اردو میں ترقی پسند تحریک کے نظریات اور ادب پر اس کے اثرات کے متعلق متعدد مارکسی وغیر مارکسی نقادوں اور دانشوروں نے اظہار خیال کیا ہے۔ اس سے متعلق مجنوں گورکھپوری، اخترحسین رائے پوری، سجاد ظہیر، علی سردار جعفری، عزیز احمد، خلیل الرحمن اعظمی، سبط حسن، علی احمد فاطمی اور مخمور سعیدی وغیرہ کی مستقل تصانیف کے علاوہ رسائل وجرائد میں درجنوں مضامین بکھرے پڑے ہیں، ان کے مطالعے سے مارکسی فلسفہ اور اشتراکیت کے نقوش ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
اس ضمن میں ممتاز ناقد پروفیسروہاب اشرفی کی تصنیف ’’مارکسی فلسفہ، اشتراکیت اور اردو ادب‘‘ نہ صرف وقیع، جامع اور مکمل ہے بلکہ یہ گذشتہ تمام کتابوں پر سبقت لے جاتی ہے۔ وہاب اشرفی ایک کشادہ ذہن ناقد ہیں، وہ اشتراکیت، جدیدیت مابعد جدیدیت اور دوسرے تمام فکری رویوں کو اپنے مطالعہ اور تجزیے کا موضوع بناتے ہیں، چونکہ ان کا ذہن ہر طرح کے تحفظات و تعصبات سے مبرا ہے، اس لیے وہ ہر طرح کی فکر اور نظریے کی سنجیدہ افہام و تفہیم کے لیے ہمہ وقت وا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف نے مارکس کا فالور نہ ہوتے ہوئے بھی معروضیت کے ساتھ مفصل تجزیہ پیش کیا ہے۔ وہاب صاحب کا خیال ہے کہ مارکس کا فلسفہ، اینگلز کے تصورات، لینن کی توضیحات اور ان کی اہم کتابیں، مضامین اور دیگر دانشوروں کی تحریریں ایک جگہ موجود نہ ہونے کے سبب ترقی پسند تحریک کے تمام ترافکار جس طرح نمایاں ہونے چاہئیں نہیں ہوئے۔ اس لیے مذکورہ کتاب میں انھوں نے مارکسی فلسفہ اور اشتراکیت سے متعلق ان تمام مواد وماخذات کی یکجا کیا جو اس کتاب کا اہم ترین حصہ ہی نہیں بلکہ مغز بھی ہیں۔ اس ضمیمہ میں مارکسی بنیاد گزاروں کی تقاریر کے متن اور مختلف کانفرنسوں کے منثورات کے ساتھ مارکس اور اینگلز کی آپسی مراسلت کو بھی یکجا کر دیا ہے، اس سے ان مفکرین کے نہ صرف ادب اور سماج کے تئیں پیش کردہ تصورات کا علم ہوتاہے بلکہ ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی اور یہاں کے مقہور و مظلوم عوام سے قربت اور انسیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں وہاب اشرفی کا نقـدالشعـر – پروفیسر کوثر مظہری )
وہاب اشرفی نے سب سے پہلا سوال پوزکیا ہے، فلسفہ کیا ہے؟ پھر اس کا جواب خودہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسے دوطریقوں سے سمجھاجاسکتا ہے، کچھ لوگ نیچر کی اسپرٹ کو حقیقی سمجھتے ہیں اور ساری کائناتی تخلیقات کو اسی آئینہ میں دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں، ایسے اشخاص مثال پسند کہلاتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو وجود کو مادی حقیقت تصور کرتے ہیں اور ساری کائنات کو اس کا تابع مانتے ہیں۔ پھر وہ تفصیل میں جاتے ہوئے تاریخی اور جدلیاتی مادیت سے بحث کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مارکسی فلسفے کی بحث میں بورژوائی فلسفہ کو پرولتاری فلسفہ سے الگ کیا جاتارہا ہے۔ مارکس اور اس کے ہمنواؤں کا خیال ہے کہ فلسفہ کی مختلف صورتیں محض منطقی ضروریات کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق شعوری تصور سے الگ ہے، ان کی تفہیم محض تصوراتی صورت میں ممکن نہیں، مارکس کے خیال میں فلسفہ کا سسٹم حکومتوں کی صورتوں کے سلسلہ سے مشاہدہے، لہٰذا فلسفہ کوئی الوہی چیز نہیں بلکہ یہ سماجی پیداوار ہے، فلسفہ کی تمام نوعیتوں میں اس کے سماجی عوامل کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس فلسفہ کی کوئی تھیوری عمل سے مبرا نہیں۔ باب اول کے عنوان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ فلسفہ کی تفہیم عمومی طریقے سے کرنا چاہتے ہیں لیکن یہاں مارکسی فلسفہ کو ہی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ باب دوم ایک طرح سے باب اول کا ہی حصہ ہے جس میں مارکسی فلسفہ کی مختلف نوعیت یعنی جدلیاتی مادیت، تاریخی مادیت اور محنت، سرمایہ اور قدر زائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے، یہاں متعدد مارکسی فلسفیوں اور ان کے فلسفیانہ نکات کو واضح کیا گیا ہے، اس سلسلہ میں لینین کے ساتھ کئی ایسے مارکسی فلسفیوں کی بابت اطلاع فراہم کی گئی ہے جنھوں نے عوام میں اور بالخصوص مزدوروں میں انقلاب کی لہر تیز کرنے کی کوشش کی تھی۔ انسان کے تاریخی ارتقا سے بحث کرتے ہوئے مارکس اور اینگلز کے مخصوص نظریات کو پیش کرتے ہوئے مصنف نے ان کے نظریات کو بیان کیا ہے کہ انسان کے وجود کی پہلی شرط اس کی بقا ہے۔ زندہ رہنے کے لیے سب سے پہلے خوراک درکار ہوتی ہے۔ انسان، فلسفہ کے بغیر زندہ رہ سکتاہے، مذہب، ادب اور موسیقی کے بغیر جی سکتا ہے لیکن روٹی کے بغیر ایک ہفتہ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پس انسان کی فطرت کا انحصار اس کے مادی حالات پر ہوتا ہے جو اس کی پیداوار کو متعین کرتے ہیں۔ یہ انسان کی بقا کا بنیادی نکتہ ہے، اس کے علاوہ بھی کئی نکتے ہیں جن کو مارکسی طرز فکر اہم تصور کرتا ہے۔ مادہ اور مادیت کی لازمیت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مصنف نے Peter Bayle کو کوٹ کیا ہے، اس کی تشکیل ایک خاص قسم کی تھی جو بڑھتے بڑھتے مابعد الطبیعیات کے لیے رخنہ بن گئی، چنانچہ وہ ملحد معاشرے کا ایک بڑا نقیب بن گیا۔ لیکن مصنف نے انگریزی مادیت اور تجرباتی سائنس کے ضمن میں بیکن کو بنیاد گزار مانا ہے۔ اس کے علاوہ ہورس، لاک اور ہیلوٹپس کے نظریات بھی واضح طور پر سامنے آتے ہیں اور ان کے ڈانڈے کسی نہ کسی طور پر مارکسی جدلیاتی مادیت سے جاملتے ہیں۔ مارکس نے قائرباخ پر لکھے اپنے ایک مضمون میں گیارہ نکات پیش کیے ہیں جو جدلیاتی مادیت کی تفہیم کے لیے بہت ہی کارآمد ہیں۔ مصنف نے ان گیارہ نکات کو بہت ہی سہل انداز میں پیش کیا ہے تاکہ اس نظریے کی بابت بعض پیچیدگیاں بآسانی سلجھ جائیں۔ جدلیاتی مادیت کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے واضح کیا ہے کہ دراصل حرکت اور تبدیلی کی بنیاد تضاد اور کشمکش پر ہے، روایتی رسمی منطق تضاد کو ختم کرنا چاہتی ہے، جبکہ جدلیاتی مادیت اسے قبول کرتی ہے، اس باب میں مصنف نے مقدار اور معیار، نامیاتی اور غیر نامیاتی، کل اور جزو، پیچیدہ ساخت والے اجسام، انقلاب کا مسالماتی عمل …… کا اتفاق اور باہم انضمام، مخالف قطبین اور نفی کی نفی جیسے ذیلی عنوانات قائم کرکے جدلیاتی مادیت کی فکری اور نظری جہات کو روشن کرنے کی سعی کی ہے اور اسے صرف فطری حادثات کا موجب نہیں بلکہ انسانی معیشت اور انسانی تاریخ کے ارتقا کا بھی سبب گردانا ہے۔
اسی طرح تاریخی مادیت کی وضاحت کرتے ہوئے مصنف نے کہ لکھا ہے کہ خیال پرستوں کے برعکس انسان مکمل طور سے خودمختار ہے اور مارکسزم انسان کی خودمختاری کے حدود کو اس معاشرہ کی مادی صورت حال متعین کرتی ہے جس میں وہ جنم لیتے ہیں۔ مارکس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ تمام تاریخی تبدیلیاں، طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہیں، نہ کہ محض بدلتے ہوئے خیالات کا نتیجہ ہیں۔ اس باب کے اخیر میں محنت، سرمایہ اور قدر زائد کے ذریعہ مزدوروں اور سرمایہ داروں کے درمیان تفریق اور تضادات کے اسباب بیان کرتے ہوئے مصنف نے مارکس کے ایک خط کا حصہ کوٹ کیاہے۔ جس میں طبقاتی وجود پیدا وارسے اس کا سلسلہ پھر طبقاتی جدوجہد نیز ڈکٹیٹرشپ کم لفظوں میں واضح ہوگئے ہیں۔ اس سلسلہ میں مارکس اور اینکلز کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے نظریات کی روشنی میں لکھا ہے کہ زندہ سرمایہ وہ سرمایہ ہے جس کے ذریعہ مزدوروں کی صلاحیت اور محنت خریدلی جاتی ہے، چونکہ مزدور کے کام کرنے کی طاقت اپنی قدر سے زیادہ قدر پیدا کرتی ہے اس لیے کہاجاتا ہے کہ زندہ سرمایہ اپنی قدر زیادہ پیدا کرتا ہے، اس نظریے کی فکری موشگافیوں کو حل کرنے کے لیے مصنف نے کئی آسان مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں امداد امام اثر کا انتفادی اختصاص – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )
کتاب کے تیسرے باب میں مارکس اور اینگلز کے انقلابی تصورات کو بالتفصیل پیش کرتے ہوئے مصنف نے بطور خاص ’’داس کیپٹل ‘‘ کا ذکر کیا ہے، بقول مصنف: ’’مارکس کی اس کتاب نے انقلاب کی لازمیت اور معنویت کو بڑھانے کا کام شدومد کے ساتھ کیا۔ مارکس اور اینگلز صرف یہ نہیں چاہتے تھے کہ مزدور اپنی واجب مزدوری حاصل کرنے کے درپے ہوجائیں بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ سماجی نظام اس طرح تبدیل ہوجائے کہ ہر آدمی کو اپنی زندگی کے محاسن کو ترقی دینے کی سہولت اور مواقع فراہم ہوجائیں اور اس کے لیے مزدوروں میں بیداری اور اپنے حقوق کی پہچان آجائے، اس باب میں مزدوروںکی تحریک اور بالخصوص روس کی بالشویک تحریک کو مصنف نے مختصراً لیکن جامعیت کے ساتھ پیش کردیا ہے، باب چہارم اسی روسی انقلاب اور اس کے دوررس اثرات پر مرکوز ہے۔ یہاں مصنف نے بہت ہی صراحت اور وضاحت کے ساتھ اکتوبر کے عظیم انقلاب اور اس کے دور رس اثرات کوپیش کیا ہے۔ اس باب میں مصنف نے اس انقلاب کے پس منظر اور دیگر عوامل کو پیش کیا ہے اور نہ صرف روس بلکہ برطانیہ، شمالی امریکہ، جاپان، جرمنی اور فرانس کے ساتھ دنیا بھر کے غلام اور مقہور عوام کی کسمپرسی اور پھر ان کے زبردست ردعمل کی مختلف صورتوں کو اس طرح آئینہ کیا ہے کہ انسانی سماج کی تیزی سے بدلتی ہوئی تاریخ کا ہر ایک گوشہ روشن ہوجاتا ہے۔
پانچویں باب میں وہاب اشرفی نے مارکس اور اینگلزکے مضامین کی فہرست پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ ان مفکرین نے مختلف اوقات میں اپنے مضامین کے ذریعہ ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کے تئیں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مضامین اور مکتوبات کے متون سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کی سیاسی اور سماجی صورت حال پر گہری نظر رکھتے تھے اور خاص طور سے برطانیہ کے جبر اور ہندوستانی پسماندہ عوام کی پل پل کی خبر رکھتے تھے۔ ان کے مضامین او مکاتب سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مشرقی ممالک کے تمام کا لونیل اور ماتحت ممالک کا نہ صرف مطالعہ کیا تھا بلکہ ان کی آزادی کے بھی خواہاں تھے۔ باب ششم کو مارکسی جمالیات اور مارکسی ادب کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ مذکورہ باب میں جمالیات کے آغاز، پس منظر اور تعریف کی بابت وافر معلومات فراہم کی گئی ہیں، نیز اس کی تفہیم کے طریقہ کار کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ آگے چل کر مصنف صرف مارکسی جمالیات تک خود کو محدود رکھتا ہے۔ اس ضمن میں مارکس کے خیالات کو پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مارکس کے نزدیک انسانی جمالیات کا تعلق حقیقی دنیا سے ہے اس کی کار کردگی کا تعلق خیالی دنیا سے نہیں ہے، اس کے خیال میں جمالیات میں آرٹ دنیا سے بڑی شئے نہیں ہے۔ اس کا براہ راست تعلق انسان کی مادی دنیا سے ہے۔
مصنف نے مارکسی جمالیات پر دوسرے مفکرین کاحوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ:
مارکسی اور لینن کی Aesthetic Theory گرچہ بہت جامع نہیں ہے، مگر اس ضمن میں انھوں نے البیر کامیوکی شہرۂ آفاق تصنیف ’’متھ آف سیسی فس‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ موت کو ایک اٹل سچائی کے طور پر قبول کرتا ہے اور انسانی وجود کے لایعنی ہونے پر زور صرف کرتا ہے۔ وہاب صاحب نے کامیو کے اس نظریہ کو بورژوائی قرار دیتے ہوئے اسے مادیت کے خلاف ایک مظاہرہ تصور کیا ہے۔ اخیر میں وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ مارکس اور لینین کی جمالیات میں زیادہ قابل قبول ہیں۔ کیونکہ یہ زندگی کی توانائی اور حرارت سے متعلق ہیں۔ لیکن اس کی لازمیت پر بھی وہ زور دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی فلسفہ ادب میں فروغ نہیں پاسکتا، اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر وہ اصغر علی انجینئر کے ایک مضمون کے بعض اہم نکات پیش کرتے ہیں، وہ بعض اہم ناولوں اور فنکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے مارکسی جمالیات کے اثرات کو نشان زد کرتے ہیں۔ اس باب کے اخیر میں ہندوستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے آغاز ارتقا اور اس کی سرگرمیوں پر غائر نظر ڈالتے ہیں، گرچہ اس کی تفصیل دوسری کتابوں میں بھی ہوبہو مل جاتی ہے لیکن ترقی پسندوں کے آپسی اختلافات اور تضادات کو غالباً انھوں نے پہلی دفعہ فوکس کرنے کی کوشش کی ہے۔
بات ہفتم، مارکسی نظریات اور اردو شعر و ادب سے علاقہ رکھتا ہے۔ اس باب میں مارکسی نظریات کے حامل فنکاروں کے حوالے سے یہ بات دہرائی گئی ہے کہ مثال پسندی اور قدامت پرستی دونوں بورژدائی رویے میں مارکس کا نظریہ ہی اصل میں مفید اور کار آمد ہے۔ اس لیے ادب کی اسی نظریہ کے تحت تخلیق ہونی چاہیے۔ اس باب میں اردو کے ترقی پسند قلمکاروں کے ذہنی رویے اور ان کے ترقی پسند مزاج کی نشان دہی کی گئی ہے، شعرا میں فراق، اختر انصاری، مخدوم، مجروح، ساحر،تاباں، منظر شہاب، شاد عارفی، فکشن میں سدرشن، علی عباس حسینی، سجاد ظہیر، رشید جہاں، احمد علی، حیات اللہ انصاری، سہیل عظیم آبادی، منٹو، کرشن، بیدی، عظمت، ممتاز مفتی، احمد یوسف، ذکی انور، قاضی عبدالستار، انور عظیم، ابراہیم جلیس، خدیجہ مستور، عابد سہیل، غیاث احمد گدی، رام لعل، شکیلہ اختر، جیلانی بانو، خواجہ احمد عباس، جوگندرپال، ش مظفر پوری، کلام حیدری، اقبال مجید، گلزار، سلام بن رزاق، ساجد رشید، ذکیہ مشہدی، اسرار گاندھی وغیرہ۔ اور ناقدین میں سجاد ظہیر، مجنوں گورکھپوری، اختر حسین رائے پوری سے لے کر علی احمد فاطمی، ابن کنول اور ہمایوں اشرف کے تفصیلی اذکار ہیں، مذکورہ ادیبوں، شاعروں پر وہ اپنی کتاب ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں بھی اظہار خیال کر چکے ہیں۔
(ان میں کئی اشخاص ایسے ہیں جن کا تعلق اس نظریے سے کسی طور پر بھی نہیں ہے)
کتاب کے اخیر میں پروفیسر وہاب اشرفی نے ایک ضمیمہ جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، شامل کیا ہے۔ اس میں ترقی پسندوں کی تقاریر اور منثورات کو قدر ے تفصیل سے مقتبس کیا گیا ہے، ساتھ ہی مارکس اور اینگلز کے مکتوبات کے اصل متون بھی نقل کیے گئے ہیں۔ کتابیات پر ایک سرسری نگاہ ہی بتاتی ہے کہ مصنف نے کتنی جانفشانی اور عرق ریزی کے بعد اس موضوع کا حق ادا کیا ہے۔ اس لیے اتمام حجت کے طور پر اگریہ کہاجائے کہ اردو میں ایسی تصنیف کسی ترقی پسند بنیاد گزار یادانشور ناقد نے اب تک نہیں پیش کی ہے، تو بالکل بیجانہ ہوگا۔ ترقی پسند تحریک پر تمام تحریریں اور مواد اہل علم کی نظروں میں ہیں، ان کا محاسبہ مشکل نہیں۔ میری دانست میں تاریخ ادبیات عالم کے بعد وہاب اشرفی کی یہ سب سے اہم تصنیف ہے جسے نہ صرف علمائے ادب بلکہ طلبہ و طالبات بھی ترجیحی بنیاد پر اپنے مطالعہ میں رکھیں گے اور اس سے ہمیشہ استفادہ کرتے رہیں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]