جس شہر میں میرامن دہلوی نے اردو فکشن کی بنیاد رکھی ہو اس شہر اور اس صوبے کو اردو دنیا کیسے فراموش کرسکتی ہے۔ مغربی بنگال گرچہ بنگلہ زبان اور کلچر کا مرکز ہے۔ یہاں اردو زبان اور اردو تہذیب ہر جگہ موجود نہیں، لیکن جہاں بھی، جس علاقے میں بھی ہے کسی طرح کم نہیں ہے۔ وہ صحافت ہو، شاعری ہو، تنقید و تحقیق ہو یا فکشن نگاری، ہر میدان میں مغربی بنگال نے اپنا امِٹ نقش چھوڑا ہے۔ یہ صوبہ یا یہ شہر میجک سٹی نہیں بلکہ یہاں حقیقی اور پریکٹیکل زندگی اپنے تمام کیف و کم کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے۔ سادگی اور بے باکی کے ساتھ اپنی بات بھی کہہ جانا اور موثر و دیرپا ادب پارہ بھی تخلیق کر لینا یہاں کا انفراد بھی ہے اور امتیاز بھی۔
مغربی بنگال میں کہانی بُننے کا کام خالص اپنے انداز و اسلوب میں ہوا ہے۔ یہاں معاشرے کے پسماندہ طبقات یعنی مزدوروں، محنت کشوں اور طلبائ کی حمایت اور بورژوا و سرمایہ دار طبقے کے خلاف پیدا ہوئے رجحان کے بطن سے اردو فکشن کا جنم ہوا۔ اور 1947 سے لے کر 1960 تک اردو فکشن کے میدان میں متعدد اہم نام ابھر کر سامنے آئے اور ہندوستان گیر سطح پر اپنی شناخت مستحکم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن آج ہماری گفتگو کا تعلق مغربی بنگال میں 1960 کے بعد کے افسانوی ادب سے ہے۔ اس تحدید کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میری نظر فوری طور پر ظفر اوگانوی کی طرف جاتی ہے۔ 1960 کے بعد یہاں کے ادبی منظر نامے پر شدومد کے ساتھ ابھرنے والا اہم ترین نام ظفر اوگانوی کا ہی ہے۔ 1977ئ میں 11؍ افسانوں پر مشتمل ان کا مجموعہ افسانہ ’’بیچ کا ورق‘‘ شائع ہوا۔ اس وقت سے لے کر اپنی اخیر عمر تک انھوں نے متعدد ایسے افسانے تخلیق کیے جو آج بھی بامعنی جدت طرازی کے عمدہ نمونے ہیں۔ ظفراوگانوی ابتدا میں ترقی پسند تحریک اور پھر جدیدیت سے متاثر رہے۔ لیکن انھوں نے ترقی پسندوں اور جدیدیوں کی کوری تقلید نہیں کی۔ انھوں نے علامت اور تجرید کے التزام کے باوجود اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے افسانوں کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر وہاب اشرفی نے لکھا ہے کہ:
’’ان کے افسانوں کی عمومی قماش تجریدی ہے۔ لمحوں کو پکڑنے کی ایک سبیل ان کے یہاں بھی ملتی ہے۔ اس طرح ماجرا سازی میں خارجی احوال سے زیادہ داخلی کوائف کا احساس رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں کے ماجرا کا باہمی ربط ان ہی بنیادوں پر قائم ہے‘‘۔
(بہار میں اردو افسانہ، وہاب اشرفی ص:52)
ظفراوگانوی نے مغربی بنگال میں جدیدیت کے رجحان کو سب سے پہلے اپنے اندر جذب کیا۔ مگر اس اختصاص کے ساتھ کہ اسلوب بالکل منفرد اپنایا۔ شفاف بیانہ کو مقدم رکھا۔ یہی سبب ہے کہ جدیدیت کی آپادھاپی کے دور میں بھی انھوں نے سریندرپرکاش، بلراج مین را اور احمد ہمیش کی طرح کامیاب جدید افسانے لکھے اور صف اول کے جدید افسانہ نگاروں میں شمارر ہوئے۔ ان کے مجموعہ ’’بیچ کا ورق‘‘ میں شامل افسانے نئی سڑک، انٹرامورس، پہاڑ پر ایک حادثہ، باؤلی اور ٹینک اور ’’ریس کے گھوڑے‘‘کو بطور دلیل پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان کے علاوہ ’’کرید‘‘ اور ’’قیدی‘‘ جیسے شاہکار افسانے بھی ہیں جو اس مجموعے میں شامل نہیں، لیکن آج بھی گفتگو کا موضوع بنتے رہتے ہیں۔
ان کی کہانی ’’بیچ کا ورق‘‘ بیانیہ طرز میں لکھی گئی ایک خالص علامتی کہانی ہے جس کا مرکزی کردار اپنی زندگی میں بہت اونچائیاں حاصل کرتا ہے۔ پھر وہ اکثر سوچتا رہتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر بلندیوں کے باوجود اتنا پست کیوں ہے؟ وہ اتنا تنہا اور اکیلا کیوں ہے؟ وہ رفتہ رفتہ حزن و ملال کا شکار ہوتا جاتا ہے۔ وہ حالات سے کبیدہ خاطر ہوتا ہے اور پھر اپنے شوق دل سے اپنی روداد لکھنا شروع کرتا ہے۔ ڈھیر سارے اوراق جمع ہوجاتے ہیں۔ تبھی زور دار طوفان آتا ہے اور بہت سنبھالنے کے باوجود ایک ورق آخر کار غائب ہوجاتا ہے۔ وہ بیچ کا ورق ہے جس کے بغیر اس کی روداد نامکمل ہے۔ وہ اسے حاصل کرنے کے سوسوجتن کرتا ہے اور آخر کار اسے حاصل کرہی لیتا ہے۔ لیکن واپس آکر دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ تمام اوراق غائب ہیں۔ وہ اس بیچ کے ورق کو بہت ہی حسرت سے دیکھتا ہے جس کے تمام ساتھی اس سے دور جاچکے ہیں۔ اس کا ماضی اور مستقبل سے رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ وہ بہت رنجیدہ اور ملول ہوتا ہے اور اس ورق کو پرزے پرزے کرکے ہوا میں اچھال دیتا ہے۔ لیکن اچانک ایک واقعہ یہ رونما ہوتا ہے کہ تمام غائب اوراق اپنے ساتھی ورق کی تلاش میں وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد پھٹے ہوئے ورق کو جوڑا جاتا ہے۔ اور سارے اوراق کوایک صف میں کھڑا ہونے کا حکم ہوتا ہے مگر وہ تمام اپنی جگہ سے ہلتے نہیں۔ وہ ناراض ہوتاہے مگر اوراق کے باغیانہ تیور دیکھ کر خاموش رہنا پڑتا ہے۔ ان اوراق میں بقول افسانہ نگار:
’’پہلا ورق کوئی نہیں تھا، آخری ورق کوئی نہ تھا۔ پھر اس نے ان سبھوں کے جرم کو معاف کردیا‘‘۔
اس کہانی کے کئی ابعاد ہیں۔ معنیاتی سطح پر اسے فرد اور سماج کا المیہ کہاجاسکتا ہے۔ کہانی کا ’’وہ‘‘ سب کچھ حاصل کرلینے کے باوجود تنہائی کا شکار ہے۔ وہ جنھیں خون جگر سے پالتا ہے وہ بھی نامساعد حالات میں اس سے بغاوت کرتے ہیں اور حکم عدولی کے درپے ہوجاتے ہیں۔ لیکن وہ تمام بغاوتوں اور سرکشیوں کے باوجود انھیں معاف کردیتا ہے، وہ اس لیے کہ وقت اور حالات کا یہی تقاضاہے۔
ظفراوگانوی ایک حساس اور باخبر فنکار ہیں۔ کہانی بُننے کا فن جانتے ہیں۔ زبان پر گرفت ہے، اس لیے اپنے اطراف و جوانب کے احوال کو منفرد اور مخصوص انداز میں آئینہ کرنے میں تخلیقی مہارت کا ثبوت دیتے ہیں۔ ظفراوگانوی کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کہانیوں کے اعتبار سے زبان اور اسلوب کا اہتمام کرتے ہیں۔ کہیں حددرجہ مبہم اور تہہ دار انداز ہے تو کہیں بالکل سلیس، عام فہم اور رواں بیانیہ کااسلوب۔ لیکن کہانی علامتی ہو یا غیر علامتی، زبان کی شگفتگی اور ترسیل کی لازمیت ہر جگہ نظر آتی ہے۔ سادہ اور سلیس افسانے کے زمرے میں ان کی ایک کہانی ’’بے وزنی‘‘ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس کہانی سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
’’… مکمل اور بھرپور زندگی جینے کے بعد وہ مجھ سے ایسے بچھڑی تھی جیسے یہ تو ہونا ہی تھا اور ایک طے شدہ پروگرام کے تحت ہونا تھا۔ لیکن میں اپنے بیٹے حامد کو کس طرح یقین دلاتا کہ اس کی ماں جس سفر پر نکل چکی ہے اس کی تیاریاں تو اس نے بہت پہلے ہی کرلی تھیں۔ اب بچا ہی کیا؟ اس کے کرنے کے لیے‘‘۔
(کہانی ’’بے وزنی‘‘۔ ظفراوگانوی)
اس کہانی میں ابتدا تا آخر ایک تسلسل ہے جو اپنے تخلیقی ٹریٹمنٹ کے سبب ہمیں اپنی گرفت میں لیے رہتا ہے۔ اس قبیل کی کہانیوں میں امربیل، شیشوں کا مسیحا، آخری خواہش اور ’’پیراہن یوسف‘‘ کو بھی رکھا جاسکتا ہے۔
یہاں ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ ظفر کی کہانیاں محض تفریح طبع کے لئے نہیں ہیں۔ یہ غور و فکر کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور حالات کی حقیقی سنگینی کی طرف ہمیں لے جانا چاہتی ہیں۔ وہ مثبت ذہن کے حساس فنکار ہیں۔ وہ فرد اور سماج کی سلامتی و بہبودی چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بھی اعتراف کرنا لازمی ہے کہ ظفراوگانوی نے مغربی بنگال میں پہلی دفع اس نوع کی کہانیوں کی بنیاد رکھی اور حددرجہ کامیاب بھی ہوئے۔ یہاں اگر یہ کہاجائے تو بیجانہ ہوگا کہ انہی کی کہانیوں کے ذریعے مغربی بنگال میں ایک نئے اور منفرد دور کا آغاز ہوا، اور وہ اردو افسانے کے Turning point کے طور پر آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
ظفراوگانوی کے معاصرین میں انیس رفیع اور فیروز عابد کے نام خصوصیت کے ساتھ لیے جاتے ہیں۔ ان تینوں افسانہ نگاروں نے مغربی بنگال میں پہلے سے مروجہ انداز و اسلوب کو ترک کرکے ایک نئی طرح ڈالنے کی کوشش کی اور یہ رجحان بہت کامیاب اور مقبول ہوا۔ نیز آگے چل کر اس کا بہتوں نے اتباع بھی کیا۔
انیس رفیع کے افسانوی مجموعے ’’اب وہ اترنے والاہے‘‘، ’’کرفیو سخت ہے‘‘ اور ’’گداگر سرائے‘‘ کے مطالعے سے واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اکثر و بیشتر کہانیاں اپنے جدید انداز و اسلوب اور اپنی عصری معنویت کے سبب بہت ہی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کا مطالعہ وسیع ہے، فن پر گرفت مضبوط ہے، وہ اپنے اطراف اور عالمی صورتحال کا باریک مشاہدہ رکھتے ہیں، اس لیے ان کا کینواس وسیع ہے۔ ان کا وژن اور اَپروچ بھی اپنے معاصرین سے جدا ہے۔ ان کے یہاں اکثر کہانیوں میں علامتوں اور اساطیر کے ذریعے پر اسرار کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ وہ حقیقت اور واہمہ کی آمیزش سے ایک ایسی تخلیقی دنیا کی تعمیر کرتے ہیں جو عجیب و غریب ہونے کے باوجود ہماری جانی پہچانی دنیا لگتی ہے۔ انیس رفیع کے کردار ہمیں زمینی اور ماورائی دونوں جہانوں کی سیر کراتے ہیں۔ یہ ہمیں متحیر بھی کرتے ہیں اور ہمارے شعور کو مہمیز بھی کرتے ہیں۔ ان کی کہانیوں کے موضوعات متنوع ہیں۔ وہ عصری مسائل سے لے کر ہماری ذاتی کرب ناکیوں کی گِرہیں کھولنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ وہ ملکی اور عالمی سیاسی صورتحال پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں اور انھیں فنکارانہ پختگی کے ساتھ کہانی کے روپ میں پیش کرنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے یہاں کبھی کبھی کہانی علامت کی دبیز تہوں کے نیچے دبی ہوئی ہوتی ہے اور اکثر قاری وہاں تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے اس لیے ان کے یہاں یہ قاری پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ان کے بلیغ اشاروں کو سمجھنے اور کہانی کی روح کو پکڑ کر روشنی اور حظ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اان کی کہانی ’’قاف‘‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ کریں:
’’یہ کون سا وقت آگیا ہے جو گی مہاراج کہ پانچ ایک ساتھ نہیں ہوسکتے‘‘۔
’’یہ وقت کی بات ہے باوا! نہ جانے کب کون کس پلڑے میں ڈال دیا جائے‘‘۔
انیس رفیع کے یہاں اکثر مقامات پر لوکل کلر کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ان کی کہانیاں انٹی لیکچول Test کی متقاضی ہیں۔ راقم الحروف نے آج سے 30 سال پہلے انیس رفیع کے افسانوں پر لکھا تھا اور یہ ان کے فن پر پہلا باضابطہ مضمون تھا جو زبان و ادب (پٹنہ) نومبر 1990 میں شائع ہوا تھا۔ راقم نے مذکورہ مضمون میں ان کی مختلف کہانیوں کے حوالے سے ان کے یہاں پائی جانے والی انفرادی خصوصیات کی نشاندہی کی تھی۔ اس ضمن میں مجموعہ ’’اب وہ اترنے والا ہے‘‘ کی کہانیوں، اکٹوپس، پتامبر، اوکھلی، وش پان کی کھتا، دو آنکھوں کا سفر، ریڑھ کی ہڈی وغیرہ کا مفصل تجزیہ پیش کیا تھا۔ انیس رفیع کے یہاں علامتی انتہا کے افسانے دو آنکھوں کا سفر، ترمیم شدہ اکتوپس وغیرہ گنجلک اور حددرجہ مبہم افسانے ہیں۔ لیکن افسانہ نگار اپنی سوچ، بصیرت اور تجربے سے پیدا شدہ ان تمام باریکیوں کا احساس کرانا چاہتا ہے جن سے وہ گزراہے۔ ان کے یہاں زندگی کے کریہہ مناظر تو دکھتے ہیں، مگر زندگی سے فرار کا عمل نہیں دکھتا۔ ان کے یہاں طلبائ میں پنپ رہے نکسل موومنٹ پر گہری نظر ہے۔ اس وقت طلبا میں اس قدر زہر سرایت کرگیا تھا کہ وہ امن و شانتی کی بات سننا تک گوارا نہیں کرتے تھے۔ مثلاً یہ اقتباس دیکھیں:
’’بند کرو اس بکواس کو! اپنے پوسے ہوئے دلالوں کو لے کر پھوٹ جاؤ ورنہ مار مار کر گاڑ دیئے جاؤگے، سامنے والے تالاب میں‘‘۔
(دوآنکھوں کا سفر، انیس رفیع)
ان کے یہاں بنگال کی عصری حیثیت کی یہ عمدہ مثال ہے۔ انیس رفیع کے یہاں وقت کی تبدیلی کے ساتھ علامت وتجربہ کی دھند چھٹی ہے۔ ’’کرفیو سخت ہے‘‘ کی کئی کہانی شفاف بیانیہ کے ساتھ ترسیل کی خصوصیات سے بھی متصف ہیں۔ انیس رفیع کے یہاں موضوع سے زیادہ کرافٹ مین شب پر توجہ نظر آتی ہے، شاید یہی ان کی شناخت بھی ہے۔
راقم الحروف نے 30 سال بعد انیس رفیع کے فن پر دوبارہ ماہنامہ ’’آجکل‘‘ اپریل 2010 (ہم عصر اردو افسانے کا مزاج) میں لکھا۔ ملاحظہ کریں ایک اقتباس:
’’انیس رفیع Paradoxicai فضا قائم کرنے میں خصوصیت کے ساتھ مصروف رہے ہیں۔ ان کے یہاں شعوری طور پر علامت اور اساطیر کا التزام ملتا ہے اور اسے Readable بنانے کے لیے شاعرانہ اور دانش ورانہ نثر کی سحر کاری اور جلوہ خیزی بھی ساتھ چلتی ہے۔ وہ اپنے عنوان کی جدت و ندرت کے ساتھ اسلوب کی انفرادیت پر بھی قادر ہیں۔ ان کے یہاں ملکی اور عالمی سطح پر آپسی اخوت اور ہم آہنگی کا جذبۂ صادق نظر آتا ہے اور اس کا اعتراف پر بھاکر ماچولے نے بھی کھلے دل سے کیا ہے‘‘۔
اخیر میں یہ عرض کیا جاسکتا ہے کہ انیس رفیع کے یہاں فکر و فن کی دنیا بہت وسیع اور عمیق ہے اور وہاں تک پہنچنا قارئین کے لیے ازحد لازمی ہے، تبھی جاکر وہ کہانی کار کے ساتھ اور خود اپنے ساتھ انصاف کرسکیں گے۔
فیروز عابد شہر کلکتہ کے ماہر قصہ گوہیں۔ انھوں نے اردو کو بہترین مقامی افسانے دیئے ہیں۔ لیکن یہ مقامی کہانیاں اپنی وسعت میں پورے ہندوستان کو سمیٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کی باریکیوں کا گہرا ادراک ہے۔ وہ جس انداز میں زندگی کے مختلف رنگوں کو پیش کرتے ہیں اس سے شہر کلکتہ کی چلتی پھرتی زندگی اپنی پوری توانائی کے ساتھ جلوہ گر ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ اس کی سامنے کی مثال کے طور پر ان کی کہانی ’’قد آور‘‘ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اس میں خصوصیت کے ساتھ بنگال کی تہذیب، معاشرہ اور مزاج و منہاج کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان کی کہانی ’’ترتیب و بے ترتیب‘‘ سے یہ اقتباس دیکھیں:
’’آٹھ سال کا معصوم سا جسم فراک میں ڈھکا پڑا ہے۔ اس کی کھونپڑیاں دو پیالوں کی شکل میں اس کی ماں کے ہاتھوں میں تھیں۔ وہ اس کی کھونپڑی سے خارج شدہ مغز کو چن رہی تھی اور لوگوں کی طرف التجا بھری نظروں سے دیکھ کر یہ کہہ رہی تھی۔ بھائیو! میری مدد کرو۔ ان مغز کے ٹکڑوں کو اس کا سہ سر میں ڈال دو‘‘۔
(1/4 کیلو میٹر لمبی سڑک پر ایک گھنٹہ۔ فیروز عابد)
فیروز عابد نے ظفراوگانوی اور انیس رفیع کے برعکس خود کو اپنے اطراف کے مسائل تک محدود رکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ مسائل اپنے اندر بہت وسعت اور پھیلاؤ رکھتے ہیں اور ان سے بہترے بہترین کہانیاں وجود میں آسکتی ہیں۔
فیروز عابد کے تین مجموعے ’’اندھی گلی میں‘‘، ’’نقش بر آب‘‘ اور ’’کھلے آسمان کے نیچے‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں۔ فیروز عابد کے ابتدائی افسانوں میں براہ راست انداز و اسلوب نہیں ملتا جس سے ترسیلی مرحلہ آسانی سے طے نہیں ہوپاتا۔ جبکہ ان کے دوسرے مجموعے میں مطلع بہت حد تک صاف ہے۔ دوسرے مجموعے میں فنی پختگی اور کہانی پن زیادہ ہے۔ ان کی کہانیاں روایتی بیانیہ سے الگ ہونے کے باوجود اپنا بھرپور تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہیں۔ فیروز کا موقف ہے کہ آج کا عہد اس قدر افراتفری کا شکار ہے کہ کہیں بھی موضوعات کی کمی نہیں ہے اور خاص طور سے میٹروپولٹین سٹی میں تو موضوعات قدم قدم پر موجود ہوتے ہیں۔ ان موضوعات میں سیاسی بازیگری کا تناسب سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے یہاں سیاسی صورتحال اور المیے پر زبردست طنز ملتا ہے۔ اقتباس دیکھیں کس قدر المناک اور سبق آموز ہے:
’’کل میں نے اپنے بیٹے سے کہا ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاںہمارا‘ یہ نغمہ سناؤ آج تمہاری آواز میں یہ نظم سننے کو جی چاہتا ہے۔ جانتے ہو اس نے کیا کہا۔ اس نے کہا ’پاپا شرم آتی ہے‘‘۔
اس ایک جملے میں جو نشتریت اور تلخی ہے، وہ ایک پورے پس منظر کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔
مغربی بنگال میں اردو افسانے کا ایک اہم اور معتبر نام مشتاق اعظمی بھی ہے۔ مشتاق اعظمی نے قارئین کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا ہے۔ ان کے یہاں وسعت اور تنوع کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ وہ پوری دنیامیں پھیلے ہوئے انسان اور ان کے مسائل کو حتی الامکان موثر اور حقیقی روپ میں پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بعض افسانوں میں انسانی زندگی کے ایسے شیڈز پیش کیے ہیں جن سے ان کے قارئین کے فہم و ادراک میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وہ جس رفتار سے چلے تھے وہ باقی نہیں رہی۔ کچھ سال پہلے ان کا مجموعہ افسانہ ’’آدھا آدمی‘‘ منظر عام پر آیا۔ ان کی کہانیاں پڑھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں اور رواں بیانیہ کے سہارے بڑی بڑی باتیں کہنے کے فن پر قادر ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کی پیچیدگیوں اور نفسیاتی گھتیوں کی تفہیم کے لیے ان کی کہانیوں کا غائر مطالعہ کرنا ہوگا تب جاکر ان کے تجربات و مشاہدات سے چھَن کر باہر آئے نتائج سے واقفیت حاصل ہوگی۔ وہ ایک ذہین اور حساس فنکار ہیں۔ ان کے کردار ہر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں میںاکثر و بیشتر بذات خود موجود ہوتے ہیں، ساتھ ہی ان کی Ideology کی جھلک بھی ہر جگہ صاف جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے معروف افسانوں میں ’’آدھا آدمی‘‘ کے علاوہ ’’جتنا جنگ‘‘ ’’عرش تا فرش‘‘ ’’بھینگی ہوئی سگریٹ‘‘ اور ’’نارسیدہ‘‘ نہ صرف بہترین فن پارے ہیں بلکہ ان میں تادیر زندہ رہنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
مغربی بنگال کی خاتون افسانہ نگاروں میں شہیرہ مسرور بھی اہم نام ہے۔ وہ ایک عرصے سے لکھ رہی ہیں۔ قصہ گوئی کے فن سے واقف ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں کا مواد براہ راست حاصل کرکے، نجی تجربے اور مشاہدے کو اپنا رہنما بنایا ہے۔ وہ زندگی کے پیچ و خم سے واقف ہیں اس لیے وہ بہ حسن خوبی تمام مفروضوں اور سمجھوتوں کی نقاب کشائی کرتی ہیں۔ انھوں نے خاص طور سے عورتوں کے استحصال کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان کا پلاٹ کسا ہوا اور اسلوب رواں ہے۔ ان کے کردار زندگی کی پرتیں کھولتے ہیں۔ یاد نگاری سے بھی ان کو خاص شغف ہے۔ ان کے یہاں ناسٹیلجیا کی کیفیت ہمیں خواب کی دنیا کی سیر کراتی ہے۔ اس سلسلے کا ایک بہت پختہ اور اہم نام اظہار الاسلام کا بھی ہے۔ ان کے یہاں جدید طرز فکر کی بہترین مثالیں موجود ہیں ان کی کہانی ’’وہ آدمی‘‘ بہت ہی معروف ہے۔ یہ ایک رشوت خور انسان کی کہانی ہے۔ وہ رشوت کے پیسے کو پانی کی طرح بہاتا ہے۔ بعد میں اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑ تا ہے۔ ’’وہ آدمی‘‘ دراصل اس کا ضمیر ہے۔ پر کشش بیانیہ کے ذریعہ اس کہانی کو ایک پیغام کی صورت میں کہانی کارنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں وہ حددرجہ کامیاب بھی ہیں۔
مغربی بنگال میں صدیق عالم اپنی نوعیت کا بالکل علاحدہ اور اہم نام ہے۔ ان کے یہاں بڑے افسانے کے آثار صاف طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ صدیق قصہ سے قصہ پیدا کرتے ہیں۔ انتظار حسین کی طرح وہ اساطیر اور متھ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور آج کے عہد میں انھیں نئے مفاہیم سے پیوسطہ کرتے ہیں۔ ان کے یہاں ’’لیمپ جلانے والے‘‘ اور ’’بین‘‘ مجموعے کے درجن بھر ایسے افسانے ہیں جنھیں صفِ اول کے جدید افسانوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ صدیق عالم اپنی مٹی سے جڑے ہیں اور ہمہ دم نئے تجربات و احساسات کو انوکھے انداز میں کہانی کے قالب میں ڈھالتے رہتے ہیں۔ محمد یٰسین افسانوں میں معنی خیز جدت طرازی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں جبر کے خلاف ایک توانا احتجاج اور مضبوط آواز ہے۔ ان کے افسانے نجات، حکایت اور ’’بڑا صاحب‘‘ کافی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن افسوس کہ انھیں نظر انداز کیا گیا اور ان کا محاسبہ ایمان دارانہ طور پر نہیں ہوا۔
ف س اعجاز نے تخلیقی کرب کے حوالے سے متعدد بہترین افسانے تخلیق کیے ہیں۔ ان کے یہاں خواہ مخواہ کی جدت طرازی نہیں ہے۔ ان کا اسلوب سادہ اور بیانیہ شفاف ہے۔ ان کے یہاں حقیقت اور رومان کے امتزاج سے بہترین افسانے جنم لیتے ہیں۔ ان کے یہاں روایت کی پاسداری کے ساتھ کہانی کے تمام ضروری لوازمات کا اہتمام ملتا ہے۔ ان کے مجموعہ افسانہ ’’پلوٹو کی موت‘‘ اردو افسانے کے باب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ کہانیوں میں ’’ہمدرد‘‘ اور ’’من و سلویٰ‘‘ کو اردو فکشن کا قاری کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔
انیس النبی کے یہاں غضب کا تخلیقی تموج پایا جاتا ہے۔ وہ حیات و کائنات کے ان گوشوں کو بھی مخصوص زاویے سے دیکھتے ہیں جنھیں اکثر افسانہ نگار دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ انیس النبی کی نظر انسان کی پراسراریت، اس کی خود پرستی، اس کے متضاد احوال اور اس کی اخلاقی گراوٹ پر زیادہ نہیں رہتی ہے۔ ان کے موضوعات کا دائرہ صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی ہے۔ وہ اقلیتی فرقے کی زبوں حالی اور بے بسی کو پیش کرنے اور خوابیدہ احساسات کو جگانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
شبیراحمد تقریباً دو دہائیوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ ان کے پاس کہانی کی زبان ہے۔ وہ فلسفیانہ پیچیدگیوں اور علامتی و تجریدی موشگافیوںکی جگہ سہل اور سلیس اسلوب و انداز اختیار کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ شبیر احمد عجلت پسند نہیں۔ وہ اُنہی موضوعات کو کہانی کے سانچے میں ڈھالتے ہیں جن کا گہرا مشاہدہ ان کے پاس ہوتا ہے۔ ان کی کہانی کا اہم عنصر ان کے یہاں تجسس ہے۔ اس کا احساس قاری کو اکثر مقامات پر شدت کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ کہانی کے ساتھ اس کی منزل تک ہم سفر ہوتا ہے۔ ان کے یہاں لوکل کلر بدرجہ اتم موجود ہے۔ بنگلہ کلچر، بنگلہ کردار اور بنگلہ خوبو کی جھلک اکثر مقامات پر بہ آسانی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ اس لیے ان کی کہانیاں اپنی خاص سرحد میں رہ کر بھی معنویت کے اعتبار سے بہت پھیلاؤ رکھتی ہیں۔ مدو جزر، اعتراف، چوتھا فنکار، وینٹی لیٹر شبیر احمد کی فنکارانہ پختگی کی بہترین مثالیں ہیں۔ ان کے یہاں اکثر کہانیاں بنگلہ کہانیوں کے من و عن ترجمے معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے یہاں ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک تحقیق طلب امر ہے۔
شبیر احمد کے علاوہ عابد ضمیر، شمس صابری، شمس ندیم، سجاد نظر، رومی قاضی، نظام شمیم، سعید پریچی، شہناز بنی، ابوذر ہاشمی، نور پیکر، نعیم اشفاق، قیام انیس، ایم اے نصر، انجم نعیم، خورشید شیدائی، محمود ایوبی، سید شہنواز، خورشید اکرم، امین اشرف، احسان ثاقب، الیاس قریشی، سلمیٰ جبیں، اصغر حسین رضوی، معصوم اسد، کلثوم ناز، عزم حمیدی، حبیب الرحمن گوہر، خورشید اختر، عشرت بیتاب، نظیر احمد یوسفی، یاسمین اختر، شاہین سلطانہ، ریاض دانش اور کئی ایسے افسانہ نگار میں جن کا طوالت کے سبب یہاں ذکر نہیں ہوسکاان پر آئندہ تفصیل سے گفتگو ہوگی اور ان افسانہ نگاروں کے فن کا بھرپور جائزہ لیا جائے گا۔
………
مغربی بنگال میں اردو ناول نگاری کا اصل آغاز باضابطہ طور پر 1955ئ 1960 کے بعد ہی ہوا۔ اس زمانے میں شین مظفرپوری کا قیام کلکتے میں تھا۔ انھوں نے دوران قیام دو ناول ’’ہزار راتیں‘‘ اور ’’چاند کا داغ‘‘ تخلیق کیا۔ ان دونوں ناولوں کی اشاعت کے بعد بنگال کے قارئین کو معلوم ہوا کہ ناول صرف رومان اور تفنن طبع کی چیز نہیں بلکہ یہ ہماری چلتی پھرتی زندگی کا آئینہ ہوتا ہے۔ نیز یہ زندگی کے اصل اور ٹھوس حقائق کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔ شین نے اپنے ناولوں میں کمزور اور محنت کش طبقے کو اپنا خاص موضوع بنایا۔ ناول ’’ہزار راتیں‘‘ اصل میں کلکتے کے فٹ پاتھ اور بھکاریوں کی ٹولی میں پرورش پانے والی ایک لڑکی منی کی درد بھری داستان ہے۔ وہ ناول کی مرکزی کردار ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کو نہیں جانتی، وہ بالکل تنہا اور بے سہارا ہے۔ اس نے جب ہوش سنبھالا تو خود کو ایک عمر رسیدہ جوڑے کے ساتھ فٹ پاتھ پر پایا۔ اس بوڑھے کی موت کے بعد داد و فقیر نے اپنی پیشہ ورانہ ضرورت کے تحت اس کی کفالت کا ذمہ لیا۔ لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ دادو بہت بیمار ہوگیا۔ اس وقت منی نے باپ سمجھ کر اس کی تیمار داری اور خدمت کی۔ دادو جب ٹھیک ہوا تو اس کے اندر کی انسانیت جاگ اٹھی تھی۔ اس نے منی کو خوش رکھنے اور اس کے مستقل کے لیے کچھ کرنے کا عزم کرلیا۔ دادو خود بھی فٹ پاتھ کا دھندا چھوڑ کر محنت مزدوری کی طرف راغب ہوا۔ منی اس تبدیلی سے بہت خوش ہوئی اور اچھے دنوں کے حسین خیالوں میں کھوگئی لیکن اس کے یہ حسین خواب تادیر جاری نہیں رہ سکے۔ ایک دفعہ پھر وہ مصائب کی زد میں آگئی۔ 1946 ئ میں ہوئے فساد میں دادو مارا گیا۔ منی پھر سے بے سہارا ہوگئی۔ اور ابکی دفعہ اس کا زبردست استحصال ہوا۔ منّی نے سب کچھ برداشت تو کرلیا لیکن اس کے اندر اپنے جسم سے کھیلنے والوں سے انتقام لینے کا جذبہ شدت اختیار کرگیا اور اس نے باری باری ان سبھوں کو کیفر کردار تک پہنچایا اور اخیر میں خود بھی درد ناک انجام کا شکار ہوگئی۔ اسی طرح دوسرا ناول ’’چاند کا داغ‘‘ بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کرتا ہے۔ اس ناول کی مرکزی کردار سلطانہ ہے وہ سرکش اور بے راہ رو ہے۔ ابتدا میں سب کچھ ٹھیک چلتا ہے لیکن رفتہ رفتہ وہ بربادی کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ وہ بھی سماج سے ہمدردی اور انسانیت کی توقع رکھتی ہے لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ اور اس طرح بالآخر وہ بھی انتقام کی راہ پر چل نکلتی ہے۔
مغربی بنگال میں دوسرا قابل ذکر نام جانِ عالم سیف کا ہے۔ ان کے دونوں ناول ’’آخری شکست‘‘ اور ’’روپ منی‘‘ تاریخی واقعات پر مبنی ہیں۔ سیف کا تخلیقی اور موضوعاتی تعلق عبدالرزاق ملیح آبادی سے جڑتا ہے جنہوں نے اس طرز کی تحریروں کو ایک عرصے تک جلابخشی اور اسے فروغ دیا۔ سیف کے یہاں ایک اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے اسلامی تاریخی واقعات کے حوالے کے ساتھ ہندوستانی تاریخی روایات کو بھی ہم آمیز کرنے کی کوشش کی اور ان میں رومان پرورماحول کی تلاش بھی کی۔ ایک طرح سے ان کے ناول ہند اسلامی تہذیب کے امتزاج کا نمونہ ثابت ہوئے۔ ان کا ناول ’’آخری شکست‘‘ سرزمین اندلس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں اسلامی قلم رو کی آٹھ سوسالہ شان و شوکت کو منعکس کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ ناول ’’روپ منی‘‘ میں مالوہ کے ولی عہد باز بہادر اور ’’روپ منی‘‘ کی داستان محبت کی بہت ہی پر کشش اور سہل زبان میں منظر کشی کی گئی ہے اور اس کے لیے فلیش بیک تکنیک کا فنکارانہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس ناول میں حددرجہ کہانویت ہے جو اپنے قاری کو اس کے سحر سے باہر نہں آنے دیتی۔ اس میں کہیںکہیں قاضی عبدالستار کی تحریروں کی جھلک بھی دکھ جاتی ہے۔
سجاد نظر کا ناول ’’پھول بنے انگارے‘‘ 1961 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد چند ہی برسوں میں ’’رادھارانی‘‘ بھی چھپ کر منظر عام پر آگیا۔ سجاد نظر بنگال میں 1960 کے بعد کے اہم فکشن نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں بھی جدید اسلوب اختیار کیا گیا ہے اور وہ اکثر مقام پر اپنے معاصرین سے منفرد نظر آتے ہیں۔ ان کا بیانیہ پر کشش اور جاذب ہے۔ ’’پھول بنے انگارے‘‘ گرچہ ان کے ابتدائی دور کی تخلیق ہے لیکن یہ اپنی بنت، ٹرٹمینٹ اور موضوع کے اعتبار سے قابل قدر ہے۔ وہ جدید رحجانات سے واقفیت رکھتے ہیں اس لیے جدت طرازی کے دوران فنکارانہ لوازمات کو لازمی طور پر ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ ان کے ناولوں کے ابتدائیے اس قدر دلچسپ اور تجسس آمیز ہوتے ہیں کہ قاری کہانی کو اخیر تک پڑھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ان کے یہاں کردار نگاری اور منظر نگاری بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ انھوں نے بہترین فن پارے چھوڑے ہیں۔ لیکن افسوس کہ انھیں ان کے معاصرین انیس رفیع اور فیروز عابد کی طرح شہرت نہیںملی۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کا صحافت کی طرف جانا بھی ہے۔
بنگال میں ناول نگاری کے حوالے سے ایک اہم نام بشیر الدین ضامی کا بھی ہے۔ ان کا ناول ’’بھنور‘‘ 1975 میں شائع ہوا۔ دوسرا ناول ’’نئی زندگی‘‘ نے بھی انھیں بہت مقبول کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ آٹھویں دہائی میں بنگال میں ناول تفریح کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ ناول کے قارئین کی تعداد اچھی خاصی تھی اس لیے کثیر تعداد میں ہر طرح کے ناول بازار میں آئے۔ لیکن بشیر الدین کا ناول ان میں ہر طرح سے علاحدہ اور منفرد تھا۔ ناول ’’بھنور‘‘ ایک طوائف کی کہانی ہے جس کا سچا ہمدرد بن کر ایک کردار رمیش سامنے آتا ہے اور اسے بھنور سے نکال کر نئی زندگی دیتا ہے۔ لیکن نئی زندگی میں پہنچ کر وہ خود بہتوں کو بھنور میں ڈال دیتی ہے۔ بشیر الدین کا دوسرا ناول طبقاتی کشمکش پر مبنی ہے اور یہاں بھی ان کی فنکارانہ چابکدستی اسی طرح قائم ہے۔
مغربی بنگال میں خواتین ناول نگاروں میں صغری سبزداری، ثریا محمود اور روحی قاضی وغیرہ کے یہاں خانگی اور سماجی زندگی میں عورت کے مسائل، ان کے مصائب اور سب سے بڑھ کر ان کی ناخواندگی کو بطور خاص موضوع بنایا گیا ہے۔ صغری سبزداری کا ناول ’’خواب و بیداری‘‘ بہت اہم ہے۔ یہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان کی کہانی ہے۔ ’’خواب و بیداری‘‘ دراصل رشتوں کی تشکیل اور پھر ان کے بکھراؤ کی المناک داستان ہے۔ ناول میں صغری نے قدامت پرست سماج اور اذہان پر زبردست طنز کیا ہے۔ صغری کا مشاہدہ تیز ہے اس لیے عورتوں کی نفسیات کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ دیکھنے کو ملتاہے۔ انھوں نے اپنے کرداروں کے ذریعے ایسے معاشرے کی کشمکش کو پیش کیا ہے جہاں تمام تر فیصلے مردانہ سماج کے ذریعے لئے جاتے ہیں اور وہ مردانہ سماج رشتوں کے تقدس اور ان کی نزاکتوں کو بالکل نہیں سمجھتا۔
ثریا محمود نے بھی ’’طوفان سے ساحل تک‘‘ اور ’’غم کی چھاؤں میں‘‘ جیسی تخلیق کے ذریعے عام گھریلو زندگی کے مسائل اور پیچیدگیوں کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ناول میں کوئی جھول نہیں، کردار سیدھے سپاٹ اور پلاٹ بہت ہی مربوط اور کساہوا ہے۔
2000 کے بعد مشتاق انجم کا ناولٹ ’’رانگ نمبر‘‘ صدیق عالم کا ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ اور جیب حق کا ضخیم ناول ’’ جسے میر کہتے ہیں صاحبو‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں لیکن ان پر خاطرخواہ گفتگو نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر یوسف تقی نے بس اپنی کتاب ’’بنگال میں اردو ناول‘‘ میں ناول نگاری پر بات کی اور ’’چارنک کی کشتی‘‘ کا ذکر کیا ہے، اسی طرح جیب حق کا ناول جوکہ گیارہ سوسے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے اور مژگاں پبلی کیشن کلکتہ سے شائع ہوا ہے، اس پر بھی ایک طرح سے سناٹا ہی رہا۔ جبکہ بنگال میں یہ اب تک کا سب سے ضخیم اور اہم ناول کا درجہ رکھتا ہے اس کے علاوہ طالب محشروی کا‘‘، ’’چاند تارا‘‘مائل ملیح آبادی کا ناول ’’آبرو‘‘ نیا آدمی، بیگم مرزا علی کا ’’سرلا‘‘، ابراہیم اختر کا ’’پیا سے دل‘‘ ایم رفیق کا ’’شہرِ توراں‘‘ نہال آڑھوی کا ’’اعجاز مسیحا‘‘ رفیق ہارون کا ’’خزاں کے بعد‘‘ محمد قسم علوی کا ’’پکار‘‘ بھی کم اہم ناول نہیں ہیں۔ ان ناولوں پر جس قدر توجہ کی ضرورت تھی وہ نہیں دی گئی۔
ناول ’’پکار‘‘ ہندومسلم کشاکش کی کہانی ہے۔ تنویر اور راجو مرکزی کردار ہیں اور دونوں اپنے اپنے فرقے کے نمائندے ہیں۔ فسادات میں دونوں اپنے عزیزوں کو قتل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اپنی جان بچانے کے لیے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ پورا ناول قتل و غارت گری کے مناظر سے بھرا ہوا ہے اور قارئین کو ہر طرف سے آہ وزاری کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔
صدیق عالم نے اپنے ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ کو بالکل اچھوتے انداز یعنی پورے ناول کو نثری نظم کی ہئیت میں تخلیق کیا ہے۔ اس ناول کے متعلق پروفیسر یوسف تقی نے لکھا ہے کہ:
’’2003 میں بنگال کے اہم افسانہ نگار صدیق عالم نے ایک ناول ’’چارنک کی کشتی‘‘ نثری نظم کی ہئیت میں لکھ کر سب کو چونکادیا۔ یہ ناول صرف بنگال کی سطح پر نہیں بلکہ پورے برصغیر ہندوپاک کی اردو دنیا میںاپنی نوعیت کا منفرد، عمدہ اور کامیاب ناول ہے‘‘۔
(بنگال میں اردو ناول۔ یوسف تقی ص: 141/145)
اس ناول کی کہانی کلکتہ اور اس کے اطراف کا احاطہ کرتی ہے۔ 1990 میں جب کلکتہ اپنا 300 سالہ جشن سال گرہ منارہا تھا تو اس وقت کے وزیر اعظم راجیوگاندھی نے اس شہر کو The dying Cityکہہ کر سب کو چونکا دیا تھا۔ لیکن دوسری طرف ایک ادیب اسے ہر طرح سے زندہ اور متحرک دیکھ رہا تھا۔ اس ناول میں شہر کلکتہ کی زندگی کو حرارت اور حرکت سے بھرپور دکھانے کی کوشش کی گئی۔ صدیق عالم نے اپنے پیش لفظ میں لکھا کہ ’’کلکتہ دائمی ہے۔ اس کی موت کی پیش گوئی کرنے والوں نے شاید زندگی کا مفہوم سمجھا ہی نہیں (چارنک کی کشتی)
اس ناول میں صدیق عالم نے سماج کے ایسے افراد کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا ہے جنھیں کسی لائق نہیں سمجھا جاتا جبکہ زندگی کی رفتار اُنہی سے قائم ہے۔ پروفیسر یوسف تقی کے مطابق:
’’… ناول میں جہاں اس طبقے کی گری ہوی حرکتوں کو دکھایا گیا ہے، وہیں ان کے اندر پوشیدہ ایثار و قربانی کے جذبے کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں اس ناول میں ناول نگار کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی قابل نفریں نہیں ہے‘‘۔
(ایضا ص:34)
جوگندرپال کے مطابق:
’’مصنف نے 450 صفحات کی اس طویل ترین نثری نظم (ناول) میں ایک قدیم شہر کی روح کو کچھ ایسے انوکھے اور متحرک انداز میں، اپنی تلاش میں، اپنے حالیہ مقامات پر بھٹکے ہوئے دکھایا ہے کہ حسنِ فطرت اجاگر ہوجاتا ہے‘‘۔
(ماہنامہ شاعر، اکتوبر 2005 ص:10)
یہ ناول اپنے وارداتی اچھال میں بہت طاقت رکھتا ہے۔ ناول کے خاتمے کے قریب آتے آتے قاری غریق حیرت ہوکر رہ جاتا ہے۔ مشتاق انجم کا ’’رانگ نمبر‘‘ 2006 میں زیورطباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آیا۔ یہ بہت اہم ناول نہیں پھر بھی اس میں دوگھرانوں کی آپسی محبت کو داستانی اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کے ارتقا میں اتھل پتھل تو ہے لیکن کوئی جھول اور پیچیدگی نہیں، جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے یہ قاری پر اپنی اپنی گرفت مضبوط کرتی جاتی ہے۔ یہ ناول سادگی میں پر کاری کی مثال ے۔ قصہ میں کوئی تھِرل، تصنع اور ملمہ کاری نہیں۔ سیدھی سادی زبان اور رواں بیانیہ میںیہ ایک کامیاب ناول ہے۔
’’رانگ نمبر‘‘ کے پلاٹ کے متعلق شبانہ خاتون ثمن نے اپنے ایک مضمون ’’مغربی بنگال میں اردو ناول میں لکھا ہے کہ ’’ناول نگارنے ہاوڑہ اور اس کے گرد نواح میں واقع ایک متوسط طبقے کے ہندو اور مسلم دوستوں کی کہانی کے پس منظر میں ہندوستانی سماج اور فسادات سے متاثر لوگوںکی کہانی کے ساتھ … مسلم قوم کے تئیں وفاداری کے جذبے، دولت و ثروت کمانے کی خاطر اپنے ملک سے باہر جانے والے نوجوان کی روداد کو ہمارے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔
واضح ہوکہ ’’رانگ نمبر‘ کے بعد مغربی بنگال میں شائد کوئی بڑا اور قابل ذکر ناول نہیںآیا لیکن یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقتوں میںیہ سلسلہ آگے بڑھے گا اور اردو ناول نگاری کی دنیا کوپھر سے بڑے اور یادگار ناول مغربی بنگال سے ملیں گے۔ فی الحال ’’چینی کوٹھی‘‘ (صدیق عالم) پر ابھی بات شروع نہیں ہوئی ہے۔
مغربی بنگال میں اردو ڈرامے بھی اچھی خاصی تعداد میںلکھے گئے ہیں اور یہ ڈرامے صرف قارئین ہی نہیں بلکہ ناظرین میں بھی مقبول رہے ہیں۔ مغربی بنگال کے ڈرامہ نگاروں میں ظہیر اانور، کمال احمد، شہناز بنی، نوشادرضا۔ صلاح الدین تاج ، عزیز احمد عزیز اصغر انیس، الماس شیخ، سید حیدر علی، نوشاد عالم، اظہر عالم وغیرہ خاص ہیں۔ ان پر آئندہ تفصیل سے لکھا جائے گا۔
٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

