Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیمنصابی مواد

تخلیقی تجربوں کا عہد – مشرف عالم ذوقی

by adbimiras ستمبر 7, 2021
by adbimiras ستمبر 7, 2021 0 comment

’شہناز دیر ہورہی ہے، جلدی سے تیار ہوجاؤ۔ اسی وقت یہ ہوٹل چھوڑنا ہے۔ سیمینار کے منتظمین کو انتظار ہوگا۔ انھیں یہ اطلاع نہیں ہے کہ میں اور تم کس ٹرین سے آرہے ہیں۔‘‘

’اچھا ٹھیک ہے میں تیار ہوتی ہوں۔‘ وہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔ وہ باتھ روم کے دروازے پر اچانک رکی اور مڑکر بو لی۔ ’’ایک بات بتاؤ۔ وہ جو تمھارے کانوں میں پریشان کن آوازیں آیا کرتی تھیں، ان کا کیا ہوا۔؟‘

’وہ آوازیں… وہ آوازیں اب نہیں آتیں۔ وہ مجھ سے شکست کھا کر ختم ہوچکی ہیں۔ دیکھو نا۔ میں پورے وجود کے ساتھ تمھارے سامنے سالم و ہٹا کٹا کھڑا ہوں۔‘‘ اس کی آواز میں بے چینی تھی۔

’ڈھونگی تمھارے اندر سڑاند پیدا ہوچکی ہے۔ بو سے ناک پھٹی جاتی ہے۔ یہ تم کسے دھوکہ دے رہے ہو؟‘

یہ اسرار گاندھی کی کہانی ہے ۔’شاور کا شور‘۔ اکیسویں صدی کے بارہ تیرہ برسوں کا جائزہ لیجیے تو ہندستان سے پاکستان تک کہانی کا منظرنامہ بہت حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔ فرد اور معاشرہ، بازار، یہاں تک کہ انسانی رشتوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں احساس فنکار ان تبدیلیوں سے خود کو آزاد کرکے لکھنے کا جرم نہیں کرسکتا۔ اسرار گاندھی کی کہانی شاور کا شورمیں آزاد خیال ہیرو کی زندگی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب اس کانوں کے پاس کچھ آوازیں لہراتی ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب یہ آوازیں نہ صرف اسے پریشان کرتی ہیں بلکہ اس کے اعصاب پر سوار ہوجاتی ہیں۔ اور کہانی کے آخر میں شہناز کو یہ جملہ ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے… کہ دراصل تم سڑچکے ہو… تم اتنے بدبودار ہوچکے ہو کہ یہ آوازیں اب مطلق تمھیں سنائی نہیں دیں گی۔

اس ترقی یافتہ صدی میں تہذیب کے پرزے اڑچکے ہیں۔ بازار اور خرید وفروخت نے انسانی زندگی کے معیار کو تبدیل کردیا۔ نئی صدی کے تیرہ برسوں میں اب یہ دنیا بہت حد تک بدل چکی ہے۔ اس لیے شائستہ فاخری ہوں، ترنم ریاض، تبسم فاطمہ ہوں، غزال ضیغم، نگار عظیم، یہاں بھی نئی کہانی عہد جدید کے انسان کی نئی تعبیرات کو لے کر سامنے ہے۔ یا اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ سماجی صورت حال نے کنفیوژن اور ڈپریشن کی جو فضا پیدا کی ہے، اس سے ہمارا فنکار بھی جنگ لڑتا ہوا نظر آتا ہے— ترقی پسندی اور حقیقت نگاری کے فلسفے کو کنفیوژن اور ڈپریشن کے اژدہے نگل چکے ہیں۔ کوری ترقی پسندی اب کہانیوں کا معیار ہے اور نہ ہی جدیدیت کی دھند کے ساتھ آزادیِ اظہار کو آواز دی جاسکتی ہے۔ اس کنفیوژن کو دیکھنا ہو تو شائستہ فاخری کے افسانوں کی مثال دی جاسکتی ہے۔ اداس لمحوں کی خود کلامی کی دنیا اور ہے اورانہی کی کہانی عالم خاک و بادو آب کی دنیا مختلف۔ اداس لمحوں کی خود کلامی عصمت چغتائی کے لحاف سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر ایک جوان لڑکی کے احساسات و ارتعاشات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے تو عالم باد و خاک و آب تصوف کی طرف مراجعت کی کوشش ہے۔ (یہ بھی پڑھیں  شموئل احمد : ادبی کائنات سے ستارے چننے والا – مشرف عالم ذوقی )

’’آپ ابھی تک کھلونے سے کھیلتی ہیں؟‘‘

’’نہیں میں پنک پینتھر سے کھیلتی نہیں، اس کے ساتھ سوتی ہوں۔‘‘

اچانک زینی کی نگاہ ہاسٹل کے باہر دائیں طرف رکھے بڑے سے سرکاری ڈسٹ بین پر گئی۔ جس میں کئی پینتھر کوڑے کے ڈھیر پر پڑے ہوئے تھے۔

’’ارے ، انھیں یہاں کس نے پھینکا۔‘‘

’’زینی جی، دکھانے کے لیے تو روبینہ علی کی موت کا بہت ماتم منایا گیا مگر سچائی یہ ہے کہ روبینہ علی کی موت سے مومنہ ادارے کی بہت بدنامی ہوئی ہے۔ اس لیے مومنائوں پر سختی بہت بڑھادی گئی ہے۔ ہر لڑکی پر کڑی نگاہ رکھی جانے لگی ہے۔ ہفتے میں ایک دن کمرے کی تلاشی لی جاتی ہے۔ تلاشی کے دوران زیادہ تر لڑکیوں کے کمرے سے یہ پینتھر نکلے۔ وارڈن کے حکم سے ان کو باہر پھینک دیا گیا ہے۔‘‘

زینی نے ٹارچ کی روشنی میں غور سے دیکھا۔ بے دردی سے انھیں چیرا پھاڑا گیا تھا۔ کسی پینتھر کے چہرے پھٹے تھے، کسی کی گردن دھڑ سے الگ کردی گئی تھی۔ بہت سے پینتھر ایسے تھے جن کی دونوں ٹانگیں بے رحمی سے چیر دی گئی تھیں۔ ‘‘

یہ بدلتے ہوئے وقت کا ڈپریشن ہے کہ گرلس ہوسٹل میں پنک پینتھر آجاتے ہیں۔ اور لڑکیاں پنک پینتھر میں زندگی کا سرور یا سواد و ذائقہ نہیں تلاش کرتیں بلکہ اس کی معرفت اپنے اس عہد تک رسائی حاصل کرتی ہیں جو زندگی سے رشتے کاٹ کر ایک اندھیری سرنگ میں اتر گیا ہے۔ اور اسی لیے شائستہ فاخری اپنی دوسری کہانی عالم خاک و باد و آب میں انسانی جبلت، سانحات، مصنوعی رجائیت، ان سب سے گھبرا کر تصوف کی آغوش میں پناہ لیتی ہیں۔ ایک ایسا مقام جہاںبندہ و خدا، عشق وعبادت، پیرو شاگرد کا رشتہ گم ہے۔ اورغور کیجیے تو اکیسویں صدی کے برہنہ جسم سے اردو افسانہ زندگی کے پر پیچ راستوں سے تصوف کی طرف سفر کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔

تبسم فاطمہ کی کہانی حجاب ایک باغی عورت کی کہانی ہے۔ جس نے زندگی ایک فرسودہ ماحول میں گزاری اور اسی ماحول سے وہ بغاوت کے اثرات کو لے کر بڑی ہوئی۔ لیکن زندگی میں ایک موڑ ایسا بھی ا ٓتا ہے جب اپنے نوجوان بیٹے کے مکالمے سے وہ عورت خود کو بغاوت کی جگہ حجاب کی قید میں محسوس کرتی ہے۔

’’نیٹ پر چلتے ہاتھ رک گئے ہیں… عظمی نے یہ سوال کیوں کیا؟ کیا وہ اس کے جواب سے دکھی ہے؟ دکھی ہے تو کیوں؟ میں واپس اس جگہ کو دیکھتی ہوں، جہاں کچھ دیر پہلے عظمی موجود تھا۔ اب وہاں کوئی نہیں ہے… لیکن اس کے لفظ مجھے ڈرا رہے ہیں…

اندر ایک ہلچل سی ہے۔ سائن آؤٹ کرتی ہوئی میں خاموشی سے ٹھہر جاتی ہوں— ایسا لگا جیسے برسوں بعد ایک بار پھر میرے بیٹے نے مجھے حجاب پہنا دیا ہو۔‘‘

ترنم ریاض کی کہانی ’ساحلوں کے اس طرف‘کی شیری اس نئی دنیا میں سانس لیتی ہے جہاں ’دامنیاں‘ حادثوں کا شکار ہورہی ہیں۔ اس مہذب دور میں ایسے واقعات ہماری طرح شیری کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ لیکن شیری اپنی سطح پر اس دنیا کے بارے میں الگ ہی خیال رکھتی ہے۔

’’کیا معلوم ایسا ہوا ہو کبھی… آخر کروڑوں برس بوڑھی یہ دنیا کون جانے کس کس خطے میں کتنی کتنی بار اجڑی اور بسی ہے۔ ایسا ہو تو سکتا تھا نا… یا میں کچھ صدی بعد دنیا میں آئی ہوتی… یا آنے والی دقتوں میں کبھی ایسا ہونا ہوتا… میں بہت بعد میں جنم لیتی اور۔ پھر… کبھی اپنے پاپا کی بیٹی میں… اس وقت صرف ماما کی رہ گئی ہوتی… اور پھر دوبارہ ایک نئی طرح کی یعنی اصل میں پرانی طرح کی دنیا بساتی… اور مجھے اس کے صلے میں… اتنی بڑی کامیابی کے بدلے… میری ان بانہوں کو ٹیٹو کیا جاتا اور میرا اچیومنٹ ان پر درج ہوتا ہے اور… اور… پھر… اور میرے فوسلز کسی گلیشئر میں جیوں کے تیوں حالت میں صدیوں بعد پائے جاتے… یعنی ماما کی بیٹی اور نانی کی نواسی… اور پرنانی کی… (اب جو بھی تھا) کسی مہم کے دوران اگر کسی گلیشئر میں دب جاتی… پھر پتہ چلتا… کہ میں نے اتنا بڑا کارنامہ کیا تھا۔ ‘‘

نئی دنیا اور فیمنزم کے موضوع پر اس سے بلند اور خوبصورت کہانی شاید ہی کہیں کسی اور زبان میں نظر آئے۔ ساحلوں کے اس طرف میں عورتوں کی کئی دنیائیں شامل ہیں اور کتنی ہی نسائی تحریکیں بھی اس کہانی کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں۔ مگر ایک موڑ ایسا آتا ہے جب شیری کو اپنا لہجہ تلخ کرنا پڑتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شہسوارِ رخشِ خامہ (مشرف عالم ذوقی کا خاکہ) – پروفیسر غضنفر )

’’ہوسکتا ہے اس سے پہلے مردوں نے سہا ہو… یا اس کے بعد سہنے والے ہوں… خواہ مخواہ…‘‘

’’فضول کی بحث مت کرو… تم جانتی ہی نہیں ہماری حیثیت کیا تھی۔ ترقی اور تہذیب پر فخر کرنے کے باوجود ہمیں کس کس طرح محروم رکھا گیا… شروعات میں ووٹ تک کا حق لینے میں ہمیں صدی بھر کا وقت لگا تھا۔ سب سے پہلے اٹھنے والی تانیثی آوازوں کو یورپ اور امریکہ جیسی جگہ میں دہائیوں چرچ سے ریکویسٹ کرنا پڑی تھی… پھر ساری دنیا میں پھیلا ہمارا موومنٹ… یا ساتھ ساتھ اپنے انداز میں دنیا بھر میں چلتا رہا… چل رہا ہے… یا چل رہا ہوگا۔‘‘

’’اوکے… بٹ پاپا…‘‘

’’یوئر پاپا… مائی فٹ… وہ بھی ویسا ہی نکلا تمہارا باپ… انسکیور… اے ٹیپکل میل شاوینسٹ…‘‘

’’اوکے… اب ماما… آپ لوگوں نے اپنے حقوق حاصل کرلیے نا… آپ اپنی ہر مانگ قانوناً پوری کراسکتی ہیں… اب میں…‘‘

شیری نے لمحے بھر کے لیے ماں کے گلے میں باہیں ڈال دیں۔ پھر اٹھ کر کھڑکی کے قریب چلی گئی۔

’’تو پھر مجھے بھی ماما… ایک موومنٹ شروع کرنا پڑے گی… اینٹی فیمنسٹ موومنٹ… آئی لو بوتھ آف یو…‘‘

اس نے چوکھٹ کے قریب لگی تصویر کے کانچ پر اپنی نرم نرم انگلیوں سے پاپا اور ماما کے چہروں کو چھوا اور پلٹ کر ماں کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔‘‘

ممتاز شیریں سے خدیجہ مستور، مسز عبدالقادر سے ہیجان انگیز کہانیوں والی حجاب امتیاز علی، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر سے واجدہ تبسم اور جیلانی بانو، رفیعہ منظورالامین، شمیم صادقہ، ذکیہ مشہدی سے  نئی خواتین افسانہ نگاروں تک، جو بغاوت کے تخم سفر میں کل موجود تھے، وہی آج بھی بدلی ہوئی صورتوں میں موجود ہیں۔ ممتاز شیریں جلتے ہوئے انگارے کی بارش کرتی ہیں، تو خدیجہ آنگن کے بٹوارے پر  سو سو آنسو بہاتی ہیں۔ مسز عبدالقادر سنجیدگی سے عورت کے وجود، بدلتے وقت اور بدلتے تیوروں کی بات کرتی ہیں، تو حجاب امتیاز علی ہیجان انگیز وادی میں پُراسرار واقعات کو یکجا کرکے خوش ہو جاتی ہے۔ یعنی ایک ڈراؤنے اور خوفناک ماحول میں یہ دنیا ایک ایسی علامت بن جاتی ہے، جہاں روحوں کا بسیرا ہے اور انسان صرف بھوت پریت… جو ایک دوسرے کو ڈرا دھمکا کر اپنا اُلّو سیدھا کررہا ہے۔

عصمت کا ’لحاف‘ والا واقعہ دوسرا تھا۔ عصمت نے ’لحاف‘ میں خوفزدہ پاگل ہاتھی دیکھ لیا تھا۔ پتہ نہیں یہ ان کے گھریلو ماحول کا اثر تھا یا مجبوری، یا سماج کی ستم ظریفی کا دباؤ۔ ’چوتھی کا جوڑا‘ سے ’چاچا چا بڑے‘ تک عصمت عورت سے متعلق کہانیاں تلاش کرتی رہیں اور اس لیے ’لحاف‘ کے اندر سے دیواروں پر رینگتے پاگل ہاتھی سے زیادہ کچھ بھی دیکھ پانے میں کامیاب نہیں رہیں۔

حقیقت میں یہ عصمت کی کہانیوں کا قصورنہیں تھا، بلکہ عصمت کی ’عورت‘ بغاوت کی جگہ خودسپردگی پر زور دے رہی تھی۔ قرۃ العین حیدر کی دنیا اِس تعلق سے تھوڑا الگ تھی۔ یعنی وہ عورت کے متعلق بہت حد تک الجھن بھری تھیں، یعنی اُن کی آپ بیتیوں میں عورت کے لیے ان کا جلا کٹا رخ ایسا تھا، جیسے کوئی گھمنڈی راجکماری اپنی داشتائوں کو نفرت بھری نظر سے دیکھ رہی ہے… چاہے اُن میں فلم ایکٹریس نرگس ہوں یا ثریا— قرۃ العین حیدر نے کبھی عورت کے مسائل کی پرواہ نہیں کی۔اُن کے پاس ماضی کا ایک جھروکا تھا۔ لکھنے کی ایک میز تھی اور اپنی تعریف کا جذبہ تھا۔ جس کے آگے پیچھے اُن کی آنکھیں کچھ بھی دیکھ سکنے کی حالت میں نہیں تھیں۔

واجدہ تبسم کا قلم ’ہور اوپر، ہوراوپر‘ سے آگے کبھی نہیں بڑھا، یعنی جس حد تک عورت کے ’ہور اوپرہور اوپر‘ کے تصور کو وہ چٹخارے دار الفاظ میں پیش کرسکیں، یعنی ’عورت‘ کی حصولی اُن کے نزدیک ’چٹخارے‘ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔

اس کے برعکس دیکھیں، تو جیلانی بانو، رفیعہ منظورالامین، شمیم صادقہ اور ذکیہ مشہدی کی کہانیوں کی فضا الگ تھی۔ ایک طرف جیلانی بانو جہاں انسانی مسائل کے درد، زمین کی زبان میں سنانے کی کوشش کررہی تھی، شکیلہ اختر عورت کو ڈائن بنانے والی وجہوں پر غورکررہی تھیں۔ شمیم صادقہ قابلیت کے سہارے عورت کی سائکی کی جانچ کررہی تھی۔

انگلینڈ، امریکہ وغیرہ میں بھی مسلمان خواتین افسانہ نگاروں کی کمی نہیں ہے، لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ آج ’مغربی‘ ہواؤں میں سانس لینے کے باوجود وہ ڈری سہمی مشرقی یا روایتی لڑکی سامنے آجاتی ہے۔ باہر کے کھلے پن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہتھیار وہی کالے کالے برقعہ بن جاتے ہیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک خود کو ڈھکے ہوئے، لالی چودھری سے لے کر بانو اختر، پروین لاشری، حمیدہ معین رضوی، سعیدہ سلیم عالم، عطیہ خاں، صفیہ صدیقی وغیرہ اپنی کہانیوں میں اُسی عورت کو زندہ کرنے میں ترجیح دیتی ہیں، جو مذہبی پابندیوں میں اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری میں زندگی بسر کرنے کو ہی شرعی راستہ جانتی ہوں۔

باہر کے رنگیں اور کھلے کھلے ماحول میں ذرا سی آزادی چرانے والی عورت کتنی محتاط ہو جاتی ہے، اس کا حوالہ آغا سعید (یہاں ایک مرد افسانہ نگار کی کہانی کا حوالہ جان بوجھ کر دے رہا ہوں)کی ایک چھوٹی سی کہانی ’تضاد‘ میں دیکھیے۔ لڑکی غیر ملکی ہے۔ کسی مرد نے اسے پھولوں کی ٹوکری بھیجی ہے۔

’’میں کہتی ہوں کہ اِن پھولوں کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی اور تم نے یہ پھولوں کی ٹوکری اور یہ گلابی کارڈ مجھے کیوں بھیجا؟ یہ تو خیریت ہوئی کہ میرے شوہر گھر نہیں تھے، ورنہ قیامت برپا ہو جاتی۔ میں کہتی ہوں کہ تم میرے کون ہو، جو تم نے ایسا کیا؟‘‘ یہ مس ’ت‘ کی آواز تھی۔ (یہ بھی پڑھیں قدیم آوازوں کی کٹنگ پیسٹنگ -مشرف عالم ذوقی )

’’نہیں، میں آپ سے کوئی چیز قبول نہیں کرسکتی۔ وہ بات محفلوں اور مشاعروں تک ہی ہے۔ میرے شوہر اِس کو پسند نہیں کرتے اور نہ میں پسند کرتی ہوں۔ مجھ سے غلطی ہوئی جو آپ کو بیماری کا بتایا۔ پھر آپ کوئی چیز بھیجنے کی تکلیف نہ کریں اور نہ ہی مجھے فون کریں۔‘‘  (’تضاد‘آغا محمد سعید)

یہ بے باکی کا موضوع نہیں ہے کہ باہر کی خونخوار آزادی اچانک اِن عورتوں کو اپنے ہی بنائے گئے پنجرے میں رہنے پر مجبور کیوں کردیتی ہے؟ جبکہ ایشیائی ممالک میں رہنے والیاں اسی پنجرے کو توڑنے میں اپنی تمام صلاحیت خرچ کردیتی ہیں۔ کیا یہ ’بکنی چولی‘ کا ڈر ہے، یا تہذیب کے خاتمے کا اثر ہے؟ جیسا کہ کشور ناہید کی کتاب ’بُری عورت کی کتھا‘ میں اس کا ایک مستری دوست کہتا ہے …

’’میری ماں برقعہ اوڑھتی تھی، مگر میری بیٹی بکنی پہنتی ہے۔‘‘

کنڈوم تہذیب سے گھبرائے لوگ سیدھے سیدھے اپنی تہذیب یا مذہب کے سائے میں لوٹ آتے ہیں، دیکھا جائے، تو بدلا کچھ بھی نہیں ہے، ہاں، تبدیلی کی آگ کچھ دیر کے لیے بغاوت کی ایک ’چنگاری‘ کو جنم دے کر پھر سے بجھ جاتی ہے۔ 1903 میں رقیہ سخاوت حسین، ’سلطانہ کا سپنا‘ لکھتی ہیں، تو ساری بغاوت، مردوں سے لیا جانے والا مورچہ صرف خواب کی حد تک ہوتا ہے۔ عورت مرد سے بغاوت بھی کرتی ہے، تو خواب میں___ رقیہ سخاوت حسین سے آگے بڑھیں اور آج کی کہانیوں کا جائزہ لیں تو فیمنسٹ موومنٹ سے لے کر بغاوت اور نئی نسائی فکرکی کہانیاں سامنے آرہی ہیں۔

عورت آج برانڈ بن چکی ہے۔ ایک ایسا برانڈ، جس کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے اپنے پروڈکٹ کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے عورتوں کی مدد لیتی ہیں۔ چاہے وہ جنیفیر لوپیز ہوں، ایشوریہ رائے یا سشمتا سین۔سوئی سے صابن اور ہوائی جہاز تک، بازار میں عورت کی مارکیٹ ویلیو، مردوں سے زیادہ ہے۔ سچ پوچھیے تو تیزی سے پھیلتی اس مہذب دنیا، گلوبل گائوں یا اس بڑے بازار میں آج عورتوں نے ہر سطح پر مردوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے___ یہاں تک کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف میں بھی عورتوں کے حسن اور جسمانی مضبوطی نے صنف نازک کے الزام کو بہت حد تک ردّ کردیا ہے۔ یعنی وہ صنف نازک تو ہیں لیکن مردوں سے کسی بھی معنی میں کم یا پیچھے نہیں۔ صدہا برسوں کے مسلسل جبروظلم کے بعد آج اگر عورت کا نیا چہرہ آپ کے سامنے آیا ہے تو یقینا آپ کو کسی غلط فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عورت آپ اور آپ کی حکومت کی بیڑیاں توڑ کر آزاد ہونا چاہتی ہے___ اور اب آپ اسے روک نہیں سکتے۔

سیکڑوں، ہزاروں برسوں کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے توآج کی عورت کافی حد تک تبدیل ہوچکی ہے۔ حقارت، نفرت اور جسمانی استحصال کے ساتھ مردکبھی بھی اسے برابری کا درجہ نہیں دے پایا___ عورت ایک ایسا ’جانور‘ تھی جس کا کام مرد کی جسمانی بھوک کو شانت کرنا تھا اور ہزاروں برسوں کی تاریخ میں یہ ’دیوداسیاں‘ سہمی ہوئی، اپنا استحصال دیکھتے ہوئے خاموش تھیں___ کبھی نہ کبھی اس بغاوت کی چنگاری کو تو پیدا ہونا ہی تھا۔ برسوں پہلے جب رقیہ سخاوت حسین نے ایک ایسی ہی کہانی ’مرد‘ کو لے کر لکھی تھی۔ رقیہ نے عورت پر صدیوں سے ہوتے آئے ظلم کا بدلا یوں لیا کہ مرد کو، عورتوں کی طرح ’کوٹھری‘ میں بند کردیا اور عورت کو کام کرنے دفتر بھیج دیا۔ عورت حاکم تھی اور مرد آدرش کا نمونہ___ ایک ایسا ’دو پایا مرد‘، جسے عورتیں، اپنے اشاروں پر صرف جسمانی آسودگی کے لیے استعمال میں لاتی تھیں۔ سچ پوچھیے تو میں عورت کو کبھی بھی دیوداسی، بڑنی، سیکس ورکر، نگر بدھو، گنیکا، کال گرل یا بارڈانسر کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ پیدا ہی نہ کرسکا۔ بادشاہوں یا راجے مہاراجاؤں کی کہانیوں میں بھی ملکہ یا مہارانی کے ’رول ماڈل‘ کا میں سخت مخالف رہا۔ میں نہ اسے شہزادی کے طور پر دیکھ سکا، نہ ملکہ عالم یا مہارانی کے طور پر وہ مجھے مطمئن کرسکیں___ کیونکہ ہر جگہ وہ مردانہ سامراج کے پنجوں میں پھنسی کمزور اور ابلا نظر آئیں۔خواہ انھو ں نے اپنے سر پر ملکہ کا تاج یا شہزادیوں سے کپڑے پہن رکھے ہوں۔ تاریخ اور مذہب کی ہزاروں برسوں کی تاریخ میں، خدا کی اِس سب سے خوبصورت تخلیق کو لاچار، بدحال اور مجبوری کے ’فریم‘ میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔

ترنم ریاض، شائستہ فاخری کی کہانیاں دیکھیں تو یہاں نئے سماج اور معاشرے کی بدلی ہوئی عورتیں ملیں گی—  یہاں رشتوں کا تعلق بھی نئے سوالات ومباحث کو سامنے لاتا ہے۔ مرد تخلیق کاروں کی کہانیوں میں شاید یہ عورت آج بھی وہیں موجود ہے۔ اس لیے یہ تبصرہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے کہ مرد اپنے جنون اپنی وحشت میں عورت کو نئی تبدیلیوں کی سطح پر آج بھی دیکھنے کو تیار نہیں۔ واجدہ تبسم کی ہور اوپر اور اترن سے یہ عورت آگے بڑھ کر بغاوت کے نئے راستوں کو تلاش کررہی ہے اور ہمارا مرد افسانہ نگار ابھی اسے گھر چوکھٹ کی دہلیز سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔ بہر کیف، دس بارہ برسوں کی کہانیوں میں تخلیقی تجربے کی سطح پر عورت کا نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔

نئی صدی میں مرد عورت کے مابین فرق کی لکیر کو میں جائز قرار نہیں دیتا۔ لیکن میری دلچسپی اس بات میں بھی تھی کہ اردو فکشن میں مرد افسانہ نگاروں کی تحریروں میں عورت کا بدلا ہوا چہرہ نظر کیوں نہیں آرہا۔ بہر کیف اس بحث ومباحث سے آگے نکلتے ہیں۔ اردو میں خواتین افسانہ نگار کم ہیں۔ اس لیے میں نے اپنی گفتگو کو بہت حد تک عورتوں کے مسائل پر مرکوز کرنے کی سعی کی۔ عبدالصمد، غضنفر،    حسین الحق، شوکت حیات، احمد صغیر، نور الحسنین کی کہانیاں بھی ان بارہ تیرہ برسوں میں بہت حد تک تبدیل ہوئی ہیں۔ مسیحا میں احمد صغیر دہشت اورخوف کی فضا میں نئے مکالموں کوجنم دیتے ہیں۔ غضنفر نے ان دنوں حکایتوں اورداستانوں سے دوستی کرلی ہے۔ رحمان عباس کی کہانیاں مہذب دنیا اور خدا کے وجود سے مکالمہ کرتی نظر آتی ہیں۔

31 دسمبر 1999 کی رات اچانک پرانا دور ختم ہوگیا یا نئے عہد کی شروعات ہوگئی—

کہتے ہیں کہ جنگوں کے بطن سے نئی تہذیبیں جنم لیتی ہیں۔

ایک درخت بوڑھا ہوتا ہے ، مرجاتا ہے۔ نئی شاخیں، نئی کونپلیں جنم لیتی ہیں—

ہم والٹیر کے شہرہ آفاق کردار استاد پانگلوس کی طرح سوچتے ہیں۔ جو ہوگا اچھا ہوگا، یا جو سامنے آئے گا بہتر ہوگا—ہم ایک نئے عہدمیں داخل ہوچکے ہیں۔ ہیرو شیما اور ناگاساکی کی کہانیاں اب ان نئے بچوں کو یاد نہیں ہیں۔ اہل دانش و بصیرت بھلے ہی جنگ عظیم کی تاریخوں سے آج کی صورتحال کا جائزہ لیں مگر یہ نئی نسل آج جس دنیا سے گزر رہی ہے وہ زیادہ خوفناک ہے۔ نئی کہانی تخلیقی تجربوں میں خوف وتشکیک کے ان پہلوئوں پر بھی غور کررہی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں نئے افسانہ نگار سے دو باتیں – مرزا حامد بیگ )

سنہ 2013 آتے آتے اردو دنیا کی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔ وہ دنیا میں جس کے بارے میں حد سے زیادہ مایوس ہوچکا تھا، یکایک مجھے زندگی کی رمق دکھائی دینے لگی— اذکار، اثبات، تحریر نو، تحریک ادب ایک ساتھ کئی ادبی رسائل کی یلغار ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو تین برسوں میں نئے لکھنے والوں کا ایک قافلہ آ گیا— اچھی بات یہ تھی کہ اردو کہانی ابھی بھی اپنے محدود کینوس میں مقید نہیں تھی، بلکہ اس کی نظر عالمی مسائل پر بھی تھی۔ اس لیے یحییٰ نشیط سے نسیم ساکیتی تک ایسے لوگ بھی سامنے آ رہے تھے جو کوپن ہیگن میں ماحولیات کی ناکامی پر بھی افسانہ رقم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جو فضا میں پھیلتے کاربن مونو آکسائیڈ کی تشویش ناک صورتحال کو بھی دیکھ کر افسانے لکھ رہے تھے اور ساتھ ہی بھوک، دہشت گردی، نکسل واد کے مسائل کو عالمی افق پر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے— اسی عالمی نقشہ پر پانی بھی مسئلہ ہے اور دیکھیے رضوان الحق نے کس خوبصورتی سے اس مسئلے کو اپنے افسانہ، تعاقب، میں پیش کیا ہے—

’’گلوب کے تعلق سے اس کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ جب وہ شدید ذہنی انتشار میں ہوتا ہے تو اس گلوب کو بہت تیزی سے گھمانے لگتا ہے۔ پھر کوئی ملک اپنی سرحد کے ساتھ نظر نہیں آتا ہے، تمام سرحدیں مٹ جاتی ہیں اور صرف عالمی جغرافیہ رہ جاتا ہے، اس جغرافیہ میں پہاڑ، جنگل، جھیلیں، چرند پرند، آسمان، آسمان پر اڑتے ہوئے بادل اور دور تک پھیلا ہوا سمندر، سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ اس کا جی چاہتا ہے کہ یہ گلوب ہمیشہ اسی رفتار سے گھومتا رہے اور تمام سرحدیں ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں۔ صرف عالمی جغرافیہ بچے۔ گلوب دیکھتے ہوئے ایک سوال اسے بہت پریشان کرتا ہے کہ دنیا کا تقریباً دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ پھر بھی دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ زندگی کرنے کے لیے ضروری پانی سے کیوں محروم ہے؟

در اصل بے حد خاموشی سے فنکار عالمی مسائل کو اپنے مسائل سے جوڑ کر ایک نیا زاویہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے آج اردو کہانی میں پہلے سے کہیں زیادہ انسانیت، امن و آشتی اور دہشت گردی پر مبنی تجزیاتی کہانیوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ شائستہ فاخری، ترنم ریاض، رحمن عباس، اسرار گاندھی اور صدیق عالم کی کہانیوں میں ایسے مسائل کی تڑپ دیکھی جاسکتی ہے۔

’’اس وقت صرف انسان زندہ رہ گیا تھا، باقی سب کچھ مر گیا تھا۔ آج صرف انسان مر گیا ہے باقی سب کچھ زندہ ہے۔ کیا ہوگیا ہے اس شہر کو؟ پہلے ایسے حادثات تو کبھی نہ ہوئے تھے، سنو، میری بھی رائے یہی ہے کہ شام کو جب تھوڑی دیر کے لیے پہرے ہٹیں تم کسی محفوظ جگہ چلے جاؤ۔ میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی۔‘‘   اسرار گاندھی (راستے بند ہیں)

’’میں کسی فرشتے میں یقین نہیں رکھتا۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے کہتا ہے۔ ’’کیونکہ میں جاتنا ہوں اب ہم انسان ایسی چیز نہیں رہے کہ اس کے لیے کوئی فرشتہ خدا کی طرف سے پیغام لے کر اترے۔ شاید ہمیں اب اس کے بغیر ہی کام چلانا ہوگا۔ یوں بھی جب اتنی ساری کھائیاں ہمارے چاروں طرف بن چکی ہوں تو انھیں لانگھنا تو پڑتا ہی ہے، چاہے اس کوشش میں ہم اس کی نذر ہی کیوں نہ ہوجائیں۔‘‘

(صدیق عالم- الزورا)

یہاں اعتبار کی بجھتی ہوئی قندیل ہے—انسان یا انسانیت کو زندہ دیکھنے کی ایک موہوم سی امید ہے— خدا کی ذات سے منکر ہونے کی کیفیت ہے— اور یہ تمام کیفیتیں اس نئے بحران سے پیدا ہوئی ہیں، جو ہمارے سامنے ہے— جہاں راستے گم ہیں— اور زندگی اپنے معنی و مفہوم گم کر چکی ہے—

ایک بھیانک دنیا— کچھ عجیب سے سچ— اور تماشا دیکھنے والے ہم— سماجی آئین سے الگ ایک نئی اخلاقیات سامنے آچکی ہے— آسٹریلیا کے حوالے سے ایک خبر آئی کہ ایک شیرنی، ایک چھوٹی سی بلی کی محافظ بن گئی— انگلینڈ کے ایک جنگل میں کتے اور بھالو ساتھ ساتھ کھیلتے پائے گئے— دنیا کے سب سے چھوٹے ماں باپ 15 سال کے بچے ہیں— نئی تکنالوجی سائبر ورلڈ، ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور پگھلتے ہوئے گلیشیرس— نیوزی لینڈ کی عورت نے اپنے گھر سے دو بھوت پکڑے— ایک بوتل میں بند کیا اور آن لائن خریدار مل گئے— ہم ایک ایسے عہد میں ہیں جہاں کچھ بھی فروخت ہوسکتا ہے— در اصل ہمیں انفرادی و اجتماعی طور پر حیوان بنانے کی تیاری چل رہی ہے—نئی قدریں تشکیل پا رہی ہیں۔ سپر مارکیٹ، انڈیا شائننگ اور 2050 تک انڈیا کو سب سے بڑی طاقت کے طور پر پیش گوئی کرنے والے بھی نہیں جانتے کہ وہ اس پؤر انڈیا کو کہاں لے آئے ہیں— کمرشیل ٹی وی شوز سیکس کی آزادی کا پیغام لے کر آ رہے ہیں اور تہذیب بلاسٹ کر چکی ہے— اور دوسری طرف ڈی ان اے، جینوم، کرومو سوم اور جین کے اس عہد میں تہذیب و تمدن کی نئے سرے سے شناخت ہو رہی ہے کہ سب سے قدیم انڈین کون تھے— دراوڑ یا انڈمان جزائر میں رہنے والے— یا پھر منگولیائی—  جہاں ایک طرف کینسر‘ ایڈز، ڈائبٹیز اور ہارٹ اٹیک پر فتح پانے کے لیے میڈیکل سائنس کے نئے دروازے کھل رہے ہیں— اور یہیں کامن ویلتھ گیمس کے لیے ایک بڑی آبادی بھوکوں مار دی جاتی ہے— یہاں آئی پی ایل کے بلّے چمکتے ہیں— اور نندی گرام میں کسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے—

یہ وہ موضوعات ہیں، جس نے ہمارے تخلیقی فنکار کو بے چین کردیاہے۔ آج کی کہانیاں کنفیوژن، ڈپریشن کے ساتھ تضاد کا بھی شکار ہیں اور یہ بھی اس عہد کی دین ہے—

پاکستان کے مشہور افسانہ نگار اور ناقد مبین مرزا نے اکیسویں صدی میں جدید اردو افسانے کے تخلیقی نقوش میں گہرائی و گیرائی سے موجود افسانوی منظرنامے کا جائزہ لیا ہے اور اس نتیجہ پر لیے ہیں۔

’’چنانچہ ان آخری سطور میں اس احساس کا اظہار بے جانہ ہوگا کہ اکیسویں صدی کے اردو افسانے کے مطالعے کے زمرے میں کچھ دوسرے پہلو اور زاویے ایسے ہیں یا ہوسکتے ہیں جن پر بات کی جانی چاہیے۔ یا یہ کہ آئندہ کی جائے گی۔جان راک ویل نے ادب کے قاری کو مشورہ دیا تھا کہ کسی دور یا کلچر کی اقدار کو ادب کے ذریعے سمجھنا مقصود ہو تو ادیب کے مقصد و منشا کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمارے نزدیک ایک عہد کی تنقید اپنے فکری، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تناظر میں اسی کوشش سے عبارت ہوتی ہے۔

اس مطالعے کے نتیجے کے طور پر یہ بات نہایت وثوق اور پوری دیانت داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس عہد کا افسانہ اپنے سماج اور تہذیب کے حقائق سے ہر گز رو گردانی نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ فرد اور سماج کے باہمی رشتے اور اس پر اثر انداز ہونے والے سیاسی، اخلاقی، نظریاتی، ثقافتی اورمذہبی مظاہر کے شعور سے بہرہ مند ہے۔ افسانے میں اس شعور کا اظہار انسانی جذبہ و احساس سے معمور اور زندہ تجربات کے ساتھ ہوا ہے۔ کسی عہد کے ادب کے اثبات کے لیے یہ جواز اور سند کافی ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ آج ادب اور خصوصاً افسانے کے باب میں زوال کی نشانیاں ڈھونڈنے والے کم علم اور سادہ نظر نقاد اصل میں احمقوں کے جہنم میں جیتے ہیں اور اپنے کسی ذاتی اور جذباتی ہیجان کو افسانے کی نفی یا ناکردہ کاری کے غلغلے سے آسودہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

دراصل یہ عہد سادہ نظر تخلیق کاریا نقاد کا ہے ہی نہیں۔ مبین مرزا بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آج کی کہانیاں محض سپاٹ بیانیہ یا محض کرداروں کے سہارے یا محض جدیدیت کی دھند کے ساتھ سفر نہیں کرسکتیں۔ غصہ، ارتعاش، کنفیوژن اور ڈپریشن کے اس عہد کو نئی کہانیوں کی سوغات چاہیے اور مبین مرزا کی بات مانیں تو فکشن کے لیے اب ایک ساتھ کئی مصالحے چاہئیں۔ مغرب میں بھی فکشن تذبذب اور فکری تضاد کا شکار ہے اور یہی بیماری بر صغیر کو بھی لگ چکی ہے۔ اور شاید اسی لیے تخلیقی تجربوں کی سطح پر ایک وسیع دنیا ہمارا انتظار کررہی ہے جہاں لاسمتی ہے، وحشت ہے۔ سائبر کیفے ہے۔ انٹرنیٹ ہے۔ وائرس ہے۔ ایڈز اور کینسر ہے۔ بڑی مچھلیاں اور چھوٹی مچھلیاں ہیں۔ دہشت گردی ہے۔ سماج و سیاست کا نیا نظام ہے۔ اور ایک خوفناک گلیشیئرہے جو بہتا ہوا ہماری طرف لپک رہا ہے۔ اور ہم اسی نئی صورتحال سے نئی کہانیاں تخلیق کرنے پر مجبور ہیں۔

Musharraf Alam Zauqi

 

 

 

 


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

مشرف عالم ذوقی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نئے افسانہ نگار سے دو باتیں – مرزا حامد بیگ
اگلی پوسٹ
بہرائچ تاریخ کے آئینہ میں – جنید احمد نور

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں