اصنافِ شاعری میں قصیدہ سب سے قدیم صنف ہے۔ عربی زبان کے اکابر ین شعرا کا تعلق قصیدے سے ہی رہا ہے۔ عکاظ کے میلے میں ہر سال شاعروں کا ہجوم اکٹھا ہوتا تھا، جس میں شعرا اپنے اپنے قصیدے سناتے تھے۔ اس میں جس شاعر کا قصیدہ سب سے اچھا ہوتا تھا اسے آب زر سے لکھ کر خانۂ کعبہ کی دیواروں پر چسپاں کردیا جاتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں اس طرح کے 7 قصیدے کہے گئے تھے جنھیں سبع معلقات کہا جاتا ہے۔ ان سات قصیدہ گو شعرا کے نام امرؤ القیس، زہیربن ابی سلمی، عمرو بن کلثوم، طرفہ بن العبد، لبید بن ربیعہ، عنترہ بن شداد اور الحارث بن حلزہ الیشکری ہیں۔ بعض لوگوں نے معلقات کی تعداد 10 بتائی ہے جن میں نابغہ ذبیانی، الاعشیٰ قیس اور عروہ بن الورد کے قصائد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ قصیدہ کو ‘ام الاصناف’ کہنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتے۔اسی لیے یہ کہنا حق بہ جانب ہوگا کہ قصیدے کے بطن سے ہی دیگر اصناف شاعری کا ظہور ہوا۔
قصیدے کی ابتدا چونکہ عرب سے ہوئی، اس لیے یہ صنف آج بھی عربوں میں بہت مقبول ہے، قدیم اور اکابرین شعرائے عرب نے قصیدے کو صرف مدح و ذم، جھوٹی خوشامداور انعام و اکرام کی لالچ کے لیے استعمال نہیں کیابلکہ ان شعرا نے اپنے قصیدوں کے ذریعے عربوں کو ایک شناخت دلائی جس میں عربوں کے قبائل اور ان کی خصوصیات، عربوں کے گاؤں اور ان کے طرز بود و باش، صنعت و حرفت، جنگی ساز و سامان اور گھوڑے، عربوں کے آداب زندگی، تہذیب و ثقافت، اعلیٰ نسبی، ایفائے عہد، فیاضانہ خصوصیات، عزت و تکریم، مہمان نوازی، تحفے تحائف وغیرہ کا ذکر بہت ہی جامع اور مفصل ا نداز میں ملتا ہے۔
زمانۂ جاہلیت کو عربی قصیدے کا عہد زریں کہا جاتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں قصیدے کو جو عروج حاصل ہوا وہ صدر اسلام، دور اموی اور دور عباسی تک قائم رہا۔ عصر جاہلی میں شاعروں کی بڑی قدر و منزلت ہوتی تھی اور ان کے کلام کو عزت و شرف کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ جب کسی قبیلے میں کوئی شاعر پیدا ہوتا تھا تو اس خوشی میں شادیانے بجتے اور دعوتوں کا اہتمام ہوتا تھا۔ ابن رشیق نے لکھا ہے کہ ‘‘جب کسی عربی قبیلے میں کوئی شاعر پیدا ہوجاتا تو دوسرے قبیلے اس کے پاس آتے اور اسے مبارکباد دیتے اور پکوان پکاتے، عورتیں آتیں اور ‘مزہر’ یعنی عود بجاتیں، کیونکہ یہی (شاعر) ان کی عزتوں کو بچاتا، دوسروں کے مقابلے میں ان کی حمایت کرتا، ان کے تفاخر اور کارناموں کو دوام بخشتا اور ان کی تعریف میں قصیدے کہہ کر ان کو رفعت و بلندی عطا کرتا تھا…‘‘ (1)
اردو زبان وادب میں قصیدے کی شروعات فارسی کے ذریعے ہوئی ہے۔ لیکن اس کا باقاعدہ آغاز دکن میں بہمنی دور سے ہوا۔ اس دور میں جن قصیدہ نگاروں کا ذکر ملتا ہے ان میں آذری، مشتاق اور لطفی ہیں لیکن ان کے بارے میں معلومات بہت محدود اور مشکوک ہیں۔ نصیرالدین ہاشمی نے لکھا ہے کہ ‘‘آذری نے قصائد لکھے تھے’’ آذری کے دکنی شاعر ہونے کا قیاس محض فرشتہ کی اس تحریر پر ہے کہ ‘‘القصہ بہمن نامہ دکھنی تا داستان سلطان، ہمایوں شاہ بہمنیہ از شیخ آذری نیست’’(2) بہرحال مشتاق کا ایک قصیدہ سید برہان الدین شاہ خلیل اللہ کی تعریف میں دستیاب ہوا ہے جس کا نمونہ حسب ذیل ہے:
نازکا اے طرز ہے کھینچے وفا پر قلم
غمزہ کا اے طور ہے گود میں پا لے ستم
لطف سخن یوں اہے شہد جیوں نیش میں
رکھے قہر مہر میں شیریں میں راکھے اوسم
فتنہ شجاعت کا دیکھ رستم دستا چھپا
شور سخاوت کا سن ہوگیا حاتم اصم
بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد وہاں پانچ حکومتیں قائم ہوئیں جن میں ایک گولکنڈہ میں قطب شاہی ہے۔ اسی حکومت سے محمد قلی قطب شاہ کا تعلق ہے جس نے بہترین قصیدے کہے، اس حکومت سے ایک اور شاعر ملا قطبی کا بھی ذکر ملتا ہے جنھوں نے شیخ یوسف دہلوی کے فارسی قصیدے ’تحفۃ النصائح‘ کا دکنی میں ترجمہ کیا۔ گولکنڈہ کے دوسرے قصیدہ نگار غواصی اور شاہ محمد افضل ہیں۔ بیجاپور کے شعرا میں یوں تو سلطان ابراہیم عادل شاہ، ثانی، محمد مقیم مقیمی، کمال خاں رستمی، اور ملک خوشنود نے قصیدے کہے تھے۔ لیکن جن شعرا کے قصیدے دستیاب ہوئے ان میں عاشق دکھنی، علی عادل شاہ ثانی شاہی،محمد نصرت نصرتی اور سید میران ہاشمی ہیں۔ عہد مغلیہ کے دکنی شعرا میں قصیدہ نگار کی حیثیت سے ولی کا نام بھی سرفہرست ہے۔ 1099ھ میں گجرات کے ایک شاعر امین نے ایک نعتیہ قصیدہ لکھا تھا۔(3) اگر شمالی ہند کی بات کی جائے تو یہاں قصیدے کا اولین نمونہ جعفر زٹلی کے یہاں ملتا ہے۔ اسی راہ پر چلتے ہوئے حاتم و ناجی نے بھی قصیدے لکھے۔ اردو میں مرزا رفیع سودا نے صنف قصیدہ کو جو عظمت اور بلندی عطا کی اس کا سلسلہ بعد میں انشا، مصحفی، ذوق، غالب اور مومن کے دور تک قائم رہا۔
عربی اور اردو دونوں زبانوں میں قصیدہ گو شعرا کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جنھوں نے شہرت کی بلندیاں حاصل کیں۔ عربی زبان میں اصحاب سبع معلقات کے علاوہ ایام جاہلیت کے شعرا اور شاعرات کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں علقمہ الفحل، شنفری، تابط شرا، متلمس، مرقش الاکبر، منجنل بن عبید، امیہ بن ابی صلت، قریط ابن انیف، لبید بن ربیعہ، اعشیٰ القیس وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں جب کہ شاعرات میں خنساء، خرنق بنت بدر، لیلی العفیفہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ کچھ شعرا ایسے بھی گزرے ہیں جنھوں نے عہد جاہلیت اور عہد اسلام دونوں کو دیکھا، ان میں نابغہ الجعدی، حطیہ،کعب بن زہیر، حسان بن ثابت وغیرہ اہم ہیں۔ صدر اسلام کے شعرا میں حسان بن ثابت، کعب بن زہیر، عبداللہ بن رواحہ، النابغہ الجعدی، عمرو بن معدی کرب الزبیدی، کعب بن مالک اور حطیہ وغیرہ شامل ہیں۔ فرز دق، اخطل، جریر دور اموی کے تو ابونواس اور متنبی عہد عباسی کے مشہور شاعر ہیں۔ دور جدیدمیں محمود پاشا بارودی، احمد شوقی بک، اور حافظ ابراہیم وغیرہ بھی بہت مشہورہوئے۔
جاہلی دور میں لکھے گئے قصائد کے صحیح اعداد و شمار کا کوئی ریکارڈموجود نہیں ہے۔ ابن علا کا کہنا ہے کہ :
مَاانْتَہٰی اِلیَکُمْ مِمَّا قَالَتِ الْعَرَبُ اِلَّا اَقَلُّہٗ وَلَو جَائَ کُمُ وَافِرٌ لَجَائَ کُمْ عِلمٌ وَ شِعْرٌ کَثِیْرٌ۔
‘‘عربی شاعری کی بہت ہی معمولی مقدار تم تک پہنچ سکی ہے۔اگر تمام شاعری تک تمھاری رسائی ہوگئی ہوتی ، تو تمھارے پاس علوم و فنون اور شاعری کا بے پناہ ذخیرہ ہوتا۔’’ (4)
اسی لیے اس دور کی شاعری کو ’دیوان العرب‘ کہتے ہیں۔جب عہد اسلام میں قصائد کے جمع و تدوین کا سلسلہ شروع ہوا تب بھی جاہلی دور کے بیش بہا قصائد کا ذخیرہ موجود تھا جس کے حفاظ ابوتمام صاحب حماسہ، شعر و ادب کا مشہور راوی و عالم حماد الراویہ، مشہور ماہر لغت اور نقاد الأصمعی اور ابوضمضم وغیرہ تھے۔
زمانۂ جاہلیت کودو ادوارمیں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلادور: 5 ویں صدی عیسوی سے پہلے کا زمانہ یعنی الجاہلیۃ الاولیٰ دوسرا دور : 5 ویں صدی عیسوی کے بعد سے 622-23 عیسوی تک یعنی ظہور اسلام سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے شروع ہوتا ہے اور ہجرت نبوی یعنی 622-23 عیسوی پر ختم ہوجاتا ہے۔ پہلے جاہلی دور کی تشریح اس اقتباس سے سمجھنے میں آسانی ہوگی:
‘‘جاہلیۃ الاولیٰ اس زمانے کو کہتے ہیں جس میں حضرت ابراہیمؑ پیدا ہوئے اور ‘الجاہلیۃ الاخریٰ’ دوسرا جاہلی زمانہ، اس زمانے کو کہتے ہیں جس میں آنحضرتؐ پیدا ہوئے۔ (5)
اسلامی زمانہ کے بھی دو ادوار ہیں۔ پہلا دور: صدر اسلام یعنی آنحضرتؐ کی ہجرت سے شروع ہوتا ہے اور حضرت علیؓ کے دور تک رہتا ہے یعنی 1ھ سے 40ھ مطابق 622-23 سے 662-63 تک۔ دوسرا دور: عہد بنی امیہ: یہ دور حضرت معاویہ کی خلافت سے شروع ہوکر عباسی سلطنت کے قیام یعنی 41 ھ سے132ھ مطابق 661-62 سے 750 تک رہتا ہے۔
اسی طرح دورِعباسی کو بھی دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا دور (ترقی و عروج کا زمانہ) 132ھ سے 332 ھ مطابق 750 سے 946 تک۔ دوسرا دور (طوائف الملوکی کا زمانہ) 332ھ 656ھ مطابق 946 سے 1258 تک (زوال بغداد)
زمانۂ جاہلیت کے شعرا کو مندرجہ ذیل طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے:
(1) اصحاب المعلقات
(2) اصحاب المُجْہرات
(3) اصحاب المُنْتقِیات
(4) اصحاب المُذہّبات یا المُذہَبات
(5) اصحاب المراتی
(6) اصحاب المَشُوبات
(7) اصحاب المُلْحمات
ہر طبقہ میں 7 اہم شعرا کو شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں شامل بعض شعرا اسلامی دور کے بھی ہیں۔ چوتھے، پانچویں، چھٹے اور ساتویں طبقے کے شعرامیںمشہور اور قادرالکلام شعرا وہ ہیں جنھیں شہرت و ناموری اسلامی عہد کے زمانۂ اوّل میں حاصل ہوئی۔ البتہ شروع کے چاروں طبقوں میں اکثر جاہلی دور کے شعرا شامل ہیں۔ ان میں بھی سب سے مشہور اور اعلیٰ قد کے وہ شعرا ہیں جنھوں نے معلقات کہے ہیں۔ (6)
عربی قصیدہ گوئی کے آغاز کے بارے میں مؤرخین اور ناقدین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ عرب میں قصیدہ نگاری کی ابتدا کب ہوئی، اور عربی کا پہلا قصیدہ نگار کون ہے؟اس بابت محمود الٰہی لکھتے ہیں:
‘‘جاحظ، ابن رشیق اور اکثر مستشرقین یورپ کا خیال ہے کہ ظہورِ اسلام کے وقت عربی شاعری کی عمر زیادہ سے زیادہ دو سو سال کی تھی۔ اس طرح مہلہل اور امرؤ القیس عربی زبان کے پہلے قصیدہ نگار مانے جاتے ہیں۔’’ (7)
اس قول کے برعکس احمد حسن زیات اور دیگر محققین کی رائے یہ ہے کہ عربی قصیدے کا آغاز زمانۂ جاہلیت سے کئی سو سال پہلے ہوچکا تھا۔ البتہ اس رائے سے اتفاق ضرور کیا جاسکتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت عربی قصیدہ نگاری کے عروج کا زمانہ تھا۔
عربی قصیدہ گوئی کے آغاز کو جاننے سے پہلے ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ عربی زبان کا آغاز کب ہوا؟ جب عربی زبان کی تاریخی حیثیت جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربی قدیم زبان ہے۔ یہ زبان اس وقت بھی موجود تھی جب عبرانی اور سریانی زبانیں موجود تھیں۔ چونکہ عربی اور عبرانی زبان کے بہت سارے الفاظ میں مشابہت ہے جیسے عربی کے لفظ ‘شین’ کو عبری میں ‘سین’ بولا جاتا ہے۔ عربی میں جو ‘الف’ ہوتا ہے وہ عبری میں ‘واؤ’ بن جاتا ہے جیسے عربی کا ‘سلام’ عبری میں ‘شلوز’ بولا جاتا ہے۔ اسی طرح عربی کا ‘ث’ عبری میں ‘ش’ ہوجاتا ہے۔ جیسے عربی کا ‘ثور’ عبری میں ‘شور’ لکھا جاتا ہے۔ ‘ضاد’ سے عربی کے جو الفاظ بولے جاتے ہیں وہ عبری میں ‘صاد’ سے ادا کیے جاتے ہیں جیسے عربی کا لفظ ‘أرض’ عبری میں ‘أرص’ کہا جاتا ہے، اسی ان زبانوں کا سرچشمہ ایک ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک عربی ان سامی زبانوں کی ایک شاخ ہے جسے حضرت نوح کے بیٹے سام بن نوح کی اولاد کسی زمانے میں اپنی بستیوں میں بولا کرتے تھے۔ (8)
خانۂ کعبہ کی تاریخ اور عرب اقوام کے ادیان کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ عربوں کے یہاں حضرت ابراہیم اوران کے صاحب زادے حضرت اسمٰعیل کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔یہی وجہ ہے کہ عرب اپنی نسلی اور دینی انتساب انہی باپ بیٹے کی طرف کرتے تھے۔ اس قول کی تصدیق ایک حدیث سے واضح طور پر ہوجاتی ہے جس کے راوی خود حضورؐ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کل العرب من ولد اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام یعنی ‘‘تمام عرب اسماعیل بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔’’
اس تعلق سے موسیو سیدیو فرانسیسی کی‘تاریخ عرب’ سے ایک اور اقتباس سے ملاحظہ کریں:
‘‘عرب اپنے آپ کو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد بتاتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر وحی نازل کی تھی کہ وہ مکہ معظمہ میں جاکر ایک معبد بنائیں۔ اس ارشاد کی تعمیل کے واسطے وہ شام سے عرب کو آئے اور یہاں مکہ معظمہ میں کعبہ کو بنایا جسے اہل عرب قدیم الایام سے قابل تعظیم خیال کرتے اورانواع و اقسام کی دینی تعظیمیں بجا لاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اس کو زمانۂ درازمیں بنا کر تیار کیا۔ اس کی بنیاد کے وقت ان کے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام جو مکہ میں ہی پیدا ہوئے تھے ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ یہاں حضرت جبریلؑ نے حضرت ابراہیمؑ کو لاکرایک پتھر دیا تھا جسے حجر اسود کہتے ہیں اور زمانہ قدیم سے خانہ کعبہ میں رکھا ہوا ہے۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے روبروگواہی دے گا کہ فلاں فلاں شخص نے میرے سامنے تیری عبادت کی ہے۔ حضرت اسماعیلؑ کی والدۂ معظمہ بی بی ہاجرہ تھیں۔ چاہ زمزم انھیں کا نکالا ہوا ہے۔’’ (9)
بہرحال یہ بات بلا تردّد کہی جاسکتی ہے کہ عربی بہت قدیم زبان ہے۔ لیکن سچ یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں جو عربی بولی جاتی تھی وہ خالص عربی نہیں تھی عربی جیسی زبان تھی۔خلاصہ کلام یہ کہ عربی زبان کے نقوش حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں ملتے ہیں۔ اس لحاظ سے جنھوں نے ظہور اسلام سے ایک دو صدی قبل کی زبان بتایا ہے اس سے اتفاق ممکن نہیں ہے کیونکہ جب کوئی زبان وجود میں آتی ہے تو وہ پہلے پہل عوام کی بول چال کی زبان ہی ہوتی ہے، پھر زبان کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اسے شعری ا ور نثری پیرائے میں ڈھالنا ضروری ہوتا ہے، زبان کے صحیح استعمال کے لیے گرامر کی ضرورت ہوتی ہے نیز نثر و نظم کے الگ الگ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے عربوں میں سب سے پہلے شاعری وجود میں آئی اور وہ بھی قصیدہ جیسی مشکل صنف۔ پھر ان میں بحور و اوزان کی ایجاد، ان بحروں میں اشعار کہنے کا فن، اس کے اصول و ضوابط، عروض و آہنگ اور پھر شاعری کے مابین تقسیم اور ان اصناف کے بھی الگ الگ گرامرس۔ ان تمام چیزوں کی پابندی کرتے ہوئے قصیدہ لکھنا یہ کوئی صدی سوا صدی کا وقفہ نہیں ہوسکتا ہے، اس لیے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عربوں میں قصیدے کا آغاز اسلام کی آمد سے 2000 سال یااس سے بھی زیادہ پہلے ہوچکا تھا۔
‘قصیدہ’ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی قصد اور ارادہ کے ہیں۔ اسی لیے قصیدے میں شاعر جب کسی خاص موضوع یا کسی کی مدح یا ذم کے اشعار کہتا ہے تو اس میں اس کے قصد یا ارادے کا دخل ہوتا ہے۔قصیدے کے ایک دوسرے اور جامع معنی مغز کے ہیں۔ انسانی جسم اور اعضا میں مغز یعنی دماغ کو جو مقام اور مرتبہ حاصل ہے، ٹھیک اسی طرح قصیدہ بھی اپنے موضوعات، معانی اور مفاہیم کے لحاظ سے دیگر اصناف ِ شعر کے مقابلے میں نمایاں اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں تک قصیدے کے اصطلاحی معنی کی بات ہے تو قصیدے کے اصطلاحی معنی میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک قصیدہ اس مسلسل نظم کو کہتے ہیں جس کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور بقیہ اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ یا ہم ردیف ہوں اور جس میں مدح یا ذم، وعظ و نصیحت یا مختلف کیفیات و حالات وغیرہ کا بیان ہو۔ بعض کے نزدیک قصیدہ اس نظم کو کہا جاتا ہے جس میں کم سے کم سات اشعار ہوں، حالانکہ کچھ لوگوں نے اشعار کی تعداد کم سے کم تین بھی بتائی ہے، بہرحال کسی نے بارہ، کسی نے پندرہ، کسی نے بیس، کسی نے اکیس اور کسی نے پچیس کا بھی ذکر کیا ہے البتہ زیادہ کی کوئی قید نہیں۔ بعض کے یہاں قصیدے میں اشعار کی سب سے کم تعداد دس ہے اور بعض کے یہاں اکیس۔ (10)
عربی کی مشہور لغت المنجد میں قصیدے کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ ایسی نظم ہے جس میں اشعار کی تعداد سات یا دس سے زیادہ ہو۔ قصیدے میں تعداد اشعار پر نظرڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سات یا دس اشعار والے قصائد کی تعداد بہت کم ہے۔ زیادہ تر قصائد تیس سے زائد اشعار پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ قصائد تو سو سے زیادہ اشعار کے بھی ملتے ہیں۔ عربی زبان میں قصیدے کا اطلاق ان تمام نظموں پر ہوتا ہے جن میں اشعار کی تعداد سات یا اس سے زیادہ ہو۔ البتہ اردو میں قصیدہ اس نظم کو کہا جاتا ہے جس کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں یا صرف ہم قافیہ ہوں، باقی اشعارکے آخری مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں یا ہم قافیہ ہوں۔
قصیدے کی ہیئت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ مقدمہ ابن خلدون میں اس کی ہیئت کے سلسلے میں درج ذیل باتیں ذکر کی گئی ہیں:
‘‘وہ (قصیدہ) ایک مفصل کلام ہے۔ مختلف حصوں میں مساوی وزن میں ہوتا ہے۔ہر جزو کے اخیر حروف متحد (یعنی ہم قافیہ) ہوتے ہیں۔ ان میں ہر قطعہ بیت (شعر) کہا جاتا ہے اور آخری حروف کو ردی اور قافیہ کا نام دیا جاتا ہے۔ مکمل کلام کو شروع سے آخر تک قصیدہ کہا جاتا ہے۔’’ (11)
قصیدہ کس ہیئت میں لکھا جائے، بحور کے کیا معیار ہوں، شعر کے مصرعے کیسے ہوں، کون سا مصرعہ ہم قافیہ و ہم ردیف ہے۔ قصیدے کے آغازمیں مطلع ضروری ہے یا نہیں۔ ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے یہ اقتباس ضرور پڑھیں:
‘‘قصیدہ میں غزل کی طرح مطلع ہوتا ہے جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ بقیہ اشعار صرف دوسرے مصرعے سے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ غزل کی طرح قصیدے میں ردیف ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی لیکن قافیہ کا ہونا ضروری ہے۔ عربی قصائد میں ردیف کا چلن نہیں ہے۔ اس میں قافیہ کا چلن زیادہ تر حرف ردی پر ہے۔ مثلاً منزل، مرجل، جلجل وغیرہ ہم قافیہ ہیں۔ ایسا فارسی اوراردو میں جائز نہیں ہے۔ فارسی اور اردو میں قافیہ حرف روی یا اس سے پہلے کی حرکت سے متعین ہوتا ہے۔ جیسے بل، گل، سنبل وغیرہ۔ ’’(12)
عروضی ہیئت کے علاوہ قصیدے میں اجزائے ترکیبی کا استعمال ہوتا ہے۔قصیدہ کے اجزائے ترکیبی میں تشبیب، گریز، مدح ا ور دعاکے علاوہ ‘عرض مدعا’ یا ‘حسن طلب’ کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں پہلا ‘تشبیب’ ہے۔ اس سے وہ اشعار مراد لیے جاتے ہیں جو قصیدے کی ابتدا میں تمہید کے طورپر لکھے جاتے ہیں۔ عربی شعرا عموماً عشقیہ اشعار قلم بند کرتے تھے۔ اسی رعایت سے اس کوتشبیب یا نسیب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔زمانۂ جاہلیت میں تشبیب کے اصل موضوع کا مدح سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس میں ہر طرح کے موضوعات پر طبع آزمائی کی جاتی ہے۔ اس میں قصیدہ گو کو اپنی علمیت اور قابلیت کے اظہار اور قادرالکلامی کے جوہر دکھانے کا بھی پورا موقع ملتا ہے۔عربی کے فارسی اور اردو میں تشبیب میں عشقیہ مضامین کی تخصیص نہیں ہے، اس میں ہر قسم کے مضامین نظم کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً بہاریہ، عشقیہ، حالیہ، فخریہ، دعائیہ وغیرہ۔
قصیدہ کی تقسیم کبھی خارجی اور کبھی مضامین کے اعتبار سے بھی کی گئی ہے۔ خارجی حیثیت سے قصیدے کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ‘تمہیدیہ’ اور ‘خطابیہ’۔ تمہیدیہ وہ قصیدہ ہے جس میں ممدوح کے سیرت و اوصاف اور اس کے ساز و سامان اور دیگرمتعلقات کی تعریف و توصیف سے قبل بہ طور تمہید تشبیب اور گریز اور بعدہ مدح ودعاخاص ترکیبی عناصر کا درجہ رکھتے ہیں۔
خطابیہ اس قسم کے قصیدہ کو کہا جاتا ہے جس میں تشبیب اور گریز کے اجزانہیں ہوتے ہیں بلکہ قصیدے کا آغاز ہی ممدوح کی تعریف سے شروع ہوتا ہے۔
مضامین کے اعتبار سے قصیدے کی چار قسمیں ہیں:مدحیہ ، ہجویہ ، وعظیہ اور بیانیہ۔ اگر قصیدے میں کسی کی تعریف کی گئی ہو تو اسے مدحیہ قصیدہ کہا جاتا ہے اوراگر ‘ہجو’ہوتو ‘ہجویہ’کہا جائے گا۔ وعظیہ کے تحت وہ قصیدے آتے ہیں جس میں پندونصائح کے مضامین نظم کیے جاتے ہیں اور بیانیہ ان قصیدوں کو کہتے ہیں جن میں مختلف کیفیات مثلاً موسم بہار، شہروں کی تباہی یا دوسرے حالات و واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ مضامین کے اعتبارسے قصیدے کی دو مزید قسمیں بیان کی گئی ہیں جس میں ایک مذہبی اور دوسرا درباری۔ مذہبی قصیدوں کے تحت حمدیہ، نعتیہ اور منقبتی قصائد آتے ہیں ساتھ ہی وہ قصائد بھی اس میں شامل ہیں جن میں مذہبی موضوعات کا ذکر ہو اس کے برعکس جن قصائد میں دنیوی شخصیات کے اوصاف بیان کیے گئے ہوں انھیں درباری قصائد کہا جاتا ہے۔
تشبیب کے مضامین کے اعتبار سے بھی قصیدے کی قسمیں بیان کی گئی ہیں: مثلاً تشبیب میں بہار کا ذکر ہو تو بہاریہ، عشق و عاشقی کے مضامین ہوں تو عشقیہ، ذاتی حالات کا بیان اورآسمان و زمانے کی شکایت ہو تو حالیہ اور شاعر اپنے کمالات و امتیازات کا بیان کرے تو فخریہ۔ بقول مولوی عبدالحق ‘‘قدیم دکنی میں قصیدے کی ایک قسم چرخیات سے موسوم کی گئی ہے۔ یہ وہ قصائد ہیں جن کی تشبیب فلکیات سے متعلق ہوتی ہے۔’’ (13)
قصیدے میں اجزائے ترکیبی کو بھی اہم سمجھا گیا ہے، لیکن شرط نہیں۔ اردو قصائد میں اجزائے ترکیبی کا زیادہ التزام کا گیا ہے، جب کہ عربی قصیدہ نگاروں کے یہاں اجزائے ترکیبی پر خاص زور نہیں پایا جاتا۔
عربی قصیدہ نگاروں نے اپنے قصیدے میں کن کن موضوعات کو برتا ہے ، اور انھوں نے اجزائے ترکیبی کا کب اور کس طرح استعمال کیا، ظفر احمد صدیقی کے مضمون ‘صنف قصیدہ: شعریات، تہذیب، تاریخ’ سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
‘‘کلاسیکی عربی شاعری کے تین دور زیادہ شہرت و اہمیت کے حامل ہیں: (i) عہد جاہلی (ii) عہد اموی (iii) عہد عباسی۔ ان میں عہد جاہلی کے زیادہ تر قصائد فخر وحماسہ اور دیگر موضوعات سے متعلق ہیں، مدحیہ قصائد بہ حیثیت مجموعی کم ہیں۔ ان میں بھی گریز، حسن طلب اور دعا کے اجزاکم کم ملتے ہیں۔ اس کے بعد عہد بنوامیہ میں اگرچہ خلافت، دربار اور دیگر شاہانہ لوازمات وجود میں آجاتے ہیں، تاہم مدح گو شعرا اور مدحیہ قصائد کا زیادہ غلبہ نظر نہیں آتا، بلکہ فخر و مباہات اور ہجو و معارضہ کے قصائد زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح مدحیہ قصائد میں تشبیب و مدح کے علاوہ دیگر اجزائے ترکیبی کا سراغ بھی خال خال ملتا ہے۔ لیکن جب ہم عہدعباسی میں داخل ہوتے ہیں تواکثر و بیشتراہم اور بڑے شعرا کو امرا و سلاطین کا طواف کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ اس طرح عہد عباسی میں دیگر موضوعات سے متعلق قصائد کے بالمقابل مدحیہ قصائد کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے نیز ان میں قصیدے کے اجزائے ترکیبی کا اہتمام بھی زیادہ محسوس ہوتاہے۔ ان تفصیلات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قصیدہ اگر چہ عربی میں محض ایک ہیئت کا نام ہے لیکن عربی کے مدحیہ قصائد عہد عباسی تک آتے آتے اجزائے ترکیبی کے اہتمام والتزام کی وجہ سے فی الجملہ ایک صنف کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔’’ (14)
قصیدے کے موضوعات میں سے ایک مرکزی موضوع ’ہجو‘ ہے۔’ہجو گوئی‘ کی روایت عربی اور اردو دونوں میں موجودہے، البتہ اردو کی بہ نسبت عربی میں ہجوگوئی پر زیادہ توجہ دی گئی ۔ہجو گوئی کے لحاظ سے بنو امیہ کا دور بہت اہم مانا جاتا ہے۔ یہی وہ زمانہ میں جس میں اخطل، جریر اور فرزدق جیسے شعرا نے قصیدہ گوئی میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ یہ تینوں ہمعصرشعرا آپس میں ہجو گوئی کے لیے بہت مشہورتھے ان میں سے ہر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اپنے کو اعلیٰ اور دوسرے کو ادنیٰ سمجھتا تھا۔ اخطل، جریر اور فرزدق کی ہجویں اس قدر مشہور ہوئیں کہ ان تینوں کے علاوہ کسی اور قصیدہ نگار کا ذکر کم ہی ملتا ہے۔ ان تینوں شعرا میں جریر حسن اسلوب، شیرینیِ تغزل اور تلخی ہجو کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں سب سے ممتاز نظر آتاہے۔ دیکھیے کہ جریر نے اپنے ہم عصر شاعر فرزدق کی کس طرح ہجو کی ہے:
لَقَدْ وَلَدَتْ اُمُّ الْفَرَزْدَقِ مَقْرَنًا
فَجَائَ تْ بِوَزَّارٍ قَصِیْرُ الْقَوَادِمِ
یِوَصِّلُ حَبْلَیْہِ اِذَا جَنَّ لَیْلَُہٗ
لَیَرقیٰ الیٰ جَارَاتِہِ بِالسَّلَالِم
‘‘فرزدق کی ماں نے ایک بدنسل بچہ جناہے۔ اس طرح وہ ایک انتہائی بدکار اور منحوس بچہ کی ماں ہے۔جب رات کی تاریکی چھا جاتی ہے تو وہ رسیوں کو لٹکاتا ہے تاکہ رسی کی بنی ہوئی سیڑھیوں کے ذریعہ اپنی پڑوسنوں کے پاس پہنچ جائے۔ ’’
تشبیب کے موضوعات کا دامن بہت وسیع ہے۔ اسی لیے کبھی شاعر تشبیب میں صبر و قناعت کی تلقین کرتا ہے تو کبھی موسمِ بہار کے گیت گاتا ہے، کبھی اپنے کمالِ فن کا اظہار کرتا ہے اور کبھی ہمعصر شعرا کا مذاق اڑاتا ہے۔ قصیدے کے اس حصے میں شاعر اصل مقصد بیان کرنے سے پہلے عشق یا بہار یا شکایتِ زمانہ کا بھی ذکر کرتا ہے۔
اردو اور فارسی میں موضوع کا دائرہ عربی سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اردو اور فارسی میں قصیدے کا جب آغاز ہوا تو دنیا بہت ترقی کرچکی تھی، طرز رہائش کا اندازماڈرن ہوچکا تھا۔ اس لیے قصیدہ نگاروں کے پاس قصیدہ کہنے کے لیے موضوع کی کمی نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ اردو قصیدہ گو اپنے قصیدے میں علوم و فنون کی بے قدری، پند و موعظت، فخر و خودستائی، تاریخی واقعات، ذاتی و ملکی حالات، علوم و فنون، علم نجوم، فلسفہ، حکمت، ساز، تصوف، اخلاق، آسماں کا شکوہ، مکالمہ و مناظرہ، موسم بہار، رندی و سرمستی کی کیفیات، خوشی و امید کے پیکر وغیرہ جیسے موضوعات کو سلیقے سے پیش کرتے ہیں۔ البتہ اولین عربی قصیدے کا اصل موضوع مدح اور ہجو تھا تاہم مرورِ زمانہ کے ساتھ عربی قصیدہ گویوں نے اس کے موضوع میں کافی وسعت پیدا کی۔
تشبیب کی پابندی عربی، فارسی اور اردوتینوں زبانوں میں ملتی ہے کیونکہ تشبیب قصیدے کی روح ہے۔ تشبیب میں عرب شعرا نے اپنی ہنرمندی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اکثر شعرا نے اس میں جدت و ندرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ زمانۂ جاہلیت کے شعرا اپنے قصائدمیں تشبیب کے تحت اشعار زیادہ کہتے تھے جس میں حسن و عشق کا موضوع حاوی رہتا تھا۔ اس حوالے سے سبعہ معلقات میں شامل میں امرؤ القیس کے قصیدے کی تشبیب کے مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں:
قِفَانَبْکِ مِن ذِکْرٰی حَبِیْبٍ وَّمَنْزِلٖ
بِسِقْطِ اللِّوٰی بَیْنَ الدَّخُوْلِ فَحَوْمَلٖ
فَتُوْضِحَ فَالمِقرَاۃِ لَمْ یَعْفُ رَسْمُہَا
لِمَا نَسْجَتْہَا مِن جَنُوبٍ وَّشَمْأَلٖ
‘‘اے میرے دونوں دوستو! ٹھہر جاؤ تاکہ ہم سب مل کر روئیں اپنے دوست اور اس کے مکان کو یادکرکے جو کبھی ریگِ تودہ پر واقع تھا اور وہ جگہ دخول اور حومل کے درمیان واقع تھی۔توضح اور مقراۃ کے درمیان اس حال میں کہ شمال وجنوب کی ہوائوں کی ضربوں سے اس کے نشانات معدوم نہیں ہوئے۔’’
موضوعی اعتبار سے اردو قصیدے کا دامن بھی بہت وسیع ہے، اردو قصیدہ نگاروں نے بھی تشبیب میں بہت سے موضوعات کو برتا ہے۔تشبیب کے تحت ذوق کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
شب کو میں اپنے سرِ بستر خوابِ راحت
نشۂ علم میں سرمستِ غرور و نخوت
مزے لیتا تھا پڑا علم و عمل کے اپنے
تھا تصور مرا ہر آن میں تصدیق صفت
گہہ ملاحد کی تھی تردید کلامِ الحاد
گہہ وجودی و شہودی سے بیانِ وحدت
کبھی کرتا قرانِ مہ و زہرہ پہ نظر
کبھی تھا دیکھتا مریخ و زحل کی رجعت
تشبیب کے بعد دوسرا جز گریز کا ہے۔ گریز کی یہ خوبی قرار دی گئی ہے کہ تشبیب کہتے کہتے شاعر مدح کی طرف اس طرح گھوم جائے، گویا ایک بات سے دوسری، پھر تیسری یعنی یہ سلسلہ برقرار رہے۔ اس خوبی کو قصیدے کامہتم بالشان حصہ اور شاعر کے کمال کا معیار تصور کیا جاتا ہے۔ اصطلاح میں اس کے معنی دو سرکش بیلوں کو ایک جوے میں جوتنے کے ہیں۔ اس کا عنصر قصیدے میں کم اور مختصر ہوتا ہے۔ گریز کی جگہ تشبیب اور مدح کے درمیان کی ہوتی ہے اور یہی تشبیب اور مدح کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ گریزکے اشعار کی تعداد متعین نہیں ہے۔عربی قصیدہ گو ابتدا میں گریز کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتے تھے اسی لیے ان کی تشبیب اور گریز میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔
بعض شعرائے متاخرین نے گریز کو ایک مستقل فن بنا دیا۔ اردو میں سودا نے حضرت علی کی منقبت میں ایک قصیدہ لکھا ہے جس میں بہاریہ تشبیب کے بعد اپنی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے اس طرح گریز کیا ہے:
ہے مجھے فیض سخن اس کی ہی مداحی کا
ذات پر جس کی مبرہن کنہ عز و جل
تیسرا جز ’مدح‘ قصیدے کا سب سے ضروری جز مدح سرائی ہے جس میں شاعر ممدوح کی تعریف و توصیف اور بڑائی و بزرگی بیان کرتا ہے۔ اس تعریف کے بھی دو جز ہوتے ہیں۔ کبھی ممدوح کی تعریف صیغہ غائب کے ذریعے کی جاتی ہے تو کبھی براہ راست ممدوح کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔ عربی قصائد میں مدح کا درجہ سب سے اعلیٰ اور برتر ہے۔ عربی قصائد میں مدح حقیقت اور واقعیت پر مبنی ہوتی تھی۔
مندرجہ ذیل اشعار کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ زہیر بن ابی سلمیٰ نے ہرم بن سنان کی تعریف کس بہترین انداز میں کی ہے:
وَأَبیضُ فَیَّاضٌ یَداہُ غَمَامۃٌ
علیٰ مُعْتفِیہِ مَا تَغب فَوَاضِلُہٗ
أَخِی ثِقَۃٌ لَا یَہلِکُ الْخَمر مَالَہٗ
وَلٰکنہ قَد یَہْلِکُ المَالَ نائلہٗ
تَراہُ اِذا مَا جئتَہ مُتَہلِّلاً
کَأنَّکَ تَعْطِیہِ الَّذِی أنتَ سَائِلُہٗ
‘‘میرا ممدوح پاک باز و سرخرو اور بڑا سخی داتا ہے۔ اس کے ہاتھ بارش کی طرح ہیںا ور جو لوگ اس کی طرف دست سوال دراز کرتے ہیں ان سے ان کی داد و دہش کبھی ختم نہیں۔ وہ بھروسہ کے لائق ہے اور شراب اس کے مال کو ختم نہیں کرپاتی، لیکن اس کی سخاوت البتہ اس کے مال کو ختم کرسکتی ہے۔ جب تم اس سے مانگنے کی غرض سے اس کے پاس آتے ہو تو اسے دیکھو گے کہ وہ اتنا خوش ہوتا ہے کہ جیسے تم ہی اسے وہ چیز دے رہے ہو جو تم اس سے مانگ رہے ہو۔’’
عربی قصیدے کے برعکس فارسی اور اردو میں مدح کا معیار خیال آفرینی اور مبالغہ ہوتا ہے پھر مدح کے بندھے ٹکے مضامین ہیں، جیسے قصیدہ گو ممدوح کے جاہ جلال، زر و دولت، شجاعت و بہادری، عدل و انصاف، خدا ترسی، جاہ و حشمت، شان و شوکت، ثروت و حلم، علمیت اور قابلیت، عبادت و ریاضت، عدل و انصاف کے علاوہ ممدوح سے متعلق بعض چیزوں مثلاً گھوڑا، ہاتھی، فوج ، تلوار، تیر و کمان اور ترکش وغیرہ کی مدح کرتا ہے۔ اردو میں سودا کے ایک قصیدہ ‘در مدح عالمگیر’ سے ایک مثال ملاحظہ ہو:
علوئے مرتبہ تیرا نظر کرے جو کوئی
رہے فلک ہی کو اس کی برنگ شمع نگاہ
شہا نسب جو ترا آسمان پر پہنچا
ہر آسمان سے پھینکی ہے آسماں پہ کلاہ
چوتھا جز حسن طلب یا دعا ہے۔ اس کے ذریعے شاعر ذاتی حالات اور اغراض و مطالب بیان کرنے کے بعد ممدوح کے اقربا کو دعا دے کر قصیدہ ختم کردیتاہے۔ ساتھ ہی شاعر قصیدہ کہنے کا اپنا مقصد واضح کرتا ہے اور ممدوح کی نفسیات کا پورا خیال رکھتے ہوئے اظہار مطالب اس ڈھنگ سے کرتا ہے کہ ممدوح کی طبیعت پر گراں نہ گزرے۔
’دعا‘ قصیدے کا نازک مقام ہے اور قصیدے کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر دعا پر ہی ہوتا ہے اور قصیدے کے مقطع میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے۔ ’دعا‘ میں شاعراپنے ذاتی حالات، اغراض و مقاصد بیان کرنے کے ساتھ کبھی کبھار زندگی کے خستہ حالات کو بھی بیان کرتا ہے۔ مدح و تعریف کے علاوہ مالی منفعت عہدہ و اکرام کا حصول بھی اس کا مقصد ہوتا ہے۔ مدح کے بعد دعا مانگی جاتی ہے اور ممدوح سے حسن طلب کے ساتھ اظہارِ تمنا کیا جاتا ہے۔غالب نے قصیدہ در مدح بہادر شاہ ظفر کی مدح کے ساتھ آخر میں ایک مصرع میں دعاشامل کرکے کس طرح جدت اور لطافت پیدا کی ہے:
ہے ازل سے روائیِ آغاز
ہو ابد تک رسائیِ انجام
قصیدے کی خصوصیات کے ضمن میں عام طورپر شوکت الفاظ، نادر تشبیہات و استعارات،علمی و ادبی اصطلاحات و تلمیحات، شاعرانہ پیکر تراشی ، اور شکوہ تراکیب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے عربی اور اردو دونوں زبانوںکے شعرا نے قصیدے کی اس خصوصیت پر پورا اترنے کی بھرپورکوشش کی ہے۔ زمانہ جاہلیت کے شعرا کا کمال یہ ہے کہ وہ تشبیہات کے پھول اپنے آس پاس سے ہی حاصل کرتے ہیں ، جب کہ اردو کے شعرا کا طریق عمل اس کے برعکس ہے۔ صنف ِقصیدہ بلند حوصلہ اور اعلیٰ خیال کی بھی متقاضی ہے ۔ چنانچہ مشہور قصیدہ نگاروں نے اس خاصیت کو اپنے قصیدے میں برتا ہے۔ اگر حقیقی جوش اور اعلیٰ سوچ کی بات کریں تو یہ عربی قصیدے کا مابہ الامتیاز ہے۔ عمروبن کلثوم کا وہ قصیدہ کون بھول سکتا ہے جسے نہایت جوشیلے انداز میں لکھا گیاہے۔ دراصل یہ قصیدہ عمر وبن کلثوم کی آپ بیتی ہے جس میں وہ اپنی اور اپنے خاندان کی شجاعت وبہادری کا ذکر کرتا ہے:
اَلا لَایَعلَمُ الاقوامُ اَنَّا
تَضَعْضَعْنَا وَاَنَّا قَدْوَنِیْنَا
اَلالَا یَجْہَلنَّ اَحدٌ عَلَینَا
فَنَجْہَلَ فَوْقَ جَہْلِ الْجَاہِلِینَا
بِأَیِّ مَشِیَّۃٍ عَمْرُ و بْنِ ہِندٍ
تَکُونُ لِقَیلِکُمْ فِینَا قَطِیْنَا
خبردار! کوئی یہ نہ خیال کرے کہ ہم کمزور ، ذلیل اور سست ہیں( بلکہ ہم پہلے جیسے عزت دار اور بہادر ہیں۔)آگاہ ہوجائو اورغور سے سن لو! ہرگز ہم سے کوئی جہالت سے پیش نہ آئے ورنہ ہم سب جاہلوں سے بڑھ کر جہالت کا سلوک کریں گے۔اے عمروبن ہند! تم نے یہ کیسے سوچ لیاکہ ہم تمھارے مقرر کردہ حاکم کی خدمت گزاری کریں گے’’۔
اردو قصیدہ نگاروں نے بھی اپنے ڈھیروں قصائد کوپُرجوش بنانے کی کوشش کی ہے مگر اس صفت میں عربی قصیدہ نگاروں کے آس پاس بھی نہ پہنچ سکے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اردو قصیدہ نگاروں کے یہاں حقیقت کے بجائے بناوٹ کا شائبہ زیادہ نظر آتا ہے۔ اردو شعرا نے اجرت کی خاطر زیادہ تر بادشاہان وقت کی شان میں قصیدے کہے جس میں انھوں نے بادشوں اور نوابوں و رئیسوں کی ہی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ اس ضمن میں کبھی وہ ان کی تلواروں، تو کبھی ہاتھیوں اور گھوڑوں اور کبھی ان کے ذریعے جنگ کے میدان میں دشمنوں کی صفوں کو تار تار کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے برعکس عربی شعرا اپنے جنگی سامان مثلاً، تلوار، گھوڑے، نیزے ہاتھی اور اونٹوں کا تذکرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا انداز بیان پرتاثیر ہوجاتا ہے۔
اردو قصیدہ نگاروں نے بھی اپنے ڈھیروں قصائد کوپُرجوش بنانے کی کوشش کی ہے، آصف الدولہ کی شجاعت کو بیان کرنے کے لیے میر نے جس جوش کے ساتھ یہ قصیدے کہے ہیں ، وہ پڑھنے کے قابل ہیں، قصیدے کے کچھ اشعار پیش ہیں:
جس سحر جرأت سے کھینچی اس نے تیغ
ڈھال رکھے منہ پہ نکلا آفتاب
رزم کے عرصہ میں ہلچل پڑگئی
آسماں کے خیمہ کی کانپی طناب
خرمن آسا جل گیا انبوہ خصم
چل گئی جو اس کی تیغ برق تاب
اردو شعرا بھی اپنے ممدوحین کی بہادری شجاعت کا اظہار کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔سودا نے حضرت علیؓ کی مدح کرتے ہوئے کس طرح سے ان کی بہادری اور شجاعت کا ذکر کیا ہے:
اس کے قبضے پہ جو ہو دستِ مبارک تیرا
نہ رہیں دینِ محمد کے سوا اور ملل
جمع کب رہ سکیں اعدا کے حواس ِ خمسہ
دیکھ کر اس کو علم ہاتھ میں تیرے یک پل
قصیدہ کے ضمن میں مذہبی قصیدوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ عربی اور اردودونوں زبانوں میں بہت سے قصیدے تحریر کیے گئے ہیں۔ عربی قصیدے کے باب میںحضرت حسان بن ثابت کا نام سنہرے حرفوں میں لکھا جاتاہے۔ پیارے نبیؐ حضرت حسان سے مسجدنبوی میں بلا کر قصیدے سنا کرتے تھے۔اسی لیے آپؐ نے حضرت حسان کے بارے میں فرمایا ہے کہ :اِنَّ اللّٰہ یُوئدُ حَسَّان بِرُوحِ الْقُدُس (اللہ تعالیٰ جبریلؑ کے ذریعے حسان کی مددفرماتا ہے) (15) اس جملے کے مفہوم سے صالح شاعری کی سرحد پیغمبری سے مل جاتی ہے۔ حسان اپنے قصیدے مسجد نبوی میں منبر پر کھڑے ہوکر سنایا کرتے تھے اور نبی اکرمؐ نیچے بیٹھ کر سنتے تھے۔ قصیدہ ’بانت سعاد‘کی وجہ سے نبیؐ اکرم نے کعب بن زہیر کا نہ صرف گناہ ہی معاف کیا بلکہ بڑی عزت و عظمت بخشی۔
عربی اور اردو دونوں زبانوں کے قصائد اپنے اپنے عہد کی تہذیب وسماج کا آئینہ ہیں۔دورِ جاہلیت کے قصیدہ گواپنے تہذیبی اور سماجی دائرے سے باہر نہ نکل سکے انھوں نے جو دیکھا وہی پیش کیا، ان کا طرز بود و باش بہت ہی سادہ ہوتاتھا۔ بعد میں یعنی عہد اسلام میں جب کچھ ترقیات ہوئیں، مختلف ممالک کے باشندوں کا ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوا ، تو دھیرے دھیرے حالات بدلنے لگے۔اسی لیے اس کا دائرہ بھی وسیع ہوا ، اموی اور عباسی دور میں صورت حال بالکل بدل گئی، ترقیات کے حساب سے بھی کچھ بہتری آئی ، جب تہذیب و معاشرت کادائرہ وسیع ہوا توایک دوسرے کی زبان سے بھی واقفیت ہوئی ، یہی وجہ ہے کہ بعد کے ادوارمیں قصیدوں میں کچھ عجمی الفاظ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اردو شعرا نے بھی اپنے قصائد میں تہذیبی وسماجی حالات کی عکاسی کی ہے ۔ ہندوستان میں ہمیشہ سے موسیقی اور رقص و سرود کو بڑی اہمیت دی جاتی رہی ہے، اس لیے اردو قصیدوں میں ان کا تذکرہ موجود ہے۔ ساتھ ہی ملبوسات، میلے وغیرہ بھی ہندوستانی تہذیب و معاشرت کا حصہ ہیں اس لیے ان کابھی تذکرہ اردو قصیدوں میں ملتاہے۔
عربی اور اردو دونوں قصیدہ نگاروں نے اپنی شاعری میں مبالغہ آرائی کا استعمال کیا ہے۔ عربی قصیدہ نگاروں کے یہاں مبالغہ آرائی حقیقت کے قریب ہوتی ہے جب کہ اردو قصیدہ نگاروں کے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جیسے کہ ذوق نے اپنے تائیہ قصیدے ‘درمدح بہادر شاہ ظفر’ میں اپنی علمی شان وشوکت کا مظاہرہ اس انداز میں کرتے ہیں کہ قاری یا سامع ان کی علمیت ومہارت کا قائل ہوجائے۔اس قصیدے میں ذوق نے تشبیب کے سوسے زیادہ اشعار کہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ 70 اشعار میں انھوں نے خود اپنی علمی لیاقت اور جاہ و حشمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر آگے عالم خواب میں کیفیت میں محبوبہ کا خیالی سراپا کھینچا ہے، پھر آگے 120 اشعار میں ممدوح یعنی بہادر شاہ ظفرکی تعریف کی گئی ہے۔ یہ بے جا مبالغہ آرائی ہے۔ دراصل اردو قصیدہ گویوں کے یہاں یہ صفت فارسی شاعری سے آئی۔ اردو کے شعرا اگرعربی شعرا کے نقش قدم پر چلتے تو صورت حال مختلف ہوتی۔
مجموعی طور پر ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ عربی اور اردو دونوں زبانوں کے قصیدہ گویوں نے اس صنف کواعلیٰ مقام عطا کیا تھا۔ بیشتر عربی قصائد شروع شروع میں بغیرکسی لالچ اور معاوضے کے لکھے جاتے تھے کیونکہ خان قصیدہ نگاروں نے اپنے قصیدوں کے ذریعے اپنے ملک کی عظمت اور قوموں کے افتخار کو ہی اپنا فرض منصبی سمجھا۔ جب کہ اردو قصیدہ نگاروں کے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے، یہاں شاعری درباروں کے زیرسایہ پروان چڑھی۔ اس زمانے میں بہترین حکمراں کی ایک شناخت یہ بھی تھی کہ اس کے اندر شعر کی تفہیم کس حد تک ہے اور وہ حکمراں شاعروں کی سرپرستی کس طریقے سے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں زیادہ تر قصائد معاوضے اورتحفے و تحائف کی خاطر ہی لکھے جاتے تھے، ہندوستان میں جب درباری دور تھا تو زیادہ تر شعرا انہی بادشاہوں کی مدح میں قصیدے لکھتے تھے، جس کے عوض شعرا کو بھاری معاوضے دیے جاتے تھے۔ چونکہ مغلیہ عہد کے خاتمے کے بعد دھیرے دھیرے قصیدے کی طرف شعرا کا رجحان بھی کم ہوتاگیا۔ آج عالم یہ ہے کہ مثنوی کی طرح قصیدہ بھی ایک بھولی بسری صنف بن کررہ گئی ہے۔
حواشی
1 عربی ادب کی تاریخ جلد اوّل: عبدالحلیم ندوی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، چھٹی طباعت 2014 ، ص 123،بحوالہ العمدۃ، لابن رشیق القیروانی
2 دکن میں اردو: نصیرالدین ہاشمی، طبع ششم، ص 53-54بحوالہ اردو میں قصیدہ نگاری: ڈاکٹر ابومحمد سحر، مکتبہ ادب، بھوپال، سنہ اشاعت 2012،ساتواں ایڈیشن، ص 46
3 اردو میں قصیدہ نگاری: ابو محمد سحر
4 عربی زبان و ادب- ایک تاریخی مطالعہ: خالد حامدی، ادارہ شہادت حق، نئی دہلی، سنہ اشاعت 1986، ص 158
5 طبقات ابن سعد 143-145/8، تاریخ العرب قبل الاسلام، جاد علی 41/1
6 تفصیل کے لیے دیکھیے جرجی زیدان، جلد اوّل، ص 79 اور طبقات الشعرا، عبدالسلام الجہمی
7 اردو قصیدہ نگاری: مرتبہ : ڈاکٹر ام ہانی اشرف،ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، 1982،ص 39
8 تفصیل کے لیے دیکھیے: عربی ادب کی تاریخ، جلد اوّل از عبدالحلیم ندوی
9 تاریخ عرب، مصنفہ: موسیو سیدیو فرانسیسی، مترجم: مولوی عبدالغفور خان صاحب رامپوری اور جناب مولوی محمد حلیم صاحب انصاری ردولوی، تصحیح و نظر ثانی:مولوی سید سلیمان ندوی، ص 15-16
10 تفصیل کے لیے دیکھیے (اردو اور عربی کے اہم قصیدہ گو شعراء از یوسف رامپوری، ص46-47)
11 محمد عبدالرحمن ابن خلدون المغربی ص 532، بحوالہ قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری: ڈاکٹر ایم کمال الدین، ص 14
12 قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری: ڈاکٹر ایم کمال الدین، ص 15
13 نصرتی از عبدالحق، ص 237
14 قصیدے کی شعریات، مرتبین: پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر وہاج الدین علوی، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی، سنہ اشاعت: مارچ 2017، ص 22
15 مقدمہ حسان بن ثابت، مطبوعہ مصر، ص 2
(یہ مضمون شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے اکیڈمک ریسرچ اینڈ ریفریڈ جرنل ‘اردو جرنل 12’ 2021 میں شائع ہوچکا ہے)۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

