Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

عالمی یوم خواندگی: حقائق و جائزہ – تسنیم فرزانہ

by adbimiras ستمبر 8, 2021
by adbimiras ستمبر 8, 2021 0 comment

دنیا بھر میں 8 ستمبر کو عالمی یوم خواندگی منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا سے جہالت کے اندھیرے دور کرکے آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور روشن مستقبل کی ضمانت دینا ہے۔ بہت سے ممالک میں ہر سال خواندگی کے فروغ کے عالمی دن کی مناسبت سے مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو اسکول نہیں جاتے اور تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں۔ ہمارے ملک کے مختلف علاقوں میں بھی کم شرح خواندگی کی ایک بڑی وجہ تعلیم اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہی نہ ہونا اور ناقص تعلیمی نظام بھی ہے۔

شرح خواندگی بڑھانے کے لیے تعلیم بالغاں کی اشد ضرورت ہے۔ خواندہ افراد کی کارکردگی ہی ہر شعبے میں بہتر ہوتی ہے۔ بلاشبہ نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ پڑھے لکھے، صحت مند اور پیداواری صلاحیتوں کے مالک ہوں تو وہ ملک کی اقتصادی ترقی میں ممد ومعاون ثابت ہوتے ہیں اور اس ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر وہ ناخواندہ، بیماریوں کا شکار اور پیداواری صلاحیتوں سے عاری ہوں تو وہ قوم پر بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے اس حقیقت کو پاتے ہوئے تعلیم کو فروغ دیا، ملک سے ناخواندگی دور کرنے کو سب کاموں پر فوقیت دی اور اس کے لیے وسائل مختص کیے، وہ صنعتی اور زرعی اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ تعلیم ہر قوم کے لئے کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ اگر ہم نے تعلیمی میدان میں خاطر خواہ ترقی نہیں کی تو نہ صرف یہ کہ ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ شاید ہمارا وجود ہی قائم نہ رہے، افسوس کہ ہم آج تک تعلیم کے میدان میں خاطر خواہ کام نہیں کر پائے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہماری حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ ہماری ترقی کا خواب اسی وقت پورا ہو گا جب ہمارا فوکس تعلیم پر ہو گا اور ہماری نوجوان نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہوگی۔ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں سکول داخل نہ کروائے جانے والے بچوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ڈراپ آؤٹ کا مسئلہ بھی بڑھا ہوا ہے۔ ان بچوں کو سکول میں لانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

وطن عزیز میں ہمیشہ سے ہمارے ارباب اختیار کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ انتہائی نچلے درجے پر رہا ہے۔ اب دیر آید درست آید کے مصداق صوبائی حکومتوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبہ کے لیے بجٹ میں ماضی کے مقابلے میں خاطر خواہ وسائل مختص کیے ہیں، جو حکومتی اعلانات دعوؤں اور وعدوں کی حد تک تو انتہائی پر کشش اور سحر انگیز دکھائی دیتے ہیں، مگر تعلیمی شعبہ میں انقلاب کے لئے ہمیں ان پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک بھارت میں غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے 90 فیصد بچے چار سال سکول جانے کے بعد بھی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے جبکہ ملک میں ناخواندہ بالغوں کی تعداد تقریباً 29 کروڑ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مسلم تحریکات آزادی : ایک نظر میں – تسنیم فرزانہ)

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تازہ ترین رپورٹ کےمطابق دنیا بھر میں ناخواندہ بالغوں کی کل تعداد کا 37 فیصد حصہ بھارت میں رہتا ہے۔ ادارے کے مطابق ملک میں آبادی کے تناسب سے خواندگی میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن آبادی بڑھنے کی وجہ سے ناخواندہ افراد کی مجموعی تعداد کم نہیں ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کے خوشحال طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں اب سو فیصد خواندگی ہے لیکن غریب ترین طبقےکے لیے منزل ابھی دور ہے اور یہ ہدف سنہ 2080 تک ہی حاصل ہونے کا امکان ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا کی ناخواندہ آبادی کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ صرف دس ملکوں میں رہتا ہے اور تعلیم کے خراب معیار کی وجہ سے بھارت میں 90 فیصد غریب بچے چار سال تک سکول جاتے رہنے کے بعد بھی لکھ پڑھ نہیں پاتے۔ مزید برآں غریب ممالک میں صورتحال اتنی خراب ہے کہ ہر چار میں سے ایک بچہ ایک جملہ بھی نہیں پڑھ سکتا۔

ناخواندگی کی شرح ملک کے مختلف حصوں میں مختلف ہے لیکن سب سے زیادہ ناخواندگی دیہات میں دیکھنے میں آتی ہے، جہاں اکثر عورتیں لکھنا پڑھنا نہیں جانتیں۔ آج  کل شہروں میں اگرچہ بیداری کی نئی لہر دوڑ چکی ہے لیکن ملک کا اہم حصہ یعنی دیہات اب بھی خواب غفلت میں محو ہیں۔ اگر ہم تیزی سے ترقی کرتی قوموں کے حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھا اور خود احتسابی کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے کبھی اپنی غلطیوں کو نہیں دوہرایا۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی میدان میں ہماری ناکامیوں اور زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اساتذہ زیادہ تر غیر تدریسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، کبھی پولیو مہم، کبھی ڈینگی آگاہی مہم، کبھی امتحانات اور الیکشن میں ڈیوٹیاں یا پھر کوئی اور سرکاری کام، جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو تی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو کسی بھی غیر تدریسی عمل میں شریک کرنے کے بجائے ان کاموں کے لیے الگ سے بھرتیاں کی جائیں تا کہ اساتذہ اپنے کام پر پوری توجہ دے سکیں، ورنہ ہمارا معیار تعلیم پست سے پست ہوتا چلا جائے گا۔

مغربی ممالک کی اقتصادی میدان میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہی ناخواندگی کا قلع قمع کر دیا۔ ان ممالک میں کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور کارخانوں میں کام کرنے والے کاریگر سب تعلیم یافتہ ہیں۔ ایسے افراد جو بچپن میں کسی وجہ سے سکولوں سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے، انہیں ضروری تعلیم دے کر معاشرے کے مفید افراد بنانا تعلیم بالغاں کہلاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم بالغاں کی بدولت خواندگی کی شرح کو سو فیصد تک کر لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہیں۔ تعلیم بالغاں کی بدولت افراد کو ضروری تصورات کی تفہیم کے ساتھ مختلف فنون سکھائے جاتے ہیں تا کہ وہ کار آمد افراد بن کر ملک وقوم کے لیے مفید بن سکیں۔ ان پڑھ بالغ افراد کو تعلیم دینا کہ وہ اپنے کھیتوں کو سرسبز بنا سکیں یا کارخانوں میں بہتر کاریگر ثابت ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بالغ شخص کو تعلیم دینا دولت اور محنت کا ضیاع نہیں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹی عمر کے ان تمام بچوں کو جو کسی وجہ سے سکول نہیں جا رہے ہیں ، ان کا سکول میں داخلہ یقینی بنانے کے ساتھ ایسے والدین جو بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے ہیں ان کی نشاندہی کر کے انہیں تعلیم کا شعور دیا جائے۔ میٹرک تک تعلیم نہ صرف بالکل مفت ہو بلکہ غریب بچوں کو وظائف، جوتے اورکپڑے وغیرہ بھی دیے جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ بالغ افراد کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا جائے تا کہ ایسے افراد جو بچپن میں کسی بھی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکے تعلیم کی بدولت کار آمد افراد بن سکیں۔ ماضی میں ہم نے تعلیم بالغاں کی طرف کچھ خاص توجہ نہیں دی۔  اگرچہ اس تعلیم کے لیے سفارشات تو بہت پیش کی گئیں ، لیکن ان سفارشات کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں خواندگی کی شرح کم ہی رہی۔ تعلیم بالغاں کے لیے جامع اور مکمل درسی مواد وسیع پیمانے پر ترتیب دینا اور تیار کرنا ضروری ہے۔ تعلیم بالغاں معاشرتی استحکام پیدا کرنے اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے اور  ملک کے ان پڑھ باشندوں کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ پورے وثوق سے اپنی شہری ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہو سکیں۔ (یہ بھی پڑھیں داعی اعظم کی دلآویز شخصیت – تسنیم فرزانہ)

حکومت کو چاہیے کہ ہر شہر اور دیہات میں خواندگی کے لئے جامع منصوبہ بندی کرے۔ ملک کے تمام مدارس، فیکٹریوں، زرعی فارموں، یونین کونسلوں اور دیگر معاشرتی اداروں میں تعلیم بالغاں کے مراکز کھولے جائیں اور روایتی طریقہ ہائے تدریس کے ساتھ ساتھ جدید رجحانات سے بھی استفادہ کیا جائے جیسے ٹی وی، ریڈیو، نمائش، سیمینار، چارٹ، ماڈل اور پوسٹرز وغیرہ۔ تعلیم بالغاں کے ان مراکز کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کا سلیکشن کیا جائے اور انہیں ابتدائی تربیت دی جائے۔ تعلیم بالغاں کے پروگرام میں فیکٹریوں کے مزدوروں، دیہی علاقوں کے کسانوں، کاریگروں اور دیگر بالغ افراد جنہوں نے سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کی شامل کیا جائے تاکہ وہ کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔ خاص طور پر خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرنا از حد ضروری ہے تا کہ وہ بہتر انداز میں گھریلو زندگی گزار سکیں۔ تعلیم بالغاں کے فروغ کے دوران کچھ مسائل درپیش آسکتے ہیں کیوں کہ بالغ افراد کو تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنا خاصا مشکل امر ہے۔ اکثر افراد کا پہلا اعتراض یہی ہو گا کہ ہماری پڑھنے کی عمر اب کہاں رہی ہے، ہمارے اوپر ذمہ داریاں بہت ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو وہاں بچے کے گھر اور اسکول کی زبان ایک ہی ہوتی ہے، وہ جو زبان اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے بولتاہے، اسی زبان میں اسکول میں لکھتا، پڑھتا اور سیکھتا ہے۔ یہ طرز عمل اسے آگے بڑھنے اور خود اعتمادی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے ، وہ اپنی زبان میں بنا ہچکچاہٹ اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔وہ پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی بہتر ہوتا ہے اور اپنے علم و تجربہ کو اپنی آئندہ نسل میں منتقل کردیتا ہے جبکہ دیگر ترقی پزیر ممالک میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ بچے کو مادری زبان کے بجائے انگریزی زبان میں پڑھانے یا سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بہر حال ان تمام مسائل کو کافی حد تک حل کیا جا سکتا ہے جیسے انہیں اس بات پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ پڑھائی کے بعد نہ صرف وہ اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کر سکتے ہیں بلکہ بڑھاپے یا جوانی میں کسی پر بوجھ بھی نہیں بنیں گے۔ اگر بالغوں کی تعلیم کے لیے بہتر ماحول پیدا کیاجائے اور انہیں ایسی چیزیں پڑھائی جائیں جن کا ان کی زندگی کے ساتھ براہ راست واسطہ ہو تو وہ یقیناً اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ جس طرح حکومت نے سرکاری سکولوں میں کتابیں اور کاپیاں مفت فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اسی طرح حکومت کو تعلیم بالغاں کے لیے بھی ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے لوگ صرف اس لیے تعلیم حاصل نہیں کرتے کہ گھر کاگزر بسر کیسے ہو۔ لہٰذا مفت کتابیں، کاپیاں اور تعلیم ان کی اس مشکل کو نہ صرف کم کر سکتی ہے بلکہ کافی حد تک ختم بھی کر سکتی ہے۔ تعلیم بالغاں سے مراد صرف نا خواندہ لوگوں کو اس حد تک خواندہ بنانا نہیں کہ وہ محض دستخط کرنا سیکھ جائیں بلکہ اس کے ذریعے نا خواندہ لوگوں اور بالخصوص دیہی آبادی کی زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنا ہے۔ مثلاً اس میں ان کی تعلیم، صحت، طرز رہائش، عام رسم و رواج، اقتصادی اور مالی حالت کو بہتر بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔

فِجی (Fiji)میں 3سے5سال تک کے بچوں پر ان کے گھروں اور کمیونٹیز میں تحقیق کی گئی۔ تحقیق کے نتائج میں کہا گیا کہ بچے مختلف میڈیا کے ذریعے اپنے گھروں اور کمیونٹیز میں جو کچھ سیکھتے ہیں، اس کے ان کی خواندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میلبورن انسٹی ٹیوٹ آف اَپلائیڈ اکنامکس اینڈ سوشل ریسرچ کے نتائج بھی اسی سے ملتے جُلتے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں کو باقاعدگی سے گھر میں کتاب پڑھ کر سُنانے کی عادت انھیں اسکول جانے پر زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر ہم تعلیمی نکتہ نگاہ سے دنیا کے دیگر ممالک پر نظر ڈالیں تو ہمیں فن لینڈ آئیڈیل دکھائی دیتاہے۔ اس ملک میں اساتذہ کی تعیناتی کا نظام اتنا دشوار اور مقابلے پر مبنی ہے کہ اگر دس افراد بطور ٹیچر اپنی خدمات دینے کیلئے درخواست دیں تو ان میں سے صرف ایک ہی منتخب ہو کر تدریس کے شعبے میں داخل ہوسکتا ہے۔ان کے انتخاب کے مرحلےمیںان کے تعلیمی ریکارڈز کے ساتھ ساتھ ان کی غیرنصابی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتاہے۔ ان کی نہ صرف تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو پرکھا جاتاہے بلکہ مخصوص مدت تک ان کوایک کلاس روم میں اپنی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کرنا ہوتا ہے تب کہیں جا کر ان کو معلم یا معلمہ کے طور پر منتخب کیا جاتاہے۔اس ماڈل کو سامنے رکھیں تو نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ کئی دیگر ممالک میں بھی تدریس کا معیار کسمپرسی کا شکار ہے۔ جب اساتذہ ہی قابل اور لائق نہیں ہوں گے ، تو بچوں کا کیا تعلیم دے پائیں گے اور ایسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے۔اسی لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کو اسکول کے اندر لانے کی پالیسی اور نئے اسکولوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور ان کے انتخاب کے حوالے سے بھی انقلابی اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں خواندگی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوسکے۔

پچھلے سال ایک خوش آئند خبر یہ بھی آئی ہے کہ دہلی نے ملک میں خواندگی کی شرح میں دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی پر نائب وزیر اعلی اور وزیر تعلیم نے اپنی حکومت کی تعلیمی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔ اس کامیابی کے بارے میں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل کے ذریعے معلومات فراہم کی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھاکہ دہلی نے شرح خواندگی کے لحاظ سے ملک میں دوسرے نمبر پر جگہ بنا لیا ہے۔ دہلی کی تعلیمی ٹیم کو مبارکباد۔ ہم 100فیصد تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ تناؤ کو کم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ہر گھنٹے ایک خودکشی ناقابل قبول ہے۔تحقیق کے مطابق کیرالا کے بعد دہلی میں خواندگی کی شرح 88.7 فیصد ہے۔ اس کے بعد اتراکھنڈ کا87.6 فیصد، ہماچل پردیش کا 86.6 فیصد اور آسام کا 85.9 فیصد ہے۔واضح رہے کہ خواندگی کی شرح 96.2 فیصد کے ساتھ کیرالہ ایک بار پھر ملک کی سب سے تعلیم یافتہ ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے، جبکہ آندھرا پردیش 66.4 فیصد خواندگی کی شرح میں سب سے آخری مقام پر ہے۔وہیں راجستھان خواندگی کی شرح 69.7 فیصد کے ساتھ دوسری سب سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاست بن گئی ہے۔بہار کی شرح خواندگی 70.9 فیصد ہے، تلنگانہ میں 72.8 فیصد، اتر پردیش میں 73 فیصد اور مدھیہ پردیش میں 73.7 فیصد ہے۔ یہ معلومات این ایس او کے سروے کی بنیاد پر جاری کی گئی رپورٹ میں دی گئی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں فلسفۂ مارکسیت اور پروفیسر وہاب اشرفی – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم)

آئیے ہم سب مل کر اپنی قوم و ملک سے ناخواندگی کو دور کرنے کے لئے جد و جہد کریں اور ملک و ملت کی ترقی پر گامزن ہوں۔

 

 


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

تسنیم فرزانہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پسند و نا پسندکے درمیان کا مرشد کامل:پروفیسر ابولکلام قاسمی – ڈاکٹر ابو بکر عباد
اگلی پوسٹ
ادھار اور گالی – ایس معشوق احمد

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں