اردو کے ممتاز محقق، معتدل نقاد،ماہر علم عروض و لسانیات ڈاکٹر گیان چند جین ۱۹؍ ستمبر ۱۹۲۳کو سیوہارہ، ضلع بجنور کے ایک جین گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اردو ادب کے جس میدان میں بھی قدم رکھا،وہاں اپنی ایک الگ شناخت بنائی ، اور یہی نہیں بلکہ اس صنف کو اس معراج پر پہنچانے کی کوشش کی جس کی وہ مستحق تھی۔
گیان چند جین کا جو تعلیمی سفر جولائی ۱۹۲۹ کو شروع ہوا تو وہ اپنی آخری زندگی تک اس مشغلے سے اپنے آپ کو کبھی الگ نہیں کرسکے۔ابتدائی تعلیم گورنمنٹ لور (lower)پرائمری اسکول میں ہوئی۔ مئی ۱۹۳۳میں چوتھی جماعت پاس کی ۔ پھر اس کے بعد قریب آٹھ مہینے ایک پرائیویٹ اسکول میں انگریزی کا درس لیا ۔اس کے بعد مسلم قدرت اسکول سیوہارہ میں ۱۹۳۴ میں پانچویں کلاس میں داخل ہوئے اور یہاں سے ۱۹۳۷ میں انہوں نے درجہ آٹھ پا س کیا۔ ۱۹۳۷ ہی میں پارکر ہائی اسکول مرادآباد میں نویں کلاس میں داخل ہوئے اور ۱۹۳۹میں وہیں سے انہوں نے ہائی اسکول اردو اور ریاضی میں امیتاز کے ساتھ فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔پھر انٹر میڈیٹ کے لیے انٹر کالج مرادآباد میں داخل ہوئے ۔ جہاں گیان چند جین نے ۱۹۴۱ کوسیکنڈ ڈویژن میں انٹر میڈیٹ پاس کیا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے گیان چند جین نے الہٰ آباد یونیورسٹی کی طرف رخ کیا ۔جہاں وہ ۱۹۴۱میں بی۔اے میں داخل ہوئے ۔۱۹۴۳میں سیکنڈ ڈویژن میں بی۔اے پاس کیا۔اور وہیں سے گیان چند جین نے۱۹۴۵میں ایم۔اے اردو فرسٹ ڈویژن کے ساتھ پاس کیا۔ایم ۔اے کے بعد انہوں نے وہیں(الہ آباد) میں داخلہ لیا اور اپنا ڈی۔فل (جواس زمانے میں پی ایچ۔ڈی کی ڈگری کے مساوی ڈگری تھی)کا مقالہ پروفیسر ضامن علی کی نگرانی میںپورا کیا ۔ان کا موضوع مقالہ براے ڈی۔فل ’’شمالی ہندمیں اردو کے نثری قصے ابتدا سے ۱۸۷۰ تک ‘‘ طے پایا۔ اس وقت ڈی ۔فل ‘کا مقالہ کم سے کم بیس ماہ کی مدت میں داخل کرنے کی اجازت تھی ۔ گیان چند جین نے اپنا یہ مقالہ تیئس ماہ سے بھی کم مدت میںداخل کیا ۔ اس سے پہلے اردو میں پی ایچ۔ڈی ‘چند اشخاص ہی نے کیا تھا ۔ یونیورسٹی کی تعلیم ختم ہوجانے کے بعد انہوں نے تین سال تک روزگار کی تلاش میں صرف کردیا۔ بالآخر ۱۹۵۰ میں پانیئر(Pioneer) لکھنؤ میں بغیر تنخواہ کے سب ایڈیٹر ہوگئے۔ لیکن گیان چند جین کی زندگی ان کو اس مقام پر لے گئی جس کے لیے ہی ان کا ذہن سب سے مناسب تھا ۔ یعنی ۱۹۵۰ میں حمیدیہ ڈگری کالج بھوپال میں اردو کی لکچرشپ مل گئی اور یہیں سے ان کی معلمی کا دور شروع ہواجو آخری عمر تک جاری رہا ۔گیان چند جین ۱۹۵۲ میں حمیدیہ ڈگری کالج کے صدر شعبہ ہوئے۔اور وہ وہاں ۱۹۶۵ تک اس عہدے پر فائز رہے ۔ اسی بیچ یعنی ۱۹۵۳ میں ان کی شادی ہوئی۔ ’’اردو مثنوی شمالی ہند میں ‘‘ کے موضوع پر ۱۹۶۰ میں آگرہ یونیورسٹی نے انہیں ڈی۔لٹ کی ڈگری تفویض کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایم۔اے سوشالوجی آگرہ یونیورسٹی سے سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا ۔ اگست ۱۹۶۵میں جموں یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر تقرر ہوا ۔جہا ں وہ ۱۹۷۶ کے نصف تک رہے ۔ پھر اکتوبر ۱۹۷۶ میں الہٰ آباد یونیورسٹی میں پروفیسری کا چارج لیا ۔لیکن وہ یہاں بہت دنوں تک نہیں رہ سکے۔ اس کے بعد ۱۹۷۹کو حیدرآباد یونیورسٹی میںبحیثیت پروفیسر ان کا تقرر ہوااور ۱۹۸۷ تک اسی یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعدانہیں مزید دو سال، دو ماہ کے لیے ملازم رکھ لیا گیا ۔اپریل ۱۹۸۹کو گرمیوں کی چھٹیوں سے عین قبل سبکدوش ہوئے ۔
گیان چند جین نے اپنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا ۔ پہلی غزل انہوں نے ۱۹۳۷کے آخر میں کہی اوران کاپہلا نثری مضمون جو ’’فانی بدایونی کی شاعری ‘‘ پر رقم کیاتھا ، پارکر اسکول کی میگزین میں ۳۹۔۱۹۳۸ میں شائع ہوا ۔یہاں سے گیان چند جین کے لکھنے پڑھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آخر عمر تک جاری رہاجس کا بین ثبوت ان کی کتابیں اور وہ مضامین ہیں جو مختلف رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔
گیان چند جین کے دادا فارسی کے شاعر تھے اورخود ان کے بڑے بھائی پرکاش مونس اردو کے مشہور ادیب رہے ۔ جس کا بین ثبوت ان کی کتاب ’’اردو ادب پر ہندی ادب کا اثر‘‘ ہےــ۔
جسےاہل ادب نےکافی سراہا۔گیان چند جین بھی اسی لڑی کے ایک کڑی ہیں اور انہوں نے تحقیق میں اپنامقام بلند کیا۔ ان کی تصنیف’’تحقیق کافن‘‘سےہی ان کی تحقیقی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ اردو میں تحقیق اور اس کے اصول و مسائل پر بہت کم لکھا گیا ہے ۔اس اعتبار سے گیان چند جین کی مایہ ناز تصنیف ’’تحقیق کا فن ‘‘ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔انہوں نے اس کتاب کو مختلف عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے ۔ا س میں انہوں نے تحقیق کے موضوع، خاکہ ، مواد کی فراہمی، زبان و بیان ، مواد کی پرکھ ، حزم و احتیاط اور مقالے کی تسوید جیسے اہم موضوع پر تفصیل سے بحث کی ہے ۔مواد کی فراہمی کے متعلق انہوں نے لکھا ہے :
’’کتابیں ہوں کہ مخطوطات ، اردو میں تو انہیں تلاش کر کے فراہم کرنا ہی سب سے بڑی ریسرچ ہے۔ علم کے ہر پیاسے کو کنواں کھودنا ہوتا ہے یا پرانے کنوؤں میں بانس ڈالنے ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے بڑی بڑی لائبریریوں ہی میں جا کر تلاش کیں جاسکتی ہیں ۔ لیکن بعض اوقات چھوٹی لائبریریاں بھی کچھ پرانی کتابیں اور مخطوطات اپنے دامن میں چھپائے ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دلّی ، لکھنؤ، حیدرآباد اور بمبیٔ میں پرانی کتابوں کے تاجروں کے زخیرے میں تلاش کیجئے۔ ہوسکتا ہے ان کے پاس آپ کی موجودہ ضرورت کی کتاب نہ ملے لیکن کوئی دوسری نادر کتاب مل جائے گی ‘‘۔ (۱)
(تحقیق کا فن ، گیان چند جین ، اترپردیش اردو اکادمی،۱۹۹۰،ص۔۵۷۔۱۵۶)
’’تحقیق کا فن‘‘ محقق کی رہنمائی کرنے کے لیے ایک مفید کتا ب ہے ۔کیونکہ گیان چند جین نے اس میں تحقیق سے متعلق تمام اہم موضوعات کا احاطہ کیا ہے اور یہی نہیں بلکہ مثالوں کے ذریعہ اس کی وضاحت بھی کی ہے۔
اس طرح سے گیان چند جین اپنے تحقیقی میدان کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے گئے اور انہوں نے اپنی مشہور تصنیف ’’اردو مثنوی شمالی ہند میں ‘‘ میں تحقیقی مواد بڑی محنت ، علمی ذوق اور متجسس بصیرت کے ساتھ جمع کیا ہے ۔اس کا اندازہ مذکور بالا کتاب کے باب سے بھی ہوتا ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے کل گیارہ باب قائم کیے ہیں ۔انہوں نے اپنی تحقیق سے میر کی تین اور مثنویاں دستیاب کی ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں ۔اس کے متعلق گیان چند جین اس طرح رقم طراز ہیں :
’’راقم الحروف کو میر کی تین اور غیر مطبوعہ مثنویاں دستیاب ہوئیں ۔ جنہیں ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اپنے مرتبہ کلیات میر میں شامل کر لیا ہے ‘‘۔ (۱)
(اردومثنوی شمالی ہند میں ، ڈاکٹر گیان چند جین ، انجمن ترقی اردو ہند ، علی گڑھ، ۱۹۶۹ء، ص۔۲۰۰)
گیان چند جین کی تحقیقی خدمات کو چند صفحات میں سمیٹنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔لیکن ان کی تحقیقی خدمات پر بحیثیت مجموعی غور کیا جائے تو انہوں نے ایسے ایسے گوہر تلاش کئے ہیں جو ان کے علاوہ شاید ہی کسی دوسرے سے ممکن ہوتا۔انہوں نے غالب کا ایک شعرجو نسخۂ عرشی اورنسخۂ مالک را م د ونوں میں اس طرح لکھا ہے۔
ـــگداسمجھ کےوہ چپ تھاـ‘مری جوشامت آئی
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے
اس شعر کو اس طرح مسخ کیا گیا ہے:
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری خوشامد سے
اس کے متعلق گیان چند جین نے لکھا ہے:
’’نسخۂ عرشی اور نسخۂ مالک رام دونوں میں پہلا متن چھپا ہے اور دونوں میں ’’ مری خوشامد سے ‘‘ کوسہو کاتب ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ یہ متن نہ صرف غالب کے تصحیح شدہ نظامی ایڈیشن میں ہے بلکہ ۱۸۶۶کے قلمی انتخاب میں بھی ہے جو غالب کے قلم کاصحیح کردہ ہے ایسی ترمیم کاتب کا سہو نہیں ہوسکتا مصنف کی شعوری اصلاح ہی ہے ۔ اس سے معنی کے حسن میں کمی ہو کر کسی حد تک تعقید پیداہوگئی ہے ‘‘۔ (۱)
(رموز غالب ، گیان چند جین ، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ دہلی ، ۱۹۷۶، ص۔۷۰)
اسی طرح کے بے شمار ایسے کارنامے ہیں جنہیں گیان چند جین نے انجام دیے ۔ اگر ان کی کتابوں پر ایک نظر ڈال لی جائے تو ان کی تحقیقی بصیرت اور ان کا شعور بہت حد تک کھل کر سامنے آجائے گا ۔جیسے‘تحریریں‘تفسیرِغالب‘تجزئے‘حقائق ‘وغیرہ و غیرہ۔
اقبالیات کے موضوع پر بھی گیان چند جین کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کا ابتدائی کلام جو ۱۹۰۸ تک کاتھا اس کی تحقیق و تدوین کی ہے اور اس کو انہوں نے ’’ابتدائی کلامِ اقبال بہ ترتیب مہ و سال‘‘ کے نام سے ۱۹۸۸میں حیدرآبادسے شائع کرایا۔یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقبال کی شاعر ی کی ابتدا غزل گوئی سے ہوئی ہے اور ایک عرصہ تک وہ اپنے استاد داغ کے رنگ میں اشعار کہتے رہے ۔ لیکن بیسویں صدی کے شروع ہی میں وہ اس رنگ سے آہستہ آہستہ ہٹنے لگے تھے اور اپنا نیا رنگ بنانے لگے تھے۔ داغ کے رنگ کی غزلیں علامہ اقبال نے بہت حد تک متروک کردی تھیں ۔ اسی وجہ سے بانگ درا میں اس رنگ (داغ کے رنگ)کی صرف ایک غزل ملتی ہے۔ایک شعر ملاحظہ ہو:
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی، سرکار کیا تھی؟
ایک طرف جہاں علامہ اقبال ، داغ کا رنگ چھوڑ کر اپنا نیا راستہ بنا رہے تھے۔ ایسے میںاس بات کا تعین کرنا بڑا مشکل امر تھاکہ آیا یہ غزل پہلے رنگ کی ہے یا نئے رنگ کی؟جب کہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کی غزلیں بھی بعد کے رسالے میں شائع ہوسکتی ہیں ۔علامہ اقبال کی ایسی ہی ایک غزل جو پہلے(داغ کے رنگ) کی تھی رسالہ ’’نشتر ‘‘ دسمبر ۱۹۰۶ میں شائع ہوئی تھی ۔اس کے متعلق گیان چند جین لکھتے ہیں :
’’حیرت پر حیرت ہے کہ رسالہ ’’نشتر‘‘ دسمبر۱۹۰۶ میں شائع ہونے والی ان کی ایک غزل میں اس قسم کے اشعار ہیں :
کیوں وصل کے سوال پہ چپ لگ گئی تمہیں
دو چار گالیاں ہی سنا دو جواب میں
آئینہ رکھ کے سامنے زلفیں سنوار تو
تیری بلا سے، کوئی رہے پیچ و تاب میں
یہ داغ کے رنگ کے مضامین ہیں ۔ ۱۹۰۶ تک اقبال کا فن پوری طرح بالیدہ ہوچکاتھا ۔ یہ غزل اس زمانے کی نہیں ہوسکتی ۔ کوئی پرانی غزل چھپوا دی ہوگی‘‘۔(۱)
(ابتدائی کلام اقبال بہ ترتیب مہ وسال، گیان چند جین، اردو ریسرچ سینٹر حیدرآباد، ۱۹۸۸، ص۔۳۳ )
گیان چند جین بڑے وثوق سے اس لیے کہہ رہے ہیں کیوں کہ علامہ اقبال نے داغ کے رنگ کی جتنی بھی غزلیں کہی تھیں بعد میں انہیں یکسر منسوخ کردیں ۔
گیان چند جین ایک ایسا نام ہے جو تحقیق کے میدان ہی تک محدود نہیں ۔بلکہ وہ ماہر لسانیات کے صف میں بھی قابل اعتبار مقام رکھتے ہیں ۔ انہوں نے جہاں ادبی و تحقیقی دنیا میں خاصی مقبولیت و شہرت حاصل کی ہے وہیں صفِ ماہر لسانیات کی حیثیت سے ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ لسانیات کے موضوع پرمحترم پروفیسر کی دو کتابیں (۱)لسانی مطالعے اور’’ عام لسانیات‘‘ ہیں ۔ لیکن ان کی اس حصے کی شہرہ آفاق کتاب ’’لسانی مطالعے ‘‘ ہے۔ اس کتاب میں ان کے ان مضامین کو یکجا کیا گیا ہے جو خالص لسانیات کے موضوع پر ہیں اور سب کے سب اپنے آپ میں نادر ہیں ۔ راقم الحروف کی رائے میں عبدالقادر سروری کی مشہور کتاب ’’زبان اور علم زبان‘‘ کے بعد اگر کوئی کتاب لسانیات کے زیادہ تر حصے کو محیط ہے تو بے شک وہ گیان چند جین کی کتاب ’’لسانی مطالعے ‘‘ ہے۔
گیان چند جین کو لسانیات سے خاصی دلچسپی تھی اور ان کے لسانیات سے متعلق مضامین ‘ہندو پاک کے متعدد جرائد و رسائل میں برابر شائع ہوتے رہے ۔ گیان چند جین کی لسانی خدمات کو اردو دنیا کبھی بھی نظر انداز نہیں کرسکے گی ۔
گیان چند جین بعض مصوتوں (vowels) کے ضمن میں ایسی ایسی نادر باتیں پیش کی ہیں کہ قارئین کی معلومات میںقیمتی اضافہ ہوتاہے ۔مثلاً ا ے اور او کے بارے میں یہ اختلاف ہے کہ یہ دونوں جڑواں مصوتے ہیں یا واحد مصوتے۔لیکن ان دونوں موصوتوں کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے :
’’جڑواں مصوتے کا تلفظ کرتے وقت اعضائے نطق ایک مصوتے سے ابتدا کرتے ہیں اور پھسل کر دوسرے مصوتے پر پہنچ جاتے ہیں اس طرح دونوں آوازیں ایک ہی کوشش اور ایک ہی جھٹکے میں ادا کی جاتی ہیں ۔ جڑواں مصوتے کا تلفظ اگر دیر تک جاری رکھا جائے تو پہلے مصوتے کی آواز ابتداہی میں ختم ہوجائے گی اور آخری مصوتے جاری رہے گا مثلاً آئی یا اُئی کو اگر دیر تک جاری رکھیں تو محض اس کی آواز سنائی پڑے گی یعنی جڑواں مصوتے سالم حیثیت میں دیر تک ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ اے اور او کو ہم کتنی ہی دیر تک کھینچ کر بول سکتے ہیں اورہر موقع پر ان کا پورا تلفظ سنائی دے گا ۔ اس طرح یہ طے ہوجاتاہے کہ اَے اوراَوْ واحد مصوتیں ہیں‘‘۔(۱)
(لسانی مطالعے، گیان چند جین ، ترقی اردو بورڈ ہند، ۱۹۷۳۔ص۔ ۵۵)
درج بالا اقتباس سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ گیان چند جین کو لسانیات پر اتنا عبور حاصل تھا کہ وہ اس طرح کے باریک اور مختلف فیہ مسئلے پر بھی اپنی باتیں بڑے مدلل انداز میں کہہ جاتے تھے ۔یہ ان کی تحقیقی کاوش کا ہی نتیجہ ہے کہ جو حصہ علمائے لسانیات میں اب بھی باعث ِاختلاف ہے اس حصے کی گتھی کو بھی انہوں نے سلجھانے کی بھر پور سعی کی ہے ۔
اردو کلاسیکی تحقیق کی اس روایت کو جو حافظ محمود شیرانی ، امیتاز علی خاں عرشی ، قاضی عبدالودود، مالک رام اور رشید حسن خاں سے وابستہ تھی گیان چند جین نے اسے آگے بڑھایا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو صرف تحقیق ہی تک محدود نہیں رکھا بلکہ لسانیات جیسے اہم ترین موضوع پر بھی خامہ فرسائی کی۔اردو کی نثری داستانیں ، غالب شناسی ، پرکھ اور پہچان ،اردو مثنوی شمالی ہند میں ، شخصیات و مشاہدات جیسی اہم کتابیں لکھیں ۔ ان کے علاوہ گیان چند جین نے ایک اہم اور تاریخی نوعیت کا کام بھی انجام دیا ہے ۔ انہوں نے سیدہ جعفر کے ساتھ مل کر ’’ اردو ادب کی تاریخ ابتدا تا ۱۷۰۰ء تک‘‘ لکھی ۔ گیان چند جین نے ’’ایک بھاشا ، دو ادب دولکھاوٹ‘‘ جیسی ایک متنازع کتاب بھی لکھی۔ اردو کے ادبی حلقوں میں اس کتاب نے ہلچل مچا دی اور اس کی مخالفت میں کئی مضامین منظرِ عام پرآئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں گیان چند جین کی علمی ـ، ادبی اورتحقیقی سرمائےپرنگاہ رکھنی چاہیےتاکہ ادب میں ان کاصحیح مقام کاتعین کیاجاسکے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

