’’زباں بریدہ‘‘ ڈاکٹرمحمدآصف زہری کاپہلاناول ہے۔نقش اول اتناعمدہ ودلکش ہے ،یقین نہیں ہوتاکہ مصنف کی یہ پہلی تخلیق ہے۔نوع بنوع اسلوب اورتکنیک سے مرصع یہ ناول ایک کہنہ مشق فنکار کا عظیم شاہکار معلوم ہوتاہے۔ناول نگار نے اپنے احساسات ،جذبات ،تجربات ،مشاہدات اور اپنے عہد کےمسائل وحوادث کو فکشن کی زبان میں بہت ہی خوبصورتی سے پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ساحرلدھیانوی کایہ شعرڈاکٹرمحمد آصف زہری اور ان کے ناول کی بھرپورترجمانی کرتانظرآتاہے۔
دنیانے تجربات وحوادث کی شکل میں
جوکچھ مجھے دیاہے،وہ لوٹارہاہوں میں
ناول نگارنے ’’زباں بریدہ‘‘میں مشرقی اترپردیش کے کسانوں کی سماجی ،معاشی،معاشرتی اورتعلیمی مسائل کو اپنے انوکھے اندازمیں کچھ اس طرح سے پیش کیاہے کہ اعظم گڑھ کا دیہاتی معاشرہ اپنے تمام معائب ومحاسن کے ساتھ قاری کی نگاہوں کے سامنے چلتاپھرتانظرآتاہے، اورقاری خودکواعظم گڈھ کےدیہات کی فضامیں پاتا ہے ۔ وہی کھیت،کھلیان،بیل گاڑی ،رہٹ ،کچے راستے،باغ ، باغیچےاورقدرتی مناظرجو دیہی زندگی کی آن شان بان ہیں سے پورا ناول پر ہے،جن سےہم اورآپ آشناہیں۔اس ناول سے قاری کو لطف اندوز ہونے کے لیے مشرقی یوپی بالخصوص اعظم گڈھ کی دیہاتی زبان ،رسم ورواج،چوپالی بولی اورکسانوں ودیہاتی عورتوں کے آپسی جھگڑے کے دوران زبان سے بے ساختہ نکلنے والی گالیوں سے واقفیت بیحد ضروری ہے۔مصنف نے جان بوجھ کرایسی گالیوں اورالفاظ کااستعمال کیاہےتاکہ مہذب سماج کےفراڈ اور شرافا کےدوغلے پن کو طشت ازبام کیا جاسکے ، اگر حقیقت میں یہ الفاظ شرفاکی طبیعت کومکدراورسماعت پہ گراں گزررہے ہیں توان کی بستی کے یہ انسان جوکیڑے مکوڑوں اورجانوروں سے بھی بدترزندگی بسرکر نے پرمجبورہیں انھیں دیکھ کران کی شرافت اور انسانی غیرت وحمیت جوش کیوں نہیں مارتی کہ انسانیت کاتقاضاہےکہ انھیں آدمی کے جون میں واپس لا یا جائےاور مہذب سماج کوان کی حالت زاربے چین وبے قرارکیوں نہیں کرتی کہ یہ مہذب سماج کاانسانی واخلاقی فریضہ ہے کہ ان کی پسماندگی کودورکرنے کی کوشش کی جاۓ۔جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ان گالیوں سے نہ توان کی طبیعت مکدرہوتی ہے اورنہ ہی یہ ان کی سماعت پہ گراں گزرتی ہیں بلکہ وہ ان سے محظوظ ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پرجہاں گالیوں کاتبادلہ ہوتاہے،شرفاکی ایک بھیڑجمع نظر آتی ہے جوگالیوں کے زیروبم اوراس کی غنائیت سے لطف اندوزہوتے ہیں اوراگرکوئی بچہ خلل ڈالتاہےتواپنی شرافت کارعب جھاڑتےہو ۓاس کووہاں سے بھگادیتے ہیں تاکہ پرسکون ماحول میں الفاظ کے اتارچڑھاؤ اورگالیوںکی موسیقیت کابھرپورلطف اٹھایاجا سکے۔مصنف نے سماج کے اسی دوہرے پن اورشرفاکی ریاکاری و مکاری کواپنی تلخ وبیباک حقیقت نگاری کے ذریعے پیش کرنے کی ایک عمدہ کوشش کی ہے۔
موضوع کے لحاظ سے’’زباں بریدہ‘‘میں کوئی نیاپن نہیں ہےلیکن ناول نگارنےایک عام سے موضوع کو داستانوی تکنیک اوراسلوب کے دبیز پردے میں ملفوف کرکے اس اندازسے پیش کیاہے کہ ناول کی فکری وفنی سطح خاصی تہہ دارہوگئی ہے۔مصنف نے سمعی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے عصرحاضرکے کسانوں ، مزدوروں اورغریبوں کے مسائل ،سرمایہ دارانہ نظام،ہجومی تشدد،لوجہاد،گئورکشا،فرقہ وارانہ فساد،نسلی ومذہبی تعصب،دہشت گردی،گودی میڈیااورجنسی استحصال کو راجہ شرنگامکٹ اوراچئیت پتاون کے تمثیلی وعلامتی پیکر میں ڈھال کر اس خوش اسلوبی سے پیش کیاہے کہ موضوع کی سنگینی مزیدتہہ دارہوگئی ہےاور ناول میں اساطیری و دیومالائی جہت بھی پیداہوگئی ہے ۔ ساتھ ہی ناول کاکینوس بہت وسیع ہوگیاہے۔ذوالقرنین ،یاج ماجوج اورسدسکندری کادہقانی ورژن (Version)بھی گھسراون کی زبانی اودھی وبھوجپوری میں بہت ہی دلچسپ اسلوب میں قاری کے گوش گزارکیاہےجس کےباعث ناول تحریری اور زبانی بیانیہ کاحسین سنگم بن جاتاہےاور ناول کی یہی صفت اسے اپنے ماقبل کے ناولوں سےمنفرد بناتی ہے۔
اس ناول میں ایک کمی جو مجھےنظرآئی وہ یہ ہے کہ ناول نگار اپنے کرداروں سے بہت زیادہ جذباتی لگاؤ رکھتاہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کےبیچ میں خود بولنے لگتاہے جس سے ناول کے فطری بہاؤ میں رکاوٹ سی محسوس ہوتی ہےجو قاری کی سماعت کوبوجھل اوربیانیہ کے لطف کو زائل کردیتی ہے۔مثال کے طورپردھرموکسان کا ایک مکالمہ ملاحظہ ہو۔
’’دھرمونے ایک دوکش لیے ۔بیٹے کے چہرے پرنگاہ ڈالی اورسمجھانے کے اندازمیں کہناشروع کیا:میں بیپت کوبچپن سے جانتاہوں ۔ہم دونوں ایک ساتھ بڑے ہوئے،ایک ساتھ شرارتیں کیں،ایک ہی اسکول میں پڑھے اورایک ہی ساتھ فیل ہوئے پھرایک ہی ساتھ اسکول چھوڑدیا۔‘‘صفحہ ۹۷ سے ۱۰۱ تک وہ اسی زبان میں اپنے بیٹے کوسمجھاتاہےپھر یکایک وہ بھوجپوری میں باتیں کرنے لگتاہے۔’’اسی طرح گرمی کے دن میں میں نے دیکھا کہ ’’اوکھلّے،ہتھوا میں ڈنڈالیہے ہڈّاکے دؤڑائے کے مارت رہا۔مارت مارت مہواپربنے ہڈاکے چھتّواپرایک ڈنڈامرلس ۔ اوکے منہوا اورشریرواپرتوہڈاکاٹلےبکی اوکی چھنّیوپردوٹھوہڈّاچپھن گئیلیں۔‘‘اس کے بعد دھرمو پھرسے اردو بولنے لگتا ہے،طویل مکالمے کے درمیان کہیں کہیں وہ ایک دوجملے بھوجپوری کے بولتانظرآتاہے۔مکالموں کی یہی صورت کم و بیش پورے ناول میں نظرآتی ہے۔
ناول کاہرکردار’’اچئیت پتاون‘‘کی بڑھتی تعداداوران کےظلم وجبر کے سامنے ایسابے بس ولاچارمحسوس کرتاہے جیسے متعدی مرض ’’کروناوائرس‘‘ کے سامنے حکومت اوراس کے کارندے بے بس نظرآتے ہیں۔راجہ شرنگامکٹ کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل پیرانہ ہونے کے سبب آج پوری دنیاکے انسان ’’اچئیت پتاون ‘‘کے ظلم وستم کوبرداشت کرنے پرمجبورہیں۔افسوس تو اس بات کاہے کہ لوگ اس کے بچھائے ہوئے جال میں پھنستے جارہے ہیں اوران کواحساس تک نہیں کہ وہ صیاد کے جال میں پھنس چکے ہیں اوراگر کوئی ان کی چالبازیوں سےآگاہ کرنے کی کوشش کرتاہےتواس کی زبان تراش لی جاتی ہے۔نتیجتاًحاجی بیپت ،دھرمواورمنیا زندگی کی جدوجہد میں بازی ہار جا تے ہیں اور’’اچئیت پتاون ‘‘بلاتفریق مذہب وملت ہرایک کااستحصال کرتارہتاہے۔جس سے پورے ناول میں ایک ناامیدی اورمایوسیت کی فضاطاری ہوجاتی ہے۔
ناول نگارنے اپنے ناول میں فصیح وبلیغ الفاظ کے بجائے عوامی ودیہاتی مترادفات جن کی نوعیت عام طورپرمعیوب اورمضحکہ خیزالفاظ کی ہوتی ہے ،کادل کھول کے استعمال کیاہے۔مثلاً(کُلّا،جھاڑا،ڈیڑھوا،چلکی، گھڑا، مٹکا، لمڑا، بھور، سبیرا، بھنئی، بردھوا، گھام، ٹکورا،گمچھا،کھرکتوار،بوہارنا،نکھ رہری،ساٹا،کھپسا،پوہڑی،نرکٹ، گچ، مہرارو، ،نہارنا، کھلیاڑنا،گینڑا،کھینچڑنا، کھویا،پچھورنا، کھوٹیانا، بیناوغیرہ)۔ اسی طرح دیہی محاوروں ،مثلوں اور کہاوتوں سے بھی خوب کام لیاہےجس میں کوئی تصنع نہیں ہے۔چند مثالیں:’’سترچٹکی بہترتال،پھردیکھ کھینی کاکمال‘‘ ، ’’تین کیاری،تیرہ گوڑ،تب دیکھوگنے کی پوڑ‘‘،’’گنے کی کھیتی،جیٹھ میں جرے،ماگھ میں ٹھرے، ایسی کھیتی لوڑے پہ چڑھے‘‘،’’چیتواکاچہپل،بیسکھواکاپتاڑ۔جیٹھوامیں بوہیا،کاؤپہیالانڑ‘‘،’’اپنے مروہیابنا،راب کی بھئی ربنی‘‘،’’مردوں کے لیے مالاکمانااورعورتوں کے لیے بیاناکماناایک جیساہے‘‘،’’چریامیں چیرپھاڑ،اسریکھامیں سیوں چار، مگہا میں سڑائے گلائے اورپروّامیں جن روپے رے بھیا،ایک دھان اٹھارہ پہیا‘‘،’’لسڑالگانا‘‘،’’بن گروگیان ناہووے‘‘ ۔ ہرچند کہ یہ معیاری اورٹکسالی زبان نہیں ہے مگرعوام کاذخیرۂ الفاظ ان پرہی مشتمل ہوتا ہے۔زبان کی یہ شکل کتاب ولغت سے مختلف صوتی وسماعی ہے ،کچھ الفاظ ایسے ہیں جن پرعلاقائیت کاعنصرحددرجہ غالب ہے۔مگران الفاظ کے استعمال سے وہ ایک تہذیبی فضاقائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوناول کے لیے پس منظرکاکام کرتےہیں۔ان الفاظ کوتحریری شکل دے کر ناول نگارنے اردولفظیات میں ایک گرانقدراضافہ کیاہے۔ ساتھ ہی الفاظ کواس کے حسی حوالوں کے ساتھ محفوظ کرنے کی ایک مستحسن کوشش بھی کی ہے۔ناول نگارنےچیتی کی طرح اگرکجری اور برہاکا بھی استعمال کیاہوتاتوناول کی تہذیبی منظرکشی مزید دوچند ہوجاتی ۔مجموعی طور’’زباں بریدہ ‘‘ایک عمدہ ناول ہے ،مجھے قوی امید ہے کہ ادبی حلقوں میں اس کی خاطرخواہ پذیرائی ہوگی۔
نوٹ : مبصر شعبۂ اردو،عربی وفارسی،پوناکالج ،پونے میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں

