Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقیدنوشاد منظر Naushad Manzar

مسعود حسین خاں کے چند بکھرے ہوئے مضامین- ڈاکٹر نوشاد منظر

by adbimiras ستمبر 15, 2020
by adbimiras ستمبر 15, 2020 3 comments

پروفیسر مسعود حسین خاں  کی علمی وادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، مگران کی بنیادی شناخت ایک ماہر لسانیات کی ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’مقدمہ تاریخ زبان اردو‘‘ ہے، جو ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ۱۹۴۸ء میں شائع ہوئی ،اور اب تک ہندوستان اور پاکستان میں اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ ’’مقدمہ تاریخ زبان اردو‘‘ پروفیسر مسعود حسین خاں کی ایک عالمانہ اور محققانہ کاوش ہے، جس میں انہوں نے اردو زبان کے آغازو ارتقا سے متعلق اپنا نظریہ پیش کیا ہے ۔ان کے مطابق اردو زبان کا آغاز نواح دہلی میں بولی جانے والی کھڑی بولی سے ہوا ۔’مقدمہ تاریخ زبان اردو ‘ کی اشاعت کے بعد بھی انہوں نے اردو زبان کی ابتدا اور اس کے نظری ولسانی مسائل پر اظہار ِ خیال کا سلسلہ جاری رکھا ۔

پروفیسرمسعود حسین خاں کے انتقال کے بعد رسالہ ’کتاب نما‘دہلی نے ان پر ایک خصوصی شمارہ شائع کیا۔جس کے لیے ان کی تحریروں کا اشاریہ میں نے تیار کیاتھا ۔اشاریے کے سلسلے میں جب میں نے پروفیسر مسعود حسین خاں کی بعـض منتشر تحریروں کو ان کی کتابوں میں تلاش کرنا شروع کیا تو یہ معلوم ہوا کہ ان کے بہت سے اہم مضامین ان کے مجموعے میں شامل نہیں۔ جس کے سبب یہ حوالہ نہیں بنتے ۔لہذاان مضامین کی ادبی و لسانی معنویت کے پیش نظران منتشر مضامین کے حوالے سے ان کے نظری مباحث اور ان کی تنقیدی کاوش کا احاطہ کرنے کی میں نے ایک طالب علمانہ کوشش کی ہے۔

پروفیسر مسعود حسین خاںکا ایک مضمون ’’اردو زبان کی ابتدا اور ارتقا کا مسئلہ ‘‘ہے ۔جس میں انہوںنے اردو زبان کے آغاز وارتقا سے متعلق میرامن ’سر سید ‘  مولانا آزاد اور محمود شیرانی وغیرہ کے نظریات سے بحث کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو ایک ہند آریائی زبان ہے۔ ابتدا میں اسے ہندی اور ہندوی دونوں ناموں سے موسوم کیا گیا ۔اس زبان پر عربی اور فارسی کے اثرات بھی مرتب ہوئے، بعض محقق اس لسانی میل کو ایک اتفاق مانتے ہیں ،مگر مسعود حسین ان لسانی اثرات کو محض اتفاق نہیں مانتے ،وہ لکھتے ہیں :

’’اس (اردو )پر عربی فارسی لسانی اثرات محض اتفاق نہیں جیسا کہ بنگالی ،مرہٹی یا ہندی میں پائے جاتے ہیں بلکہ ان کی نوعیت بنیادی اور ترکیبی ہے ۔ جن سے قطع نظر اردو زبان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ‘‘۔

(اردو زبان کی ابتدا اور ارتقا کا مسئلہ )

عربی اور فارسی کے لسانی اثرات اردو پر اس طرح مرتب ہوچکے تھے کہ اردو کے آغاز سے متعلق کچھ غلط فہمی بھی پیدا ہوگئی۔سید سلیمان ندوی بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوئے اور اردو پر عربی اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے سندھ کو اردو کی جائے پیدائش قرار دیا ۔ عرب تاجر پہلے پہل سندھ کے ساحلی علاقے میں آئے تھے اورجب  دو قومیں آپس میں ملتی ہیں تو دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ زبانوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے، لہذا سلیمان ندوی نے اردو کی جائے پیدائش سندھ کو بتایا مگر پروفیسر مسعود حسین کا نظریہ سلیمان ندوی سے بالکل مختلف ہے ۔اپنے مذکورہ مضمون میں لکھتے ہیں :

’’ان عربی فارسی عناصر کے پیش نظر محققین کا ایک گروہ اردو کی داغ بیل اس وقت سے ڈالنا پسند کرتا ہے جب عربی زبان کے سکے پہلی بار سوا حل مالابار اور سندھ میں رائج ُہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں سید سلیمان ندوی کا نام قابل ذکر ہے ۔جنہوں نے اپنی تحریروں میں اردو کے پہلے ہیولی کے سندھ میں بننے کا ذکر کیاہے ،لیکن یہ کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ عربی فارسی الفاظ کا ہندوستان کی کسی زبان میں داخلہ اردو زبان کی تشکیل کی ضمانت نہیں کرتا ‘‘۔

(اردو زبان کی ابتدا اور ارتقا کا مسئلہ )

سید سلیمان ندوی نے جس لسانی میل جول کی طرف اشارہ کیا ہے اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر اردو کی ابتدا عربی زبان کے زیراثر ہوتی تو اردو پر عربی کے اثرات نمایاں طور پر نظر آتے، مگر ایسا نہیں ہے۔ ابتدا میں اردو پر تو فارسی زبان کا اثرحاوی نظر آتا ہے ۔جس سے یہ اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے کہ اردو نے اپنے ابتدا ئی زمانہ میں اگرکسی غیر ملکی زبان سے استفادہ کیا ہے، تو وہ زبان فارسی ہے۔ پروفیسر مسعود حسین خاں صرف سید سلیمان ندوی کے نظریے کو رد نہیں کرتے بلکہ وہ حافظ محمود شیرانی کے اس نظریے کی بھی تردید کرتے ہیں، جس میں محمودشیرانی نے اردو کی ابتدا کا سہرا پنجاب کے سر باندھتے ہوئے لکھا تھا کہ اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی گئی اور چونکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کر کے دہلی گئے تھے لہذا یہ ضروری ہے کہ مسلمان پنجاب سے اپنے ساتھ کوئی زبان لے گئے ہوں گے ۔ حافظ محمود شیرانی کے مذکورہ نظریے کی تردید کرتے ہوئے مسعود حسین خاں اسے محض قیاس آرائی سے تعبیر کرتے ہیں ۔مسعود حسین خاں نے اپنی بات کی تائید میں حافظ محمود شیرانی کی کتاب’’پنجاب میں اردو‘‘سے ایک اقتباس بھی پیش کا ہے جس میں محمود شیرانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی شہادت یا سند نہیں ہے بلکہ سیاسی واقعات اور زبان کی ساخت کی بنیاد پر انہوں نے یہ بات کہی ہے۔ مگر مسعود حسین ان کی اس دلیل سے بھی اتفاق نہیں کرتے ۔ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ مسلمانوں نے لاہور سے دہلی اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ہو ۔مسعود حسین نے ہند آریائی زبانوں کے تیسرے دور کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ لسانی و تہذیبی لہروں کا بہاؤ  ہمیشہ دہلی سے پنجاب کی جانب رہا ہے ۔ مسعود حسین خاںیہیں نہیں رکتے بلکہ محمود شیرانی نے اردو اور پنجابی کا جورشتہ قائم کرنے اور اپنے موقف کی تائید میں جو مثالیں پیش کی ہیں ان مثالوں کی تردید کرتے ہوئے بہت سی مثالیں پیش کی ہیں، چاہے صرف و نحو بنانے کا مسئلہ ہو یا پھر فعل امر بنانے کا،دراصل ان مثالوں سے بھی محمود شیرانی کے نظریے کی تردید ہوتی ہے۔مسعود حسین نے قدیم وجدید اردو سے پنجابی کے تعلق کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ پروفیسرمسعود حسین لکھتے ہیں کہ قدیم وجدید اردو میں حالیہ ناتمام (تا)آتا ہے جب کہ پنجابی میں (دا)آتا ہے مثلا نکلتا ؍نکلدا۔پیتا ؍پیندا۔ یہی نہیں اردو میں جہاں کا ’کے‘ کی کا استعمال ہوتا ہے، وہیں پنجابی میں دا ،دے ،دی، کا استعمال ہوتا ہے ۔

اردو زبان کی ابتدا سے متعلق ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اس زبان کا آغاز برج بھاشا سے ہوا،یہ زبان آگرہ اور اس کے گردونواح میں بولی جاتی تھی ۔اس نظریہ کو پیش کرنے والے عالموں میں ماسٹر رام چندر ،سر سید احمد خاں اور محمد حسین آزاد وغیرہ سر فہرست ہیں ۔پروفیسر مسعود حسین اردو اور برج کے درمیانی رشتہ کو قبول توکرتے ہیں مگر وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اردو کا تولد برج بھاشا کے بطن سے ہوا۔وہ لکھتے ہیں :

’’اس میں شک نہیں کہ قدیم اردو کو جدید اردو میں تبدیل کرنے میں برج بھاشا اور آگرہ کا بڑا ہاتھ رہا ہے لیکن اردو اور برج بھاشا کا رشتہ بیٹی اور ماں کا نہیں بلکہ بہنوں کا ہے ‘‘

(اردو زبان کی ابتدا اور ارتقا کا مسئلہ )

پرفیسر مسعود حسین برج بھاشا سے اردو کی ابتدا والے نظریے کو تسلیم نہیں کرتے ،ان کے مطابق محمد حسین آزاد نے برج کو اردو کا ماخذ اس لیے بتایا کیونکہ وہ نواح دہلی کی بولیوں کے نازک اختلاف سے واقف نہیں تھے ۔پروفیسر مسعود حسین خاں نے چند مثالوں کے ذریعے اردو اور برج بھاشا کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک اہم نکتہ یہ بیان کیاہے کہ اردو نے اپنے ارتقا کے کسی مرحلے میں اسماء وافعال کے اختتام پر (او)قبول نہیں کیا ،مطلب اپنا، گھوڑا ، چلا اوربڑا  تو اردو میں استعمال ہوتے رہے ہیں مگر اپنو ،گھوڑو ،چلیویا بڑو کا استعمال اردو میں کہیں بھی نہیں ہوا ۔ دراصل قدیم اردو مختصر مصوتوں کو ترجیح دیتی ہے جب کہ برج بھا شا طویل مصوتوں کو اپناتی ہے۔ ہاں جدید اردو میں ان دونوں کی آنکھ مچولی ضرور ملتی ہے ۔

مذکورہ مضمون کے اختتام سے قبل پروفیسر مسعود حسین نے قدیم اردو کی صوتی خصوصیات بھی درج کی ہیں۔ ان کے مطابق متعدد الفاظ کا استعمال صرف پنجابی کی خصوصیت نہیں بلکہ کھڑی اور ہریانوی بولی میں بھی ان کا استعمال کثرت سے کیا جاتا تھا۔ (ق)کے متعلق کہتے ہیں کہ (ق)کا (خ)میں تبدیل ہونا دکن کی خصوصیت نہیں بلکہ شمالی ہند میں  اس کی مثال بہت پہلے سے  موجود تھی۔اس کی مثالیں آج بھی مل جاتی ہیں جیسے بندوخ وغیرہ۔ دکن میں اس طرح کی مثال ملاّ وجہی کی قطب مشتری میں مل سکتی ہیں جہاں انہوں نے عقل کو اخل لکھا ہے اور جہاں تک شمالی ہند کا تعلق ہے تو’ قصہ مہر افروز دلبر‘ میں اس کی مثالیں مل جاتی ہیں، جہاں ’مذاق ـ‘کو’مذاخ‘لکھاگیاہے۔

پروفیسرمسعود حسین کا ایک مـضمون’’اردو (کھڑی بولی)کاعہدبعہدارتقا‘‘ہے،جس میں انہوں نےاردو زبان کے آغاز وارتقا کی چھان بین کرتے ہوئے اپنا موقف بھی پیش کیا ہے اور ساتھ ہی اردو زبان کے ارتقا ئی مراحل کا بھی ذکر کیا ہے ۔مذکورہ مضمون ’’اردو(کھڑی بولی)کا عہد بعہد ارتقا ‘‘میں مسعود حسین خاں نے اپ بھرنش کی تصنیفات کا لسانی جائزہ پیش کیا ہے ۔انہوں نے اپ بھرنش کے زوال کا سبب اس کے ادبی زبان بن کر محدود ہوجانے کو بتایا ۔ان کے مطابق پراکرت اور اپ بھرنش کے زوال کے اسباب ایک ہی ہے کہ دونوں ہی زبانیں ادبی ہوکر محدود ہوگئیں، جس کا اثر یہ ہوا کہ دوسری بولیوں نے اس کی جگہ لینی شروع کردیں۔اپ بھرنش کے ذکر میں انہوں نے (۱)یال رالو(۲)بیل دیواراسلو(۳)  پرتھوی راج راسلو(۴)  جے چند پرکاش (۵) جے سیمک جس چندریکا (۶)  پرسال راسلو(۷)  خسرو کی شاعری(۸)  ودیاپتی پداولی کے نام خاص طور پر پیش کیے ہیں ،ان کتابوں کے علاوہ اور بھی بہت سی کتابوں کا ذکر کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں :

’’…ادب کا بہت بڑا ذخیرہ ان بدھ سدھوں اور گورکھ پنتھی جوگیوں سے منسوب ہے ،جو ملک کے مشرقی اور مغربی حصوں میں اپنے مذہبی گورکھ دھندے کی تبلیغ کیا کرتے تھے ،لسانی نقطہ نظر سے یہ بہت مستند نہیں تاہم ان کی پنج رنگی زبان کا جائزہ اس عہد کی بہت سی لسانی گھیتوں کا حل پیش کرتا ہے ‘‘۔

(اردو (کھڑی بولی)کا عہد بعہد ارتقا )

پروفیسر مسعود حسین خاں نے کھڑی بولی کے ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے ان بدھ راہبوں کے دوہوں کا ذکر بھی کیا ہے ، جسے بختیار خلجی نے نالندہ اور وکرم شِلاسے اجاڑ دیا تھا، جو ادھر ادھر پھیل گئے تھے ،اور عوام میں اپنی پکڑ بنائے رکھنے کے لیے ان راہبوں نے سنسکرت کے علاوہ اپ بھرنش (دیش بھاشا ) میں بھی دوہے لکھے ۔اس کے برعکس گورکھ ناتھ کی مذہبی کتابیں (جو1400 کے آس پاس مرتب کی گئی ہوں گی)  ان میں نظم ونثر دونوں ملتے ہیں ۔پروفیسر مسعود حسین خاں نے اپنے مضمون ’’اردو(کھڑی بولی)کا عہد بعہد ارتقا‘‘ میں بدھ راہبوں اور گورکھ پنتھی کے دوہوں کو پیش کیا ہے اور ان دوہوں کی روشنی میں بدھ راہوں اور گورکھ پنتھی کی زبان کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’ان (دوہوں )کی زبان کو پرکھے تو معلوم ہوگا کہ وہ ’’دیش بھاشا ‘‘سے ملی ہوئی اپ بھرنش یعنی پرانی ہندوستانی ہے ۔انہوں نے اپنے دوہوں میں عام طورسے وہی زبان استعمال کی ہے جو اس وقت عام طور سے گجرات ،راجپوتانہ اور برج (متھرا )سے لے کر بہار تک کے لکھے پڑھے لوگوں کی زبان خیال کی جاتی تھی ‘‘

(اردو (کھڑی بولی)کا عہد بعہد ارتقا)

پروفیسر مسعود حسین نے کھڑی بولی کے ارتقا ئی مراحل کا جائزہ لیتے ہوئے اس عہد کے ادیب وشاعر اور ان کی تصنیفات کی روشنی میں اس عہد کی زبان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے مثالوں کے ذریعہ اپنے اس نظریے کو تقویت بخشی ہے کہ کھڑی بولی ہی اصل اردو کی ابتدا ئی شکل ہے۔ دوسرے لفظوں میں اردو کی پیدائش کھڑی بولی کے بطن سے ہوئی ۔یہاں بھی انہوں نے حافظ محمود شیرانی کے اس نظریے کو دلائل وشواہد کی روشنی میں رد کیاہے کہ اردو کی ابتدا پنجاب میں ہوئی۔

’’ اردو کے لسانیاتی ادب کا جائزہ ‘‘پروفیسر مسعود حسین کا ایک اہم مضمون ہے جورسالہ جامعہ میں شائع ہوا تھا ۔ اس مضمون کو انہوں نےدوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلےحصےمیں’ابتداسے۱۹۴۷ء تک‘ اور دوسرے حصے میں’ ۱۹۴۷ء کے بعد ۱۹۷۳ تک‘ کے لسانیاتی ادب کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ۱۹۶۱ء کی مردم شماری (جس کا ذکر مسعود حسین نے خود کیا ہے )کے مطابق اس وقت ہندوستان میں دو کروڑ پینتس لاکھ (۲۳۵۰۰۰۰۰)افراد کی مادری زبان اردو تھی۔ ان میں سے بیشتر حضرات کا تعلق بہار ،اترپردیش ،آندھرا پردیش اور مہاراشٹر وغیرہ سے تھا جبکہ جموں و کشمیر کی یہ سرکاری زبان ہوا کرتی تھی ۔۱۹۴۷ سے قبل کے لسانیاتی ادب کا جائزہ لیتے ہوئے مسعود حسین لکھتے ہیں :

’’۱۹۴۷ء سے قبل اردو میں لسانیاتی مطالعہ محض قواعد نویسی ،تدوین لغت ، جامعاتی تعلیم، وضع اصطلاحات اور قدیم مخطوطات کی تدوین تک محدود تھے ۔اردو کی اولین قواعدیں اہل یورپ نے لکھی ہیں جن میں ڈچ ،پرتگالی،انگریزی ،فرانسیسی ،جرمن اور اطالوی علماء شامل ہیں ‘‘۔

(اردو کے لسانیاتی ادب کا جائزہ )

۱۹۴۷ء سے قبل اردو میں جو لسانیاتی کام ہوئے ان کی نوعیت بہت محدود تھی جس کا ذکر پروفیسر مسعود حسین نے اپنے مذکورہ مضمون میں بھی کیاہے ۔ ۱۹۴۷ کے بعد کا زمانہ اردو میں لسانیاتی مطالعہ کا اہم زمانہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جب گراہم بیلی کی قواعد مسعود حسین کی ’’مقدمہ تاریخ زبان اردو‘‘ اور شوکت سبزداری کی’’اردو زبان کا ارتقا ‘‘ جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں ۔

پروفیسر مسعود حسین خاں نے ۱۹۴۷ کے بعد اردو میں لسانیاتی مطالعے کا جائزہ لیتے ہوئے اسے چھ بڑے حصے میں تقسیم کیا ہے ۔(۱) اردو کی قواعدیں (۲)اردو کی تاریخ (۳)صوتیاتیphonetic  اورتجزصوتیاتی (phonological) پر اردو کے توضیحی تجزیے (۴)تدوین لغت (۵)اصلاح رسم خط(۶)قدیم متون کی تدوین۔

پروفیسر مسعود حسین نے ان حصوں پر تبصرہ بھی کیا ہے ۔اردو کی قواعد جے۔ آر۔ فرتھ کی مرتب کردہ تصنیف ہے۔ خود فرتھ کے مطابق یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی اساس مشہور ماہر ہندیات گراہم بیلی کے فراہم کردہ مواد پر قائم ہے جسے چھوڑ کر وہ ۱۹۶۲ میں انتقال کرگئے تھے ۔فرتھ نے اس کتاب کے مقدمہ میں اردو صوتیوں (phonetics)کا تجزیہ بھی کیاہے مسعود حسین لکھتے ہیں:

’’… جہاں تک گردانوں اور حالتوں کے مسائل کا تعلق ہے ہمیں گراہم بیلی کی اس کتاب میں بڑے اہم مشاہدات ملتے ہیں ۔ اردو فعل (جو اس زبان کی قواعد کا سب سے پیچیدہ حصہ ہے )کی بحث بھی بڑے پر معنی ہے اور روایتی قواعد نو یسوں کی بحث سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے ۔اردو میں ’’نے‘‘ کے استعمال اور الفاظ کی تکرار کے بارے میں بیلی نے جو باتیں کہی ہیں ان میں نیا پن موجود ہے ‘‘

(اردو میں لسانیاتی ادب کا جائزہ )

مسعود حسین خاں کے مضمون ’’اردو میں لسانیاتی ادب کا جائزہ‘‘کا دوسرا حصہ ’’اردو زبان کی تاریخیں ‘‘ ہے ۔اس حصے میں بالخصوص ہم دواہم کتابوں کا ذکر کرسکتے ہیں مسعود حسین کی کتاب ’’مقدمہ تاریخ زبان اردو (۱۹۴۸) اور شوکت سبزواری کی کتاب ’’اردو زبان کا ارتقا ‘‘ (۱۹۵۵)۔۱۹۴۷ سے پہلے بھی اردو کے آغاز وارتقا سے متعلق مختلف نظریات منظر عام پر آئے تھے مگر ۱۹۴۸ میں جب پروفیسر مسعود حسین کی کتاب ’’مقدمہ تاریخ زبان اردو ‘‘ شائع ہوئی تو اس نے سابقہ تمام نظریات کو مدلل انداز سے مسترد کردیا۔ ۱۹۴۷ کے بعد صوتیاتی تجزیے تدوین لغت اور اصلاح رسم خط کے سلسلے میں قابل ذکر کام ہوئے ۔مدون حضرات نے نہایت جانفشانی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ایسے بہت سے مخطوطات کی تدوین کی جنہیں لوگ بھول چکے تھے ۔ پروفیسر مختار الدین احمد اور مالک رام نے مشترکہ طور پر ’’کربل کتھا ‘‘کی تدوین کا کام انجام دیا جس کا واحد نسخہ بقول مسعود حسین خاں مغربی جرمنی کی ٹوبن گن لائبریری میں بے توجہی کے ساتھ پڑا ہوا تھا ۔خود پروفیسر مسعود حسین خاں نے ’’قصہ مہرا فروز دلبر‘‘کی تدوین کی جو عیسوی بہادر کی تصنیف ہے ۔ان دونوں کتابوں کی اہمیت مسلم ہے اور تاریخ زبان اردو کے طالب علموں کے لیے بے حد قیمتی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔مجموعی طور پر مذکورہ مضمون میں مسعود حسین نے ابتدا سے ۱۹۷۳ تک کے لسانیاتی ادب کا مطالعہ پیش کیا ہے ۔

پروفیسر مسعود حسین نے شخصیات پر بھی مضامین لکھے ہیں جن میں ’’فکر اقبال اور آزاد ہندوستان کے مسلمان ‘‘بھی شامل ہے ۔اقبال کو شاعر مشرق اور حکیم الامت کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اقبال کی ابتدا ئی نظمیں حب الوطنی کے موضوعات سے معمورہیں ۔رام ،نانک ،سرسید اور غالب جیسے اشخاص کے ہندوستانی ہونے پر جہاں انہوں نے فخر ومسرت کا اظہار کیا ہے وہیں مناظر فطرت کابیان بھی بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے ۔ یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے ’ترانہ ہندی‘ جیسی نظم لکھ کر اپنے وطن کو گلشن اور خود کو اس گلشن کا بلبل قرار دیا، تو دوسری طرف انہیںاپنے ملک کا ہر ذرہ دیوتا نظر آیا، مگر جب اقبال ۱۹۰۸ میں انگلستان سے واپس ہندوستان آئے تو ان کے نظریات میں تھوڑی تبدیلی آئی اور وطنیت سے متعلق ان کا نظریہ تبدیل ہوگیا۔ اسے وہ ایک سیاسی ایجنڈا تصور کرنے لگے۔ اس نظریاتی تبدیلی کے متعلق مسعود حسین لکھتے ہیں :

’’……۱۹۰۸میں یورپ سے واپسی کے بعد اور یورپ میں قومیت کے نام پر مغربی اقوام کی استیلا اور استحصال کی پالیسی دیکھ کر وہ وطنیت کے بہ حیثیت ایک سیاسی تصور کے مخالف ہوگئے انہوں نے قومیت اسلام اور قومیت مسلم کی ترکیبیں وضع کیں اور ع: اسلام تردیس ہے تو مصطفوی ہے کا نعرہ بلند کیا ۔قومیت اسلام کا یہ تصور اقبال کے سیاسی عقائد کا آخر وقت تک اہم رکن رہا ‘‘

(فکر اقبال اور آزاد ہندوستان کے مسلمان )

اقبال کے اس نظریے کی مخالفت شروع ہوگئی کہ قومیت اسلام اور قومیت مسلم کے معنی کیا ہیں ،لہذا مولانا حسین احمد مدنی اور اقبال ملت اور وطنی کی بحث میں الجھ گئے ۔مولانا مدنی نے ملت کو قومیت کا مترادف ماننے سے انکار کردیا مگر اقبال نے اپنے خیالات کو تقویت پہنچانے کی غرض سے کہا کہ عربی فارسی میں بہ کثرت سند قوم کے معنوں میں مستعمل ہے ۔مگر اقبال کی اس دلیل کو مسعود حسین نے تسلیم نہیں کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ اس وقت تک اقبال قومیت اور ملت کے سلسلے میں واضح تصور نہیں رکھتے تھے۔ مسعود حسین رقم طراز ہیں :

’’قومیت کے باب میں اقبال کے سیاسی فکر سے آج ہندی مسلمانو ں کو کسی قسم کی رہبری نہیں مل سکتی ۔اس لیے کہ فوق اسلامی قومیت ہندوستان کے سیاق و سباق میں ایک سراب اور خواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی ‘‘۔

(فکر اقبال اور آزاد ہندوستان کے مسلمان)

پروفیسر مسعود حسین کا مذکورہ مضمون جس زمانے میں شائع ہوا تھا اس وقت ہندوستانی قومیت اپنی تشکیلی حالت میں تھی ۔ ایک طرف ہندو مذہب کی قدیم روایات ،توہمات اور عقائد تھے تو دوسری طرف اسلام کے جدید افکار اور عقائد تھے۔ ان دونوں میں توازن قائم کرنے کی کوشش جاری تھی مگر اہم سوال یہ تھا کہ ہندواور مسلم دونوں ’متحدہ قومیت‘ کے لیے کون سا راستہ اختیار کریں کہ ان کے درمیان رشتے مزید مستحکم ہو سکیں،اس سوال پر اپنا رخ پیش کرتے ہوئے مسعود حسین لکھتے ہیں :

’’…یہ مسلم ہے کہ اس تاریخی لین دین میں ہم میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دینا ہوگا کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا ہوگا مثلا ہندوازم میں غیر فعلی توہمات اور اساطیری عناصر کی کمی کرنا لازمی امر ہے ،سماجی اونچ نیچ اور چھوت چھات قوم کے جسد سے فاسد مادے کی مانند خارج کرنا ضروری ہے ۔ مسلمانوں کے عہد کی تاریخ پر زیادہ ہمدردانہ اور مثبت نظر ڈالنی ضروری ہے ۔دوسری جانب ہندی مسلمانوں کو اپنے غیر ضروری مذہبی اور تمدنی تفاخر کو کم کرنا ہوگا ،غیر اسلامی مذاہب کو ان کی عوامی سطح پر نہیں بلکہ فکری اور تاریخی سطح پر سمجھنا ہوگا ،تاکہ ان کے اندرون میں جوتوانائی اور صلاحیت ہے اس تک نظر جاسکے اس لئے بھی کہ وحدت ِادیان کا تصور عین اسلامی شعائر میں سے ہے ‘‘۔

(فکر اقبال اور آزاد ہندوستان کے مسلمان)

مسعود حسین کا یہ مضمون آج سے کوئی۲۵ سال قبل شائع ہوا تھا مگر انہوں نے جن خیالات کا اظہار یہاں کیا تھا ان کی معنویت اب بھی بر قرار ہے۔ اقبال کی متحدہ قومیت کے متعلق انہوں نے جو کچھ بھی کہا وہ ہر لحاظ سے اہم ہے ۔وجہ یہ ہے کہ ہندومسلم آپس میں بھائی بھائی کا نعرہ چاہے جتنا بھی بلند کرلیں مگر حق تویہ ہے کہ دونوں فرقوں میں ایک بڑی تعداد شدت پسندوں کی ہے جو جھکنے کو تیار نہیں۔ لہذامتحدہ قومیت کا جو خواب مولانا آزاد نے دیکھا تھا وہ  آج تک ادھورا ہے ۔

دستور ہند کی اساس جن تین نکات یعنی جمہوریت ،سیکولرزم اور سوشلزم پر قائم ہے،اس کے متعلق علامہ اقبال کا نظریہ جمہوریت خواہ کچھ بھی رہا ہومگر ان کے عقیدت مندوں میں ایک غلط فہمی پیدا یہ ہوگئی کہ اقبال جمہوری نظام کے مخالف تھے ، مگر مسعود حسین اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’۔۔۔اگر تشبیہ واستعارے کے پردوں کو بتاکر سیاق وسباق کی روشنی میں دیکھا جائے تو اقبال غلط تصوف کی طرح اس غلط قسم کی جمہویت کے خلاف تھے ،جو استعماریت کے مترادف رہی ہے اور جو بیسویں صدی کے پہلے رہے ہیںاور مغربی ممالک میں عام ہورہی تھی ‘‘۔

(فکر اقبال اور آزاد ہندوستان کے مسلمان)

در اصل اقبال جمہوریت کو ایک سیاسی داؤ  پیچ کا حامل مانتے تھے جو انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر نظر نہیں رکھتی تھی ۔مگر بعد میں جب یہی جمہوریت ایک طرز حیات کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی توہماری قومی زندگی میں استحکام آیااور اقلیتوں میں ساجھے داری اور برابری کا اعتماد بھی پیدا ہوا ۔سیکولر زم کے بارے میں بھی کہا جاتارہا ہے کہ یہ مذہب اور روحانی اقدار کو اہمیت نہیں دیتا مگر اقبال ایک سیکرلر تھے اور انہو ں نے جاوید نامہ میں عارف ہندی کو ’’جہان دوست ‘‘کا پیکر عطا کیا اور ساتھ ہی اپنی برہمن زادگی پر فخر بھی کیا۔کچھ لوگوں نے اقبال کو کمیونسٹ بھی کہنا شروع کردیا ،بات اتنی بڑھی کہ اقبال نے ایک اخبار کے ذریعہ یہ صفائی دی کہ وہ کمیونسٹ نہیں ہیں۔ خود پروفیسر مسعود حسین خاں بھی اقبال کو کمیونسٹ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ان کے مطابق اقبال سوشلزم کے اس نظریے کے مخالف تھے جس سے منکر خدا کا اظہار ہوتا ہو ۔

پروفیسر مسعود حسین کا ایک مضمون مشہور ومقبول اور ترقی پسندکے بڑے شاعر فیض احمد فیض پر ہے جو انہوں نے فیض کی ستّرویں(۷۰) سال گرہ کے موقع پر لکھا تھا ۔اس مضمون کا عنوان’’ دھنک رنگ لمحوں کا شاعر‘‘ ہے۔ اس مضمون میں مسعود حسین نے فیض احمد فیض کی شاعری کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے فیض کو’’ اعتراف شکست ‘‘اور ’’ارتکاب گناہ کی رومانی معذرت‘‘ کا شاعر قرار دیا ہے ۔بقول مسعود حسین خاں اداس (خود فیض )اور معصوم (محبوب)یہ دو لفظ فیض کی دل کی گہرائیوں کا پتہ دیتے ہیں ۔فیض کی ابتدائی نظموں کے بارے میں مسعود حسین لکھتے ہیں کہ ان پر انگریزی اور اردو کی رومانی شاعری کی گہری چھاپ ہے ۔ نئی تشبیہات اور استعارے پیش کرنے میں فیض ماہر توہیں مگر محاورے اور زمانے پر پوری قدرت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا جذبہ تخیل بہتر طریقے سے پیش نہیں کرپائے۔ فیض کی ابتدائی شاعری پر رومان اور جمالیاتی اقدار کا گہرا اثر ہے، مگر جیسے جیسے فیض کا تعلق زندگی کی دوسری حقیقتوں سے ہوتا ہے ان کی فکر میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔ بقول مسعود حسین :

’’یہ سادہ دکھ بھرا جمال کا پرستار معصوم ذہن جب دہر کے جھگڑے میں پڑتا ہے تو محبوب کا رومانی تصور بھی بدل جاتا ہے‘‘

(دھنگ رنگ لمحوں کا شاعر )

اس تبدیلی کے بعد فیض کی شاعری میں جو تبدیلی آئی، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسعود حسین نے چند اشعار پیش کئے ہیں۔ یہ وہ اشعار ہیں جن پر ترقی پسند نظریہ کی چھاپ نمایاں طور پر نظر آتی ہے ،یہ وہ اشعار ہیں جن سے فیض کے خیال کی تبدیلی کا احساس ہوتا ہے، اشعار دیکھئے:

جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتی ہوئی ناسوروں سے

فیض کی اچانک اس تبدیلی سے حیرت کا احساس ہوتا ہے۔ پروفیسر مسعود حسین خاں بھی اس اچانک تبدیلی سے خوش نظرنہیں آتے وہ لکھتے ہیں :’’اگر یہ اشعار جوش کے قلم سے ٹپکتے تودھچکا نہ لگتا کیونکہ ان کی بغاوتوں اور جرأتوں کے ہم عادی رہے ہیں ، لیکن فیض کے یہاں غازہ ،رخسار اور ضیائے تبسم کے ساتھ خون اور پیپ کا تصور……‘‘

(دھنگ رنگ لمحوں کا شاعر )

فیض کی تبدیلیوں کو فیض کی شاعری کے سیاق میں دیکھنے کی ضرورت ہے یہاں جو ش کا حوالہ غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہماری اردو تنقید عام طور پر جب فیض کی شاعری میں احتجاج اور انقلابی آہنگ کو نشان زد کر تے ہوئے شعر یت کی کمی کا شکوہ کر تی ہے تواسے جوش کا خیال آتاہے ۔اس طرح فیض کی شاعری کا کمزور پہلو غیر ضروری طور پر جوش کی شاعری کا حصہ بن جاتاہے۔ مسعودحسین خان نے’ فیض ‘کی شاعری میں رونماہونے والی ان تبدیلیوں کو اگر پوری شاعری کے تناظر میں دیکھتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ فیض ان تبدیلیوں کے بغیر مکمل فیض نہیں ہو سکتے، جن شعروں میں فیض کے یہاں زندگی کی عام سچائیاں کھلے طور پر سامنے آتی ہیں ان میں شعریت کی کمی ہوسکتی ہے مگر انہیں شعر یت کے نام پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔فیض کی نظم ’’صبح آزادی‘‘ جو انہوں نے پارٹی لائن سے الگ ہو کر لکھی تھی پر بھی بہت اعتراض ہوا اور کہاجانے لگا کہ فیض پاکستان کے قیام سے خوش نہیں تھے اور نہ ہی وہ پاکستان کو الگ ملک تصور کرتے ہیں مگر فیض کی بصیرت آہستہ آہستہ لوگو ں پر عیاں ہوئی اور اہل علم وادب کے ساتھ ساتھ اہل سیاست نے بھی فیض کی تائید کی۔ فیض کا کمال یہ ہے کہ ترقی پسند شاعری کے صف اول میں جگہ پانے کے بعد بھی انہوں نے کبھی فن سے سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی شاعری کو نعرہ بازی اور پروپگنڈا کا حصہ بننے دیا ،یہی وجہ ہے کہ فیض کی شاعری میں وہی جوش، نغمگی،تازگی باقی ہے جس سے ان کے کلام میں تازگی اور پرکاری کا رنگ پیدا ہوتا ہے۔ فیض احمد فیض کو پروفیسر مسعود حسین خان بھی اچھا شاعرمانتے ہیں،ہاں یہ الگ بات ہے کہ اردو شاعری میں فیض کا مقام کیاہو، اس بارے میں اپنی رائے دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کر تے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’فیض کی متاع ہنر اس قدر کم ہے کہ اردو شاعری کی تاریخ میں ابھی سے ہم ان کا اونچامقام متعین نہیں کر سکتے، ہمارے نئے شاعروں کو اس بارے میںبہت عجلت بھی نہیں کرنا چاہئے۔۔۔۔                                                                   (دھنک رنگ لمحوں کا شاعر)

ظا ہر ہے مسعود حسین کا یہ مضمون جب شائع ہوا تھااس وقت فیض کا کلام مکمل نہیں تھااس لیے بھی مسعود حسین اردو شاعری میں فیض کے مقام کے متعلق رائے دینے میںجلد بازی نہیں دکھاتے ،ان کے پاس فیض کی شاعری کا جو سرمایہ تھا اسی کی بنیاد پر انہوں نے فیض کو سمجھنے کی کوشش کی۔اگر یہی مضمون فیض کے انتقال کے بعد لکھا جاتا تو یقینا مسعود حسین خاں کا انداز جداہوتا اور وہ اردو شاعری میں فیض کا صحیح مقام بھی متعین کرپاتے ۔

پروفیسر مسعود حسین کا ایک مضمون ’’کلام ظفر کا لسانی مطالعہ ‘‘ہے جسے انہوں نے ایک سیمنار میں پڑھا تھا۔ انہوں نے اس مضمون کی ابتدا میں یہ وضاحت کردی ہے کہ ان کا سروکار بہادر شاہ ظفر کی شاعری کی لسانی خصوصیات سے ہے، ان کی زبان سے نہیں ۔پروفیسر مسعود حسین کے نزدیک زبان سے مراد قواعد ،فرہنگ ،محاورہ اور روزمرہ وغیرہ ہیں، جن کے بارے میں مسعود حسین لکھتے ہیں:

’’مجھے ظفر کی شاعری کی زبان میں (چند متروکات سے قطع نظر )ایسی کوئی خصوصیات نہیں ملی ،جس کے بنا پر میں اس زبان کو ان کے معاوین کی اردو سے مختلف گردان سکوں ‘‘۔

(کلام ظفر کا لسانی مطالعہ)

ظفر کی شاعری اور اسلوب کے بارے میں محمد حسین آزاد نے آب حیات میں لکھا ہے کہ ’’ہڈیاں ظفر کی اور گوشت پوست استاد ذوق کے ہوا کرتے تھے ،مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آزاد کی اس بات میں کتنی صداقت ہے کیونکہ بہر حال اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ استاد کا اسلوب نثر اورشاعری دونوں میں جھلک جاتا ہے ۔مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ شاعر اور ادیب کا اپنا کوئی الگ اسلوب ہے بھی یا نہیں ۔ذوق بادشاہ وقت بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے او ر ظفر اپنے کلام پر ذوق سے اصلاح بھی لیتے تھے ۔لہذا ذوق کے اسلوب کا پر تو اگر ظفر کے کلام پر ہے تو کوئی بری بات نہیں ۔ظفر کے اسلوب پر گفتگو کرتے ہوئے مسعود حسین رقمطراز ہیں :

’’……یہ مسلم ہے کہ ظفر کے کلام کے بیشتر (اور بہتر )حصے میں نہ شاہ نصیر کارنگ جھلکتا ہے اور نہ حضرت ذوق کا ۔پہلا دیوان ۱۸۰۹ء تک مرتب ہوچکا تھا گو اس کی طباعت کی نوبت ۱۸۴۵ء تک نہیں آئی ۔شاہ نصیر کی ۱۸۰۶ء سے قبل شاہ عالم کے دربارتک رسائی ہوچکی تھی ۔لیکن ِذوق اس وقت تک کسی شمار میں نہیں تھے ۔ ‘‘

(کلام ظفر کا لسانی مطالعہ)

پروفیسر مسعود حسین کے مطابق دیوان اول میں ایسی بہت سی غزلیں ہیں جن پر شاہ نصیر کا اثر دکھائی نہیں دیتا ۔مسعود حسین نے کچھ اشعار بطور نمونہ پیش بھی کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں :

’’ظفر کے دیوان اول میں کم ازکم ایک درجن غزلوں اور سینکڑوں اشعار کی نشان دہی کرسکتا ہوں جہاں ظفر کا بلا منت غیر ے اپنا رنگ ملتا ہے ،جو قلعہ معلی کے متروکات سے عاری اور اس عہد کی ادبی زبان کے غماز ہیں ‘‘۔

(کلام ظفر کا لسانی مطالعہ)

اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں کہ ظفر کا اپنا الگ اسلوب تھا ،محمد حسین آزاد نے آب حیات میں جو بات کہی دراصل وہ ایک بقول مسعود حسین ’’استاد پرست‘‘شاگرد کا بیان ہے ۔بہر حال ظفر کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

تو حسین جتنا ہے کا ہے کو پری اُتی ہے

حسن بھی کچھ ہے تو کب عشوہ گری اِتی ہے

اس شعر میں دو لفظ (جو اب متروک ہوچکے ہیں )اِتی اُتی ہے جسے قلعہ معلی کی زبان سے منسوب کیا جاتا رہا ہے مگر مسعود حسین ان الفاظ کو قلعہ معلی سے مخصوص نہیں کرتے ۔وہ لکھتے ہیں :

’’یہ اِتی ،اُتی والی متروکات کی زبان قلعے معلی سے مخصوص نہیں تھی ،دہلی (اور اس کے باہر بھی)عام بول چال کی زبان رہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ایک شاہ وقت اس کا بے دریغ استعمال کرسکتا تھا لیکن ایک غالب اور ایک ذوق بولتے ہوئے بھی (ذوق کا تعلق جس طبقے سے تھا اس کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے )اس کو زبان ِشعر کے طور پر استعمال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے ‘‘۔

(کلام ظفر کا لسانی مطالعہ)

کلام ظفر میں ایسی بہت سی متروکات مل جاتی ہیں جن کا استعمال ان کے علاوہ کسی دوسرے شاعر نے نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ خیال کیا جانے لگا کہ یہ خالصتاََ قلعہ کی زبان ہے مگر ایسا نہیں ہے غالب اور ذوق نے ان متروکات کو اس لیے استعمال نہیں کیا کہ ان کی گرفت کی جاسکتی تھی جب کہ بادشاہ وقت کے خلاف کچھ بولنے کی جرأت کوئی نہیں کرتا ۔پروفیسر مسعود حسین خاں کے مطابق ظفر نے قلعہ معلی کی بیگماتی زبان میں رائج متروکات کو بھی اپنے اشعار میں برتا ہے مثلا اوٹھا ہوا،دلہن بجائے دلھن وغیرہ مسعود حسین رقمطراز ہیں :

’’انہوں (بہادر شاہ ظفر ) نے قلعہ معلی کے مالک ومختار ہونے کی حیثیت سے اردو زبان میں وہ تمام بے تکلفی برتی ہے ، جس کا حوصلہ نہ غالب کو ہوسکتا تھا اور نہ ذوق کے بس کی بات تھی ۔غالب فارسی کا دامن تھامے ہوئے تھے اور ذوق جن کا تعلق دلی کے عوامی طبقے سے ضرور تھا ،مگرخاقانی ہند کا تاج بھی سر پر رکھے ہوئے تھے، اس لیے وہ خود کو عوامی روز مرے سے دور رکھتے تھے ، لیکن سلطنت مغلیہ کے آخری تاجدار کو کسی کے اعتراض کا ڈر نہیں تھا چاہے وہ ابا ،بابا کرے یا آہو، ہوہو ‘‘؟

(کلام ظفر کا لسانی مطالعہ)

مسعود حسین کا ایک مضمون ’’محمد قلی قطب شاہ کی زبان ‘‘ہے جس میں وہ سلطان محمد قلی قطب شاہ کی زبان کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قلی قطب شاہ کے عہد تک اردو کا معیار متعین ہوچکا تھا کیونکہ مندرجہ ذیل تصانیف تاریخ کا حصہ بن چکی تھی ۔

(۱)معراج العاشقین                               خواجہ بندہ نواز گیسودراز

(۲)مثنوی کدم راؤپدم راؤ(۱۴۶۰کے قریب)                    نظامی بیدری

(۳)توصیف نامہ(۱۵۶۴سے قبل)                 فیروز

(۴)نوسر ہار(۱۵۰۳)                      اشرف

(۵)خوش نامہ ،خوش نغزشوں ،شہادت الحقیقت (نثر)وغیرہ         شاہ میراں جی شمس العشاق

(۶)ارشادنامہ                            شاہ برہان الدین جانم

(۷)ابراہیم نامہ                                   عبدل

مسعود حسین خاں نے اس مضمون میں اردو کےارتقائی مراحل کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے قطب شاہ کی زبان پر اظہار خیال کیا ہے۔یہ بات پہلے بھی لکھی جاچکی ہے کہ مسعود حسین کے یہاں زبان سے مراد قواعد،فرہنگ،محاورے اورروزمرہ ہیں۔ لہذا اس مضمون میں قطب شاہ کی زبان، قواعد اور فرہنگ وغیرہ کا جائزہ پیش کیا گیاہے۔مسعود حسین قطب شاہ کی زبان کو معیاری بتاتے ہوئے لکھتےہیں :

’’محمد قلی قطب شاہ کی زبان معیاری کلاسیکی اردو ہے ،شہنشاہیت کے نظام میں قلعہ شاہی کی زبان ،زبان کا معیار متعین کرتی ہے۔ کلام الملوک کی اہمیت ہویا نہ ہو لیکن لسان الملوک کا تیغ اہل دربار عام تھا ۔قلی قطب کو بادشاہ وقت ہونے کی حیثیت سے اجتہاد اور ایجاد کا اجارہ بھی تھا ،شاید یہی وجہ ہے کہ قلی قطب کی زبان میں جس قدر تنوع ملتا ہے اس عہد کے کسی دوسرے شاعر کے یہاں نہیں ملتا ‘‘۔

(محمد قلی قطب شاہ کی زبان )

’’ظاہر ہے بادشاہ وقت اگر غلطی کرے بھی تو اس کی پکڑ اس کی سرزنش کرنے کی جرأت کون کرے گا اور پھر جب ہر طرح کے اظہار کی آزادی ہو تو زبان میں تنوع کا ہونا عام بات ہے ،اس لیے قلی قطب شاہ کے کلام میں بھی تنوع ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ یہ تنوع غزل اور ان کی نظموں میں یکساں نہیں ۔قطب شاہ کی نظموں کی زبان میں غزل کے مقابلے زیادہ تنوع ہے ۔ پروفیسر مسعود حسین نے اردو زبان کی پیدائش اور آغاز و ارتقاء کے حوالے سے متعدد مضامین لکھے ہیں جن سے ان کی تحقیقی بصیرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی مضمون’’ اردو کی ابتداسے متعلق چند مشاہدات‘‘ ہے۔اس مضمون میں مسعود حسین خان نے اردو زبان کی ابتدا سے متعلق مختلف نظریات کا سرسری طور پر جائزہ لیا ہے ۔امیر خسرو کی ان تحریروں کو بھی پیش کیا ہے جن کی روشنی میں وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اردو زبان کی ابتدا سے متعلق جو نظریات اب تک پیش کئے گئے ہیں کہ اس کی ابتدا پنجابی ،دکنی یابرج بھاشا سے ہوئی ،اس کی تاریخی حیثیت کچھ بھی نہیں ۔بلکہ مسعود حسین خاں ان نظریات کو قیاس پر مبنی بتاتے ہیں جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ہے ۔محمد حسین آزاد جن کا نظریہ ہے کہ’ اردو برج بھاشا سے نکلی ہے‘ کے بارے میں نہایت سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ در اصل محمد حسین آزاد ونوں بولیوں کے ڈھانچوں میں بنیادی اختلافات بالخصوص ’’آ‘‘او‘‘کی تقسیم سے ناواقف تھے ۔یہ مضمون گرچہ مختصر ہے مگر بے حدمعلوماتی اور تحقیقی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے ۔(یہ بھی پڑھیں گیان چند جین کی تحقیقی خدمات: ایک جائزہ- ڈاکٹر شاہنواز فیاض )

اردو کی ابتدا سے متعلق پروفیسر مسعود حسین کا ایک اور تنقیدی مضمون ’’ارود کی ابتدا سے متعلق پروفیسر محمودشیرانی کے لسانی نظریے پر تنقید ‘‘ہے۔ اردوزبان کی ابتدا سے متعلق جن دانشوروں نے اپنا نظریہ پیش کیا ان میں پروفیسر شیرانی کو ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔ اور ارود لسانیاتی تحقیق کاایک اہم کارنامہ جو حافظ محمود شیرانی نے انجام دیا وہ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’پنجاب میں اردو ‘‘ہے ۔ اپنی مذکورہ کتاب کے مقدمہ میں شیرانی نے اردو کی ابتدا وارتقاء پر بحث کرتے ہوئے پنجاب (لاہور) کو اردو کی جائے پیدائش بتایا ہے ۔پروفیسر مسعود حسین خاں نے اپنے مذکورہ مضمون میں شیرانی کے نظریے کو سمجھنے کے لیے اسے تاریخی اورلسانی حصوں میں تقسیم کیا ہے، جس سے بظاہر ہوسکے کہ محمودشیرانی کے نظریے کی تاریخی حقیقت کیا ہے اورلسانی اعتبارسےشیرانی کانظریہ کس حد تک قابل قبول ہے ۔

محمود شیرانی کے نظریے کی تاریخی اورلسانی پہلوؤں پر تنقیدی بحث کرتے ہوئے پروفیسر مسعود حسین خاں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ تاریخ میں ایسی کسی بھی ہجرت کا ذکر نہیں جس کو بنیاد بناکر شیرانی نے اردو کی ابتدا کا سہرا پنجاب کے سر باندھا ہے۔ ان کے مطابق شیرانی کا نظریہ محض قیاس آرائی پر مبنی ہے کیونکہ محمود شیرانی نے خود بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اپنے نظریے کی حمایت میں وہ مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں، اوردوسری بات یہ کہ تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ لسانی اور تہذیبی لہروں کا بہاؤ ہمیشہ دہلی سے پنجاب کی جانب رہا ہے ۔

پروفیسر مسعود حسین کا مضمون ’’اردو ادب اور قومی یکجہتی ‘‘کئی معنو ں میں اہم ہے ۔ہندوستان ایک کثیر المذاہب ، کثیر اللّسان ملک ہے ۔مختلف مذہب ،قوم اور زبان کے بولنے والے لوگ اس ملک میں رہتے ہیں۔ہندوستان میں بولی جانے والی مختلف زبانوں میں اردو بھی ہے ،جسے یہ شرف حاصل ہے کہ اس کی ابتدابھی ہندوستان میں ہوئی اور یہیں پلی بڑھی بھی ،مگر کچھ شرپسندوں نے اس شیریں زبان کو مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کردیا، جس سے اردو کوکافی نقصان پہنچا ۔پروفیسر مسعود حسین خاں کا مذکورہ مضمون اس لیے بھی اہم ہے کیوںکہ انہوں نے اس مضمون میں اردو زبان کو مشترکہ تہذیب اور قومی یکجہتی کا علمبردار بتایا۔انہوں نے اپنے مضمون میں ان تمام سوالات کے جواب دینے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو مسلمانوں کی موروثی زبان نہیں اور نہ ہی یہ ملک کو تقسیم کرنے والی زبان ہے بلکہ اردو نے ہمیشہ یکجہتی کو فروغ دیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

’’اردو نے کافی عرصے تک نہ صرف قومی یکجہتی کی ضروریات کو پورا کیا ہے بلکہ یہ کسی حد تک عالمی یکجہتی کہ تقاضوں کو پورا کرتی ہے ‘‘

(اردو ادب اور قومی یکجہتی )

مسعود حسین اردو زبان کو قومی یکجہتی کا ایک وسیلہ مانتے ہیں اور قلی قطب شاہ سے لے کر اقبال اور اکبر تک کے کلام میں قومی یکجہتی کے عناصر کی نشاندہی کی ہے ۔ان کے مطابق قطب شاہ کے دیوان میں ایسے بہت سے اشعار مل جاتے ہیں جن میں دکن کے رنگ ،بسنت اور شبِ برأت جیسے مذہبی رسوم کی جھلک نظر آجاتی ہے، ناسخ کی تحریک اصلاح زبان اور غالب کے منفرد اسالیب شعر میں ہندوستان نظر آتا ہے نظیراکبرآبادی کے یہاں بھی ہندو مسلم تہوار ،رسوم و عقائد کی جھلک نظر آجاتی ہے ۔حالی کی نظمیں بھی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اور قومی یکجہتی کی مثالو ں سے بھری ہیں ۔حالی کی نظم ’’حب وطن ‘‘کے بارے میں مسعود حسین نے لکھا ہے کہ اس کے ہر ہر مصرعے اس گہری محبت کا غماز ہے جو اردو کے شاعر کو اپنے وطن سے ہوتی ہے ۔

تیری ایک مشت ِخاک کے بدلے

لوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے

مذکورہ شعر سے بڑھ کر اپنے ملک کے لیے خراج عقیدت کی اور کیا بات ہوسکتی ہے ،وہیں علامہ اقبال نے ترانہ ہندی ، ہندوستانی بچوں کا قومی گیت ،ہمالیہ ،نانک اور نیا شوالہ جیسی نظمیں کہہ کر ہندو مسلم اتحاد کو اور مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے ۔ع خاک ِوطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے ’’جیسے مصرعوں کے خالق اقبال کو پروفیسر مسعود حسین خاں نے عظیم وطنی اور قومی شاعر قرار دیا ہے، ان کے علاوہ سرور جہاں آبادی ،چکبست ،اختر شیرانی ،حفیظ جالندھری کے کلام کے بارے میں بھی مسعود حسین کا خیال ہے کہ دراصل ان کے کلام کا بڑا حصہ قومی اور حب الوطنی کے جذبات سے بھرا ہوا ہے ۔پروفیسر مسعود حسین نے ان لوگوں کی گرفت کی ہے جنہوں نے اردو کو ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والی زبان بتایا ہے ۔مسعود حسین کے مطابق اردو پر انگلی اٹھانے والے بیشتر لوگوں نے تاریخ کا مطالعہ ہی نہیں کیا ۔اردو نے جدوجہد آزادی میں بہت اہم رول ادا کیا ہے اور یہ زبان ہماری مشترکہ کی تہذیب کی علامت ہے۔

پروفیسر مسعود حسین کا ایک مـضمون’’اردوزبان آزادی کےبعد‘‘ہے۔یہ ایک فکر انگریز مضمون ہے ۔تقسیم ہند سے قبل بھی اردو کے ساتھ تعصب برتا گیا اور قیام پاکستان کے بعد جو سلوک اردو کے ساتھ کیا گیا وہ ناقابل فراموش ہے ۔تقسیم ہند کے اردو پر جو اثرات مرتب ہوئے اس کا ذکر کرتے ہوئے مسعود حسین رقمطراز ہیں ۔

’’آزادی وتقسیم ہند کا سال نہ صرف سیاسی اعتبار سے سنگ ِمیل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اردو زبان پر اس کے جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ اس زبان کی پوری تاریخ میں منفرد ویکتا ہے ۔ہمیں معلوم ہے کہ آزادی سے قبل اردو کے سلسلے میں ایک کل ہند زبان کا تصور عام ہورہا تھا ‘‘۔

(اردو زبان آزادی کے بعد)

مسعود حسین کی مذکورہ بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اردو کے ساتھ جو زیادتی ہوتی رہی ہے اس کی وجہ سیاسی دباؤہے ۔تقسیم ہند کے بعد اردو پاکستان کی قومی زبان بنی اورچونکہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی لہذا ہندوستان میں غیر اردو داں طبقے نے اردو کو قومی درجہ نہیں دینے دیا،اور دوسری طرف کچھ لوگوں نے اردو کو مسلمانوں کی زبان سے مخصوص کردیا جس سے بھی اردو کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور اچانک وہ زندہ زبان جس نے تحریک آزادی میں اہم رول ادا کیا تھا و ہ زبان اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوتی چلی گئی۔ مسعود حسین نے اپنے اس مـضمون میں اردو کاتین پہلوؤں (صوتیاتی،صرفیاورنحوی)سےجائزہ لیاہے۔مسعود حسین خاں کے مطابق ان میں بھی تبدیلی آئی، پہلے ز،غ،ق،خ وغیرہ جسے حروف کے صحت تلفظ کا اتنا خیال رکھا جاتا تھا کہ ہندی مطبوعات میں ایسےحروف کےنیچے نقطہ لگادیا جاتا تھا تاکہ الفاظ کا صحیح تلفظ برقرار رہے۔ مگر آزادی کے بعد یہ التزام ختم ہوگیا ۔مسعود حسین لکھتے ہیں :

’’ہندی بولنے والی نئی نسل اب اختلافات تلفظ کی مطلق پروا ہ نہیں کرتی ہے چونکہ ہندی کے علاقوں میں اردو سماج سے تعلق رکھنے والی نئی نسل اب ہندی میں رچ بس گئی ہے اس لیے ان آوازوں کے صحیح تلفظ کی جانب ان کی لاپرواہی بڑھتی جارہی ہے ‘‘

(اردو زبان آزادی کے بعد)

گویا ہندی کا بڑھتا ہوا اثر اور اردو کے ساتھ تعصب پسندی نے آزادی کے بعد اردو زبان کو پھلنے پھولنے نہیں دیا ۔

پروفیسر مسعود حسین کا ایک تنقیدی مضمون بعنوان ’ڈاکٹر یوسف حسین خاں: بحیثیت ناقدین غالب‘‘ ہے جس میں انہوں نے مؤرخ ڈاکٹر یوسف حسین خاں کی غالب پر کی گئی تنقید کاجائزہ لیاہے۔ یوسف حسین کامطالعہ بہت وسیع تھا۔انہوں نے بالخصوص اردو کے دوعظیم شاعر غالب اور اقبال کے کلام کاعرق ریزی سے مطالعہ کیا ۔بقول مسعود حسین جامعہ میں دوران طالب علمی ڈاکٹر یوسف کے ہاتھوں میں اکثردیوان غالب ہوا کرتا تھا ۔یوسف حسین کا اقبال اور غالب سے دلچسپی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی دو اہم کتاب ’’روح اقبال (۱۹۴۲)اور’’ اردو غزل ‘‘(۱۹۴۴)منظر عام پر آئیں،’’روح اقبال‘‘میں جہاں اقبال کے شعری محاسن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، تو وہیں’’ اردو غزل‘‘ میں شعرائے اردو کی زندگی اور ان کے کلام کو پیش کیا گیا ہے ۔یوسف حسین خاں کی کتاب ’اردو غزل ‘میں سب سے زیادہ صفحات میر اور غالب کے احوال اور انتخاب سے متعلق ہیں۔ یوسف حسین کی ایک کتاب ’’غالب اور آہنگ غالب ‘‘ بھی ہے۔’’ غالب اور آہنگ غالب ‘‘کے حوالے سے یوسف حسین کی تنقید کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مسعود حسین لکھتے ہیں :

’’تنقید شعر کے اس ادبی نظریے سے صلح ہوکر ڈاکٹر یوسف نے ’غالب اور آہنگ غالب ‘ کے نام جو تصنیف کی ہے وہ غالبیات کے وسیع سرمائے میں بالکل انوکھے انداز کا اضافہ ہے ۔وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ادب کی ہر صنف سماجی تنقید کے مضبوط گرفت میں نہیں لائی جاسکتی ۔اس لیے غزل جیسی داخلی اور ایمائی صنف ناقد سے تجزیے سے زیادہ نظر اور بصیرت کی متقاضی ہوتی ہے ‘‘۔   (ڈاکٹر یوسف حسین خاں :بحیثیت ناقد غالب)

ڈاکٹر یوسف حسین ایک مورخ تھے، لہذا انہوں نے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں غالب کی زندگی اور حالات پر گفتگو کرتے ہوئے ان تاریخی شواہد کو مد نظر رکھا جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے ساتھ ہی جو باتیں غالب نے اپنے بارے میں بتائی ہیں ان کو بھی یوسف حسین خاں نے تاریخی نقطہ نظر سے پرکھنے کی کوشش یوسف حسین نے کی ہے۔ اس طرح ’غالب اور آہنگ غالب‘غالب فہمی میں ہماری بہت مدد کرتی ہیں ۔

’’کاروان زندگی ‘‘سکندر علی وجد کی ایک نظم کی باز آفرینی ہے۔ ’یہ ایک طویل نظم ہے۔ سکندر علی وجد کی شاعرانہ صلاحیت اور ان کے کلام کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے مسعود حسین لکھتے ہیں ۔

’’سکندر علی وجد بنیادی طور پر ایک نازک خیال ،شیریں مقال اور قلب ونظریے کے شاعر تھے ان کے کمال فن میں اجنتا کا ساحسن تناسب اور شان زیبائی ملتی ہے ۔وہ ایک کلاسیکی فرہنگ شعر کے مالک ہیں ‘‘۔

(کاروان ندگی :سکندر علی وجدکی ایک نظم کی بازآفرینی)

کاروان زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے سکندر علی کی زندگی کا مختصر حال بھی پروفیسر مسعود حسین نے پیش کیا ہے اور ان کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ سکندر علی وجد کی عام شہرت ان کی نظم ’اجنتا اور ایلورہ‘کی وجہ سے ہے ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وجد کی طویل نظموں پر ناقدین نے بہت انصاف نہیں کیا۔ نظم کاروان زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر مسعود حسین لکھتے ہیں :

’’وجد بنیادی طور پر بیانیہ شاعر نہیں تغزل کے فنکار ہیں اور ان کا فن لفظوں کی مینا کاری سے آگے نہیں بڑھ سکا لیکن پہلی بار وہ کاروان زندگی میں مصور ومفکر کی جلی ضربوں سے داستان کی ارتقا کو مرتب کرتے ہیں وہ شعریت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اس لیے کہ تخلیقی شعر میں سپاٹ ہونے سے بہت جھجکتے ہیں ۔اس نظم میں فکری وتاریخی نقطہ نظر سے بہت سے کھانچے ہیں ‘‘

(کاروان زندگی :سکندر علی وجہ کی ایک نظم کی باز آفرینی)

بہر کیف ،یہ مسعود حسین کے وہ مضامین ہیں جو ان کے مضامین  کے مجموعے میں شامل نہیں کئے گئے ہیں،ان مضامین کے علاوہ چند مضامین اور مقدمات و تعارف بھی ہیں جو انہوں نے دوسروں کی فرمائش پر لکھی،مگر کسی وجہ سے انہیں اپنے مجموعات مضامین میں شامل نہیں کیا۔مگر ان میں سے بیشتر تحریروں سے نہ صرف اردو زبان کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ مسعود حسین کی تحقیقی اور تنقیدی نظریات کو بھی بہتر ڈھنگ سے سمجھا جاسکتا ہے۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثاردو زبان کا ارتقامسعود حسین
3 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
لِسانی اور فنی ہُنر مندی کاباکمال نمونہ:فیاض رفعت کا ناول ’’بنارس والی گلی‘‘-پروفیسر شہزاد انجم
اگلی پوسٹ
’’مٹی آدم کھاتی ہے ‘‘بیانیہ  میں ایک نیا تجربہ- شہناز رحمٰن

یہ بھی پڑھیں

تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

3 comments

قاضی عبدالودود اور غالب تحقیق - ڈاکٹر محضر رضا - Adbi Miras ستمبر 22, 2020 - 6:44 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
اللہ رکھا حسنی فروری 10, 2022 - 10:58 صبح

صاحب مضمون کا نمبر مل سکتا ہے

Reply
adbimiras فروری 10, 2022 - 11:08 صبح

naushad.manzar@gmail.com

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں