میں اپنی بات کہوں تو سگریٹ جلانے کے لئے مجھے اکثر کچن میں جانا پڑتا ہے . میںرا کے وقت لائٹر کا استعمال بھی کم ہوتا تھا .اس لئے ماچس کی تلاش میں وہ رات گئے گھر سے باہر نکل گئے .
creativity and mental illness،bipolar disorder, schizophrenia, major depressive disorder, anxiety disorder, OCD
ورجینیا الف ، ہیمنگوے ، سلویا پاتھ ، بے شمار ادیبوں کے لئے ایک خاص وقت میں زندگی کا مقصد فوت ہو گیا . ورجینیا نے بہت سے پتھروں کو ساتھ میں لیا اور اویس ندی کی طرف جان دینے کے ارادے سے بڑھ گیی .جو ہماری دنیا کی ترجمانی کر رہے تھے ، زندگی میں تناؤ پیدا ہوا تو انھیں حقیقت کا مقابلہ کرنا مشکل معلوم ہوا.جیرارڈ ڈی نیروال
ایک ایک سچا رومانٹک تھا۔ اس کے لئے اصل دنیا جہنم تھی. اس نے مرنے سے قبل لکھا ..“یہ زندگی ایک سرقہ اور بدنامی کی جگہ ہے۔ مجھے شرم ہے کہ خدا مجھے یہاں دیکھے.. جہاں تخلیقیت ہوتی ہے ، وہاں مینٹل النس یا ڈس آرڈر کیوں ہوتے ہیں ؟ میں نے اس مؤضو ع پر بہت سے مضامین کا مطالعہ کیا مگر تکنیکی اصطلاح کے دشت کے سوا مجھے یقین دلانے والی کوئی بات نظر نہیں آئی .خود کو ذہنی تشدد کا نشانہ بننے والا فنکاردر اصل ایک وقت میں بہت اکیلا ہو جاتا ہے . . فرض کر لیتے ہیں . لیکن بلراج میںرہ ، قمر احسن ، ہیمنگوے ، سلویا پاتھ بننے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے .؟ بے شمار مصور ، کمپوزر ، مصنفین اور موسیقاروں کے پاس ذہنی دباؤ اس قدر ہوتا ہے کہ وہ خود کشی کر لیتے ہیں یا مراقبے میں چلے جاتے ہیں . ،بہت سے فنکار شیزوفرینیا کا سامنا کرتے ہیں . ڈانسرز ، فوٹوگرافروں اور مصنفین میں بائپولر ڈس آرڈر زیادہ عام ہے۔بیتھوون موسیقار اور کمپوزر تھا . ۔لیجنڈری کمپوزر لڈ وِگ وین بیتھوون کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ افسردگی کا شکار تھا . شراب نوشی نے اسے بستر مرگ پر پہچا دیا . وہ افسردہ تھے اور خود کشی کی طرف بڑھنے لگے تھے .مشور آرٹسٹ واں گوگ نے 37 سال کی عمر میں خودکشی کرلی۔ وین گو کے آخری ایام عبرتناک تھے .بلراج میںرہ کی زندگی میں لوگوں کو بتانا مشکل ہوتا تھا کہ وہ زندہ ہیں . بہت سے لوگوں کو یقین بھی نہیں آتا تھا . ان کے ادب کا جائزہ بہت لیا گیا . مگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنے دور کے فکشن سے نا امید ہو گئے تھے ، تو دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی یہ کوئی مناسب وجہ نہیں . یعنی آپ نے بیسیوں برس تنہایی کے نام کر دیا . بہتر تو یہ تھا کہ آپ خود کو ثابت کرتے . قمر احسن کے ساتھ بھی یہی ہوا . تعریف اس قدر ہوئی کہ وہ گہری افسردگی کا شکار ہو گئے . ایسے کیسیز میں ، میرا ذاتی خیال ہے کہ ایک وجہ نرگسیت بھی ہوتی ہے . خود پسندگی بھی ایک عذاب ہے ، اور یہ راستہ تنہائ سے زیادہ عبرت کی طرف جاتا ہے .
یہ وہ زمانہ تھا جب جدیدیت کا عروج تھا . ادب میں ذات ، تنہائی ، کرب ذات مؤضو ع بنے ہوئے تھے . اس وقت یہ سوچنا مشکل تھا کہ کرب ذات کا شکار ہو کر زندہ رہتے ہوئے ایک ستارہ غروب ہو جائے گا . کمپوزیشن سیریز کی کہانیاں ، وہ ، مقتل ، لمحوں کا غلام ، کوئی روشنی ، کوئی روشنی ، اہتما رام انکی مشہور کہانیاں ہیں . بلراج مین را۱۹۳۵ ہوشیار پور میں پیدا ہوئے.رسالہ ’’شعور‘نے ایک دور کو متاثر کیا اور اس کا ذکر آج بھی ہوتا ہے . لکھنے والوں کے بارے میں میںرا کی ایک رائے تھی ، جسے سند تسلیم نہیں کیا جا سکتا . میںرا کہتے ہیں ..
’’سطحی لکھنے والے اور گہرے فنکار ہر زمانے میں ہوتے ہیں پہلے بھی تھے اور اب بھی
ہیں ۔کلیشے کا بازار پہلے بھی گرم تھا اور اب بھی ہے۔سطحی اور گہرے لکھنے والوں میں فرق
یہی ہے کہ گہرا فنکار کلیشے کا طلسم توڑتاہے اور سطحی لکھنے والادوسروں کے جال میں بھنبناتا
رہتا ہے۔‘‘
کلیشے کا بازار آج بھی گرم ہے . علامتوں ، استعاروں کا بھی ، اس طرح کی باتیں برسوں سے فنکار اپنے بارے میں کہتا آیا ہے ، مگر اس طرح کے بیانات ان کے اندر پوشیدہ نرگسیت کو ضرور ظاہر کرتے ہیں . ہمارا ادب آج بھی دو خیموں میں تقسیم ہے .ملک کی طرح یہ تقسیم ١٩٦٠ میں ہو چکی تھی . آج بھی نقادوں کا ایک بڑا طبقہ غیر جدید افسانہ نگاروں کو افسانہ نگار تسلیم نہیں کرتا . مگر ان سب کے باوجود ، تیس پیتیس کہانیوں کے خالق بلراج میںرا کی خاموشی سے کویی بھی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا .
میںرا کی مشہور کہانی ہے وہ ..ماچس کی تلاش میں رات کے وقت بھٹکتا ایک نوجوان .. آپ کے پاس ماچس ہے ؟ اس کہانی کو بھی وجودیت کے خانہ میں رکھا گیا .خوب باتیں ہوئیں . جدیدیت کا دور تھا . الفاظ کے الجھے تانے بانے متاثر کرتے تھے . جبکہ مجھے یہ کہانی پڑھتے ہوئے سارترے کی کہانی دیوار یاد آ رہی تھی . جب پولیس افسر پوچھتا ہے ، تم نے ریمن گریس کو دیکھا ہے ؟ اور یہ کہانی دیوار کا کلائمکس ہے ..افسران کو آدھے گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ نہیں گزرا جب ان میں سے ایک واپس آیا تو انہوں نے پابلو کو حکم دیا کہ وہ دوسرے قیدیوں کو ساتھ لیں جو ابھی سزا کے منتظر ہیں۔ ان میں میں سے ایک قبرستان میں پناہ لے چکا تھا۔ گارسیا کی رپورٹ کے مطابق ، گریس کو گریویڈیگروں کی جھاڑی میں چھپا ہوا پایا گیا .. اس شاہکار کہانی میں کیی ایسے شیدس ہیں ،جو خیالات کو بہت آگے تک لے جاتے ہیں . اور ان میں آسانی سے وجود ذات کا فلسفہ بھی مل سکتا ہے . وہ کہانی کا اختتام دیکھئے …
وہ گرتا پڑتا بڑھ رہا تھا۔
اس کے لغزش زدہ قدموں میں نشے کی کیفیت تھی۔
پو پھٹی اور وہ دم بھر کو رکا۔
دم بھر کو رکا اور سنبھلا۔
سنبھلا اور اس نے قدم بڑھانا ہی چاہا کہ
سامنے سے کوئی آ رہا تھا اور اسن کے قدم لغزش کھا رہے تھے۔
وہ اس کے قریب آ کر رکا۔
اس کے لبوں میں سگریٹ کانپ رہا تھا۔
آپ کے پاس ماچس ہے ؟
ماچس ؟
آپ کے پاس ماچس نہیں ہے ؟
ماچس کے لئے تو میں۔ ۔ .۔ ۔ .۔ ۔ .
وہ اس کی بات سنے بنا ہی آگے بڑھ گیا۔
آگے، جدھرسے وہ خود آیا تھا۔
اس نے قدم بڑھایا۔
آگے جدھر سے وہ آیا تھا۔
آگے، جدھرسے وہ خود آیا تھا۔اس نے قدم بڑھایا۔آگے جدھر سے وہ آیا تھا۔اس کہانی پر دنیا بھر کے فلسفوں کو لے کر میں بھی پانچ سو صفحے کی کتاب لکھ سکتا ہوں . چیخوف کی کہانی کلرک لیجئے .قطار میں ایک کھرے ایک شخص کو چھینک آ گیی . اور یہ چھینک شرمندگی کی موت کی وجہ ثابت ہوئی . یہاں اس وقت کے روس کی ثقافت کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے . ان کی سب سے اچھی کہانیاں کمپوزیشن سیریز کی کہانیاں ہیں . ان کہانیوں کو وہ برسوں لکھتے رہے . کمپوزیشن سرما ، کمپوزیشن گرما ، ایک ، دو تین چار . مگر ان کہانیوں میں ایک نیا بلراج میںرا ہے جو زندگی کی اہمیت کو ھمیگوے کے بوڑھے آدمی کی طرح قبول کرتا ہے . (یہ بھی پڑھیں تخلیقی تجربوں کا عہد – مشرف عالم ذوقی )
”آپ لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی آپ کی زبان پر درازی عمر کا کلمہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ کا کوئی دوست، عزیز یا رشتہ دار اٹھ جاتا ہے، آپ لوگ رونے پیٹنے، غم منانے کا اتنا بڑا آڈمبر رچاتے ہیں کہ تعجب ہوتا ہےکسی بھی آدمی کی پہچان، اس کا مرنا نہیں، اس کا جینا ہوتی ہے۔ اور یہ کہ آپ لوگوں کو جینے کی کوئی خواہش نہیں ہوتی، مرنے کا غم ہوتا ہے
— ’کمپوزیشن دو‘
اس میں شک نہیں کہ وہ دانشور اور ذہین تھا .مگر کچھ ادیب ، فنکار اس دور میں نرگسیت کے زبردست شکار ہوئے . کمپوزیشن سیریز کی کہانیوں میں زندگی سے وابستہ اتنے پہلو تھے ، کہ آج بھی ان کہانیوں پر گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے . جہاں وہ سب سے اچھا تھا ، وہاں باتیں نہیں ہوئیں . یہ بھی اسکی خاموشی اور افسردگی کی وجہ ہو سکتی ہے .
بلراج میںرا چلے گئے .وہ ہمارے قبیلے کے تھے .افسانے لکھتے تھے .انکے کیی افسانوں کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی – آتما رام اور ماچس کا ذکر خصوصی طور پر ھوا پھر وہ گہرے سنّاٹے کے قیدی بن گئے .. لوگوں سے ملنا ملانا کم ہو گیا . قمر احسن بہت بڑے افسانہ نگار تھے . انکے ساتھ بھی یہی ہوا ..آج وہ کہاں ہیں شاید یہ علم بھی کسی کو نہ ہو …جسمانی طور پر میںرا ہمارے درمیان ضرور تھے ، لیکن ادبی دنیا سے وہ اپنے تمام رشتے ختم کر چکے تھے .کبھی کبھی سننے میں آتا ،کہ کسی نے بلراج میںرہ سے ملاقات کی .کبھی کبھی میںرا کے تعلّق سے کویی اڑتی پڑتی بات بھی سامنے آ جاتی ..وہ اردو افسانے کے مستقبل سے نا خوش تھے .میں نہیں جانتا کہ اس درمیان بیس سے پچیس برس میں انہوں نے کسی کا کویی افسانہ پڑھا یا نہیں .لیکن وہ خوش نہیں تھے . کیا وہ اختلاف کی حد تک اردو افسانوں سے مایوس ہو چکے تھے ؟ یا وہ بھیانک سطح پر ڈپریشن کا شکار تھے ؟اگر ایسا ہے تو کس بات کا ڈپریشن تھا ؟ قمر احسن بھی اسی ڈپریشن کا شکار ہوئے —بلراج اس معاملے میں خوش قسمت کہ قاری اور نقاد دونوں نے انھیں مرنے نہیں دیا .جبکہ قمر احسن جیسے قد اور افسانہ نگار کو بھولے ہوئے زمانہ ہو گیا . بلراج میںرا کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ کم لکھنے کے باوجود اردو سے پیار کرنے والوں نے انھیں اس صف میں قبول کر لیا تھا جہاں افسانوں کی نمائندگی کرنے والے چند نام ہی تھے .اس مختصر فہرست میں آنکھیں بند کر کے انکے دو ایک افسانوں کا تذکرہ نا گزیر ہو گیا تھا .پھر کیا تھا کہ وہ افسانوں کی دنیا سے نکل کر لمبے بن واس پر چلے گئے ؟ اور ایسے گئے کہ واپس نا لوٹے — قمر احسن بھی گم ہو گئے –اس دور میں جدیدیت پسند کیی ایسے افسانہ نگار تھے جو پہلی نظر میں ادبی افق کے روشن ستارے نظر اے ،پھر اچانک کیی ستارے غروب ہو گئے .ایک اہم نام اکرام باگ کا بھی تھا . وہ بھی چلے گئے . .برسوں بعد شاید دو ایک مختصر افسانے لکھے — عرض کروں کہ اس گفتگو سے مجھے کویی خوشی نہیں ہے .ایک افسانہ نگار چلا گیا ..جس نے برسوں پہلے ادب کی دنیا سے امیدیں ختم کر دی تھیں ؟کس بات کی امیدیں ؟جبکہ میںرہ کو بھی احساس ہوگا کہ کچھ ہی کہانیاں لکھ کر انہوں نے ادب میں اپنے نام کو زندہ کر لیا ہے —- کیا آپ تقدیر کو مانتے ہیں ؟ کیا ادب میں قسمت جیسی چیز پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ؟ میرے خیال سے ہاں —قسمت نے قمر احسن کو عمدہ کہانیاں لکھنے کے با وجود گم کر دیا .میںرا کی پر اسرار خاموشی کے با وجود انھیں زندہ رکھا … بیس پچیس برس کے افسانوی سفر کا تعاقب کرتے ہوئے میں نے جب بھی کویی مضموں لکھا ،قمر احسن کو بھی یاد کیا ،اکرام باگ کو بھی .لیکن ان دونوں کے تذکرے اس درمیان کہیں نہیں دیکھے — میںرا کبار بار یاد کیے گئے – اور یہ خوشی کی بات ہے کہ انھیں یاد رکھا گیا .کیا آتما رام اور ماچس حقیقت میں ایسی لا زوال کہانیاں تھیں کہ اس کے خالق میںرہ نے ان کہانیوں کے بعد ایک دنیا سے کنارہ کر لیا ؟ کیا انھیں اس بات کا صدمہ تھا کہ اردو افسانہ زوال پزیر ہے .یا کویی اور بات تھی ؟ بیشک ،یہ تحقیق کا موضوع ہے ،پس پردہ کویی اور بات بھی ہو سکتی ہے ..دنیا کے کسی بھی بڑے افسانہ نگار نے اس شرط پر لکھنا بند نہیں کیا کہ اب ہمارے بعد کی صف خالی ہے .پھر میںرا کی خاموشی کا راز کیا تھا ؟قمر احسن کی خاموشی کا راز کیا ہے ؟
فنکار چلے جاتے ہیں .اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ جاتے ہیں . یہ وقت انکی کہانیوں کے تجزئیے کا نہیں ہے .یہ وہ دور تھا ،جب بغیر کسی مشقت کے ، ایک سیٹنگ میں تین چار صفحے کی کہانیاں آرام سے لکھ لی جاتی تھیں . ماچس اور چیخو ف کے کلر ک کی موت میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے …میںرہ کے جانے کے بعد میرا پہلا تبصرہ تھا کہ ایک شخص ماچس کی تلاش میں باہر نکلا پھر واپس گھر نہیں آیا . میںرہ نہیں لوٹیں گے .لیکن کیا یہ کم ہے کہ انہوں نے اپنے نام کو اپنی زندگی میں ہی ،اردو افسانے کا ایک معتبر اور اہم نام بنا دیا تھا ..یہ خوش قسمتی کتنے لوگوں کے حصّے میں آتی ہے ….
لیکن یہاں ایک شاعراور راجہ کے تارک الدُنیا ہونے کی کہانی بھی ہے . تیاگ ، سنیاس ،بیراگ ، جوگ کے بعد بھی سمندر کے خزانے ہاتھ آتے ہیں .دُنیا کو ترک کردینے کے بعد بھی بہتوں نے موسیقی اور فنونِ لطیفہ کے قمقمے روشن کیے ہیں .راجہ بھرتری ہری کو بے وفائی کا دکھ سمایا ، دشت کی مسافرت میں خود کو آزمایا اور ایسے ایسے شلوک لکھے کہ اقبال اور ایک دنیا آج بھی اسکا اعتراف کرتی ہے . وہ افسردہ نہیں ہوا ، وہ تخلیقی چشمہ کی طرف بڑھا . تیاگ پر اس کی نظموں سے یہ مختصر اقتباس دیکھئے .
کیا ہمالیہ میں ایسی جگہیں ناپید ہوگئی ہیں؟
کہ آدمی دوسروں کے دروازوں پر بھیک مانگنے جائے
کیا پہاڑوں میں جنگلوں کی ساری جڑیں غائب ہوگئی ہیں؟
تمام بہاریں مُرجھاگئی ہیں
تمام میٹھے رس دار پھلوں والے درخت سوکھ گئے ہیں؟
کہ آدمی خوفزدہ ہو کر احمقوں کی طرف دیکھے!
اُن کی طرف ،جن کی گردن دولت سے اکڑ گئی ہے!؟—-( انگریزی سے اردو ترجمہ ماہ طلعت زاہدی)
میںرا بھرتری ہری نہیں بن سکے . بیس برسوں سے زیادہ کا جوگ لیا پھر دنیا چھوڑ دی
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

