Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن کے رنگنصابی مواد

اردو داستانوں کی حمایت میں کلیم الدین احمد – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras نومبر 10, 2021
by adbimiras نومبر 10, 2021 0 comment

کلیم الدین احمد کی تنقیدی کاوشیں اردو تنقید کی روایت میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بلکہ اردو تنقید نگاری کو ایک نئی سمت و رفتار عطا کرتی ہیں۔کلیم الدین احمد کے طریقۂ نقد اور تنقیدی آرا انھیں ہم عصروں میں نمایاں اور ممتاز کرتی ہیں۔ان کا طریقۂ نقد تحلیل و تجزیہ پر مبنی ہے اور ان کی رائے میں صلابت ہے۔انھوں نے کسی بھی فن پارے کا تحلیل و تجزیہ کرتے وقت کافی غور و فکر سے کام لیا ہے اور ہر زاویہ سے فکر و فن کی کسوٹی پر پرکھ کر اپنی رائے قائم کی ہے۔ وہ کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتے؛ نہ کسی فن کار کی اور نہ ہی فن پارے کی۔

کلیم الدین احمد نے اپنی رائے کو دو ٹوک اور واضح انداز میں پیش کیا ہے۔اظہارِ آرا کے وقت ان کے لہجے میں صلابت ہوتی ہے۔ جو فن کار یا قلم کار ان کے مطمحِ نظر ہوتے ہیں وہ اس عمل سے تلملا اُٹھتے ہیں اور کلیم الدین احمد ناقد جراح بن جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ فعلِ جراحی؛ عبث نہیں صحت مندی کے لیے لازم ہے۔بے باکی اور جرأت مندی سے فن پارے کا تحلیل و تجزیہ صحت مند رائے قائم کرنا ؛معیاری ادب کے لیے کتنا ضروری ہے اس سے کوئی صاحبِ نظر انکار نہیں کرسکتا ہے۔وہ قدآور شخصیات سے بھی مرعوب نہیں ہوئے۔ اپنے وسیع مطالعے، فکری نیرنگی اور فنی دسترس سے اظہارِ خیال کرکے بت شکن کی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کلیم الدین احمد مغربی اور مشرقی شعر و ادب کی روایت و رجحانات سے اچھی طرح واقف تھے اور کسی فن پارے کا جائزہ لیتے وقت مغرب کے ادبی معیار اور فکر و فن کے تناظر میں دیکھنا چاہتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ اردو کے ایک سخت گیر ناقد کی حیثیت سے اُبھرکر سامنے آئے۔یہی وجہ ہے کہ بیشتر ناقدوں نے ان کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ان کے کسی ایک جملہ یا فقرہ یا ایک مختصر عبارت کو ملحوظِ نظر کرکے ان کی سخت گرفت کی ہے۔ماہنامہ ’’سہیل‘‘ گیا(کلیم الدین احمد نمبر)اکتوبر ۱۹۸۳ کے شمارے میں ڈاکٹر سیّد محمد محسن، ڈاکٹر عبد المغنی اور نظیر احمد صدیقی کے مضامین شامل ہیں اور کلیم الدین احمد کی تنقید کے ساتھ ان کی زبان و بیان کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔خصوصاً ان کی خود نوشت ’’اپنی تلاش میں‘‘پر کی گئی تنقید ؛قدح و تنقیص کے دائرے میں داخل ہوگئی ہے۔اس کے باوجود پروفیسر محمد محسن صاحب اعتراف کرتے ہیں کہ:

’’میرے دل میں پروفیسر کلیم الدین احمد کی بڑی عظمت ہے۔میں اُن کے علم کا معترف،ان کی ذہانت اور لگن کا قائل اور ان کی علمی کاوش اور ان کی انتھک محنت کی غیرمعمولی صلاحیت سے متاثر رہا ہوں۔انھوںنے اردو ادب کی جو خدمت کی ہے اس کی مثال مشکل سے ملے گی اور تنقید و تحقیق کے میدان میں اپنی جو جگہ بنالی ہے وہ بہت ہی کم لوگوں کو میسر ہوتی ہے ‘‘  ۱؎

دراصل کسی بھی ناقد یا قلم کار کا احتساب اس کے جملہ کارنامے کے تناطر میں ہی مناسب عمل ہے جب کہ کلیم الدین احمد کے ساتھ یہ روا نہیں رکھا گیا۔انھوںنے اردو شاعری اور اردو تذکرے و تنقید کا دو ٹوک، بے باک اور تفصیلی جائزہ کے بعد کھرے کھوٹے کو نمایاں کیا ہے۔اسی طرح داستانوں پر بھی کلیم الدین احمد کا تجزیاتی مطالعہ اور تفہیم قابلِ ستائش ہے۔ان کی کتاب ’’اردو زبان اور فن داستان گوئی‘‘فکشن کی تنقید میں بے نظیر ہے۔اس کتاب سے تحریک پاکر ناقدین داستانوں کی طرف متوجہ ہوئے۔اس کتاب میںکلیم الدین احمد نے منتخب داستانوں کا تنقیدی جائزہ لینے سے قبل فنِ داستان گوئی اور اس کی تکنیک سے بحث کی ہے۔عام طور پر پلاٹ، مواد، کردار نگاری، مافوق الفطرت عناصر اور زبان و بیان کو داستان نگاری کی اہم عناصرِ ترکیبی قرار دیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ داستانوںمیں قصہ گوئی ہوتی ہے پلاٹ نہیںہوتا ہے۔ایک قصّہ کے کئی کئی ضمنی قصّے ہوتے ہیں۔ داستان میں بالکل آزادی اور فراخ دِلی سے دلچسپ قصّے بیان کیے جاتے ہیں اور تخیل کا گھوڑا سرپت دوڑتا چلا جاتا ہے، کہیں رُکاوٹ نہیں ہوتی جس سے فن کا رکو اپنی فکری جولانیاں دِکھانے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔اس کے جوہر کھل کر سامنے آجاتے ہیں اس لیے عظیم ترین انسانی کارناموں میں سے ایک؛داستان گوئی کو بھی شمار کیا جائے گا۔کیوںکہ اس میں مطالعہ، مشاہدہ اور تخیل کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ملتا ہے جو غیر معمولی ذہانت کارہین ہے۔اس لیے کلیم الدین احمد داستانوںکی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے مطابق:

’’اردو افسانوں اور ناولوں کے مقابلہ میں داستانوں کا زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔یہ ہماری ناسمجھی ہے اور لاعلمی ہے کہ ہم اس قیمتی سرمایہ کی قدر و قیمت سے بالکل واقف نہیں اور اس کی طرف کچھ توجہ نہیں کرتے اور کم قیمت افسانوں اور غزلوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔واقعہ تو یہ ہے کہ داستانوں کا جو سرمایہ اُردو میں موجود ہے(جس میں بہت کچھ ایسا بھی ہے جس سے ہمیں سنی سنائی واقفیت بھی نہیں)یہ سرمایہ کسی دوسری زبان کی داستانوں کے مقابلہ میں بلاتامل پیش کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی بلاتامل کہا جاسکتاہے کہ یہ کسی دوسری زبان کے سرمایہ کے مقابلہ میں ہیچ نہیں لیکن یہ تو اردو دنیا کا شیوہ ہے کہ اچھی چیزوں سے واقفیت نہیں اور کم قیمت چیزوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔‘‘۲؎

کلیم الدین احمد کا داستانوں کی حمایت کرنے اور اہمیت دینے کا پہلا سبب میرے خیال میں یہ ہے کہ داستانیں علوم و فنون کا خزانہ ہیں۔ داستانوں میں بہت سی حکایات اور واقعات علم و دانش کے چراغ روشن کرتے ہیں اور حکمت و دانائی کی باتوں سے داستانیں بھری پڑی ہیں۔ان میں ایسے ایسے حکیم ہیں جن کے علاج و معالجے کے طریقے حیرت زدہ کردیتے ہیں۔وہ مریض کے کپڑوں کی بُو سے بھی کامیاب علاج کرتے ہیں۔بہت سارے فنون ان کے وسیلے سے رائج ہیں بلکہ فنِ سپہ گری اور فوجی طور و اطوار میں داستانیں معاون رہی ہیں کیوںکہ یہ فنون ان میں اپنے کمال پر نظر آتے ہیں۔ عیاروں کے کارنامے آج کے خفیہ محکمہ کے مماثل ہیں۔ کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:

’’خفیہ محکمہ اور اس کی کارروائیاں کوئی خیالی چیز نہیں یہ بھی ایک حربۂ جنگ ہے۔نہایت اہم اور کامیاب’’طلسم ہوش رُبا‘‘ میں بھی یہ محکمہ کارفرما ہے اور اپنی اہمیت، اپنے سارے سازو سامان کے ساتھ ۔فرق صرف یہ ہے کہ اسے خفیہ محکمہ نہیں کہتے۔اس کا نام عیّاری ہے اور اس محکمہ کے ارکان کو عیّار کہتے ہیں۔اس محکمہ’’عیاری‘‘ کے بانی اور سردار خواجہ عمرو ہیں اور اس کے اہم ارکان چالاک، برق، مہتر قرآن، جانسوز بن قرآن اور ضرغام ہیں۔عموماً ان عیاروں کی عیاری پر ہم ہنستے ہیں اور انھیں خیالی باتوں جن و پری کے افسانوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے لیکن فنّی نقائص سے قطعِ نظر یہ عیاری کا سلسلہ موجودہ اقوام کے خفیہ محکموں سے کس قدر مشابہ ہے۔‘‘ ۳؎

اردو داستانوں کی حمایت کرنے کی دوسری وجہ کلیم الدین احمد کے نزدیک اس کا فن ہے۔ جہاں داستانوں میں مواد کا بکھراؤ، پلاٹ کا ڈھیلاپن، کرداروں کی مثالیت، جن، دیوی، پری وغیرہ کی شمولیت اور نہایت بلیغ چمچماتی زبان و بیان کو ناقدین نے داستان کی کمزوری قرار دیا ہے اور قصّہ کی بنیاد واقعیت اور حقیقت کے بجائے تخیل و تعلّی کو بنانے پر سخت اعتراض کیا ہے بلکہ اس کے مطالعہ کو تضیع اوقات بتایا ہے۔وہیں کلیم الدین احمدنے داستان گوئی کو ایک بہترین فن قرار دیا ہے کیوںکہ وہاں کوئی بندش نہیں ہے۔ قلم کار کو اپنے افکار کی حد متعین نہیں کرنا ہے جس طرح ناول یا افسانے میں ہوتا ہے۔ پلاٹ کے دائرے میں سوچنے کی پابندی ختم ہوجاتی ہے۔داستانوں میں ایک زندگی نہیں ایک زمانہ سامنے پھیلا ہوتا ہے اور زمانے کے تمام نشیب و فراز اور تہذیب و ثقافت اور ایک ملک کے بجائے کئی ممالک کے معاملات و مسائل داستانوں میں ڈھل جاتے ہیں جس کی وجہ سے مواد میں بکھراؤ آنا لازمی ہے۔ظاہر ہے اس پھیلاؤ کو ایک ذہین ترین فنکار ہی سنبھال سکتا ہے اور اس پھیلاؤ کو سنبھالنے اور دلچسپ بنانے میں مافوق الفطرت عناصرمعاون ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں کلیم الدین احمد کی دلیل پیشِ نظر ہے:

’’جب ہم ان جنوں، دیووں، پریوں کو انسان کی طرح بولتے چالتے، ہنستے روتے، محبت و نفرت کرتے، ہمدردی ، ترحم یا غیض و غضب کے جذبات سے متاثر دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک طرح کا اطمینان ہوتا ہے اور ہم اپنے جذبات و خیالات پر زیادہ اعتماد محسوس کرنے لگتے ہیں اور یہ اجنبی ہستیاں انسان سے مختلف نہیں بلکہ انسان ہی جیسی مگر انسان سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آتی ہیں۔‘‘  ۴؎

کلیم الدین احمد نے جن، دیو، پری، جادوگر وغیرہ کو انسانوں سے زیادہ ترقی یافتہ گردانا ہے، کیوں؟اور کیسے؟حقیقتاً کوئی فن کار یاقلم کار نہ تو جن، دیو، پری سے ملا ہے اور نہ ہی آج کے سائنسی دور میں اس کی توقع کی جاسکتی ہے پھر بھی ان مافوق الفطرت ہستیوں کے توسط سے ایسے ایسے واقعات تحریر کردینا کہ وہ حقیقی معلوم ہوں؛انسان کی قوتِ متخیّلہ کی دین ہے جس کو قدرت نے آدمی کو عطا کیاہے اور اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کائنات(Sphere)میں جو کچھ موجود ہے، انسانی تصور اس کی حد نہیں پار کرسکتا۔ابھی انسان اس مقام پر نظر نہیں آتا کہ کہہ اُٹھے’’اب کہاں تصور کا دوسرا قدم یارب۔۔۔‘‘ کیوںکہ ابھی اس Sphere   (عالم) کے اسرار و رموز انسانوں پر آشکار ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔لہٰذا انسان نے جو کچھ بھی تصور کیا ہے اور غور و فکر کے بعد وہ عمل گاہوں سے گزرا تو ایسی ایسی ایجادات منظرِ عام پر آئی ہیں اور آرہی ہیں کہ خود انسان دم بخود ہے۔ کلیم الدین احمد نے کچھ تقابلی جائزہ پیش کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:

’’آپ جادو کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو جادو کا حقیقت و واقعیت کی روشنی میں مطالعہ کیجیے۔ جادوگر جادو کرتے ہیں تو سفید و سرخ، سیاہ یا زرد رنگ کے ابرو نمودارہوتے ہیں اور ان سے کبھی تیر و خنجر برستے ہیں تو کبھی آگ برستی ہے۔ ایسی بوندیں پڑتی ہیں جن سے ہوش گم ہوجاتے ہیں یا جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔آج طرح طرح کے ہوائی جہاز آسمان پر بادل کی طرح چھا جاتے ہیں اور کبھی پھٹنے والے گولے برساتے ہیں تو کبھی آگ یا کسی زہریلی گیس کی بارش کرتے ہیں۔ نتیجہ واحد ہے۔ جادوگر اپنے جادو سے ایک ایسا عفریت طلسمی اژدھا بناتے ہیں جو لوگوں کو کھاجاتا ہے اور کوئی حربہ اس پر اثر نہیں کرتا۔آج ٹینک عفریت طلسمی یا اژدہے سے خونخواری دِکھاتے ہیں۔ جادوگر ایسا گولہ پھینک مارتے ہیں جو مخالف کے سینے کے پار ہوجاتاہے۔آج دستی بم اس سے زیادہ پُرزور ثابت ہوتے ہیں۔جادوگر اپنے یا اپنی فوج کے گرد ایک حصار کھینچ دیتے ہیں کہ ان کے دشمن اس حصار کے اندر نہ آسکیں۔آج ہم ’’مترنیولائن‘‘ بناتے ہیں۔ جادوگر اپنے سحر سے ایک طائر بناتے ہیں اور یہ طائر سحر سینکڑوں میل ایک لمحہ میں طے کرکے ضروری خبریں پہنچاتا ہے آج وائرلیس سے یہ کام لیا جاتا ہے۔طوالت مانع آتی ہے ورنہ اس قسم کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ظاہر ہے کہ وہ تعجب خیز و ناقابلِ یقین باتیں جنھیں ہم خواب و خیال سے زیادہ نہیں سمجھتے تھے حقیقت میں تعجب خیز و ناقابلِ یقین نہیں۔یہ حیرت میں ڈالنے والے شعبدے اب شعبدے نہیں رہے۔سائنس کی معمولی ایجادیں ہیں۔ یعنی جن خیالی چیزوں کو اگلے مصنفین نے زورِ تخیل سے پیدا کیا تھا اور جو ہمیں استعجاب میں ڈالتی تھیں، انھیں سائنس نے واقعیت کا جامہ پہنادیا ہے۔ گویا ایک خواب تھا جو حقیقت سے بدل گیا ہے۔‘‘ ۵؎

کلیم الدین احمد نے تخیل و تعلّی پر مبنی داستانیں ’’طلسم ہوش رُبا‘‘، ’’بوستانِ خیال‘‘، ’’باغ وبہار‘‘، ’’آرائشِ محفل‘‘ اور ’’فسانۂ عجائب‘‘  کے ساتھ دو منظوم داستانیں’’مثنوی سحر البیان‘‘ اور ’’گلزارِ نسیم‘‘ کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ اور تحلیل و تجزیہ کیاہے۔ ان کی تفہیم واضح اور داستانوں کے حوالے سے رائے دو ٹوک ہے اور وہ ان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔حقیقتاً داستانوں میں ایک عہد نہیں ایک زمانہ کی سرگرمیاں موجود ہیں۔جس کی وجہ سے کرداروں کی کثرت ملتی ہے اور ہر نوعیت کے کردار نظر آتے ہیں۔ہر پیشہ اور ہر ہنر کے کردار اپنے اوصاف کے ساتھ بحسن و خوبی اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے نظر آتے ہیں پھر بھی ناقدین کے ہدف بنتے ہیں کہ داستانوں میں مثالی کردار نگاری ملتی ہے۔دراصل داستانوں کے مرکزی کردار عموماً بادشاہ، شہزادے اور شہزادیاں ہوتی ہیں جن کے ظاہری اور باطنی اوصاف پر داستان گو خصوصی توجہ دیتا ہے۔ان کی شخصیت میں انسان کے سارے اخلاقی محاسن موجود ہیں نیز وہ بہت ساری غیبی قوتوں کے حامل بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو پے در پے کامیابی و کامرانی بھی نصیب ہوتی ہے۔ غالباً داستان گو ان کے توسط سے پیغام دینا چاہتا ہے کہ اچھائی اور انسانیت نواز افراد کی زندگی خدمتِ خلق کے لیے ہوتی ہے اس لیے ان کے معاونین بھی بہت ساری خوبیوں سے مملو ہیں۔ نہ ختم ہونے والی داستان’’امیر حمزہ‘‘ کی ایک کڑی ’’طلسم ہوش رُبا‘‘کا ایک مطالعہ و تجزیہ بڑ ی سنجیدگی سے کلیم الدین احمد نے کیاہے اور تخیلی واقعات و کردار کو تاریخی واقعات و کردار سے تقابل کرکے ایسی مثالیں دی ہیں جو قاری کو غور و فکر کی مزید دعوت دیتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

’’طلسم ہوش رُبا‘‘ میں زندگی آزاد اور چمکیلی ہے۔ یہاں اولو العزمی کا میدان ہے۔جرأت و ہمت و طاقت کی آزمائش ہے۔ امن و امان کے بدلے خطروں سے سابقہ ہے۔ اپنی ہمت، اپنی قوت کے مطابق ہر شخص ناموری حاصل کرسکتا ہے۔ہرشخص مختلف مہمیں، مشکل خطرناک مہمیں سر کرسکتا ہے۔یہاں صلائے عام ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ جانب داری، ناانصافی نہیں۔ میدان سامنے ہے۔ ہر شخص اپنی شجاعت آزماتا ہے اور اپنی شجاعت اور طاقت کا صلہ پاتا ہے اور اپنی ذاتی خوبیوں، اپنے زورِ بازو سے بلند مرتبہ حاصل کرتا ہے۔ ملک و مال کسی کی ملکیتِ خاص نہیں۔ اگر کوئی نااہل ہے تو پھر بہت جلد وہ اپنا ملک کھو بیٹھتا ہے اور اسے اپنے مال سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ایک ظالم کو شکست دے کر دوسرے ظالم کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ایک طلسم فتح کرنے کے بعد دوسرے طلسم سے سابقہ پڑتا ہے ۔ اس لیے یہ ڈر نہیں کہ یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا اور پھر عالی ہمتی کا راستہ محدود ہوجائے گا۔ایک اسد، ایک ایرج، ایک نور الدہر کے آگے تیمورلنگ، سیزر، نپولین، ہٹلر کی کوئی حقیقت نہیں۔‘‘۶؎

’’داستانِ امیرحمزہ‘‘ کو کلیم الدین احمد نے اردو داستان گوئی کی معراج قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ اس ختم نہ ہونے والی داستان کو پڑھنے اور اس کا جائزہ لینے کے لیے کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے۔ انھوں نے خود اس کی ایک کڑی ’’طلسم ہوش رُبا‘‘ کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے اور اس کی اہمیت و افادیت کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’طلسم ہوش رُبا‘‘ کی سات ضخیم جلدیں ہیں اور ان میں واقعات کی تکرار بھی ملتی ہے لہٰذا اس کو ایڈٹ کرکے تین چار جلدوں میں ایک اچھا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ قارئین اس سے لطف اندوز ہوسکیں اور قلم کار اس کے مطالعہ سے اپنے قوتِ متخیّلہ کو جِلا دیں۔ ان کی فکر میں وسعت آئے، بیان میں روانی اور زبان میں شگفتگی پیدا ہو، لیکن طوالت کی وجہ سے بہت سے قاری اس کا مطالعہ نہیں کرتے اور قلم کار بھی اس کا مطالعہ لاحاصل سمجھتے ہیں جب کہ کلیم الدین احمد کے مطابق:

’’داستان گوئی اب زندہ فن نہ سہی لیکن کامیاب داستانیں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گی۔ انھیں ہم مردہ سمجھ کر دفن نہیں کرسکتے۔ خصوصاً اردو میں کامیاب ادب کا سرمایہ کچھ اتنا زیادہ نہیں کہ ہم ان داستانوں کو حقیر سمجھ کر انھیں ادب کے زمرے سے خالی کردیں۔‘‘ ۷؎

ایک نقطۂ نظر سے داستان گوئی کو مردہ فن نہیں قرار دیا جاسکتا کیوںکہ داستان بھی معاشرتی زندگی سے وابستہ ہے اور کہانی کی ایک اہم قسم ہے۔ نیز انسانوں کی کہانی سے سماجی زندگی کے ابتدائی دنوں سے لگاؤ ہے اس لیے جب تک انسانی زندگی اور اس کے متعلقات رہیں گے اس وقت تک داستانیں لکھی جاسکتی ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ داستانوں کے لیے مافوق الفطرت ہستیاں لازم ہیں اور آج کے سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں جن، دیو، پری، جادو ٹونا پر کون یقین کرے گا۔ غور فرمائیں تو سائنس و ٹیکنالوجی کے کرشمے سے آج کا انسان حیرت زدہ ہے۔ روبوٹ اور الیکٹرونک ڈِواسیز جس طرح پلک جھپکتے اپنے کام کو انجام دے رہے ہیں ان کو کسی جن، دیو، پری سے کم نہیں آنکا جاسکتا۔ پھر سائنسی ایجادات کے لیے جو تجربہ گاہ تیار کیے جاتے ہیں وہ طلسمی نگارخانہ کے مماثل لگتے ہیں جس کی ایک جھلک ناول’’پانی‘‘ میں دیکھنے کو ملتا ہے جو تصور پر مبنی ہے۔ لہٰذا آج کی داستانیں تصور و تفکر کے ساتھ وسیع مطالعے کے متقاضی ہیں۔ اس کے لیے بہت سارے علوم و فنون سے واقفیت ضروری ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں جو داستانیں لکھی گئی ہیں، وہ بھی تخیلات و تصورات کے ساتھ اپنے عہد کے علوم و فنون سے آراستہ اور قاری کو متحیر کرتی ہیں اور ان کے کرشمائی علوم کو دیکھتے ہوئے ان پر رشک ہوتا ہے۔ بہرکیف! داستان گوئی نہ کل آسان تھی اور نہ آج ؛اس کے لیے نابغۂ روزگار ہوناشرط ہے۔

 

حواشی:

(۱)      ماہنامہ ’’سہیل‘‘ گیا(کلیم الدین احمد نمبر)اکتوبر۱۹۸۳،    ص۶۶

(۲)     ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘  :  کلیم الدین احمد                 ص۲۰۴/۲۰۳

ناشر: ادارۂ فروغِ اردو، امین آباد پارک، لکھنؤ، سنہ اشاعت:۱۹۷۷

(۳)     ایضاً      ص ۶۵

(۴)     ایضاً      ص۲۷

(۵)     ایضاً      ص ۷۷/۷۶

(۶)     ایضاً      ص ۴۲/۴۱

(۷)     ایضاً      ص۱۹۷/۱۹۶

 

 

ڈاکٹر عبدالبرکات

Dr. Abdul Barkat

University Professor

E-mail : abarkat9835@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

عبد البرکاتکلیم الدین احمد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جون ایلیا اور زاہدہ حنا کی بیٹی فینانہ فرنام کی دل گداز تحریر
اگلی پوسٹ
شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں پروفیسر وکاس شرماکے ناول ’’راہ کے پتھر‘‘ کا اجرا آج

یہ بھی پڑھیں

پریم چند کی فکری اور تخلیقی روایت –...

اپریل 12, 2025

داستان کی روایت : ایک مجمل جائزہ –...

اکتوبر 15, 2022

داستان کی اسطوری فضا اورتخلیقی عمل – ڈاکٹر...

اکتوبر 11, 2022

اردو داستانوں کی عصری معنویت – پروفیسر عبدُ...

جون 7, 2022

اردو میں افسانچہ نگاری کا تحقیقی و تنقیدی...

مارچ 25, 2022

عبدالحلیم شررکے ناول: "فردوسِ بریں” کا تجزیاتی مطالعہ...

مارچ 11, 2022

ناول کا فن – پروفیسر عتیق اللہ

فروری 16, 2022

قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین: ایک...

فروری 16, 2022

اردو اور عربی قصیدہ نگاری: ایک مطالعہ –...

فروری 6, 2022

آشوب دہلی اور دستنبو – پروفیسر صالحہ رشید 

جنوری 26, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں