Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن کے رنگ

اردو داستانوں کی عصری معنویت – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras جون 7, 2022
by adbimiras جون 7, 2022 0 comment

داستانیں زبان و ادب کا، قابلِ قدر اثاثہ ہیں۔کثیر علم و ہنر اور عمدہ زبان و بیان سے اردو داستانیں آراستہ ہیں۔علاوہ ازیں اردو داستانوں کی عصری معنویت سے گریز، زبان و ادب کے لیے مناسب بھی نہیں ہے۔اس لیے کلیم الدین احمد، اردو داستانوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ مغربی و مشرقی شعر و ادب کی روایت و رجحانات سے اچھی طرح واقف تھے اور کسی فن پارے کا جائزہ لیتے وقت وسیع تناظر خصوصاً مغرب کی ادبی معیار اور فکر و فن کے تناظر میں دیکھنا چاہتے تھے۔کلیم الدین احمد کا طریقۂ نقد تحلیل و تجزیہ پر مبنی ہے۔ نیز فکر و فن کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد انھوںنے اپنی رائے قائم کی ہے۔وہ کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتے، نہ ہی کسی فن کار کی اور نہ ہی فن پارے کی۔انھوں نے اردو شاعری اور اُردو تذکرے و تنقید کا دو ٹوک، بے باک اور تفصیلی تجزیہ کے بعد کھرے کھوٹے کو نمایاں کیاہے۔اسی طرح داستانوں پر بھی کلیم الدین احمد کا تجزیاتی مطالعہ اور تفہیم قابلِ ستائش ہے۔ ان کی کتاب’’اردو زبان اور فن داستان گوئی‘‘فکشن کی تنقید میں بے نظیر ہے۔اس کتاب سے تحریک پاکر بڑے قلم کار بھی داستانوں کی طرف متوجہ ہوئے۔اس کتاب میں کلیم الدین احمد نے کچھ منتخب داستانوں کا تنقیدی جائزہ لینے سے قبل فنِ داستان گوئی اور اس کی تکنیک سے بحث کی ہے۔عام طور پر پلاٹ، مواد، کردار نگاری،مافوق الفطرت عناصر کو داستان نگاری کے لیے اہم عناصرِ ترکیبی قرار دیا جاتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ داستانوں میں قصّہ گوئی ہوتی ہے، پلاٹ نہیں ہوتا جیسا کہ ناول اور افسانے میں ہوتاہے۔

داستان میں بالکل آزادی اور فراخ دِلی سے دلچسپ قصّے بیان کیے جاتے ہیں۔ایک قصّہ کے کئی کئی ضمنی قصّے ہوتے ہیں اور تخیل کا گھوڑا سرپت دوڑتا چلا جاتا ہے، کہیں رُکاوٹ نہیں ہوتی جس سے فن کا رکو اپنی فکری جولانیاں دِکھانے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔اس کے جوہر کھل کر سامنے آجاتے ہیں اس لیے عظیم ترین انسانی کارناموں میں سے ایک؛داستان گوئی کو بھی شمار کیا جائے گا۔کیوںکہ اس میں مطالعہ، مشاہدہ اور تخیل کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ملتا ہے جو غیرمعمولی ذہانت کی رہین ہے۔اس لیے کلیم الدین احمد داستانوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے مطابق:

’’اردو افسانوں اور ناولوں کے مقابلہ میں داستانوں کا زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔یہ ہماری ناسمجھی ہے اور لاعلمی ہے کہ ہم اس قیمتی سرمایہ کی قدر و قیمت سے بالکل واقف نہیں اور اس کی طرف کچھ توجہ نہیں کرتے اور کم قیمت افسانوں اور غزلوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔واقعہ تو یہ ہے کہ داستانوں کا جو سرمایہ اُردو میں موجود ہے(جس میں بہت کچھ ایسا بھی ہے جس سے ہمیں سنی سنائی واقفیت بھی نہیں)یہ سرمایہ کسی دوسری زبان کی داستانوں کے مقابلہ میں بلاتامل پیش کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی بلا تامل کہا جاسکتاہے کہ یہ کسی دوسری زبان کے سرمایہ کے مقابلہ میں ہیچ نہیں لیکن یہ تو اردو دنیا کا شیوہ ہے کہ اچھی چیزوں سے واقفیت نہیں اور کم قیمت چیزوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔‘‘( ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ از کلیم الدین احمد۔ص۲۰۴۔۲۰۳۔ناشر:ادارہ فروغِ اردو، امین آباد پارک، لکھنؤ۔اشاعت ۱۹۷۷)

کلیم الدین احمد کا داستانوںکی حمایت کرنے اور اہمیت دینے کا پہلا سبب میرے خیال میں یہ ہے کہ داستانیں علوم و فنون کا خزانہ ہیں۔ داستانوں میں بہت سی حکایات اور واقعات علم و دانش کے چراغ روشن کرتے ہیں اور حکمت و دانائی کی باتوں سے داستانیں بھری پڑی ہیں۔ان میں ایسے ایسے حکیم ہیں جن کے علاج و معالجے کے طریقے حیرت زدہ کردیتے ہیں۔وہ مریض کے کپڑوں کی بُو سے بھی کامیاب علاج کرتے ہیں۔بہت سارے فنون ان کے وسیلے سے رائج ہیں بلکہ فنِ سپہ گری اور فوجی طور و اطوار میں داستانیں معاون رہی ہیں کیوںکہ یہ فنون ان میں اپنے کمال پر نظر آتے ہیں۔ عیاروںکے کارنامے آج کے خفیہ محکمہ کے مماثل ہیں۔ کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:

’’خفیہ محکمہ اور اس کی کارروائیاں کوئی خیالی چیز نہیں یہ بھی ایک حربۂ جنگ ہے۔نہایت اہم اور کامیاب’’طلسم ہوش رُبا‘‘ میں بھی یہ محکمہ کارفرما ہے اور اپنی اہمیت، اپنے سارے سازو سامان کے ساتھ ۔فرق صرف یہ ہے کہ اسے خفیہ محکمہ نہیں کہتے۔اس کا نام عیّاری ہے اور اس محکمہ کے ارکان کو عیّار کہتے ہیں۔اس محکمہ’’عیاری‘‘ کے بانی اور سردار خواجہ عمرو ہیں اور اس کے اہم ارکان چالاک، برق، مہتر قرآن، جانسوز بن قرآن اور ضرغام ہیں۔عموماً ان عیاروں کی عیاری پر ہم ہنستے ہیں اور انھیں خیالی باتوں جن و پری کے افسانوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے لیکن فنّی نقائص سے قطعِ نظر یہ عیاری کا سلسلہ موجودہ اقوام کے خفیہ محکموں سے کس قدر مشابہ ہے۔‘‘ ( ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ از کلیم الدین احمد ص۶۵۳)

اردو داستانوں کی حمایت کرنے کی دوسری وجہ کلیم الدین احمد کے نزدیک اس کا فن ہے۔ جہاں داستانوں میں مواد کا بکھراؤ، پلاٹ کا ڈھیلاپن، کرداروںکی مثالیت، جن، دیوی، پری وغیرہ کی شمولیت اور نہایت بلیغ چمچماتی زبان و بیان کو ناقدین نے داستان کی کمزوری قرار دیا ہے اور قصّہ کی بنیاد واقعیت اور حقیقت کے بجائے تخیل و تعلّی کو بنانے پر سخت اعتراض کیا ہے بلکہ اس کے مطالعہ کو تضیع اوقات بتایا ہے۔وہیں کلیم الدین احمدنے داستان گوئی کو ایک بہترین فن قرار دیا ہے کیوںکہ وہاں کوئی بندش نہیں ہے۔ قلم کار کو اپنے افکار کی حد متعین نہیں کرنا ہے جس طرح ناول یا افسانے میں ہوتا ہے۔ پلاٹ کے دائرے میں سوچنے کی پابندی ختم ہوجاتی ہے۔داستانوں میں ایک زندگی نہیں ایک زمانہ سامنے پھیلا ہوتا ہے اور زمانے کے تمام نشیب و فراز اور تہذیب و ثقافت اور ایک ملک کے بجائے کئی ممالک کے معاملات و مسائل داستانوں میں ڈھل جاتے ہیں جس کی وجہ سے مواد میں بکھراؤ آنا لازمی ہے۔ظاہر ہے اس پھیلاؤ کو ایک ذہین ترین فنکار ہی سنبھال سکتا ہے اور اس پھیلاؤ کو سنبھالنے اور دلچسپ بنانے میں مافوق الفطرت عناصرمعاون ہوتے ہیں۔

داستانوں میں جن، دیو اور پریاں انسانوں کی طرح فکر و عمل کرتے نظر آتے ہیں اور کلیم الدین احمد نے جن، دیو، پری، جادوگر وغیرہ کو انسانوں سے زیادہ ترقی یافتہ گردانا ہے، کیوں؟اور کیسے؟حقیقتاً کوئی فن کار یاقلم کار نہ تو جن، دیو، پری سے ملا ہے اور نہ ہی آج کے سائنسی دور میں اس کی توقع کی جاسکتی ہے پھر بھی ان مافوق الفطرت ہستیوں کے توسط سے ایسے ایسے واقعات تحریر کردینا کہ وہ حقیقی معلوم ہوں؛انسان کی قوتِ متخیّلہ کی دین ہے جس کو قدرت نے آدمی کو عطا کیاہے اور اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کائنات(Sphere)میں جو کچھ موجود ہے، انسانی تصور اس کی حد نہیں پار کرسکتا۔ابھی انسان اس مقام پر نظر نہیں آتا کہ کہہ اُٹھے’’اب کہاں تصور کا دوسرا قدم یارب۔۔۔‘‘کیوںکہ ابھی اس Sphere   (عالم) کے اسرار و رموز انسانوں پر آشکار ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔لہٰذا انسان نے جو کچھ بھی تصور کیا ہے اور غور و فکر کے بعد وہ عمل گاہوں سے گزرا تو ایسی ایسی ایجادات منظرِ عام پر آئی ہیں اور آرہی ہیں کہ خود انسان دم بخود ہے۔ کچھ داستانوی واقعات کو کلیم الدین احمد نے عصری تناظر میں پیش کیاہے جس کا مطالعہ قابلِ غور ہے اور دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

’’آپ جادو کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو جادو کا حقیقت و واقعیت کی روشنی میں مطالعہ کیجیے۔ جادوگر جادو کرتے ہیں تو سفید و سرخ، سیاہ یا زرد رنگ کے ابر نمودارہوتے ہیں اور ان سے کبھی تیر و خنجر برستے ہیں تو کبھی آگ برستی ہے۔ ایسی بوندیں پڑتی ہیں جن سے ہوش گم ہوجاتے ہیں یا جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔آج طرح طرح کے ہوائی جہاز آسمان پر بادل کی طرح چھا جاتے ہیں اور کبھی پھٹنے والے گولے برساتے ہیں تو کبھی آگ یا کسی زہریلی گیس کی بارش کرتے ہیں۔ نتیجہ واحد ہے۔ جادوگر اپنے جادو سے ایک ایسا عفریت طلسمی اژدھا بناتے ہیں جو لوگوںکو کھاجاتا ہے اور کوئی حربہ اس پر اثر نہیں کرتا۔آج ٹینک عفریت طلسمی یا اژدہے سے خونخواری دِکھاتے ہیں۔ جادوگر ایسا گولہ پھینک مارتے ہیں جو مخالف کے سینے کے پار ہوجاتا ہے۔آج دستی بم اس سے زیادہ پُرزور ثابت ہوتے ہیں۔جادوگر اپنے یا اپنی فوج کے گرد ایک حصار کھینچ دیتے ہیں کہ ان کے دشمن اس حصار کے اندر نہ آسکیں۔آج ہم ’’مترنیولائن‘‘ بناتے ہیں۔ جادوگر اپنے سحر سے ایک طائر بناتے ہیں اور یہ طائر سحر سینکڑوں میل ایک لمحہ میں طے کرکے ضروری خبریں پہنچاتا ہے آج وائرلیس سے یہ کام لیا جاتا ہے۔طوالت مانع آتی ہے ورنہ اس قسم کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ظاہر ہے کہ وہ تعجب خیز و ناقابلِ یقین باتیں جنھیں ہم خواب و خیال سے زیادہ نہیں سمجھتے تھے حقیقت میں تعجب خیز و ناقابلِ یقین نہیں۔یہ حیرت میں ڈالنے والے شعبدے اب شعبدے نہیں رہے۔سائنس کی معمولی ایجادیں ہیں۔ یعنی جن خیالی چیزوں کو اگلے مصنفین نے زورِ تخیل سے پیدا کیا تھا اور جو ہمیں استعجاب میں ڈالتی تھیں، انھیں سائنس نے واقعیت کا جامہ پہنادیا ہے۔ گویا ایک خواب تھا جو حقیقت سے بدل گیا ہے۔‘‘ ( ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ از کلیم الدین احمد۔ص۷۷۔۷۶)

کلیم الدین احمد نے تخیل و تعلّی پر مبنی داستانیں ’’طلسم ہوش رُبا‘‘، ’’بوستانِ خیال‘‘، ’’باغ وبہار‘‘، ’’آرائشِ محفل‘‘ اور ’’فسانۂ عجائب‘‘ کے ساتھ دو منظوم داستانیں’’مثنوی سحر البیان‘‘ اور ’’گلزارِ نسیم‘‘ کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ اور تحلیل و تجزیہ کیا ہے۔ ان کی تفہیم واضح اور داستانوںکے حوالے سے رائے دو ٹوک ہے اور وہ ان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔حقیقتاً داستانوں میں ایک عہد نہیں ایک زمانہ کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ ایک فرد یا چند افراد کے بجائے پورے سماج کے لوگ  اور ان کی کارگزاریاں دکھائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے کرداروں کی کثرت ملتی ہے اور ہر نوعیت کے کردار نظر آتے ہیں۔ہر پیشہ اور ہر ہنر کے کردار اپنے اوصاف کے ساتھ بحسن و خوبی اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے نظر آتے ہیں پھر بھی ناقدین کے ہدف بنتے ہیں کہ داستانوں میں مثالی کردار نگاری ملتی ہے۔دراصل داستانوں کے مرکزی کردار عموماً بادشاہ، شہزادے اور شہزادیاں ہوتی ہیں جن کے ظاہری اور باطنی اوصاف پر داستان گو خصوصی توجہ دیتا ہے۔ان کی شخصیت میں انسان کے سارے اخلاقی محاسن موجود ہیں نیز وہ بہت ساری غیبی قوتوں کے حامل بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو پے در پے کامیابی و کامرانی بھی نصیب ہوتی ہے۔ غالباً داستان گو ان کے توسط سے پیغام دینا چاہتا ہے کہ اچھائی اور انسانیت نواز افراد کی زندگی خدمتِ خلق کے لیے ہوتی ہے اس لیے ان کے معاونین بھی بہت ساری خوبیوں سے مملو ہیں۔ نہ ختم ہونے والی داستان’’امیر حمزہ‘‘ کی ایک کڑی ’’طلسم ہوش رُبا‘‘کا ایک مطالعہ و تجزیہ بڑ ی سنجیدگی سے کلیم الدین احمد نے کی ہے اور تخیلی واقعات و کردار کو تاریخی واقعات و کردار سے تقابل کرکے ایسی مثالیں دی ہیں جو قاری کو غور و فکر کی مزید دعوت دیتی ہے کہ کس طرح داستانوں کے بنیادی کردار اپنی اولو العزمی، جرأت و ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خطروں سے آنکھیں چار کرکے نامور بنتے ہیں۔ اپنی شجاعت اور خوبیوں کی بدولت بلند مرتبہ حاصل کرتے ہیں اور نااہل اپنے ملک اور مال و دولت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔طلسمی فتوحات کا سلسلہ جاری رہتاہے اور عالی ہمتی کا راستہ محدود نہیں ہوتا۔

’’داستانِ امیرحمزہ‘‘ کو کلیم الدین احمد نے اردو داستان گوئی کی معراج قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ اس ختم نہ ہونے والی داستان کو پڑھنے اور اس کا جائزہ لینے کے لیے کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے۔ انھوںنے خود اس کی ایک کڑی ’’طلسم ہوش رُبا‘‘ کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے اور اس کی اہمیت و افادیت کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’طلسم ہوش رُبا‘‘ کی سات ضخیم جلدیں ہیں اور ان میں واقعات کی تکرار بھی ملتی ہے لہٰذا اس کو ایڈٹ کرکے تین چار جلدوں میں ایک اچھا انتخاب تیار کرنا چاہیے تاکہ قارئین اس سے لطف اندوز ہوسکیں اور قلم کار اس کے مطالعہ سے اپنے قوتِ متخیّلہ کو جِلا دیں۔ ان کی فکر میں وسعت آئے، بیان میں روانی اور زبان میں شگفتگی پیدا ہو، لیکن طوالت کی وجہ سے بہت سے قاری اس کا مطالعہ نہیں کرتے اور قلم کار بھی اس کا مطالعہ لاحاصل سمجھتے ہیں جب کہ کلیم الدین احمد کے مطابق:

’’داستان گوئی اب زندہ فن نہ سہی لیکن کامیاب داستانیں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گی۔ انھیں ہم مردہ سمجھ کر دفن نہیں کرسکتے۔ خصوصاً اردو میں کامیاب ادب کا سرمایہ کچھ اتنا زیادہ نہیں کہ ہم ان داستانوں کو حقیر سمجھ کر انھیں ادب کے زمرے سے خالی کردیں۔‘‘ ( ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ از کلیم الدین احمد۔ ص۹۷۔۱۹۶)

ایک نقطۂ نظر سے داستان گوئی کو مردہ فن نہیں قرار دیا جاسکتا کیوںکہ داستان بھی معاشرتی زندگی سے وابستہ ہے اور کہانی کی ایک اہم قسم ہے۔ نیز انسانوں کی کہانی سے سماجی زندگی کے ابتدائی دنوں سے لگاؤ رہا ہے اس لیے جب تک انسانی زندگی اور اس کے متعلقات رہیں گے اس وقت تک داستانیں لکھی جاسکتی ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ داستانوں کے لیے مافوق الفطرت ہستیاں لازم ہیں اور آج کے سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں جن، دیو، پری، جادو ٹونا پر کون یقین کرے گا۔ غور فرمائیں تو سائنس و ٹیکنالوجی کے کرشمے سے آج کا انسان حیرت زدہ ہے۔ روبوٹ اور الیکٹرونک ڈِواسیز جس طرح پلک جھپکتے اپنے کام کو انجام دے رہے ہیں، بالکل اُسی طرح داستانوں میں جِن، پری، دیو، راکشش، اژدہا وغیرہ اپنے کارنامے انجام دیتے ہیں۔علاوہ ازیں سائنسی ایجادات کے لیے جو تجربہ گاہ تیار کیے جاتے ہیں، وہ عام عوام کے لیے طلسمی نگارخانہ کے مماثل ہیں جس کا مطالعہ دلچسپی کا باعث بھی ہے اور عام معلومات کے لیے عصری تقاضہ بھی۔ اس کی ایک جھلک ناول’’پانی‘‘ میں دیکھنے کو ملتا ہے جو تصور پر مبنی ہے۔ لہٰذا آج کی داستانیں تصور و تفکر کے ساتھ وسیع مطالعے کے متقاضی ہیں۔ اس کے لیے بہت سارے علوم و فنون سے واقفیت ضروری ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں جو داستانیں لکھی گئی ہیں، وہ بھی تخیلات و تصورات کے ساتھ اپنے عہد کے علوم و فنون سے آراستہ اور قاری کو متحیر کرتی ہیں اور ان کے کرشمائی علوم کو دیکھتے ہوئے ان پر رشک ہوتا ہے۔بلاشبہ سائنس اور ٹکنالوجی کے اس دور میں داستان تحریر کرنا قدرے مشکل ہے کیوں کہ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے وسیلے سے پوری دنیا کے وہ خطے جن کو پُراسرار بناکر داستانوں میں استعجاب، سنسنی اور دلچسپی پیدا کی جاتی ہیں، جن کے مطالعے میں قاری محو ہوجاتے ہیں؛ عام طور پر آشکار ہوگئے ہیں۔ ہاں! سائنسی و تکنیکی مہام کو محور بناکر خواص و عوام کو متوجہ کیا جاسکتا ہے جس کے لیے وسیع علم و ہنر درکار ہیں۔یہ صرف تصور سے ممکن نہیں۔ بہرکیف! داستان گوئی نہ کل آسان تھی اور نہ آج ؛اس کے لیے نابغۂ روزگار ہوناشرط ہے۔

 

پروفیسر عبدالبرکات

Prof. Abdul Barkat

Muzaffarpur (Bihar)

Mob. : 8210281400

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پرندہ پکڑنے والی گاڑی / غیاث احمد گدّی – غضنفر
اگلی پوسٹ
مساجد کا تحفظ اور اس کا طریقۂ کار – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

یہ بھی پڑھیں

پریم چند کی فکری اور تخلیقی روایت –...

اپریل 12, 2025

داستان کی روایت : ایک مجمل جائزہ –...

اکتوبر 15, 2022

داستان کی اسطوری فضا اورتخلیقی عمل – ڈاکٹر...

اکتوبر 11, 2022

اردو میں افسانچہ نگاری کا تحقیقی و تنقیدی...

مارچ 25, 2022

قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین: ایک...

فروری 16, 2022

1960کے بعد مغربی بنگال میں اردو فکشن –...

جنوری 14, 2022

اردو داستانوں کی حمایت میں کلیم الدین احمد...

نومبر 10, 2021

باغ و بہار میں اساطیری اور دیومالائی عناصر...

اکتوبر 11, 2021

بلراج مین را : افسردگی کا راز –...

اکتوبر 8, 2021

منٹو وارث علوی کی نظر میں – امتیاز...

جولائی 24, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں