے واقف نہیں۔ ’’ف سے فاقہ، ق سے قناعت اور ’ر‘ سے ریاضت نکلتی ہے،جس میں یہ باتیں نہ ہوں، وہ فقیر نہیں۔‘‘فقیر خفاہوکر بولا، تم سخاوت کا بوجھ نہیں اُٹھاسکتے۔’’س سے سمائی اور خ سے خوفِ الٰہی اور یہ سے یاد رکھنا اپنی پیدائش اور موت کو۔‘‘اگر سخاوت دیکھنا ہو تو بصرے کی بادشاہ زادی کو دیکھو، اس جیسا کوئی سخی دیکھنے کو نہیں آیا۔
فارس کے بادشاہ کی موت کے بعد جب دوسرا درویش بادشاہ قائم ہوا۔وزیر باتدبیر کو بلاکر سلطنت کا مدار المہام حوالے کیا۔پھر گیروا بستر پہن،فقیر کے بھیس میں بصرے کی راہ لی۔بصرے کی سرحد میں داخل ہوتے ہی ہر سرائے میں اس کو تین تین دن تک مہمان بنایاجانے لگا اور تحائف کے ساتھ اس کو وہاں سے رخصت کیا جاتا۔پھر شہر میں داخل ہوتے ہی بیداربخت نامی ایک خواجہ نے اپنے یہاں مہمان کیا اور تین روز تک لذیذ کھانوں سے ضیافت کے بعد بہت سارا مال و اسباب اس کے حوالہ کیا، جس کو دوسرے درویش نے وہاں ایک کمرے میں مقفل کرادیا اور وہاں سے رخصت لیا۔ دوسرے شہر کے ایک خواجہ نے اپنے مکان پر مہمان کیا جس کی رسائی ملکہ کی ڈیوڑھی تک تھی۔اس کی درخواست پر ہی ڈیوڑھی میں درویش پہنچا، جہاں ایک بوڑھی خاتون ملکہ کی محافظہ تھی۔ اس نے درویش کو ملکہ سے روبروکرایا۔درویش نے اس طرح مال و زر خرچ کرنے اور بے دریغ دولت فقیروں پر لٹانے کے باوجود مال و اسباب کا تمام نہ ہونا؛حیرت میں ڈالتاہے،اس کی ماہیت کو واضح کرنے کی گزارش کی۔بوڑھی دائی نے ملکہ کے اشارہ پر سلطانِ اقلیم یعنی ملکہ کے والد کی سات بیٹیوں اور ان سے وابستہ واقعات پر روشنی ڈالی کہ ملکہ ان میں سب سے چھوٹی ہیںاور جب بادشاہ نے دریافت کیاکہ یہ آرام و عیش و عشرت کس کے طفیل ہے، سب نے کہا ،بادشاہ سلامت کا دیا ہم کھاتے ہیں اور یہ سب ان کے کرم سے ہے، لیکن اس چھوٹی شہزادی نے جواب دیا؛آپ کو جس نے بادشاہ بنایا اُسی نے ہم کو شہزادی بنایا ہے؛اسی کا دیا ہم کھاتے ہیں۔یہ سن کر بادشاہ سخت غصہ ہوا اور حکم دیا کہ جنگل میں جہاں انسان کا نام و نشان نہ ہو، وہاں اس کو ڈال آؤ۔جنگل میں کئی دنوں تک شہزادی بھوکی پیاسی پڑی رہی کہ ادھر سے ایک فقیر کا گزر ہوا جس نے ان کو کھانا کھلایا اور ہر روز جو کچھ مانگ کر لاتا اس میں سے شہزادی کو بھی کھلاتا اور دیکھ بھال کرتا۔ ایک دن جوڑے کے بال بناتے شہزادی کے بال سے ایک موتی کا آب دار دانہ نیچے گرپڑا جس کو شہزادی نے فقیر کے حوالے کیا اور مکان بنانے کا سامان بھی خرید لانے کی ہدایت کی۔خود بنیاد کھودنے لگی کہ اشرفیوں سے بھرا ایک گھڑا نکل آیا اور شہزادی کی دنیا بدل گئی۔یہاں محل بنوایا اور اس جگہ کو آباد کرکے ملکہ بن گئیں۔یہ ماجرا سننے کے بعد درویش نے بتایاکہ وہ فارس کا بادشاہ ہے اور ملکہ سے نکاح کے لیے آرزومند ہے، ملکہ نے نکاح کا پیغام سن کر بہرور کی طرف اشارہ کیا جو ایک سوداگر تھا اور ملکہ کے محل کی کنجیوں کا ضامن بھی تھا۔اس نے اپنے بیان میںکہا کہ شہرنیم روز میں جانا ہوا تھا تو دیکھا کہ تمام لوگ سیاہ کپڑے پہنا کرتے ہیں اور ہر ماہ کے آخر میں سبھی ایک میدان میں جمع ہوجاتے ہیں۔ وہاں ایک خوبرو نوجوان زرد بیل پر سوار ہو،میدان میں آتاہے۔ بیل سے اُترکر ایک ہاتھ میں بیل کی ناتھ اور دوسرے میں تلوار لیے لوگوںکے سامنے سے گزرتا ہے، اس کے ساتھ ایک نوخیز لڑکا مرتبان لے کر سب کے سامنے سے دکھاتے ہوئے گزرتاہے، مرتبان دیکھ کر سب رونے لگتے ہیں، پھر تلوار سے اس لڑکے کا سر کاٹ کر جدھر سے آیا، ادھر چلاگیا۔اس ماجرا کی حقیقت سے پردہ اُٹھاؤ؛ یہی تمہارے نکاح کا مہر ہے۔
دوسرا درویش ملکہ سے وعدہ وعید کرکے شہرنیم روز روانہ ہوگیا۔ بالکل وہی صورتِ حال دیکھا جو بہرور سوداگر نے بیان کیا تھا۔ ماہ کے آخر میں وہ نوجوان میدان میں آکر وہی عمل دہرایا اور لوٹا کہ درویش اس کے پیچھے چل پڑا، اس کو دیکھ کر جوان بہت غصہ ہوا اور مجبوراً اس کو بھی اپنے ساتھ ایک مکان میں لے گیا۔بیل کو باندھ کر خوب پیٹا، پھر دانا پانی دیا اور پچکارا۔دراصل وہ بیل جِن تھا۔درویش کی گزارش پر اس نے اپنی آپ بیتی سنائی کہ بادشاہ شہرنیم روز کے یہاں بڑی منتوںکے بعد جب اولادِ نرینہ پیدا ہوا،نجومیوں، رمالوں اور پنڈتوں نے کہاکہ شہزادے کو چودہ برس تک سورج چاند دیکھنے میں خطرہ ہے، لہٰذا میری پرورش اسی سنسان محل میں ہونے لگی۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھا کرتا تھا۔ایک دن اس برج میں آیا تو دیکھا کہ ایک مرصع تخت پر ایک پری نیچے تک آئی۔اس کو دیکھتے ہی جذبۂ عشق سے سرشار ہوگیا۔اکثر وہ آتی اور باہم عشق و عاشقی کی صحبت میں رہتی۔ جب اس کی آمد بند ہوگئی تو اس کے عشق میں تڑپنے لگا۔ دیوانگی اس حد تک بڑھ گئی کہ تین برسوں تک آب و دانہ چھوٹ گیا۔قبلۂ عالم کے پاس ایک سوداگر آتاتھا،اس نے بتایاکہ ہندوستان میں دریا کے بیچ ایک پہاڑی ہے، وہاں مہادیو کی منڈپ میں ایک جٹادھاری گسائیں رہتے ہیں۔ان کا قاعدہ ہے کہ ہر برس شیورات کے روز اپنے استھان سے نکل کر دریاپارکرتے اور آسن لگاتے ہیں۔ جتنا بیمار لاچار ہوتے ہیں، ان کا مفت علاج کرتے ہیں،ان کے پاس ہم کو لے جایاگیا۔پھر وہ دن آیا جب جٹادھاری دریا سے اشنان کرکے آسن پر بیٹھے۔ ایک مریض جس کے سر پر کنکھجورا پیوست ہوگیا تھا، میں نے اس کو نکالنے کی ترکیب گرم چنگاری سے داغنے کو بتایا جو کامیاب رہا۔جوگی میری طرف دیکھ کر اُٹھے، اپنی جٹا کو پھندا بنایا؛ پیڑ سے لٹک کر جان دے دی۔ ان کی جٹا سے دو کنجیاں گرپڑیں، جن کو اُٹھاکر میں نے مندر کا دروازہ کھولا۔ایک کتاب دیکھی۔اس میں اس اسمِ اعظم اور حضراتِ جن و پری اور روحوں سے ملاقات کی ترکیب لکھی تھی، اس کتاب کو لے کرواپس آیا اور اسی محل میں قیام کرنے کی خواہش ظاہر کی جس کو بادشاہ سلامت نے منظور کرلی۔رات میں اسمِ اعظم پڑھ کر پری کو بلایا۔پری نے متنبہ کیاکہ غفلت ہوئی تو جن کتاب کو اُچک لیں گے۔ دونوں دادِ عیش دینے لگے۔مستی کا عالم تھا کہ ایک جن آکر کتاب طلب کیا اور حاصل کرلیا۔ سارا طلسم ٹوٹ گیا۔ دیکھا کہ پری بیہوش پڑی ہے اور اس کے سرہانے ایک دیو کتاب لیے کھڑا ہے۔ جو کچھ فسوں یاد تھا، اس کو پڑھا، وہ جن بیل بن گیا، اسی دن سے اس بیل پر سوار ہوکر مرتبان میں اس پری کو دکھاتے اور تلاش کرتے ہیں، پھر اپنے محل میں لوٹ آتے ہیں اور اس کی جستجو میں یہاں تک پہنچے ہیں۔
دو درویشوں کی سرگذشت پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال اُٹھنے لگتاہے کہ ’’باغ و بہار‘‘ کو کہانیوں کا مجموعہ کہاجانا چاہیے۔سبھی سرگذشتوںمیں بھی اس طرح کی انفرادی نوعیت کی متعدد کہانیاں ہیں۔ لہٰذا ان نکات کو نشان زد کرنا لازم ہوجاتاہے، جس کی بناپر ’’باغ وبہار‘‘ کی داستانی حیثیت قائم ہوتی ہے۔
دراصل ’’باغ وبہار‘‘ کی ابتدا’’ شروع قصے کا‘‘ سے ہوتی ہے، جس میں روم کے بادشاہ آزاد بخت کی آپ بیتی درج ہے۔روم کا دار الخلافہ قسطنطنیہ ہے جس کی شہرت چار دانگ ہے اور ہر طرح کی عافیت کے باوجود چالیس برس گزرنے کے بعد بھی وہ اولادِ نرینہ سے محروم ہے۔ایک دن اپنے سر میں ایک سفید بال آئینے میں دیکھ کر محرومی اس قدر بڑھ گئی کہ تاج و تخت چھوڑ؛گوشہ نشیں ہوگیا۔درباریوں نے وزیر خردمند کو بادشاہ کے پاس بھیجا جس نے التجا کرکے دن میں دربار لگانے کی گزارش کی اور صبح و شام دربارِ خداوندی میں سجدہ ریز ہوکر حاجت روائی کے لیے دعا کرنے اور کتابیں پڑھنے پر آمادہ کرلیا۔ ایک دن بادشاہ نے کتاب میں پڑھے ہدایت کے مطابق گورستان کا رُخ کیا اور دیکھا کہ ایک مکان میں پتھر پر رکھا دیا، تیز ہو ا میں بھی ٹمٹما رہاہے اور چار فقیر کفنی باندھے دوزانوں ہیں۔بادشاہ ایک کونہ میں دُبک کر بیٹھ گیا اور سنا:
’’اپنے مولا مشکل کشا کی بَشَارت سے خاطِر جمع کر قَصد قسطنطنیہ کا کیا…اَب چاہیے کہ بادشاہ آزاد بخت سے بھی روشناس اور جان پہچان ہو۔‘‘ ۳؎
یہی وہ پہلا بنیادی نکتہ ہے جو جُدا جُدا سرگذشتوں اور الگ الگ قصّوں کے بیان کو ، کہانیوں کے مجموعہ کی جگہ داستانی حیثیت عطا کرتا ہے اور اسی سبب سے دیگر قصوں میں تسلسل آتی ہے۔ سرگذشتوں کے رواں دواں قصّے؛آپس میں ہم آہنگ ہوکر ’’باغ وبہار‘‘ میں داستانی فضا قائم کرتے ہیں۔اس امر کی وضاحت کے لیے یہ عبارت ملاحظہ کریں:
’’جب دوسرا دَرویش بھی اپنی سَیر کا قصّہ کہہ چکا، رات آخر ہوگئی اور وقت صُبح کا شُروع ہونے پر آیا۔بادشاہ آزاد بخت چُپکا اپنے دولت خانے کی طرف روانہ ہوا۔محل میں پہنچ کر نماز ادا کی۔ پھر غُسل خانے میں جا، خلعتِ فاخرہ پہن کر، دیوانِ عام میں تخت پر نکل بیٹھا اور حکم کیا کہ یَساول جاوِے؛ چار فقیر فُلانے مکان پر وارِد ہیں، اُن کو بہ عزت اپنے ساتھ حُضور میں لے آوے۔‘‘۴؎
اس طرح گورستان سے نکل کر آزاد بخت کے دربار میں چاروں جمع ہوئے جو اپنی مرادیں پوری ہونے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔اس پس منظر میں ملک روم’’باغ وبہار‘‘ میں درآئے تمام قصّوں کا مرجع بن جاتاہے۔یہاں آزاد بخت نے اپنی سرگزشت سنائی جو تمام سرگزشتوں میں طویل ہے۔ دلچسپ اور قابلِ توجہ بھی ہے کہ اس سرگزشت میں عبرت انگیز واقعہ خواجہ سگ پرست ہے، جو اپنے دو بڑے بھائیوںکو لوہے کے پنجرے میں قید رکھتاہے اور اپنے کتّے کو غلیچے بچھے تخت پر بٹھاتاہے اور اس کے جوٹھے کھانے کو اپنے بھائیوں کو کھلاتاہے۔ جب بدخشاں سے آئے ایک سوداگر نے پانچ مثقال کا ایک انوکھالعل عنایت کرکے انعام پایا تھا اور بادشاہ اس لعل کو دوسرے ملکوں سے آئے ایلچیوں کے درمیان میں نمائش کرنا چاہتا تھا۔پھر وزیر نے عرض کیا کہ نیشاپور کے ایک سوداگر نے سات سات مثقال کے بارہ دانے والے پٹّے کو اپنے کتّے کے گلے میں ڈال رکھاہے۔ اس ایک لعل کی نمائش سے حضور کی بدنامی ہوگی۔یہ سن بادشاہ برہم ہوگیا۔وزیر کے قتل کے حکم کو اس کی وفاداری کے سبب منسوخ کرکے تفتیش تک جیل میںڈال دیا۔وزیر کی اکلوتی بیٹی کو جب اپنی والدہ کے توسط سے اس کی اطلاع ملی؛اس نے اپنے اتالیق دادا کو اعتماد میں لیا اور سوداگری کے مال و اسباب کے ساتھ سوداگر بچہ بن کر اس کی حقیقت معلوم کرنے نکل پڑی۔نیشاپور میں مسکن بنایا۔بچہ سوداگر ایک دن چوک پر پہنچا تو دیکھا کہ جواہرات کی ایک دُکان پر ایک طرف دو آہنی پنجرے ہیں جن میں ایک ایک آدمی قید ہے اور دوسری طرف ایک غلیچہ بچھے تخت پر ایک کتّا جواہرات کے پٹّا لٹکائے بیٹھا ہے۔پھر اس کے لیے عمدہ کھانے لائے جاتے ہیں۔ کتا جی بھر کے کھا لیتا ہے اور اس کے چھوڑے ہوئے کھانے کو ان دونوں آدمیوںکو کھلا دیا جاتاہے۔اس لیے وہ ’’خواجہ سگ پرست‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔بچہ سوداگر نے اس قدر اس سے دوستی بڑھائی کہ عزیزِ جان بن گیا۔کچھ دنوں بعد بچہ سوداگر اپنے والدین سے ملنے ملک روم آنے کا قصد کیا تو خواجہ سگ پرست بھی سوداگری کے مال و اسباب، پنجرے میں قید بھائیوں، ملازمین اور دیگر سامان کے ساتھ قسطنطنیہ وارد ہوا۔بادشاہ کو اتنے بڑے سوداگر کے،شہر میں آنے کی خبر ملی تو آزاد بخت نے دربار میں آنے کی دعوت دی۔اس طرح بچہ سوداگر اور خواجہ سگ پرست اپنے کتّے اور آدمی والے پنجرے کے ساتھ دربار میں حاضر ہوا۔بادشاہ کے استفسار پر اپنی سگ پرستی کے ماجرا سے پردہ اُٹھایا کہ کس طرح آہنی پنجرے میں قید میرے دونوں بڑے بھائیوں نے میرے اوپر مظالم ڈھائے۔ میرے مال و اسباب لوٹے، بیوی بچوںکا قتل کیا۔ ’’ایک خطا؛ دو خطا، تیسری خطا،مادرِ خطا۔‘‘سمجھ کر میں نے قید کردیا کہ یہ مزید دوسروں کو گزند نہ پہنچائیں؛ جیسا کہ ان بھائیوںنے سراندیپ کے سفر سے واپسی پر ہم کو ناؤں سے دھکیل دیا۔میرے محافظوںکو قتل کردیا۔اس طرح کی حرکت انھوںنے کئی مرتبہ کی اور میں معاف کرتا رہا اور ہر بار اِس کتّے نے میری جان بچائی۔ پھر بادشاہ پر یہ بھی منکشف ہوگیا کہ بچہ سوداگر دراصل وزیر زادی ہے جس نے اپنے والد خردمند کو جیل سے آزاد کرانے کے لیے یہ عمل کیاہے۔بادشاہ نادم ہوا اور فوراً وزیر کو جیل سے رِہا کیا۔ پھر وزیر زادی کا نکاح خواجہ سگ پرست سے کراکے منسوب کیا۔
بادشاہ آزاد بخت کی سرگذشت ختم ہونے کے بعد تیسرے درویش نے اپنی سیر میںکہا کہ وہ بادشاہ زادہ عجم کا اکلوتا فرزند ہے۔نام اس کا، کام گار ہے۔جوانی کے عالم میں چوپڑ، گنجفہ، شطرنج وغیرہ وغیرہ کے ساتھ سیر وشکار میں مشغول رہاکرتا تھا۔ایک دن شکار کرتے صحرا میں نکل آیا، جہاں جواہر سے آراستہ ایک ہرن گھوم رہاتھا۔اس کا پیچھا کرتے کرتے شام ہوگئی۔ میں نے مصاحبوںکو پیچھے چھوڑدیا تھا۔ پھر میں نے ہرن پر تیر چلادی جو اُس کی ٹانگ میں پیوست ہوگئی اور وہ پہاڑی اوپر مکان میں، ایک سفید ریش بوڑھے کے قدموںمیں جا بیٹھا۔ بوڑھا تیر نکالتے ہوئے شکاری کو بددعائیں دے رہاتھا۔ میں نے اپنی غلطی کی تلافی کی اور معافی مانگی۔بوڑھے کے پاس جو کچھ تھا کھلایا اور میں ایک چارپائی پر بے خبر سو گیا۔صبح آنکھ کھلی تو مکان خالی پایا۔ایک کونے میں پتھر کی مورتی کے قدموں پر سر دھرے ایک بوڑھے کو روتاپایا۔اس سے گزارش کرنے پر اس نے اپنا نام نعمان سیّاح بتایا اور کہا کہ ایک بار سوداگری کا سامان لے کر ملک فرنگ جانا ہوا۔وہاںکی شہزادی مہرنگار کے بلاوے پر، بادشاہوںکے لائق سامان لے کر اس کے دربار میں حاضر ہوا۔شہزادی نے سامان خریدنے کا وعدہ کے ساتھ حکم دیا کہ یہاں سے کچھ دور آگے دل کشا باغ ہے، جس کا داروغہ کیخسرو ہے، اس کے ہاتھ تک اس انگوٹھی اور رقعہ کو پہنچا دو۔ وہاں دیکھا کہ داروغہ ایک آہنی قفس میں قید ہے۔میںنے انگوٹھی اور خریط کو پنجرے کی تلیوں کی راہ، اس کو دیا۔وہ شہزادی کے احوال پوچھنے لگا۔اُسی دوران میں فوج نے اسلحہ کے ساتھ حملہ کردیا۔ہم کو مردہ سمجھ کر چارپائی پر اُٹھائے چار زن لیے جارہے تھے کہ میری التجا پر انھوںنے اس واقعہ سے پردہ اُٹھایا۔ قفس میں بند بادشاہ کا بھتیجا ہے اور نام کیخسرو جو ملک و مال کا اصل مالک ہے۔ شہزادہ ابھی چھوٹا تھا کہ باپ کو موت نے آ گھیرا،اس نے اپنے بھائی کو حکومت سونپتے ہوئے ہدایت دی کہ شہزادے کو جوان ہوتے ہی اپنی بیٹی سے شادی کرکے حکومت حوالے کردینا لیکن اس نے امانت میں خیانت کی۔تیسرے درویش کو شہزادی مہرنگار سے عشق ہوگیا اس لیے وطن واپس ہونے کے بجائے پہاڑی پر ایک مکان بنوایا جس میں شہزادی مہرنگار کا بُت بنواکر اس سے ملنے کی آرزو لیے بیٹھا روتا اور شہزادی کی حویلی کے آس پاس چکر لگاتا۔ایک دن ملکہ مہرنگار نے اس کو حویلی میں بلایا۔حال دریافت کی۔ شہزادہ زرنگار نے اس سے نکاح کا پیغام دیا اور نکاح کے بعد باہم مشورہ کے بعد محل سے فرار ہوگئے۔راستے میں ایک جاگیردار بہزاد خاں کے یہا ں قیام کیا۔ بادشاہ اور بہزاد خاں کے درمیان جنگ ہوئی۔ بادشاہ کی شکست ہوئی۔ بہزاد خاں کے یہا ں برسوں قیام کے بعد شہزادہ کام گار وطن واپسی کے لیے گھوڑے پر سوار ہو، نکلا۔ملکہ بھی ایک گھوڑی پر سوارہوئی اور بہزاد خاںکی رہبری میں نکلے۔درمیان میں ایک ندی ملی جس کی دوسری طرف شہزادے کے والدین اس کے منتظر تھے۔شہزادے نے گھوڑے کو دریا میں اُتاردیا جس کے پیچھے مہرنگار نے بھی اپنی گھوڑی اتاردی لیکن گھوڑی پلٹ گئی اور شہزادی دریا میں گر پڑی جس کی تلاش میں شہزادہ اور بہزاد خاں بہت ہاتھ پاؤ ںمارے، ملکہ نہیں ملی۔درویش نے اپنے تئیں ختم کرنے کا ارادہ کیا کہ آواز آئی:
’’اب تو، روم کی طرف جا۔اور بھی دو درویشِ دِل رِیش وہاں گئے ہیں۔اُن سے تو، جب ملے گا، اپنے مراد کو پہنچے گا۔‘‘ ۵؎
چوتھے درویش نے بیان دیا کہ اس کے باپ چین کے بادشاہ تھے۔والد نے جاں کنی کے وقت،اپنے بھائی سے وعدہ لیا کہ سنِ بلوک تک پہنچتے ہی اپنی بیٹی روشن اختر سے اس کا نکاح کرکے، حکومت شہزادے کے سپرد کردینا۔ابھی چودہ برس کی عمر تھی کہ بادشاہ کا انتقال ہوا۔درویش کی پرورش بیگمات میں ہورہی تھی کہ صنفِ نازک سے اس کا رویہ بدل گیا، جس کی اطلاع بادشاہ کو ہوگئی۔ایک دن بادشاہ نے شہزادے کے اتالیق حبشی مبارک کو لالچ دے کر شہزادے کو ٹھکانے لگانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ لہٰذا حبشی مبارک نے اس رازِ سربستہ کو شہزادے پر واضح کرتے ہوئے؛ا س کو اپنے ساتھ ایک محل میں لے گیا۔قبلۂ عالم جس کرسی پر بیٹھا کرتے تھے،اس کو کھسکایا اور سرنگ کے راستے ایک عمارت میں لے گیا؛ جس کے ہر ایک دالان میں دس دس خمیں،سونے کی زنجیروںمیں لٹک رہی تھیں اور ہر ایک گولی کے منہ پر ایک سونے کی اینٹ کے اوپر ایک بندر جڑاؤ،بیٹھا تھا۔ کل انتالیس میمون تھے۔ایک بوزنہ یعنی میمون خالی تھا۔مبارک نے بتایاکہ یہ بوزنے تمہارے والد کو جنوںکے بادشاہ ملک صادق نے تحفہ میں دیاہے،ایک ایک میمون کے ایک ایک ہزار دیو، طابع ہیں۔جس دن چالیسواں میمون حاصل ہوجائے گا ؛ان سب میمون میں جان آجائے گی۔ہم تمہارے والد کے نمک خوار ہیں اس لیے صحیح سلامت تم کو ملک صادق کے دربار میں لے جائیں گے اور ایک میمون حاصل کرکے، طاقت کے زور پر حکومت واپس کرائیں گے۔
دوسرے دن بادشاہ نے حبشی غلام کو بلاکر شہزادے کو ٹھکانے لگانے کا اشارہ کیا۔حبشی مبارک بادشاہ سے وعدہ کرکے شہزادے کو جنگل کی طرف لے گیا۔شہزادے کے بجائے ایک جانور قتل کرکے اس کے خون سے، کپڑے کو لت پت کرکے بادشاہ کے پاس بھجوادیا۔چوتھے درویش کو لے جنگل میں بہت آگے چلا گیا اور اس کی دونوں آنکھوں میں سلیمانی سرمے کی سلائیاں پھیر دی، جس کے بعد شہزادے کو بھی جنوںکی فوج نظر آنے لگی۔شہزادے کو مبارک نے ملک صادق کے سامنے پیش کرکے پورا ماجرا سنایا اور وعدے کے مطابق ایک میمون عنایت کرنے کی گزارش کی۔ملک صادق نے شرط لگائی کہ اس کاغذ پر جس نازنین کی تصویر ہے اس کو تلاش کرکے لائیں ، یہ اپنا وعدہ پورا کریں،ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے۔ یاد رہے امانت میں خیانت نہ ہو۔چوتھا درویش اس کاغذ کو ہاتھ میں لیے بخشی مبارک کے ہمراہ سات برس تک ملکوں ملکوں گھومتا رہا۔ہندوستان میں اس کو ایک پھٹے حال فقیر ملا، اس کو کوئی بھیک نہیں دیتا تھا۔ شہزادے نے اس کو ایک اشرفی دیا اور اس کے پیچھے ہولیا۔ایک سنسان جگہ پر عالیشان محل کے اندر فقیر داخل ہوااور یہ دونوں اس کے پیچھے تھے۔اس محل میں اس کی بیٹی بھوکی پیاسی پھٹے کپڑے میں بیٹھی تھی۔ فقیر نے اشرفی ملنے کی بات بتائی اور بازار سے جنس خانہ داری کرکے لایا۔اس نازنین نے کھانا پکایا اور سب سیر ہوکر کھائے۔ کاغذ کی تصویر اور اس نازنین میں کوئی فرق نہیں تھا۔ درویش نے اس فقیر سے اس ماجرے سے پردہ اٹھانے کی گزارش کی۔اس بوڑھے فقیر نے بتایاکہ جنوں کا بادشاہ ملک صادق اس پر عاشق ہے۔یہاں کے بادشاہ زادے نے ضد کرکے اس سے نکاح کرلیا، لیکن عین حجلۂ عروسی کے وقت محل پر حملہ ہوا اور جنوں نے شہزادے کو قتل کردیا۔ بادشاہ سلامت بہت غصہ ہوئے اور محل میں ہم دونوںکو چھوڑکر دوسری جگہ آباد ہوگئے۔ یہ سب سن کر درویش نے ڈرنے کے بجائے منت سماجت کرکے اس سے نکاح کرلیا اور مبارک کے ہمراہ رختِ سفر باندھا۔حبشی مبارک نے نازنین پر ایک روغن مل دیا تاکہ ملک صادق پر یہ آشکار نہ ہوسکے کہ اس نے حقِ زوجیت ادا کی ہے۔ لیکن ملک صادق کے دربار میں پہنچتے ہی اس پر راز افشا ہوگیا اور وہ غضب ناک ہوگیا۔حبشی مبارک نے اس پر تلوار سے زوردار حملہ کیا۔ وہ گیند بن کر ہوا میں اچھل گیا لیکن بجلی بن کر کڑکا، زمین پرآیا اور ایسا لات مارا کہ میں یہاں جنگل میں آگرا۔اسی دن سے درویش تن تنہا نازنین کی تلاش کررہاہے۔اسی درمیان میں اندرونِ خانہ سے خبر آئی کہ بادشاہ سلامت کو اولادِ نرینہ ہوئی ہے۔ مبارک بادیاں دی جانے لگی۔ بادشاہ نے بچے کا نام بختیار رکھا، لیکن وہ نومولود ہفتوں غائب ہوجاتا، پھر صحیح سلامت لوٹ آتا۔بادشاہ نے چاروں درویشوں کے باہم مشورے سے نومولود کے پاس ایک رقعہ ڈال دیا اور جب نومولود غائب ہوا تو رقعہ کا جواب بھی ساتھ آیا، جس کے مطابق بادشاہ چارو درویشوں کے ساتھ تخت سلیمان پر بیٹھ کر جنوںکے شہنشاہ ملک شہبال کے دربار ’’گلستانِ ارم‘‘ پہنچا۔وہاں بادشاہ کا بیٹا بختیار ایک ہم عمر لڑکی کے ساتھ کھیل رہاتھا۔ملک شہبال نے درویشوںکو ساتھ لانے کا سبب پوچھا۔بادشاہ نے ’’باغ وبہار‘‘ میں واقع تمام قصوںکی تفصیلات پیش کی، جس کو سن کر ملک شہبال نے ملک صادق کوحکم دیا کہ تمہارے قبضے میں جتنے انسان ہیںان کو حاضر کرے۔پھر نیک ساعت اور مبارک مہورت دیکھ کر:
’’شہ زادۂ بختیار کا عقد اپنی بیٹی روشن اختر سے باندھا اور خواجہ زادۂ یمن کو دَمشق کی شہ زادی سے بیاہا، اور مُلکِ فارِس کے شہ زادے کا نِکاح، بَصرے کی شہ زادی سے کردیا ، اور عَجَم کے بادشاہ زادے کو فِرنگ کی ملکہ سے مَنسوب کیا، اور نیم روز کے بادشاہ کی بیٹی کو بہزاد خاںکو دیا، اور شہ زادہ نیم روز کو جِن کی شہزادی کے حوالے کی،اور چین کے شہزادے کو اُس پیرِ غجمی کی بیٹی سے(جو ملکِ صادق کے قبضے میں تھی)کَتخدا کیا۔ ہر ایک نامُراد بہ دولت ِ ملکِ شہبال کی، اپنے اپنے مقصد اور مراد کو پہنچا۔‘‘ ۶؎
مذکورہ عبارت،وہ دوسرا مضبوط نکتہ ہے جس کی بنیاد پر ’’باغ وبہار‘‘ کو ایک کامیاب اور مکمل داستان قرار دیا جاتاہے، اور کتاب مہابیانیہ کا نمونہ بن جاتی ہے اور کلاسیکی ادب میں ’’باغ و بہار‘‘ کا نام درج ہو جاتاہے۔اختتام میں کتاب کے تعلق سے قطعہ بھی شامل ہے۔علاوہ ازیںمیر امن کی زبان میں وسعت، الفاظ و تراکیب اور برمحل اشعار کے اندراج،نیز عصری لب ولہجہ کے اثرات سے ’’باغ و بہار‘‘میں انفرادی نوعیت کی داستانی فضا قائم ہوتی ہے ۔
حواشی:
(۱) باغ وبہار : میر امن دہلوی،مرتب: رشید حسن خاں،ص۳۰،سنِ اشاعت ۲۰۲۳ء سوم
(۲) تحقیقی تنقیدی مطالعہ باغ وبہار،مرتب: سلیم اختر،ص۵۳۔۵۴، سنِ اشاعت اوّل ۱۹۸۰ء
(۳) باغ وبہار : میر امن دہلوی،مرتب: رشید حسن خاں،ص۶۷
(۴) باغ وبہار : میر امن دہلوی،مرتب: رشید حسن خاں،ص۱۱۴
(۵) باغ وبہار : میر امن دہلوی،مرتب: رشید حسن خاں،ص۲۱۷
(۶) باغ وبہار : میر امن دہلوی،مرتب: رشید حسن خاں،ص۲۴۸
(غیرمطبوعہ)
……٭……
Dr. Abdul Barkat
University Professor
Iqbal Hasan Road, Quila Chowk
Near Jheel, P.O. M.I.T., Brahampura
Muzaffarpur-842 003 (Bihar)
Mob. : 8210281400
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

