Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ڈرامہ

آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب کی عکاسی – ڈاکٹر قرۃ العین

by adbimiras مئی 12, 2022
by adbimiras مئی 12, 2022 0 comment

پارسی تھیٹر کے زمانے کے سب سے اہم ڈراما نگار آغامحمد شاہ حشر تھے جو کشمیری النسل تھے، لیکن آپ کے نانا اور والد شالوں کی تجارت کے سلسلہ میں بنارس آئے اور یہیں آباد ہوگئے۔ ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۸۷۹ کو بنارس میں ہی ہوئی۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والد کی نگرانی میں عربی و فارسی سے گھر میں شروع ہوئی۔ گھر کے مذہبی ماحول اور ابتدائی تعلیم کے نتیجے میں انہوں نے قرآن مجید کے سولہ پارے حفظ بھی کرلیے تھے۔ پھر کچھ تعلیم جے نارائن کالج بنارس میں حاصل کی مگر تعلیم مکمل نہیں کرسکے۔آغا حشر کاشمیری کی پوری زندگی ڈراما لکھنے اور اسٹیج کرنے میں بسر ہوئی۔ یہی ان کا مشغلہ رہا جو تمام عمر کے لیے اختیار کیا۔ غلام علی خاں مانی اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیں:

’’آغا صاحب نے ہندوستانی تاریخ میں ڈراما کو دوبارہ زندگی بخشی شکسپئیر جیسی ہستی کو اردو طبقہ میں روشناس کیا اور کمال فن یہ ہے کہ ڈرامۂ ہند کے نظریہ کو ہی بدل کر آپ کو اس معیار پستی سے نکال کر ایسی ادبی بلندی پر لے گئے جہاں ہندوستانی فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا ڈراما دنیا کے کسی ملک و قوم سے پیچھے نہیں ہے۔‘‘  ( ماہنامہ ایشیا میرٹھ، ستمبر، اکتوبر ۱۹۳۵۔ ص، ۲۱۰)

حقیقت یہ ہے کہ آغا حشر کاشمیری کا عہد اردو ڈراما اور اسٹیج کی ترقی کا شاندار دور تھا۔انہوں نے نہ صرف اپنے قلم سے زبان و بیان کو صاف کیا بلکہ اردو ڈرامے کو فنی لوازم سے مالا مال بھی کیا اور فنی کاریگری کے ساتھ تکنیک کے پہلوؤں پر بھی غور کیا۔پلاٹ کے لحاظ سے عام معاشرتی مسائل اور زندگی کی حقیقتوں سے ایک نئے رخ کا آغاز کیا۔ دراصل آغا حشر کاشمیری ایک باشعور فن کار تھے جنہوں نے زمانے کے مطالبے اور تقاضے کو پہچانا اور عوام کو وہی معیار مہیا کیا جس کا تقاضا انہوں نے کیا۔ ڈراما ذاتی تخلیق ہونے کے باوجود عام انسانوں کے جذبات و خیالات کا ترجمان ہوتا ہے۔لہذا انہی نظام معاشرت، عقائد و افکار کی نمائندگی اور عکاسی کرتا ہے۔ آغا حشر کاشمیری موضوع کے لحاظ سے عام زندگی کا کوئی بھی پہلو نظر انداز نہیں کیا بلکہ معاشرتی مسائل کو مخصوص اور دل چسپ انداز انداز میں نہایت دلچسپ طریقے سے اپنے ڈراموں کا موضوع بنایا ہے۔ بقول جمیل جالبی:۔

’’آغا حشر نے ڈرامے کو بلند کیا۔ اس میں معاشرتی اور اصلاحی پہلو بھی اجاگر کیے اور ڈرامے کے ذریعے سیاسی اور اصلاحی مقاصد کا کام بھی لیا۔ آغا حشر کی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے ڈرامے کی روایت کو ہمارے مزاج میں شامل کیا۔ ہمیں ڈرامے کے علمی معنی سمجھائے ہمیں ڈراما پیش کرنے اور سیکھنے کا سلیقہ دیا۔‘‘  ( آغا حشر اور ڈرامے کی روایت،جمیل جالبی ، تحریک، دہلی، جولائی ۱۹۶۵، ص۸)

آغا حشر کاشمیری نے اپنے ڈراموں کو شہزادوں اور شہزادیوں کے عشق و محبت کے قصے اور جن و پری کی داستانوں سے آزاد کیا اور مکالموں میں نظم کے مقابلے میں نثر کو زیادہ ترجیح دی۔ اسٹیج پر ہونے والی بیت بازی کو ختم کرکے انسانی مسائل اور سماجی زندگی کو موضوع بنایاآغا حشر کاشمیری نے تقریباََ تین درجن ڈرامے لکھے جہاں ان کی عظمت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ان کا فن جامد نہیں بلکہ برابر ارتقائی منازل طے کرتا ہے۔زبان و بیان کی انفرادیت کی وجہ سے اپنے دور کے دیگر ڈراما نگاروں میں وہ سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں کہیں گئے ان کی قدر ہوئی اور ان کی شہرت روز بروز بڑھتی گئی۔ عشرت رحمانی نے آغا حشر  کے ڈراموں کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔

پہلا دور۔   ۱۹۰۱  سے ۱۹۰۵

۱۔ مرید شک (۱۸۹۹)،                   ۲۔ مار آستین (۱۹۰۰)

۳۔ اسیر حرص (۱۹۰۰)               ۴۔ میٹھی چھری  (۱۹۰۱)

یہ دور حشر کے ابتدائی تصنیفات پر مشتمل ہے۔

دوسرا دور:۔  ۱۹۰۶ سے   ۱۹۰۹

۱۔ شہید ناز عرف اچھوتا دامن (۱۹۰۲)     ۲۔سفید خون(کنگ لئر)(۱۹۰۷)

۳۔ صید ہوس (۱۹۰۸)                             ۴۔ خوبصورت بلا (۱۹۰۹)

تیسرا دور:۔ ۱۹۱۰ سے ۱۹۱۶ تک۔

۱۔ خواب ہستی(۱۹۰۸)                             ۲۔ سلور کنگ(۱۹۱۰)

۳۔ پہلا پیار (۱۹۱۱)                             ۴۔ انوکھا مہمان (۱۹۱۳)

۵۔ بن دیوی                                    ۶۔ یہودی کی لڑکی (۱۹۱۵)

۷۔ سورداس عرف بلوا منگل (۱۹۲۰)            ۸۔ شام جوانی

۹۔ خود پرست

چوتھا دور:۔ ۱۹۱۷ سے وفات تک۔

۱۔ مدھر مرلی۔                                 ۲۔ بھارت رمنی (۱۹۱۴)

۳۔ شیر کی گرج(عرف نعرہ توحید)               ۴۔ بھگیرت گنگا

۵۔ عورت کا دل                       ۶۔ہندوستان(جس کے تین حصے ہیں، شرون کمار، اکبر اور آنچ)

۷۔ ترکی حور(۱۹۲۲)                           ۸۔آنکھ کانشہ(۱۹۲۴)

۹۔سیتا بن باس(۱۹۲۸)                        ۱۰۔بھیشم پرتگیہ(۱۹۲۹)

۱۱۔دھرمی بالک(۱۹۲۹)                       ۱۲۔ بھارتی بالک (۱۹۲۹)

۱۳۔پریمی بالک                           ۱۴۔دل کی پیاس

۱۵۔رستم و سہراب(۱۹۳۰)

یہ زمانہ کلکتہ میں قیام کا زمانہ تھا اور یہ ان کے فن کی تکمیل کا دور تھا۔ جہاں انہوں نے آنکھ کا نشہ، ترکی حور، ہندوستان اور رستم و سہراب کے علاوہ دل کی پیاس وغیرہ جیسے عہد آفریں ڈرامے لکھے۔ آغا حشر کاشمیری کے زمانے میں  فن ڈراما میں انقلاب آیا اور ڈرامے کی دنیا میں وہ پہلے عوامی فن کار کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف بہت سارے طبع زاد ڈرامے بھی لکھے اور ترجمہ بھی کیے، لیکن ہر حال میں زبان و بیان اور فکر و فن کا معیار قائم رکھا۔انہوں نے نہ صرف انگریزی ڈرامے سے اپنا پلاٹ تیار کیا  بلکہ دیو مالائی کتابوں یعنی رامائن اور مہابھارت اور فردوسی کے شاہنامے سے بھی استفادہ کیا۔

ہندوستان کو دیو مالا کا ملک کہا جاتا ہے کیونکہ دیو مالائی افکار و عقائد جس طرح سے اس ملک کے رگ و پے میں سرایت ہے شاید ہی کسی ملک اور معاشرے میں موجود ہوں۔ آج کے سائنسی دور میں بھی دیومالائی اساطیر و عقائد ہماری معاشرتی زندگی میں اس طرح پیوست ہیں کہ اس کے لازوال ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ دیو مالا ہندوستان کی قدیم تاریخ اور سماج میں پیوست ہیں اور دیو مالا عقائد ہماری تہذیبی و ثقافتی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔

آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں کا جہاں تک تعلق ہے تو ان میں بھی دیو مالائی اثرات پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کے ڈراموں میں سیتا بن باس’’بھیشم پرتگیا‘‘ شرون کمار، ہندوستا ن کے دو مقبول عام ہندو دیو مالائی رزمیہ رامائن اور مہابھارت سے ماخوذ ہیں۔ ان کے علاوہ بھی آغا حشر کاشمیری کے متعدد ڈرامے ہیں مثلاََ بن دیوی، بھارت رمن، بلوا منگل، مدھر مرلی وغیرہ ایسے ڈرامے ہیں جن میں دیو مالائی اثرات ہیں۔

ڈراما ’’سیتا بن باس‘‘ آغا حشر کاشمیری کا دیو مالائیت سے پر ایک شاہکار ہے۔ اس کا پلاٹ بالمیکی راماین کے آخری حصے ہندو دیو مالائی اتر کانڈ (Epic) سے ماخوذ ہے ، اور تین ایکٹ پر مشتمل ہے۔۔ اس کا موضوع راجا رام چندر جی کے بن واس کی مدت جو کہ چودہ سال تھی اس کو گزار کر راون کا خاتمہ کرکے واپس ایودھیا اور اپنے راج کاج میں مصروف ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ آغا حشر کاشمیری نے رامائن کے اس حصے کو جو بے حد نازک ترین حصہ ہے اپنے ڈرامے کا مرکز بناکر پورے رامائن کا نچوڑ اس طرح پیش کیا ہے کہ رام چندر جی کی عظمت پر کوئی آنچ یا کوئی کمی نہ آئے ۔ دیو مالائی اور مذہبی تھیم یا قصوں سے اکثر لوگ اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں لیکن آغا حشر نے اپنے کمال فن اور اردو زبان سے اس ڈرامے میں دلچسپی اور تجسس کی کیفیت پیدا کی ہے، جس سے قاری اور ناظرین ڈرامے کی دیو مالائی فضا میں محو ہوجاتا ہے۔ رجک اور درمکھ کے درمیان کا مکالمہ ہو یا رجک اور رجکی کی نوک جھونک لو اور کُش کے سوالوں کا منظر یا وبھیشن، لکشمن اور ہنومان سے مکالماتی معرکہ آرائی یاپھر لو کش کا اپنے والد راجہ رام چندر جی سے ہم کلام ہونے کو، ڈراما نگار نے ہر منظر کو خوبصورت اور دو آتشہ بنادیا ہے۔ پہلے ایکٹ کے چھٹے منظر کا یہ مکالمہ  ملاحظہ کیجیے جب پرجا کے مطالبے پر رام چندر جی سیتا کو گھر سے نکال بن واس کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس وقت رام اور لکشمن کے جذباتی مکالمے پر غور فرمائیں۔

’’لکشمن:تیاگ!کس کا؟ بھگوتی سیتا کا، پربھو میں سمجھا نہیں۔شبد بانوں کی بھانتی کان چھدتے ہوئے نکل گئے۔ پھر کہیے۔ کس کا تیاگ؟

رام:کس طرح کہوں ؟تیاگ شبد کے ساتھ پران بھی کھینچ کر ہونٹوں تک آجات ہے، لیکن سیتا کا تیاگ سہج نہیں، میرے جیون کا مہا کٹھن کرتو یہ ہے۔ پھر بھی پران جائے یا رہے، تیاگنا ہی ہوگا۔

لکشمن: کنتو کس دوش پر؟

رام: پرجا کہتی ہے کہ سیتا راون کے گھر میں رہ کر آئی ہے، اس لیے…۔

لکشمن:بس دیو بس اور نہیں سن سکتا۔ اس کے آگے پر جانے جو شبد کہے اسے سن کر کیا دھرتی کی چھاتی پھٹ کراس سے ہائے نہیں نکلی۔آکاش ہاتھ کے چھالے کی طرح پھٹ کر بہہ نہیں گیا۔ سرشٹی چتا کی طرح دھک دھک جلنے نہیں لگی۔

رام:پریہ ور۔ راجااپنے ہر کام کے لیے ایشور اور پرجا کے سامنے اتروائی ہے۔ اسے نیائے سنگھاسن پر بیٹھنے کے بعد بندھو، باندھو، پتر، سکھ، سوارتھ، موہ، مایا سب  سے منھ پھیرکرکیول اپنے کرتویہ کی طرف دیکھنا ہوتا ہے۔‘‘  ( سیتا بن باس۔ کلیات آغا حشرکاشمیری۔ جلد ہفتم، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،اپریل، جون ۲۰۰۵ٍ۔ص ۶۴)

 

آغا حشر کاشمیری اسی منظر میں رام چندر جی کے اصرار پر لکشمن کاجذباتی ہوکر یہ مکالمہ لکھتے ہیں:

’’لکشمن: پربھو کیا کہوں گا۔ کیسے کہوں گا۔ جب وہ ڈالی سے ٹوٹ گئے ہوئے پھول کی طرح دھرتی پر گر کر اور ٹپ ٹپ آنسو بہاتی آنکھوں سے میری اور دیکھ کر کمت سور سے پوچھیں گی کہ ہے وتس، راگھو نے مجھے کس دوش پر تیاگا ہے، تب میں انہیں کیا اتر دوں گا ۔ جب وہ ہا ہا کرتی بن کی شویستا آنکھیں پھاڑ کر گھورتے ہوئے نیلے آکاش اور ہوا کے ساتھ راکشسوں کی طرح یدھ کرتے ہوئے ورکشوں کے درشیہ سے بھئے ہوکر اور رام نام کی دہائی دے کر کہیں گی کہ ہے لکشمن اس نس سہائے ابلا کو کہاں  چھوڑے جاتے ہو تو کیا سانتونا دوں گا؟‘‘  ( ایضاّ۔ ص۶۵۔۶۶)

یہ منظر جذباتی کشمکش کی ترجمانی کرتا ہوا اسی طرح آگے بڑھتا ہے اور قاری کو مبہوت بنا کر رکھتا ہے۔ اس طرح آغا حشر کاشمیری نے رام چندر جی اور سیتا کے بن واس سے واپس آنے کی خوشی میں ایودھیا کے عوام اودھی زبان میں گانا گاتے ہوئے آتے ہیں جس میںرام جی کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے جو خالص ہندوستانی تہذیب کی عکاسی ہے۔اس گانے میں جو نظم کی شکل میں ہے، ان میں جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں وہ تمام ہندوستانی ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی  ہے ان کی آمد پر ساری چیزیں خوشیوں سے شرابور ہیں۔ مثال کے طور پر یہ گانا ملاحظہ کیجیے۔

چھایا جگ پر نکھار کیسا سندر سنگار

پہنے پھولن کا ہار، جھوم رہی ڈار ڈار

دادُر  مور، کرت شور، سب اور بدری چھائی گھنگھور

کنجن کنجن میں کوئل گاوت ملہار

چھایو آنند دکھ نکند، مند ،مندملے پون کی سگندھ

برست رم جھم جیسے باجت ستار  ( ایضاّ۔ ص ۱۳۵)

مذکورہ مکالمہ(گانا) میں ہندی اردو کے علاوہ اودھی الفاظ کا خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاََ جگ۔ سندر، ہار وغیرہ ہندی کے ہیں اور سنگار، نکھار، شور ستار اردو کے اسی طرح پھولن،ڈار ڈار، کرت، بدری، گاوت، چھایو، برست اور باجت اودھی ہیں ۔ یہی ہماری ہندوستانی تہذیب کے نقوش ہیں۔

’’بن دیوی‘‘ آغا حشر کا مقبول ڈراما ہے۔۱۹۱۳ میں لکھا گیا یہ ڈراما بھی قدیم داستان اور  ہندو دیو مالا پر مبنی ہے۔ آغا حشر نے نہ صرف انگریزی ڈراموں کے پلاٹ پر مبنی ڈرامے لکھے بلکہ ہندوؤں کے مذہبی قصوں اور کہانیوں سے بھی اخذ کرکے لکھے جن میں ہندو دیو مالا اور ہندی زبان اور محاورے کا بہترین استعمال کیا ہے۔ اس ڈرامے کے مکالمے میں آغا حشر نے یہ کمال دکھایا ہے کہ ہر کردار کی زبان سے ایسے الفاظ اور مکالمے ادا کیے ہیں جو اس کے لیے موزوں ہیں۔ ہر انسان کے لیے خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اس ڈرامے میں نیکی اور سچائی کا درس دیا گیا ہے۔اور نہایت ہی خوبی و کامیابی سے خیر اور نیکی کو فتح یاب دکھایا گیا ہے۔ ڈرامے کے بیچ میں کہیں کہیں خوشی اور غم ملے جلے دکھائی پڑتے ہیں لیکن ڈراما کے آخر میں شر اور فساد کو مغلوب کرکے خیر کا غلبہ دکھایا گیا ہے۔ تین ایکٹ اور چودہ مناظر پر مشتمل یہ ڈراما’’رشی پتری بن دیوی‘‘ کی قدیم ہندو کتھا کہانی کا انتخاب کرکے لکھا گیا ہے جس میںیہاں کی تہذیبوں میں پائی جانے والی مختلف ہندوستانی اشیائ کا ذکرکے ساتھ ساتھ ایشور(خدا) کا تصور بھی ہے۔ ایک مثال ملاحظہ کیجیے جس میں آغا حشر نے اپنے مکالمے کے ذریعے ایک نئی روح پھونک دی ہے اور ڈراما پڑھتے یا دیکھتے وقت ایک خدا سے ہم کو آشنا ہونے کا گمان ہوتا ہے۔

’’پربھاوتی: ہے ایشور!شان تیری لیلا من موہے لیا مگن سبھی

سہیلی: آؤ سکھی آج تو بہت دن چڑھے درشن دئیے۔ ایکانت میں بیٹھی ہوئی کیا کررہی تھیں؟

پربھاوتی: میں کھڑکی میں بیٹھی ہوئی شانت سبھاو کے ساتھ اس بہتی ہوئی ندی کی سیر دیکھ رہی تھی، اور ساتھ ہی من میں یہ وچار کررہی تھی کہ آخر یہ سندر ندی خوشی میں گنگناتی اور لہراتی ہوئی کس طرف کو جارہی ہے۔ وہ کون سی وستو پا شکتی ہے، جو اسے اپنی طرف بلا رہی ہے۔

سہیلی: بس یہ ندی بھی بن اور پربت کی گود سے نکل کر جو اس کے ماتا پتا کے سمان ہیں۔ راستے میں اپنی بڑی بہنوں سے ملتی ہوئی اپنے سسرال یعنی سوامی سمندر دیوتا کے چرنوں میں وشرام کرنے کے لیے جارہی ہے۔‘‘  ( آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے، عشرت رحمانی، جلد چہارم ، مجلس ترقی ادب لاہور، جون ۱۹۸۷، ص ۲۱۔ ۲۲۰)

ہندوستانی تہذیب میں عورتیں اپنے شوہر کو مجازی خدا تصور کرتی ہیں۔خواہ وہ کسی مذہب کی ہوں ، مذکورہ بالا مکالموں میں آغا حشر کاشمیری نے اس نسائی حسیت کو رمزیہ انداز میںپیش کیا ہے اور دو سہیلیوں کے سوال و جواب میں ندی اور سمندر کی مثال کو مرد اور عورت کے تعلقات کے ذریعے پیش کیا ہے ، جس میں ندی کو عورت کا استعارہ اور سمندر کو مرد کا استعارہ بنا کر پیش کیا ہے۔ یہاں پر یہ غور کرنے والی بات ہے کہ انسانی جبلت جو کہ مرد و عورت کو قدرت کی طرف سے عطا کی ہوئی اسے ندی اور سمندر کے رمز میں ڈراما نگار نے ہندوستانی پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔

ڈرامے میں مکالمہ نگاری نہایت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے، کرداروں کے جذبات و احساسات، خیالات و نظریات کے ساتھ ساتھ پلاٹ کو بھی آگے بڑھاتا ہے اور مکالمہ کے ذریعے ہی ڈرامے میں کسی کردار کی ظاہری اور باطنی خصوصیات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ آغا حشر نے اپنے ڈراما میں جہاں روز مرہ کی زبان کو قریب لائے ہیں وہیں مختلف علاقائی زبانوں اور بولیوں کو داخل کرکے تاثر پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ایکٹ کے دوسرے منظر میں سہیلیاں گانے کی شکل میں ایک گیت گاتی ہیں جس سے پوربی اور اودھی علاقے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

سہیلیاں:۔  بانکے چتون سے تاک تاک مارے کٹار رے کٹار

ابھیلا رنگیلا جوان، ابھیلا رنگیلا جوان،ابھیلا رنگیلا جوان

باتوں میں ٹونہ، نگاہوں میں جادو، گیسو میں دو کالے ناگ

جاؤ سکھی جاؤ موہے نہ بناؤ

میں ہوں ناری کنواری دکھیاری بچاری

چھیڑو نسو نیاں نہ سیاں میں پیاں پڑوں

بھئی جان موری ہلکان

ابھیلا رنگیلا جوان۔‘‘  ( ایضاّ، ص ۲۲۳)

آغا حشر کاشمیری نے پہلے ایکٹ کے تیسرے منظر میں ہندو مذہب میں شادی کے تصور کے بنیادی اصولوں کو ایک موقع پر کس خوبصورتی اور کمال کے ساتھ پیش کیا ہے وہ دیکھنے کے لائق ہے۔ رشی اور کشور کے مابین مکالمہ ملاحظہ کیجیے:

’’رشی:۔ بالکو!آنکھوں کا ملنا، ملنا نہیں ہے۔ اصل چیز دلوں کا ملنا ہے جب ایک کے دل میں دوسرے کی طرف سچا پریم اور سچا مان ہوگا تب ہی اس دنیا میں پتی اور پتنی کا کلیان ہوگا۔

کشور:۔ رشی راج! ایسا ہی ہے۔

رشی:۔کرم میں یوں ہی لکھا تھا کہ تم دونوں اس جگت میں ایک دوسرے کا سہارا ہو۔ اس لیے میں اس سرب ویاپک ایشور کے سامنے تم دونوں کو اپنا اپنا دھرم پالنے کے لیے لگن سمبندھ سے ایک کرتا ہوں۔ پتری یہ پتی تمہارے پرم دیوتا ہیں۔ پتر پتی تمہارا رھانگ ہے۔ دھرم ،ارتھ کام۔ موکھش انا چروں پدارتھوں میں دو پرش اور دو استری کے سہارے اپنا پھل دیتے ہیں۔ تم دونوں ایک دوسرے کی مدد سے ان چاروں کا پھل پاؤ۔ آؤ بچو ہاتھ ملاؤ۔ تم سب کا کلیان ہو۔‘‘  ( ایضاّ، ص ۳۴۔ ۲۳۳)

’’سلور کنگ‘‘ تین ایکٹ اور تیرہ مناظر پر مبنی اصلاحی، اخلاقی اور رومانس وجاسوسی سے معمور اپنی ہی قائم کردہ کمپنی، دی گریٹ الفریڈ تھیٹریکل کمپنی آف حیدر آباد کے لیے لکھا تھا۔ اس کا مرکزی خیال ہینری آرتھر جونز اینڈ ہینری ہرمن (Henry arther jones and henry  harman)سے اخذ کیا گیا ہے۔ آغا حشر نے ہمیشہ کی طرح اس کہانی کو بھی ہندوستانی ماحول و تہذیب اور یہاں کے رنگ میں ڈھال کر پیش کیا ہے، یہ ایک سیدھی سادی سی کہانی ہے جس میں افضل جوئے بازی اور شراب نوشی کی بدترین عادتوں کے باعث خود کو اور اپنے گھر بار کو تباہ کرلیتا ہے، لیکن بعد میں اس کو شرمندگی اور ندامت ہوتی ہے اور گھر واپس لوٹتا ہے، اس کے پاس پیسہ بھی ہے اور اس طرح افضل  اور پروین کے دوبارہ ملاقات پر ڈراما اختتام کو پہنچتا ہے۔ آغا حشر کاشمیری نے بری صحبت اور گندی عادتوں کے مضر اثرات کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اس ڈرامے میں پیش کیا ہے اور پورا ڈراما خواہ وہ کردار نگاری کی حیثیت سے ہو یا مکالمہ نگاری اور زبان و بیان کی حیثیت سے ہندوستانی فضا میں پیش کیا گیا ہے۔ آغا حشر اپنے دور کے ڈراما نگاروں میں زبان و بیان کی انفرادیت اور شستگی کی سطح پر سب سے الگ دکھائی دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے ڈراموں کے مکالمے عام بول چال میں ملتے ہیں۔ہندوستانی محاوروں اور کہاوتوں کو استعمال بھی عمدگی اور برجستگی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مثال ملاحظہ کیجیے، تیسرے ایکٹ کے چوتھے سین کا۔

’’پروین:تحسین!دودھ کا جلا ہوا چھاچھ کو پھونک کر پیتا ہے۔ سانپ کا کاٹا ہوا رسی سے ڈرتا ہے، اس لیے تحسین تم بھولے اور نیک آدمی ہو، اور جو بھولا اور نیک ہوتا ہے وہ جلد فریب میں آجاتا ہے۔

تحسین: (خود سے) اررر، یہ تو ڈھیلے کا گھرمٹی ہوا چاہتا ہے۔ کم بخت سمجھاؤں تو کیوں کر؟ مجھے تو جھوٹ بولنا اور بات بنانا بھی نہیں آتا۔ میری تو وہی مثل ہوئی کہ سچ کہوں تو ماں ماری جائے اور جھوٹ کہوں تو باپ کتا کھائے۔‘‘  ( کلیات آغا حشر کاشمیری۔ جلد سوم ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اپریل، جون ۲۰۰۵،۔ ص۶۔۴۰۵)

مذکورہ مکالمے میں جو محاورے استعمال ہوئے ہیں جو کہ ہندوستانی عوام کی بول چال میں خاص طور پر استعمال ہوتا ہے، جیسے جب کوئی آدمی کسی چیزسے نقصان اٹھالیتا ہے تو اگلا قدم سوچ سمجھ کر آگے بڑھاتا ہے، اس بات کو بتانے کے لیے مذکورہ محاورہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک کر پیتا ہے کا استعمال ہوا ہے، جب کہ دوسرا محاورہ’سچ کہوں تو ماں ماری جائے جھوٹ کہوں تو باپ کتا کھائے‘‘ کا مطلب  یہ ہوا کہ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جس کے کرنے میں بھی نقصان ہوتا ہے اور نہ کرنے میں بھی نقصان ہوتا ہے۔۔

آغا حشر کاشمیری اپنے ڈرامے میں محبوب کی جدائی اور اس سے پیدا ہونے والی مختلف کیفیات اور درد کو جو ایک معشوق ہی سمجھ سکتی ہے۔ ان واردات کو ایک اودھی گیت کی شکل میں پیش کیا ہے، جن میں دیہاتی الفاظ کے ذریعے پروین کا افضل کے فراق میں بے قرار ہوکر یہ گانا ملاحظہ کیجیے:

پروین:۔

بگیا مالی بنا سرمائے

پیا بن  پھول پات مرجھائے

آؤ تم میرے سکھ کے باسی

تم بن جیا را جائے

دن کو نکلیں سوریہ دیوتا

دیں جگ بھر اُجیار رے

پیا مرے پردیس سدھارے

گھر گھر بھیوا اندھیار رے‘‘  ( ایضاّ۔ ص۳۲۷)

مندرجہ بالا گانے میں ذکر کیا گیا ہے کہ افضل کو جب اپنی بری عادت پر شرمندی ہوتی ہے تو گھر لوٹتا ہے اور وہ پہلے کے مقابلے بدلا بدلا سا ہے۔ بھیس بدلا ہے، لیکن جب اصلی حالت میں آتا ہے تو تمام لوگ اسے پہچان لیتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی بیوی پروین بھی پہچان جاتی ہے اور افضل ، افضل بولتے  ہوئے بے ہوش ہوا چاہتی ہے کہ تمام کردار بہ یک وقت مل کر خوشیوں میں گانا گاتے ہیں جو خالص ہندوستانی زبان میں ہے۔

’’داتا رے، امن چمن سکھ سدا مگن رہیں مل گاؤ

منگل آج بھیو، امنگ، ترنگ، سو رنگ جماؤ

دکھ جات رہے دے سکھ امن سدا مگن رہے

صبح امید کا شمس فلک پہ چمن دمک نئی دکھاؤ

جگ کو بھاوے، گل کھلاوے، من بھاوے دھام کام گاری

ساتھی حشر کے دے سکھ امن سدا مگن رہو۔‘‘  ( ایضاّ۔ ص۴۱۰)

مذکورہ بالا اشعار میں یہ کہا گیا ہے کہ سب مل کر خدا سے دعائیں کریں کہ امن ، چین اور سکھ شانتی یعنی امن و امان قائم کریں، خوشی کا دن ہے ہر طرف امنگ، ترنگ اور رنگ جماؤ، دکھ اور تکلیف ختم ہوجائے صرف امن اور شانتی ہمیشہ برقرار رہے۔ امید کی روشنی اور چمک دمک آسمان پر نئی دکھاؤ، دنیا کو اچھا لگے، پھول کھلا ہو اور دل کو بھی سکون ملے اور سب لوگ ہمیشہ امن و امان اور یکجہتی کے ساتھ خوش رہیں۔

’’ خواب ہستی‘‘نیو الفریڈ تھیٹریکل کمپنی آف بمبئی‘‘ کے لیے لکھا گیا یہ ڈراما آغا حشر کے کامیاب ڈراموں میں سے ایک ہے۔ یہ ڈراما ۱۹۰۸ میں لکھا گیا تھا۔ تین ایکٹ پر مبنی یہ ڈراما شیکسپئر کی معرکتہ الآرا ٹریجڈی ’ میکبتھ‘‘(Macbeth)سے ماخوذ ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی جاگیر دارانہ ذہنیت کی نقاب کشائی کرتی ہے جو اس وقت کی ہماری ہندوستانی ماحول و تہذیب کی گٹھی میں پڑ چکی تھی۔ جہاں اقتدار کی ہوس باپ کو قتل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ نواب اعظم اپنے فرزند کی غلط حرکتوں اور بد اعمالیوں سے تنگ آکر اسے سمجھاتا ہے کہ فضیحہ اور عباس کا ساتھ چھوڑ دے لیکن نصیحت اس کے کار گر نہیں ہوتی ، آخر نواب اعظم اپنی تمام دولت بھتیجی کے نام لکھ دیتا ہے۔ صولت(نواب اعظم کا بیٹا) حسنیٰ(فیروز کی بہن اور صولت کی عاشق) کو اس کے لیے آمادہ کرتا ہے کہ وہ رضیہ کے صندوق سے وصیت نامہ غائب کردے۔ حسنیٰ وصیت نامہ حاصل کرلیتی ہے لیکن جب صولت اس کی محبت ٹھکرا دیتا ہے تو وہ وصیت نامہ کو رضیہ کے صندوق میں واپس رکھ دیتی ہے۔آخر میں صولت کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے ، وہ اپنی حرکتوں پر پشیماں ہوتا ہے، اور توبہ کرتا ہے۔ اس کی شادی حسنیٰ سے ہوجاتی ہے اور اس طرح ڈراما ختم ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ حشر کے اکثر ڈرامے ہندوستانی ماحول میں لکھے گئے ہیں، اور ان ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب کی عکاسی جابجا نظر آتی ہے۔مذکورہ ڈراما  کا آغاز ہی چند سہیلیوں کے اس گیت سے ہوتا ہے جسے ہم خالص ہندوستانی گیت کہہ سکتے ہیں، پہلے ایکٹ کے پہلے منظر میں  نواب اعظم کا دیوان خانہ ہے جہاں سہیلیاں یہ گانا گاتی ہوئیں داخل ہوتی ہیں، جس میں واضح طور پرہندوستانی تہذیب کی عکاسی دیکھ سکتے ہیں۔۔ مثال ملاحظہ کیجیے:۔

مالک پیارا، جگ ساگر سے تارن ہارا

سرجن ہارا ہے نیارا

ہم ہیں تمہرے دوارا

مالک پیارا…

دکھ روپی سنسار میں کام نہ آوے کوے

پھنسے جو آمنجدھار میں پار تمہیں سے ہوے

سگر جگت نس دن ، پل پل چھن چھن

انت ہے دیا کے دھیان

جیا کے دھام، تیرو ہی نام

داتا  مالک پیارا…‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۲۶)

یہ ایک حمدیہ کلام ہے جس میں سہیلیاں ایشور یعنی خدا کی حمد و ثنا کرتی ہوئیں، مالک کائنات کی تعریف و توصیف بیان کرتی ہیں اور اپنی ضروریات خداکے سامنے رکھتی ہیں۔ اس گیت میں اردو ہندی الفاظ  کے میل جول سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی عکاسی نظر آتی ہے۔ جیسے سرجن ہارا، نیارا، دوار، سنسار، ساگر، جگت، منجھدار، انت، جیا وغیرہ ہندی اور اردو کے ہیں۔

مذکورہ ڈرامے میں ڈراما نگار نے ہندوستان کے مختلف موسموں کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہاں پائے جانے والے پھولوں کا ذکر بھی ہے جیسے جوہی، چمپا،وغیرہ اور بہار کے موسم کی خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اس موسم میںہر طرف سر سبزی و شادابی ہوتی ہے جنگل بھی چمن کے مانند نظر آتا ہے، پھول کھلتے ہیں، کوئل اور پپیہا کی خوبصورت اور دل کو چھو جانے والی آواز یں کانوں میں رس گھولتی سنائی دیتی ہیں، گویا ہر طرف بہار کا موسم چھایا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ایکٹ کے پانچویں سین کا گیت ملاحظہ کیجئے۔

’’کیا بہار چھائی دیکھو پھولا ہر یالا جی

ڈالی ڈالی پرکھلیاں

جوہی چمپا کی کلیاں

بن بھی چمن بن گیا ہے رنگت والا جی

کیا بہار چھائی…

ہری ہری ڈالیاں

جی من ہری ہری ڈالیاں

بولت پپیہا رہ

لبھاوت ہے جیا رہ

دل پہ سمدا گل کی ادا ہے

آؤ پیاری گائیں

ساری پھول ہے ہریالا جی

کیا بہار چھائی…‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۴۴)

آغا حشر نے اس ڈرامے میںمختلف مذہبی رسوم کابھی ذکر کیا ہے جیسے ہماری ہندوستانی تہذیب میں تمام مذاہب کے پیروکار اپنے مذہب کے مطابق نذر و نیاز پیش کرکے اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔ اس ڈرامے میں ہندو عقیدے کے مطابق دیوی کو بھینٹ دینا(نذر و نیاز پیش کرنا)بھی موجود ہے۔ پجاری جب فضیحہ کو پکڑ کر لاتے ہیں اس وقت کے مکالمے ملاحطہ کیجئے، جن میں ہم دیوی اور دیوتاؤں کو نذر پیش کرنے کی مثال واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں

’’گرو:۔ جیتے رہو بچہ، جیتے رہو، یہ کیا ہو رہا ہے؟

فضیحہ:۔ ہو کیا رہا ہے، ہماری شادی ہے، براتیوں کو کھانا نہیں ملا تو ہمیں کو کھانے کی فکر میں ہے۔

پجاری ۲:۔ دیوی کو بھینٹ دے رہے ہیں۔

گرو:۔ نہیں بابا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے،انسان کی قربانی کا حکم دیوی نے نہیں دیا ہے۔

فضیحہ:۔ یہ خدا پرست بھیڑیا ٹھیک کہتا ہے۔

پجاری ۳:۔ لیکن بھینٹ کا حکم تو دیوی ہی نے دیا ہے۔‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۱۲۰)

آغا حشر کاشمیری کا ایک دیگر ڈراما’’ خوبصورت بلا‘‘ ہے۔ جو چار ایکٹ اور ۲۳ مناظر پر مشتمل ہے اور ۱۹۰۹ میں لکھا گیا ہے۔اس ڈرامے میں نیکی اور بدی کو پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے میں شمسہ اور طاہرہ کا کردار کافی اہم ہے۔ شمسہ ایک دنیا پرست خاتون ہے جو اقتدار اور حکومت حاصل کرنے کے لیے برے سے برا کام کرنے کے لیے تیار رہتی ہے اور اقتدار کے لیے اپنے بھائی تک کا قتل کرادیتی ہے، یہاں تک کہ بھتیجے کو بھی ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اپنے ناپاک ارادے میں وہ کامیاب نہیں ہوپاتی۔ جب کہ بر خلاف اس کے توفیق وفادار، حق پسند اور صاف گو ہے۔ توفیق اور شمسہ کے درمیان جنگ ہوتی ہے شمسہ کو شکست ہوتی ہے اور وہ گرفتار کرلی جاتی ہے۔ غیرت کی وجہ سے وہ خود کو اور قتلو کو قتل کردیتی ہے۔ ڈرامے کے اختتام پر سہیل شاہی تخت پر حکمراں ہوتا ہے ، وہ اپنا تاج پہلے طاہرہ کے سر پر رکھتا ہے اور پھر مسند نشیں ہوتا ہے، اور بالآخر نیکی کی بدی پر فتح ہوتی ہے۔

آغا حشر کاشمیری نے مذکورہ ڈراما بھی ہندوستانی تناظر میں پیش کرکے سماجی برائیوں کی نشاندہی کی ہے اور اس ڈرامے میں یہاں کی تہذیبی فضا کو قائم رکھا ہے۔

آغاحشر ڈرامے کو فکر و عمل کا آئینہ دار، زندگی کے سنجیدہ پہلوکا ترجمان اور سماجی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اس لئے ان کے نزدیک مقفیٰ نثر اور بے سرو پا موضوعات نہیں ہے بلکہ معاشرتی، مذہبی، اصلاحی موضوعات کو ڈرامے میں داخل کرکے خالص ہندوستانی ماحول میں پیش کرتے ہیں۔ مذکورہ ڈرامے کے مکالمات یا گانوں پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دکھائی پڑتا ہے کہ ڈراما نگار نے روز مرہ اور ہمارے آس پاس کی زبانوں میں ہی مکالمات ادا کرائے ہیں۔ مثال کے طور پر پہلے ایکٹ کے چھٹے منظر میں تسنیم کی سہیلیاں گیت کی شکل میں ایک گانا گاتی ہیں جو خالص ہندوستان کے اودھی اور اس کے آس پاس کی زبان میں ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔

گوری چلو نہ ٹھاڑو اکیلی البیلی

دیکھو بالا سا جو بنالوٹے نا کوئی نویلی البیلی

سکھی ری میں ہاری، میں ہاری، میں ہاری

موہے نہ ستاو، جی جاؤ

کون رنگیلے رسیلے سے پیاری،نیہا لگایا بتاؤ، جاؤ

اب نہ بولوں گی تم سے گوئیاں رار نہ مچاؤ

گئیں سب جان سکھیاں، کرکے گھات، کاہے چھپات، من کی بات

بھید کہت ہے موہنی انکھیاں، ہاں گوری  ( ایضاّ۔ ص ۲۰۱۔ ۲۰۰)

مذکورہ مثال میں ہندی،پوربی کے ملے جلے الفاظ میں معشوق کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیاہے کہ گوری تم اکیلی اس طرح سے بن سنور نکلا مت کرو کیونکہ میں ہار چکی ہوں مجھے اور مت ستاؤ۔آگے تسنیم کی سہیلیاں پوچھتی ہیں کہ کس رنگیلے اور رسیلے سے تم نے دل لگایا ہے جلدی بتاؤ۔تمام سکھیاں تمہاری محبت کی باتیں چھپ کر سن لی ہیں اس لئے مت چھپاؤ۔ تمہاری خوبصورت آنکھیں، تمہارے دل کا بھید بتا رہی ہیں۔

آغا حشر واحد ایسے ڈراما نگار تھے جنھیں ڈرامے کی زبان و بیان پر مکمل دسترس حاصل تھی، جہاں وہ مقفیٰ و مسجع الفاظ استعمال کرتے وہیں عام فہم کردار کی مناسبت سے بھی مکالمہ ادا کراتے تھے، علاوہ ازیں ہندوستانی محاوروں اور کہاوتوں کا استعمال بھی خوبصورتی سے کرتے ہیں۔ چند نمونے ملاحظہ کیجئے۔ پہلے ایکٹ کے چوتھے منظر کا مکالمہ:۔

’’طغرل:۔ اگر اس قلعہ کو تہس نہس کرکے اینٹ سے اینٹ نہ بجادوں، جس قید خانے سے بھاگ نکلا ہے، پھر زنجیروں میں جکڑ کر اسی قید خانے میں نہ پہنچادوں تو مجھے قتلو بیٹا طغرل نہ کہنا۔‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۱۸۳)

دوسری مثال ملاحظہ کیجیے، پہلے ایکٹ کے چھٹے سین سے۔

ماشائ اللہ:۔ سچ ہے باوا۔ کباب میں ہڈی کی کیا ضرورت ہے۔‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۱۹۷)

دوسرے ایکٹ کے ساتویں منظر سے مزید ایک مثال ملاحظہ کیجئے۔

ممتاز:۔جھوٹے کے منھ میں خاک۔‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۲۵۴)

پہلی مثال میں ڈراما نگار نے ’’ اینٹ سے اینٹ بجانا‘‘ استعمال کیا ہے، جس کا مطلب شکست دینا ، یا مات  دینا ہے، جب کہ دوسری مثال میں ’’ کباب میں ہڈی‘‘ آیا ہے جس کے معنی دو لوگوں کے درمیان کسی تیسرے شخص کا حائل ہوجانا ہے، اسی طرح تیسری مثال میں’’ جھوٹے کے منھ میں خاک‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں جو شخص جھوٹ بولے اس کے منھ میں خاک یعنی مٹی پڑے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ڈراما نگار نے ہندوستان میں مروج محاورے جو ہماری تہذیب میں داخل ہیں ان کا خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا ہے

آغا حشر جوں جوں ارتقائی منزلیں طے کرتے گئے تو ان کے ڈراموں میں سماجی، اصلاحی اور تہذیبی قدریں زور پکڑتی گئیں۔ اسی مہم کے اندر انہوں نے ڈراما’’ ترکی حور‘‘ لکھا۔ اس ڈرامے میں بھی شراب نوشی، قمار بازی اور طوائفوں سے تعلق رکھنے کے برے نتائج کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ ڈراما تین ایکٹ پر مشتمل ہے اور میڈن تھئیٹر لمیٹیڈ کی اوریجنل پارسی الفریڈ تھیٹریکل کمپنی آف بمبئی کے لیے ۱۹۲۲ میں لکھا گیا۔ اس ڈرامے میں ہندوستانی بیوی کا مثالی کردار پیش کیا گیا ہے۔جو شوہر کے انتہائی نار و اسلوک اور حد درجہ پریشانی کے باوجود بھی شوہر پرستی ترک نہیں کرتی  اور ہندوستانی تہذیب و ماحول میں اپنی وفاداری کا ثبوت دیتی رہتی ہے۔ مثال ملاحظہ کیجئے۔

لیلیٰ:۔ دیکھو دیکھو یہ ہوش میں آرہی ہے۔

رشیدہ:(ہوش میں آکر) معاف کرو، میرے پیارے معاف کرو۔(آنکھ کھول کر) یہ گھر میں پولیس کیسی؟ ارے یہ کیا۔ انہیں کیوں گرفتار کرلیا ہے؟

افسر:۔ خون کے جرم  میں۔ تم بچ گئیں تو بھی اسے سخت سے سخت سزا ملے گی۔

رشیدہ:۔سزا ملے گی۔میرے سر تاج کو، میرے سکھ سہاگ کے مالک کو ، کس لیے؟

افسر:۔ اس لئے کہ اس نے جان لینے کے ارادے سے تمہیں چھری ماری ہے۔

رشیدہ:۔ چھری ماری، انہون نے کس وقت، کس نے دیکھا، نہیں جھوٹ ہے، انہوں نے مجھے چھری نہیں ماری۔

انور:۔ اس کی بات کا یقین نہ کیجئے۔ اس کے دل کا ذرہ ذرہ خاوند کی محبت سے لبریز ہے، اس لئے وفاداری کے جوش میں شوہر کی جان بچانے کے لئے جھوٹ بول رہی ہے۔‘‘  ( کلیات آغا حشر کاشمیری، جلد چہار م ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،اپریل، جون ۲۰۰۵، ص ۲۳۵)

شراب نوشی کے خلاف آغا حشر کاشمیری نے جو مہم چلائی تھی اور اپنے ڈراموں کا موضوع سخن بنایا جس کی وجہ اس وقت لاکھوں لوگوں نے شراب پینا چھوڑ دی اور کوٹھوں پر جانے والوں نے توبہ کرلی اور آج بھی ان ڈراموں کا اتنا گہرا اثر ہوتا ہے جس کو کوئی جواب نہیں۔ رشیدہ کی زبانی دوسری مثال ملاحظہ کیجیے۔

رشیدہ:۔شراب، شراب، ارے شیطان کی بیٹی، گناہوں کی ماں، بوتل میں رہنے والی چڑیل، تو نے اس ملک کی کیا حالت کردی۔ آج مسجد، گرجے، شوالے آدمیوں سے خالی اور ہوٹل اور شراب کی دکانیں آباد ہورہی ہیں۔ دولت اور تندرستی دے کر موت خریدی جارہی ہے۔ بے وقوف اور پاگل بننے کو زندگی کا مزہ سمجھا جارہا ہے۔ جا، جا،جہاں سے پیسو ں اور بوتلوں میں بند ہو کر ہزاروں بیماریوں اور برائیوں کو ساتھ لیے ہوئے آئی ہے، وہیں واپس جا‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۴۴۔ ۱۴۳)

مذکورہ دونوں مثالوں کو اگر ہم غور سے دیکھیں تو بین السطور میں ہمیں اپنی تہذیب کی عکاسی اور اپنی ذہنیت بھی نظر آتی ہے۔ڈراما نگار نے مکالموں میں الفاظ کا انتخاب کس ہنر مندی اور فن کاری سے کیا ہے کہ ہمیں اس میں بہ یک وقت ہندوستانی تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور قدروں کی اہمیت و افادیت، صاف صاف دکھائی پڑتی ہے۔

مذکورہ ڈرامے کے پہلے ایکٹ میں چھٹے سین میں جب طارق اور زیاد دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے ہوٹل ارمنی کی طرف جاتے ہیں تو اسی درمیان لیلیٰ پھول بیچتی ہوئی آتی دکھائی دیتی ہے اور یہ گیت گاتی ہے جو خالص ہندوستانی میں ہے اوراس میں مختلف ہندوستانی پھولوں کے نام ہیں۔ مثال پیش ہے۔

لیلیٰ:۔میرے پھول رنگیلے، آؤ رسیلے لوٹو بہار

چن چن کلیاں میں بے چن لائی، لے لو البیلے بیلے کا ہار

جوہی، چمیلی کی دیکھو رے جوتی۔ دھاگے میں پروئے ہیں موتی

مند سگندھ تھکن سب کھوتی

بیچت ہوں میں سکھ اور سنگار، میرے پھول…‘‘  ( ایضاّ۔ ص ۱۶۵)

مذکورہ گیت میں ہندوستانی عناصر کی گہری چھاپ موجود ہے۔ مثال کے طور پر جوہی، چمیلی ہندوستانی پھولوں کے نام ہے، اسی طرح جوتی، مند سگندھ اور سکھ و سنگھار ایسے الفاظ ہیں جو ہماری مقامی تہذیب و تمدن کی واضح مثال ہے جس سے ہندوستانی ثقافت، روایت کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔

آغا حشر کاشمیری کا ایک دیگرڈراما’’ اسیر حرص‘‘ ہے۔اس کا موضوع بھی ظلم و ستم کے خلاف صدائے احتجاج ہے جو روح عصر کے عین مطابق ہے۔ حشر نے اسے ہندوستانی رنگ میں ڈھال کر قوم و وطن سے محبت اور جذبے کو ابھارا ہے۔ جب کہ ڈراما’’ بلوا منگل‘‘ہندو معاشرت کے پس منظر میں لکھا گیا ایک جذباتی ڈراما ہے۔ اس ڈرامے میں سماج کا گہرا تاثر پایا جاتا ہے۔ جنسی بے راہ روی، طوائفوں کے سبب ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے بگاڑ اور ہندوستانی عورت کی وفا شعاری کے جذبوں کو موضوع بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ آغا حشر کاشمیری نے اپنے ڈراموں میں شاندار تاریخی تہذیبی و ثقافتی روایت کو اقتضائے حال کے موافق ہندوستانی ماحول میں تخلیق کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے۔ آغاحشر نے سماج میں پھیلی برائیوں کو جو اس وقت عام تھیں طشت از بام کیا اور اس کے خلاف آوازبلند کی۔ عصمت فروشی، شراب نوشی اور جہیز جیسی سماجی برائیوں سے احتراز کا سبق دیا اور ساتھ ساتھ حب الوطنی اور جد جہد آزادی کے جذبات پیدا کرنے کی کامیاب کوشش بھی کی۔ حشر کے ڈراموں میں عصری حسیت اور سماجی و تہذیبی معنویت بدرجہ اتم موجود ہے۔آغا حشر کاشمیری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ایسے وقت میں انہوں نے اصلاحی، سماجی و تہذیبی موضوعات کا انتخاب کیا جب اردو ڈراما پارسی تھیٹر کی بندشوں میں جکڑا ہوا تھا اور پارسی تھیٹر کے مالکوں کے سامنے صرف حصول دولت ہی مقصد تھا۔ آغا حشر کی اہمیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے ڈرامے کی روایت کو ہمارے مزاج سے ہم آہنگ کیا۔ ہمیں ڈرامے کے عملی مفہوم سمجھائے، ڈراما پیش کرنے اور دیکھنے کا سلیقہ دیا۔ لہٰذا اردو ڈرامے کا ذکر آغا حشر کاشمیری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ڈرامے پر ان کے جو احسانات ہیں ان کو بھلایا نہیں جاسکتا۔

 

 

R253, Gali no2 Al-Taqwa Masjid

Joga Bai exten. Jamia Nagar New Delhi25

Mb:9810102723

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
"تدوین تحقیق سے آگے کی منزل ہے” ایک تحقیقی مطالعہ – وقاص علی
اگلی پوسٹ
مدر ٹریسا فاؤنڈیشن انڈیا کے تحت شبیر رضوی کو ضلع چیئرمین نامزد کیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں

پریم چند کا ڈرامہ "کربلا” کا تنقیدی جائزہ...

جون 20, 2023

بچپن کی شادی – نکہت پروین

جون 7, 2023

ڈرامہ ’’ضحاک‘‘کی عصری معنویت – ڈاکٹر ابراہیم افسر

مارچ 17, 2021

آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...

جنوری 8, 2021

ڈرامہ’’اس شکل سے گزری غالب‘‘ایک مطالعہ – ڈاکٹر...

جنوری 6, 2021

ریوتی سرن شرما کی ڈراما نگاری – قرۃ...

دسمبر 8, 2020

ڈرامائی ادب کی ترویج میں جامعہ ملیہ اسلامیہ...

اکتوبر 28, 2020

ہندستان میں ڈرامے کی عوامی روایت کا فروغ...

ستمبر 26, 2020

غالب پرتحریر کردہ ڈرامے اور محمد حسن- ڈاکٹرجاوید...

ستمبر 19, 2020

حبیب تنویر: لوک تھیٹر کی بازیافت-محمدشاہ نواز قمر

ستمبر 8, 2020

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں