Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

 ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان باہمی رشتہ – ڈاکٹر محمد علی حسین شائق

by adbimiras اکتوبر 4, 2021
by adbimiras اکتوبر 4, 2021 2 comments

ادب اور تخلیق کے درمیان باہمی رشتے کو سمجھنے کیلئے ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان کے مفاہیم کو سمجھنا ضروری ہے۔ ویسے تو ادبیت اور تخلیقت دونوں لازم و ملزم ہیں ایک کے بغیر دوسرے کی وجودیت کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ہمارے کچھ نا قد ین کی رائے یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ادبیت اور تخلیقیت دونوں ایک ہی ہیں۔ اس لئے ان کے درمیان تفریق پیدا کرنا ادب میں بدعت پیدا کر نا ہوگا۔ علاوہ ازیں ہمارے ناقدین کی یہ بھی آرا ہو سکتی ہے کہ پہلے ادب ہے بعد میں تخلیق اسی کے ساتھ کچھ ناقدین اس بات پربھی اکتفا کرینگے کہ پہلے تخلیق بعد میں ادب، لیکن ہمیں پہلے اور بعد کے مباحثے میں الجھنے کی ضرورت نہیں بجائے اس کے ہمیں دھیان اس جانب مرکوز کرنا ہے کہ ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان باہمی رشتہ کیا ہے؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے؟ ساتھ ہی یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں کے درمیان باہمی رشتے کی ضرورت ہے؟ یا اگر نہ ہو تو کیا ادب فروغ نہیں پا سکتا ہے۔ اس طرح کے کئی ایک سوالات ہمارے سامنے ابھر کر سامنے آجاتے ہیں اور ان ہی تمام باتوں میں الجھ کر ہم رہ جاتے ہیں۔

لیکن ان تمام چیزوں پر ڈسکورس قا ئم کرنے سے پہلے یہ جان لیں کہ ادب دراصل ہے کیاَ، کیا لفظوں کے جوڑ توڑ کو ادب کہتے ہیں؟ یا کچھ اور ہی چیز ادب ہوتی ہے۔ جب ہم لغا ت کی ورق گردانی کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ادب کے تعلق سے جوڈسکورس قائم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ علم زبان جس میں نحو ، لغت ، عروض، انشا، معانی اور بیان وغیرہ داخل ہو ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ اس ضمن میں گفتگو کرنے کے ساتھ یہ بات سامنے آتی ہے کہ کیا اگر ایک جملہ اس طرح کہیں کہ ندانے جان بوجھ کر یہ غلطی دہرائی تو کیا یہ جملہ ادب کے زمرے سے باہر ہے۔ کیونکہ درج بالا بیان اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ نحو، لغت ، انشا، عروض معانی وغیرہ ہی ادب کی ضمانت ہوتی ہے  یہاں ایک سوال پھر یہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ کیا ادب کیلئے یہ تمام چیزیں بیک وقت درکار ہوتی ہیں، یا کسی ایک کی موجودگی بھی ادب ہونے کے لئے کافی ہے۔ اس بحث کو چھیڑنے کے ساتھ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ادب کے تعلق سے آئے درج بالا بیانات میں سے اگر دو ایک بھی بات ایک جملے آجاتی ہے تو وہ ادب کے تخلیق میں آجاتا ہے۔

اب رہی بات کہ ادبیت کا معاملہ کیا ہے۔ ادبیت ہوتی کیا ہے یہ ایک غور طلب بات ہے۔ ہم اکثر و بیشتر کسی قلم کار کی تخلیق پڑھ کر فوراً یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ اس کے اندر ادبیت نہیں ہے۔ اس کا لہجہ سپاٹ ہے اس کے یہاں چاشنی کی کمی ہے لیکن جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے تو جان کیٹس کی یہ رائے پیش کر دینا کافی ہوگا کہ Beauty is truth, truth is beauty انگریزی کے اس مقولے پر ہم دھیان سے غور فرمائینگے تو ادب ادبیت چاشنی، سپاٹ پن کی باتیں ہمارے ذہن سے نکل جائینیگی کیونکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا میں تخلیق کردہ تمام چیزیں خدا کی صناعی کی بے مثال پیش کش ہیں۔ ایسی صورت حال میں کسی چیز کا بدصورت ہونا بعید از قیا س بات ہو جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ دنیا کی ہر چیز کے اندر خوبصورتی کا عکس پنہاں ہے یہ بات الگ ہے کہ پارکھ کی نظر کس نقطہ نظر سے اس چیز کو دیکھتی ہے۔ اسے وہ چیز اسی طرح نظر آئے گی۔ ادب کا معاملہ بالکل یہی ہے۔ کوئی بھی تخلیق اگر ہمارے درمیان آتی ہے تو ہم اس کو اسی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو اس کے اندر جاذبیت کا احساس ہوگا ورنہ نہیں۔ اس بات کی وضاحت کیلئے میں ایک اور مثال پیش کر نا چاہونگا کہ اگر ہم کالج کے طالب علم کے ذریعہ امتحان میں حل کئے گئے پرچوں کی جانچ اپنے معیار کے مطابق کرینگے تو معاملہ بالکل برعکس ملے گا اور یاسیت ہاتھ آئیگی ساتھ ہی اگر تھوڑی اپنی صلاحیت اور تھوڑی اس طالب علم کی صلاحیت کو سامنے رکھ کر حل کئے گئے جوابات کا جانچ کرینگے تو پھر الجھن نہیں ہوگی وہی معاملہ ادب کے ساتھ ہے۔ ادب میں ادبیت کو تلاش کرنے اور اس کے معیار کا جائزہ لینے کیلئے ہمیں اس تخلیق کار کے مزاج تک پہنچناضروری ہے۔تخلیق کار کے معیار اور کچھ اپنے معیار کو بروئے کارلا کر جب ہم اس کی تخلیق کا مطالعہ کرینگے تو یقناً اس کے اندر صد فیصد تو نہیں لیکن کچھ حد تک ادبیت کی جھلک ضرور ملے گی۔ اب رہی بات معیار کی تو ہر ادب اور ہر تخلیق کا اپنا اپنا معیار ہوتا ہے۔ آج تک کسی بھی ادب کے معیار کو جانچنے کیلئے کوئی اسکیل یا کوئی تھیو ری واضح طور پر ہمارے سامنے نہیں آئی ہے۔  (یہ بھی پڑھیں اردو افسانہ اور نئے امکانات (اکیسویں صدی کے تناظر میں)  – ڈاکٹر محمد علی حسین شائق)

یہ بات میں اس لئے کہتا ہوں کہ اگر آپ کسی بھی ادیب یاناقد جس کو ہم معیاری ادیب یا ناقد تصور کرتے ہیں۔ ان سے سوال کیا جائے کہ آخر کسی بھی تخلیق کا معیار کا کیا اسکیل ہے ذرا بتائیں تو اس پر شاید ہی جواب آئے گا کہ جملوں کو مزید تراش و خراش کر لکھئے۔ اچھے الفاظ کا استعمال کیجئے اور بیان میں تسلسل پیدا کیجئے۔ اسکے علاوہ ممکنہ طور پر معیار کا اور کوئی اسکیل نہیں ہے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں یہ بات ماننی پڑے گی کہ جو تخلیق کار اپنا ادب تخلیق کرتا ہے وہ اس کے مزاج کے معیار کے مطابق اس وقت ہوتا ہے۔ اب رہی بات نئے تخلیق کار سے شمس الرحمٰن فاروقی، گوپی چند نارنگ یا اور دوسرے نقا د کی تخلیقات کی طرح معیار اس نو خیز ادیب سے کریں تو یہ لاحاصل بات ہوگی اور ہماری حماقت بھی کیونکہ کوئی بھی چیز اچانک حاصل نہیں ہوتی اس میں وقت درکار ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ادب کا معیاری ہونا ایک لازمی شرط ضرور ہے لیکن نئے تخلیق کاروں کو ہم مایوس نہیں کر سکتے ہیں۔ اگر ان کی تخلیقات کو ہم غیر معیاری، ناقابل اشاعت کہہ کر رد کرتے رہینگے تو پھر اس نئے تخلیق کار کے اندر کی صلاحیت کس طرح ابھر کر صفحہ ابیض پر آئے گی۔ میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ اگر کوئی نیا تخلیق کار اپنی تخلیق لے کر کسی ادیب کے پاس جاتا ہے یا کسی رسالے یا اخبار میں شائع کروانے کی غرض سے بھیجتا ہے تو اس آرٹیکل کو یا تو و رد کر دیا جاتا ہے یا یہ کہہ کر واپس کر دیا جاتا ہے کہ تھوڑا معیاری لکھئے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ معیار پیدا کرنے کیلئے مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اگر اس نئے تخلیق کار کی تخلیق کو نوک پلک درست کر کے اخبار میں شائع کر دیا جاتاتو شاید اس کا حوصلہ بڑھتا ہے اور مطالعے کی طرف راغب ہوتا۔

بہر حال معاملہ ادب میں ادبیت کا ہے لہٰذا ادبیت کا تصور انسان کے شعور اور عقل و فہم کا ٹھیک سے استعمال کرنے پر ہوتا ہے۔ آج ہم شمس الرحمٰن فاروقی اور گوپی چند نارنگ، وارث علوی، قاضی افضال حسین و دیگر حضرات کی تخلیقات پڑھتے ہیں اور اپنی رائے قائم کرتے ہیں کہ ان کی تخلیقات میں بلا کا معیار ہے۔ میںیہ کہنا چاہونگا کہ ان کے یہاں معیار کیونکر نہ آئے انہوں نے زندگی کی زیادہ تر بہاریں  ادب کے مطالعے اور ادب کی خدمت میں گذارا دیا۔ ظاہر بات ہے کہ ان کی تخلیقات میں انفرادیت کا ہونا یقینی ہے۔

اب رہی بات تخلیق کا تو تخلیق سے کیا مراد ہے؟ تخلیق کسے کہتے ہیں۔ اگر ایک عام قاری سے ہم یہ سوال کریں کہ تخلیق سے کیا مراد ہے جواب یہی ملے گا کہ کوئی ادیب جو کچھ ادب کے فروغ کے لئے لکھتا ہے، تخلیق کہلاتا ہے۔ مطلب یہ کہ تخلیق میں کسی نئے گوشے کو اجاگر کرنا پڑتاہے۔ چاہے وہ تخلیق کار تاثراتی انداز میں نئے گوشے کو اجاگر کرے یا تنقیدی رویئے کے اظہار کے ذریعہ لیکن بہر حال تخلیق میں نئے گوشے کو اجاگر کرنا ہی تخلیق ہوتا ہے۔ اس تناظر میں جب ہم نئے تخلیق کار کی تخلیق پر غور کرتے ہیں تو کیا ہمیں ان کی تخلیقات میں کہیں سے بھی اور کسی بھی طرح سے تھوڑی بہت نئی چیز نہیں ملتی ہے۔ میرے خیال میں ضرور کچھ نہ کچھ نئی بات ہوگی لیکن ہم چونکہ نئے قلمکار سمجھ کر نئے تخلیق کار سمجھ کر اور اکثر و بیشتر بغیر پڑھے ہوئے یہ کہہ کر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ نیا تخلیق کار ہے اس کی تخلیق کو الگ کر دو اور اسے مزید لکھنے دو پھر بعد میں دیکھا جائے گا گرچہ کہ اس کی تخلیق میں ہر چند کچھ نہ کچھ نئی بات تو ضرور ہوگی لیکن ہماری تخلیق کی جانب سے بے اعتنائی اس تخلیق کار کی داخلی تخلیقیت کے شعورکو غیر ارادی طور پر اور لاشعوری طور پر چوٹ پہنچا دیتے ہیں اور وہ نیا قلمکار اس امید پر رہتا ہے کہ شاید اس ہفتے یا اگلے ہفتے وہ تخلیق شائع ہو جائے یا اس شمارے میںیا اگلے شمارے میں شائع ہو جائے اور اسی ادھیڑ بن میں وقت گذرتا جاتا ہے اور جب اس کی تخلیق باوجود انتظار کے شائع نہیں ہوتی ہے تو یہ سوچ کر نئی تخلیق کی جانب سے منہ موڑ لیتاہے کہ پتہ نہیں کس معیار کی ضرورت ہے۔ میں اس بات کو بھی مانتا ہوں کہ کچھ ایسے بھی نئے قلمکار ہیں جن کی تخلیقات اگر شائع نہیں ہوئیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ غیر معیاری رہی ہوگی اس لئے مزید مطالعہ کی جانب دھیان دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت کتابوں کے مطالعے میں خرچ کرتے ہیں اور پھر نئی تخلیق شائع کی غرض سے بھیجتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔

لیکن مقصد ہمارا ادب کو فروغ دینا اور ادب اس وقت فروغ پائے گا جب قلمکار کی تخلیقات کو نوک پلک درست کرنے کے بعد شائع کیا جائے گا۔

اب رہی بات ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان باہمی رشتے کی تو اگر تخلیق میں معیار پیدا ہوگا تو ادبیت کی چاشنی اور مزید بڑھے گی۔ ادبیت کو تخلیقیت سے اور تخلیقیت کو ادبیت سے قطعی طور پر الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم اکثر یہ رونا روتے ہیں ہمارا ادب اب زوال کی طرف ہے یہ رونا بالکل غلط ہے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اس کے فروغ کے لئے فراخدلی کے ساتھ آگے بڑھیں ہمیں فخر ہے کہ فی رفتار زمانہ اردو ادب میں مایہ ناز ادیب، نقاد، مضمون نگار، مبصر، افسانہ نگار، محقق آج بھی موجود ہیں۔ ہمیں اپنے قاری کو اور بالخصوص نئے قلمکاروں کو ان عظیم ہستیوں کی تخلیقات پڑھنے کی طرف دھیان مرکوز کرانے کی ضرورت ہے جب ہمارے نئے قلمکار ان تخلیقات کو پڑھینگے پھر ان کی تخلیق میں نکھار پیدا ہوگا لیکن شرط یہی ہے کہ ان کے اندر شوق اور جذبہ پیدا کرنے کے لئے ان کی تخلیقات جسے ہم غیر معیاری کہہ کر چھانٹ دیتے ہیں ان کی نوک پلک درست کر کے شائع کریں یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ماہنامہ آج کل دلّی نے یہ جسارت کی ہے۔ اس کا یہ قدم قابل ستائش ہے۔ تخلیقیت اور ادبیت کے مابین رشتے کی کڑی بہت پرانی ہے اور ایک کے بغیر دوسرے کا تصور ناممکن ہے۔ ادبیت کے زمرے میں وہی مضمون شامل ہوگا جس کے اندر تخلیقیت ہوگی اور مضمون تخلیقیت والا ہوگا تو اس کے اندر نئی تحقیق کا مادہ ضرور جھلکے گا۔

اب رہی بات کہ جب ہم ادبیت اور تخلیقیت کے مابین باہمی رشتے کی گفتگو کرتے ہیں تو ایک بات یہ بھی سامنے آتی ہے کہ ادبیت اور تخلیقیت کو مختلف خانوں کے ذریعہ ہم دیکھ سکتے ہیں۔ مقالہ نگاری، افسانہ نگاری، تحقیق نگاری، طنز و مزاح نگاری، ڈرامہ نگاری، تبصرہ نگاری، ناول نگاری، خاکہ نگاری، نظم نگاری، مرثیہ نگاری، ماہیا نگاری وغیرہ ایسے اصناف ہیں جن کے اندر ادبیت بھی ہے اور تخلیقیت کا مادہ بھی۔ نثر کی جانب جب ہم اپنا دھیان مرکوز کرتے ہیں اس میدان کے مختلف اصناف میں ادبیت اور تخلیقیت کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ وہی معاملہ نظم کے میدان میں بھی ہے۔

لیکن بات اسی جگہ پر ختم نہیں ہو جاتی ہے بلکہ ہمارا بحث اس جگہ پر آکر ٹہر جاتا ہے کہ آخر ادب میں ادبیت اور تخلیقیت کا مادہ کیسے پیدا کیا جائے اور اس کے معیار کا تعین کیسے ہو۔

آئیے چندنامور ادبا کی تخلیقات کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان کی تخلیقات میں ادبیت اور تخلیقیت دونوں کس معیار کی بنائی پر ہیں۔  (یہ بھی پڑھیں قاضی عبدالودودکا اسلوبِ تحقیق – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

برصغیر کے نامور ادیب، ناقد اور محقق گوپی چند نارنگ نے ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات پر جو کتاب تخلیق کی ہے، جسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے شائع کیا ہے، اپنی تخلیق کو کس ڈھنگ سے معیار بنایا ہے۔ اس کتاب کے دیباچہ میں عرض کرتے ہیں۔۔۔

’’اردو میں تھیوری یعنی ادبی نظریہ سازی کی پہلی باضابطہ کتاب حا لی کا مقدمہ شعر و شاعری ہے۔ یوں تو شعریات کا احساس پہلے سے موجود چلا آتا تھا لیکن اسے منضبط کرنے کی اولین کوشش حا لی ہی نے کی۔ مقدمہ ٹھیک ایک صدی پہلے ۱۸۹۳؁ئ میں شائع ہوا۔ اس دوران اردو ادب میں بہت کچھ لکھا گیا۔ اردو تین بڑ ی تحریکوں کے جزرومد سے گذری۔ سرسید تحریک، ترقی پسند تحریک اور جدیدیت، ان میں سے ہر تحریک اپنے عہد کے تقاضوں اور نئے فکری اثرات سے پیدا ہونے والی داخلی حرکیت کا نتیجہ تھی۔ لطف کی بات ہے کہ مقدمہ نے عہد سرسید کی اصلاحی اور اخلاقی شعریات کی تشکیل تو کی تھی بعد کے دونوں تحریکوں میں بھی اختلاف و اتفاق کے زیادہ ترمقامات مقدمہ ہی سے فراہم ہوتے رہے‘‘

دیباچہ میں لکھے گئے ان جملوں کے مطالعے سے حاصل نظریہ ہے کہ اس میں ادبیت اور تخلیقیت دنوں کا عنصر موجود اس معنوںمیں ہے کہ نارنگ صاحب نے عہد سرسید سے لیکر جدیدیت تک کے ادبی فروغ کا جس طریقے سے جائزہ لیا ہے کہ انداز بیان میں ندرت ، شگفتگی اور جملوںمیں لہروں کی روانی کی طرح تسلسل کا احساس ہوتا ہے۔ حالانکہ کسی موضوع پر تھیوری لکھنا نہایت ہی مشکل کام ہے لیکن اس میں بھی تسلسل اور ندرت کو بچائے رکھنا ایک کامیاب فنکار کی مثال ہے۔ یہاں ان جملوں سے ادبیت اور تخلیقیت دونوںکی جھلک نمایاںطورپر محور پر نظر آتی ہے۔

وارث علوی کی کتاب ’’جدید افسانہ اور اس کے مسائل‘‘ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے ہاں نثر کے فن پارے کو جانچنے کا میزان کچھ الگ نظر آتا ہے جس طرح نظم کا اپنا ایک انفرادی حسن ہوتا ہے جسے مختلف زاوئیے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ نظر پاریکھ کی ہونی چاہئے۔ وارث علوی نے اپنی کتاب ’’جدید افسانہ اور مسائل‘‘ میں لکھا ہے۔۔۔

’’نثر کا اپنا ایک بنیادی حسن ہے جو شاعری کے حسن سے مختلف ہے۔‘‘ صفحہ نمبر ۱۳

وارث علوی نے درج بالا جملے سے اس بحث کو لگ بھگ ختم کر دیا ہے کہ تخلیق کا معیاری ہونا لازمی ہے تاہم اس کے معیار سے انکار نہیں ہے۔ تخلیق کا معیار ہونا لازمی ہے تاہم جو بھی تخلیق کار کوئی نئی چیز تخلیق کرتا ہے اس میں اس کا اپنا الگ فنی حسن ہوتا ہے۔ عام طور سے نثر کے معیار کا تعلق اس کے حسن کی پیمائش سے کی جا سکتی ہے۔

نثر کی تخلیق میں ادبیت کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ آئیے وارث علوی کے ان جملوں کو دیکھئے جس سے یہ پتہ چلے کہ نثر میں کس معیار کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے اندر تخلیقیت کا احساس ہو ساتھ ہی ادبیت کا بھی۔

’’خلاق ذہن کو فیشن پرست ذہن سے الگ کرنے میں جب نقاد سے کوتا ہی ہوتی ہے تو ادب میں انارکی پھیلتی ہے اور جدید اردو افسانہ اسی انار کی کا شکار ہے۔ خراب افسانوں سے برگشتہ خاطر ہو کر قاری نے اچھے افسانے تک پڑھنا چھوڑ دیا ہے۔ و ہ بہت ہی خراب تنقید ہوتی ہے جو قاری کو خراب اور پوچ ادب پڑھنے پر ورغلائے۔‘‘ (جدید افسانہ اور اس کے مسائل)

اسی بات کو اگر ایک عام تخلیق کار تخلیق کرتا تو شاید وہ ان ہی باتوں کو اس طرح پیش کرتا۔۔۔

’’نقاد کو فیشن پرست ذہن سے تخلیقی ذہن کو الگ کرنے کی صورت میں ادب بے سمتی کا شکار ہو جاتا ہے جو کہ آج جدید افسانہ کی ہے۔ خراب افسانوں سے بدظن ہو کر قاری اچھے افسانوں کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے جو تنقید قاری کو خراب ادب پڑھنے کے لئے اکسائے وہ خراب تنقید ہوتی ہے۔‘‘

اب ایسی بات نہیں ہے کہ درج ذیل جملوں میں حسن نہیں ہے اور معیار نہیں ہے بلکہ ان جملوں میں بھی ایک معیار ہے لیکن وارث علوی نے ان باتوں کو جس طرح سمیٹا ہے اتنی خوبصورتی سے یہ جملے سمیٹے نہیں جا سکے ہیں فرق بس اتنا ہی ہے ورنہ اس کے اندر بھی ایک حسن پنہا ہے۔

ٹھیک اسی طرح شمس الرحمٰن فاروقی نے ادب میں جس معیار کی باتیںکی ہیں ان کی بات اپنی جگہ مسلم ہے۔ آئیے ان کی تخلیق کا بھی ذرا مطالعے کریں۔۔۔

کتاب ’’افسانے کی حمایت میں‘‘ پلا ٹ کا قصّہ میں عرض کرتے ہیں۔۔۔

’’پلاٹ سے مراد واقعات کی ایسی ترتیب جن میں آپس میں آغاز، وسط اور انجام کا رشتہ ہو اور اس ترتیب میں ایک تعمیری ربط ، لہذا افسانہ(یعنی قصہ)قائم ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں بیان کردہ واقعات میں علت اور معلول (Cause and Effect) کا رشتہ ہو۔‘‘

درج بالا جملے ثقالت اور ادق الفاظ کے پیش کش نہیں ہیں بلکہ اس کے بیان میں حسن کا اظہار ہے۔ ہمیں اس پر بحث نہیں ہے کہ انہوں نے پلاٹ کے تعلق سے جو بات کہی ہے وہ کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک غلط اور ساتھ ہی اس پر اپنی رائے قائم کرنا نہیں ہے۔ یہاں مطالعہ ادب میں ادبیت اور تخلیقیت کا ہے۔ فاروقی صاحب نے جس طرح کے جملوں کا استعمال کیا ہے اور اس میں چند الفاظ کا استعمال کیا  ہے اس سے ان جملوں کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے اور قاری کے اندر پڑھنے کا تجسّس بڑھتا ہے۔ اگر ایک عام انسان یانو خیز ادیب اس بات کو لکھتا تو شاید ان جملوں میں استعمال شدہ الفاظ آغاز، وسط اور انجام کی جگہ شروعات، بیچ میں اور آخر میں لکھتا، اس کے علاوہ علت اور معلول کی جگہ وجہ اور اس سے پیدا شدہ اثرات لکھتا۔ بات اسی جگہ پر آکر ٹہر جاتی ہے کہ ایک نو خیز ادیب کے ذریعہ استعمال شدہ ایسے الفاظ کو اگر ضرورتاََ اصلاح کر کے قابل اشاعت بنا دیا جاتا تو ادب میں دو چیزوں کا اضافہ ضرور ہوتا۔ پہلا یہ کہ ایک مضمون بڑھا اور دوسرا ادیب کی حوصلہ افزائی ہوتی اور وہ مزید ادب لکھنے کی جانب مراجعت کرتا بات اسی جگہ آکر ٹہر جاتی ہے اور ہمیں ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان باہمی رشتے کو سمجھے میں آسانی ہوگی اور نئے ادبائ کے اندر لکھنے پڑھنے کا شو ق بھی پیدا ہوئی۔ اس طرح اور بھی بڑے بڑے دانشوروں، ادبائ و شعرائ کی تخلیقات کو بطور مثال لے سکتے ہیںلیکن فی الحال اسی پر اکتفا کرنا چاہوں گا کیونکہ کبھی کبھی مضمون کی طوالت بھی قاری کو مطالعے سے دور کر دیتا ہے چاہے وہ مضمون کتنا ہی دلچسپ کیوں نہ ہو۔ (یہ بھی پڑھیں فلسفۂ مارکسیت اور پروفیسر وہاب اشرفی – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )

اس طرح یہ بات ہمارے سامنے واضح ہوجا تی ہے کہ ادب اور تخلیق کے مابین رشتہ مستحکم ہے اور تخلیق کار کو ادب تخلیق کرتے وقت ہر ممکن اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ادب کے اندر ادبیت اور تخلیقیت کا احساس جاگزیں رہے۔

 

         ڈاکٹر محمد علی حسین شائق

      کاشانۂ مصطفے بلاک نمبر ۳ ، کمرہ نمبر۱؍۲

     تھانہ روڈ ، جگتدل ، ۲۴ پرگنہ (شمال) مغربی بنگال ۷۴۳۱۲۵

email: mahshaiq@rocketmail.com

 Mobile:    9831530259

 

 

 


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

مابعد جدیدیت، اردو کے تناظر میں – پروفیسر...

نومبر 19, 2023

2 comments

- Adbi Miras اکتوبر 5, 2021 - 6:49 صبح

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply
گمشدہ ساعتیں اور صلاح الدین پرویز - محمداکرام - Adbi Miras اکتوبر 8, 2021 - 8:33 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں