Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
گوشہ خواتین و اطفال

اردو کی نئی بستیوں میں ادب اطفال – ڈاکٹر امتیاز رومی

by adbimiras جنوری 14, 2022
by adbimiras جنوری 14, 2022 0 comment

اردو بھی اک زبان ہے عالم میں انتخاب! لسانی تاریخ میں ایسی مثالیں کم یاب ہیں کہ محض کسی زبان کی بنیاد پر مختلف ممالک اور اقوام کے لوگوں نے یک جٹ ہوکر نئی بستیاں بسالی ہوں۔ اردو زبان ہندوستانی مشترکہ تہذیب کی علامت اور اخوت و محبت کی نشان ہے۔ اس کی پیدائش و افزائش میں کسی ایک خطے اور قبیلے کا ہاتھ نہیں بلکہ مختلف اقوام نے مل جل کر اپنی اپنی زبان و تہذیب کے گارے سے اس کی نیو رکھی۔ صوفی سنتوں نے اس میں شیرینی اور مٹھاس کا رس گھول دیا۔ بادشاہوں اور نوابوں نے اردو کو اپنے محلوں میں سجا دیا اور عوام نے اسے اپنے دلوں میں بسالیا۔ اس طرح عوام و خواص کے میل جول سے ایک رابطے کی زبان وجود میں آئی اور سمندروں / سرحدوں کو عبورکرتے ہوئے اب سارے جہان میں چھاگئی۔بے شمار اردو کی نئی بستیاں وجود میں آگئیں۔ ان نئی بستیوں میں اردو کی راہ میں بے شمار مسائل حائل ہوئے۔ تاہم ان سب کے باوجود اردو کی انجذابی صفات، ماحولیاتی انسلاکات اور غیروں کو اپنانے کی خصوصیات نے قلیل مدت میں کثیر توانائی حاصل کرلی اور اس گلستان میں اردو زبان کوثر و تسنیم سے دھل کر گلزار ہوگئی۔ ادیب اور ادارے بے شمار ہوگئے۔ تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی مضامین/ کتابیں / رسالے منظر عام پر آگئے اور کم سنی میں ہی آثار بزرگی نمایاں ہوگئے۔ ان بستیوں میں اردو زبان وادب کے جملہ اصناف پر توجہ دی جانے لگی اور ادیبوں کی ایک بڑی جماعت تیار ہوگئی۔اس کی تفصیل سے قطع نظر اس مضمون میں اردو کی ان نئی بستیوں میں ادب اطفال کی مجموعی صورت حال پر روشنی ڈالی جائے گی۔

بچوں کا ادب در اصل وہ تحریرہے جو بچوں کی نفسیات اور تصورات کو پاکیزہ اور صحت مند بنائے۔اس کی بنیادی تھیم ذہنی و فکری تعمیر ہے۔ بچوں کا ادب تحریرکرنا خدا کی نومولود تخلیق کو سنوارنے /نکھارنے اور بہتر بنانے کا عمل ہے۔پال ہزارڈ (Paul Hazard) کے مطابق جو تحریر بچوں کی روح اور دل و دماغ میں ایسے جذبات و تاثرات پیدا کرے جو ان کے کھیلوں اور مہمات میں حوصلہ افزائی کرے اسے بچوں کا ادب کہتے ہیں۔ (1) ادب اطفال کی تاریخ میں انگلینڈ کے باشندے بیشپ ایلڈہم (Bishopaldhem) کو پہلا مصنف تسلیم کیا گیا ہے جس نے سوال و جواب کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار لاطینی زبان میں کیا۔ پھر وینرابیل بیڈ(Venerablebed) نے مشقی اسباق تیار کیے۔ الفریڈ دی گریٹ نے دیگر زبانوں کے ادب اطفال کا انگریزی میں ترجمہ کرایا۔ سینٹ اینسلم آرک بیش اپ (Saintanslem Archbishop) نے بچوں کے لیے انسائیکلو پیڈیا تیار کیا۔ (2) عالمی سطح پر ادب اطفال کے حوالے سے ’پنچ تنتر‘ کو بے پناہ مقبولیت ملی اور دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔

اردو زبان میں ادب کے دیگر گوشوں کے ساتھ ساتھ ابتدا ہی سے ادب اطفال کی جانب بھی توجہ دی گئی۔ چناں چہ اس حوالے سے وافر سرمایہ جمع ہوگیا اور جب یہ زبان ہند و پاک سے نکل کر اردو کی نئی بستیوں میں بس گئی تو نونہالان اردو کو اپنی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے اور لسانی وراثت کی بقا کے لیے ادب اطفال کی جانب بھی توجہ دی گئی اور تخلیقات و تراجم کے سلسلے شروع ہوگئے۔ چوں کہ ان بستیوں میں مقیم بچوں کے تمام ادیبوں تک رسائی نہ ہوسکی نیز اس مختصر مضمون میں ان سب کا احاطہ بھی ممکن نہیں اس لیے ان ناموں پر اکتفا کیا گیا جن کے بارے میں معلومات فراہم ہوسکیں۔

”جرنیلی سڑک، کتب خانہ او رشیر دریا“ کے مصنف،محقق اور صحافی رضا علی عابدی (1930)روڑکی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے پھر وہاں سے لندن گئے اور 1972 ء سے بی بی سی لندن ارد و سروس سے وابستہ ہوگئے۔کسی نے رضا علی عابدی سے کہا کہ’بچوں کے لیے لکھنا بہت مشکل کام ہے اس میں اپنی سطح سے نیچے اترنا پڑتا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ میرے نزدیک بچوں کے لیے لکھنا نہایت مقدس عمل ہے اس کے لیے نیچے اترنے کے بجائے بے شمار مصلحتوں اور نزکتوں سے بلند ہونا پڑتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ادب اطفال پر ان کی تقریبا چودہ 14 کتابیں ہیں۔ان میں ”دنیا میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں،مینا نے گڑیا کو کیسے ہنسایا، امی کا دن، دنیا میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں، ایک گاؤں جس کا پہلے کوئی نام نہ تھا“ شامل ہیں۔یہ ساری کتابیں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوئیں۔

عارف محمود کسانہ 20 سالوں سے سویڈن میں مقیم میڈیکل ریسرچ اسسٹنٹ ہیں۔ساتھ ہی ساتھ سویڈن میں اردو کے فروغ و استحکام کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ آبائی وطن پاکستان اور مادری زبان اردو ہے۔ادب اور صحافت سے گہرا لگاؤ ہے۔ ’افکار تازہ‘ کے نام سے ان کے سیاسی سماجی اور علمی موضوعات پر کالم/ مضامین کا مجموعہ 2016ء میں شائع ہوچکا ہے۔”بچوں کے لیے دل چسپ اور انوکھی کہانیاں“ان کی دوسری کتاب ہے جو بچوں کی ذہنی تربیت اور اخلاقی نشو و نما سے متعلق ہے۔اس کتاب کامقصد بیان کرتے ہوئے عارف کسانہ لکھتے ہیں:

”اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ بچے جو کہ مستقبل کے معمار ہیں ان کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ سچے مسلمان، اچھے انسان، محب وطن اور باوقار شہری بنیں۔ ان کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ وہ اپنے دل اور دماغ کے اطمینان کے ساتھ اپنے دین کی تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کرکے اپنی زندگی بسر کریں۔ اس تناظر میں بچوں کے لیے لکھنے کی بہت ضرورت ہے۔ یہ کہانیاں اس انداز سے لکھی گئی ہیں کہ بچے انھیں دل چسپی سے پڑھیں۔ ان کہانیوں میں مختلف ممالک اور شہروں کی بھی کچھ تفصیلات موجود ہیں تاکہ بچوں کے علم میں اضافہ ہواور ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا ہو“(3)

عارف کسانہ کی کہانیوں میں بنیادی عناصر مذہب اور اخلاق ہیں جنھیں وہ بچوں کے سادہ ذہن پر ثبت کردینا چاہتے ہیں۔ ”بچوں کے لیے دل چسپ اور انوکھی کہانیاں“ 2016ء میں سویڈین سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت و افادیت اور مقبولیت کے پیش نظر ہندی، انگریزی اور نارویجین زبانوں میں بھی اس کے تراجم شائع ہوچکے ہیں۔اس کتاب میں سولہ کہانیاں ہیں جو مختلف عناوین کے تحت ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مربوط و منسلک ہیں۔ ”ہم مسلمان کیوں ہیں؟، ایمان کسے کہتے ہیں، اللہ اور انسانوں کے قانون میں فرق، بول چال کے آداب اور غیر مسلموں سے سلوک‘ وغیرہ۔ ان کہانیوں کا تانا بانا مذہبی و اخلاقی معاملات و مسائل کے ارد گرد سوال و جواب کے پیرائے میں بنا گیا ہے،جن میں ایک خاص بات یہ ہے کہ ’ہم مسلمان کیوں ہیں، ایمان کسے کہتے ہیں، اللہ نظر کیوں نہیں آتا‘ ان سوالات کو قرآن وحدیث کے بجائے عقلی اور منطقی دلائل و براہین کے ذریعے دل چسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ انھوں نے لند ن،ناروے، اسکول اور پارک کی سیر و سیاحت میں فیس بک، ای میل اور پاس ورڈ جیسی مثالوں کے ذریعے خدا، رسول، حسن اخلاق اور حسن سلوک کو دل و دماغ میں نقش کرنے کی کوشش کی ہے۔عارف کسانہ کے بقول انھوں نے ’آٹھ سال سے اسی سال کے بچوں کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔‘ یورپ کے مذہب بیزار، اسلام دشمن عناصر،خاندان اور سماجی تصور سے بے نیاز اور روحانی انتشار و اضطرار کے ماحول میں اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔عارف کسانہ نے فطری طور پر بچوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے اٹ پٹے سوالات کے جوابات، بچوں کی نفسیات اور ماحولیات کو ادبیات کی صورت میں پیش کیا ہے۔انھوں نے اسلام کے بنیادی اصولوں کو جس انداز سے کہانی کی شکل دی ہے وہ لائق تحسین اور قابل قدر ہے۔

انسان کی سماجی زندگی کے ساتھ ہی ترجمے کا بھی وجودہوا۔ کیوں کہ مختلف علوم وفنون، ادب و ثقافت اور جذبات و خیالات کے لین دین کا واحد وسیلہ ترجمہ ہے، جس کے ذریعے ایک زبان کاعلم دوسری زبان میں منتقل ہوتاہے۔ اردو کی نئی بستیوں میں بھی ادب اطفال کی دوسری نوعیت تراجم کی ہے۔ اس کے ذریعے عالمی ادب کا انمول خزانہ اردو کے حصے میں آگیا۔

جہاں تک اردو کی نئی بستیوں میں ادب اطفال کے تراجم کی بات کریں تو متعدد قلم کاروں نے انگلش، ڈینش، ترکش اور جرمن وغیرہ  زبانوں سے اردو میں ترجمے کیے۔جن میں ہرچرن چاولہ، خلیل طوقار، نصر ملک وغیرہ شامل ہیں۔ ہرچرن چاولہ میانوالی صوبہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئے۔تقسیم ہند کے بعد دہلی آگئے پھر یہاں سے اوسلو ناروے چلے گئے اور وہیں 2001ء میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے 1980ء میں بچوں کے عالمی شہرت یافتہ ادیب ہانس کرسٹین آنڈرسن  (Hanschristian Andersen) کی کتاب The little Mermaidکا ترجمہ’’ننھی جل پری“ کے نام سے کیا۔ یوں تو انڈرسن نے پریوں سے متعلق بہت سی کہانیاں لکھیں تاہم ’ننھی جل پری‘ نے انھیں زندہ جاوید کردیااور ان کے نام سے ’بچوں کا عالمی یوم کتاب‘ منسوب ہوگیا۔ یہ ”ننھی جل پری“ آنڈرسن کی کہانی سے نکل کرحیات جاودانی پاگئی اور ایک خوب صورت بت کی شکل میں آج بھی کوپن ہیگن میں سمندر کے کنارے آنڈرسن کی یاد دلارہی ہے۔ہرچرن چاولہ نے اس Littel Mermaid کو 1980ء میں ’ننھی جل پری‘ کے قالب میں ڈھال کر اردوکو ایک عظیم تحفہ دیا۔

ہند و ترکی کے لسانی اور تہذیبی تعلقات صدیوں پر محیط ہیں یہی وجہ ہے کہ اردو زبان و ادب میں ترکی کاذکر کثرت سے ملتا ہے۔ان قدیم ترین رشتوں کی بازیافت خلیل طوقار کا اہم کارنامہ ہے۔ خلیل طوقار ترکی میں اردو کے افق پر روشن ستارے کے مانند ہیں جن کی تابانی تقریبا دو دہائیوں سے جہان اردو کو منور کر رہی ہے۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت اہل اردو کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ وہ بیک وقت محقق، نقاد، شاعر، صحافی، مترجم اور ’بچوں کے خلیل‘ بھی ہیں۔ خلیل طوقار نے ترکی اوراردوکے مابین ترجمے کی قدیم اورمضبوط روایت کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا اور ترکی وزارت ثقافت وسیاحت کے Tedaپروجیکٹ کے تحت ترکی سے اُردو زبان میں بچوں سے متعلق بہت سی کہانیوں کے ترجمے کیے جو گیارہ مختصر مجموعے کی شکل میں شائع ہوچکے ہیں ”کیا آپ نے سرخ ہاتھی کو دیکھا ہے؟، کہانی خریدنے والا آدمی، شیر پرندہ، سیب کی تتلی، نازک خانم“ مختصر کہانیاں ہیں جوسولہ سے بیس صفحات پرمشتمل اورخوب صورت رنگین تصویروں سے آراستہ ہیں۔ اس کے علاوہ چھ اور کتابیں چتین اونیر کی کہانی(Gulibik)کا ترجمہ’’سرخ کلغی“ کے نام سے،مصطفےٰ روحی شیریں کی کہانی (Her Cocugun Bir YildiazVar)کا ترجمہ’’ہر بچے کا ایک ستارہ ہے“، نجاتی ذکریا کی (Bizim Sokagin Cocuklariُُ) کا ”ہماری گلی کے بچے‘‘، مصطفےٰ قوتلو کی کہانی (Yildiz Tozu) کا  ”ستاروں کا پاؤڈر“، گل تن دائی اوغلو کی کہانی (Ben Buyuyunce)کا ”جب میں بڑا ہوں گا“ اورفعات الگاز کی کہانی (Bacaksiz Okulda)کا ”ننھا شرارتی سکول میں‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا۔ان کے علاوہ ملا نصرالدین کے دل چسپ اور سبق آموز لطیفوں کا بھی ترجمہ کیا۔ خلیل طوقارنے بچوں کے لیے کل ایک درجن کتابوں کے ترجمے ترکی سے اردومیں کیے۔ان میں پانچ کتابیں بلکہ کتابچے ”کیاآپ نے سرخ ہاتھی کودیکھاہے؟،کہانی خریدنے والاآدمی،شیرپرندہ،سیب کی تتلی اورنازک خانم“ بالکل ابتدائی درجات کے بچوں کے لیے ہیں۔بڑے سائزمیں آرٹ پیپرپران کی دیدہ زیب طباعت بچوں کواپنی جانب متوجہ کرتی ہیں، جوخوب صورت تصاویراورمختلف رنگوں سے بھی مزین ہیں۔ یہ ساری کتابیں ملٹی میڈیاافیئرزلاہور سے شائع ہوئی ہیں۔ خلیل طوقار نے سلسلہ واربچوں کے لیے ان کہانیوں کا ترکی زبان سے اردومیں ترجمہ کرکے دوزبان اوردوادب کے مابین قدیم ترین لسانی اورثقافتی رشتے کومستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا۔ چوں کہ یہ کہانیاں بچوں کی کردارسازی کے لیے بہت اہم ہیں اس لیے یہ کتابیں ان کے لیے نایاب تحفے ہیں۔

ڈینش زبان کے ادب اطفال کا بھی بڑا حصہ اردو میں منتقل ہوااور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے،جس کے لیے نصر ملک قابل مبارکباد ہیں۔ نصر ملک ڈنمارک میں مقیم ادیب و صحافی ہیں۔ بچوں کے ادب پر انھوں نے خوب کام کیا اوردنیا بھر کی منتخب لوک کہانیوں کو اردو میں منتقل کرنے کا اہم فریضہ انجام دیا۔”یورپی ممالک کے بچوں کے ادب سے منتخب دل چسپ اور انوکھی کہانیاں،بچوں کے لیے عالمی لوک کہانیاں، بچوں کے لیے گڑیا کی کہانیاں، بچوں کے لیے عالمی ادب سے منتخب دل چسپ و انوکھی کہانیاں، بچوں کے لیے دیس دیس کی حیرت انگیز کہانیاں، افریقی بچوں کے ادب سے منتخب لوک کہانیاں، سارک(SAARC) کے رکن ممالک کے بچوں کے لیے ادب سے منتخب کہانیاں، اسکینڈے نیویائی ممالک(Scandinavia) کے بچوں کے ادب سے منتخب طلسماتی و انوکھی کہانیاں اور طلسماتی کہانیاں اورلیتوییا کی دیگرکہانیاں“مذکورہ عناوین کے تحت تقریبا سو کہانیوں کے ترجمے نصر ملک نے کیے۔اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے ہما نصر رقم طراز ہیں:

”مختلف اقوام کی قدیم کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کرکے نصرؔ در اصل اردو جاننے والے بچوں کو دنیا بھر کے بچوں کے قریب تر لے جانا چاہتے ہیں………..اس مختصر سی کتاب میں شامل لیتوییا کی کہانیوں کے مسودے پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے کہ ان کہانیوں کے کئی دوسرے ملکوں اور قوموں کی طلسماتی کہانیوں سے کافی مطابقت ہے اور غالبا ایسی کہانیوں کی یہی خوبی ہے کہ جب انھیں پڑھاجاتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی بزرگوں کی سنائی ہوئی کہانیوں کو ایک نئے انداز میں پڑھ رہے ہیں اور ہماری سامنے نئی دنیائیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ جہاں ہم ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہیں۔“(5)

’طلسماتی انگوٹھی اور لیتویا کی دیگر کہانیاں‘اس مجموعے میں طلسمی انگوٹھی، طلسمی چکی، طلسمی لفظ اور پیسوں والا طلسمی تھیلا وغیرہ ایسی کہانیاں ہیں جن میں طلسماتی دنیا کی باتیں ہیں، انگوٹھی رگڑنے سے جنات حاضر ہوتے ہیں اور ساری مرادیں پل بھر میں پوری کرجاتے ہیں۔ نیز شہزادے پر دشواریاں آتی ہیں تاہم وہ اپنی جد و جہد سے فتح یاب ہوجاتے ہیں۔بچوں کا ادب بنیادی طور پر معلومات اور اخلاقیات پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے انداز بیان سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ دل چسپ اور حیرت انگیز ہونا چاہیے۔ طلسماتی واقعات بچوں کو تخیلاتی فضا میں سیر کراتے ہیں اور ان کے دل ودماغ کو قوت پرواز بخشتے ہیں۔ مافوق الفطری عناصر حیرت انگیزی کا باعث بن کر جو بچوں کو کہانی سے باندھے رہتے ہیں۔ عابد سہیل لکھتے ہیں:

”وہ لوریاں ہوں یا کہانیاں، نظمیں ہوں یا گیت، معلوماتی کتابیں ہوں یا چٹکلے، یہ حیرت و استعجاب ان میں کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود رہتا ہے۔ کہیں یہ جانوروں کی شکل اختیار کرتا ہے کہیں دیو اور بھوت کی، کہیں جنوں کی کہیں پریوں کی، کہیں بادشاہ کے بے پناہ خوب صورت  دربار کی، جہاں بادشاہ کی تالی بجاتے ہی جو چیز وہ چاہتا ہے حاضر ہوجاتی ہے۔ کہیں ’پنج تنتر‘کی کہانی چالاکت خرگوش کی جس میں وہ ایک خونخوار شیر کو غصہ دلا کر اسے کنویں میں چھلانگ لگانے پر مجبور کردیتاہے، سچ پوچھیے تو بچوں کے ادب میں حیرت کا عنصر ہی بچوں کو اس سے جوڑتا ہے“۔ (6)

ادب اطفال سے متعلق عالمی ادب کی منتخب اور لوک کہانیاں انگریزی اور ڈینش زبانوں سے ترجمہ کی گئی ہیں جن میں یورپ، امریکہ، افریقہ، جاپان، روس، افغانستان اور ویتنام وغیرہ کی لوک کہانیاں شامل ہیں۔ ان کو اردو میں منتقل کرکے نصر ملک نے قابل تحسین کارنامہ انجام دیا ہے۔

سرور غزالی جرمنی میں مقیم شاعر، ادیب اور صحافی ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف اور بزم ادب برلن کے متحرک و فعال رکن ہیں جو اردو کے فروغ و ارتقا میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ ’دوسری ہجرت‘(ناول)’بکھرے پتے، بھیگے پل (افسانوی مجموعے) اور’میرے مضامین‘شائع ہوچکے ہیں۔ بچوں کے ادب سے بھی انھیں کافی دل چسپی ہے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی بچوں کے لیے لکھتے رہے۔ دسویں جماعت میں ’پیام سحر‘ نامی وال پیپر میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھا کرتے تھے افسوس کہ وہ سب ضائع ہوگئیں۔حال ہی میں انھوں نے کرسٹین ماتھائی کی کہانی کا ترجمہ جرمن سے اردو میں کیا جو ماہنامہ پھول نومبر 2017 میں شائع ہوا۔ ان کے علاوہ فرانس میں مقیم ممتاز ملک ادیبہ، شاعرہ اور صحافی ہیں۔بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے گاہے ماہے کالم/ مضامین لکھتی رہتی ہیں۔

غرض کہ اردو کی نئی بستیوں میں ادب اطفال کی مجموعی صورت حال بہتر ہے۔بلکہ اردو زبان کے جملہ اصناف پر توجہ دی جارہی ہے۔ تخلیق، تحقیق اور تراجم کے سلسلے بدستور جاری ہیں۔ ان بستیوں میں مقیم ارباب اردو اپنی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان و ادب کی حفاظت اور فروغ و استحکام کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ چوں کہ آئندہ اس وراثت کو سنبھالنے کی ذمے داری نیو جنریشن پر ہے اسی لیے ان میں اردو زبان و تہذیب کو منتقل کرنابنیادی فریضہ ہے۔ چناں چہ اس سلسلے میں تخلیق و تراجم کے ذریعے بچوں کی ذہن سازی اور تہذیب و ثقافت سے شناسائی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس مضمون میں مذکور قلم کاروں کے علاوہ اور بھی بچوں کے ادیب ہیں تاہم ان تک رسائی نہ ہوسکی۔بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قلم کاروں کی خدمات کو سراہا جائے اور نئی پرانی بستیوں کے ادیب سرحدی خلیج کو پاٹ کر ایک نیا ادبی ماحول پیدا کریں۔

حواشی

(1) ڈاکٹر خوشحال زیدی، اردو میں بچوں کا ادب، مطبوعہ کلر پرنٹنگ پریس دہلی،1989، ص 33

(2)  ایضا، ص 27

(3) عارف محمود کسانہ،اسلامی معلومات پر مبنی بچوں کے لیے دل چسپ اور انوکھی کہانیاں، کسانہ بکس سویڈن،2016،ص 6

(4) خلیق انجم،فن ترجمہ نگاری،ثمر آفسٹ پرنٹرز، نئی دلی،1996اشاعت سوم،ص11

(5)  ہما نصر،طلسماتی کہانیاں، نیٹ ایڈیشن، 2008

(6) عابد سہیل، اردو میں بچوں کا ادب، نیا دور لکھنؤ، نومبر،دسمبر 1979،ص 93

 

امتیاز رومی
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی
imteyazrumi@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
1960کے بعد مغربی بنگال میں اردو فکشن – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

ہندوستانی معاشرے میں دین کے نام پر خواتین...

جنوری 3, 2026

بچوں کو تعطیلات میں مشغول رکھنے اور شخصیت...

جولائی 9, 2024

ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم کردار’بیگم سمرو‘...

دسمبر 16, 2023

پروین شاکر کی شاعری میں تانیثی آواز اور...

دسمبر 5, 2023

بھارت میں ماحولیاتی تبدیلی: بحران کے” "تخفیف میں...

اکتوبر 20, 2023

چلو جنگل سے باتیں کرتے ہیں !! –...

جولائی 2, 2023

عالمی یوم خواتین اور خواتین کی قدر شناسی...

مارچ 7, 2023

مسلمانوں میں عورتوں کی تعلیم کا آغاز- حدیثہ...

جنوری 21, 2023

قومی یومِ اطفال اور قوم کے بچے – علی...

نومبر 15, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں