Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ڈرامہنصابی مواد

حبیب تنویر: لوک تھیٹر کی بازیافت-محمدشاہ نواز قمر

by adbimiras ستمبر 8, 2020
by adbimiras ستمبر 8, 2020 0 comment

ہندستان کے تہذیبی افق پر حبیب تنویر (1923-2009)ایک ایسے روشن ستارہ کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی تابانی کا تمام تر دارومدار اس جدت و روایت کے حسین امتزاج میں پوشیدہ ہے جو اپنے فن کا خمیرعوامی روایت سے اٹھاتے ہیں اور اسے عصر حاضر کے مسائل و امکانات سے وابستہ کر کے ایک نئی جہت عطا کردیتے ہیں۔حبیب تنویر کی یہی وہ خصوصیت ہے جو انھیں جدید ہندستانی ڈرامے کے معماروں میں شامل کرتی ہے ۔ اردو قارئین اور ڈرامے کے شائقین بالعموم حبیب تنویر کو ان کے شہرۂ آفاق ڈرامے ’’ آگرہ بازار‘‘(1954) کے خالق کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نظیر اکبرآبادی کی زندگی اور ان کی نظموں کی مدد سے تیارشدہ ’’آگرہ بازار‘‘ میں اس عہد کی تہذیبی، سماجی اور سیاسی زندگی کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے لیکن ’’آگرہ بازار‘‘ کی غیر معمولی کامیابی کا راز اس کی پیش کش میںپوشیدہ ہے۔ پرشکوہ اسٹیج، پیش کش کا نرالا انداز اور مختلف پس منظر رکھنے والے تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ اداکاروں کا غم غفیر اردو دنیا ہی نہیں ہندستانی تھیٹر کے شائقین کے لئے بھی ایک نیا تجربہ تھا جو ’’آگرہ بازار‘‘ کو اردو ڈرامے کی روایت میں ایک امتیازی شان عطا کرتا ہے اور حبیب تنویر اردو ڈرامے کی تاریخ کا ایک اہم باب بن جاتے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ حبیب تنویر کے ڈرامائی سفر میں ’’آگرہ بازار‘‘ کی حیثیت منزل کی نہیں ابتدائے سفر کی ہے جو انھیں ’کھوئے ہوؤں کی جستجو‘ کی طرف لے جاتی ہے۔

حبیب تنویر کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ انھیں کسی ایک چوکٹھے میں قید کر کے دیکھا نہیں جاسکتا۔ بیک وقت متنوع صلاحیتوں اور خوبیوں کے حامل ایسے افراد صدیوں میں دو ایک مشکل سے ہی پیدا ہوتے ہوں گے۔وہ بیک وقت ڈرامانگار، اداکار، ہدایت کار، گیت کار، گلوکار، منتظم، اسٹیج ڈیزائنر، کاسٹیوم ڈیزائنر سبھی کچھ تھے یعنی کہ وہ چلتے پھرتے، جیتے جاگتے تھئیٹر کا مجسم نمونہ تھے۔ ان کے متعلق میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ہندستانی تھئیٹر کی تاریخ میں وہ فرد واحد ہیں جنھیں ایک ساتھ تھئیٹر کی تمام جزئیات پر مکمل دسترس حاصل تھی۔

اگرچہ حبیب تنویر چھتیس گڑھ کے رائے پورضلع کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن رقص و موسیقی اور گیت و سنگیت وہاں کی تہذیبی فضا میں اس طرح گھلے ملے تھے کہ بچپن میں ہی وہ ان کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔ ’’بچپن میں پہلی بار جو تھئیٹر دیکھا اور نیچے سے اوپر اٹھتے ہوئے پردے کا چمتکار، تو میں مبہوت ہوگیا۔ ہیروئن کے رول میں بھائی جان اور ہیرو جانباز کے رول میں ہمارے پڑوسی لطف اللہ تھے۔ جب ہیرو زنجیروں میں بندھا جیل میں ڈال دیا گیا اور ہیروئن رو رو کر بین کرتی رہی تو دَرشکوں میں بیٹھا میں بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، اور میری ہچکیاں بندھ گئیں‘‘1؎    ابھی وہ دوسری جماعت کے طالب علم ہی تھے کہ انھوں نے اسٹیج کا عملی تجربہ کیااور ’’گوہر افلاس، عرف پولش والا‘‘ میں ایک جوتے پالش کرنے والے لڑکے کا مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کے بہترین پرفارمینس کی وجہ سے انھیں’’ٹھاکر لال سنگھ سلور کپ‘‘ سے بھی نوازا گیا۔اسکول اور کالج کے زمانے میں ہی انھوں نے کئی ملکی اور غیر ملکی ڈراموں میں حصہ لیا اور اپنی بہترین کارکردگی اور دلکش آواز کے ذریعے ناظرین کو مبہوت کیا اور داد و تحسین وصول کی۔ اداکاری اور فلم بینی کے شوق نے ہی بالآخر انھیں رسمی تعلیم سے بھی دور کر دیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تھے جب انھوں نے مختلف پوزوں میں اپنی تصویریں کھنچوائیں اور ممبئی بھیج دیں اور پھر خود بھی ممبئی پہنچ گئے۔فیکٹری میں کام کیا، فلموں میں اداکاری کی، ریڈیو کے لئے تبصرے لکھے،کئی ہندی انگریزی اخبارات کی ادارت سنبھالی اور ’’اپٹا‘‘ کے قیام (1943ء)کے ساتھ ہی اس سے عملی طور پر وابستہ ہو گئے۔ یہیں پر انھوں نے ڈرامے کی مختلف ہیئتوں، لوک فارموں، علاقائی گیتوں سے شناسائی حاصل کی اور ادب و آرٹ کو ایک بڑے مقصد کے حصول کا ذریعہ بنایا۔عوامی فلاح و بہبود کا شدید جذبہ ان کے دل میں یہیں پر جاگزیں ہوا اور اسی کی تبلیغ و تشہیرمیں انھوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔

آزادی کے بعد جب اپٹا کا زوال ہوا وہ دہلی آگئے۔ اسی دوران ’’یوم نظیر‘‘ کے سلسلے میں اپنے دوست اطہر پرویز کی فرمائش پر انھوں نے’’آگرہ بازار‘‘ (1954) لکھا۔ آگرہ بازار کی غیر معمولی مقبولیت نے انھیں اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں امر کردیا۔ لیکن ’ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب‘ کے مصداق وہ ’دشت امکاں‘ میں سالوں سال بھٹکتے رہے۔ تھئیٹر کی مزید تعلیم کے لئے لندن (1955ء) گئے۔ وہاں انھوں نے رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس(RADA) میں تھیٹر کی رسمی تعلیم حاصل کی، پھر برسٹل اولڈ وِک تھیٹر اسکول کے مشہور و معروف تھیٹر پروڈیوسر ڈنکن راس (Duncan Ross)سے پیش کش، اسکرپٹ نگاری، پروڈکشن اور مکھوٹا سازی کا فن سیکھا۔ پورے یورپ کا دورہ کیا، مختلف علاقوں کا تھیٹر دیکھا، برتولت بریخت (1898-1956)سے ملنے جرمنی گئے لیکن تب تک ان کی وفات ہو چکی تھی۔ وہاں ان کے قائم کردہ تھیٹر گروپ Berliner Ensemble میں ان کے ڈراموں کو دیکھا اور ان کے فن کوباریکی سے سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے جس فارم کی تلاش میں بھٹک رہے تھے اس کی جھلکیاں انھیں بریخت کے یہاں دکھائی دیں۔واپسی پر جب انھوں نے اپنے علاقے میں رائج چھتیس گڑھی لوک ناٹک ’’ناچا‘‘ کا تنقیدی جائزہ لیا تو ان کے حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ’ناچا‘ سیکولر ڈراما کی ایک چھتیس گڑھی شکل ہے جس میں ناچ اور گانے کی مدد سے کسی کہانی کو کھلے منچ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناچا کلاکاروں کی حیرت انگیز اداکاری اور رقص و موسیقی کی صلاحیت و قابلیت سے وہ اتنے مبہوت ہوئے کہ انھیں اپنے ساتھ دہلی آ کر کام کرنے کی پیش کش کردی۔ مدن لال، ٹھاکر رام، بابوداس اور بلوا رام ان چھتیس گڑھی کلاکاروں میں ہیں جنھوں نے حبیب تنویرکی پیشکش پر لبیک کہتے ہوئے جدید ہندستانی تھیٹر میں ایک نئے رجحان کی بنیاد ڈال دی۔ مرکزی ہندستانی تھیٹر میں لوک اداکاروں کے ذریعے لوک فارموں کی پیشکش ایک بالکل نئی چیز تھی جس کا سہرا پوری طرح حبیب تنویر کے سر جاتا ہے۔

لیکن ان فن کاروںکو مین اسٹریم تھیٹر میں پیش کرنا حبیب کے لئے آسان نہیں تھا۔ ان کے سامنے مختلف دقتیں آئیں۔ سب سے پہلے جب انھوں نے ان کلاکاروں کو بیگم قدسیہ زیدی کے ’’ہندستانی تھیٹر‘‘ کے منچ پر اتارا تو بیگم قدسیہ کو ان دیہاتی فن کاروں کی شکل و شباہت بالکل پسند نہیں آئی۔ ان کے مطابق تھیٹر جوان، خوبصورت اور مہذب فن کاروں کا تقاضا کرتا ہے اور چھتیس گڑھ کے یہ کلاکار ان معیارات پر پورے نہیں اترتے۔جبکہ حبیب کی رائے بیگم قدسیہ سے بالکل مختلف تھی اور نتیجتاً انھیں ’’ہندستانی تھیٹر‘‘ کو خیرآباد کہنا پڑا۔

حبیب تنویر اور مونیکا مشر (جن کے ساتھ بعد میں حبیب تنویر کی شادی ہوئی)نے مل کر ایک ناٹک منڈلی قائم کی اور اس کا نام ’’نیا تھیٹر‘‘ (1959)رکھا۔ حبیب تنویر پر اب کوئی پابندی نہیں تھی اور اب وہ ڈرامائی پیشکش میں آزاد تھے۔ نیا تھیٹر کے بینر تلے انھوں نے شہری اور دیہی فن کاروںکے ساتھ مل کر تجربہ کرنا شروع کیا اور مختلف ڈرامے جیسے ’’سات پیسے‘‘، ’’جالی دار پردے‘‘ ، ’’شطرنج کے مہرے‘‘، ’’مرزا شہرت بیگ‘‘، ’’رستم و سہراب‘‘اسٹیج کئے لیکن انھیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔

1973کے بعد حبیب تنویر نے رنگ منچ سے متعلق میںاپنی سوچ و فکر پر ازنو غور کرنا شروع کیا۔ چھتیس گڑھ کے وہ فن کار جنھیں اپنے ساتھ وہ بڑی امیدوں سے لائے تھے ،ان کی امیدوں پر پورے نہیں اتر رہے تھے۔ جبکہ وہ ان کی صلاحیتوں کے معترف اور خوبیوں سے بخوبی واقف تھے۔اپنے فن میں کامل ہونے کے باوجود وہ حبیب کی ہدایتوں پر پوری طرح عمل نہیں کر پا رہے تھے۔ حبیب تنویر اس دوران مختلف ریاستوں کے لوک کلاروں سے مل چکے تھے، ان کے ساتھ کئی ورکشاپ بھی کرچکے تھے، مگر کوئی کمی تھی جسے وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے اور اس کا غصہ وہ اکثر اپنے آرٹسٹوں پر نکالتے۔ کئی برسوں کے تجربے اور متواتر ناکامی کے بعد بالآخر انھیں یہ بات سمجھ میں آئی کہ جن لوک کلاکاروں کے ساتھ وہ کام کر رہے ہیں انہوں نے نہ تو کبھی کوئی رسمی تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی ان کی مادری زبان اردو ہے۔ اول تو یہ کہ حبیب تنویر اب تک جو ڈرامے پیش کر رہے تھے وہ اردو کے تھے اور ناچا کلاکاروں کی مادری زبان چھتیس گڑھی تھی اور وہ اردو اچھی طرح نہیں بول سکتے تھے۔ دوسری سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی بھی طرح کی بندش کے عادی نہ تھے یعنی وہ کھلے میدان میں ڈراما کرنے والے آزاد کلاکار تھے جہاں حرکت و عمل پر کوئی پابندی نہ تھی۔ حبیب تنویر ان ناخواندہ فنکاروں پر اپنی مغربی تعلیم اور اردو زبان تھوپ رہے تھے۔  حبیب تنویر اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ان فوک اداکاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے دو بنیاد ی غلطیوں کو محسوس کرنے میں مجھے کافی وقت لگ گیا: مادری زبان اور حرکت و عمل کی آزادی۔۔۔ کہ میں[اب تک] اپنی انگریزی تربیت ان دیہاتی اداکاروں پر تھوپنے کی کوشش کر رہا تھا-ترچھے ہو کر چلو، کھڑے ہوجاؤ، بات کرو، یہاں جاؤ، وہاں جاؤ۔ مجھے یہ سب بھولنا پڑا۔‘‘2؎

مادری زبان کاا ستعمال اور حرکت و عمل کی آزادی کے ساتھ امپرووائزیشن کی تکنیک نے جیسے ان کلاکاروں کے فن میں جان ڈال دی۔ ان کی اداکاری میں وہ قوت اور لچک لوٹ آئی جس کی ان سے امید کی جاتی تھی۔ اسی دوران حبیب تنویر نے رائے پور میں ایک ناچا ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ چھتیس گڑھ کی مختلف ناچا منڈلیوں نے اس ورکشاپ میں شرکت کی۔ اس ورکشاپ کا مقصد ایک ایسا ڈراما تیار کرنا تھا جو ہیئت و موضوع دونوں اعتبار سے ’ناچا‘ سے ماخوذ ہو۔  اسی ورکشاپ کا حاصل ان کا مشہور ڈراما ’’گاؤں کا ناؤ سسرال مور ناؤ داماد‘‘ تھا، جسے تین مختلف لوک کہانیوںمیں تھوڑی بہت تبدیلی کر کے ایک کولاژ کی صورت میں انھوں نے پیش کیا تھا ۔ حبیب کا یہ تجربہ کافی کامیاب رہا اور چھتیس گڑھ میں ہی نہیں دہلی کے ناظرین میں بھی اسے کافی مقبولیت ملی۔ اس کی کامیابی کے ساتھ ہی حبیب کے لئے رنگ منچ کا نیا دروازہ کھل گیا۔ ’’مجھے محسوس ہوا کہ دہلی نے مجھے قبول کر لیا تھا۔ ۔۔۔ یہ میری زندگی کا اہم موڑ اور چھتیس گڑھی زبان کو جدید ڈرامے کی زبان کی حیثیت سے متعارف کرنے کی جانب پہلی کامیابی تھی۔‘‘(3)حبیب اب تک شہری فنکاروں کے شانہ بشانہ دیہی کلاکاروں کا استعمال کر تے رہے تھے لیکن اس ڈرامے کی غیر معمولی کامیابی کے بعد انھوں نے اپنی پوری توجہ چھتیس گڑھی کلاکاروں پر مرکوز کر دی اور اب ان کی پوری کاسٹ انھی لوک کلاکاروں پر مبنی تھی۔

رنگ منچ کی دنیا میں حبیب تنویر کا سب سے اہم کارنامہ ’’چرن داس چور‘‘ (1974ء) ہے۔یہ وہ ڈراما ہے جو نہ صرف ان کی اور ان کی ناٹک منڈلی کی عالمی شہرت کا سبب بنا بلکہ 1982ء کے ’ایڈنبرا انٹرنیشنل ڈراما فیسٹیول ‘میں ’فرنج فرسٹ ایوارڈ‘ (Fringe Firsts Award)کا خطاب جیت کر ہندستانی تھیٹر کو بھی عالمی سطح پر ایک اونچا مقام دلایا۔ ’’چرن داس چور‘‘ موجودہ عہد میں لکھے گئے ڈراموں میں کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے اور اسے تمام ڈرامائی عناصر کا مثالی نمونہ سمجھا جاتا ہے اور یہ ڈراماحبیب تنویر کے ایک مکمل تھیٹر فارم کی سبھی بنیادی خصوصیات سے بھرپور ہے۔ (4)

یہ ڈراما بھی ’’گاؤں کا ناؤ سسرال مور ناؤ داماد‘‘ کی طرح ایک ورکشاپ کا ہی نتیجہ تھا۔ اس کا پلاٹ راجستھان کے مشہور فوک کہانی کار وجے دان دیتھا کی کہانی سے ماخوذ ہے۔ یہ ایک ایسے چور کی کہانی پر مبنی ہے جو بیحد بہادر، نڈر اور اپنے فن میں ماہر ہونے کے ساتھ بیحد سچا، دیانتدار اور اپنے وعدے پر جان دے کر بھی قائم رہنے والا ہے۔

حبیب تنویر نے سب سے پہلے اس کہانی کو راجستھان میں چل رہے ایک ورکشاپ میں ڈرامائی شکل دینے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ 1974کے اواخر میں بھِلائی (چھتیس گڑھ) کے ورکشاپ کے دوران انھوں نے اس کہانی پر دوبارہ کام کرنا شروع کیا۔ یہ ورکشاپ بھلائی کے کھلے میدان میں چل رہا تھا۔ یہ ستنامی تقریب کا موقع تھا اورجب انھوں نے ستنامیوں کو بار بار اسٹیج پر آتے جاتے دیکھا تو انھیں اس کہانی کو پیش کرنے کی ترغیب ملی ۔انھوں نے یہ اعلان کیا کہ میرے پاس ایک نامکمل ڈراما ہے لیکن کیونکہ یہ موقع ستنامیوں کے جشن کا ہے اور ان کی زندگی کا موٹو بھی سچائی یعنی ’’ستیہ ہی اِشور ہے، اِشور ستیہ‘‘ہے، کیوں نہ اس ڈرامے کو یہاں پیش کیا جائے۔ اس طرح حبیب تنویر نے ’’نیا تھیٹر‘‘ اور چھتیس گڑھ کی مختلف ناٹک منڈلیوں کے اداکاروں کے ساتھ مل کر شروع میں 40 منٹ کا ایک برجستہ (Improvised) ڈراما پیش کیا جسے وہاں خوب سراہا گیا ۔ وہ اس پر مسلسل کام کرتے رہے اور جب دہلی کے ناظرین کے سامنے اسے پیش کیا تو ان کا رد عمل خود حبیب تنویر کی زبانی سنئے:

’’کمانی آڈیٹوریم میںجب اسے پہلی بار پیش کیا گیا تووہ ایک حیرت انگیز تجربہ تھا۔ وہ (چرن داس) مر گیا۔ مکمل خاموشی۔ عجیب خاموشی۔ ناظرین یہ سوچتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ اگلی لائن کب آئے گی؟ پریشان۔ ۔۔۔ اور پھر باہر جانے سے پہلے وہ رکے، گھومے اور پھر کئی منٹوں کے لئے دروازے پر بے چین کھڑے رہے۔ ‘‘ 5؎

(یہ بھی پڑھیں۔ اردوڈرامے میں دیومالائی فضا-ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

چرن داس چور کی غیر معمولی مقبولیت کے بعد حبیب نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اب انھوں نے پوری توجہ چھتیس گڑھ کی لوک کہانی، موسیقی، رقص و نغمہ اور رسم و رواج کو ڈرامائی صورت میں ڈھالنے کی طرف مبذول کر دی۔ اس کے لئے انھوں نے چھتیس گڑھی زبان کو ہی وسیلۂ اظہار بنایا۔ ’’چرن داس چور‘‘ کے بعد انھوں نے کئی اہم ڈرامے اسٹیج کیے جیسے ’’ہرما کی امر کہانی‘‘، ’’بہادر کلارن‘‘، ’’دیکھ رہے ہیں نین‘‘ اور ’’کام دیو کا اپنا بسنت ریتو کا سپنا‘‘ وغیرہ مگر ’’چرن داس چور‘‘ کی ہمسری کوئی نہیں کر سکا۔

1990کے اواخر میں حبیب تنویر اپنے تھیٹر گروپ کے ساتھ دہلی سے بھوپال منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزارے۔ انہوں نے تھیٹر کے اپنے ساٹھ سالہ کیریئر میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد ڈرامے اسٹیج کیے جن میں کئی میل کا پتھر بھی ثابت ہوا ۔ میرے نزدیک حبیب تنویر کا سب سے بڑا کارنامہ چھتیس گڑھ کے ان ناخواندہ اور غیر تربیت یافتہ فن کاروںکو ملک اور بیرون ملک کے اسٹیج سے متعارف کرانا نہیں بلکہ انھیں ان کی مکمل اصلیت کے ساتھ پیش کرنااور نتیجتاًوہ مقام دلانا تھا جن کے وہ اصلی حقدار تھے اور صحیح معنوں میں ان کی مدد کے بغیر شاید حبیب خود بھی تھیٹر کا ایک نیا محاورہ گڑھنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔٭٭

حوالے:

1-  حبیب تنویر، پردہ کھلتا ہے، دہلی: کتاب گھر، 2013ء، ص: 17

2-  HabibTanvir, ‘It Must Flow’ A Life in Theatre, Calcutta: Seagull Books Pvt. Lmt 1996, p.51

3-   ایضاً، ص: 61

4-  AnjumKatyal, HabibTanvir Towards an Inclusive Theatre, New Delhi: Sage Publication India Pvt. Ltd. p. 63

5-   HabibTanvir, ‘It Must Flow’ A Life in Theatre, p.68

___________________

 

 

نوٹ: مضمون نگار جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi mirasادبی میراثحبیب تنویرلوک تھیٹر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
ملک کی موجودہ صورتِ حال اور ذمہ دارانِ مدارس کا رویہ-ڈاکٹر محمد اسامہ

یہ بھی پڑھیں

پریم چند کا ڈرامہ "کربلا” کا تنقیدی جائزہ...

جون 20, 2023

بچپن کی شادی – نکہت پروین

جون 7, 2023

آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب...

مئی 12, 2022

عبدالحلیم شررکے ناول: "فردوسِ بریں” کا تجزیاتی مطالعہ...

مارچ 11, 2022

ناول کا فن – پروفیسر عتیق اللہ

فروری 16, 2022

اردو اور عربی قصیدہ نگاری: ایک مطالعہ –...

فروری 6, 2022

آشوب دہلی اور دستنبو – پروفیسر صالحہ رشید 

جنوری 26, 2022

’کفن ‘کا متن اور تعبیر کی غلطیاں –...

جنوری 9, 2022

ویڈیو تدریس (ڈراما)

دسمبر 6, 2021

عہد عباسی کی عربی شاعری اور چند اہم...

دسمبر 2, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں