پرندہ پکڑنے والی گاڑی ان افسانوی گاڑیوں،لاریوں اور سواریوں میں شامل ہے جو شاہراہِ ادب پر خوب دوڑیں ، تیز دوڑیں۔ مسلسل دوڑیں ۔ کبھی رکی نہیں کبھی بند نہیں ہوئییں ۔ جن کے پہیے نہیں گھسے ۔ پرزے ڈھیلے نہیں پڑے ۔ موبل آئل خراب نہیں ہوا ۔جن کی کبھی بریک فیل نہیں ہوئی اور جو آج بھی اسی فُل اسپیڈ سے دوڑ رہی ہیں اور جن کے چلنے کی آوازیں آج بھی دور تک سنائی دیتی ہیں ۔
پرندہ پکڑنے والی گاڑی اپنے پہلے ہی پگ کی چاپ (آہٹ) سے سماعتوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ہم ریل گاڑی، گھوڑا گاڑی،بیل گاڑی،چھکڑا گاڑی،مال گاڑی وغیرہ کے نام تو سنتے آۓ ہیں مگر یہ کون سی گاڑی ہے جو انسانوں کو ڈھونے اور ان کو منزلوں تک پہنچانے کے بجاۓ پکڑنے کا کام کرتی ہے،وہ بھی کتُوں بلٰیوں کو نہیں پرندوں کو؟ لہٰذا پہلے قدم پر ہی ہم چونک پڑتے ہیں ۔آنکھیں وہ عجیب و غریب اور انوکھی گاڑی دیکھنے کے لیے بے تاب ہوجاتی ہیں۔ذہن اس گاڑی کا مقصد جاننے کے لیے بے چین ہو اٹھتا ہے۔ اور ہم بنا دیر کیے افسانے میں کود پڑتے ہیں۔ تو اس طرح یہ کہانی اپنے پہلے قدم سے ہی کمال دکھانا شروع کر دیتی ہے۔
گاڑی کیسی ہے اس کی جھلک تو پہلے۔ ہی پراگراف میں ہمیں دکھائی دے جاتی ہے:
"یہ گاڑی چاروں طرف سے رنگین شیشوں سے بند ہےحد خوبصورت ہوتی کہ نگاہ اٹھ کے داد دیتی۔اس کے چاروں طرف ننھی ننھی گھنٹیاں بندھی ہوتیں جو چلتے وقت
دھیرے دھیرے بج رہی ہوتیں۔گھنٹیوں کی آواز عجیب و غریب ہوتی۔کچھ ایسی جیسے کوئی سحر پھونک رہا ہو۔ ایک لمبا خمیدہ کمر زرد رو آدمی گاڑی کھینچ رہا ہوتا۔بانس کے سرے پر برش جیسا گچّھا سا ہوتا جس پر گوند یا اسی طرح کی چپک جانے والی رس دار رطوبت لگی ہوتی۔جس سے وہ پرندوں کو پکڑتا تھا۔ ”
گاڑی کی یہ جھلک قاری کو اورمتجسس کر دیتی ہے اور دنا دن سوالوں کے کئی گولے دا غ دیتی ہے یا چھوڑ دیتی ہے۔
_ اس رنگین گاڑی کا گاڑی بان،لمبا خمیدہ کمر اور زرد رو کیوں ہے؟ یہ گاڑی پرندے کیوں پکڑتی ہے؟ پرندے آوارہ کتّے تو ہیں نہیں کہ جن سے شہریوں کو خطرہ ہو اور جنھیں میونسپلٹی کی گاڑی پکڑ کر لے جاۓ؟ یہ گاڑی پرندے کیوں پکڑتی ہے؟ ان پرندوں کو کیا کرتی ہے؟ پھر یہ گاڑی کس کی ہے؟ سر کاری ہے یا کسی پرائیویٹ کمپنی کی ہے ؟ رنگین شیشوں سے سجا کر اس کو بے حد خوبصورت کیوں بنایا گیا ہے۔؟ اس میں عجیب و غریب اور پرکشش آوازیں نکالنے والی گھنٹیاں کیوں باندھی گئی ہیں ؟
ہم ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے تیز تیز چلنے لگتے ہیں جبکہ وہ گاڑی نہایت مست رفتار سے ہولے ہولے چل رہی ہوتی ہے۔
آگے بڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ گاڑی کے پیچھے چلنے والا آدمی اپنے ہاتھ کے بانس جس کی لمبائی کافی زیادہ ہے اور جس کی پھنگی یعنی آخری سرے پر ایک برش جیسا گچھا بنا ہوا ہے اورجس گچھے میں لسّہ یعنی گوند لگا ہوا ہے،سے پرندوں کو پکڑتا ہے اور پکڑ کر انھیں اس گاڑی میں ڈال دیتا ہے۔ اس کام کے لیے گاڑی دن بھر مختلف محلوں سے گزرتی ہے۔اور گلی محلوں میں گھوم گھوم کر طرح طرح کے رنگ برنگے پرندے پکڑا کرتی ہے۔
ہم گاڑی کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ راہ میں طرح طرح کے مناظر آتے ہیں جنھیں دیکھ دیکھ کر ہمرا تجسس اور بڑھتا جاتا ہے۔ بیچ بیچ میں راوی کچھ دلچسپ اور تعجب خیز واقعات بھی سناتا جاتا ہے جو ہمارے ذہن و دل کو ایڑ لگاتے ہیں اور ہم انجام جاننے کے لیے اور بھی مضطرب ہو جاتے ہیں ۔
راوی جو دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات سناتا ہے ان میں ایک بچے کی بیمار بہن، اسکے ماہ لقا کبوتر،اس کی ماچس کی ڈبیا میں بند تتلی، کوٹھے کی منّی،منّی کے مٹّھو اور جلیبی والے حلوائی سے راوی کی ہونے والی بات چیت کے قصے بھی شامل ہیں۔
اس طرح پرندہ پکڑنے والی گاڑی کا دن بھرکا معمول پورا ہوتا ہے اور کہانی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے اورانجام سامنے آ جاتا ہے ۔
ہمارے کچھ سوالوں کا جواب یہ ملتا ہے کہ یہ گاڑی رنگین ،خوبصورت اور پرکشش آوازوں سے پر اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ سماعتوں اور بصارتوں کو اپنے میں الجھا سکے۔انھیں یہ موقع نہ مل سکے کہ وہ کچھ اور دیکھ سکیں ۔کچھ اور سن سکیں۔ وہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ کسی کے پر کسی پھندے میں پھنس گئے ہیں ۔ کوئی بند پنجرے میں پھڑپھڑا رہا ہے۔ کوئی یہ نہ سن سکے کہ کہیں سے کسی کے چھٹپٹانے کی آواز آ رہی ہے۔ کسی کے گلا بھنچنے کی صدائیں گونج رہی ہیں ۔ یہ اہتمام اس لیے کیا گیا ہے کہ مقاصد کے حصول میں
کوئی اڑچن نہ آ جاۓ ۔کوئی رخنہ نہ پڑ جاۓ ۔ کوئی صداۓ احتجاج نہ بلند کر دے۔ اور اگر کوئی آواز اٹھاتا بھی ہے تو اس کے آگے اتنے سکًے اچھال دیے جائیں کہ ان کی کھنک سے سماعت ایسی مست ہو جاۓ کہ کہ منہ کھولنا بھی چاہیں تو نہ کھل سکے۔گویا ایسا فن کارانہ بلکہ شاطرانہ کہنا چاہیے ،نظام بنایا گیا ہے کہ مقصد کے حصول میں کسی طرح کی کوئی دشواری نہ آۓ۔مدعا کا پرندہ آسانی سے دام میں آ جاۓ۔
یہ تو رہیں کچھ خاص خاص باتیں جن کی باہمی آمیزش یا منطقی ترتیب سے یہ کہانی بنتی ہے کہ ایک گاڑی شہر میں داخل ہوتی ہے۔مختلف علاقوں میں گھوم گھوم کر کچھ رنگ برنگے پرندے پکڑتی ہے ۔انھیں ایک خاص طرح کی گاڑی میں بھر کر شہر سے باہر لے کر چلی جاتی ہے۔ اور ےجو پرندے پکڑے جاتے ہیں ان میں کبوتر، طوطا ، مینا ،بلبل، قمری گوریا نیل کنٹھ وغیرہ شامل ہیں۔ان میں،زیادہ تر وہ پرندے ہیں جن کی منقارو ں سے خوش الحان آوازیں نکلتی تھیں اور پروں سے رنگ پھوٹتے تھے۔۔ ان آوازوں سے کائنات کی فضاؤں میں موسیقی گھلتی تھی۔ رنگوں سے سنسار کو رنگینی و رعنائی ملتی تھی۔جن کے دم سے جبینیں دمکتی تھیں۔ جن کے نور سے آنکھیں چمکتی تھیں ۔ جن کے سُروں سے سرور ملتا تھا۔ جن کے زیر و بم سے چاروں طرف چہروں پرپھول کھلتا تھا۔
مگر یہ رنگ ،نور ،سُر سب قید کر دیے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کو قید ہونے سے کسی نے نہیں روکا۔سب اپنے اپنے کاروبار میں لگے رہے۔اپنے اپنے نفع نقصان کے چکّر میں پڑے رہے۔اپنے اپنے محدود دائروں میں سمٹے رہے۔یہ نہیں دیکھا کہ مہ لقا کبوتر اگر چلا گیا تو ایک بیمار بچی کی جان چلی جاۓ گی۔ان پرندوں کے جانے کی فکر کچھ لوگوں کو ستاتی رہی مگر دھیرے دھیرے وہ بھی تھک ہار کر بیٹھ گئے یا وہ بھی بے حس ہو کر رہ گئے۔
ہماری تنقید اس روش پر چل پڑی ہے کہ کہانی کے صرف معنی کو پکڑنا ہے یا زیادہ سے زیادہ زبان کی کچھ غلطیوں کو پکڑ میں لانا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ معنی و مفہوم کے ساتھ ساتھ ہماری نگاہیں کہانی کہنے کے ڈھنگ پر بھی جاتیں ۔زبان و بیان کے حسن پر بھی ٹھہرتیں۔ جملوں کے در و بست سے قائم ہونے والے لسانی توازن اور اس سے پھوٹنے والی تخلیقی شفق پر بھی رکتیں ۔ سمجھتیں اور سمجھاتیں کہ کہاں کہاں پر فن کے فوّارے چھوٹے ہیں؟ ۔کس کس جگہ سے تخلیقی آبشار پھوٹے ہیں۔؟ کس کس مقام پر کس کس اسلوب کی دھنک تنی ہے اور اس سے جن رنگوں کی شعاعیں نکلتی ہیں وہ کیسی ہیں؟ کہاں گاڑھی ہیں اور کدھر مدّھم ہیں؟ اس کہانی میں یہ جملے :
” تو بابو ! جلیبیوں کا یہ رس جو مکھیاں چوستی ہیں تو رس اور مکھّیاں کہاں جاتی ہیں،ذرا اتنا تو بتاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حلوائی فیصلہ کن لہجے میں بولا،
” رس مکھیوں کے پیٹ میں اور مکھیاں جلیبیوں کے ساتھ پلڑے پر۔۔ سمجھ گئے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ماچس کی ڈبیا میں میری آنکھوں کے سامنے ایک بے حد خوش رنگ تتلی نیم جان سی پڑی تھی جو باہر کی ہوا اور دھوپ لگتے ہی پھڑپھڑانے لگی۔اس کے ننھے پروں کے ارد گرد زعفرانی رنگ بکھرا ہوا تھا۔اور پروں کے عین درمیان زیرہ کے برابر سرخی تھی۔اور اس سرخی کے چاروں طرف گلابی رنگ چھٹکا ہوا تھا
اور پروں کے کناروں پر افشاں چمک رہی تھی۔ڈوبتے سورج کی روشنی میں وہ بے حد حسین دکھ رہی تھی۔ ”
کس طرح کا جلوہ دکھا رہے ہیں؟ فن کے کیسے کیسے موتی لٹا رہے ہیں؟ زندگی کی کیسی کیسی بلیغ اور معنی خیز تصویریں بنا رہے ہیں ؟
کاش ہم دیکھ پاتے کہ ان مکھی اور جلیبی والے جملوں میں کتنا مکھن ہے۔؟ کتنی ملائی ہے؟ کتنے میوے پڑے ہوۓ ہیں ؟ رس گلّوں کا کتنا رس گھلا ہوا ہے؟ ان جملوں میں کیسے کیسے رنگ ہیں؟ ۔کیسا کیسا نور ہے؟ ان رنگوں سے کیسی کیسی شعاعیں پھوٹ رہی ہیں؟ ان کے لمس سے لبوں پر کیسی کیسی تتلیاں بیٹھ رہی ہیں؟ ان سے مور نکل کر کیسا کیسا رقص دکھا رہے ہیں؟
غیاث احمد گدّی نے اپنی اس افسانوی گاڑی میں ایسی سبک، خوبصورت اور پرسوز کہانی سوار کر دی ہے اور جزئیات نگاری کے وہ وہ کمالات دکھاۓ ہیں کہ ایک ایک بیان، ایک ایک جملے ،ایک ایک منظر،ایک ایک نکتے پر بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ انھوں نے منی بائی کے پیشے اور کہانی کے دھندے کے موازنے سے ادب و فن کی نا قدری کا وہ مذاق اڑایا ہے،کہ قدروں کی دھجیاں روئی کے گالوں کی طرح بکھر گئی ہیں۔ مادہ پرستی کے آگے علم و فن کی کیا حیثیت ہے اور پیٹ کی بھوک کی آگ روح کی ضرورت کو کس طرح جلا کر خاک اور زندگی کے باقی سارے رنگوں کو راکھ کر دیتی ہے اس کی ایسی ایسی پرکشش تصویرکھینچی ہیں کہ انھیں دیکھ کر آنکھوں میں لہو اتر آتا ہے۔
ایسی صاف شفّاف اور سفّاک پیکر بناۓ ہیں کہ جن سے نہاں خانوں کے منظر بھی اجاگر ہوجاتے ہیں۔ پرندوں کو پکڑنے والے کون ہیں؟ پرندوں کی چھٹپٹاہٹ کو دیکھ کر کیوں ان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو جاتی ہے،سب کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ایک ایک سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ ایک ایک بات اور ایک ایک ہونی کا جواز سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بچے کی ماچس کی ڈبیا میں بند رنگین تتلی کے نکل جانے کے غم کا تصور بھی متشکل ہو جاتا ہے اور فن کار کے سینے کا دکھ اور اداسی کا سبب بھی متجسم ہو کر نگاہوں میں آ جاتا ہے۔
یہ گاڑی آج بھی شہروں شہروں،قصبوں قصبوں، قریوں قریوں،گاؤوں گاؤوں گھوم گھوم کر پرندے پکڑنے میں مصروف ہے۔اپنی پھنگی کے گچھے میں گوند یا کوئی لس دار مادّہ لپیٹے منڈیروں،میناروں، چھتوں ،کھمبوں وغیرہ پر بیٹھے معصوم،خوش رنگ ، خوش بیان ، خوش جمال اورخوش خصال پرندوں کو چپکاتی پھر رہی ہے۔ انھیں اپنے اندر قید کرتی جا رہی ہے۔دنیا ان کی چھٹپٹاہٹ کو دیکھ بھی رہی ہے مگر وہ کچھ نہیں کرتی۔ اپنے کاروبار میں مگن اور مصروف رہتی ہے۔اگر کوئی اس جانب ملتفت ہوتا بھی ہے تو اس کے آگے چمچماتے ہوۓ سکّے بکھیر دیے جاتے ہیں اور وہ ان سکوں کو سمیٹنے میں ایسا منہمک ہو جاتا ہے کہ اسے کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔وہ سب کچھ بھول جاتا ہے
یہ پرندے کیا ہیں؟یہ در اصل وہ قابلِ قدر انسانی قدریں ہیں جو حیات و کائنات کی رگوں میں رس گھولتی ہیں۔کسی قدر کے نرم پروں کے کے لمس سے بے حس و حرکت جسموں میں جان پڑتی ہے۔ کسی کے قرب سے کسی ٹھکرائی ، تھکی اور ٹھٹھکی ہوئی منّی کی زندگی کو امید و آس کی راہ اور رفتار ملتی ہے۔ کسی کا نور کسی کے دل میں درد مندی کی جوت جگاتا ہے۔ اور کسی کا لمس کسی کے اضطراب کو اطمینان میں بدل دیتا ہے۔ کسی کا رنگ کسی میں تتلی کے رنگوں کو محفوظ کرلینے کا جذبہ بھرتا ہے۔ کسی کا زور کسی کو دن دن بھر اداس رکھتا ہے ۔اس سے کہانی لکھواتا ہے اور اس کہانی کے عوض ملی اجرت کو کسی ضرورت مند کو بنا کسی غرض اور لالچ کے دلوا دیتا ہے۔
مگر افسوس کہ خوش رنگ قدروں کے
پرندے ایک رنگین گاڑی کے زرد و سیاہ رو گاڑی بانوں کے ہاتھوں میں تھمے اس بانس کی زد پر ہیں جس کے اوپری سرے پر بنے گچھے میں بہت سارا لس دار چپچپا مادہ بھرا پڑا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

