کوئی ملک یا قوم ہو، یکجہتی اس کی ایسی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر امن و سکون کی توقع نہیں کی جاسکتی اور امن و سکون کے بغیر سماجی ،معاشی اور سیاسی استحکام و استقلال کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ خاص کر ہندوستان کے ایسے بہت سے مذہبوں ،زبانوں اور نسلی طبقوں والے طویل و عریض ملک میں، جہاں ہندو مسلم، سکھ ، عیسائی، مسجد، مندر، ہندی، اردو، بنگلہ، تیلگو، مراٹھی، شمالی،جنوبی ، فار ورڈ، بیک ورڈ ، دریا، شہر، کشمیری، ماؤ وادی، نکسلی، ایسے ان گنت سوال ہوں جو بڑی آسانی سے نہایت خطرناک حد تک یکجہتی سوز و امن شکن بنائے جا سکتے ہیں۔
ہندوستان میں جنوب سے لے کر شمال تک، مشرق سے لے کر مغرب تک ،سارے ہندوستانی اپنے عادات و خصائل کی خوبیوں اور خامیوں کی بنیاد پر ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ ان کے دکھ سکھ اور تجربات بھی مشترکہ رہے ہیں۔ ان کی تاریخی وراثت بھی ایک رہی ہے اور تمام تر اختلافات کے باوجود اس کثرت میں وحدت کی تمنا اور تڑپ رہی ہے اور یہی کثرت میں وحدت قومی یک جہتی کے شعور کو تاریخ کے ہر موڑ پر زندہ اور متحرک رکھتی رہی ہے۔ قومیت کا یہی مشترکہ باطنی احساس قومی یک جہتی کا پہلا اور بنیادی ستون ہے۔
اردو کی تاریخ شاہد ہے کہ یہ زبان اپنی ابتدا سے ہی اتحاد و اتفاق، میل ملاپ، رواداری اور وضع داری کی روایات کی امین رہی ہے۔ اردو نے ہر دور میں محبت کے پیغام کو عام کیاہے۔ اردو نے اپنے سرمایہء شعر وادب میں اضافہ کے ساتھ دلوں کو جوڑنے اور نگاہوں کو محبت کی روشنی سے سرشار کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ اردو کا جنم ہی قومی یکجہتی کے تصور پر مبنی ہے۔ کیونکہ اس زبان میں عربی ، فارسی،ہندی، سنسکرت، کشمیری، پڑی، کھڑی وغیرہ بہت سی زبانوں کی آمیزش ہے۔قومی یکجہتی میں اردو زبان کا اہم کردار ہے۔ ماضی میں اردو میں بھاگوت گیتاکے 79اور رامائن کے 40سے زیادہ ترجمے ہیں، جن میں سے اکثر مسلمانوں نے کیے ہیں۔ دوسری جانب ہندو، عیسائی ،سکھ، بودھ ،جین ،بہائی مذاہب کے علاوہ مختلف فرقوں مثلاً آریہ سماج، دیو سماج ،کبیر پنتھی ،رادھا سوامی مٹھ، تھیو سو فیکل سوسائٹی کی اردو میں لکھی ہوئی کتابیں کروڑوںلوگوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اہل اردو کی وجہ سے بہت سارے ہندوستانی شہر دنیائے ادب کا حصہ بن گئے اور ان کی شہرت چار دانگ عالم تک پہنچ گئی۔ دہلی، لکھنؤ، حیدر آباد، مرادآباد، رام پور، علی گڑھ وغیرہ اور اپنے وطن سے نسبت ظاہر کرتے ہوئے دہلوی، لکھنوی، حیدر آبادی، مرادآبادی، بجنوری وغیرہ کا استعمال اردو والوں ہی کے یہاں دیکھا گیا ۔ اردو کلچر کی ایک دین یہ بھی ہے کہ کئی خوب صورت نام تاریخ ادب کی زینت بن گئے جیسے محبوب نارائن،مہاشے خوش حال چند، راجہ محمود آباد، مرزا ہر گوپال تفتہ ؔ،قاسم علی ،سجن ؔلال ،پیارےؔ لا ل شاکرؔ، پنڈت حبیبؔ الر حمن، مولوی مہیش پرشادؔ، مولوی مدن موہنؔ ، جواہر لعل نہرو،ؔ منشی نول کشورؔ، منشی پریمؔ چند وغیرہ۔ اردو کے بہت سے مسلم ادیبوں اور شاعروں نے رام چندر جی، شری کرشن وغیرہ پر طبع آزمائی کی اور اسی طرح متعدد ہند و شعرانے دربار رسالت مآب ﷺمیںنذرانہءعقیدتپیشکیا ہے۔ غلام نبی رسلین کی’’ سنگار درپن ‘‘اور ’’راسا پر بودھ گنیش ‘‘نامہ سے شروع ہوئی ہے اور آنند نرائن مخلصؔ اپنا سفر نامہ ، دیوی پرشاد بشاشؔ نے اپنا تذکرہ شعرائے ہند، دیوی پر شاد سحرؔ اور برج لال عاصیؔ نے اپنے اپنے دیوان بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیے۔ منشی بال مکند بے خبرنے اپنے دیوان عام اور دیوان خاص کی ابتدا حسب ذیلِ مطلع سے کی۔
جبکہ بسمِ اللہ وصف عارضِ جاناں ہوا
مطلعِ خورشید اپنا مطلع دیواں ہوا
اردو شاعری میں ولی چندر بھان برہمنؔ، میر تقی میرؔ، سوداؔ، غالبؔ ، ساغر ؔنظامی، میرؔ انیس، بہادر شاہ ظفرؔ، داغؔ، حالیؔ، اسماعیل میرٹھی، شبلی نعمانی ، درگا سہاے سرورؔ، اکبرؔ، اقبالؔ، حسر تؔ ،حفیظؔ جالندھری، برج نارائن چکبستؔ ، حسن نظامیؔ، ظفر علی ؔخاں، فراقؔ گورکھپوری، ہر ی چند اخترؔ، محمد علی جوہر، فیض ،ؔساحر ؔکیفی اور سردارؔ جعفری کتنے شعرا ہیں، جن کے کلام سے یکجہتی کی متوازن کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ سے لے کر دورِ حاضر تک کے شاعروں کی تخلیقات پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو سبھوں کے یہاں مذہبی رواداری، قومی یکجہتی اور وطن پر ستی پر اشعار مل جاتے ہیں۔
بھارت ماتا سب کی مائی، سب ہندی ہیں بھائی بھائی
من میں بہائیں پر یم کی گنگا، ہندو مسلم سکھ عیسائی
اردو نثر نگاروں کی ایک قابل لحاظ تعداد جن میں مولانا ابو لکلام آزادؔ، مجنوںؔ گورکھپوری، مولوی عبدؔ الحق، پریم ؔچند، ڈاکٹر محی الدین قادریؔ، احتشامؔؔ حسین، کرشن ؔچندر، ڈاکٹر ذاکرؔ حسین، رشید احمد صدیقی، پطرس ؔبخاری، خواجہ احمد عباسؔ، کنہیاؔ لعل کپور، ظؔ انصاری، قمر رئیسؔ، رام ؔلعل، خلیق انجمؔ، احمد فاروقی، گوپی چند نارنگؔ ،نریش کمار رائوؔ، آل احمد سروؔر، گوپی ناتھ امنؔ، حیات اللہ انصاری، آنند نارائن ملا، راہی معصوم رضا اور سلام مچھلی شہری کی تحریریں یکجہتی و مشتر کہ تہذیب کی ایک رنگا رنگ تصویر پیش کرتی ہیں، مولانا ابو الکلام آزاد نے نثر نگاری کے تعلق سے متحدہ قومیت کے لیے اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی آبیاری کے لیے جس جوش و خروش ،اصابت رائے اور دانشوری سے مہم چلائی، وہ تاریخ ساز ہے۔ مولانا آزاد کی تحریر و تقریرسے اس بات کا اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ آزاد ؔنے ہندوستان میں قومی یکجہتی کو پروان چڑھانے میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا کس درجہ استعمال کیا۔ در حقیقت قومی یکجہتی سہل لفظوں میں ملک و قوم سے وفاداری، عا لمیت ،ربط و ضبط، فرض شناسی، حب الوطنی ،اتحا داور فکر و عمل کے رجحانات و احساسات کو پیدا کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی عام طور پر ایک سماجی اور اخلاقی عمل کا نام ہے اور اس میں اردو کے تمام شاعروں، ادیبوں، نثر نگاروں، افسانہ نگاروں ،ڈرامہ نگاروں نے ہر زاویہ، ہر سطح اور ہر جہت سے اس فلسفۂ حیات کو اجاگر کرنے کی سعی بلیغ کی۔
قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں اردو ڈرامہ کا بھی ایک اہم رول رہا ہے۔ اردو ڈرامہ کو دیکھا جائے تو اس نے اپنے ابتدائی زمانے سے ہی قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ واجد علی شاہ کے ’’رادھا کنہیاّ کا قصّہ‘‘امانت کی ’’اندر سبھا‘‘ میں قومی یکجہتی کا ہی سبق ملتا ہے۔ پارسی تھیڑ یکل کمپنیوں سے منسلک فن کار ہوں یا پر تھوی ٹھیڑ اور اپٹا کے فن کار سب نے قومی یکجہتی کو پروان چڑھایا ہے۔ آج بھی ریوتی سرن شرما، ساگرسرحدی ،اے کے ہنگل، ظہیر انور، کمال احمد، نادرہ ظہیر ببر، شہناز نبی، ایم سید عالم، اسلم پرویز، جاوید اختر، اوشا گانگولی، پرتبھا اگر وال ، انیس اعظمی، اردو ڈرامے کے ذریعے ملک و قوم کی بہتری کے لیے خود کو سر گرم رکھے ہوئے ہیں۔ پرتھوی تھیڑ کے تقریباً تمام ڈراموں کا مقصد ملک میں پھیلی بدامنی کو دور کرنا، انسان کو انسان کا دوست بنانا اور ان کے درمیان کھڑی ہو رہی نفرت کی دیوار کو گرا دینا تھا۔ خواہ وہ ڈرامہ’ دیوار‘ ہو یا’پٹھان‘، ’غدّار‘ ہو یا کلاکا ر ، پیسہ ہو یا کسان ،کوئی بھی حب الوطنی اور انسان دوستی سے خالی نہ تھا۔
اردو کے افسانوی سرمائے کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردو افسانہ نگاروں نے ہر دور میں قومی اور سماجی یکجہتی اور جذباتی ہم آہنگی کے فروغ کو پیش نظر رکھا اور ہر قسم کے ظلم و جبر اور استحصال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ اردو افسانوں میں ہندوستانی مشترکہ تہذیبی سماج میں جاری و ساری وہ اعلیٰ قدریں اور روائیتیں ہماری توجہ مرکوز کر تی ہیں جن کی بنیاد پر قومی یکجہتی کے تصوّر کو فروغ حاصل ہوا۔ ان میں انسان دوستی، وطن پرستی ،ایمانداری اور فرض شناسی وغیرہ جیسی قدروں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اپنے افسانوں میں احمد ندیم ؔقاسمی کا ’’پر میشور سنگھ‘‘،ــ عصمت ؔچغتائی کا ’’جڑیںـ‘‘ـ منٹو ؔ کا ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ ’’موذیل‘‘ کرشنؔ چندر کا’’ایک طوائف کا خط‘‘،’’ لال باغ‘‘، راجندر سنگھ بیدیؔ کا’’ گرم کوٹ‘‘، قر ۃ العین حیدر کا’’ جلا وطن ‘‘،’’ دو سیاح‘‘وغیرہ کے کردار قومی یکجہتی کی علامت ہیں۔
جس زبان نے ’’انقلاب زندہ باد‘‘ جیسا نعرہ دیا ہو، ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسا ترانہ اور’’ سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘‘ جیسا انقلابی نغمہ دیا ہو، تب قومی یکجہتی میں اردو زبان کے کردار کو اور کس سرٹیفیکٹ کی ضرورت ہے؟
قومی یکجہتی میںاردو زبان کا کردار ایک وسیع عنوان ہے جو یقینا ایک مبسوط مقالہ کا متقاضی ہے۔ اردو ادب کی شبستاں میں یکجہتی کے چراغ فروزاں ہیں گر چہ باد مخالف کے تیز جھکڑ ان روشن دیوں کو بجھانے کے در پے ہیں مگر اردو زبان اور ادب و اس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ہندوستان کے اس تہذیبی ثقافتی سرمایہ کو تلف ہونے نہ دیا جائے ۔ قومی یکجہتی کے فروغ میں ہر ہندوستانی کا حصہ ہے لیکن اس کی بڑی ذمہ داری ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہی لوگ قوم کے نو نہالوں اور مستقبل کے معماروں کی صحیح رہبری اور رہنمائی کر سکتے ہیں۔ بقول کرشن بہاری نورؔ
اب رسول آئیں گے دنیا میں نہ رام آئیں گے
صرف انسان ہی انسان کے کام آئیں گے
فیضانِ راقم (ادبی مضامین کا مجموعہ) / ڈاکٹر شیخ نگینوی
٭٭٭٭٭
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

