ڈاکٹر سید عابد حسین اعلیٰ تخلیقی ذہن کے مالک ادیب و دانشور تھے جن کا شمار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اکابر میں ہوتا ہے۔ اس یونیورسٹی میں بحیثیت شیخ الجامعہ ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کی تصانیف و تالیف نیز مضامین اور تراجم کی خاصی تعداد ہے جن کے مطالعے سے اُن کی بصیرت اور تبحر علمی کا اندازہ ہوتاہے۔وہ ایک مصلح اور سماجی مفکر بھی تھے جن کی نظر جاگیردارانہ سماج کے مسائل پر بہت گہری تھی۔وہ سماجی زندگی میں انصاف اور توازن کا حسن دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ظلم اور جہل،تنگ نظری اور عدم توازن کے خلاف انھوں نے ہمیشہ آواز بلند کی اور زندگی کی حقیقتوں پر براہ راست اظہار خیال کے لیے ڈرامے اور کہانیاں لکھیں۔
اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں ڈاکٹر سید عابد حسین اپنے تخلیق کردہ ڈرامے ”پردہئ غفلت“ کی وجہ سے اہم مقام اور منفردشناخت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کئی دیگر ڈرامے بھی لکھے ہیں مثلاً ڈراما ”شریر لڑکا“،”معدے کامریض“، ’حساب اور رومان‘ وغیرہ مگر عام طو رپر ان کے ڈرامے ”پردہئ غفلت“ کا ذکر بار بار آتا ہے جس میں نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان فکر و نظر کے تصادم اور تضاد کو پیش کرنے کی کو شش ہے۔ مذکورہ ڈرامے میں جدید و قدیم افکار اور رسوم کی معنویت پر سوالیہ نشان بھی قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرعابد حسین کی اس تخلیق کاموضوع روایتی اور فرسودہ سماج کے ساتھ نئی نسل کے متوسط زمین دار طبقے کے وہ افراد ہیں جو جدید تعلیم اور روشن خیالی کے باوجود روایتی سماج اور اس کے جامد رسم و رواج کے پابند نظر آتے ہیں۔
ڈراما ’شریر لڑکا‘ کا موضوع طلبا کی اقامتی زندگی سے وابستہ ہے۔ عبدالغفار مدھولی اس کے تعلق سے لکھتے ہیں:
”یوم تاسیس کے جشن کے لیے…ایک اور موقع پر مدرسہ ابتدئی والوں کی خواہش پر ڈاکٹر سید عابد حسین نے ڈراما”شریر لڑکا“ لکھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نفسیات کے ماہر ہیں اپنے اس ڈرامے میں یہ بنیادی خیال پیش کیا ہے کہ شریر بچے دلیر عموماً ہوتے ہیں، وقت پڑے تو اپنے کو جوکھم میں ڈال دیتے ہیں،بے جھجک خطروں میں کود پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے شاگردوں اور سوال کرنے والوں کو دلیلوں سے مطمئن کرتے ہیں اس ڈرامے میں یہی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔“[1]
اسی طرح ”معدے کا مریض“ ایک مزاحیہ ڈراما ہے جس کا موضوع انسانی زندگی کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ جدید تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ طبقے کے ایسے ا فراد کو موضوع بنایا گیاہے جو نوکری کی تلاش میں گاؤں کے ماحول سے نکل کر شہری زندگی کے دفتری نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ یہاں نہ تو وہ اپنی صحت کا مکمل خیال رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی اپنی کم تنخواہ کی وجہ سے بہتر طریقے سے اپنا علاج کرا پاتے ہیں۔ اسی کشمکش کے ارد گرد ڈرامے کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ شروع کے دو مناظر موضوع کا تعارف یعنی معدے کے امراض،ذہنی و جسمانی پریشانیاں، پھر ڈاکٹر حکیم کا سلسلہ نیز مختلف طریقۂ علاج کے بارے میں معلومات اورعلاج پر صرف ہونے والے اخراجات کے تخمینے پر مشتمل ہے۔تیسرے اور آخری منظر میں یہ درس ملتا ہے کہ فطری زندگی گزارنے کے لیے سادہ غذا،جسمانی محنت و مشقت اور ورزش بھی ضروری ہے۔ ڈراما ”حساب اور رومان“ میں ”حسن و عشق کی چاشنی ملتی ہے، تاہم ہجرو وصال کے قصے کی بجائے محبت کے بارے میں نئی اور پرانی نسل کے مابین فکر و نظر کے اختلاف“ کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔
ڈراما”پردہئ غفلت“ پہلی بار 1925 عیسوی میں شائع ہوا۔ اُس زمانے میں سید عابد حسین اعلی تعلیم کی غرض سے یورپ میں مقیم تھے۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو یورپ میں رہ کر وہاں کی خوشحال زندگی بسر کرتے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ ملک و قوم سے شدید محبت کی وجہ سے اور اس سر زمین پر رہنے والے مظلوم انسانیت کے مسائل کے حل اور ان کے درد کا درماں تلاش کرنے، وہ وطن عزیز ہندوستان لوٹ آئے۔اُنھوں نے یورپ کی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا، لہٰذا ان کی نظر میں کشادگی اور گہرائی ہے۔انھوں نے اس روشنیِ علم و آگہی کے ذریعے ہندوستان کے مستقبل کو بنانے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُن کے مثبت فکری عناصر اُن کی جملہ تخلیقات کے ساتھ ساتھ اُن کے ڈراموں میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔اوائل بیسویں صدی میں اپنی قدامت پرستی کی وجہ سے ہندوستانی زندگی کے ہر میدان میں یوروپ سے پیچھے تھے اور اس ملک کا نظام اخلاق و عمل تنزل کا شکار تھا۔ ایسے وقت میں سید عابد حسین نے یوں تو پورے ملک کے ذہنی و اخلاقی حالات کو سدھارنے کی کوشش کی مگر قوم مسلم کی اصلاح ان کا نصب العین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مسلم خاندان اور اس کے افراد کی طرف انھوں نے خاصی توجہ دی اور قوم کے ایک ذمہ دار اور ہو نہار ر فردکے ناطے بہت ہمدردی، دردمندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ قوم اور معاشرے کی اصلاح میں منہمک رہے۔عابد حسین کی ڈراما نگاری پر تحریر کردہ اپنے مضمون میں ڈاکٹر عظیم الشان صدیقی لکھتے ہیں:
”عابد صاحب کے یہ ڈرامے جہاں ان کے فکری و فنی شعور کے آئینہ دار ہیں، وہاں اُس کے آئینہ میں 1857ء کے بعد تین نسلوں کی ذہنی و جذباتی کیفیت، بدلتی ہوئی نفسیات اور افکار و اقدار کے تصادم اور متوسط طبقہ کے مسائل کامطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ان کی زبان اور اسلوب اگرچہ سادہ، سلیس اور شگفتہ ہے لیکن استدلال کی زیریں لہر ہر جگہ موجود رہتی ہے، جو شدت تاثر کے ساتھ غورو فکر کے لئے مجبور بھی کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ اردو ڈرامے کی زندہ روایت کا حصہ نظر آتے ہیں“۔[2]
”پردہئ غفلت“ میں ایک مسلم گھرانے کی کہانی ہے جس میں روایتی زمین دار طبقہ کی تہذیب و معاشرت، اخلاق و اقدار کے ساتھ جدید تعلیم یافتہ متوسط طبقے کے فکر و نظر کو بیان کیا گیاہے۔ یہاں ایک ایسے سماج اور اس کے افراد کو موضوع بنایا گیاہے جو اپنی معنویت اور قدر و قیمت کھو چکے ہیں۔ یہ ڈراما چار ایکٹ اورگیارہ مناظر (سین)پر مشتمل ہے۔ پہلے ایکٹ کے پہلے سین میں جن کرداروں سے ہم متعارف ہوتے ہیں، ان کے مکالمے سے ہی ڈرامے کے اصل موضوع اور اس کے اندر پیش کیے گئے مسئلے کی نوعیت سامنے آ جاتی ہے۔اس ڈرامے کے ایک اہم کردار ہیں احمد حسین، وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:”چودہویں صدی ہے، چو دھویں صدی۔خون سفید ہو گئے ہیں، جس چچا نے بچپن سے بیٹے کی طرح پالا، اس سے یہ سر کشی۔اپنا گھر الگ کریں گے، اپنی جائیداد سنبھالیں گے، بہن کو پڑھا لکھا کر میم بنائیں گے، اس میں چاہے خاندان کی آبرو مٹی میں مل جائے، چاہے….“۔اس سین میں تین کرداروں کی آپس میں گفتگو ہو تی ہے۔ احمد حسین، سیتارام اور میر الطاف حسین۔ پھر دوسرے سین میں ہم شیخ کرامت علی سے متعارف ہوتے ہیں جو میر الطاف حسین کی ڈیوڑھی میں مونڈھے پر لحاف اوڑھے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ اس سین میں ان کی گفتگو رقیہ خاتون سے ہوتی ہے، جنھوں نے سعیدہ کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کے لیے ان کو اپنے یہاں بلایا ہوتا ہے۔ اس سین میں بلکہ پورے ڈرامے میں بیشتر مقامات پر بہت طویل مکالمے ملتے ہیں۔ مثال ملاحظہ کیجیے:
”شیخ جی: جی ہاں، یہی بے زبان لڑکی سارے جہان کا مقابلہ کرے گی۔ میں کہہ چکا ہوں کہ آپ اس لڑکی کو نہیں پہچانتی ہیں۔ سنیے، دنیا کے دو تمدنوں کے ٹکرانے سے ایک شرار پیدا ہوا ہے جس کا مخزن اس لڑکی کا دل ہے۔ ایشیا کے مغرب سے ایک قوم عزم، حوصلہ اور جرأت لے کر آئی اور مشرق میں ایک دوسری قوم تھی جو صبر،ایثار اورد رد رکھتی تھی۔ دونوں کے صدیوں تک ساتھ رہنے سے ایک نئی سیرت کا خمیر تیار ہوا،جس کے اجزا میں دونوں قوموں کے جوہر ملے جلے تھے۔ تعجب کی بات ہے کہ ان دونوں قوموں کے مردوں نے اس دولت کے لینے سے انکار کیا اور کہا یہ ہماری چیز نہیں ہے، مگر عورتوں نے چپکے سے اپنے قلب میں چھپا لیا۔ اب چونکہ عورتوں کے دل پر جہالت اور غفلت کے بندوں نے پہرہ بٹھارکھا ہے اس لیے بہت سے بیش بہا خزینوں کی طرح یہ امانت بھی زمانے کی نظروں میں پنہاں ہے۔ اس سعیدہ نے خوش قسمتی سے ایساباپ پایا ہے جس کی بدو لت وہ کم سے کم خود اس سے واقف ہو گئی ہے کہ اس کے پاس کیا بے بہا دولت ہے۔ اب آپ کی اور سارے زمانے کی مخالفت کو صبر، خاموشی اور مسکینی سے برداشت کرتی ہے۔ لیکن اگر آپ یہ سمجھیں کہ آپ بہن بھائیوں کی سختی نے اس کے عزم کو دبا دیا ہے اور اس کے حوصلے کو توڑ دیا ہے تو آپ سے بڑھ کر کوئی غلطی پر نہیں۔ وہ دن آرہا ہے کہ آپ پر بھی اصل حقیقت عیاں ہوجائیگی۔
رقیہ خاتون کا جوابی مکالمہ یوں ہے:
”شکر ہے آپ نے بس تو کی، میں تو سمجھی تھی شام ہوئی۔ اب مجھے آپ کے سٹھیاجانے میں مطلق شبہ نہیں رہا۔خدا جانے کہاں کی بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ لڑکی کے دل میں پورب، پچھم، خمیر،خزانہ، خاک، دھول، خدا جانے کیا کیا ہے۔ خیر میں آپ کا عندیہ لینے آئی تھی۔معلوم ہو گیا کہ آپ نے بھی میری دشمنی پر کمر باندھی ہے۔ بہت خوب،زندگی ہے تو دونوں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ اچھا بندگی عرض ہے، میں جاتی ہوں“[3]
تیسرے سین میں ”ایک چھوٹا سا کمرہ ہے، جس میں ایک طرف ایک پلنگ بچھا ہے، اس کے پاس ایک چھوٹا سا تخت ہے جس پر منہ دھونے کا سامان اور نیچے ایک تسلہ رکھا ہے۔ کمرے میں ایک طرف ایک چھوٹی سی میز اور اس کے سامنے اور سیدھی طرف ایک کرسی رکھی ہے۔ میز پر چند کتابیں اور قلم دوات وغیرہ ہیں۔ کونے میں ایک الماری پر چند کتابیں رکھی ہیں، دیوار پر ایک نقشہ لٹکا ہوا ہے۔ سعیدہ تخت پر بیٹھی منہ دھو رہی ہے۔ چند منٹ کے بعد رقیہ خاتون کمرے میں داخل ہوتی ہیں۔ سعیدہ جو، اب منہ دھو چکی ہے اور تولیہ سے خشک کر رہی اُسے چھوڑ کر جلدی سے اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔“ اس قسم کی تفصیلات ہر سین کے شروع میں درج ہیں جس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی مدد سے اسٹیج پر سیٹ ڈیزائن میں اور سیٹ پراپرٹیز کے سلسلے میں کافی مدد مل جاتی ہے۔رقیہ خاتون،سعیدہ و صغرا کے درمیان سعیدہ کے رشتے سے متعلق گفتگو ہوتی ہے۔ بعد میں سعیدہ کے بڑے بھائی منظور بھی آ جاتے ہیں اور پھر ایک خادمہ داخل ہوتی ہے جو سعیدہ کوکھانا بنانے کے لیے بلا کر لے جاتی ہے۔پہلے ایکٹ کا تیسرا سین یہیں ختم ہوتا ہے۔ دوسرے ایکٹ کا پہلا سین جب شروع ہوتا ہے تو اس میں تخت کے ایک سرے پر احمدحسین، ایک تکیے دار مونڈھے پرشیخ کرامت علی اور دو کرسیوں پر محمد محسن اور منظور بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ شیخ کرامت علی کا کردار ابتدا تا انتہا ایک مصلح،نیک سیرت،اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور کی ہے۔ میر الطاف حسین کوان کے ایک سوال کا جواب وہ یوں دیتے ہیں:
”شیخ جی: اِنہیں نوجوانوں کی فکر تو میرے لئے کاہش جان ہو رہی ہے۔ یہ غریب بچپن سے مغربی عقلیت کے سائے میں پلے ہیں اورعقیدت ومعرفت کی روشنی کو جوقلب کے ناپیدا کنار صحرا میں بہت دور چمکتی ہے، علم کی نزدیک بیں عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں اور جب کچھ نظر نہیں آتا تو کہتے ہیں یہاں تاریکی کے سوا کچھ نہیں، مگر قانون فطرت کے خلاف باوجودیکہ یہ روشنی بہت دور ہے اس کی حرارت قلب کے ہر حصے میں محسوس ہوتی ہے اور اسی نے اہل مغرب کو حیرت میں ڈال رکھا ہے کہ اگر روشنی نہیں ہے تو یہ حرارت کیسی؟ رہے ہمارے نوجوان تو ان کا علم اور شک دونوں مانگے کے ہیں اس لیے انھیں حیرت بھی نصیب نہیں۔ یہ تو ہے ان کی حالت اور اس پر طرہ یہ کہ کتابی مذہب کو جس سے ان کم نگاہوں کو نظر ملنے کی امید ہو سکتی تھی آپ لوگوں نے چھومنتر بنا رکھا ہے، مذہب کی حقیقت قرار دی ہے عبادتِ ظاہری اور عبادت کا مقصد زندگی کے ادنیٰ مقاصد کا حصول۔پھر اگر یہ لوگ اس سے دور رہیں تو کون سے تعجب کی بات ہے۔“[4]
اس کے بعد دوسرے ایکٹ کا دوسرا سین شروع ہوتا ہے جہاں میر صاحب کے گھر کے زنانہ حصے کا منظر ہے۔ دالان میں تختوں کا چوکا بچھاہے۔یہاں محسن، رقیہ خاتون، صغرا، احمد حسین اور منظور وغیرہ کی آپس میں گفتگو ہوتی ہے۔ پھر پردہ گرنے کے بعد تیسرا سین شروع ہوتا ہے۔ اس سین میں محمد جواد، شیخ جی، محسن، منظور کے درمیان بحث ہوتی ہے، مذہب اور پردے کے علاوہ تعلیم نسواں وغیرہ پر مفصل گفتگو ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر چند مکالمے ملاحظہ کیجیے:
”محسن: اگر مذہب ایسا ہے جیسا آپ نے کہا تو بہت اچھی چیز ہے لیکن پردے کی بحث سے اس کا کیا تعلق ہے؟ عورتوں کو پردے میں بیٹھ کر مذہبی کتابوں کے پڑھنے سے تو کسی نے نہیں روکا؟
شیخ جی: پردے سے اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔مجھے پردے سے بڑی شکایت یہ ہے کہ اس نے عورتوں کو مذہب کی تکمیل سے باز رکھا ہے۔ میرے خیال میں عورتیں مردوں کی طرح، بلکہ شاید مردوں سے زیادہ، یہ صلاحیت رکھتی ہیں کہ شمع مذہب کے نور سے منور حیات اور کائنات کا نظارہ کر کے اس کی حرارت کو حواس ظاہری اور باطنی کی مدد سے جذب کرلیں اور اس طرح اس خفی آگ کو پھر مشتعل کریں جو مذہب کی اصل اور زندگانی کا مدعا ہے، لیکن جہالت کا خدا برا کرے جس نے عورتوں کو اس قید فرنگ میں ڈال رکھا ہے جہاں وہ میاں منظور کے الفاظ میں، لیکن دوسرے معنی میں، روشنی اور ہوا کی آرزو میں تڑپ تڑپ کر جان دیتی ہیں۔ آپ نے بجا کہا کہ بعض گھروں میں جہاں عورتوں کو تھوڑا بہت لکھنے کی اجازت ہے وہ مذہبی کتابیں پڑھ سکتی ہیں لیکن عزیز من، مذہب کا جومختصر سا خاکہ میں نے پیش کیا ہے اس سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ یہ کتابوں میں بند ہونے والی چیز نہیں ہے یہ وہ چیز ہے جو تمام عالم پر طاری اور تمام زندگی میں ساری ہے اور جس کے احاطے کے لیے انسان کو لازم ہے کہ زماں و مکاں کی بڑی سے بڑی وسعت میں جو اسے میسر آ سکے ہر چیز کو اسی خاص روشنی میں جس کا ذکر ہو چکا ہے، دیکھے، پرکھے سوچے اور اگر ممکن ہو تو سمجھے۔“ [5]
شیخ کرامت علی کی اس لمبی تقریر کے بعد پردہ گرتا ہے۔ تیسرے ایکٹ کے پہلے سین میں شیخ جی رضائی اوڑھے چارپائی پر لیٹے نظر آتے ہیں۔ ان کی طبیعت علیل ہے۔ منظور ان کی مزاج پرسی کے لیے آتے ہیں، بعد میں ان کی بہن سعیدہ بھی شیخ جی کی عیادت کے لیے آتی ہیں۔ان تینوں کے درمیان دیر تک گفتگو ہوتی ہے۔ شیخ جی اپنے بچپن کی کہانی سناتے ہیں۔ پھر سعیدہ اور منظور انھیں آرام کرنے کو کہہ کر رخصت ہوتے ہیں۔ اس ایکٹ کے دوسرے سین میں میر الطاف حسین اپنے مکان کے سامنے نیم کے درختوں کے سائے میں اپنے پاس کرسی پر بیٹھے منظور سے باتیں کررہے ہوتے ہیں۔یہاں سعیدہ کی شادی کے سلسلے میں دونوں کی بات ہوتی ہے۔ الطاف حسین منظور کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اُن کی اور بیگم رقیہ کی پسند سے سعیدہ کی شادی محمد جواد سے کریں حالانکہ منظور اور خود سعیدہ کو یہ رشتہ پسند نہیں ہے اور دونوں بھائی بہن اس بات پر متفق ہیں کہ سعیدہ کی شادی محمد علی کے ساتھ ہو۔منظور اپنے چچا سے دو ٹوک انداز میں کہتا ہے کہ ”سعیدہ خود محمد علی سے شادی کرنا چاہتی ہے اور جواد کے نام سے نفرت کرتی ہے“۔ میر الطاف حسین جواب دیتے ہیں کہ ایسا میں نے بھی سنا ہے مگر رسم زمانہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی رائے نہ اس معاملے میں کوئی پوچھتا ہے اور نہ اس کی طرف التفات کرتا ہے۔ پھر وہ جواد کی طرفداری کرتے ہوئے اسے ہر طرح سے اچھا اور مناسب رشتہ قرار دیتے ہیں اور جائیداد کے تقسیم کی بات بھی درمیان میں آتی ہے۔ اس سین کا اختتام میر صاحب کے اس جملے پر ہوتا ہے کہ”خیر بھائی تم ان باتوں کو بہتر سمجھتے ہو۔ میں خود کو رائے دینے کا اہل نہیں سمجھتا۔ تم احمد حسین سے مشورہ کرکے جو مناسب سمجھو کرو“۔ پردہ گر نے کے بعد چوتھے ایکٹ کا پہلا سین شروع ہوتا ہے۔ یہاں محمد علی، منظور، گنگا سہائے کے علاوہ ایک نوکر اور سیکریٹری صاحب کی گفتگو ہوتی ہے۔ اس ایکٹ کے دوسرے سین میں میر صاحب کی نشست گاہ کا منظر ہے جہا ں شیخ جی، محسن اور محمد جواد بھی موجود ہیں۔ احمد حسین بے چینی کے ساتھ دالان میں ٹہلتے نظر آتے ہیں۔ یہاں احمد حسین،میر صاحب اور محسن اور جواد غیرہ کی تفصیلی گفتگو ہوتی ہے اور سین کا اختتام ہو تا ہے۔ چوتھے ایکٹ کے تیسرے اور آخری سین میں منظور اور اس کی بہن سعیدہ اپنے چچا چچی کے گھر سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو رہے ہیں۔ یہاں رقیہ بیگم، ان کی بیٹی صغرا دونوں بھائی بہنوں کو روکنا چاہتی ہیں اور ان سب کی آپس میں خاندانی امور پر اور پشتینی جائیداد کے مہاجن کے ہاتھ چلے جانے کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ لوگ ہر طرح سے انھیں روکنا چاہتی ہیں اور آخر میں دھمکیاں بھی دیتی ہیں کہ آئندہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہوا تو وہ ان کا ساتھ نہ دیں گی بلکہ رقیہ بیگم یہاں تک کہہ دیتی ہیں کہ ”آج سے نہ میں تیری چچی اور نہ تو میری بھتیجی۔ خدا نے چاہاتو جیتے جی تیری صورت نہ دیکھوں گی“۔ سعیدہ رنجیدہ ہوتی ہے تو شیخ جی اسے تسلی دیتے ہیں۔ وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ”شیخ جی آپ نے ایک لفظ جو میری ہمت بڑھانے کے لیے کہہ دیا ہے، وہ سو تقریروں پر بھاری ہے۔خدا آپ کو ہم بھائی بہنوں کے سر پر سلامت رکھے“۔ پھر منظور اُن سے اجازت طلب کرتے ہوئے ان کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دیتا ہے کہ ”جب آپ سفر کرسکیں تو چل کر ہمارے ساتھ رہیے گا اور ہمارے کام میں،جو آپ کااور والد مرحوم کا کام بھی ہے، ہماری مدد کیجیے گا۔“ شیخ جی ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
”… میری زندگی کا مقصد آج سے پورا ہونا شروع ہوتا ہے- تم بھائی بہن اپنی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہو رہے ہواور مجھے دل سے یقین ہے کہ تم دونوں اپنی نئی زندگی میں خوش و خرم رہوگے کیونکہ خوشی نام ہے عقیدے اورعمل کا اور یہ چیزیں ملتی ہیں تازی ہوا میں، جہالت کی تاریکی اور حبس سے نکل کر۔ بے شک تم دونوں سے جدائی خصوصا ًسعیدہ سے چھوٹنا مجھ پر بہت شاق ہے مگر زندگی اور دنیا دوسرے کی ہیں میری نہیں۔ میری عمر کی چند ساعتیں باقی ہیں ان میں مجھے شکر کرنے دو کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی اور غور کرنے دو اُس نئی زندگی پر جو میرے لیے آرہی ہے۔میرے عمل کا دور ختم ہو چکا ہے اب میرے صرف عقیدہ باقی ہے۔اسی میں تسکین ہے اور اسی میں نجات۔“[6]
اس کے بعد وہ منظور کومخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب تم جاؤ، ریل کا وقت نزدیک ہے۔ منظور سعیدہ اور محسن کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہوتا ہے۔ شیخ جی اکیلے رہ جاتے ہیں اور پردہ گرتا ہے۔ اس طرح سے یہیں پر ڈرامے کا اختتام ہوتا ہے۔ڈاکٹر سید عابد حسین نے اپنے ڈراموں کو جن حالات، سماجی محرکات اور تاریخی پس منظر میں لکھا تھا وہ کافی حد تک بدل چکے ہیں لیکن ان کہانیوں میں آج کی نسل کے لیے بھی کافی حد تک کشش کا سامان موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک اور ہماری قوم کی صورتحال کچھ خاص نہیں بدلی ہے، لہذا وہ مسائل آج بھی بصورتِ دیگر موجود ہیں جن سے ہم اور ہمارا معاشرہ نبرد آزما ہے۔ اس ڈرامے سے متعلق اپنے مضمون میں ڈاکٹر عظیم الشان صدیقی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ:
”اس ڈرامے میں جہاں تعلیم نسواں اور تحریک نسواں کو موضوع بنایا گیا ہے وہاں عقاید کے سلسلے میں روایت و درایت کی بحث بھی موجود ہے۔ اور اس کے آئینہ میں تحریک ِآزادی کے ساتھ نئی ا بھرتی ہوئی قوتوں کا عکس بھی دیکھا جاسکتا ہے لیکن بنیادی اہمیت زمیندار طبقہ کو حاصل ہے… یہ نو زائیدہ زمین دار طبقہ جسے بر طانوی سامراج کے نئے زرعی نظام نے بلا خرچ لگان کی وصولیابی،یورپی مصنوعات کی خریداری اور کمزور طبقوں کے استحصال کے لیے جنم دیا تھا بظاہر آزاد اور خود مختار طبقہ تھا لیکن تحفظات سے محروم ہونے کے باعث یہ برطانوی حکام اور انتظامیہ کا اس طرح محتاج تھا کہ اسے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ان کی نذر کرنا پڑتا تھا جس نے زمین دار طبقہ کے ساتھ سماج کو بھی جلد ہی معاشی بحران میں مبتلا کر دیا تھا۔ پردہئ غفلت کا بنیادی ڈھانچہ بھی اسی معاشی بحران مبتلا زمین دار طبقہ پر کھڑا نظر آتا ہے۔“[7]
ڈاکٹر سید عابد حسین کی ڈراما نگاری کا احاطہ کرتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ انھوں نے اپنے ڈراموں میں فن اور تکنیک کا التزام تو بہت زیادہ نہیں کیا البتہ ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے ڈرامے کو ایک میڈیم کے طور پر اپنایا۔ یہی وجہ ہے جیسا کہ مثال کے ذریعہ بتانے کی کو شش کی گئی کہ جو مکالمے ہیں ان میں بہت طوالت ہے مگر اس کا جو موضوع ہے، جو پیغام ہے، جو مقصد ہے اس کو ڈرامے کی صورت میں بحسن و خوبی پیش کرنے کی سعی ملتی ہے۔ مجموعی حیثیت سے ڈراما ”پردہئ غفلت“ ایک کامیاب ڈراما ہے جو آج بھی اپنی منفرد معنویت رکھتا ہے اور جس نے ڈاکٹر سید عابد حسین کو بحیثیت ڈراما نگار متعارف و مستحکم کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ گرچہ اس کو اسٹیج کرنے میں مکالموں کی طوالت دشواری کا باعث ہوتی ہے مگر اس سے قطع نظر ہم دیکھیں کہ جو مقصد ڈراما نگار کا تھا اور مسلم گھرانوں کے جس سماجی موضوع کو وہ پیش کرنا چاہتے تھے، اس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اردو ڈرامے پر گفتگو ہوتی ہے تو ان کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ ڈراما کئی درسگاہوں میں شاملِ نصاب بھی ہے۔ اس طرح صنف ڈراما نگاری میں ڈاکٹر سید عابد حسین کی غیر معمولی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
٭٭٭
حوالہ جات:
1۔ ”جامعہ میں اردو ڈراموں کی کہانی“ مشمولہ رسالہ ”پیام تعلیم“، ڈراما نمبر
2۔ اردو زبان و ادب کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار، مرتبہ: صغرا مہدی
3۔ پردۂ غفلت، سید عابد حسین، ص،24-25
4۔ پردۂ غفلت، سید عابد حسین، ص 44
5۔ پردۂ غفلت، سید عابد حسین، ص۔61-62
6۔ پردۂ غفلت، سید عابد حسین، ص،99-100
7۔ اردو زبان و ادب کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار، مرتبہ: صغریٰ مہدی
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گیسٹ لیکچرار ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

