پروفیسر گوپی چند نارنگ کی یہ کتاب جولائی ۲۰۰۲ء میں شائع ہوئی جس کی ضخامت ۴۶۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پانچ برسوں کے بعد اب اس کتاب کے حوالے سے گفتگو کرنے کا جواز کیا ہے؟ میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ ایمانداری سے بتائیں کہ ان پانچ برسوں میں کتنے لوگوں نے یہ کتاب پڑھی ہے؟ مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ایسی مبسوط اور معروضی کتاب کا شائع ہونا اپنے زمانے کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ ایمانداری سے غور کیجیے کہ اس واقعے پر کتنی گفتگو ہوئی؟ لیکن یہ کوئی ناول یا شعری مجموعہ نہیں کہ اس پر بہت جلد کوئی تبصرہ کردے۔ ٹھہرٹھہر کے پڑھنا پڑے گا۔ ذہن کی یکسوئی کے بعد ہی گفتگو ہوسکتی ہے۔
پروفیسر نارنگ کی شخصیت میں جو تہذیب و ترتیب ملتی ہے، اس کا عکس ان کی کسی بھی تصنیف میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر جب کتاب ہی تہذیب کے عوامل اور عواقب کو ملحوظ رکھ کر تصنیف کی گئی ہو تو اس میں ان کے ارتباط ذہنی اور تہذیب فکری کا کیا پوچھنا۔ پروفیسر نارنگ کے احساس اور سائیکی میں تہذیب کے نقوش مرتسم ہیں۔ تہذیبی رویّوں اور اس کی مختلف جہتوں پر گفتگو کرنا سب کے بس کا نہیں۔ لیکن ہم بہت سے کام کرتے ہیں جو ہمارے بس کے ہوتے نہیں۔ اس کتاب پر گفتگو کرنے کا اہل میں خود بھی اپنے آپ کو نہیں سمجھتا لیکن دوسرے اردو والوں کی طرح میں بھی اس میدان میں لام قاف کرنے کے لیے آگیا ہوں۔
باب اول ہندستانی تہذیب کے ارتقا کو محیط ہے جس کا پہلا ذیلی عنوان ہے ’’ہندستانی ذہن و مزاج‘‘۔ چوں کہ پوری کتاب غزل کے حوالے سے ہندستانی ذہن اور تہذیب کی جستجو کرتی ہے، اس لیے نارنگ صاحب نے پہلے مزاج کو واضح طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے:
’’مزاج سے مراد کسی فرد کے وہ طبعی رجحانات اور ذہنی تصورات ہیں جو اس کے خیال و افعال کے محرک بنتے ہیں۔ اسی طرح مزاج عامہ سے مراد کسی جماعت کے افراد کی وہ مشترک ذہنی فضا ہے جو ان کے عام احساس اور مزاج کو ایک رنگ میں رنگ دیتی ہے، خواہ ان افراد میں اصول اور عقائد کا کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔‘‘ (ص:۲۷)
ہندستان کی رنگارنگی اور بوقلمونی ہی اس کی پہچان قائم کرتی ہے۔ تمام تر تنوع اور اختلافات کے باوجود افکار و اعمال کے کچھ امور و نکات میں قدر مشترک کے نقوش بھی ہیں۔ دراصل یہی نقوش ہندستانی ذہن کی تشکیل کرتے ہیں جس کو ہم معاشرے کے ساتھ ساتھ ادب پارے میں بھی محسوس کرتے ہیں۔ نارنگ صاحب نے ہندستانی ذہن میں شامل بہت سے اہم فکری دھاروں کو اس کتاب میں کھنگالا ہے۔ پہلے باب میں ہی انھوں نے قدیم ہندستانی تہذیب کے ذیل میں پانچ ادوار کا ذکر تفصیل سے کیا ہے اور اس طرح کیا ہے کہ سب کچھ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ قبل ویدی عہد میں ہڑپا اور مہنجودڑو کے آثار قدیمہ کے حوالے سے روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ انکشاف کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس زمانے میں دیوی (عورت) یا شکتی کی پرستش کا رواج تھا اور زبان وہ بولی جاتی تھی جس سے موجودہ دراوڑی زبانیں نکلی ہیں۔ (ص:۳۶)۔ ویدی تہذیب آریایوں کی تہذیب ہے جس کی بنیاد رگ وید پر ہے۔ آریایوں نے بڑی محنت و مشقت کے بعد اپنی مذہبی کتاب مرتب کی۔ وادیٔ سندھ کے ناپید ہونے کے بعد ہی اس ویدی تہذیب کا رواج ہوا۔ شروع میں جیسا کہ نارنگ صاحب نے لکھا ہے کہ شروع شروع میں آریہ مذہب والے نہ مندر بناتے تھے نہ موریتوں کی پوجا کرتے تھے… جیسے جیسے مذہب کا اثر اجتماعی زندگی پر زیادہ گہرا ہوتا گیا مذہبی پیشواؤں کی اہمیت بھی بڑھتی گئی… آریوں کا سیدھا سادا مذہب گہری ریاضت اور پُرتکلف رسومات کا گورکھ دھندا بن گیا۔ (ص: ۳۸)۔ اس طرح مذہب اور انسانی زندگی کے شب و روز میں جو توازن تھا وہ بگڑنے لگا۔ اس افراط و تفریط کو توازن دینے کے لیے ہی بقول نارنگ اپنشد سامنے آئی۔ وجود حقیقی پر اس کی نظر مرکوز رہی۔ جن قدیم ترین اپنشدوں کی شرح شنکر آچاریہ نے پیش کی تھی ان کی تعداد دس ہے۔ شنکر آچاریہ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کائنات کوئی واقعی وجود نہیں رکھتی بلکہ محض طلسم خیال ہے لیکن نارنگ صاحب نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اس نظریے سے اختلاف کیا ہے جس کا تفصیلی ذکر سیدعابد حسین کی کتاب ’’ہندستانی قومیت اور قومی تہذیب‘‘ میں ملتا ہے۔ اپنشدوں پر بڑی بحثیں ملتی ہیں۔ برہما اور آتما کا ذکر کرتے ہوئے اس کے تصورات و تصادمات کو زیر بحث لاکر ان کے تنزلات کے درجات کو پیش کیا ہے۔ عرفان وحدت اور کائنات سے دوری ہی دراصل اپنشد کا بنیادی نظریہ ہے۔ مذہبی عقائد کی تشریح و تعبیر کے اختلاف کی بنیاد پر کشمکش بھی پیدا ہوتی ہے۔ ایک عقیدے کے رہتے ہوئے دوسرے عقیدے کا سامنے آنا اسی کشمکش اور اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔ نارنگ صاحب نے بجا طور پر لکھا ہے کہ:
’’برہمن دینی زندگی کے علاوہ ذہنی زندگی کے بھی مالک بن چکے تھے اور ان کے احساس برتری نے جو اقتدار کا لازمہ ہے، معاشرتی زندگی میں عدم مساوات اور نابرابریوں کی انتہا کردی۔ ان حالات کے ردِّعمل کے طور پر ہندستانی روح کی گہرائیوں سے جین مت اور بدھ مت کی تحریکیں اٹھیں۔‘‘
(ص:۴۲)
یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب کوئی نظریہ یا عقیدہ کمزور یا افراط و تفریط کا شکار ہوجاتا ہے تو اس کی جگہ کوئی دوسرا عقیدہ یا نظریہ معرض وجود میں آجاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ عمل فطری طور پر یا غیردانستہ طور پر خاموشی سے وقوع پذیر ہوتا ہے اور کبھی کبھی معاشرے کے کچھ افراد یا کوئی بہت مرجع خلائق شخص سابقہ عقیدے کی تردید یا تجدید میں اقدام کرنا ہے۔ بودھی تہذیب اپنی اعتدال پسندی اور میانہ روی کے سبب خوب پھولی پھلی۔ اس عقیدے کے کلیدی تصور ’’اشٹ مارگ‘‘ کی خوب ترویج و اشاعت ہوئی۔ نارنگ صاحب نے یہ لکھا ہے کہ بودھ کی وفات کے بعد ہندستان میں چوتھی صدی قبل مسیح سے تیسری صدی عیسوی تک ہندو مذہب کی جگہ پر اسے ہی مرکزی حیثیت حاصل رہی اور اشوک جیسے بادشاہوں کی سرپرستی میں ہندستان سے باہر دوسرے ایشیائی ممالک میں بھی پھیل گیا۔ (ص: ۴۴)
کچھ زمانوں کے بعد پورانک تہذیب وجود میں آئی اور پھر گیتا، وشنومت اور شِومت کی تعلیمات سامنے آئیں۔ گیتا کی تعلیمات کو بھی مختلف مفکروں نے اپنی اپنی طرح پیش کیا۔ اس کی بڑی تفصیلی بحث ملتی ہے۔ عقیدت کے جذبات اور معرفت کے لیے کسی مصور ہستی کی ضرورت پڑتی ہے، بودھی نظریے میں جس کا فقدان تھا۔ ہندو مذہب میں برہما (دنیا کے خالق کے طور پر)، وشنو (دنیا کے پالن ہار کے طور پر) اور شِو (مہیش) جیسے دیوتاؤں کو مصور ہستی کے طور پر قبول کرلیا گیا۔ اوتاروں کا سلسلہ جاری رہا۔ رام چندر اور شری کرشن بھی ان میں سے دو ہیں۔ نارنگ صاحب نے نہایت ہی Clarity کے ساتھ ان تمام عقائد اور مذہبی امور کے نکات پر بحث کرتے ہوئے ’’باب اول‘‘ کے ذیلی عنوان ’’ہندستانی تہذیب کا ارتقا‘‘ کا خاتمہ کرتے ہوئے اسلامی تہذیب کے وجود پذیر ہونے کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’مسلمانوں کی آمد سے پہلے جتنی بھی حملہ آور قومیں ہندستان میں آئیں وہ یا تو ابتدائی تہذیب کی حامل تھیں یا نیم تہذیبی حالت میں تھیں، اس لیے اپنا مخصوص کردار باقی نہ رکھ سکیں اور ہندستانی تہذیب میں ضم ہوگئیں۔ ان کی بہ نسبت اسلام اپنے ساتھ ایک مکمل اور ترقی یافتہ تہذیب ہندستان میں لایا۔ اس لیے اس کے اور قدیم ہندستانی تہذیب کے ربط و ارتباط، لین دین اور اخذ و قبول سے ایک نئے تہذیبی دھارے کا آغاز ہوا جسے ہند ایرانی تہذیب یا مشترک ہندستانی تہذیب کا نام دیا جاتا ہے‘‘ (ص: ۵۱)
اسلامی تہذیب پر اظہار خیال کرتے ہوئے نارنگ صاحب نے اسلام کے بنیادی اصول و ضوابط اور توحید کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن اور حدیث کے مفہوم کو بھی چند سطور میں سمجھایا ہے۔ توحید کے بعد اسلام کے معاشرتی نظام حیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نارنگ صاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان امور پر نظر رکھتے ہیں جن سے عوام کا ذہن فوراً ہم آہنگ ہوجائے اور اس کے اثرات دیر تک باقی رہیں۔اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں:
’’معاشرتی عدل اور مساوات اسلام کے بنیادی اصول ہیں… عورتوں کے حقوق اور مردوں کے حقوق میں فرق ہے لیکن پیدائش، نسل، مرتبے اور رنگ کی بنا پر ملت اسلامی میں کوئی تفریق جائز نہیں۔ قرآن ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جو دین و دنیا، فرد و جماعت اور حاکم و محکوم میں مکمل ہم آہنگی پیش کرتا ہو۔‘‘ (ص: ۵۴)
ظاہر ہے کہ ہندستانی ذہن و تہذیب کی تشکیل میں نارنگ صاحب کے نزدیک مذکورہ بالا اسلامی نظام معاشرہ اور عدل گسترانہ معیار حیات بھی رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام نے ’’عمل‘‘ پر زور دیا ہے جس کا ذکر نارنگ صاحب نے سید عابد حسین، علامہ اقبال اور سراحمد حسین کے حوالے سے کیا ہے۔ عقلی و فکری رجحان کے ذیل میں جبر و اختیار کے مسائل پر بحث کی گئی ہے اور پھر معتزلہ کا ذکر آیا ہے۔ عقلیت کو پروان چڑھانے کے لیے جو اخوان الصفا کی تحریک شروع ہوئی تھی کہ یونانی فلسفے اور شرع اسلامی کے درمیان رابطہ قائم کیا جائے اسے بغداد میں بارہویں صدی میں خلیفہ مستنجد کے حکم سے جلاکر خاک کردیا گیا۔ نارنگ صاحب نے اس کے بعد دنیائے اسلام کے مشہور مفکروں کا ذکر کیا ہے۔ فلسفے اور عقلیت کے سبب عباسیوں کے زمانے میں چار مشہور مسالک وجود میں ٓاگئے تھے۔ فلسفہ کو اسلام میں پذیرائی حاصل نہ ہوسکی اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے نارنگ لکھتے ہیں:
’’اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں جو اہمیت عالم طبیعی اور تاریخ کے مطالعے کو دی گئی ہے وہ مابعد الطبیعیات کو نہیں۔ عوام میں حکما اور فلسفی عموماً بدعقیدہ اور ملحد سمجھے جاتے تھے۔‘‘ (ص: ۵۶)
نارنگ صاحب نے اس کے بعد قرآن اور اسلام کے علمی و ادبی رجحان اور مذہبی فکر کو نہایت ہی سلجھے ہوئے انداز میں پیش کیا ہے۔ دراصل انھیں تصوف کے حوالے سے تفصیلی بحث کرنی تھی اس لیے اس کے لیے پہلے زمین ہموار کی۔ تصوف پر موٹی موٹی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی اگر یہ بات سمجھ میں نہ آئے کہ ’’تصوف‘‘ کے وجود میں آنے کا جواز کیسے پیدا ہوا تو میرے خیال سے ایسا مطالعہ بیکار ہے۔ نارنگ صاحب نے بڑی خوبصورتی سے اس ’’تصوف‘‘ کے جواز پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے لیے انھوں نے نکلسن کی ’’لٹریری ہسٹری آف دی عربز‘‘، امیر علی کی ’’اسپرٹ آف اسلام‘‘، تارا چند کی ’’ہندستانی کلچر پر اسلام کا اثر‘‘، آربری کی ’’صوفی ازم‘‘، حلمی کی ’’تاریخ تصوف اسلام‘‘، سید عابد حسین کی ’’ہندستانی قومیت اور قومی تہذیب‘‘، پروفیسر خلیق احمد نظامی کی ’’تاریخ مشائخ چشت‘‘ جیسی اہم کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔
شروع میں جو لوگ عبادت و ریاضت میں منہمک رہا کرتے تھے انھیں صوفی کہا جاتا تھا۔ دھیرے دھیرے ایک ایسی جماعت سامنے آئی جس نے تصوف کو باضابطہ ایک الگ ادارہ بنانے کی طرف اقدام کیا۔ براؤن کے حوالے سے نارنگ صاحب نے لکھا ہے کہ لفظ صوفی کااطلاق بقول جامی سب سے پہلے کوفے کے ابوہاشم (متوفی ۷۷۶ء) پر کیا گیا۔ (ص: ۵۹)۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ نارنگ صاحب نے تصوف کے پہلے دور (نویں صدی عیسوی کے آغاز تک) پر گفتگو کرتے ہوئے کوفہ، بصرہ، خراسان، بلخ وغیرہ کے مشہور صوفیوں کا ذکر ایک ایک دو دو سطروں میں ان کے اوصاف حمیدہ کے ساتھ کردیا ہے، ساتھ ہی ایک ڈیڑھ صفحے میں ایک مختصر تاریخ سمٹ آئی ہے جو اسلامی تصوف کے دوراول کو سامنے لاتی ہے۔ ایک اقتباس دیکھیے:
’’کوفہ و بصرہ سے زہد و ورع کے یہ رجحانات سارے عالم اسلام میں پھیل گئے تھے۔ اسی دوران زہد و ورع کے ان رجحانات کی نشو و نما عراق میں بھی جاری رہی۔ خراسان نژاد فضیل بن عیاض (متوفی: ۸۰۳) نے اپنی عمر کا آخری حصہ کوفہ اور مکہ میں گزارا۔ انھوں نے بھی خوف خدا اور حب دنیا سے نفرت پر زور دیا لیکن تصوف میں محبت کا عنصر شامل کرنے کا شرف رابعہ بصری (متوفی ۸۰۱ء) کو حاصل ہے۔ آگے چل کر حبِّ الٰہی تصوف کا اساسی عنصر قرار پایا۔‘‘ (ص: ۶۰)
تارا چند کے حوالے سے اور بھی اہم نام دیے گئے ہیں جیسے امام جعفر صادق (متوفی ۷۶۵)، ابو حنیفہ نعمان (متوفی ۷۶۸ء)، داؤد الطائی (متوفی ۷۸۱ء)، حبیب عجمی (متوفی ۷۹۹) اور خراز مرید حسن بصری وغیرہ۔
صوفیائے کرام کے دوسرے دور پر بھی شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس دور میں تصوف ایک علمی اور فلسفیانہ شعبۂ حیات کی طرف قدم بڑھانے لگا تھا۔ دوسرے دور کے پہلے صوفی کا نام نکلسن کے حوالے سے معروف کرخی (متوفی ۸۱۵ء) لکھا گیا ہے جب کہ دور اول کے صوفیوں میں حاتم الاصم (متوفی ۸۵۲ء) اور بشیر بن الحارث الحافی (متوفی ۸۴۱ء) کے نام دیے گئے ہیں۔ میرے خیال سے معروف کرخی (۸۱۵ء) جب دوسرے دور میں آئیں گے تو حاتم الاصم (۸۵۲ء) اور الحافی (۸۴۱ء) کے دور اول میں آنے کا جواز نہیں رہ جاتا۔ بہرحال یہ ایک نکتہ میری دانست میں توجہ طلب تو ہے ہی۔ ساتھ ہی جب دور اول نویں صدی کے آغاز تک تسلیم کیا جاتا ہے تو دوسرے دور کے معروف کرخی (۸۱۵ء) کو بھی پہلے دور میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ دوسرے دور میں جن اہم صوفیائے کرام کا ذکر ہے ان کے نام یوں ہے: ذون النون مصری (متوفی ۸۶۱ء)، سری سقطی (متوفی ۸۶۷ء)، بایزید بسطامی (متوفی ۸۷۵)ء خراز (متوفی ۸۹۹ء)، جنید (متوفی ۹۱۰)، منصور ابن حلّاج (متوفی ۹۲۲ء)۔ منصور حلاج کی کتاب طواسین تصوف کے موضوع پر پہلی قابل ذکر کتاب تسلیم کی گئی۔ منصور امتزاج بشریت و الوہیت کے قائل تھے۔ نارنگ صاحب نے لکھا ہے کہ اس دور کے کئی صوفی رابعہ بصری اور ذوالنون کی طرح خود بھی شاعر تھے۔ حقیقی عشق کے جذبات کو بیان کرنے کے لیے مجازی عشق کی اصطلاحوں کو اپنا لیا گیا۔ دسویں اور گیارہویں صدی میں تصوف ایک علمی اور وجدانی نظریہ بن گیا۔ گیارہویں صدی میں امام غزالی (متوفی ۱۱۱۱ء) نے اپنی غیرمعمولی قوت استدلال سے کام لے کر تصوف کے جواز پر سند کردی۔ (ص: ۶۳)۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر امام غزالی نے اپنی عقل و فراست سے عملی تصوف کے راستے ہموار نہ کیے ہوتے تو تصوف اور نظریات تصوف کو اس قدر فروغ نہ مل پاتا۔ عملی تصوف فروغ پاتا رہا۔ لیکن نظری اختلافات میں کمی واقع نہ ہوسکی۔ دھیرے دھیرے حکماء، علماء اور فقہاء کے دائرے سے نکل کر تصوف کے رموز شاعروں کے کلام میں در آنے لگے۔ نارنگ صاحب نے عربی، فارسی کے ایسے کئی شعرا کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد نظری پہلو اور عملی پہلو پر نہایت ہی عالمانہ اور بلیغ روشنی ڈالی ہے۔ وحدت الوجود (ہمہ اوست) اور وحدت الشہود (ہمہ از اوست) کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ نارنگ صاحب کی اس کتاب کا مقصد چوں کہ اردو غزل اور ہندستانی ذہن و تہذیب پر روشنی ڈالنا ہے اس لیے اس بحث کے بعد انھوں نے تصوف اور ہندی اثرات کے تحت آریائی ذہن، بودھ فلسفے، ویدانتی فلسفے کا ذکر کیا ہے۔ تصوف اسلامی اور ہندستانی فلسفے کی ہم آہنگی پر بحث کو ختم کرتے ہیں:
’’چنانچہ جب اسلامی تصوف ہندستان پہنچا تو یہاں کے لوگوں کو اس میں اپنے روحانی عقاید کی جھلک پہچاننے میں دیر نہ لگی۔ لگتا ہے جب دو ملتے جلتے تصورات کا آمنا سامنا ہوا تو دونوں کو ایک دوسرے کو پہچاننے میں دیر نہ لگی اور بھگتی تحریک، سنت مت اور صوفی ازم نے آگ کی طرح آناً فاناً ان خیالات کو پورے ہندستان میں پھیلا دیا۔‘‘ (ص: ۷۶)
اس کتاب کے باب اول کا آخری حصہ مشترک ہندستانی تہذیب ہے۔ تاریخی پس منظر کے طور پر عرب اور ایران سے ہندستان کے رشتے اور رابطے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ محمود غزنوی اور محمد غوری کے حملوں اور اس کے سبب دو تہذیبوں کے باہمی میل جول اور زبانوں کے لین دین کا ذکر نارنگ صاحب نے ہندو اور مسلم صوفیوں اور شاعروں کے حوالے سے کیا ہے۔ بھگتی تحریک کے جو اثرات ہندستانی ذہنوں پر مرتب ہوئے ان کا ذکر نارنگ صاحب نے تفصیل سے کیا ہے۔ شنکرآچاریہ، رامانج، رامانند، کبیر، تکارام، نام دیو، گرونانک اور دوسرے صوفیوں اور سنتوں کے حوالے پیش کیے گئے ہیں۔ بھگتی تحریک سے وابستہ صوفیوں اور مفکروں نے اسلام اور ہندو مذہب دونوں کے ظاہری لوازمات کی پرجوش مخالفت کی اور دونوں مذہبوں کی مشترک باطنی روحانی قدروں کو ایک دوسرے میں سمو کر ایسی روش اختیار کی کہ ہندو باطنیت اور اسلامی تصوف دونوں کا جوہر گھل مل کے ایک ہوگیا۔ (ص: ۹۰)
نارنگ صاحب نے جو تصویر پیش کی ہے، دراصل اس کی بنیاد رواداری اور باہمی یگانگت اور اخوت پر رکھی گئی تھی۔ آگے چل کر اس کی خشتِ بنا اکھاڑنے کی کوششیں بھی گاہے گاہے ہوتی رہیں۔ سچ بات تو یہی ہے کہ ہندستانی ذہن فطری طور پر اپنے اندر باہمی میل جول کا مادّہ رکھتا ہے۔ تاراچند کے حوالے سے نارنگ صاحب نے لکھا ہے کہ ہندوؤں میں فال کے لیے قرآن شریف دیکھنے اور بھوت پریت کے اثر سے بچنے کے لیے قرآن اپنے گھروں میں رکھنے کا بھی رواج تھا (ص: ۹۳)۔ اس کے علاوہ اور بھی دلچسپ اور معلوماتی روایتیں مرقوم ہوئی ہیں۔ خانقاہوں سے جو عقیدت ہندوؤں کی ماضی بعید میں رہی ہے یاجو عقیدت آج بھی دیکھنے کو ملتی ہے، وہ سب پر ظاہر ہے۔ اگر ہم امام باڑوں، تعزیہ کے جلوس یا حسن حُسین سے عقیدت کی بات کریں تو اس میں بھی ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ شامل نظر آئے گا۔ یہ تہذیبی اشتراک اور ذہنی ہم آہنگی ہماری اردو شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔ اسی طرح فن تعمیر ہو، موسیقی ہو، مصوری ہو، تاریخ نویسی ہو، تذکرہ نگاری ہو، غرض یہ کہ ہر فن لطیف یا ادبی میدان میں ہندوؤں کے بڑے کارنامے رہے ہیں۔ اسی طرح فارسی کے ہندو شعرا کی ایک بڑی تعداد ہمارے سامنے موجود ہے۔ اکبر اور شاہجہاں کے عہد میں ایسے شعرا کی تعداد بہت تھی۔ نارنگ صاحب نے کئی نام گنوائے ہیں۔ اس کے برعکس ہندو کی بہت سی اہم مذہبی کتابوں کے تراجم ہوئے۔ ’’معارف‘‘ جلد ۴۵، شمارہ ۴۰ کے حوالے سے نارنگ صاحب نے ایک طویل اقتباس دیا ہے۔ ان میں سے تین چار کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ بدایونی، فیضی، ابراہیم سرہندی نے ایک نو مسلم پنڈت شیخ بہاون کی مدد سے اتھروید کا ترجمہ کیا۔ بدایونی، نقیب خاں، ملاشیری، سلطان حاجی تھانیسری اور فیضی نے مہابھارت کو فارسی جامہ پہنایا۔ بھگوت گیتا کا ترجمہ فیضی نے کیا۔ داراشکوہ نے اپنشد کا اور یوگ وششٹ کا ترجمہ کیا۔ اس ہندستانی ذہن کی توجیہ کرتے ہوئے ایک حوالہ اور بھی ’’معارف‘‘ سے ہی نارنگ صاحب نے پیش کیا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ یہاں بھی اس کا آدھا حصہ قارئین کی نذر کردیا جائے:
’’ہندو اور مسلمان اپنی تصنیف و تالیف کا آغاز حمد و ثنا سے کرتے تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ حمد و ثنا مصنف کے مذہب کے بجائے زبان کے مذاق کے مطابق کی جاتی تھی… چنانچہ رحیم نے ’’مدناستکا‘‘ شری گنیش نامہ لکھ کر شروع کیا۔ احمد اللہ دکشنا نے اپنی تصنیف ’’نائیکا بھید‘‘ میں شری رام جی، سرسوتی اور گنیش کا نام لیا ہے… اعظم خاں نے محمد شاہ کے حکم سے ’’سنگاردرپن‘‘ لکھی تو رامانج کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔‘‘ (ص: ۱۰۱)
اسی طرح ہندو شعراء اپنی تصانیف کا آغاز زبان کے مزاج کے مطابق حمد، نعت اور منقبت سے کیا کرتے تھے۔ ہندوستان اور یہاں کی فضا اور اشیاء کا ذکر فارسی کے بڑے شعرا نے بھی کیا ہے۔ نارنگ صاحب نے صائب، ابوطالب کلیم، علی قلی سلیم، شکیبی اصفہانی، ظہوری، امیرخسرو، عبدالقادر بیدی، شیخ علی حزیں کے کلام سے حوالے پیش کیے ہیں۔
یہ تو خیر فارسی کے حوالے کی باتیں تھیں جو کہ یہاں کی زبان بھی تھی۔ اردو جو یہیں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی، اس کی ساخت میں مشترک تہذیبی نقوش کتنے واضح اور روشن ہوں گے، نارنگ صاحب نے ’’باب دوم‘‘ شروع کرنے سے، پہلے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ تہذیبی نقطۂ نظر سے قدیم اردو شاعری کے تین دور قائم کیے جاسکتے ہیں۔ دکنی، دہلوی اور لکھنوی۔ دکن میں اردو شاعری کا زمانہ محمد قلی سے ولیؔ تک کا ہے۔ دکن کی معاشرت میں دہلی کی بہ نسبت ہندی رنگ زیادہ گہرا تھا۔ نارنگ صاحب آگے لکھتے ہیں:
۱- ولی سے اردو شاعری ایک واضح موڑ مڑنے لگتی ہے۔
۲- ولی کے زمانے میں مغلیہ فتوحات کی وجہ سے دکن کی معاشرت پر شمالی ہند کے تہذیبی اثرات کی چھاپ لگنے لگتی تھی۔
۳- چنانچہ جب ولی کا دیوان دہلی پہنچا تو اس کے اثر سے دہلی کے شعراء فارسی چھوڑ کر اردو کو اپنانے لگے۔ لیکن فارسی کے مقابلے میں اپنی برتری اور فضیلت جتانے کا صرف یہی راستہ تھا کہ فارسی کے موضوعات اور مضامین ویسی ہی نزاکتوں اور لطافتوں سے باندھ کر اردو میں پیش کیے جائیں…
۴- لیکن ذہنی ردِّعمل کی یہ کیفیت عارضی ثابت ہوئی اور میر و سودا کے عہد میں جب اردو شاعری اپنی فنی بالیدگی اور معیار رسیدگی کو پہنچی تو مشترک تہذیب کی ترجمان کی حیثیت سے اپنا اصلی رنگ روپ حاصل کرنے لگی۔ لب و لہجہ اور اسلوب بیان میں توازن آگیا اور مضامین میں ہندی اور ایرانی عناصر کی ہم آہنگی نئی جمالیاتی بہار دکھانے لگی۔‘‘ (ص: ۱۰۵)
نارنگ صاحب کے مذکورہ بالا اقتباس سے اردو کی تہذیبی صورتِ حال اور زبان اور اسلوب یا مضامین اور فنی بالیدگی کی سطح پر جو تدریجی ارتقا ہوا، اس بات کا پورا اندازہ ہوجاتا ہے۔ البتہ اقتباس نمبر ۱؎ میں ’’موڑمڑنے لگتی ہے‘‘ اور اقتباس نمبر ۲؎ میں ’’چھاپ لگنے لگی تھی‘‘ والا محاورہ کھٹکتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ محاورے کہیں موجود ہوں، لیکن میری دانست میں دونوں غیرفصیح ہیں۔ خیر، اس سے نارنگ صاحب کی اس تجزیاتی اقتباس کی اہمیت اور افادیت پر کوئی آنچ نہیں آتی کہ ترسیل تو بہرحال ہوجاتی ہے۔
’’باب دوم‘‘ میں اردو غزل کا جمالیاتی پہلو (۱) کے تحت تصور عشق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب پر تجزیاتی گفتگو کے لیے نارنگ صاحب کے یہ اقتباسات دیکھتے چلیں جن سے اندازہ ہوگا کہ اردو غزل اور تصور عشق میں آخر کیا رشتہ ہے اور اس کا مبداء اور مبلغ کیا ہے:
۱- اردو غزل نے تصوف کی گود میں آنکھ کھولی اور وہ حال و قال کی محفلوں اور صوفیوں اور درویشوں کی صحبتوں میں پروان چڑھی۔
۲- جنسی عشق کے برملا جذبات اسلام کے مذہبی مزاج کے خلاف تھے اور انھیں قابو میں رکھنے کے لیے پردہ کی پابندی تھی۔
۳- اکابر دین نے مجازی عشق کے غیرشرعی ہونے پر جتنا زور دیا عوامی سطح پر صوفیوں نے اُسے اتنا ہی اپنایا۔
۴- قوالی کا رواج نہ عرب میں تھا، نہ ایران میں۔ اس کا چلن خاص ہندستان میں ہوا۔
(ص: ۱۱۲)
نارنگ صاحب نے تصوف کے حوالے سے تصور عشق کو روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام چوں کہ غیرفطری جنسی تلذذ کی اجازت نہیں دیتا اس لیے مجازی عشق کو اور وہ بھی عورت کو بے پردہ کرنا یا کھلے طور پر اس سے عشق کا اظہار کرنا کسی طرح بھی جائز قرار نہیں دیا گیا۔ نارنگ صاحب نے ہندستانی کلچر کے حوالے سے لکھا ہے کہ شدید جنسی جبلت کسی قسم کے جبری اخلاق کی گرفت میں نہیں لائی جاسکتی۔ چنانچہ اس کے جذباتی پہلو میں روحانیت کی آمیزش کرکے اسے اعلا و ارفع بنا دیا گیا۔ مادیت اور روحانیت کا یہ امتزاج ہندو مذہب اور ہندستانی فنون لطیفہ کا بنیادی رمز ہے۔ (ص: ۱۱۴)
تمام تر مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود تصوف اور تصور عشق کا گہرا رشتہ بن گیا اور اردو غزل میں اس عشق کے نقوش جلوہ گر ہونے لگے۔ ’’عشق‘‘ بھی کچھ ایسا لفظ نہیں کہ اس کے معانی و مفاہیم بہت جلد اور آسانی سے سمجھ میں آجائیں۔ اردو غزل نے اگر تصوف کی گود میں آنکھ کھولی تو اس کی مثالیں اور اس کے نمونے موجود ہیں۔ اس لیے نارنگ صاحب کا مذکورہ بیان محض مفروضہ نہیں بلکہ مثالوں کی روشنی میں مصدقہ حقیقت ہے۔ تصوف سے غزل کا کیا رشتہ ہے، دو چھوٹے چھوٹے اقتباسات دیکھیے:
۱- انسان کی عظمت کا شعور عرفان نفسی اور کائنات کے روحانی پہلو کا احساس، یہ تمام باتیں غزل میں تصوف ہی کے لگاؤ سے آتی ہے۔
(فراقؔ گورکھپوری، نگار، مئی ۱۹۳۸ء)
۲- تصوف نے غزل کی صنف کو حیات اور کائنات کے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس رجحان نے غزل کو عظمت اور بلندی سے قریب کیا ہے۔
(غزل اور مطالعہ غزل: ڈاکٹر عبادت بریلوی، ص: ۵۲)
تصوف اور غزل کے رشتے پر عشق کے حوالے سے ہر زمانے میں گفتگو ہوتی رہی ہے۔ عشق حقیقی اور عشق مجازی کے تصور کو بہت سے نقادوں نے قبول نہیں کیا ہے۔ سید عبداللہ نے لکھا ہے کہ اپنی اصل کے اعتبار سے عشق کی سب صورتیں، مجازی ہوتی ہیں۔ چنانچہ جس چیز کو عرف عام میں عشق حقیقی کہا جاتا ہے وہ عشق مجازی ہی کی ایک صورت ہے۔
(بحوالہ: ولی سے اقبال تک، ص: ۱۸)
نارنگ صاحب نے لکھا ہے کہ عشق مجازی کا تصور کسی بھی زمانے میں مذموم یا قابل اعتراض نہیں سمجھا گیا۔ شو شکتی پوجا، رادھا اور کرشن کی تمثیل اور بودھوں کے سہاجا فرقے میں صنف نازک کی پرستش، عشق کے رس، رمزیہ کردار کی حامل ہے۔ ہندستانی مصوری اور سنگ تراشی کا بنیادی محرک بھی عشق کا ہی تصور ہے۔
آگے چل کر قدیم اردو شاعری کے حوالے سے عشق کی چار مختلف کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیفیات سے زیادہ میں اسے عشق کی چار صورتیں سمجھتا ہوں۔ نارنگ صاحب نے ان چار صورتوں کا ذکر کرنے کے بعد ہر ایک صورت کے ذیل میں اسی نوع کے اشعار پیش کرکے اپنی بحث اور اپنے دعوے کے لیے دلیلیں پیش کی ہیں:
۱- پہلی صورت وہ ہے جہاں شاعر کی شخصیت اور اس کا کلام تصوف کے اصل اور حقیقی رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاعر نہ صرف صوفیانہ اصول و عقائد پر پورا پورا ایمان رکھتا ہے بلکہ اپنے ضبط نفس اور تہذیب باطن کی بدولت ان روحانی مدارج سے گزر چکا ہے جن کے بعد دنیا اور اس کے علائق پر ایک ہمہ گیر بصیرت حاصل ہوجاتی ہے…
۲- دوسری طرح کے شعرا جو بظاہر تصوف کا دم بھرتے ہیں لیکن دراصل تعینات کی حد یعنی اپنے معشوق کے ارضی وجود سے آگے نہیں بڑھ سکتے… ان کی زندگی سے ان متصوفانہ مضامین کا تعلق برائے نام ہے۔
۳- یہاں عشق کا تصور اپنے ارضی پہلو کے ساتھ ساتھ ایک لامحدود اور بے نام روحانی ماہیت بھی رکھتا ہے۔ یہ تصور نہ صرف ہمہ گیر ہے بلکہ حیات و کائنات پر بصیرت کی نظر بھی ڈالتا ہے اور شکست و یاس کا جذبہ پیدا نہیں ہونے دیتا۔
۴- اس میں عشق کا جذبہ عاشقانہ کم اور بوالہوسانہ زیادہ ہے۔ یہ رنگ اکثر ہمارے لکھنوی شعرا کی غزل میں نمایاں ہے۔
پہلی صورت کی عشقیہ شاعری میں سراج دکنی، خواجہ میردرد، شاہ نیاز بریلوی اور آسی غازی پوری کے نام لیے گئے ہیں اور ان میں بھی خواجہ میردرد کو اس رنگ کی شاعری کا امام کہا گیا ہے۔ یہاں کلام پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
دوسری صورت کے ذیل میں کئی شعرا کا ذکر ہوا ہے۔ جیسے حسن شاہ ملول، مرزا عشق، کلیم دہلوی، فضل علی دانا، فرحت اللہ فرحت۔ اس زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ’’تصوف برائے شعر گفتن خوب است‘‘۔ اس حصے میں نارنگ صاحب نے مذکورہ شعرا کے کلام کے نمونے پیش نہیں کیے ہیں۔ البتہ عشق کی فطری حالت اور ٹھیٹھ پن، وصال کی تمنا اور تڑپ کے حوالے سے حاتم، سودا، فغاں، قائم، تاباں، یقین، سوز، منت، جعفر علی حسرت، ممنون وغیرہ کی غزلوں سے نمونے پیش کیے گئے ہیں۔
آگے چل کر لکھنوی اور دہلوی رنگ تغزل پر روشنی ڈالتے ہوئے متعدد شعرا کے کلام کی روشنی میں تجزیہ پیش کیا ہے۔ چوتھے حصے میں انھوں نے عشق کے اُس تصور پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے جسے حقیت یا مجاز جیسی اضافتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ اوپر جو اقتباسات پیش کیے گئے، دراصل ان میں تیسرے نمبر پر جو اقتباس ہے، یہ اُسی کی تفصیل ہے۔ میرے خیال سے یہاں جو ۱،۲،۳،۴ نمبر دے کر نارنگ صاحب نے تصور عشق سے بحث کی ہے اس کی ترتیب آگے پیچھے ہوگئی ہے۔ اس لیے کہ عشق کی چوتھی صورت جو پہلے بیان ہوئی تھی وہ بوالہوسانہ تھی۔ اس حصے میں انھوں نے میر اور غالب کی عشقیہ شاعری پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ بیس صفحات کے اس تجزیے میں نارنگ صاحب نے میر کی میریت برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہ حصہ دونوں شاعروں کے تصور عشق کا ایک طرح سے تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ دونوں کے حوالے سے نارنگ صاحب کا Perception دیکھتے چلیں:
۱- میر کے ہاں محبت ایک مقدس آگ ہے اور اکثر اس میں محرومی اور ہجر نصیبی کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔
۲- غالب کا عشق ایک طرح سے ’’فرزانہ عشق‘‘ ہے۔ (ص:۱۵۰)
۳- میر کے ہاں نہ یہ نفسیاتی گہرائی ہے نہ مفکرانہ شوخی۔ میر کی ذہنی افتاد دوسری تھی۔ وہ سراپا رہین عشق اور بندۂ غم تھے۔ (ص:۱۶۰)
۴- میر کی شاعری محبت کے تقدس اور آفاقیت کی تفسیر ہے۔
۵- غالب کے ذہن کی ساخت کا کوئی تعلق ہندستانی طبیعت سے ہوسکتا ہے تو وہ اس مابعدالطبعیاتی اور فکری نہاد سے ہے جس کی بدولت ہندستانی ذہن کو فکر و فلسفے سے غیرمعمولی نسبت رہی ہے… جب کہ میر کا تخلیقی وجدان بھگتی کے وفور عشق و محبت اور درد و سوز میں ڈوبا ہوا ہے۔
پوری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ غالب کی فکری بلندی اور تصور عشق کا رشتہ ہندستانی ذہن و تہذیب سے اس طرح گہرا نہیں جس طرح میر کی عشقیہ شاعری اور ذہنی ساخت کا ہے۔ حالاں کہ غالب کی ہند اساطیر اور ہندستانی قصوں سے ذہنی وابستگی کا پتہ صاف صاف چلتا ہے۔ مصوری، موسیقی، بت پرستی و بت گری سے غالب کو بھی لگاؤ تھا۔ بت پرستی اور صنم پرستی ہندستانی میلانِ ذہنی کو ظاہر کرتی ہے:
ہم بہ سودائے تو خورشید پرستم آری
دل ز مجنوں برد آہو کہ بہ لیلا ماند
تمہی کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو، تو کیوں کر ہو
کثرت آرائی وحدت ہے پرستاریٔ وہم
کردیا کافر اِن اصنام خیالی نے مجھے
اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں درپردہ ’یا رب ہا‘
بت پرستی ہے بہار نقش بندی ہائے دہر
ہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا
اس طرح کے اور بھی بہت سے اشعار ہیں۔ پھر یہ کہ ’’مثنوی چراغ دیر‘‘ تو پوری طرح ہندستانی ذہن کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ محض بنارس کے حسن یا وہاں کے مناظر کی پیش کش کا نمونہ نہیں بلکہ اس میں تصوف کے رموز کو بھی سمونے کی کوشش ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تصوف ہندستان کی قدیم تہذیبی روایت سے اپنا گہرا رشتہ رکھتا ہے۔
باب سوم میں اردو غزل کا جمالیاتی پہلو (۲) کے ذیل میں ’’تصور حسن و جمال‘‘ پر بحث کی گئی ہے۔ اردو کا کوئی ایسا شاعر نہیں ملے گا جس نے حسن و جمال کو موضوع سخن نہ بنایا ہو۔ نارنگ صاحب نے یہ کہا ہے کہ یہ بات افسوس ناک حد تک عام ہے کہ اردو غزل کا محبوب فارسی یا ایرانی غزل سے لے لیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محبوب آیا تو تھا اُدھر ہی سے لیکن دھیرے دھیرے اس کے ملبوسات، زیورات سب کچھ ہندستانی ہوگئے۔ یہاں تک کہ اس کی بولی اور اس کی چال کے تشبیہات و استعارات بھی ہندستانی ہوگئے۔ نارنگ صاحب نے تجزیاتی مطالعے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ (محبوب) نہ خالص ہندی ہے نہ ایرانی بلکہ اس کی سرشت دونوں کے خمیر سے ہوئی ہے (ص: ۱۷۲)
قلی قطب شاہ، وجہی، غواصی، ہاشمی، ولی جیسے دکنی شعرا کے کلام کے نمونے پیش کرکے نارنگ صاحب نے غزل میں ہندستانی ذہن و تہذیب کی عکاسی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اس کے علاوہ فٹ نوٹ میں فائز دہلوی، حاتم، آبرو، ناجی، قائم، یک رنگ، مظہر، سودا، خان آرزو جیسے شمالی ہند کے مشاہیر شعراء کے نمونے بھی دیے گئے ہیں۔ دکن میں اردو غزل کے حوالے سے وزیر آغا لکھتے ہیں:
’’اس دور کی اردو غزل ایک اجنبی کے مانند ہے اور ہندستان کی فضا میں قطعاً اکھڑی اکھڑی نظر آتی ہے۔ جب پودا باہر سے لاکر لگایا جائے تو کچھ عرصہ کے لیے اس کی نشو و نما رک سی جاتی ہے پھر جب اس کی جڑیں نئی دھرتی کو چکھ لیتی ہیں اور اس کی صفات کو خود بھی جذب کرنے کے قابل ہوجاتی ہیں تو اس کی نشو و نما کا عمل ازسر نو جاری ہوجاتا ہے۔ بالکل یہی حال اردو غزل کا بھی تھا۔‘‘ ۱؎
وزیر آغا کے اس اقتباس سے نارنگ صاحب کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔ تصور حسن و جمال کو پرکھنے کے لیے اس باب میں شعرائے دکن اور شعرائے دہلی کی غزلوں کے مختلف نمونے پیش کیے گئے ہیں۔ اشعار کے انتخاب میں بھی اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ یکسانیت کے بجائے حسن و جمال کی نیرنگیاں سامنے آجائیں۔ میں اشعار پیش کرکے آپ کا یا خود میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ آپ کو میری بات اگر سمجھ میں نہ آئے یا لگے کہ میں کوئی ہوائی قلعہ تعمیر کرنے کی کوشش کررہا ہوں تو نارنگ صاحب کی اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرلیجیے بلکہ میری بات پر یقین آجائے جب بھی اس کتاب کو پڑھ لینا ضروری ہے کہ اردو غزل کی تاریخی فضا اور ہندستانی تہذیبی رنگ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اس کتاب سے گریز ممکن نہیں۔ میں تصور حسن و جمال کے حوالے سے نارنگ صاحب کے درج ذیل Perceptions ملاحظہ کیجیے:
۱- ….. چنانچہ میر و سودا کے زمانے میں جب اردو غزل نے اپنا توازن پالیا اور اس کا لب و لہجہ اور شعری مسلمات قائم ہوگئے تو حسن و جمال کے ہند ایرانی تصور کا وہ دھارا جو ولیؔ کی غزل سے پھوٹا اور کچھ مدت تہہ نشیں ہوکر بہتا رہا۔ اب مستقل طور سے منظرعام پر آکر بہنے لگے۔
۲- اس کے سوتے اس تہذیب سے پھوٹے تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے اشتراک سے پیدا ہوئی تھی۔
آگے چل کر اردو غزل کے محبوب کا اور اس کے جمال کا ذکر یقین، درد، قائم، جرأت، مصحفی، شاہ نصیر، نظیر اکبرآبادی، ظفر، غالب، مومن، آتش، داغ، حالی، حسرت، فراق گورکھپوری جیسے شعرا کے غزلیہ اشعار کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فٹ نوٹ میں ضرورت اور ثبوت کے لیے بہت سے اشعار پیش کیے گئے ہیں۔ اس باب کے اخیر میں اپنے تجزیاتی مطالعے کے بعد نارنگ صاحب لکھتے ہیں:
۱- اردو غزل کے محبوب کا تعلق ہندستانی تصور و تہذیب سے گہرا ہے۔ یہ فارسی غزل کا ظلِّ ثانی نہیں۔ (ص: ۲۳۳)
۲- ہندستانی تہذیب کی طرح اس میں بھی بوقلمونی اور کثرت ہے۔ (ص: ۲۳۴)
۳- اردو غزل کا احساس جمال اتنا واقعاتی نہیں جتنا سنسکرت، ہندی اور دوسری دیسی زبانوں کی بیانیہ اصناف سخن کا ہے۔ (ص: ۲۳۵)
۴- غزل حسن کی واردات اور اس کی کیفیات کے حد درجہ رمزیہ استعاراتی بیان پر اکتفا کرتی ہے۔ (ایضاً)
نارنگ صاحب نے اپنے اس مخصوص مطالعے میں اس بات کا پورا خیال رکھا ہے کہ غزلیہ متون کی چھان پھٹک کرنے اور انھیں تہذیبی تناظر سے جوڑنے میں کسی طرح کی کمی نہ رہ جائے۔ لہٰذا مشترک ہندستانی تہذیب کے بعد انھوں نے جمالیاتی پہلو کو پیش کرتے ہوئے تصور عشق اور تصور حسن و جمال پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اس کے بعد ’’باب چہارم‘‘ میں ’’اردو غزل کا نظریاتی پہلو‘‘ کے تحت تصور ذات اور تعبیرات اور ’’باب پنجم‘‘ میں جو کہ اس کتاب کا آخری باب ہے، نارنگ صاحب نے ’’اردو غزل کا فنی پہلو‘‘ کے ذیل میں کم و بیش ۱۱۳ صفحات پر مختلف فنی باریکیوں کو اپنے مطالعے کا حصہ بنایا ہے۔
’’تصور ذات اور تعبیرات‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے نارنگ صاحب نے تقریباً انھی باتوں کو دہرایا ہے جو باب اوّل میں نہایت ہی شرح و بسط کے ساتھ آچکی ہیں لیکن ان نظریات کی پیش کش جہاں جہاں اور جیسے جیسے ہوئی ہے ان کی تصویر کشی ضروری تھی، لہٰذا نارنگ صاحب نے اختصار کے ساتھ اطلاقی تنقید کا تناظر خلق کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ غزلوں کے ایسے اشعار آجائیں جن سے ہندستانی ذہن و تہذیب کا ایک تاریخی تسلسل ابھرسکے۔ وحدت وجود اور وحدت شہود کے ساتھ ساتھ ویدانت، وشنومت اور اپنشد کے تصورات کو بھی نارنگ نے زیربحث لاکر اشعار کی روشنی میں اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ ظاہر ہے یہاں اشعار پیش کرنے کی گنجائش نہیں۔ البتہ اس باب کے اخیرسے نارنگ صاحب کا یہ اقتباس پیش کیا جاتا ہے:
’’ہندستانی ذہن کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ان عناصر کو جو اس سے مناسبت نہ رکھتے ہوں یا تو رد کردیتا ہے یا ان میں توسیع کرکے انھیں اپنے سے ہم آہنگ کرلیتا ہے۔ تصوف کے وجودی رجحانات چوں کہ ہندستانی ذہن سے گہرے طور پر ہم آہنگ تھے، اس لیے غزل میں قائم ہو کے رہ گئے اور ان کے ذریعے غزل کو ہندستانی مزاج کا ساتھ دینے کا ایک عمدہ موقع ہاتھ آگیا۔ (ص: ۲۹۴)
یہ ہندستانی مزاج کیا ہے؟ دراصل اس سے مراد ہے یہاں کی ملی جلی تہذیب اور آپسی لین دین اور باہمی تعلقات۔ یہاں ایک اقتباس آل احمد سرور کا بھی پیش کرنا ضروری ہے۔ ممکن ہے آپ کو اقتباسات کی بھرمار سے تکدر کا احساس ہو مگر نفس مضمون کا تقاضا ہے، میں کیا کروں؟
’’….. مگر اس ہندستانی تہذیب کو، جو اردو ادب اور غزل میں جلوہ گر ہوئی، جس کے پیچھے شہروں کی رنگینی، جذبات کی رنگارنگی، جینے کی طرح داری، رسم و رواج، شادی بیاہ، میلوں اور تہواروں کی ہماہمی ہے، جس میں لذتِ کام و دہن بھی ہے او رروح کی چارہ گری بھی….. مصنوعی، مستعار، محدود کہہ کر اس پر خندہ زن ہونا کسی طرح قرین انصاف نہیں۔‘‘ ۲؎
اردو غزل اب پوری ہندستانی ہوچکی ہے، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ فارسی سے آئی تو ضرور لیکن اب اس کا مستقر اور وہ بھی مستقلاً ہندستان بن چکا ہے۔ ہندستان کا کون سا تہذیبی گوشہ ایسا ہے جس کی پیش کش اردو غزل میں ہوئی نہ ہو؟ پورے ہندستانی مزاج اور تہذیب سے غزل ہم رشتہ ہوچکی ہے۔ اوپر کے اقتباس میں نارنگ صاحب نے اور بعد کے اقتباس میں سرور صاحب نے اسی پہلو کی طرف اشارے کیے ہیں۔
’’اردو غزل کا فنّی پہلو‘‘ یہ پانچواں اور آخری باب ہے۔ اس میں نارنگ صاحب نے اس بات کو مدِّنظر رکھا ہے کہ غزل گو شعرا نے فنی اعتبار سے ان تہذیبی عناصر کو کہاں تک برتا ہے جن سے ہندستانی ذہن کی تشکیل ہوتی ہے۔ اردو غزل میں ماضی کی طرف بار بار مراجعت اور اپنی روایات اور تاریخی و مذہبی امور سے رابطہ کرنے کا عمل خوب ملتا ہے۔ کبھی کبھی ایسے الفاظ یا ایسے اشارے غزل کے شعروں میں مل جاتے ہیں جن سے ہمارا ذہن ماضی کی ان روایات یا تاریخی و مذہبی واردات و نکات کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ دراصل یہ جادو تلمیح کے زمرے میں آتا ہے۔ اردو غزل میں ہندستانی تلمیحات کو نارنگ صاحب نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:
’’ادبی تلمیحات: یہ ہندستانی دیومالا، ہندو مذہبی روایتوں، عقیدوں، لوک قصوں اور کہانیوں سے ماخوذ ہیں۔
عوامی تلمیحات: یہ وہ ہندستانی کہاوتیں، مَثلیں اور محاورے ہیں جو عوام کی بول چال میں رائج ہیں۔‘‘ (ص: ۲۹۹)
اس کے ذیل میں شری رام چندر، ہنومان، راون، کرشن، رادھا، گوپیاں، ارجن، بھیم، گنیش، کالی، اوشا (حسن و شباب کی دیوی، شفق)، کام دیو، سمدر منتھن، منگل، سنیچر، برہما کی گھڑی، گنگا، ناگ، آواگون، جوگی، نل دمن، ہیررانجھا، چندربدن و مہیار، بالے میاں، بابا فرید وغیرہ کے حوالے سے مختلف قدیم و جدید غزل گو شعرا کے اشعار پیش کیے گئے ہیں۔ بیشتر اشعار ولی، سراج، نظیراکبرآبادی، میر، سودا، انشا، جرأت، یقین، امانت، وزیر، مصحفی، فائز دہلوی، محمد قلی، اثرلکھنوی، برق، وزیر، اسیر، داغ، جلیل، فراق وغیرہ کے ملتے ہیں۔ اشعار یہاں بھی پیش کرنا مشکل ہے کہ ہر ایک تلمیح کے لیے کم سے کم ایک ایک شعر دینا ہوگا، جو طوالت کا سبب ہوگا۔
تلمیحات پر روشنی ڈالنے کے بعد اردو غزل میں ہندستانی تشبیہات و استعارات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بڑی عرق ریزی اور تحقیقی چھان پھٹک کے بعد ان تشبیہوں اور استعاروں کو ان کے متعلقات کی مناسبت سے سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
۱۔ وہ استعارے اور تشبیہیں جو ہندستانی معاشرت سے ماخوذ ہیں۔
۲۔ وہ جو ہندستانی نباتات سے متعلق ہیں۔
۳۔ وہ جو ہندستانی حیوانات چرند و پرند سے تعلق رکھتی ہیں۔
۴۔ وہ جو ہندستانی موسموں سے لی گئی ہیں۔
۵۔ وہ جن میں ہندستانی دریاؤں کا ذکر ملتا ہے۔
۶۔ وہ جو ہندستان کے شہروں، مقامات اور یہاں کی مشہور اشیاء سے ماخوذ ہیں اور
۷۔ وہ جو ہندستانی موسیقی سے ماخوذ ہیں۔ (ص: ۳۵۲)
ان میں بھی اول الذکر کو تین حصوں میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس کی تفصیل چھوڑتا ہوں۔ ہندستانی معاشرت، چرند پرند، موسم، دریا، شہر، مقامات اور موسیقی کو چھوڑتے ہوئے ہندستانی نباتات سے متعلق چار اشعار ملاحظہ کرلیجیے:
مرے ویرانے دل میں اے پری رو
شکار آکر کرو یہ کدلی بن ہے
(ولیؔ)
نہ گل نہ یاسمن کے صدقے
چمپا سے ترے بدن کے صدقے
کل دیکھتے ہی ہم انھیں بے ہوش ہوگئے
آنکھوں نے اُن کی ہم کو دھتورا کھلا دیا
(مصحفی)
زرد چہرہ ہے مرا دیدۂ پرآب کے پاس
کھیت سرسوں کا ہے پھولا ہوا تالاب کے پاس
(امانت)
اسی آخری باب میں ایک بہت ہی اہم ذیلی عنوان ہے: اردو کی لسانیت اور اردوئیت۔ اس حصے کو پوری بحث کا نچوڑ سمجھنا چاہیے۔ نارنگ صاحب نے لسانی تصورات اور ہندستانی رنگ و روغن کے درمیان اردو غزل کو رکھ کر اس کی شناخت کے دریچے کھولے ہیں۔ اردو غزل پر فارسی کے اثرات اور اس کے نقصانات، خالص ہندی کے اثرات اور اس کے نقصانات پر انھوں نے روشنی ڈالی ہے اور انھوں نے میر کے تذکرے ’’نکات الشعرا‘‘ سے ایک اقتباس نقل کرکے یہ بتایا ہے کہ:
’’میر نے اردو شعر میں ہندی اور فارسی دونوں کے حد سے زیادہ استعمال کو یکساں قبیح ٹھہرایا اور ہندی اور فارسی کے با سلیقہ امتزاج کی طرف توجہ دلائی۔‘‘ (ص: ۳۹۳)
نارنگ صاحب نے اپنی بات کی توثیق میں ’’آبِ حیات‘‘ سے تقریباً تین صفحات کا ایک اقتباس نقل کیا ہے۔ مرزا سودا اور میر کی اردوئیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آزاد نے اس اقتباس میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ’’انھیں کا زور طبع تھا جس کی نزاکت سے دو زبانیں ترکیب پاکر تیسری زبان پیدا ہوگئی اور اسے ایسی قبولیت عام حاصل ہوئی کہ آئندہ کے لیے وہی ہندستان کی زبان ٹھہری۔ (ص: ۳۹۵)
پروفیسر نارنگ نے اپنی اس کتاب میں اردو غزل کے ارتقائی سفر کو تہذیبی تناظر میں بڑی خوبصورتی اور شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اپنی کوئی بھی بات انھوں نے بنا دلیل اور شہادت کے نہیں کہی ہے۔ ہندستانی ذہن و تہذیب کے تشکیلی عوامل کی چھان بین اور پھر ان سے غزل کا رشتہ قائم کرنے میں انھوں نے اپنی عالمانہ بصیرت سے کام لیا ہے۔ اس کتاب کا اختتام نارنگ صاحب نے رشید احمد صدیقی کے مشہور زمانہ قول سے کیا ہے کہ غزل اردو شاعری کی آبرو ہے۔ ہماری تہذیب غزل میں اور غزل ہماری تہذیب میں ڈھلی ہے۔ میں اس تجزیاتی تبصرے کو نارنگ صاحب کے اس اقتباس پر ختم کرتا ہوں:
’’گو اس کا ڈھانچہ ایرانی ہے لیکن یہ اپنے انداز قد سے فارسی غزل سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ اس کی پشت پر جو تہذیبی تصور ہے وہ مشترک تہذیب یا گنگاجمنی تہذیب کا تصور ہے جسے صدیوں کے میل جول نے تعمیر کیا ہے۔‘‘ (ص: ۴۰۸)
حواشی
۱۔ اردو شاعری کا مزاج: وزیرآغا، ص: ۲۳۳
۲۔ ماخوذاز، اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب، مرتب: کامل قریشی، ۱۹۸۷ء، ص: ۹۴
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

