Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

قاضی عبدالودود اور غالب تحقیق – ڈاکٹر محضر رضا

by adbimiras ستمبر 22, 2020
by adbimiras ستمبر 22, 2020 1 comment

قاضی عبدالودود نے اردو کے کلاسیکی سرمایے کو جس توجہ اور یک سوئی کے ساتھ پڑھا اور جانچا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو ادب کی پوری روایت پر ان کی نظر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف موضوعات پر ان کے تقریباً تمام مقالے حرف آخر کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن جس ایک موضوع پر انھوں نے سب سے زیادہ لکھا اور آخر وقت تک جس پر اضافہ کرتے رہے وہ غالبیات ہے۔ انھوں نے غالب سے متعلق ایک انسائیکلو پیڈیا مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔’جہان غالب‘ اسی منصوبے کی جزوی تکمیل ہے۔ اس کے علاوہ ’غالب بہ حیثیت محقق‘’ کچھ غالب کے بارے میں‘اور ’ماثر غالب‘ غالب تحقیق میں مستند حوالے کا درجہ رکھتی ہیں۔غالب کی سیرت، شاعری،مکتوب نگاری، تاریح نگاری اور لغت نگاری سے جس عالمانہ واقفیت کا ثبوت ان کی تحریروں میں ملتا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انھوں نے غالبیات کو ایک وحدت کے طور پر قبول کیا تھا۔ وہ غالب کو بہ حیثیت شاعر جتنا عظیم مانتے تھے محقق غالب کو اتنا ہی معمولی سمجھتے تھے۔ غالب کے تعلق سے ان کا مضمون ’غالب بہ حیثیت محقق‘ پہلی مرتبہ علی گڑھ میگزین غالب نمبر (1948-49)میں شائع ہوا اور اسی کے بعد اردو ادب میں ان کی شناخت مستحکم ہوئی۔ قاضی عبدالودود کی غالب پربے لاگ تنقید کو ایک طبقے نے نہ پسندکیا جن کے پاس اپنی نا پسندیدگی کے جواز بھی تھے۔ اخلاقیات تحقیق کی رو سے ان جواز کی کیا حیثیت ہے یہ الگ موضوع ہے۔ ناپسند کرنے والوں میں مشہور ماہر غالبیات مالک رام بھی شامل ہیں۔

’’جن اصحاب نے یہ مضمون [غالب کی راست گفتاری] دیکھا ہے، انھیں معلوم ہے کہ اس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ غالب راست گوئی کے زیادہ پابند نہیں تھے اور ضرورت پڑنے پرانھیں دروغ بافی سے بھی دریغ نہیں تھا۔ مجھے یہ مضمون پسند نہ آیا ۔ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است کے مقولے سے قطع نظر میری سمجھ میں نہ آیا کہ آخر اس مضمون کی اشاعت سے علم و ادب کی کون سی خدمت ہوئی، یا غالب کی شاعرانہ عظمت کس طرح کم ہو گئی۔ چنانچہ میں نے جب مختار الدین احمد کے خط کا جواب دیا تو…اس مضمون کی اشاعت پر احتجاج بھی کیا۔ ‘‘(1)

غالب بہ حیثیت محقق اشاعت اول کے جواب میں شوکت سبزواری کا مفصل مضمون ’ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں‘ قسط اول جنوری تا مارچ 1952اور قسط دوم جولائی تا دسمبر1952رسالہ اردو میں شائع ہوا۔ قاضی عبدالودود نے شوکت سبزواری کے صرف ایک اعتراض کو درست تسلیم کیا بقیہ کے بارے میں ان کی رائے تھی کہ یا تو فی نفسہ غلط ہیں یا ان کے خیالات کی غلط ترجمانی کا نتیجہ ہیں۔ قاضی عبدالودود کا یہ مقالہ در اصل قاطع برہان کا عالمانہ تجزیہ ہے ، لیکن اس کے ذیل میں قدیم ایران کی تاریخ و ادب اور دوسرے علوم مثلاً نجوم وغیرہ کی بحثوں نے اس میں مستقل کتاب کی شان پیدا کر دی ہے۔ اس مضمون کو لکھنے کے لیے قاضی عبدالودود نے متعلقہ موضوعات سے واقفیت بہم پہنچائی تھی، کئی برس تک وہ معلومات جمع کرتے رہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ پہلی بار جب یہ مقالہ علی گرھ میگزین غالب نمبر میں شائع ہوا تو اس کی ضخامت محض 39صفحات تھی لیکن سات برس بعد 1956 میں جب یہ مقالہ دوبارہ مختار الدین احمد کی کتاب نقد غالب میں شائع ہوا تو اس کی ضخامت تقریباً سوا دو سو صفحات تک پہنچ چکی تھی۔اس کے باوجود قاضی عبدالودود کا خیال تھا کہ ’’موضوع کا حق جب تک کم از کم تین سو صفحے اس کے لیے وقف نہ کیے جائیں ادا نہیں ہو سکتا۔‘‘(2)  قاضی عبد الودود نے کسی موضوع پر کوئی مستقل کتاب نہیں لکھی لیکن ان کایہی ایک مضمون ایک مستقل کتاب کا حجم رکھتا ہے۔ دو جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب ’کچھ غالب کے بارے میں‘ غالب سے متعلق ان کے متفرق مضامین کا مجموعہ ہیں۔ غالب کے کلام اور ان کی تصانیف کے بار بار مطالعے نے انھیں غالبیات کے باریک گوشوں کی طرف متوجہ کیا۔کلام غالب کے مطالعے کے بارے میں خود کہتے ہیں:

’’ایک زمانے میں مجھے غالب کا پورا دیوان، اپنے الفاظ مجھے واپس لینا چاہیے، پورا دیوان نہیں لیکن یہ کہ غزلیں، شاید ہی کوئی ایسا شعر ہو جو مجھے یاد نہ ہو۔ اور یہ کثرت مزاولت کی وجہ سے، یہ نہیں کہ میرا حافظہ بہت قوی ہے، کہ ایک مرتبہ پڑھا اور یاد رہ گئی بات۔ یہ نہیں تھی، بلکہ اتنی مرتبہ میں نے دیوان غالب پڑھا تھا کہ تقریباً شاید ہی کوئی شعر ہو جو مجھے یاد نہ ہو۔ (3) (یہ بھی پڑھیں علی سردار جعفری – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

کسی متن کو بار بار پڑھنا خود کو آزمائش میں ڈالنا نہیں تو اور کیا ہے، لیکن متن بھی آزمائش کے بغیر خود کو کسی کے حوالے کہاں کرتا ہے۔ قاضی عبدالودود تو ایسی آزمائشوں کے خوگر تھے ۔ آزمائشوں سے گھبرانا در اصل سپر انداز ہونا ہے۔ جس کا کوئی شائبہ نہ قاضی عبدالودود کی ذاتی زندگی میں نظر آتا ہے اور نہ علمی زندگی میں۔ ان کی بے باکی اوڑھی ہوئی نہیں تھی بلکہ ان کی شخصیت کا عنصر لازم تھی جوان کی عادت بھی تھی اور شناخت بھی۔ جس شخص نے ایک ایک لفظ کی تلاش میں کلیات ختم کر دیے ہوں ، ایران قدیم سے غالب کی واقفیت دکھانے کے لیے ایرانی تاریخ اور زرتشتی مذہب کے تمام ضروری لٹریچر کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا ہو وہ اگر شخصیت کا رعب اور لہجے کی دھونس قبول نہ کرے تو حیرت کا مقام نہیں۔ قاضی عبدالودود کی تحقیق توازن کی بھی بہترین مثال ہے ۔ انھوں نے صرف غالب کو رد نہیں کیا قبول بھی کیا ہے۔ غالب کی تردید کے جوش میں وہ محمد حسین برہان کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی نہیں کرتے ، نہ ہی شخصیت سے جذباتی رشتہ قائم کرتے ہیں، کیوں کہ عقیدت مدح کے ما سوا کچھ پسند نہیں کرتی۔ قاضی عبدالودود نے غالب کی حیات اور تصانیف کا باریکی اور سختی کے ساتھ تجزیہ کیا ہے، ظاہر ہے وہ غالب کے معاصر نہیں تھے لہٰذا غالب کی سیرت کا تجزیہ خود ان کی یا ان سے متعلق دوسروں کی تحریر کی روشنی میں ممکن ہو سکتا تھا۔ انھوں نے اردو سے لے کر فارسی خطوط و تقاریظ اور اشتہارات میں منطقی ربط پیدا کرکے مقدمات قائم کیے اور صحیح نتائج حاصل کیے۔ مثلاً وہ غالب کے بیان میں تضاد دکھانے کے لیے قاطع برہان کی تقریظ سے یہ جملہ پیش کرتے ہیں: ’’اگر منشی نول کشور دکان بے رونق کے خریدار نہ ہوتے تو اس کتاب کا مسودہ ضائع ہو جاتااور منطبع نہ ہوتی‘‘اس کے بعد سیاح کے نام خط سے یہ جملہ نقل کرتے ہیں: ’’میرے پاس روپیہ کہاںجو …دوبارہ چھپواؤں؟ پہلے بھی نواب مغفور (یوسف علی خاں والی رام پور) نے 200رپے بھیج دیے تھے تب پہلا مسودہ صاف ہو کر چھپوایا گیا تھا۔‘‘(4)

یہاں ایک جملہ تقریظ کا ہے اور دوسرا خط کا لیکن دونوں کے درمیان ربط قائم کر کے جو استدلال کیا گیا ہے وہ قرأت کا ایسا سلیقہ ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور غالب کی ایسی تصویر بناتی ہے جو حقیقت کے رنگوں سے بنی اور عقیدت و جانب داری کے روغن سے عاری ہے۔وہ صرف تضاد نہیں دکھاتے اس کی وجہ بھی بتاتے ہیں کہ غالب در اصل سیاح کو نہیں بلکہ ان کے مربی غلام بابا خاں کو مطلع کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ نواب کی مثال کی پیروی کریں۔ یہ غالب اور ان کے عہد کو ایک وحدت میں پڑھنے کا نتیجہ ہے کہ واقعات ایک مرتب قطار میں نظر آنے لگتے ہیں اور حقائق بالکل شفاف ہو جاتے ہیں ۔ یہ کہنا کہ غالب شاعر ہیں اگر ان کی سیرت اخلاق کے بہترین معیار کی پابند نہ ہو تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں، کیوں کہ بڑا شاعر ہونے کے لیے بلند اخلاق ہونا لازمی شرط نہیں۔ یہ حقیقت بھی ہے اور خود قاضی عبدالودود بھی اس کے قائل ہیں ، لیکن جب سیرت نگار اپنی پسندیدہ خصلتیں کسی شخصیت میں دکھائے خواہ وہ شخصیت ان صفات کی حامل نہ ہو تو ایسا محاکمہ ناگزیر ہو جاتا ہے جو حقیقت واقعہ کا انکشاف کر سکے۔

قاضی عبدالودود کی تحقیق کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ متعلقہ موضوع کے مضافات پر بھی اسی طرح حاوی نظر آتی ہے جس طرح نفس موضوع پر۔ عہد مغلیہ کی تاریخ پر انھیں پورا عبور تھا۔ غالب پر تحقیق کرتے وقت انھوں نے ان تمام ضروری اشخاص کے متعلق ممکنہ معلومات جمع کر لی تھیں جن سے غالب کا کوئی تعلق تھا۔ان اشخاص کے بارے میں بھی چھوٹی بڑی باتوں کو وہ اتنے ہی وثوق سے بیان کر سکتے تھے۔ مثلاً یہ بات تو اکثر لوگوں کو معلوم ہوگی کہ میاں داد خاں سیاح کے نام سے منسوب کتاب ’لطائف غیبی‘ کو اکثر لوگوں نے غالب کی تصنیف کہاہے۔ لیکن ماہرین غالبیات میں بھی کم ہی لوگوں نے یہ تحقیق کی ہوگی کہ سیاح نے کہاں کہاں کا سفر کس سنہ میں کیااور اس تحقیق کا تعلق غالبیات میں کیوں کر اہم ہو سکتا ہے۔ خلیق انجم نے اپنے مضمون ’’ادبی تحقیق اور حقائق‘‘میں تحقیق کے اسی مسئلے کے تعلق سے لکھا ہے:

محقق کو سب سے پہلے جو دقت پیش آتی ہے وہ مواد کی فراہمی ہے۔ اسے یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ موضوع سے متعلق کیا مواد ہے؟ کہاں ہے؟ اور کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے؟ …اردو کی بد نصیبی ہے کہ ابھی تک کسی موضوع پر ببلیوگرافی تیار نہیں ہوئی۔ کسی نے حوالے کی کتابوں کی طرف توجہ نہیں دی۔ فرض کیجیے میں مرزا مظہر جان جاناں پر کام کر رہا ہوں اور مقالہ لکھتے ہوئے شاہ مبارک آبرو کا ذکر آگیا، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ آبرو کب پیدا ہوئے اور کب مرے؟ اردو میں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو فوری طور پر میری مدد کرسکے۔ تحقیق کے دوران قدم قدم پر ایسے ضمنی موضوعات سے سابقہ پڑتا ہے۔ اب اصل موضوع کے علاوہ آپ ضمنی موضوع پر بھی تحقیق کیجیے۔ چونکہ محقق کی توجہ اصل موضوع پر ہوتی ہے، وہ ان چھوٹے موضوعات پر پوری توجہ نہیں کرتا اس لیے عام طور پر اس سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ (5)

خلیق انجم کی بات اپنی جگہ مستحکم ہے تحقیق کے مسائل کو آسان بنانے کی کوشش ہونی چاہیے لیکن قاضی عبد الودود کی تحریر کو پڑتے وقت کبھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ نفس مضمون کے متعلقات کو وہ شئے دیگر تصور کرتے ہیں۔لطائف غیبی غالب تحقیق کا حصہ ہے لیکن سیاح کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے سیاح سے بھی اس کا تعلق ہو جاتا ہے۔ لہٰذا قاضی عبدالودود نے سیاح کے سوانح سے متعلق نہایت دقیق معلومات اور ان کے سفروں کی تفصیل حتیٰ الوسع  جمع کر لی تھیں ۔ لطائف غیبی کے متعلق یہ اقتباس ان کی دقت نظر اور تلاش و جستجو کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے:

’’اس میں خلاف واقعہ یہ لکھا ہے کہ سیاح نے کشمیر و کابل و قندہار کا سفر کیا ہے، حالانکہ اشاعت لطائف غیبی کے وقت تک سیاح کشمیر نہیں گئے تھے اور کابل و قندہار تو اس کے بعد بھی نہیں گئے۔ (6)

کفایت الفاظ کی بہترین مثال سے قطع نظر ان دو سطروں میں تلاش و تحقیق کا ایسا جذبہ کار فرما ہے جو قاضی عبدالودود کے بعد خال خال ہی نظر آتا ہے۔

قاضی عبدالودود نے غالب کے بیان میں تضاد کو اکثر نشان زد کیا ہے لیکن تضاد کا دکھانا اہم نہیں ہے زیادہ اہم اور قابل تقلید یہ ہے کہ وہ اپنے بیان کے لیے دلائل کہاں سے فراہم کرتے ہیں۔ حالی جیسا صاحب نظر جن باتوں سے سرسری گزر جاتا ہے قاضی عبدلودود وہاں ٹھہر کر کبھی تاریخی مسلمات کبھی منطقی استدلال کے ذریعے استنباط کرتے نظر آتے ہیں۔

غالب نے پہلے خود کو ترک ایبک افراسیابی النسل کہا پھر سلجوقی اور بالاخر سنجر و برکیارق کی اولاد ہونے کے مدعی ہوئے۔ حالی نے نیّر کے قول کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ ہند فارسی شاعری کا آغاز ایک ترک لاچین امیر خسرو سے ہوا اور خاتمہ ایک ترک ایبک غالب پر ہوا۔‘‘غالب نے بتایا ہے کہ’ ایبک‘ ترکوں کا ایک قبیلہ ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا قاضی عبدالودود کی تحقیق میں نفس موضوع اور متعلقات کی دوئی مٹ جاتی ہے یہاں بھی بعینہ وہی مسئلہ ہے۔ غالب پر تحقیق کرنے والوں نے غالب کے مندرجہ بیانات کی تردید تو کی ہے لیکن کسی نے قبیلۂ ’ایبک ‘ کے متعلق تحقیق نہیں کی۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’غالب و نیّر و حالی یہ سب اس سے بے خبر ہیں کہ اس نام کاکو ئی قبیلہ تھا ہی نہیں۔(7)

قاضی عبدالودود کا مضمون ’’غالب نے اردو میں خط و کتابت کب شروع کی‘‘ حوالوں کی تلاش اور منطقی دلائل کی رو سے ان کے اہم ترین مقالوں میں سے ایک ہے۔ غالب نے اردو میں خط و کتابت کب شروع کی اس بحث کا آغاز حالی کی یادگار غالب سے ہو جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’معلوم ہوتا ہے کہ مرزا1850تک ہمیشہ فارسی میں خط و کتابت کرتے تھے۔ مگر سنہ مذکور میں جب کہ وہ تاریخ نویسی کی خدمت پر مامور کیے گئے …اس وقت بہ ضرورت ان کو اردو میں خط و کتابت کرنی پڑی ہوگی۔ وہ فارسی نثر اور اکثر فارسی خطوط …نہایت کاوش سے لکھتے تھے۔پس جب ان کی ہمت مہر نیم روز کی ترتیب و انشا میں مصروف تھی، ضرور ہے کہ اس وقت ان کو فارسی زبان میں خط و کتابت کرنی اور وہ بھی اپنی طرز خاص میں شاق ہوئی ہو گی۔ اس لیے قیاس چاہتا ہے کہ انھوں نے غالباً سنہ 50کے بعد سے اردو زبان میں خط لکھنے شروع لیے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ’’زبان فارسی میں خط لکھنا پہلے سے متروک ہے۔ پیرانہ سری اور ضعف کے صدموں سے محنت پژوہی اور جگر کاوی کی قوت مجھ میں نہیں رہی۔‘‘ (8)

حالی نے غالب کے جس خط کی عبارت کو بہ طور دلیل پیش کیا ہے اس کے بارے میں قاضی عبدالودود نے بنیادی بات یہ کہی کہ یہ غدر کے بعد کا ہے۔ خط میں تو تاریخ درج نہیں تھی لہٰذا خارجی شہادت یہ فراہم کی کہ خط شہید کے نام ہے جو غدر کے بعد غالب کے شاگرد ہوئے ، نیز اس سے صرف اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ غالب نے ضعف پیری کی وجہ سے فارسی میں خط لکھنا بند کیا ہے، اردو میں پہلے پہل کب خط لکھا اس کے متعلق کوئی اشارہ نہیں۔ حالی کا سارا استدلال یا تو اسی خط پر ہے یا قیاس پر۔ (یہ بھی پڑھیں مسعود حسین خاں کے چند بکھرے ہوئے مضامین- ڈاکٹر نوشاد منظر)

یہ بیان جیسا کہ ذکر ہوا قطعی فیصلے تک نہیں پہنچاتا اور نہ ہی حالی نے کوئی بات قطعیت کے ساتھ کہی ہے، ’معلوم ہوتا ہے،غالباً، قیاس چاہتا ہے‘ جیسے لفظوں کاسہارالیا گیا ہے۔ قیاس اسی صورت میں معاون ہو سکتا ہے جب حوالے میسر نہ ہوں۔ اس مقالے میں قاضی عبدالودود نے بھی قیاسی صورت حال بیان کر کے استنباط کیا ہے لیکن ان کی بنیاد منطقی ہے۔ حالی نے 1950تک غالب کے ہمیشہ فارسی میں خط لکھنے کی بات کہی ہے اور اس کے ترک کاسبب مہر نیم روز کی تصنیف میں مصرویت کو بتایا ہے۔ قاضی عبدالودود نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ جب بظاہر مہر نیم روز کی تصنیف اواسط1950سے شروع ہوئی تو حالی نے یہ کیوں لکھا کہ ’’غالباً 1950کے بعد سے غالب اردو میں خط لکھنے لگے۔ ‘‘ یہ سوال نہایت اہم اور بنیادی ہے۔ حالی نے قیاساً ایک بات کہی جس کاخاطر خواہ تجزیہ وہ نہ کر سکے۔ قاضی عبدالودودنے حالی کے بیان کا بڑی باریکی سے تجزیہ کیا ہے۔ ان کا یہ سوال بڑا معنی خیز ہے کہ ’ہمیشہ‘سے حالی کی کیا مراد ہے کیوں کہ انھوں نے یادگار غالب میں ہی ایک جگہ ’ہمیشہ‘ کو ’عموماً‘ کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ حاشیے میں حالی کی یہ عبارت بھی بتائی ہے۔ ’’ان کے گھر میں کتاب کا کہیں نشان نہ تھا ہمیشہ کرائے کی کتابیں منگوا لیتے تھے‘‘ دوسری جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کوئی کتاب نہیں خریدتے تھے الاّ ماشااللہ۔‘‘ یادگار غالب کو پڑھتے وقت شاید ہی کسی نے اس پر غور کیا ہوکہ ایک لفظ دو جگہ الگ الگ معنوں میں استعمال ہورہا ہے۔ متن کا باریک تجزیہ غائر مطالعے کیے بغیرممکن نہیں ہو سکتا ۔یہ مضمون حوالاجات کی پیشکش سے زیادہ عقلی دلائل کی وجہ سے متاثر کرتا ہے۔ قاضی عبدالودود نے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے غالب کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور تقریباً 1805تک۔ اس وقت تک غالب کی عمر آٹھ برس رہی ہوگی ظاہر ہے ان کی مادری زبان فارسی نہیں تھی اسے انھوں نے استاد سے سیکھا ہوگا۔ اس دوران بھی ان کو خط لکھنے کی ضرورت پڑی ہوگی جب وہ اتنی فارسی نہ جانتے ہوں کہ اس میں خط لکھ سکیں ایسی صورت میں یقینااردو میں ہی خط و کتابت کرتے ہوں گے۔ دوسرے دور کو انھوں نے اواسط 1950تک متعین کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس دور تک غالب رفتہ رفتہ فارسی پر قادر ہو رہے تھے ، کچھ مدت کی مشق کے بعد صاحب طرز انشا پرداز قرار پائے۔ اس وقت عام رواج کے مطابق فارسی میں ہی خط لکھتے رہے ہوں گے، لیکن غالب کا تعلق ایسے لوگوں سے بھی رہا ہوگا جو فارسی سے کم یا بالکل نا واقف رہے ہوں ۔ ایسی صورت میں بھی انھوں نے مجبوراً ردو میں خط لکھے ہوں گے۔ تیسرا دور بادشاہ کی ملازمت یعنی جولائی 1850سے شروع ہوتا ہے۔مہر نیم روز کی تصنیف کا آغاز اسی سال ہواہوگا اور اس کی تصنیف میں مصروفیت اردو خطوط میں معتد بہ اضافے کا سبب ہوئی ہوگی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ قاضی عبدالودودد نے کسی تحریری حوالے کو مدار نہیں بنایا بلکہ قیاسی بات کہی ہے جو اپنی قبولیت کی خاطر خارجی حوالوں کا مطالبہ نہیں کرتی۔ان کی تحقیق کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ معمولی باتوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، یہ بات اس مضمون کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حالی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ 1850کے بعد غالب نے اپنی زندگی کا پہلا اردو خط لکھا بلکہ وہ غالب کے عام رجحان کو نشان زد کرنا چاہتے تھے۔ معترض کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تحقیق قطعیت چاہتی ہے۔  قاضی عبدالودود نے اردو میں تحقیق کی روایت کو مستحکم کیا ہے۔ تحریر میں احتیاط اور تدبر کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور قطعی فیصلے تک رہنمائی کی ہے۔ اگر واقعی حالی کا مقصد یہی ظاہر کرنا تھا تو مافی الضمیر کی ادائگی کے لیے انھیں مناسب الفاظ نہیں مل سکے جس کی اہمیت مسلم ہے۔ قاضی عبدالودود کی ہی تحریر ہے جو سابقہ متن کا صحیح مقام ومرتبہ متعین کرنے ساتھ یہ بھی سکھاتی ہے کہ تصنیف و تالیف کی زبان کیسی ہونی چاہیے اور مطالب کو بغیر تجزیے کے پیش کرنے کی کیا خرابیاں ہو سکتی ہیں۔

 

(1)قاضی عبدالودود صاحب، از مالک رام، معاصر قاضی عبدالودود نمبر

(2)نقد غالب ، مختار الدین احمد، ص 345، انجمن ترقی اردو ہند علی گڑھ1956

(3)کچھ غالب کے بارے میں،حصہ 1ص 58/3قاضی عبدالودود، خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ1995

(4)ایضاً ص 8

(5)دستک

(6)کچھ غالب کے بارے میں،حصہ 1 ص 18قاضی عبدالودود، خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ1995

(7)ایضاًص19

(8)یادگار غالب، الطاف حسین حالی ، بحوالہ کچھ غالب کے بارے میں ، قاضی عبدالودود، ص 179 ، خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ1995

 

 

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

Home Page 

 

غالبقاضی عبد الودودمحضر رضا
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
موبائل کا استعمال اور بچوں کی تربیت – حنا خان (آکولہ)
اگلی پوسٹ
قومی یکجہتی اور اردو زبان- ڈاکٹر شیخ نگینوی

یہ بھی پڑھیں

تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

1 comment

اردو لسانیاتی  مطالعات کی تاریخ -رئیس احمد مغل - Adbi Miras ستمبر 25, 2020 - 8:01 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں