طارق چھتاری:گنجینہ معنی کا طلسم / ڈاکٹر حامد رضا صدیقی – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
بیسویں صدی کی ساتویں اور آٹھویں دہائی میں جن جینوئن تخلیق کاروں کی کھیپ سامنے آئی ان میں طارق چھتاری کا نام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔وہ بنیادی طور پر ایک فکشن تخلیق کار ہیں۔اب تک ان کے ایک ہی افسانوی مجموعہ’باغ کا دروازہ‘ نے ان کو شہرت دوام کے ساتھ معراج کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔معراج کی بلندیوں پر کہنے کا جواز یہ کتاب ہے جس کو حامد رضا صدیقی نے ترتیب دیا ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ اردو کے نامور اور معتبر ادبا و ناقدین نے طارق چھتاری کی تخلیقات کو بہت ہی باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اس کی روشنی میں ان کے فکر وفن پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے افسانے کے فنی لوازمات کی روشنی میں ان کے معائب و محاسن کی نشاندہی کی۔اردو فکشن کی دنیا میں بہت کم ایسے تخلیق کار ہیں جو اپنے ایک مجموعے کی بنیاد پر ادب میں اپنی ایک انفردای شناخت قائم کرنے میں کا میاب ہوئے ہیں۔یہ اختصاص جہاں تک مجھے علم ہے طارق چھتاری کے علاوہ کسی اور تخلیق کار کے حصے میں اب تک نہیں آئی ہے۔یہ بڑی بات ہے اور ایک جینوئن تخلیق کار کی شناخت بھی ہے۔زود نویسی ایک ایسی صفت ہے جو بہت سے تخلیق کاروں کی تخلیقات کو آفاقیت بخشنے میں ناکام بنا دیتی ہے۔زود نویس تخلیق کاروں کو وقتی اور سستی شہرت تو مل جاتی ہے لیکن ادب کے اعلیٰ اور معیاری اصولوں پر جب ان کی تخلیقات کو پرکھتے ہیں تو وہ کھوٹا سکہ ثابت ہوتی ہیں۔ ایسی تخلیقات کی مدت اخباری ہوتی ہے۔لیکن جب ہم طارق چھتاری جیسے فکشن نگاروں کی تخلیقات کا بنظر غائر مطالعہ کرتے ہیں تو یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں ہوتا کہ ایسے فن کار صدیوں میں جنم لیتے ہیں۔
طارق چھتاری جیسے فن کاروں کی خوبی یہی ہے کہ ان کے یہاں خود ستائی اور اشتہار بازی کے عناصر کا جہاں فقدان نظر آتا ہے وہیں ان کی شخصیت ان کے نمائشی ذہنیت کی نفی کرتی ہے۔ان کے افسانوں کی قرأت کے دوران یہ بات واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ وہ کسی ازم کے پابند نظر نہیں آتے۔ان کے افسانوں میں ترقی پسند تحریک کی جہاں نمائندگی دیکھنے کو ملتی ہے وہیں جدیدیت کی کہیں واضح اور کہیں مبہم نقوش بھی تلاش کئے جا سکتے ہیں،رہی بات مابعد جدید ڈسکورس کی تو ان کے افسانوں میں اس کے واضح اثرات نظر آتے ہیں جن کی مختلف مضامین میں ناقدین نے نشاندہی کی ہے۔اس کتاب میں شامل تمام مضامین کے مطالعہ کی روشنی میں مذکورہ بالا باتیں کہی گئی ہیں۔طارق چھتاری کے افسانوں میں تہذیبی و ثقافتی بیانیہ ہو یا نو آبادیاتی تناظر،قدیم و جدید تہذیبی و ثقافتی تصادمات ہوں یا طبقاتی کشمکش،اقداری رویے ہوں یا مشترکہ وراثت،جاگیر درانہ نظام ہو یا زمیندارانہ سسٹم،معاشی ابتری کے مسائل ہوں یا مزدور و مفلوک الحال عوام کے دکھ درد،حسن و عشق اور رومان پرور فضا کی داستان ہویا جنسی بے راہ روی،سماج کی خود ساختہ اور فرسودہ رسمیات ہوں یا سماجی جبر و تشدد،خود شناشی کا مسئلہ ہو یا نفسیاتی پیچیدگی۔مختصر یہ کہ ایک ہی مجموعے میں بظاہر جتنے موضوعات ہو سکتے تھے ان سب کو سمیٹنے کی بھر پور اور کامیاب ترین کوشش دیکھنے کو ملتی ہے ۔مذکورہ بالا موضوعات کو برتنے میں طارق چھتاری نے جو اسلوب اور تکنیک استعمال کیا ہے وہ بظاہر سادہ اور سلیس لگتا ہے لیکن وہ اپنے اندر کتنی معنوی تہہ داری لیے ہوئے ہے مطالعے کے دوران اس کے ڈکشن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔نئے موضوعات کو برتنے میں جو طرز اسلوب اختیار کیا ہے اس کا انداز بالکل نیا ہے ۔ان کا لہجہ اور اسلوب دونوں کسی کا چربہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کا اپنا طرز خاص ہے جو انھیں ان کے معاصرین میں امتیازی شناخت دیتا ہے۔
طارق چھتاری کے افسانوں میں جہاں داستانوی رنگ و آہنگ کی جھلک نظر آتی ہے وہیں اساطیری فضا کا بھی گمان ہوتا ہے۔اس کے علاوہ افسانوں کو پڑھتے ہوئے مختلف مقامات پر تمثیلی اسلوب،علامتی طرز اظہار اور استعاراتی نظام کی بر محل کڑیاں جدیدیت سے جوڑ دیتی ہیں جس سے ان پر کبھی جدیدیے ہونے کا گمان گزرتا ہے۔لیکن یہ بات مذکورہ بالا سطور میں کہہ چکا ہوں کہ وہ کسی ازم کے پابند نہیں ہیں۔ان کی تخلیقات کو کسی ایک خانے میں رکھ کر پرکھنا اور کسی خاص ازم کا لیبل لگاکر محدود کردینے سے ان کے ساتھ انصاف کبھی بھی نہیں کیا جا سکتا۔اگر ہندوستان کی کثیر لسانی و ثقافتی اور مشترکہ وراثت کی بازیافت کرنی ہویا اسلوبیاتی تنوع دیکھنی ہو تو طارق چھتاری کے افسانے پڑھیے اس لیے نہیں کہ میں کہہ رہا ہوں بلکہ اس لیے کہ ان کی تخلیقات کو اردو ادب کے بڑے اور معتبر ادیبوں نے کھل کر اظہار خیال کیا ہے اور ان کی سراہنا بھی کی ہے۔ان کی تخلیقات میں آپ کو سب کچھ ملے گا۔’آدھی سیڑھیاں ‘بھی ملیں گی اور Irony of Societyکا ’پورٹریٹ‘بھی۔’صبح کاذب ‘ کی فضا میں مزدوروں اور کسانوں کا بہتا پسینہ بھی ملے گااور مہاجنی نظام کے استحصالی مناظر بھی ۔’‘تین سال‘ اور ’دس بیگھے کھیت‘ کے چلے جانے سے ٹھاکر ویدرام کی المناک تصویر کے ساتھ چھدا کی بربادی کا نقشہ بھی ملے گا۔’برف ‘ ’پانی‘’گلوب‘’شیشے کی کرچیں‘’دھوئیں کے تار‘’آن بان‘’نیم پلیٹ‘’لکیر‘’کھوکھلا پہیہ‘’چابیاں‘’بندوق‘سب میں وہ تمام باتیں ملیں گی جن کا اجمالی ذکر میں نے اوپر میں کیا ہے۔بہرکیف حالیہ دنوں میں اردو ادب کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر اور تنقیدی فکر کے حامل اسکالرڈاکٹر حامد رضا صدیقی نے طارق چھتاری کی تخلیقی اور فکری و فنی ارتقا کو دیکھتے ہوئے اپنی محنت شاقہ ،لگن ،دلچسپی ،دلجمعی اور دیدہ ریزی کیساتھ جگر سوزی کے مرحلے کو طے کر کے اس کتاب کو ترتیب دے کر اپنی ذہانت،سنجیدگی اور تنقیدی بصیرت کی نمایاں مثال قائم کی ہے۔ اس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔صاحب کتاب کی جملہ صفات کا اندازہ چالیس سے زائد صفحات پر مشتمل ان کے پر مغز مقدمے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انھوں نے طارق چھتاری کے افسانوں کا تجزیہ پیش کرنے کے ساتھ ان کے افسانوں میں کتنے ڈائمنشنس ہیں یا ہو سکتے ہیںتفصیل سے احاطہ کرنے کی کامیاب کو شش کی ہے۔اس طرح کا کام وہی اسکالر کر سکتا ہے جسے ادب کی پرکھ ہو ۔مقدمے کو پڑھتے ہوئے یہ بات وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ صاحب کتاب ادب کے پارکھی ہیں۔انھوں نے ’طارق چھتاری:گنجینہ معنی کا طلسم‘ترتیب دے کر ہم جیسے اسکالرس کے لیے بڑا کام کیا ہے ۔بڑا کام اس لیے ہے کہ اس مصروف ترین اور برق رفتار عہد میں چوٹی کے ادیبوں سے مضامین لکھوانا وہ بھی مفت میں میرے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔لیکن یہ بڑی بات حامد رضا صدیقی نے کر دکھایا ہے جس سے مستقبل میں ان سے اور بڑے اور اہم کام کی امید کی جا سکتی ہے۔اس کتاب کو دو حصوں میں ترتیب دیا گیا ہے پہلے حصے میں طارق چھتاری کے افسانوی مجموعے کی روشنی میں ان کے فنی و فکری امتیازات کو افسانے کے فنی اصولوں پر پرکھنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے جب کہ دوسرے حصے میں ان کے افسانوں کے تجزیے شامل ہیں۔پہلے حصے میں جن اہم ناقدین کے مضامین باالترتیب شامل ہیں ان میںنظام صدیقی کا’نئے عہد کی تخلیقیت میں طارق چھتاری کی نئی فکریاتی اور حسنیاتی بازیافت‘شافع قدوائی کا ’طارق چھتاری کے افسانوں میں ثقافتی عرصہ کی تشکیل‘سید خالد قادری کا ’طارق چھتاری کے مجموعے باغ کا دروازہ کے حوالے سے (ایک مختصر نوٹ)‘مولا بخش کا’ثقافتی تاخر کا بیانیہ اور طارق چھتاری کا افسانوی زاویہ‘ محمود ہاشمی کا’طارق چھتاری کے افسانے‘انیس اشفاق کا’اردو افسانے میں طارق کا امتیاز و اختصاص‘حسین الحق کا’طارق چھتاری اور سید محمد اشرف باغ کے دروازے پر باد صبا کا انتظار‘ علی احمد فاطمی کا’ایک ماڈرن صوفی کی کہانی‘صغیر افراہیم کا’طارق چھتاری کا افسانوی سفر‘سلیمان اطہر جاوید کا ’باغ کا دروازہ ایک جائزہ‘سلام بن رزاق کا’طارق چھتاری اور ان کے افسانے‘عبد الصمد کا’طارق چھتاری:کہانی سے جڑا ہوا افسانہ نگار‘انیس رفیع کا’طارق چھتاری!آ دھمکے چپکے سے‘ معین الدین جینا بڑے’طارق چھتاری :معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود‘صلاح الدین پرویز کا’باغ کا دروازہ:طارق چھتاری اور آنے والا کل‘ اقبال واجد کا ’طارق چھتاری کے افسانوں کی قدر و قیمت‘ مشتاق صدف کا’طارق چھتاری کا افسانہ متن:تعبیری جہات‘ معید الرحمن کا’جدید اردو ہندی افسانے کا تقابلی مطالعہ‘ آفاتب عالم نجمی کا’طارق چھتاری کی افسانہ نگاری:ایک تنقیدی مطالعہ‘وغیرہ مضامین شامل ہیں ۔کتاب کا دوسرا حصہ جو تجزیے پر مشتمل ہے ان میں حامدی کاشمیری کا ’نیم پلیٹ:تجزیہ‘ رتن سنگھ کا’نیم پلیٹ: تجزیہ‘ سکندر احمد کا’باغ کا دروازہ :دروازے کی کلید‘ کوثر مظہری کا’افسانہ آن بان کی آزاد قرأت‘ خالد جاوید کا’طارق چھتاری کا افسانہ نیم پلیٹ:ایک تجزیہ‘ صفدر امام قادری کا ’باغ کا دروازہ:ایک تنقیدی تجزیہ‘ طارق سعید کا’افسانہ چابیاں،تخلیقی نثر اور فکشن تکنیک کی مسابقانہ رستخیز جہت‘ امتیاز احمد کا ’پوٹریٹ:ایک عام آدمی کی خاص کہانی‘ احمد رشید علیگ کا ’طارق چھتاری کے افسانے تہذیبی تصادم کا شناخت نامہ‘ معید رشیدی کا’چابیاں :متن کی تفہیم‘ وغیرہ مضامین شامل ہیں۔مذکورہ بالا تمام مضامین بہت ہی اہم ہیں اور طارق چھتاری کی تخلیقی افق کی نشاندہی کرتی ہیں ۔امید ہے کہ علمی اور ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

