اردوکے مایہ ناز فکشن نگار وں میں قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین کی اپنی ایک خاص پہچان ہے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ ’آگ کا دریا، اور ’اداس نسلیں‘ اردو کے بہترین ناولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ جب ’اداس نسلیں‘ ادبی دنیا سے متعارف ہوا تو اس پر چہ میگوئیاں بھی سنی گئیں۔اس معاملے میں قرۃ العین حیدر اور عبداللہ حسین کے مابین معاصرانہ چشمک بھی کھل کر سامنے آئی۔جس کی ابتدا عبد اللہ حسین کی طرف سے ہوئی۔ جب ’اداس نسلیں‘ منظر عام پر آیا تو اردو کے ایک مشہور طنز نگار محمد خالد اختر نے اس پر بے باک تبصرہ کیا اور انھوں نے کھل کر اعتراف کیا کہ عبداللہ حسین کے ناول پر قرۃ العین حیدر کے ناول ’میرے بھی صنم خانے‘ کا گہرا اثر پایا جاتا ہے۔اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں:
’’وہ مس حیدر کے اسلوب اور ان کے اونچے ہندستانی طبقے کے مرقعوں سے گہرے طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اس حد تک کہ ’اداس نسلیں‘ کے باب کے باب ’میرے بھی صنم خانے‘ کی کامیاب پیروڈی کے طور پر پڑھے جا سکتے ہیں اور سیدھے مس حیدر کے شہرۂ آفاق ناول میں سے اٹھائے ہوئے لگتے ہیں۔ میں قطعاً مبالغے سے کام نہیں لے رہا۔ نہ ہی مسخرہ بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ کو میری بات کا یقین نہ آتا ہو تو ’اداس نسلیں‘ کے باب سی و پنجم میں صفحہ ۴۷۲ کے اخیر پر نیچے دئے ہوئے اقتباس کو ملاحظہ کریں۔‘‘ (عبد اللہ حسین کی اداس نسلیں: فنون، لاہور، جلد ۵، شمارہ ۱۔۲، اکتوبر نومبر ۱۹۶۴ئ، ص ۲۶۱۔۲۶۲)
محمد خالد اختر کے اس تبصرہ پرجب عبد اللہ حسین کا عندیہ معلوم کیا گیا تو انھوں نے ایک انٹرویو میں قرۃ العین حیدر کو قابل ذکر ناول نگار ماننے سے ہی انکار کر دیا۔فہمیدہ ریاض نے بھی’اداس نسلیں‘ پر تبصرہ کیا ہے۔لیکن یہ تبصرہ لفاظی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ وہ یہ تو گننے لگتی ہیں کہ محمد خالد اختر نے اپنے تبصرہ میں کتنی بار عبد اللہ حسین سے حسد کرنے نہ کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن محمد خالد اخترنے جو بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ’ اداس نسلیں‘ قرۃ العین حیدر سے متاثر ہے، اس کے بارے میں انھوں نے ایک لفظ بھی نہیں لکھاہے۔ اس معاملے میں فہمیدہ ریاض نے دیانتداری کا ثبوت نہیں دیا ہے۔( فہمیدہ ریاض کا یہ مضمون ’اداس نسلیں‘ کے تبصرہ پر تبصرہ‘ کے عنوان سے فنون، لاہور، مئی۔جون ۱۹۶۵ئ، ص ۳۱۸۔۳۲۰ میں شائع ہوا ہے۔)
قرۃ العین حیدر نے بھی ’کار جہاں دراز ہے‘ کی دوسری جلد میں عبد اللہ حسین اور ان کے ناول پر اظہار خیال کیا ہے اور اس کی وضاحت کی ہے کہ عبد اللہ حسین انھیں قابل ذکر ناول نگار نہیں سمجھتے ہیں جب کہ انھوں نے میرے ناولوں سے جملے کے جملے تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ اپنا لیا ہے۔قرۃ العین حیدر کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
’’بر سبیل تذکرہ ’اداس نسلیں‘ کے متعلق انٹرویو میں مصنف نے ارشاد کیا کہ وہ عاجزہ کو ایک قابل ذکر ناولسٹ نہیں سمجھتے۔اس بیان کی روشنی میں یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ’اداس نسلیں‘ کے متعدد ابواب میں میرے بھی صنم خانے، سفینۂ غم دل، آگ کا دریا، اور شیشے کے گھر کے چند افسانوں کے اسٹائل کا گہرا چربہ اتارا گیا ہے۔ خفیف سے رد و بدل کے ساتھ پورے پورے جملے اور پیراگراف تک وہی ہیں۔ لیکن آج تک سوائے پاکستانی طنز نگار محمد خالد اختر کے کسی ایک پاکستانی یا ہندوستانی نقاد کی نظر اس طرف نہیں گئی۔ نہ کسی نے اشارۃً بھی اس کا ذکر کیا۔ کیا یہ Male Chauvinism نہیں ہے؟‘ (کار جہاں دراز ہے، جلد دوم، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۱، ص ۶۹۲)
قرۃ العین حیدر کی جانب سے جب عبد اللہ حسین پر سرقہ کا الزام لگایا گیا تو ڈاکٹر ممتاز کلیانی نے اپنے ایک مضمون میں اس کا جائزہ لیا۔ اس میں انھوں نے عبد اللہ حسین کا دفاع اور قرۃ العین حیدر کا رد کیا ہے۔ وہ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ’بیسویں صدی میں اردو ناول کا اہم ترین نام قرۃ العین حیدرکا ہی ہے۔ایک بڑے فنکار کے سائے میں لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔کیونکہ برگد کے پیڑ تلے کوئی اور پودا اچھی نمو نہیں پاسکتا۔‘ لیکن وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ عبد اللہ حسین نے سرقہ کیا ہے بلکہ اسے وہ پروفیشنل جیلسی اور جھنجھلاہٹ تصور کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’عبد اللہ حسین پر سرقے کا الزام قرۃ العین حیدر نے لگایا ہے۔ اس الزام کے پس منظر میں قرۃ العین حیدر کی خودپسندی اور پیشہ ورانہ رقابت بھی ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں یہ رقابت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے کہ جب ایک کم تر درجے کا ناول نگار ایک اعلی درجے کی ناول نگار کو ’قابل ذکر ناولسٹ ‘ہی نہ سمجھے۔ اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اعلی سوسائٹی کی معاشرت و مشاغل کی عکاسی کرتے ہوئے عبد اللہ حسین نے قرۃ العین حیدر کی تخلیقات کو سامنے رکھا ہے اور ان جگہوں پر وہ قرۃ العین حیدر کے اسلوب سے اتنا زیادہ قریب آگیا ہے کہ سرقہ کا گمان گزرتا ہے۔ ایسے میں جب کوئی اداس نسلیں کو قرۃ العین حیدر کے ناولوں سے بہتر یا ان کے برابر بھی کہے گا تو مصنفہ کی پروفیشنل جیلسی یا جھنجھلاہٹ کا پیدا ہونا بہت حد تک درست بھی ہے اور انسانی فطرت کے قریب بھی۔۔۔اسی کے باعث چند مماثلتوں کی بنا پر قرۃ العین حیدر نے اس کو Exploitکیا ہے تو اس الزام کو درست تسلیم کر لیا جائے، یہ قرین انصاف نہیں ہے۔‘‘ (قرۃ العین حیدر: خصوصی مطالعہ؍ سید عابد سہیل، بیکن بکس، ملتان، ۲۰۰۳، ص۷۰۴)
ان معروضات سے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین دونوں افراط و تفریط کے شکار ہیں۔ عبد اللہ حسین کا قرۃ العین حیدر کو قابل ذکر ناول نگار نہیں ماننا، نہ صرف ان کی دیانت داری بلکہ ان کی ناول نگاری بھی سوالات کے گھیرے میں آجاتی ہے۔آخر ان کے پیش نظر وہ کون سا پیمانہ تھا جس کے تحت قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری اپنا دم خم نہیں دکھا سکی۔اس قسم کا ادبی رویہ کسی اعتبار سے فال نیک نہیں ہے۔کیوں کہ بڑوں کو چھوٹا کہہ کر اپنا چراغ روشن نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے عبد اللہ حسین کا یہ قول ہر لحاظ سے مہمل اور بے معنی ہے۔
قرۃ العین حیدر نے اپنے اقتباس میں تین امور کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایک میں درد ہے کہ عبد اللہ حسین انھیں قابل ذکر ناول نگار نہیں مانتے ہیں۔ دوسرے میں اپنی برتری کا اظہار ہے کہ ان کے ناولوں سے عبد اللہ حسین نے خفیف سے رد و بدل کے ساتھ پورے جملے اور پیراگراف کو نقل کر لیا ہے۔ قرۃ العین حیدر کا یہ دعوی مبالغہ آمیز ہے۔ کسی طرح یہ الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ عبد اللہ حسین نے قرۃ العین حیدر کے ناولوں سے جملے کے جملے نقل کر لئے ہیں۔ اس قسم کا الزام محمد خالد اختر نے بھی نہیں لگایا ہے۔ اس سلسلے میں کسی خارجی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے جب داخلی شہادت اس کی نفی کرتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عبد اللہ حسین نے جو اسلوب اپنایا ہے وہ قرۃ العین حیدر سے اس قدر مماثلت رکھتا ہے کہ پہلی نظر میں قرۃ العین حیدر کی طرف نگاہ منعطف ہوجاتی ہے۔ اس ضمن میں اداس نسلیں اور میرے بھی صنم خانے سے ایک ایک اقتباس نقل کیا جا رہا ہے:
’’اس خوب صورت صبح کو وہ بر آمدے کے کونے سٹول پر بیٹھی بے حد انہماک سے منظر کشی میں مصروف تھی کہ اس کی اکلوتی عزیز دوست فے بھاگتی ہوئی آکر سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔
اوہ! کس قدر گرمی ہے۔اس نے دو پٹے کے پلو سے ہوا کرتے ہوئے کہا اور اپنے کیچڑ سے لت پت جوتے اتارنے لگی۔
اوہو، ہو۔کیا حبس ہو رہا ہے۔اس نے دوبارہ کنکھیوں سے نجمی کو دیکھا جو تصویر میں غرق تھی۔فوہ، توبہ۔
نجمی نے کوئی دھیان نہ دیا۔
اللہ توبہ۔ کیا چکر میں ہیں یہ لڑکیاں۔ فے جل کر بولی۔اور کماری نجمی بیگم چٹوپادھیاے صاحب، اگر آپ نے میری طرف توجہ نہ دی تو میں جوتے لے کر اوپر آجاؤں گی اور آپ کے آرٹ میں حرج واقع۔۔۔
نجمی بوکھلا گئی۔فے کو بے خیالی سے دیکھتی رہی۔‘‘ (اداس نسلیں، ص ۴۷۲)
اب ’میرے بھی صنم خانے‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’ صبح صبح کنور رانی کے کمرے میں بڑی اہمیت سے رشتے دار بیویوں کی کانفرنس شروع ہو گئی۔ پی چو کو کرسمس کی پریڈ کے لئے پولس لائنز جانا تھا۔ اس لئے وہ خلاف معمول جلد اٹھ بیٹھا تھا۔ رخشندہ کی ابھی آنکھ نہ کھلی تھی کہ وہ اندر کود آیا۔
روشی پریڈ دیکھنے چلتی ہو؟ اس نے لحاف کا گھونسلہ بنا کر اس میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
اوں ہنک۔رخشندہ نے انگڑائی لے کر جواب دیا۔ رات دیر تک جگتے رہنے کی وجہ سے اسے اب تک نیند آرہی تھی۔
جانتی ہو کون کون آرہا ہے؟ پی چو نے پوچھا۔
تمہاری پریڈ پر؟
ارے نہیں۔ گھر پر بھئی۔ (میرے بھی صنم خانے، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور،۲۰۰۰، ص ۸۸)
ان دونوں اقتباسات کے مطالعے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دونوں میں ایک سی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس سے اس کا اشارہ ملتا ہے کہ عبد اللہ حسین نے قرۃ العین حیدر کے اسٹائل کو بخوبی اپنایا ہے اور اس میں وہ اتنا غرق ہو گئے ہیں کہ پھر ان کا اپنا کوئی اسٹائل پنپ نہیں سکا۔ یہ طرز عمل اپنے اندر مثبت اور منفی دونوں پہلو رکھتا ہے۔ مثبت اس معنی میں کہ فن کار میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ دوسرے کے اسلوب میں اپنی باتیں کہہ سکتا ہے اور منفی اس طور پر ہے کہ اس کے اندر اپنا اسلوب خلق کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ ڈاکٹر سہیل بخاری نے بھی اس کا اظہار کیا ہے کہ ’اداس نسلیں‘ کے کچھ حصے ’آگ کا دریا‘ سے متاثر ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’روشن محل والوں کے حالات کی تفصیل و طوالت غیر ضروری ہے۔ یہ حصہ قرۃ العین حیدر کے ’آگ کا دریا‘ سے متاثر معلوم ہوتا ہے۔‘ ( ناول نگاری: اردو ناول کی تاریخ و تنقید؍ ڈاکٹر سہیل بخاری، مکتبہ میری لائبریری، لاہور، ۱۹۶۶، ص ۳۶۵)
قرۃ العین حیدر کے اقتباس میں تیسرا امر شکایت پر مبنی ہے۔وہ اردو ناقدین سے نالاں ہیں کہ سرقہ کے اتنے واضح اثرات کے باوجود محمد خالد اختر کے علاوہ کسی پاکستانی یا ہندستانی نقاد نے اس پر اظہار خیال نہیں کیا۔ وہ اسے مردوں کی اجارہ داری پر محمول کرتی ہیں۔ ان کی یہ شکایت حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔کیوں کہ انھوں نے عبد اللہ حسین پر سرقہ کا جو الزام عائد کیا ہے، وہ کسی طور پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ہاں یہ درست ہے کہ عبد اللہ حسین نے ’اداس نسلیں‘ میں جو اسلوب اختیار کیا ہے، وہ قرۃ العین حیدر کے اسلوب سے بہت حد تک مماثلت رکھتا ہے جس کا اظہار محمد خالد اختر، ڈاکٹر ممتاز کلیانی اور ڈاکٹر سہیل بخاری نے اپنی تحریروں میں کیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین نے ادبی سطح پر ہمارے عصر کے مزاج کا تعین کیا ہے اور اس ادبی مزاج کی تشکیل میں دونوں کا حصہ ہے۔
ڈاکٹرمحمد ذاکر حسین
خدا بخش لائبریری، پٹنہ
Mobile: 9199702756
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

