Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن کے رنگ

داستان کی روایت : ایک مجمل جائزہ – امتیاز احمد

by adbimiras اکتوبر 15, 2022
by adbimiras اکتوبر 15, 2022 0 comment

ابتدائے آفرینش ہی سے انسان خوب سے خوب تر کی تلاش اور زندگی کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کا خواہاں رہا ہے۔ اپنے اس تلاش و جستجو کے راستے میں اسے بہت سے تجربات اور مشاہدات کا سامنا بھی کرنا پڑا جسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کوئی نہ کوئی ذریعہ درکار تھا۔ لہٰذا اس نے اپنے جذبات و احساسات کی ترویج، ترسیل اور اظہار کے لئے قصہ کہانی تراشے جو اگرچہ ہلکی پھلکی معلوم ہوتی لیکن ذہنی سکون اور فرحت و مسرت کے سماں باندھ دیتی۔

ابتدا میں آدمی کے وسائل مسدود، تجربات محدود، علم کا سرمایا مختصر اور اس کی عقل ذرا ذرا سی بات پر حیران ہونے کی خوگر اور اس کا تخیل بچیوں کی طرح معصوم تھا چنانچہ اس کی کہانیاں بھی ایسی ہی فطری اور سادہ تھیں اور عصری زندگی کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ. مشرق و مغرب کے مختلف ممالک میں رائج کہانیوں کا رنگ و روپ جغرافیائی، نفسیاتی اور سماجی اسباب کی بنیاد پر تھوڑا بہت مختلف ضرور تھا لیکن ان کے موضوعات بہت حد تک یکساں تھیں۔ یہ کہانیاں بعض دفعہ مختصر ہوتیں تو بعض دفعہ کئی کئی راتوں تک سلسلہ چلتا رہتا۔ ان کہانیوں کے موضوعات کا مرکز عموماً جن، پریاں، دیو، جادوگر، بادشاہ اور شہزادہ ہوا کرتے تھے۔ ہر شب کہانی کار اپنی کہانی کو ایسی جگہ ختم کرتا کہ اگلے دن تمام سامعین بڑی بے صبری اور بے چینی سے آگے کے واقعات سننے کے مشتاق رہتے۔ رفتہ رفتہ یہ کہانیاں لوگوں کا محبوب عمل اور بہترین مشغلہ بنتی گئیں جس نے بہت جلد ہی ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کر لی۔

اردو ادب میں داستان گوئی کی روایت کا آغاز ملا وجہی کی داستان ‘سب رس۱۶۳۵ (1635) کے روپ سے ہوا۔ اس میں ایک مسلسل قصہ بیان کیا گیا ہے۔ نثر مسجع و مقفع ہے لیکن اس میں روانی پائی جاتی ہے۔ ملا وجہی نے فرضی قصے کی صورت میں عشق و عقل اور حسن و دل کے معرکے بیان کیا ہے۔ جا بجا مختلف عنوانات سے عشق و عقل کی حقیقت اور کشمکش کو نہایت حسین انداز میں پیش کیا ہے۔ اس طرح یہ داستان تمثیل نگاری کا اولین نمونہ بھی بن جاتا ہے۔ سب رس کے بعد تقریباً ایک صدی تک اردو داستان کی روایت جامد رہی۔ صدی کے ختم ہونے پر طوطی نامہ کے ترجمے کی شکل میں روایت آگے بڑھی۔

طوطی نامہ

طوطی نامہ دنیا کی مقبول عام داستانوں میں سے ایک ہے لیکن اس کا سنِ تصنیف اور مصنف دونوں پردہ خفا میں ہے البتہ بارہویں صدی کا مشہور مصنف ہیم چندر جین اس سے واقف تھا اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب بارہویں صدی عیسوی سے قبل کی تصنیف ہے۔ قصہ اس طرح ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر کے پردیس چلے جانے بعد ایک اجنبی مرد کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہے اور روز چاہتی ہے کہ اس سے جا کر ملے لیکن مالک کا خیر خواہ طوطا اس عورت کو روزانہ ایک کہانی سناتا ہے اور اس طرح ستر راتوں تک اسے جانے سے باز رکھتا ہے۔ اس کے بعد اس کا مالک واپس آ جاتا ہے، عورت کا راز فاش ہو جاتا ہے اور وہ قتل کر دی جاتی ہے۔

اس طوطی نامہ کے علاوہ ایک اور طوطی نامہ کا ترجمہ ملتا ہے جسے ابو الفضل غلامی نے اکبر بادشاہ کے حکم پر لکھا تھا لیکن اسے اتنی اہمیت نہیں ملی جتنی کی پہلے والی داستان کی ۔

نو طرزِ مرصع

طوطی نامہ کے بعد نو طرز مرصع داستان کی روایت کو آگے بڑھاتا ہے جسے میر محمد حسین عطا خاں تحسین نے ١٧۸۱-١٧۷۵ (1781-1775)کے درمیان لکھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ داستان قصہ چہار درویش کا اردو ترجمہ ہے جو کہ مستند نہیں۔ داستان کی عبارت نہایت رنگین و دقیق ہے۔ زبان گنجلک اور تعقید سے بھری ہوئی ہے۔ جا بجا عربی و فارسی الفاظ و تراکیب، تشبیہات و استعارات اور صنائع بدائع کی کثرتِ استعمال ہے۔ قدیم محاوروں اور متروک لفظوں کے ساتھ ساتھ کہیں غلط املا بھی پایا جاتا ہے۔  یہ داستان مقبول عام کی سند سے محروم رہی البتہ اس کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ میر امن کی تصنیف باغ و بہار اسی سے ماخوذ ہے۔

نو آئینِ ہندی

تحسین کی نوطرزمرصع کے بعد دوسری قابلِ ذکر داستان مہر چند کھتری مہر کی نو آئین ہندی المعروف قصہ ملک محمد و گیتی افروز ہے۔ کھتری نے یہ داستان ایک انگریز کو اردو سکھانے کے لئے ١٧٩٤ (1794) میں لکھا۔ یہ داستان زبان اور اسلوب کے لحاظ سے سادہ اور سہل تو ضرور ہے البتہ واقعات اور مناظرِ قدرت کی جزئیات نگاری اور مرقع پیش کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ داستان کی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے مصنف نے جا بجا اشعار کا استعمال کیا ہے۔

داستان نو آئین ہندی کے بعد شاہ عالم ثانی کی تصنیف کردہ داستان عجائب القصص قابلِ ذکر ہے جو ١٧٩٤-١٧٩٢ (1794-1792) کے درمیان مکمل ہوا۔ یہ داستان تین زبانوں فارسی، اردو اور برج کا مرقع ہے.

داستان کی ابتدائی کوشش کے بعد دو دبستانوں نے اس کی روایت کو ترقی اور ترویج دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے یعنی دبستانِ فورٹ ولیم کالج اور دبستانِ رام پور. ان دونوں دبستانوں کے ساتھ ساتھ دیگر جگہوں پر بھی داستانیں لکھی جا رہی تھیں۔

دبستانِ فورٹ ولیم کالج کی داستانیں

اٹھارویں صدی کے آخر تک اردو داستان عالمِ طفولیت میں تھا۔ اس میں پختگی اور خود اعتمادی نہ آئی تھی۔ اس کا دائرہ بہت محدود تھا۔ فورٹ ولیم کالج کے زیرِ اثر اردو داستان عالمِ ریعان میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر اس کی ایک مسلسل روایت قائم ہو جاتی ہے۔ یہاں کم و بیش پندرہ داستانیں لکھی گئیں۔

توتا کہانی

یہ سید حیدر بخش حیدری کی تصنیف کردہ داستان ہے۔ حیدری کو شہرت و قبولیت دو داستانوں کی وجہ سے ملی جن میں ایک طوطا کہانی جبکہ دوسرا قصہ مہر و ماہ ہے۔ حیدری نے یہ داستان ڈاکٹر جان گل کرسٹ کی فرمائش پر ۱۸۰۱ (1801) میں سید محمد قادری کے طوطی نامہ کا ترجمہ کر کے تصنیف کی ۔ داستان سادہ اور آسان زبان میں لکھی گئی ہے لیکن تعقید سے خالی نہیں۔ جا بجا فارسی محاورات کا لفظی ترجمہ بھی نظر آتا ہے البتہ عبارت رواں اور دلچسپ ہے۔ جملے چھوٹے اور ہلکے پھلکے ہیں جو پڑھتے وقت آواز کے اتار چڑھاؤ سے برابر ہم آہنگ رہتے ہیں۔ عبارت میں روزمرہ اور محاورے کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے تسلسلِ بیان میں کوئی کمی نہیں آنے پائی ہے۔

آرائشِ محفل

داستان کی روایت میں حیدری کی دوسری تصنیف آرائشِ محفل بھی قابلِ ذکر ہے ۔ یہ داستان ١٨٠١  (1801) میں فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ داستان میں حیدری کی زبان طوطا کہانی کی زبان سے زیادہ مشکل ہے اور جملے بھی طویل تر ہیں۔ جا بجا عربی و فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال بھی ملتا ہے جن سے بیان کی روانی اور قصے کی دلچسپی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ صحیح ہے کہ میرا من کا سا سوز و گداز، رنگینی اور بانکپن ان کے یہاں نہیں ملتا پھر بھی طرز بیان میں ایک گھلاوٹ اور چاشنی پائی جاتی ہے ۔ اس داستان میں واقعات و حالات باغ و بہار سے کہیں زیادہ بعید الفہم، دور از قیاس اور مافوق فطرت ہیں ۔ قصے کی بنیاد ہی ایک مہرے پر رکھی گئی ہے جس سے تمام مہمات سر کی جاتی ہیں۔ حیدری تصویر کشی میں بھی فنی چابکدستی سے عاری نظر آتا ہے۔ ان کے بیان سے واقعات و مناظر کی کوئی تصویر ذہن میں نہیں بنتی ۔ اپنے زمانے کی معاشرت و تمدن کا جیسا نقشہ میر امن نے کھینچا ہے اس کا بھی یہاں نشان نہیں ملتا۔  تخیل کی پرواز میں سرعت و  بلندی تو ہے لیکن ضبط و ترتیب نہیں ۔

ان دو داستانوں کے علاوہ حیدری نے قصہ مہر و ماہ ۱۷۹۹ ( 1799)، قصہ لیلیٰ مجنوں ۱۸۰۰ (1800) اور گلزار دانش ۱۸۰۴ (1804) میں لکھی ہیں۔

داستانِ امیر حمزہ

مولوی خلیل علی خاں اشک نے ١٨٠١ (1801)میں ڈاکٹر جان گل کرسٹ کی فرمائش سے داستان امیر حمزہ کو پہلی بار فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ اس داستان میں چار دفتر اور اٹھاسی داستانیں ہیں۔ داستان کی عبارت بہت سادہ، سلیس اور رواں ہے اور اس میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ گھلاوٹ بھی ملتی ہے۔  داستان میں جا بجا ہندوستانی اور ایرانی رسم و رواج کی آمیزش نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ ترجمہ میں مترجم کے تخیل کو جہاں جہاں سے تحریک ملی ہے وہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے۔

 

باغ و بہار

اردو نثر کی تاریخ میں باغ و بہار کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس میں ایک بادشاہ اور چار درویشوں کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جنہیں تمہید اور خاتمے کے ذریعے آپس میں جوڑ دیا گیا ہے۔ میر امن دہلوی نے یہ داستان جان گل کرسٹ کی فرمائش پر ۱۸۰۰ (1800) میں تحسین کے نو طرزِ مرصع سے آسان اور سہل زبان میں تصنیف کیا۔ اس داستان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پانچ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی شکل میں ہمارے سامنے نمودار ہوتی ہے جس میں مختصر افسانے کی جھلک نظر آتی ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دہلی کی تہذیب و معاشرت کی مکمل مرقع کشی نظر آتی ہے ۔ کسی شہر و دیار کا ذکر کیا جا رہا ہو مگر بچشم غور دیکھیے تو دہلی کے در و دیوار پیش نظر ہو جاتے ہیں۔ ان دونوں خصوصیات کے علاوہ باغ و بہار کی ایک اور اہم امتیاز ہے اور وہ ہے اس کا اسلوب بیان اور طرزِ نگارش جو کہ عام بول چال کی زبان اور روز مرہ کے آسان اور زود فہم جملوں اور محاوروں پر مبنی ہے ۔

مذہبِ عشق

نہال چند لاہوری نے فورٹ ولیم کالج میں تقرری کے بعد عزت اللہ بنگالی کے ‘قصہ گل بکاؤلی کا ۱۸۰۳ ( 1803 ) میں ترجمہ کیا اور اس کا نام مذہب عشق رکھا۔ یہ داستان چھبیس ابواب پر مشتمل ہے جس کی کہانی تین حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں شہزادہ تاج الملوک کی پیدائش اور بادشاہ زین الملوک کے نابینا ہونے کو دکھایا گیا ہے۔ بادشاہ کی بینائی واپس لانے کے لیے چاروں شہزادے اور تاج الملوک باغِ بکاؤلی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ داستان کو طول دینے کے لئے دوسرے حصہ میں راجا اندر اور امر نگر کی کہانی کو شامل کیا گیا ہے۔ دوسری کہانی کے ساتھ ساتھ ایک اور کہانی چلتی رہتی ہے جس میں وزیر زادے بہرام اور روح افزا کی داستان ہے جو کہ اس داستان کا تیسرا حصہ ہے۔ داستان کا تانا بانا ما فوق فطرت عناصر سے باندھا گیا ہے جو اسے طول دینے میں بہت کردار ادا کرتے ہیں۔ اس داستان کی زبان فارسی آمیز اور اسلوب پُر تصنع اور پُر شکوہ ہے جو ابتدا تا انتہا یکساں نہیں۔ کہیں گنجلک فقرے اور دقیق ترکیبوں کا استعمال ہے تو بعض جگہ محاورے اور روز مرہ کا استعمال ۔

نثر بےنظیر

یہ داستان میر حسن کی مثنوی سحرالبیان کا نثری خلاصہ ہے جسے میر بہادر علی حسینی نے ڈاکٹر جان گل کرسٹ کی فرمائش پر ۱۸۰۲ (1802) میں ترتیب دیا ۔ یہ داستان ۱۸۰۳ ( 1803 ) میں شائع ہوئی۔ داستان کے فقرے چھوٹے اور مختصر ہیں ۔ عبارت آسان اور رواں ہیں۔ کہیں کہیں پر قافیے کا بھی التزام ہے جس سے داستان میں تعقید پیدا ہو جاتی ہے۔ حسینی نے بیچ بیچ میں مثنوی سحر البیان کے اشعار بھی نقل کئے ہیں۔

اخلاقِ ہندی

میر بہادر علی حسینی کی یہ داستان نثر بے نظیر سے زیادہ مشہور اور مقبول ہوئی۔ حسینی نے داکٹر جان گل کرسٹ کی فرمائش سے فارسی داستان مفرح القلوب کا ۱۸۰۲ (1802) میں اخلاقی ہندی کے نام سے ترجمہ کیا۔ داستان کی عبارت سلیس اور سادہ ہے۔ عربی و فارسی الفاظ کا استعمال نہایت معتدل ہے لیکن انشا میں فارسی ترجمے کی شان پائی جاتی ہے۔ جملوں کی ساخت اور طول و اختصار میں کوئی توازن نہیں ہے نیز زبان پر میواتی کا اثر جھلکتا ہے۔

بیتال پچیسی

اس داستان کا اصل ماخذ سنسکرت ہے۔ یہ سنسکرت سے ۱۷۴۰ (1740) میں برج بھاشا میں منتقل ہوئی پھر۱۸۰۴ (1804) میں مظہر علی خان ولا نے للولال گوی کی مدد سے اسے اردو میں ترجمہ کیا جو۱۸۰۵ (1805) میں شائع ہوئی۔ داستان کی زبان صاف اور سلیس نہیں ہے۔ اس میں ڈھیٹ ہندی کے الفاظ بکثرت استعمال کیے گئے جن میں سے بعض بعید از فہم ہیں۔ مواد بھی خالص ہندو دیو مالا اور قدیم ہندو تہذیب سے لیا گیا ہے اس کے باوجود یہ داستان عوام میں بہت مقبول ہوئی۔

 

قصہ مادھونل و کام کندلا

اس داستان کو مظہر علی خان ولا اور للو لال کوی نے ١٨٠٣ (1803) میں سنسکرت سے اردو میں ترجمہ کیا۔ یہ داستان ایک حسین برہمن مادھونل کی کہانی ہے جسے راجا گوبند راؤ اپنے محل سے نکال کر شہر بدر کر دیتا ہے۔ داستان کی زبان خالص اردو ہے جسے مصنف نے فارسی کے فقرے اور تراکیب سے چار چاند لگا دیا ہے ۔ . اس کی فضا ہندی روایات و اسالیب سے بنی گئی ہے جس میں جنسیات کے کوک شاستر کو کافی اہمیت دی گئی ہے۔

سنگھاسن بتیسی

یہ داستان بھی سنسکرت سے اردو میں منتقل ہوئی ہے جسے کاظم علی جوان اور للو لال کوی نے۱۸۰۱ (1801) میں لکھا۔ اس داستان میں اس قدیم ہندو معاشرت کے مرقعے پیش کیے گئے ہیں جو مذہبی کتابوں اور سنسکرت ادب میں ملتے ہیں۔ اس کی زبان صاف، سادہ اور جملے سیدھے سادھے ہیں۔ تصنع اور صنائع سے پرہیز کیا گیا ہے البتہ بھاشا کے الفاظ کا بکثرت استعمال کیا گیا ہے ۔

شکنتلا

کاظم علی جوان نے للو لال کوی کی مدد سے اس مشہور داستان کو سنسکرت سے اردو میں۱۸۰۱ (1801) میں ترجمہ کیا۔ داستان کی زبان سہل و سادہ ہے لیکن جملے مجسع و مقفع تراکیب سے بھری پڑی ہیں جس سے اس کے پلاٹ میں تعقید اور پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ مشکل و گنجلک عبارت کی وجہ سے داستان نہ تو لطف و انبساط پیدا کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے اور نہ ہی ڈرامے جیسی دیسی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہو سکی۔

خرد افروز

یہ داستان شیخ ابوالفضل غلامی کی کتاب عیار دانش کا اردو ترجمہ ہیں جس کا اصل ماخذ سنسکرت ہے. حفیظ الدین احمد نے عیار دانش سے پہلی بار۱۸۰۳ (1803) میں یہ قصہ اردو میں منتقل کیا اور خرد افروز نام رکھا۔ داستان کی زبان صاف اور سادہ ہے۔ قواعد زبان کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور فارسی سے لفظی ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے چنانچہ مترجم نے فارسی محاوروں کا بھی ترجمہ کر دیا ہے اور جا بجا جملوں کی ساخت میں بھی فارسی اسلوب بیان کی پیروی کی گئی ہے البتہ ہندی، عربی اور فارسی الفاظ کے استعمال میں اعتدال برتا گیا ہے۔

بیرونِ فورٹ ولیم کالج کی داستانیں

رانی کیتکی اور کنور اودے بھان کی کہانی

داستان رانی کیتکی کی کہانی انشاء اللہ خاں انشاء کی لسانی صلاحیت کا ایک ادبی نمونہ ہے ۔ انشاء نے عمداً اس کہانی میں عربی، فارسی اور سنسکرت زبان و الفاظ کی آمیزش سے احتراز کیا ہے۔ یہ کہانی ۱۸۰۳ (1803) میں رانی کیتکی اور کنور اودھے بھان کی داستانِ عشق کی شکل میں زیور تصنیف سے آراستہ ہوئی۔ اس کہانی میں ہندی کی سادگی اور انشاء کی فطری شوخ کا کامیاب میل نظر آتا ہے۔ بول چال کے سہل اور سادہ الفاظ میں اس قدر معنویت پیدا کر دیا ہے کہ یہ طول طویل زبان و بیان پر فوقیت رکھتی ہے۔ نیز نئی نئی تشبیہوں اور استعاروں کے استعمال نے اس کی ادبی حیثیت و معنویت میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ کہانی کا اہم کردار رانی کیتکی ہے جو کہ نسوانی کردار کی ایک بے مثل اور شاہکار نمونہ ہے۔

گلشن ِ نو بہار

اس داستان کو محمد بخش مہجور نے ۱۸۰۵ (1805) میں غالباً کسی فارسی قصہ سے اردو میں منتقل کیا۔ اس داستان کی اہمیت یہ ہے کہ مرزا رجب علی بیگ سرور نے اپنی مشہور زمانہ داستان فسانہ عجائب کو تحریر کرتے وقت اسے سامنے رکھا اور شعوری و غیر شعوری طور پر اس سے کسب فیض کیا۔ داستان شہزادہ مہر افروز اور شہزادی ماہ پرور کی عشقیہ کہانی پر مبنی ہے۔ داستان کا پلاٹ خاصا طویل ہے جس کی وجہ سے اس میں تعقید اور پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ داستان میں فوق فطرت عناصر کی بہتات ہے جبکہ اس کی عبارت مرجز اور قافیہ بند ہے۔

فسانہ عجائب

فسانہ عجائب رجب علی بیگ سرور کی طبع زاد تصنیف ہے جو ۱۸۲۴ (1824) میں زیور تحریر سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آئی۔ یہ داستان اپنے عہد کے رائج دوسرے قصوں سے مختلف نہیں۔ اس میں عام طور پر وہی کہانیاں موجود ہیں جو اس زمانے کی کسی نہ کسی داستان میں شامل تھیں۔ یوں تو اس میں شہزادہ جان عالم اور شہزادی انجمن آرا کے عشق کی کہانی بیان کی گئی ہے لیکن اس میں کہیں مہجور کی گلشن نو بہار کی جھلک دکھائی دیتی ہے، کسی جگہ میر حسن کی مثنوی سحرالبیان کا عکس نظر آتا ہے، کبھی داستان امیر حمزہ، بہار دانش اور پدماوت کا فیض دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے سرور نے براہ راست ان رائج الوقت قصوں سے استفادہ نہ کیا ہو لیکن لاشعوری طور پر ان کے اثرات و کوائف فسانہ عجائب میں در آئے ہوں۔

داستانیں موضوع اور کردار کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت مماثلت رکھتی ہیں۔ عموماً داستانوں میں عشق و محبت اور رزم و بزم موضوع ہوتا ہے۔ شہزادے، شہزادیاں، دیو، پری اور جن وغیرہ کردار ہوتے ہیں البتہ جو بات ان داستانوں میں فرق پیدا کرتی ہے وہ ہے اس کا اسلوب اور اس میں معاشرت کا بیان۔ اس لحاظ سے فسانہ عجائب کا ذکر کافی اہم ہو جاتا ہے۔ فسانہ عجائب کے طرز بیان نے انیسویں صدی کی نثر کو بہت متاثر کیا ہے۔ باغ و بہار کی سلاست اور سادگی کی ڈگر سے ہٹ کر لکھی جانے کے باوجود فسانہ عجائب کی نثر اپنے عہد میں بہت مقبول ہوئی۔ اسی مقبولیت کے سبب بار بار اس کی طباعت بھی عمل میں آئی۔ باغ و بہار کو اپنی سادگی اور سلاست کی وجہ سے قبولِ عام نصیب ہوئی تھی اور اس کے جواب میں لکھی گئی فسانہ عجائب اپنے مقفیٰ، مسجع اور مرصع اسلوب کی وجہ سے پسندیدگی کی نظر سے دیکھی گئی۔ فسانہ عجائب کی تخلیق کے وقت تک لکھنؤ کے دربار کی آرائش و زیبائش اور پُر تکلفانہ ماحول ختم نہیں ہوا تھا۔ اس پر تکلفی کے اثرات براہ راست نظم و نثر پر بھی پڑ رہے تھے۔ فسانہ عجائب کی پُر تکلف نثر اسی لیے اس دور میں پسند کی گئی۔

بستان حکمت

۱۸۳۶ (1836) میں فقیر محمد خان گویا نے فارسی داستان انوار سہیلی کا اردو ترجمہ بستان حکمت کے نام سے کیا۔ داستان کی عبارت نکھری و رواں ہےالبتہ عربی و فارسی کے بے شمار الفاظ و تراکیب من و عن نقل کر دیے گئے ہیں۔ جملے اور فقرات کی ترتیب پرانی ہے جبکہ زبان پر قدامت پسندی کا رنگ و روپ صاف جھلکتا ہے۔ عربی و فارسی الفاظ و تراکیب کے کثرتِ استعمال کی وجہ سے داستان کی زبان گرچہ پیچیدہ معلوم ہوتی ہے تاہم کہانی کی جاذبیت اور دلکشی میں کوئی کمی نہیں ہے۔

قصہ گل و صنوبر

اس داستان کو منشی بیم چند کھتری نے ۱۸۳۷ (1837) میں فارسی سے اردو میں منتقل کیا۔ یہ داستان بادشاہ قیموس شاہ بن لیموس شاہ کی شہزادی مہر انگیز اور سلطان شمشاد لعل ہوش کے شہزادے الماس روح بخش کے داستانِ محبت پر مبنی ہے۔ داستان کا پلاٹ سادہ ہے جبکہ زبان سلیس اور رواں اور عبارت گنجلک، تصنع اور لفظی آرائش سے پاک ہے البتہ الفاظ و فقرات کی ترتیب فارسی آمیز ہے۔

بوستان خیال

اردو میں جو طول طویل داستانیں لکھی گئی ہیں ان میں ایک اہم داستان بوستانِ خیال بھی ہے۔ اس داستان کا مصنف محمد تقی خیال مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کے عہد حکومت میں گجرات سے دہلی آئے اور یہاں رہ کر انہوں نے اس طویل فارسی داستان کی ابتدا کی جسے بعد میں فارسی سے اردو میں منتقل کرنے کا کام خواجہ امان دہلوی نے انجام دیا ۔ انہی کی بدولت بوستان خیال جیسی قابل قدر داستان ۱۸۵۹ (1859) میں اردو والوں تک پہنچی۔ اردو میں یہ داستان نو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے جس کا اہم اور بنیادی ہیرو معز الدین اور ملکہ شمسہ تاجدار ہیں۔ داستان گو نے داستان میں تاریخی حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے معز الدین کے کردار کو تاریخ سے لیا ہے جو کہ مصر کے فاطمی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک سلطان ہے ۔ بہرحال داستان گو تاریخ سے کچھ افراد اور ممالک کے نام لے کر اپنی تخیل بیان کو حقیقی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس داستان میں اگرچہ تاریخی کردار ہیں لیکن اس کی کہانی دوسری داستانوں سے مختلف نہیں۔ یہاں بھی شہزادوں اور شہزادیوں کے عشق کی بزم آرائیاں ہیں۔ دیو، جن، پری اور ان کی جادوگری ہے۔ حق اور شر کی جنگ ہے۔  الغرض کہ یہ داستان بہت سی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ہر قصہ کو مرکزی کردار معز الدین سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثلاً معز الدین کے اجداد کے قصے یا شمسہ تاجدار کے اجداد کے قصے جن کا زمانہ معز الدین سے سات سو سال پہلے کا ہے۔ داستان گو نے داستان کے ویلن جمشید خود پرست کی بھی پوری کہانی بیان کی۔

سروشِ سخن

سید فخر الدین حسین سخن نے ۱۸۶۰ (1860) میں داستان سروشِ سخن تصنیف کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ داستان سرور کے فسانہ عجائب کے جواب میں لکھا گیا ہے جو کہ چین کے شہزادہ آرام دل اور فارس کی شہزادی ملکہ حسن افروز کی عشقیہ کہانی پر مبنی ہے۔ داستان کا پلاٹ تھوڑا پیچیدہ ہے جبکہ زبان قافیہ و سجع بند ہے۔ عبارت شروع سے آخر تک نہایت رنگین اور دلکش ہے البتہ تفصیل نگاری اور جزئیات نگاری کمزور ہے جس کی وجہ سے مناظر و محافل کا نقشہ واضح طور پر سامنے نہیں آ پاتا ۔

طلسم فصاحت

یہ داستان محمد حسین جاہ نے ۱۸۷۴ (1874) میں اپنے ممدوح منشی نولکشور کے ایما پر تحریر کی تھی۔ داستان کا پلاٹ بالکل سادہ ہے جو شہزادہ قمر ضیا اور شہزادی خورشید جمال کی داستانِ محبت پر مبنی ہے۔ داستان میں معاشرتی حالات، واقعات اور مناظر کو اتنی فنی چابکدستی سے بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت کے لکھنوی تہذیب و معاشرت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتا ہے۔ زبان کا استعمال اور جملوں و ترکیبوں کا التزام اس فن کارانہ انداز سے کیا گیا ہے کہ قاری کچھ وقت کے لیے اسی ماحول میں گم سا ہو جاتا ہے۔

تلخیص

اردو داستان کی روایت کا بنیادی اور اہم عوامل وہ حکایتیں اور لوک کہانیاں ہیں جو عموماً انسانوں کے مثبت کردار سازی، ذہنی تربیت اور جذباتی و اخلاقی تزئین کے لئے سنائی جاتی تھیں۔ حکایت اور لوک کہانی کی دلچسپی اور دلکشی نے داستان کہنے اور سنانے کے رواج کو جنم دیا۔ عام طور پر داستان کی روایت کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور 1635 سے 1800 کا ہے جو تقریباً پونے دو سو سال پر محیط ہے۔ یہ دور زمانے کے اعتبار سے طویل ترین لیکن داستان نگاری کی کارکردگی کے نقطہ نظر سے مختصر ترین ہے۔ دوسرا دور فورٹ ولیم کالج کے قیام سے شروع ہوتا ہے اور 1820 تک جاری رہتا ہے۔ یہ دور زمانے کے لحاظ سے مختصر ترین لیکن کارکردگی کے نقطہ نظر سے جامع ترین ہے۔ اس دور میں داستانوں کے ترجمہ کے ساتھ ساتھ ان کی تصنیف بھی ہوئی۔ فورٹ ولیم کالج کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی داستانیں لکھی گئیں ۔ تیسرا دور زمانے کے لحاظ سے نہ تو زیادہ مختصر ہے اور نہ ہی زیادہ طویل البتہ تخلیق کے لحاظ سے پہلے دونوں ادوار پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس دور میں داستان نگاری کے دو مراکز لکھنو اور رام پور قائم ہوئے۔ اس دور میں جتنی داستانیں لکھی گئیں وہ تعداد اور ضخامت میں پہلے دونوں ادوار سے کہیں زیادہ تھیں۔ اس دور میں رام پور اور لکھنو کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی داستانیں لکھی گئیں جو اردو کے افسانوی ادب میں نہ صرف قابلِ قدر بلکہ قابلِ فخر اضافہ اور سرمایہ بھی ہیں ۔

 

کتابیات

1۔ اردو کی نثری داستانیں۔ گیان چند جین، اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ، 1987

۲۔ اردو داستان: تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔ ڈاکٹر سہیل بخاری، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد، 1987

۳۔ اردو داستان : تحقیق و تنقید۔ قمر الہدی فریدی، ایجوکیشن بک ہاؤس، علی گڑھ، 2000

۴۔ داستان سے ناول تک (اردو کی نثری داستانیں)۔ ڈاکٹر ابن کنول، ایس این لینگویج اکیڈمی، جامعہ نگر، نئی دہلی، 2001

۵۔ ہماری داستانیں۔ سید وقار عظیم، روشان پرنٹرس، دہلی، 2015

 

امتیاز احمد

ایم۔ اے ۔ اردو

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ

نئی دہلی

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
غزل – امن قندیل ناز
اگلی پوسٹ
غزل – فوزیہ سعدی

یہ بھی پڑھیں

پریم چند کی فکری اور تخلیقی روایت –...

اپریل 12, 2025

داستان کی اسطوری فضا اورتخلیقی عمل – ڈاکٹر...

اکتوبر 11, 2022

اردو داستانوں کی عصری معنویت – پروفیسر عبدُ...

جون 7, 2022

اردو میں افسانچہ نگاری کا تحقیقی و تنقیدی...

مارچ 25, 2022

قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین: ایک...

فروری 16, 2022

1960کے بعد مغربی بنگال میں اردو فکشن –...

جنوری 14, 2022

اردو داستانوں کی حمایت میں کلیم الدین احمد...

نومبر 10, 2021

باغ و بہار میں اساطیری اور دیومالائی عناصر...

اکتوبر 11, 2021

بلراج مین را : افسردگی کا راز –...

اکتوبر 8, 2021

منٹو وارث علوی کی نظر میں – امتیاز...

جولائی 24, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں