آل احمد سرور ہمارے ان ممتاز ادیبوں میں ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں سے کئی نسلوں کی رہبری فرمائی۔ ان کا شمار اردو کے معتدل مزاج اور انصاف پسند ناقدین میں کیا جاتا ہے۔ ناقد کے علاوہ یہ بہترین انشاپرداز، مشرقی تہذیب اور مغربی افکار پر یکساں قدرت رکھنے والے دانشور ، جمالیاتی قدروں سے ہم آہنگ شاعر اور اپنی روایت سے باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ عصری مسائل پر درد مندی سے سوچنے والے مفکر بھی ہیں۔
آل احمد سرور کا دامنِ نثر نہایت وسیع اور وقیع ہے۔ علی گڑھ میگزین ۱۹۳۲سے ان کی ادبی زندگی کا آغاز مانا جاتا ہے۔ جبکہ باقاعدہ ان کی تصنیف ۱۹۳۵میں ’’سلسبیل‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ جو ان کا شعری مجموعہ ہے اس میں’’ سیر کوہ سار‘‘ کی نظمیں شامل ہیں۔ جہاں تک ان کے نثر کے آغاز سے متعلق بات کریں تو آل احمد سرور نے اپنی نثر کی ابتدا علی گڑھ میگزین کی ادارت کے زمانے سے تسلیم کی ہے۔
آل احمد سرور کی علمی وادبی زندگی تقریباً چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ اس طویل مدت میں انھوں
نے لاتعداد موضوعات پر اپنے قلم کا جادو جگایا۔ان کا پہلا نثری کا رنامہ تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’تنقیدی اشارے‘‘ ۱۹۴۸میں شائع ہوا۔اس کے علاوہ ’’نئے پر انے چراغ‘‘، ’’ادب اورنظریہ‘‘، ’’نظر اور نظریے ‘‘، ’’مسرت سے بصیرت تک‘‘، ’’اقبال اور ان کا فلسفہ‘‘، ’’دانشوراقبال‘‘، ’’جدید یت اور ادب‘‘، ’’عرفانِ غالب‘‘، ایک خودنوشت ’’خواب باقی ہیں‘‘ اور ’’افکار کے دیے ‘‘ وغیرہ قابل توجہ ہیں۔ ان کی نثر کے ذریعے اردو ادب میں نئے اسلوب و آہنگ کا درواہوا۔ کیونکہ انھوں نے نثری اسلوب کو قدیم و جدید دونوں رنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔یہ مشرقی ادب کے ساتھ ساتھ مغربی ادب کابھی گہرا شعور رکھتے تھے۔ بقول شمس الرحمن فاروقی:
’’آل احمد سرور نے ایسی تنقید لکھی جس میں بے مثال انشاپرداز انہ مشرقی حسنِ اسلوب کے ساتھ ایسی باتیں تھیں جن کی فضابین الاقوامی اور جن کی بنیاد مغربی اور مشرقی تصوراتِ شعر و ادب پر تھی۔‘‘۱؎
مذکورہ اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آل احمد سرور نے اپنی تنقید میں حسنِ معنی اور صحتِ فکر کے ساتھ ساتھ انشاپر دازی کی لطافت کو بھی ملحوظ رکھا ہے ۔ اور مشرقی موضوعات کے علاوہ مغربی تصورات کو بھی اپنی تحریر کا حصہ بنایا ہے۔ آل احمد سرور کے یہاں موضوعات کے تنوع اور رنگارنگی کو دیکھ کر ہی ان کے افکار کی وسعت اور گنجائش کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ادب اور تنقید کے علاوہ علمی، تہذیبی، سماجی اور لسانی موضوعات پر بھی کھل کر اپنے اسلوب کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کا انداز تحریر نہایت شگفتہ اور دلکش ہے۔ ان کے اسلوب میں ان کی شخصیت کا پرتودیکھا جاسکتا ہے کیونکہ اسلوب کا انشاپرداز کی شخصیت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ بعض ناقدین نے اسلوب کو مصنف کی شخصیت کا مظہر بتایا ہے ۔یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اسلوب کے معنی و مفہوم سمجھ لیں۔ اسلوب کو عربی و فارسی میں ’’سبک‘‘ اور انگریزی میں ’’Style‘‘ کہتے ہیں۔ جو ایک یونانی لفظ’’Stitus‘‘ سے نکلا ہے۔ جو ہاتھی دانت، لکڑی یا کسی دھات سے بنا ہوا ایک نوکیلا اوزار ہوتا تھا ۔جس سے موم کی تختیوں پر حروف و الفاظ یا نقوش کنندہ کیے جاتے تھے۔ یہ نقوش یا تو اجاگر ہوتے تھے یا دھندلے رہتے تھے ۔ اسی طرح اسلوب میں کاٹ چھاٹ دماغ سوزی اور باریک بینی خود ادیب کی اپنی ذات کی پرکھ بن جاتی ہے۔ اسلوب دراصل ادیب یا شاعر کے خیالات کا خوبصورت انداز میں ادا ہونے کا نام ہے۔ اسلوب دو طرح کا ہوتا ہے نثری اسلوب اور شعری اسلوب ان دونوں میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ آل احمد سرور نے اس فرق کو اپنے مضمون ’’ نثر کا اسٹائل ‘‘میںان الفاظ میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے:
’’نثر کی زبان اور نظم کی زبان میں فرق ہے حالانکہ دونوں ادب کی شاخیں ہیں۔ یعنی دونوں میں حسنِ بیان کی نوعیت مختلف ہے۔ نظم کی زبان تخلیقی ہوتی ہے۔ نثر کی تعمیری نظم اس چاندنی کی طرح ہے جس میں سائے گہرے اور بلیغ معلوم ہوتے ہیں، نثر اس دھوپ کی طرح ہے جو ہر چیز کو آئینہ کر دیتی ہے ۔ نظم وہ کنجی ہے جو ذہنی تصویر وں کا صنم کدہ واکر تی ہے۔ نثر وہ تلوار ہے جو حق و باطل کا فیصلہ کرتی ہے ۔ نظم میں ہر لفظ بقول غالبؔگنجینہ معنی کا طلسم ہے ۔ نثر میں و ہ اینٹ جو کسی دوسری اینٹ کے ساتھ مل کر تاج محل بنتی ہے ۔ نظم زبان کی تو سیع اور نثر اس کی حفاظت کا نام ہے نظم مے خانہ اور نثر آئینہ خانہ۔‘‘۲؎
آل احمد سرور کی ان باتوں کو مدنظر رکھ کر ان کی نثری اسلوب پر نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آل احمد سرور کی تحریروں میں الجھاؤ دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ان کی عبارتیں اپنے مفہوم کو بڑی خوبی اور وضاحت کے ساتھ اداکرتی ہیں ان میں کہیں بھی کوئی جھول اور الجھاؤ نظر نہیں آتا۔ کیونکہ ان کا اسلوبِ نثرنہ توفلسفیانہ ہے اور نہ ہی خطیبانہ ہے۔ان کی نثر ایسی ہے جس میں خیال آئینے کی طرح واضح ہوجاتے ہیں۔
آل احمد سرور کا اسلوب دراصل مختلف دبستانوں کے اثرات سے پروان چڑھا ہے۔ کیونکہ انہوں نے دبستان دہلی کی سلاست، دبستان لکھنؤ کی صنعت گری، پنجاب اسکول کی جدید یت دکن اور دیگر دبستانوں کی ادبیت اور فصاحت دیکھی تھی۔ اگران کی ستر سالہ سے زیادہ مدت پر محیط ادبی زندگی پر نظر ڈالیں اور ان کے ’’تنقیدی اشارے‘‘ سے ’’افکار کے دیے‘‘ تک کی تحریر وں کا مطالعہ کریں تو ہر دو ر میں ہمیں کوئی نہ کوئی ادبی تحریک دیکھنے کو ملے گی۔ ان کے علمی وادبی سفر کے آغاز سے ہی مختلف تحریکات اور رجحانات کا پرزور اثر رہا مگر آل احمد سرور نے باقاعدہ کسی تحریک کا ساتھ نہیں دیا۔ ابتدائی دنوں کے مضامین میں کہیں کہیں ترقی پسند فکر کی جھلک مل جاتی ہے مگر انہوں نے مجموعی طور پر خود کو اس تحریک سے دور رکھا۔ خلیل الرحمن اعظمی’’اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک ــ‘‘میں رقمطرازہیں :
’’سرور صاحب نے بھی اس تحریک کو ہمدردی کی نظر سے دیکھا اور اس کے بعض مثبت پہلوؤں سے متاثر ہوئے لیکن یہ ان کی افتاد طبع سے بعید تھا کہ اپنے ماضی سے یکسر بغاوت کرکے اور اپنی تخلیقی شخصیت کی نفی کرکے محض کارثواب کی خاطر اس کارواں میں شامل ہوجاتے۔ ترقی پسند ادبی کارناموں اور ترقی پسند ادبی تصورات کو ردیا قبول کرنے میں انہوں نے جذباتیت یاعجلت سے کام نہیں لیا بلکہ معروضی نقطہ نظر ہمیشہ ان کی رفاقت کرتا رہا۔ وہ خوبیوں کو سراہتے ہیں تو گمراہیوں کی طرف اشارہ بھی کردیتے ہیں۔‘‘۳؎
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی پسند تحریک سے آل احمد سرور نے پوری طرح بے اعتنائی نہیں برتی بلکہ اس کی بعض سرگرمیوں میں شامل بھی ہوئے مگر ساتھ ساتھ خود آگہی و خود احتسابی کا عمل بھی جاری رہا۔ شاید ترقی پسند تحریک کے کچھ اثرات ہی تھے کہ ان کی تحریروں میں حد درجہ سادگی و عام فہمی کا انداز نمایاں ہو گیا ۔ ان کے مضمون ’’انگریزی شاعری‘‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’اردو شاعری پر ایک عام اعتراض یہ ہے کہ اس کا سارا سرمایا بدیسی ہے ۔ اس کی اپنی چیزیں کم ہیں۔ایک زمانہ میں اس پر بھاشا کا اثر تھا، پھر فارسی کا غلبہ رہا۔ اب انگریزی کا۔ اس قسم کا اعتراض ہرزبان کی شاعری پر ہوسکتا ہے ۔جس طرح کسی قوم کا تہذیب و تمدن آسمان سے نازل نہیں ہوتا بلکہ یہ مختلف تہذیبوں اور تمدنوں کے ایک دوسرے پر عمل اور ردعمل کا نتیجہ ہوتا ہے‘‘۴؎
یہ ترقی پسند تحریک کا ہی اثر تھا کہ آل احمد سرور اپنے مضمون ’’انگریزی شاعری ‘‘میں سادہ اسلوب کو تر جیح دی۔ اس کے علاوہ ان پر جدیدیت کے اثرات بھی دیکھے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ جدیدیت کے حامل ہیں لیکن جدت پرستی سے پرہیز کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔ یہ لکھتے ہیں:
’’ہمیں جدیدیت پرستی سے پرہیز کرنا چاہیے مگر جدیدیت کو عام کرنا چاہیے اس کے بغیر ہم فرد کاوقار سماج کو توازن، علم کو انکسار ، فکر کونئی جرأت‘، فن کو نئی بصیرت نہیں دے سکتے۔‘‘۵؎
جدیدیت پرستی ایک الگ چیز ہے اور جدیدذہن دوسری یعنی بغیر کسی نئی فکر، جدید علم ، نئی جرأت اوربصیرت کے کوئی فن کار بہتر ین ادبی تخلیقات کا اہل کار نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ادب میں نئی چیزوں کا اطلاق کرنا ہی جدیدیت ہے اور کسی بندھے ٹکے رجحان کا مقلد بننا جدیدیت پرستی ہے۔ آل احمد سرور ادب میں نئی فکر نئی بصیرت کے تو قائل ہے مگر کسی رجحان کے پابند ہوکر رہنا ان کو گوارا نہیں ہے۔اگرچہ آل احمد سرور کی تنقید اور شخصیت پر کسی تحریک یا رجحان کا اثر غالب نظرنہیں آتا۔ مگر ہمارے اسلاف کی تحریروں کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔جن میں مولانا الطاف حسین حالی کی سادگی شبلی نعمانی کی رنگینی اور رشید احمد صدیقی کا مزاحیہ انداز دیکھاجاسکتاہے۔ آل احمدسرور کے مضمون ’’اردو نثر میں مزاحیہ نگاری‘‘سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس کے مطالعے کے بعد بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک رشید احمد صدیقی سے متاثر تھے:
’’کتوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پٹنا پسند کرتے ہیں مگر یہ گوارا نہیں کرتے کہ کوئی ان پر ہنسے، یہی حال انسانوں کا ہے انہیں ضرب شدید پسند ہے چاہے اسکا نتیجہ جنت ہو یا حوالات مگر مضحکہ خیز بننا پسند نہیں کرتے۔‘‘۶؎
اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آل احمد سرور نے رشید احمد صدیقی کے طرز ادا کے ذریعے سے اپنے اسلوب کا چراغ روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ دونوں میں مزاج اور افتادطبع کا فرق پایا جاتاہے۔ اور یہی فرق دونوں کے اسالیب میں ایک امتیازی خط کھینچتا ہے ۔آل احمد سرور کے یہاں ایک جذب و مستی ہے جس کی وجہ سے ان کے اسلوب میں رنگینی و رعنائی پیدا ہوگئی ہے۔یہ اپنی تحریروں میں حسن و مسرت کا خاص لحاظ رکھتے ہیں تشبہہ واستعارہ سے بھی موقع بہ موقع کام لیتے ہیں اور حسین ترکیبوں اور جملوں کے ذریعے اسلوب میں لطافت کو بڑھا دیتے ہیں۔ ’’تنقید کیا ہے‘‘ سے ان کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’نفسیات کا علم ہمارے لیے بڑا مفید ہے مگر وہ پُرفریب بھی ہے ۔ وہ اس آئینے کی طرح ہے جو بڑی چیزوں کو چھوٹا اور چھوٹی چیزوں کو بڑا کر دیتا ہے ۔ چہروں کو چپٹا اورلمبوتر ا بنا دیتا ہے ۔وہ رائی کو پہاڑ کرکے دکھاتا ہے وہ ایک گرہ کھولتا ہے مگر سیکڑوں ڈال دیتا ہے ۔ نفسیاتی تنقید ہلدی کی گرہ لے کر پنساری بنی بیٹھی ہے ‘‘۷؎
آل احمد سرور کا طرز بیان دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں فکر کی جولانی بھی ہے اور اسلوب کی چاشنی بھی۔ ان کے مذکورہ بالا اقتباس میں ایک رچی ہوئی کیفیت دیکھی جاسکتی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اسلوب ِبیان، الفاظ، فقروں اور جملوں کی طرف بہت زیادہ توجہ نہیں دی ۔جس کے باعث اس میں ایک فطری روانی اور بہاؤ پیدا ہوگیا ہے۔ ان کے اسلوب میں پائے جانے والے حسنِ بیان اور جاذبیت پر تنقید بھی کی گئی ہے کہ یہ تنقید نگار سے زیادہ انشاپرداز نظر آتے ہیں۔ کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:
’’وہ اپنی تنقیدوں میں تنقید کی زبان نہیں استعمال کرتے خیالوں کی لطیف پھوہار اور الفاظ کا رنگین غبار یعنی وہ انشاپر دازی کے جو ہرزیادہ دکھاتے ہیں اور تنقید کے کم‘‘۸؎
تنقید کی زبان چونکہ دو ٹوک یعنی کوئی فیصلہ صادر کرنے کی ہوتی ہے ۔جس میں کسی قسم کی اعتدال پسندی کی گنجائش نہیں رہتی، شاید اسی باعث کلیم الدین احمد نے آلِ احمد سرور کے انداز ِگفتار پر اعتراض کیا ہے۔ کیونکہ آل احمد سرور کا طرز، تنقید کے میدان میں بھی شگفتہ اور دلکش رہتا ہے۔ اور اس میں انشاپردازی کے جوہر نمایاں رہتے ہیں۔ آل احمد سرور نے صرف اپنی ادبی تنقید میں ہی اپنے حسن اسلوب کا جلووہ نہیں بکھیرا ہے بلکہ اس کے مظاہرے ان کے ’’سفرنامے ‘‘ ، ’’خطبات‘‘،’’شخصیات‘‘، ’’خطوط‘‘ اور خودنوشت میں بھی بجا طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کی خودنوشت ’’خواب باقی ہیں‘‘ سے یہ اقتباس دیکھیں:
’’عرشی صاحب سے ملاقات تو پہلے سے تھی مگر گوناگوں صفات کا احساس رام پور میں ہوا۔ عربی، فارسی اور اردو کے ایک بلند پایہ عالم اور محقق ہونے کے علاوہ وہ رضا لائبریری کے لائبریرین ہی نہیں ایک چلتا پھرتا کتب خانہ تھے۔ وہ بڑے اچھے دوست اور بڑے بلند پایہ ساتھی اور رفیق تھے۔ قدامت کے ماحول میں رہتے ہوئے وہ کٹّر اور تنگ نظر نہ تھے۔ وہ کھرے پٹھان تھے مگر ان میں بعض پٹھانوں کی خشونت اور جذباتیت نہ تھی۔‘‘۹؎
امتیاز علی عرشی کے تعارف میں آل احمد سرور نے جس سادگی و لطافت سے کام لیا ہے ۔ اس سے ان کی معتدل مزاجی اور فنی بصیرت کا معترف ہونا پڑتا ہے ۔مشرقی تخلیق کاروںکے علاوہ آل احمد سرور مغربی ادیب والٹر پیٹر،ا سکروائیلڈ اور برناڈ شاہ سے بھی کافی متاثر تھے۔مگر جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے آل احمد سرور کی تحریروں میں کسی کی فکریاکسی تحریک ورجحان کا اثر غالب نہیںرہتا،اسی طرح انہوں نے مغربی فکر سے بھی خود کو بچائے رکھنے کی ممکنہ کوشش کی۔ آل احمدسرورادب میں اندھی تقلید کے بالکل قائل نہیں وہ مغربی و مشرقی خیالات کے درمیان ایک رشتے کے قائل ہیں۔علامہ اقبال کا ایک شعر ہے:
مشرق سے ہوبیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہرشب کو سحر کر
آل احمد سرور ادب میں اقبال کے اسی نظریے کے قائل نظرآتے ہیں۔
حواشی
۱۔ تحفت السرور،شمس الرحمان فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، دریا گنج ، نئی دہلی،۱۹۸۵ء، ص ۵
۲۔ نظر اور نظریے، آل احمد سرور، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، علی گڑھ، ۱۹۷۳ء، ص ۴۶
۳۔ اردومیں ترقی پسندادبی تحریک،خلیل الرحمان اعظمی،قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان،
نئی دہلی،۲۰۰۸ء،ص۳۳۵
۴۔ تنقیدی اشارے،آل احمد سرور،سرفراز، قومی پریس،لکھنؤ، ۱۹۴۲ء، ص۶۳ تا ۶۴
۵۔ پروفیسر آل احمد سرور حیا ت اور ادبی خدمات، عابدالنساء،ادارہ شعر و حکمت،لکڑی کا پل،
حیدرآباد،۱۹۸۰ء،ص۱۵۰تا ۱۵۱
۶۔ تنقیدی اشارے،آل احمد سرور،سرفراز، قومی پریس،لکھنؤ، ۱۹۴۲ء، ص۲۵
۷۔ تنقید کیا ہے، آل احمد سرور،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ،اردو بازار،دہلی،۱۹۶۴ء، ص ۲۰۶
۸۔ اردو تنقید پر ایک نظر،کلیم الدین احمد،بک امپوریم سبزی باغ، پٹنہ،۱۹۸۳ء،ص ۲۰۲
۹۔ آل احمد سرور:نقد و نظر، مرتبین، اخلاق آہن،سجاد اختر،براؤن بک پبلیکیشنز، نئی دہلی،۲۰۱۲،ص ۱۰۰


2 comments
بہہت عمدہ. لیکن آل احمد سرور ایک اقبال شناس بھی ہیں. اس کو نظر انداز کیا آپ نے، جب کہ میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہی آل احمد سرور بحیثیت اقبال شناس ہے.
بہت شکریہ..
ایک مضمون میں سب کچھ شامل کرنا ممکن نہیں ہے.