Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن کے رنگنصابی مواد

باغ و بہار میں اساطیری اور دیومالائی عناصر – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

by adbimiras اکتوبر 11, 2021
by adbimiras اکتوبر 11, 2021 0 comment

باغ وبہار دوسال سے زائد عرصہ پہلے، پہلی بار منظر عام پر آئی۔فورٹ ولیم کالج کواگر کسی کتاب نے دوام بخشا ہے تو وہ یہی کتاب (باغ وبہار)ہے۔اگر داستانوں کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ داستانیں خیرو شرسے مجتہد ہیں۔کہیں خیر غالب ہے تو کہیں شر۔لیکن انجام کار وہ یقینا خیر کی برتری کے طور پر ہوتا ہے۔باغ وبہار کومیر امن نے اپنے بیانیہ انداز سے اور بھی زیادہ پر کشش بنا دیا ہے۔ادبی فن پارہ وہ سماج کا آئینہ اور اپنے زمانے کی تاریخ کا حصہ بھی ہوتا ہے۔ تہذیبی اقدار ہمیں ان داستانوں میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔اگر ان داستانوں میں اساطیری حوالے سے گفتگو کی جائے تو جگہ جگہ ہمیں ایسی چیزوں کی طرف اشارہ ملتا ہے، جس کا تعلق حقیقت سے نہ ہوتے ہوئے بھی حقیقت معلوم ہوتا ہے۔دراصل اساطیر کہتے بھی اسی کو ہیں۔جہاں تک سوال دیو مالائی عناصر کا ہے تو داستانوں میں پریوں کا ذکر وہ داستان کا لازم حصہ ہوتا ہے۔اس اعتبار سے اگر ہم ادب پارے کا مطالعہ کریں تو ہمیں حالی کی’مجالس النسا‘میں بھی ایسی بہت سی چیزیںمل جاتی ہیں، جن کا تعلق حقیقت سے نہیں ہے، باوجود اس کے لوگوں کی عقیدت اٹوٹ ہے۔اس تناظر میں’باغ وبہار‘کا مطالعہ اسی بات پر باور کرانا ہے۔اس کے اندر تہذیبی اقدار کے ساتھ ساتھ بہت سی ایسی چیزوں کا بھی دخل ہے، جو ہمیں اس داستان کے مطالعے پر مجبور کرتی ہیں۔

دیووں، پریوں اور جناتوں کا جو تصور ہے، ان کے تعلق سے جس طرح سے داستانوں میں بیان کیا گیا ہے، وہ ایک مفروضہ نہیں، بلکہ اصل کی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن جو خیال ان کے تعلق سے پیش کیا گیا ہے، وہ کبھی کبھی خیال سے بالاتر ہوتا ہے۔کیونکہ جب یہ لوگ کسی کے ماتحت اپنے فرائض انجام دے رہے ہیںتو ان سے جو کچھ بھی عرض کیا جائے وہ فورا حاضر ہے۔ وہ ہوا کے دوش بدوش اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔داستانوں کو دیو مالائی عناصر ہی سے دلچسپ بنایا جاتا رہا ہے۔داستانوں میں ان عناصر کو بہت طاقتور بنا کر پیش کیا جاتا ہے، باوجود اس کے وہ انسان کے ما تحت اپنی زندگی کو ایک عذاب کی طرح گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ایک جگہ میر امن نے لکھا ہے:

’’ملک شہبال نے سن کر کہا:بہ سرو چشم، میں تمہارے فرمانے سے قاصر نہیں۔یہ کہہ کر، نگاہ گرم سے دیووںاور پریوں کی طرف دیکھا اور بڑے بڑے جن، جو جہاں سردار تھے، ان کو نامے لکھے کہ اس فرمان کو دیکھتے ہی اپنے تئیں حضور پر نور میں حاضر کرو۔اگر کسی کے آنے میں توقف ہوگا، تو اپنی سزاپاوے گا اور پکڑا ہوا آوے گا۔اور آدم زاد ، خواہ عورت خواہ مرد، جس کے پاس ہو، اسے اپنے ساتھ لیے آوے۔اگر کوئی پوشیدہ کر رکھے گا اور نظر ثانی الحال ظاہر ہوگا، تو اس کا زن و بچہ کولھو میں پیڑا جائے گا اور اس کا نام نشان باقی نہ رہے گا۔‘‘

باغ وبہار۔مرتب، رشید حسن خاں۔انجمن ترقی اردو(ہند)نئی دہلی۔1999ص،244

درج بالا اقتباس کو بغور پڑھا جائے تو اندازہ ہوتا کہ باغ وبہار میں دوسری مخلوق کو اس طرح سے نہیں پیش کیاگیا ہے، جس طرح سے دوسری داستانوں میں۔کیونکہ اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دیو، پری اور جن جس بادشاہ کے تحت اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، یہاں بادشاہ اپنے ،ما تحت کوخط لکھتا ہے، جبکہ عام طور پر ان لوگوں کی حاضر ی کے لیے کوئی علامت ہوتی ہے، کسی پتھر کو مخصوص جگہ رگڑنے پر جن حاضر ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔لیکن یہاں معاملہ بالکل مختلف ہے۔جب کہ جناتوں اور پریوں کو چھپایا بھی جاسکتاہے اور ان کے اندر وہ صلاحیت بھی موجودہے کہ وہ خود کوروپوش کر لیں۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے بچوں اور ان کی عورتوں کو کولھو میں پیڑا جائے۔جب کہ اولاد ایک ایسی چیز ہے، جس سے ہر کوئی ہار جاتا ہے۔اس کی محبت میں سب کچھ نچھاور کر جاتا ہے۔لیکن یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔پھر یہ کہ جنات یا دوسرے لوگ جو بادشاہ کے ماتحت ہیں وہ آنے میں توفق کیوں کریں گے۔اور جس کام کا حکم ہوا ہے اس کے نہ ہونے کا شبہہ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ داستان کی دلچسپی کی سب سے بڑی علامت ہے کہ ان لوگوں کے ذریعے بادشاہ عام طور پر ہر کام بڑی آسانی سے کر لیتا ہے۔لیکن دیو، پری اور جنات کو ایک انسانی خدو خال میں پیش کیا گیا ہے، حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں ہے۔جب کہ اسی حصے میں آگے پریوں کو اسی روپ میں دکھایا گیا ہے، جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ’’باغ وبہار‘‘کے نسوانی کردار :ایک ڈسکورس -ڈاکٹرارشاد شفق )

’’یہ حکم نامہ لے کر دیو چاروں طرف متعین ہوئے۔یہاں دونوں بادشاہوںمیں صحبت گرم ہوئی اور باتیں اختلاط کی ہونے لگیں۔اس میں ملک شہبال ، درویشوں سے مخاطب ہوکر بولا کہ اپنے تئیں بھی بڑی آرزو لڑکے ہونے کی تھی اور دل میںیہ عہد کیا تھا کہ اگر خدا بیٹا دے یا بیٹی؛ تو اس کی شادی ، بنی آدم کے بادشاہ کے یہاں جو لڑکا پیدا ہوگا ، اس سے کروں گا۔اس نیت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ بادشاہ بیگم پیٹ سے ہیں۔بارے دن اور گھڑیاں اور مہینے گنتے گنتے ، پورے دن ہوئے اور یہ لڑکی پیدا ہوئی۔موافق وعدہ کے، تلاش کرنے کے واسطے عالم جنیات کو میں نے حکم کیا: چار دانگ دنیا میں جستجو کرو، جس بادشاہ یا شہنشاہ کے یہاں فرزند پیدا ہوا ہو، اس کو بجنس احتیاط سے جلد اٹھا کر لے آؤ۔وونہیں(وہیں)بہ موجب فرمان کے پری زادچاروں سمت پرا گندہ ہوئے۔ بعد دیر کے اس شہ زادے کو میرے پاس لائے۔‘‘(ایضا۔244-245)

درج بالا اقتباس کو بغور پڑھنے سے جہاں دیو مالائی عناصر کی جھلک ملتی ہے، وہیں اساطیری طور پر بھی درج بالا اقتباس کو دیکھا جا سکتا ہے۔کیونکہ اب بھی ہمارے سماج میں اس کا چرچہ ہے کہ جنات وہ لوگوں کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔جیسے وہاں بادشاہ کے حکم پر جناتوں نے نو زائدہ بچے کو اٹھا لائے، اور اپنے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا۔اس کا تعلق بلا شبہ حقیقت سے نہیں ہے، باوجود اس کے اب بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں، جو اس کے حقیقت ہونے سے انکار بھی نہیں کرتے ہیں۔دو سو سالہ عرصے میں بہت کچھ بدلا، لیکن لوگوں کی سوچ بعضجگہوںپر اب بھی روایتی ہیں۔یہاں ایک سوال ضروراٹھتا ہے کہ بادشاہ نے جس طرح سے بچے کے گھرانے کو مخصوص کیا تھاکہ بچہ کسی بادشاہ یا شہنشاہ کے گھرانے کا ہو ۔یہاں جہاں جناتوں کو بہت طاقتور اور تیز رفتار دکھایا گیا ہے تو کیا جس بادشاہ یا شہنشاہ کے گھر سے پری زادوں نے اٹھایا تھا، اس کے یہاں کیا جنات یا پری زادے نہیں تھے؟ جب کہ داستانوں میںعام طور پر دیکھا یہی جاتا ہے کہ بادشاہوں کی بادشاہت کو کامیاب بنانے میں یہی لوگ اپنا غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔جس بادشاہ یا شہنشاہ کے یہاں سے اس بچے کو اٹھا کر لایا گیا ، اگر اس بادشاہ کے ماتحت جنات، دیو یا پری زاد ہیں تو کیونکر اس بچے کو جانے دیا۔پری زادوں کی تیزی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس بچے کو اپنے بادشاہ کے حکم کے کچھ ہی دیر بعد ڈھونڈ لیا کہ، کہاں، کس بادشاہ کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے، اور پل بھر میں بچے کو بادشاہ کے سامنے پیش بھی کر دیا۔البتہ بادشاہ کے تعلق سے آگے کے صفحات میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے ، وہ عین اسی طرح ہے جس طرح انسان بطور خاص ایک باپ سوچتا ہے۔یہاں بادشاہ ہر مہینے اس بچے کو اپنے پاس منگاتا ہے، اور کچھ دن کے بعد اس کے ماں باپ کے پاس بھیج دیتا ہے، ایسا اس لیے کرتا ہے کہ ان لوگوں کو اپنے بچے کی جدائی سے تکلیف نہ ہو۔فوق فطرت عناصر کی ایک مثال ملاحظہ ہو، جسے ہم قصے، کہانیوں تک اصل سمجھتے ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، باوجود اس کے داستانوں میں ان سب کے لئے صفحے کے صفحے سیاہ کر دئے جاتے ہیں:

’’عجب طرح کا ان کا رویہ اور مذہب ہے۔یہاں بت خانے میں ایک بت ہے کہ شیطان اس کے پیٹ میں سے نام اور ذات اور دین ہر کسو کا بیان کرتا ہے۔پس جو کوئی غریب مسافر آتا ہے، بادشاہ کو خبر ہوتی ہے؛ اسے منڈپ میں لے جاتا ہے اور بت کو سجدہ کرواتا ہے۔اگر ڈنڈوت کی، تو بہتر؛ نہیں تو بچارے کو دریا میں ڈبوا دیتا ہے۔ اگر وہ چاہے کہ دریا سے نکل کر بھاگے؛تو آلت اور خصیے اس کے لنبے ہو جاتے ہیں، ایسے کہ زمین میں گھسٹتے ہیں، مارے بوجھ کے وہ ہر گز چل نہیں سکتا۔ایسا کچھ طلسم اس شہر میں بنایا ہے۔‘‘(ایضا۔ص183)

فوق فطری عناصر کی طرح داستانوں میں متعدد بے جان اشیا ایسی ہوتی ہیں، جو فوق فطری قوت ہی سے متصف ہوتی ہیں۔جیسے تعویذ ونقش کی قوت، ان میں نگاشہ الفاظ کی منت کش ہے، لیکن کراماتی تحفوں کی کمی بھی نہیں ہے۔داستانوں میں ہر قسم کی مخلوق کا ذکر ملتا ہے۔جس کا تصور کیا جا سکتا ہے ، یہ سب غیر انسانی ہیں۔داستانوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں ساحر، ساحرہ، پیر، ولی، حکیم فوق فطری عناصر کے مالک ہیں۔ ساحروں کا جو مکمل تصور ذہن میں بن سکتا ہے اس کی سب سے اچھی مثال داستان امیر حمزہ ہے۔جس کا عکس دوسری کچھ داستانوں میں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ان کی طاقتیں لا محدود ہوتی ہیں۔ان کے قبضے میں طرح طرح کے پیراورموکل ہیں جو ان کی مد دکرتے ہیں۔اسی طرح سے داستانوں میں بڑے لوگوں کا بطور خاص ذکر ہے۔اصل کردار میں شہزادے یا امیر زادے ہوتے ہیں۔متوسط یا زیریں طبقے کے انھیں افراد کا ذکر کیا جاتا ہے جو امارات کے لوازمات میں شامل ہیں۔اسی طرح سے جب کسی بادشاہ کے یہاں کوئی بچہ ہوتا ہے تو بادشاہ نجومی ، رمال اور پنڈت کو جمع کر کے اس بچے کی زندگی کے ہر پل کے تعلق سے جاننا چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں ایسا کیا کیا ہونا ہے۔چونکہ بچہ بادشاہ کا ہے اس لئے یہ لوگ بھی بڑی احتیاط سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔داستانوں میں جو اساطیری عناصر ہمیں ملتے ہیں، اس کی یہ واضح مثال ہے۔جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔خدا انسان کو دنیا میں بھیجتا ہے تو پہلی سانس سے آخری سانس تک کا سارا کچھ لکھ دیتا ہے۔البتہ دعاؤں سے بھی کچھ چیزیں من جانب اللہ تبدیل کر دی جاتی ہیں۔لیکن یہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے، جس کی مٹھی میں پوری دنیا ہے۔لیکن داستانوں میں معاملہ بسا اوقات اس کے بالکل بر عکس نظر آتا ہے۔یہاں نجومی اور پنڈت اپنے علم سے اس بچے کی ’جنم پتری ‘ درست کرتے ہیں۔اس کے بعد اس بچے کی زندگی میں کیا کیا امکان ہے اس کو بتاتے ہیں، مگر اس شرط کے ساتھ:

’’بہ موجب حکم بادشاہ کے سب نے متفق ہو، اپنے اپنے علم کی رو سے ٹھہرا اور سادھ کر التماس کیا کہ خداکے فضل سے ایسی نیک ساعت اور سبھ لگن میں شہ زادے کا تولد اور جنم ہوا ہے کہ چاہیے سکندر کی سی بادشاہت کرے اور نو شیرواں سا عادل ہو؛ اور جتنے علم اور ہنر ہیں، ان میں کامل ہو؛اور جس کی طرف دل اس کا مائل ہو، وہ بہ خوبی حاصل ہو؛ سخاوت و شجاعت میں ایسا نام پیدا کرے کہ حاتم اور رستم کو لوگ بھول جاویں؛ لیکن چودہ برس تلک سورج اور چاند کے دیکھنے سے ایک بڑا خطرہ نظر آتا ہے، بلکہ یہ وسواس ہے کہ جنوبی اور سودائی ہو کر بہت آدمیوں کا خون کرے اور بستی سے گھبراوے، جنگل میں نکل جاوے اور چرند پرند کے ساتھ دل بہلاوے۔اس کا تقید رہے کہ رات دن آفتاب، ماہ تاب کو نہ دیکھے، بلکہ آسمان کی طرف بھی نگاہ نہ کرنے پاوے۔جو اتنی مدت خیر وعافیت سے کٹے، تو پھر ساری عمر سکھ اور چین سے سلطنت کرے۔‘‘(ایضاً۔ص، 102)

درج بالا اقتبا س سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی کا علم مکمل نہیں۔جو لوگ ان چیزوں پر یقین کرتے ہیںکہ نجومی نے کہا پنڈت نے کہا کہ یہ آفت آنے والی ہے تو وہ اسے ٹا ل کیوں نہیں دیتے۔یہاں بادشاہ نے جن لوگوں کو بلایا تھاوہ سب اپنے علم سے اس بچے کی زندگی کا سب کچھ بدل دیا۔وہ اس کو بھی بدل سکتے تھے کہ سورج اور چاند کے ساتھ آسمان کی طرف نظر اٹھانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔اسی طرح سے اگر ایک بچے کو سورج کی روشنی سے محروم کر دیا جائے تو اس کی نشو ونمامیں دقت آسکتی ہے۔اور  بہت سی بیماریوں کا وہ مجموعہ بن سکتا ہے۔کیونکہ سورج سے ملنے والی طاقتیں وہ جسمانی نشو ونما کے لئے بہت ضروری ہیں۔بادشاہ اس بچے کو چودہ سال تک دھوپ۔ چاند اور آسمان کے سائے سے دور کرنے کے لئے تہ خانہ میں پالنے کا حکم دیتا ہے۔اس تہ خانے کی تعمیر اس طرح کرایا کہ دھوپ اور چاند اس میں چھن کر بھی نہ آئے۔یہ اقتباس اساطیر کی عمدہ مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ہمارے سماج میں اب بھی لوگ ایسی چیزوں پر یقین کرتے ہیں۔یہاں بادشاہ نے بچے کے پیدا ہوتے ہی یہ سب کرایا۔اور ہمارے سماج میں شادی، بیاہ سے پہلے  یہ سب کرایا جا تا ہے۔بطور خاص ہندو سماج میں شادی سے پہلے ’مہرت‘کا جو تصور ہے، وہ یہی تو ہے کہ فلاں تاریخ اور دن میں ہی شادی بہتر(شبھ)ہوگی۔اور دوسری تاریخوں یا دنوں میں غیر مناسب(اشبھ)ہے۔ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جو لوگ بھاگ کر شادی کرتے ہیںیا عدالت سے اس معاملے میں رجوع کرتے ہیں، کبھی ایسے لوگوں کے تعلق سے یہ نہیں سنا گیا کہ وہ محض اس وجہ سے مر گیا کہ جن تاریخ میں انھوں نے شادی کی تھی وہ ان کے لئے ٹھیک نہیں تھی۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جن پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔لیکن لو گ اس کے منکر بھی نہیں ہیں۔داستانوں میں دیووں یا جناتوں کو جس طرح طاقتور دکھایا جاتا رہا ہے، اسی طرح سے ان کی طاقت کو قابو میں کرنے کے لئے بھی طرح طرح کی چیزیں ہوتی ہیں، گویا کہ ان کی ساری طاقت ایک منتر یا دعا سے ختم ہو جاتی ہے۔دیو مالائی عناصر میں اگر بغور دیکھا جائے تو یہاں بھی انسان غالب ہیں۔اس کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے بھی لگایا جا سکتا ہے: (یہ بھی پڑھیں  ’باغ وبہار‘ کی ادبی اہمیت- ڈاکٹر صفدر امام قادری )

’’اتفاقا ایک روز رات کو شیطان نے ورغلانا[ورغلایا]۔شہوت کی حالت میں یہ دل میں آیا کہ جو کچھ ہو سو ہو، کہاں تلک اپنے تئیں تھانبوں؛ اسے چھاتی سے لگالیا اور قصد جماع کا کیا۔وونہیں ایک آواز آئی:یہ کتاب مجھ کو دے، کہ اس میں اسم اعظم ہے،بے ادبی نہ کر۔اس مستی کے عالم میں کچھ ہوش نہ رہا، کتاب بغل سے نکال کر، بغیر جانے پہچانے حوالے کر دی اور اپنے کام میں لگا۔وہ نازنیں یہ میری نادانی کی حرکت دیکھ کر بولی کہ ہے ظالم!آخر چوکا اور نصیحت بھولا۔یہ کہہ کر بے ہوش ہو گئی اور میں نے اس کے سرہانے ایک دیو دیکھا کہ کتاب لیے کھڑا ہے۔چاہا کہ پکڑ کر خوب ماروں اور کتاب چھین لوں، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کتاب دوسرا لے بھاگا۔میں نے جو افسوںیاد کیے تھے، پڑھنے شروع کیے۔وہ جن، جو کھڑاتھا، بیل بن گیا؛لیکن افسوس !کہ پری ذرا بھی ہوش میں نہ آئی اور وہی حالت بے خودی کی رہی۔تب میرا دل گھبرایا، سارا عیش تلخ ہو گیا۔‘‘(ایضاً۔ص112)

درج بالا اقتبا س سے انداز ہوتاہے کہ بادشاہ داستانوں میں جس کے بدولت اپنی بادشاہت کے جلوے بکھیرتے ہیں، اسے کس طرح سے پل بھر میں بے کار کر دیتے ہیں۔داستانوں میں ما فوق الفطری عناصر بسا اوقات انسان کے ہی عمل سے اس کو تقویت ملتی ہے۔منتر سے جن کو بیل بنا دیا گیا، اور ستم یہ کہ جن اسی بیل کے روپ میں سواری کے کام آنے لگا۔جس جن کو یہ صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ وہ جس کا روپ چاہے دھار لے، وہ مخلوق کیونکر اتنی بے بس ہو سکتی ہے۔ایک سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا انسان جناتوں کے ساتھ جسمانی رشتہ بنا سکتا ہے؟جب کہ انسان مٹی اور جن آگ سے پیدا کئے گیے ہیں۔اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں۔کیونکہ آگ مٹی کا کیا حال کر دیتی ہے؟یہاں تک کہ مٹی آگ میں پکا دی جائے تو اینٹ بن جاتی ہے۔اس لئے اس طرح کے فن پاروں کو سائنٹفک طور پر مطالعہ میں لایا جا نا چاہیے، تاکہ ایسی بہت سی چیزوں کی طرف اشارہ کیا جا سکے۔جہاں تک باغ و بہار میں فوق فطری اجزائ کا تعلق ہے تو اس اعتبار سے یہ داستان اور داستانوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ اہم نہیں۔کیونکہ اس میں فوق فطری اجزا کی بہتات نہیں۔نثری داستانوں پر کام کرنے والے گیان چند جین نے اس تعلق سے لکھا ہے:

’’قصے میں فوق فطرت اجزا کی بہتات نہیں۔پانچوں کہانیوں میں فوق فطری عناصر خاص طور سے دو جگہوں پر ہیں۔نیم روزکے شہزادے اور چوتھے درویش میں۔اس کے بعد خاتمے میں جنوں کا بادشاہ ملک شہ پال[شہبال] سامنے آتا ہے۔وہ ایک ذی اقتدار لیکن منصف مزاج شہنشاہ ہے جو زیر دستوں کی فریاد سن کر زبر دستوں کو سزا دیتا ہے، وہ کسی فوق فطرت رول کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔باغ وبہار میں فوق فطری، مخلوقات استعجاب یا مبالغے کی غرض سے داخل نہیں کی گئیں بلکہ ان سے پلاٹ کو آگے بڑھانے میں سہارا لینا مقصود ہے۔‘‘

(اردو کی نثری داستانیں۔گیان چند جین۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی۔2002،ص، 288)

مختصرطور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ داستانوں میں اساطیری عناصر ہمیں اس دوسری دنیا کے احوال سے واقف کراتی ہیں۔جو ہمارہ موجودہ دنیا کے پہلو بہ پہلو چلتی ہے۔اور کئی صورتوں میں اس کی تائید اور حمایت کرتی ہے۔جب کہ دیو مالائی عناصر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پیچیدہ انسانی مخمص سے عہدہ بر آ ہونے، اور دینا میں اپنے مقام کے تعین اور اپنی صحیح پہچان میں مدد دینا ہوتاہے۔اگر داستان گوئی اور صنمیات یہ کام نہ کرتیں تو ان کی افادیت بالکل ہی زائل ہو جاتی۔اس اعتبار سے اگر باغ و بہار کو دیکھا جائے تو وہ اپنے اندر سب کچھ سمیٹے ہوئے برسوں سے لوگوں کو محظوظ کر رہی ہے۔

 


مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

باغ و بہارشاہ نواز فیاض
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کلیم عاجزکی غزل گوئی ( بہت دشوار ہے جتنا سمجھنا، اتنا سمجھانا) – ڈاکٹر سرورالہدیٰ
اگلی پوسٹ
اردوزبان اپنی شیرینی کی وجہ سے پوری دنیا میں مقبول ہورہی ہے:پروفیسر شیخ عقیل احمد

یہ بھی پڑھیں

پریم چند کی فکری اور تخلیقی روایت –...

اپریل 12, 2025

داستان کی روایت : ایک مجمل جائزہ –...

اکتوبر 15, 2022

داستان کی اسطوری فضا اورتخلیقی عمل – ڈاکٹر...

اکتوبر 11, 2022

اردو داستانوں کی عصری معنویت – پروفیسر عبدُ...

جون 7, 2022

اردو میں افسانچہ نگاری کا تحقیقی و تنقیدی...

مارچ 25, 2022

عبدالحلیم شررکے ناول: "فردوسِ بریں” کا تجزیاتی مطالعہ...

مارچ 11, 2022

ناول کا فن – پروفیسر عتیق اللہ

فروری 16, 2022

قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین: ایک...

فروری 16, 2022

اردو اور عربی قصیدہ نگاری: ایک مطالعہ –...

فروری 6, 2022

آشوب دہلی اور دستنبو – پروفیسر صالحہ رشید 

جنوری 26, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں