Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

گمشدہ ساعتیں اور صلاح الدین پرویز – محمداکرام

by adbimiras اکتوبر 8, 2021
by adbimiras اکتوبر 8, 2021 2 comments

27 اکتوبر 2011 کو جب صلاح بھائی کے انتقال کی خبر ملی تو میرا دل دھک سے رہ گیا۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کے ساتھ ساتھ 20 اکتوبر 1998 کا وہ دن یاد آگیا جب میں جامعہ سلفیہ بنارس سے فضیلت کرکے دہلی آیا تھا اور ڈی ٹی پی کمپیوٹر کورس میں داخلہ لے لیا تھا۔ 1999 کے وسط میں ریحان عباسی صاحب کے دفتر افراح کمپیوٹر سینٹر(بٹلہ ہاؤس)  میں مجھے ملازمت مل گئی۔ کچھ دنوں کے بعد زبیر رضوی جیسے ممتاز شاعر سے ملاقات ہوئی جن کی زبان سے فلم ، موسیقی کی باتیں میں نے سنیں۔ ریحان عباسی صاحب مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ انھیں جانتے ہی ہوں گے یہ فلمو ںمیں گانے وغیرہ بھی لکھتے ہیں۔ ریحان عباسی صاحب کے سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، اس لیے میں اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ پھر اس طرح کی باتیں روزمرہ کا حصہ بن گئیں۔

سنہ 2000 کا واقعہ ہے جب صلاح الدین پرویز کے ذہن میں سہ ماہی رسالہ ’استعارہ‘ نکالنے کا خیال آیا۔ یہ خبر ادبی حلقوں میں گشت کرنے لگی۔ ایک دن دفتر میں زبیر رضوی کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے کہ صلاح الدین پرویزکا ذکر آگیا۔وہاں پرویز صاحب اور ان کے رسالے کے تعلق سے کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔

اتفاق سے  ایک دن صلاح الدین پرویز سہ ماہی ’استعارہ‘ کے پہلے شمارے کے کچھ حصے کی کمپوزنگ کے سلسلے میں اپنے دوستوں حقانی القاسمی، شعیب رضا فاطمی کے ہمراہ عباسی صاحب کے دفتر حاضر ہوئے۔ کام کے سلسلے میں عباسی صاحب سے کچھ باتیں کیں اور واپس چلے گئے۔لیکن آنے جانے کا سلسلہ میگزین کے مکمل ہونے تک جاری رہا۔ یہ اور بات کہ صلاح الدین پرویز افراح کمپیوٹر سینٹر کے اندر کم ہی آتے تھے۔ کچھ عرصے بعد دوسرے شمارے کے سلسلے میں پھر ان لوگوں کا دفتر میں آنا ہوا۔ اسی درمیان صلاح الدین پرویز کے دوست اور سہ ماہی ’استعارہ‘ کے شریک مدیر  حقانی القاسمی مجھے باہر بلا کر لے گئے جہاں صلاح الدین پرویز بھی موجود تھے، انھوں نے مجھے استعارہ کے دفتر میں ملازمت کی پیشکش کی۔ پہلے تو میں ہچکچایا کیونکہ صلاح الدین پرویز کے بارے میں میں نے بہت سی بے سروپا باتیں سن رکھی تھیں، میں یہ کہہ کر دفتر واپس آگیا کہ سوچ کر بتائیں گے۔ بالآخر کچھ غور و خوضـ کے بعد ہم نے انھیں اگلی ملاقات میں اثبات میں جواب دیا اور پھر ہم بھی ان کے دفترکا ایک حصہ بن گئے۔

استعارہ  کے دفتر میں پہلے ہی دن مجھے کافی سکون محسوس ہوا۔ یہاں آفس کا ماحول کم گھریلو ماحول زیادہ تھا، صلاح بھائی نے مالک اور ملازم کے بیچ کا فاصلہ کبھی رکھا ہی نہیں کیونکہ ان کا رویہ ہمیشہ دوستانہ رہا۔میں نے اکثر انھیں خوش دیکھا، اگر کبھی ان کا دل رنجور بھی ہوا تو یہ فرق کرنا مشکل ہوتا تھا کہ وہ غمزدہ ہیں۔ حالانکہ وہ دوسروں کے چہرے کی اداسی کو فوراً ہی بھانپ لیتے تھے۔ اگر ہم میں سے کسی کو اداس دیکھتے تو کہتے، میری جان! اداس کیوں ہو، کوئی پریشانی ہے کیا، کوئی بھی بات ہو کھل کر بتاؤ، میں تمھارا بڑا بھائی ہوں نہ کہ تمھارا باس!(’میری جان‘ صلاح الدین پرویز صاحب کا تکیہ کلام تھا)۔

ادبا اور شعرا کی آمد سے استعارہ کے دفتر میں ہر وقت جشن کا ماحول رہتاتھا، مہمانوں کے لیے چائے اور کھانے کا معقول انتظام رہتا تھا۔کبھی کبھار لوگ بلاضرورت بھی استعارہ کے دفتر میں حاضر ہوجاتے اور چائے کی چسکیوں کے ساتھ صلاح الدین پرویز کی دل موہ لینے والی باتوں سے محظوظ ہوتے رہتے، کیونکہ پرویز صاحب کو ان مہمانوں کی آمد سے قلبی سکون ملتا تھا۔ آفس میں آنے کے بعد اگر کبھی آفس کو مہمانوں سے خالی دیکھتے تو ان کا دل اچاٹ سا ہوجاتا اور وہ جلد ہی دفتر سے اپنے گھر ذاکر باغ واپس لوٹ جاتے۔دفتر سے گھر واپسی پر وہ ہم لوگوں (حقانی القاسمی، احمد صغیر اور راقم الحروف) کو اپنی کار میں بٹھا لیتے، کبھی تکونا پارک تو کبھی غفار منزل کے موڑ پر چھوڑدیتے، پھر وہاں سے ہم لوگ پیدل اپنی اپنی قیام گاہ کو روانہ ہوجاتے۔ (یہ بھی پڑھیں تاریک راہوں کے چراغ – محمد اکرام )

صلاح الدین پرویز نہایت مخلص، ہمدرد، خوش اخلاق، خوش مزاج، خوش اطوار، خوش وضع، خوش طبع  تھے، ہم انھیں جتنے بھی القاب سے یاد کریں کم ہے۔ ملازمت کے دوران صلاح الدین پرویز کو بہت قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع  ملا۔  میرے دل میں ان کے بارے میں جو شکوک و شبہات تھے وہ سب ایک ایک کرکے ختم ہوگئے اور فارسی کا یہ شعر ذہن میں گردش کرنے لگا کہ ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘کسی بھی شخصیت کے بارے میں کسی سے سن کر کوئی فیصلہ کرنابہت بڑی حماقت اور بھول ہے۔ شاید اسی لیے اچھے اور برے اشخاص میں تمیز کے لیے شریعت نے بھی کچھ اصول و ضوابط بیان کیے ہیں۔

صلاح الدین پرویز جیسے مخلص انسان سماج اور معاشرے میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ یہ وہ درد مند انسان تھا جس کا دل دوسروں کے درد کو دیکھ کر تڑپ اٹھتا تھا، کسی غریب، مفلس اور مجبور کو دیکھتے ہی مدد کے لیے وہ ہمہ وقت تیار رہتے۔ غریبوں کی مدد کے سلسلے میں ان کا یہ حال تھا کہ بغیر دیکھے ہوئے جو بھی جیب سے نکلتا اس کے حوالے کردیتے۔بہت سے مسکین اور محتاج ایسے بھی تھے جو شاید صلاح الدین پرویز کے انتظار میں رہتے تھے۔ ان میں ایک بزرگ مسکین غفار منزل گلی نمبر1 کے موڑ پر اس امید پر بیٹھا رہتا کہ صلاح الدین پرویز جیسا فیاض اور سخی آدمی ابھی یہاں سے گزرے گا۔ اس بزرگ، فقیر  سے صلاح بھائی کو بھی اتنی محبت ہوگئی تھی کہ جب وہ نظر نہ آتا تو بہت اداس لہجے میں پوچھتے کہ ذرا پتہ کرو انھیں کچھ ہو تو نہیں گیا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ استعارہ کے ایک شمارے کا انتساب انھوں نے غفار منزل کی سڑک پر بیٹھے اس فقیر کے نام کچھ اس طرح کیا تھا ’’غفار منزل کی سڑک کے کنارے بیٹھنے والے اس بوڑھے فقیر کے نام جو بھیک مانگ کر اپنے بچے کو اردو کی تعلیم دلا رہا ہے۔‘‘

بہت سے ادیب و شاعراپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے ہر مہینے صلاح بھائی کے دفتر پہنچتے اور انھوں نے کبھی کسی کو مایوس واپس نہیں ہونے دیا ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو صلاح الدین پرویز کی فیاضی کا ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔ بہت سے رسالے تھے جو صلاح الدین پرویز کی مالی معاونت سے شائع ہوتے تھے۔ اپنی دولت انھوں نے دوسروں پر بے دریغ لٹائی، اس عمل سے شاید صلاح الدین پرویز کو ذہنی اور قلبی سکون ملتا تھا۔ یہ ساری عادتیں ایک فرشتہ صفت انسان کے اندر ہی ہوسکتی ہیں۔

دہلی ہی نہیں صلاح الدین پرویز ہندوستان میں جہاں جہاں بھی سفر کرتے، وہ اپنے رشتے داروں، دوست و احباب میں اپنی فیاضی اور رحم دلی کے لیے مشہور تھے۔ اسی طرح کے ایک واقعے کو یاد کرتے ہوئے علی گڑھ کے پروفیسر شہریار نے لکھا تھا:

’’میرے تئیں ان کا احترام علی گڑھ میں افواہ کے طور پر مشہور ہے، اسی لیے جب بھی وہ علی گڑھ آتے ہیں، لوگوں کا تانتا میرے گھر بندھ جاتا ہے۔ کام صلاح الدین پرویز سے سفارش کرنا ہوتا ہے۔ میں لاکھ لاکھ کہتا ہوں کہ میں بہت سے لوگوں کی سفارش کرچکا ہوں۔ میرے کہنے یا لکھنے کا کوئی اثر نہ ہوگا لیکن میری کوئی نہیں سنتا۔ ہر شخص یہی کہتا ہے کہ وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے۔ لوگوں کے اس یقین کے ذمے دار خود صلاح الدین پرویز ہیں۔ وہ بھی سب سے یہی کہتے ہیں کہ ’’میں شہریار صاحب کی بات نہیں ٹالوں گا۔‘‘ ویسے ایمانداری کی بات یہ ہے کہ مجھے اس کی بالکل خبر نہیں کہ میرے کہنے یا لکھنے سے کسی کا بھلا ہوا بھی کہ نہیں۔ ہاں یہ بات میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ صلاح الدین عادتاً فیاض اور مزاجاً رحم دل انسان ہیں۔ بمبئی میں چند ماہ رہنے اور دولت مندوں سے ملنے جلنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دولت کو انسانیت سے بیر ہے۔ صلاح الدین کے یہاں صورت برعکس دیکھتا ہوں تو یقین نہیں آتا…‘‘

ادبا اور شعرا کی صلاح الدین پرویز بے حد عزت اور خاطر تواضع کرتے تھے۔ سمیناروں میں تو صلاح الدین پرویز کا کم ہی آنا جانا ہوتا تھا۔ البتہ دہلی میں کوئی سمینار منعقد ہوتا اور دوسرے شہروں سے جو بھی سمینار میں شرکت کے لیے آتے، تو صلاح الدین پرویز کے گھر کا دروازہ ان کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا۔پاکستان کے ادیبوں کی تو صلاح الدین پرویز  خاص طور پر ضیافت کرتے۔ ان کے قیام و طعام کا حتی الامکان صلاح الدین پرویز انتظام کرتے۔کبھی کبھار مہمانوں کی اپنے شہر واپسی پر انھیں تحفے تحائف سے بھی نوازتے۔ (یہ بھی پڑھیں  میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے – محمد اکرام )

صلاح الدین پرویز کی فیاضانہ صفت کو دیکھتے ہوئے آپس میں لوگ چہ میگوئیاں کرتے کہ میگزین نکالنا تو ہر زمانے میں گھاٹے کا سودا رہا ہے پھر صلاح الدین  پرویز کے پاس کیا کوئی پیسے والا درخت ہے جہاں سے پرویز کو یہ پیسے حاصل ہوتے ہیں۔ کسی رسالے کے دفتر میں جائیں تو وہاں بیٹھنے کی جگہ نصیب نہیں ہوتی، ضیافت تو دور کی بات ہے لیکن صلاح الدین پرویز کے دفتر میں مہمانوں کی اس قدر آؤ بھگت ہوتی کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ کوئی اُردو رسالے کا دفتر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی بزنس مین کا آفس ہے۔تفریحاً صلاح الدین پرویز بھی کبھی کبھی اپنے دوست و احباب سے کہتے کہ یار رسالے کے خریدار تو بناؤ، اور خریدار بھی مجھے لائف ٹائم کا چاہیے۔ ان کے دوست صلاح الدین پرویز کی نیت کو بھانپ جاتے تھے۔ پھر بھی اگر کوئی رسالے کا پیسہ دیتا تو صلاح الدین پرویز یہ کہہ کر واپس کردیتے کہ یار میں تو مذاق کررہا تھا۔ تمھارا بھائی اتنا کمزور نہیں ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے پیسے سے رسالے کا سلسلہ جاری رکھے۔ کبھی کبھی تو یہ بھی ہوا کہ 400 روپے سالانہ خریدار بنانے کے لیے وہ 2000 سے زیادہ خرچ کردیتے تھے اور بعد میں خوش ہوکر کہتے کہ دیکھو میں نے اتنے خریدار بنا لیے۔بارہا صلاح الدین پرویز کو تو یہ بھی کہتے سنا گیا ہے کہ میرا رسالہ نکالنے کا مقصد شہرت نہیں بلکہ وقت گزاری ہے۔ اسی بہانے میں کچھ اپنی سناتا ہوں تو کچھ دوسروں کی سن لیتا ہوں اور اس عمل سے مجھے ذہنی اور قلبی سکون ملتا ہے۔

صلاح الدین پرویز کوتصوف سے بے حد لگاؤ تھا۔ روحانیت ان کی طبیعت میں رچی بسی ہوئی تھی۔جب وہ کوئی اہم کام کی شروعات کرتے تو حافظ کے دیوان سے فال نکلواتے۔ جلال الدین رومی سے انھیں بے حد عقیدت تھی۔تصوف اور بھکتی کا جب بھی ان کے یہاں ذکر ہوتا تو یہ نام ان کی زبان پر ضرور آتا۔ہندوستان میں بھی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری  اور محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء  سے وہ عقیدت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پرویز صاحب اجمیر اور دلی کی اکثر زیارت کرتے رہتے تھے۔دہلی آپ کی جائے سکونت تھی اس لیے اکثر جمعرات کو نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر آپ کی حاضری ضروری تھی۔

آشفتہ چنگیزی نے اپنے ایک مضمون میں صلاح الدین پرویز کی روحانی عقیدت مندی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’صلاح الدین کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ہندوستان چھوڑنے سے پہلے حضرت نظام الدین اولیاء سے اجازت لینے ضرور جاتے ہیں۔ وقت بہت تنگ تھا۔ یونس دہلوی صاحب آخری ملاقات کی غرض سے حسب وعدہ 7 بجے اشوکا ہوٹل پہنچ چکے تھے اور لابی میں بیٹھے ہمارے منتظر تھے۔ جہاز کی روانگی میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا۔ اشوکا ہوٹل سے بستی نظام الدین اور پھر واپس ایئرپورٹ… مشورہ کیا گیا۔ میری اور محمود بھائی کی رائے تھی کہ کیوں نہ درگاہ کی طرف رخ کیا جائے اور یہیں سے بابا کو سلام کرلیا جائے۔ لہٰذا پرویز تو بالکونی میں چلے گئے اور راز و نیاز میں مشغول ہوگئے۔ دریں اثناء  رپورٹرس کو بلا لیا گیا اور تین مسافروں آشفتہ، پرویز اور بیگم پرویز اور الوداع کہنے والے محمود ہاشمی، ثریاسعید، فرحت احساس، یونس دہلوی اور اعجاز بھائی کا یہ قافلہ ہوٹل کے ضابطوں سے نمٹتا ہوا ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوگیا۔

میں فرحت احساس اور اعجاز بھائی الگ گاڑی میں تھے اور باقی حضرات یونس دہلوی کی گاڑی میں ہوٹل سے چلے تھے۔ ہم تین لوگوں نے ایئرپورٹ پہنچ کر باقی حضرات کی تلاش شروع کی… ایک گھنٹہ بیت گیا مگر یہ لوگ ندارد۔ میں نے بورڈنگ پاس حاصل کرلیے۔ روانگی کی آخری کال بھی ہوگئی مگر ابھی تک یہ لوگ دکھائی نہیں پڑے۔ میں عجیب کشمکش میں تھا کہ یہ یکایک پرویز اپنی دیرینہ شان بے نیازی کے ساتھ دکھائی پڑے۔ تاخیر کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بالکونی والے راز و نیاز سے انہیں تشفی نہیں ہوئی تھی اور وہ بہ نفس نفیس حاضری کی غرض سے درگاہ چلے گئے تھے۔‘‘

صلاح الدین پرویز کی زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ آئے۔ ہندوستان واپسی پر صلاح الدین پرویز کے پاس اپنا کوئی بزنس تو نہیں تھا، ان کے بڑے بھائی عبدالسلام قریشی کے ذریعے جو پیسے انھیں ملتے تھے اسی پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔جب بڑے بھائی کی طرف سے ان کے پاس پیسے کی فراوانی تھی تو اس وقت صلاح الدین پرویز کا ہاتھ بہت کشادہ تھا۔ دھیرے دھیرے جب پیسے کی تنگی ہوتی گئی اور ضروریات بڑھتی گئیں تو صلاح الدین پرویز کے طرززندگی میں کافی بدلاؤ آیا، اس کے باوجود دوسروں کی مدد کرنا ان کی عادت میں شامل رہا۔ 2003 کے بعد صلاح الدین پرویز کی زندگی کا مشکل دور شروع ہوا تو وہ ذاکر باغ کا اپنا مکان بیچ کر مظفر حنفی کے مکان میں شفٹ ہوگئے تھے۔2004 میں اپنی علی گڑھ کی لمبی چوڑی پراپرٹی بھی بیچ ڈالی۔ 2005 میں غفار منزل کا فلیٹ بیچ دیا۔ اب ان کے رہنے کے لیے صرف گریٹر نوئیڈا کا ہی مکان بچا تھا۔ان کے بڑے بھائی نے بھی ان کے حصے کے پیسے کم کردیے۔ اس دوران صلاح الدین پرویز کافی پریشان رہنے لگے۔ کبھی کبھار جب پیسے کی ضرورت محسوس ہوتی اور پاکٹ خالی ہوتا تو کہتے: ایک وقت تھا کہ بورے میں پیسے بھرے جاتے تھے اور آج یہ وقت ہے کہ جیب میں دس بیس روپے بھی نہیں ہیں۔ ان کا مشکل بھراسفر ان کی وفات تک جاری رہا۔ 2008 میں وہ بہت بیمار ہوگئے۔ تقریباً 40 دنوں تک ہولی فیملی، سجان اور میکس میں ایڈمٹ رہے۔ میکس میں تو تین بار ڈاکٹروں نے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا۔ اس بیچ ان کی فیملی کے سارے ممبر یہاں تک کہ ان کے بڑے بھائی عبدالسلام قریشی صاحب بھی 25 سالوں کے بعد چھوٹے بھائی کی شفقت اور محبت میں ان سے ملنے ہندوستان آگئے۔  ابھی صلاح الدین پرویز کی زندگی کے کچھ سال باقی تھے۔ وہ رو بہ صحت ہوگئے۔ لیکن ان کے بچوں نے میرے کہنے پر استعارہ آفس کو بند کروا دیا جو صلاح الدین پرویز کے لیے جائے سکون تھا، اس کے کچھ دنوں بعد گریٹر نوئیڈا کا مکان بھی فروخت کردیا۔ یہ صلاح الدین پرویز کے لیے مشکل بھرا وقت تھا جو انھیں برداشت کرنا پڑا۔ بالآخر صلاح الدین پرویز نے 2008 کے آخر میں علی گڑھ میں جائے سکونت اختیار کی، جہاں ان کے پاس ایک چھوٹا سا فلیٹ اور اوسط درجے کی گاڑی تھی۔علی گڑھ میں مکان ہونے کے باوجود ان کا زیادہ تر وقت بنگلور میں اپنی پہلی بیوی سیدہ بی بی صادقہ کے ساتھ گزرتا تھا۔ انھوں نے صلاح الدین پرویز کی زندگی میں جب بھی مشکلات پیش آئیں، ان کا حوصلہ بڑھایا اور ان کے  شانہ بہ شانہ کھڑی رہیں۔ سیدہ بی بی صادقہ نے شاید ایم اے (انگریزی) کی ڈگری بھی صلاح الدین پرویز کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایک ساتھ حاصل کی تھی۔ ان مشکل بھرے دنوں میں صلاح الدین پرویز کا قلم و کاغذ سے رشتہ بھی تقریباً منقطع ہوچکا تھا، لیکن جب صحت میں تھوڑی  بہتری آئی تو صلاح بھائی کی پہلی بیگم نے انھیں قلم اور کاغذ سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کی ترغیب دلائی۔ بقول صلاح الدین پرویز بنگلور میں ان کے ذوق کی کتابیں تو تھیں نہیں۔ ان کی بیوی سیدہ بی بی صادقہ نے انھیں غالب کا انگلش ورژن پڑھنے کو دیاجنھیں پڑھ کر صلاح الدین پرویز کی غالب فہمی میں اضافہ ہوا اور کچھ نئے اکتشافات ہوئے جو انھیں اردو ورژن میں نہیں ملے تھے۔بہرحال صلاح الدین پرویز نے غالب کی غزلوں پر نظمیں لکھنی شروع کیں اور ان کی آخری کتاب ’بنام غالب‘2011 میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کے ذریعے ایک نئے صلاح الدین پرویز کا جنم ہوا اگر وہ کچھ دن اور باحیات رہتے تو ہمیں ان کے ذریعے کچھ اور شاہکار دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے۔ لیکن قدرت کے فیصلے کو کون ٹال سکتا ہے۔ آخر کار صلاح الدین  پرویز کی زندگی کا سفر علی گڑھ  میں آکرختم ہوگیا اور 27 اکتوبر 2011 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

صلاح الدین پرویز کا اصل نام صلاح الدین پرویز قریشی ہے۔ آپ کی پیدائش 9فروری 1952بمقام الہ آباد ہوئی۔ مگر ان کا اصلی وطن نیپال کی ترائی میں واقع ایک گاؤں سنگھائی ہے جہاں اُن کے آبا و اجداد نے مکے سے آکر اقامت اختیار کرلی تھی۔  ان کے آبا و اجداد مشرق وسطیٰ سے ہندوستان آئے تھے۔ ان بزرگوں نے سعودی عرب کے ریگ زاروں میں بھی وقت گزارا تھا اور عراق کی سرزمین پر قسمت آزمائی بھی کی تھی جس کی بنا پر یہ لوگ اسرائیلی بھی کہلاتے تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم دہرہ دون، الہ آباد، بنارس اور بھوپال میں ہوئی جب کہ اعلی ٰ تعلیم میں بی اے کی ڈگری الہ آباد یونیورسٹی سے (1968) میں حاصل کی اور ایم اے (انگریزی) مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے (1970)  میں پاس کیا۔ بعد میں امریکہ سے 1971 میں بزنس مینجمنٹ اور کمپیوٹر ٹکنالوجی کورس بھی پورا کیا۔ (یہ بھی پڑھیں  ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان باہمی رشتہ – ڈاکٹر محمد علی حسین شائق )

صلاح الدین پرویز کی ملازمت کا آغاز ان کے بڑے بھائی کی کمپنی سائیسوریکس انٹرنیشنل (یہ امریکن کمپنی ہے جو کمپیوٹر کاکام کرتی ہے)  سے ہوا ۔ آپ نے اس کمپنی میں ریسرچر کی حیثیت سے 1976-78  تک کام کیا۔ ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے انھیں کمپنی کا ڈائرکٹر بنا دیا گیا  جہاں انھوں نے 1978-80 تک اپنی ذمے داری بخوبی نبھائی۔ واضح رہے کہ اس کمپنی میں ان کے تحت 1700 ملازمین کام کرتے تھے۔ پھر اس کمپنی کی 1991 میں  توسیع ہوئی اور امریکہ کے علاوہ ریاض میں بھی اس کا سینٹر قائم ہوگیااور آپ ڈائرکٹر سے جنرل منیجر اور وائس پریسیڈنٹ بنا دیے گئے اور ملازمین کی تعداد بھی اضافے کے بعد تقریباً 2000 ہوگئی۔ لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد صلاح الدین پرویز سعودی عرب چھوڑ کر ہندوستان آگئے اور دہلی کے  ذاکر باغ میں سکونت اختیار کی۔

صلاح الدین پرویز کی شناخت ادیب، شاعر، تخلیق کار، فلم ساز، اسکرپٹ رائٹر اور گیت کار کی حیثیت سے ہے۔  طالب علمی کے زمانے سے آپ نے شاعری شروع کردی تھی۔ آپ کی ادبی زندگی کی ابتدا 1964 سے ہوتی ہے۔ ان کی پہلی نظم ’پھول کھلے ہیں‘ ماہنامہ ’صبا‘ حیدر آباد دکن میں شائع ہوئی۔

اس کے بعد ان کی ایک طویل نظم ’ژاژ‘ 1973 میں علی گڑھ سے شائع ہوئی۔

صلاح الدین پرویز کی تصنیفات و تالیفات کی لمبی فہرست ہے ۔ ان کی کتابیں ہر خاص و عام میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، خاص کر پاکستان میں صلاح الدین پرویز کو پسند کرنے والے زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین پرویز کی ’کتاب عشق‘ پاکستان میں  بہت پسند کی گئی اور جیلانی کامران جیسے بلند پایہ دانشور نے اس پر بیش قیمت مقدمہ بھی تحریر کیا۔ آپ کی کتابوں کی فہرست حسب ذیل ہے:

ژاژ (1973)، نگیٹو (1974)، جنگل (1978)، دھوپ سمندر سایہ (1980)، لو پویمز (1982)، دھوپ سرائے (1983)، لوریاں (1986)، خطوط (1987)، کنفیوژن (1990)، سبھی رنگ ساون کے (1994)، سبھی ساون اپنے (1996)، پرماتما کے نام آتما کے پتر (1998)، دشت تحیرات (1999)، کتاب عشق (2000) اور بنام غالب میں (2011)  (یہ ساری کتابیں شاعری پر مشتمل ہیں) ان کے علاوہ آپ نے ناول بھی لکھے ہیں جن میں نمرتا (1983)، سارے دن کا تھکا ہوا پرش (1985)، اک دن بیت گیا (1987)، آئیڈنٹٹی کارڈ (1989)، دی وار جرنلس (2003) اور ایک ہزار دو راتیں(2006)۔

صلاح الدین پرویز کی کتابوں میں ’سبھی ساون اپنے‘ ہندی زبان میں بھی شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا مشہور ناول ’نمرتا‘ تینوں زبانوں (اردو، ہندی اور انگلش) میں شائع ہوا ہے۔ ’دی وار جرنلس‘ کی اشاعت بھی اردو کے علاوہ انگلش میں  ہوئی ہے۔

صلاح الدین پرویزکی ان تمام کتابوں کے حوالے سے ’تنقیدی اسمبلاژ‘ (مرتب: حقانی القاسمی)  ایک جامع اور بہت وقیع کتاب ہے، جس میں ہندوستان اور پاکستان کے موقر ادیبوں کے عمدہ مضامین شامل ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے صلاح الدین پرویز کی حیات اور ادبی خدمات کے بہت سے پہلو روشن ہوسکتے ہیں۔

صلاح الدین پرویز کی سب سے پہلی کتاب کا نام ہے ’ژاژ‘ جو 1973 میں اشاعت پذیر ہوئی۔ دراصل یہ ایک طویل نظم تھی۔جب صلاح الدین  پرویز نے لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا تو اس وقت طویل نظمیں کہنے یا لکھنے کا چلن بہت کم تھا، طوالت کے لیے مثنوی، قصیدے اور مرثیے ہی مشہور تھے، لیکن صلاح الدین پرویز نے شروع سے ہی ادیبوں کی بھیڑ سے الگ ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی صلاح الدین پرویز کی کوئی نئی تخلیق وجود میں آئی تو اردو ادب میں بحث کا دور شروع ہوجاتا، کچھ لوگ صلاح الدین پرویز کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے تو کچھ ایسے بھی تھے جو یہ کہہ کر مسترد کردیتے کہ یہ بھی کوئی تخلیق ہے، یہ محض صلاح الدین پرویز کے دل کا غبار ہے جس کا اظہار وہ اپنی تخلیقات کی اشاعت سے کرتے ہیں۔

’کتاب عشق‘ صلاح الدین پرویز کی شاہکار تخلیق ہے جس کی اشاعت 2000 میں ہوئی ہے۔ کتاب کو دو باب میں تقسیم کیا گیا ہے : الباب الاوّل کے تحت  صلاح الدین پرویز کا پیش لفظ اور خدا کے نام چالیس مکتوب شامل ہیں۔ جب کہ دوسرے باب میں ، مقدمہ ]جیلانی کامران[ کے علاوہ قصۃ العشق… ]محمد صلاح الدین پرویز[، خموش کردم اے جانِ جاں…، من خمش کردم…، عنکبوتی را بہ حکمت…، ببار اشک… ، انا من اھوی…، ایں صورت بت چیست…، چمنی کہ تاقیامت…، ہر نفس آواز عشق…، خموش گربگویم…، تبسم رخ خورشید…، ہر کہ اوہم رنگ…، شمس الحق جہانم… یا کوکبا تحکے کوکب الفلکی، بندہ آمد…، از بس کہ… جیسے عناوین شامل ہیں۔

’نمرتا‘ صلاح الدین پرویز کا مشہور ناول ہے جو عام ناولوں سے بالکل الگ ہے۔  صلاح الدین پرویز بنیادی طور پر شاعر ہیں اس لیے ان کے ہر ناول میں نثر کے ساتھ شاعری موجود ہوتی ہے۔ یہ ناول بھی  نثر و نظم کے تخلیقی امتزاج کی انوکھی مثال ہے۔  ’نمرتا‘ میں نو ادھیائے ہیں۔  بنیادی طور پر اس ناول میں دو کردار ہیں ’نمرتا‘ اور ’نیل کنٹھ‘ جو مطالعے کے دوران مختلف رنگ و روپ میں نظر آتے ہیں۔

ناول میں نمرتا کو کئی روپ میں دکھایا گیا ہے جیسے’ماں نمرتا، بیٹی نمرتا، بہو نمرتا، بہن نمرتا، شکنتلا نمرتا، ساوتری نمرتا، حوا نمرتا، ہاجرہ نمرتا، مریم نمرتا، فاطمہ نمرتا، زینب نمرتا…‘ وغیرہ وغیرہ۔ محمود ہاشمی نے ان دو کرداروں ’نمرتا‘ اور ’نیل کنٹھ‘ کی نہایت عمدہ انداز میں وضاحت کی ہے:

صلاح الدین پرویز کی ’نمرتا‘ اپنی ابتدا سے انتہا تک انسان کے باطن کے ہفت خواں کی تلاش و جستجو کا استعارہ ہے۔ اس کے دو کردار ایک جہانِ معنی سمیٹے ہوئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کردار خود اپنی ارفع ذات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ‘‘

(تنقیدی اسمبلاژ، مرتب: حقانی القاسمی، سنہ اشاعت: 2011، ناشر: عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی115)

صلاح الدین پرویز کا چوتھا ناول ’آئیڈنٹیٹی کارڈ‘ ہے جس پر انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا تھا۔ بنیادی طور پر یہ ناول زندگی کے متشددانہ تاثرات کی تخلیقی بازیافت ہے، اس لیے یہ علم کے بجائے انکشاف پر منتج ہے۔ صلاح الدین پرویز نے اپنے اس ناول میں جو ابواب قائم کیے ہیں وہ ان کے خاندان کے بزرگوں کے نام پر ہے جیسے:باب عبدالعزیز، باب عبدالرزاق، باب عبدالجبار، باب عبدالسلام۔ اس ناول میں صلاح الدین پرویز کا آبائی گاؤں سنگھائی پھر سے زندہ ہوگیا ہے۔

صلاح الدین پرویز نے اپنے آبا و اجداد کے نام جو ابواب قائم کیے ہیں،  دراصل یہی چاروں ان کے ناول کے کردار بھی ہیں۔  ان کرداروں کی وضاحت کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’آئیڈنٹٹی کارڈ‘‘ کا اسٹرکچر، چار کرداروں پر مشتمل ہے۔ یہ چار کردار (عبدالعزیز، عبدالرزاق، عبدالجبار، عبدالسلام) صرف کردار نہیں ہیں، بلکہ ڈیڑھ ہزار برسوں پر محیط، اسلامی فکر کی اس بنیادی روح کا استعارہ ہیں جس کے باعث، جدید دنیا کو روحانی سرشاری کا وہ پیغام میسر آیا، جس کی تشکیل، پیغمبرِ اسلام حضورِ مقبول کی ذات گرامی نے کی تھی۔ یہ چار کردار، جدید بین الاقوامی تہذیب اور تہذیبی انتشار کی تاریخ کو علامتی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ نیز ان کا تعلق اس ہند اسلامی تہذیب سے ہے جس کا سلسلہ ساتویں صدی سے شروع ہوا، اور جس کے باعث، برصغیر میں وہ روحانی تحریکیں پروان چڑھیں، جو ہندوستان میں تصوف کے مختلف خانوادوں اور خصوصاً صوفیائے چشت سے منسوب ہیں۔‘

’آئیڈنٹیٹی کارڈ‘ حقیقت میں اردو ناول کے اتہاس کا وہ ادھیائے ہے جو اپنی پاکیزگی اور صوفیائے کرام  اور بزرگوں کے ملفوظات جیسی صفات کے علاوہ فکشن کے ایک  نئے معیار کا ضامن ہے۔‘‘ (آئیڈنٹیٹی کارڈ، ص 11)

صلاح الدین پرویز کا ایک قابل ستائش کارنامہ ادب کے سناٹوں کو چیرتی ہوئی تیسری آواز سہ ماہی ’استعارہ‘ ہے۔ جس کا پہلا شمارہ جولائی تا ستمبر 2000 میں منظر عام پر آیا۔ رسالے کے اجرا کا منظر قابل دید تھا جس میں ادبی دنیا کی موقر شخصیات موجود تھیں۔ جہاں اس رسالے کو کچھ سینئر اور قابل قدر ادیبوں کی تحریروں کی وجہ سے ایک مستحکم شناخت حاصل ہوئی تو وہیں اس رسالے کی وجہ سے کچھ نئے ادبا و شعرا کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا سنہرا موقع میسر ہوا اور اپنی تحریروں کو استعارہ کے بہترین صفحات پر دیکھ کر فخر بھی محسوس کیا۔  اس رسالے کے کچھ خاص نمبر جیسے غزل نمبر، تنقید نمبر اور فکشن نمبر بھی شائع ہوئے جن کی بہت تعریف ہوئی۔یہ ایک ضخیم شمارہ تھا جو 600 سے زائد صفحات پر محیط تھا اور اس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں فکشن کی تقریباً چالیس کتابوں پر تبصرے شامل کیے گئے تھے جن میں بہت سی کتابیں دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کی تھیں جن کا ذکر بھی شاید کہیں ہوتا ہو۔ اس کے علاوہ اس میں مشمولہ تمام افسانوں کے تجزیے بھی پیش کیے گئے تھے۔رسالے کا آخری شمارہ 22-23 جنوری تا جون 2006 میں منظر عام پر آیا تھا۔  مجلہ استعارہ کی اشاعت کے ساتھ ساتھ یہیں سے کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع  ہوا اور استعارہ پبلی کیشنز کے زیراہتمام مختلف موضوعات پر بہت سے ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں بھی شائع ہوئیں  اور ان کتابوں کو ادبی حلقے میں خاطرخواہ پذیرائی بھی ملی۔زیادہ تر مصنّفین اس ادارے  سے اپنی کتابیں شائع کروانا چاہتے تھے۔ مذاق مذاق میںہی اشاعتی میدان کا معتبر ادارہ بن گیا۔ اس پبلی کیشنز سے 50 سے زائد کتابیں شائع ہوئی جن میں کملیشور (کتنے پاکستان)،  گلزار (راوی پار)، وریندر پٹواری (اک ادھوری کہانی)، عبدالمنان طرزی (نارنگ زار)،  عنبر بہرائچی (سنسکرت بوطیقا)،‘ڈاکٹر حنیف ترین (ابابیلیں نہیں آئیں)، خلیل مامون (آفاق کی طرف)، ڈاکٹر شیخ عقیل احمد(’مغیث الدین فریدی)، کوثر مظہری (جرأت افکار)،  شبنم عشائی (من بانی)، حقانی القاسمی (طواف دشت جنوں)،  مشتاق صدف (جذبی شناسی)،احمد صغیر کی (انا کو آنے دو)، شاہد اختر (برف پر ننگے پاؤں)، احمد کفیل (حسن نعیم اور اردو غزل)، خالد بن سہیل (مونولاگ)، اسد ثنائی (شہر جاں کی سرحدیں)، سید منظور احمد (علامہ ابوالسعود اور دیگر مشاہیر)، طاہر فراز (کشکول) وغیرہ۔

صلاح الدین پرویز فلم ساز، اسکرپٹ رائٹر اور گیت کار کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ آپ نے تین فلمیں بنائی ہیں جن میں جنبش، یادوں کے موسم اور یادوں کے سفر شامل ہیں۔ آپ کی پہلی فلم ’جنبش‘ ہے جو 1986 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں کام کرنے والوں میں کچھ مشہور اور خاص نام ہیں: پدمنی کولھاپوری، شفیع انعامدار، رضا مراد، بھارت بھوشن وغیرہ۔ فلم کی کہانی اور گیت صلاح الدین پرویز نے لکھے تھے۔ اس فلم کے ڈائرکٹر بھی صلاح الدین پرویز تھے۔ باکس آفس پر یہ فلم بہت زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ آپ کے ڈائریکشن میں بنی دوسری فلم کا نام ہے ’یادوں کے موسم‘یہ فلم 1990 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں جن اداکاروں نے اپنی اداکاری  کے عمدہ جوہر دکھائے ان میں کچھ خاص نام میتا چوہان، کرن کمار، سعید جعفری، سشما سیٹھ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔  اس فلم کی بھی کہانی اور گیت صلاح الدین پرویز نے ہی لکھے تھے۔ یہ فلم بھی باکس آفس پر کچھ کمال نہ کرسکی البتہ اس کے گانے ’دل میں آج پھر تیری یادوں کا موسم‘، ’اک چاند کو ہم بھی دیکھیں گے‘ اور ’تجھ سے بچھڑ کر زندہ ہیں‘ بہت مشہور ہوئے۔ صلاح الدین پرویز کے ڈائرکشن اور السلام انٹرنیشنل کے بینر تلے بنی آخری فلم کا نام تھا ’محبتوں کا سفر‘۔اس فلم میں امریش پوری، ارونا ایرانی، شانتی پریا، رضا مرادجیسے مشہور اداکاروں نے اداکاری کی تھی۔ مگر یہ فلم کسی بنا پر سنیما ہال میں ریلیز نہ ہوسکی۔

صلاح الدین پرویز کی ادبی خدمات کے پیش نظر اب تک انھیں بہت سارے اعزازات و انعامات بھی مل چکے ہیں۔ ان اعزازات میں ساہتیہ اکادمی کا اعزاز قابل ذکر ہے۔یہ ایوارڈ انھیں ان کے ناول ’آئیڈنٹیٹی کارڈ‘ پر 1991 میں دیا گیا تھا۔ اس وقت صلاح الدین پرویز کی عمر ماضی کے ایوارڈیافتگان کے مقابلے کم تھی، جس کی بنا پر بہت سارے لوگوں نے ایوارڈ کمیٹی پر سوالات بھی قائم کیے تھے کہ ابھی بہت سے سینئر اور بزرگ تخلیق کار موجود ہیں، ان کو نظرانداز کرکے صلاح الدین پرویز کو یہ ایوارڈ کیوں دیاگیا۔دوسرا اعزاز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈینٹس یونین کی لائف ممبر شپ تھی،  جو انھیں 1983 میں حاصل ہوئی۔ یہ اعزاز بھی صلاح الدین پرویز کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا۔ 2003 میں آپ کو مجلس فروغ ادب دوحہ قطر کی جانب سے ایک بڑا عالمی ایوارڈ ’دوحہ قطر‘ دیا گیا ہے۔ ان سے پہلے یہ ایوارڈ پاکستان سے انتظار حسین، بانو قدسیہ اور ہندوستان میں قرۃ العین حیدر اور گوپی چند نارنگ جیسی شخصیات کو ملا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں  قاضی عبدالودودکا اسلوبِ تحقیق – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

صلاح الدین پرویز نے کئی ملکوں کا سفر کیا ہے جن میں فرانس، جرمنی، سوئزر لینڈ، لندن، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک شامل ہیں۔ ان ملکوں کی سیر و سیاحت نے اُن کی شاعری کو توانائی اور تابناکی عطا کی ہے۔ ان مشہور ثقافتی، تہذیبی ملکوں کے سیر و سیاحت کے باوجود ان کے دل میں اپنی مٹی کی خوشبو بسی ہوئی ہے اور وہ اپنی ہی مٹی سے محبت کرتے ہیں۔ ہندوستان کی سنسکرتی اور تہذیب کو انھوں نے اپنی تخلیق کے پیکر میں ڈھالا ہے۔ اسی لیے کنہیا لال کندن نے کہا تھا کہ ’’صلاح الدین پرویز کا دوسرا نام بھارت ہے۔‘‘

 

Mohd Ikram

89/6A, Street No.: 1,

Ghaffar Manzil, Jamia Nagar

New Delhi – 110025

Mob.: 9873818237

Email.: mdikram2011@gmail.com

 

 

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

صلاح الدین پرویزمحمد اکرام
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بلراج مین را : افسردگی کا راز – مشرف عالم ذوقی
اگلی پوسٹ
کیا ہمارا کوئی پرسانِ حال نہیں؟ – محمد اشرف

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

2 comments

محمد شبلی آزاد جولائی 17, 2023 - 7:01 شام

بہت ہی عمدہ اور معلوماتی مضمون ہے۔صلاح الدین پرویز جیسے تخلیق کار جو ہلے اردو کی تعصب پرستی کی نظر ہو گئے ان پر اس طرح کے مضامین آنے چاہیے۔چونکہ میں صلاح الدین پرویز پر تحقیقی کام کر رہا ہوں لہذا میرے لیے یہ مضمون کسی گوہر نایاب سے کم نہیں ہے۔بہت بہت شکریہ محمد اکرام صاحب

Reply
محمد شبلی آزاد جولائی 17, 2023 - 7:05 شام

جیسے تخلیق کار جو اہلِ اردو کی تعصب پرستی کی نزر ہو گئے ان پر اس طرح کے مضامین آنے چاہیے۔چونکہ میں صلاح الدین پرویز پر تحقیقی کام کر رہا ہوں لہذا میرے لیے یہ مضمون کسی گوہر نایاب سے کم نہیں ہے۔بہت بہت شکریہ محمد اکرام صاحب

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں