امداد امام اثر کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تصنیف ’’کاشف الحقائق‘‘ تاریخی اعتبار سے الطاف حسین حالیؔ کے مقدمہ شعر و شاعری کے بعد اردو تنقید کی دوسری اہم ترین تصنیف ہے۔ اس کے بعد شبلی نعمانی کی تصنیف ’’موازنہ انیس و دبیر‘‘ کا نمبر آتا ہے۔
امداد امام اثر 17؍ اگست 1849 میں پٹنہ ضلع کے موضع سالارپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اپنے زمانے میں بہت نامور اور ممتاز ماناجاتا تھا۔ ان کے آبائی و اجداد مغلیہ دورِ حکومت سے لے کر انگریزی حکومت تک اہم ترین منصبوں پر فائز رہے۔ اثرؔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوئے اور بالآخر پٹنہ یونیورسٹی میں تاریخ اور عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اس عہد میں ان کے علمی و ادبی مرتبے کے اعتراف میں انھیں شمس العلما کا خطاب بھی ملا۔ مگر اس ڈگر پر وہ تادیر قائم نہ رہ سکے۔ انھوں نے کچھ عرصہ کے بعد وکالت شروع کردی، ساتھ میں طبابت کا شغل بھی جاری رہا۔ لیکن یہ سلسلہ بھی دراز نہ رہ سکا اور انھوں نے آگے چل کر تمام مصروفیات سے نجات حاصل کرلی اور خود کو کلی طور پر مطالعہ اور تصنیف و تالیف کے لئے وقف کردیا۔ وہ کسی ایک علم، فن یا زبان پر قانع نہیں رہے۔ انھوں نے مختلف زبانوں کے علوم و فنون کا غائر مطالعہ کیا اور ان کا تقابلی انداز میں تجزیہ اور احتساب کا بیڑہ اٹھالیا۔ شاعری اور تنقید کے علاوہ ان کی ایک درجن سے زائد کتابیں طب، زراعت اور باغبانی وغیرہ پر آج بھی ہمیں ان کی امتیازی و انفرادی حیثیت کا ثبوت مہیا کرتی ہیں۔
امداد امام اثرؔ نے جیسا کہ عرض کیا گیاکہ شاعری کے علاوہ مختلف علوم و فنون میں بیش قیمت کارنامے انجام دیئے مگر ان کی شہرت وعظمت کا بڑا سبب ان کی تصنیف ’’کاشف الحقائق‘‘ ہی ثابت ہوئی۔ یہ کتاب پہلی دفعہ 1897ئ میں شائع ہوئی۔ اس کے قبل اردو کی شعری اصناف پر تنقید کی دو مثالیں موجود تھیں۔ پہلی محمد حسین آزاد کی کتاب ’’آب حیات‘‘ (1880) تھی تو دوسری کتاب حالیؔ کی ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ تھی۔ شاعری پر بنیادی مباحث اور نقطۂ نظر کے لحاظ سے حالیؔ کے مقدمہ کو جو کہ چار سال قبل شائع ہوا تھا، اولیت حاصل ہے۔ لیکن ان دونوں کتابوں کا موازنہ کیا جائے تو کئی اعتبار سے ’’کاشف الحقائق‘‘ کی اہمیت کئی گنا زیادہ بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بعض ناقدین اور اہالیانِ ادب کے مطابق حالیؔ کے مقدمہ کو اردو تنقید کی پہلی کتاب اس لئے نہیں کہاجاسکتا کہ 1893 میں جب یہ پہلی بار شائع ہوئی تو اس کی کوئی علاحدہ حیثیت نہیں تھی۔ یہ محض حالیؔ کا مقدمہ تھی۔ اس بابت پروفیسر احتشام حسین نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’…اس کے اصل مقصد (مقدمہ) سے دیکھا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ناقدانہ پہلو ایک ضمنی حیثیت رکھتا ہے۔ اصلاً مقدمہ محض دیوان کا مقدمہ ہے اور اس کا مطالعہ اسی روشنی میں کرنا چاہیئے‘‘۔
(عکس اور آئینے۔ احتشام حسین ص:147)
وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
’’حالیؔ کا مقصد تنقیدکی کتاب لکھنا تھا ہی نہیں۔ وہ تو اپنی شاعری کے سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے کچھ ضروری اشارے کررہے تھے‘‘۔
(عکس اور آئینے۔ احتشام حسین ص:47)
ان اقتباسات کی روشنی میں اب آئیے اثر کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں، اس میں وہ اپنی اس باضابطہ تنقیدی کتاب کے آغاز میں اپنے نظریے اور موقف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس (رسالے) ’’کاشف الحقائق‘‘کے ملاحظہ سے حضرات ناظرین پر روشن ہوگا کہ شاعری کیا شئے ہے؟ اس کی کتنی قسمیں ہیں، ہر قسم کا کیا تقاضا ہے۔ فطری اور غیر فطری شاعری میں کیا فرق ہے اور دونوں کے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں‘‘۔
(کاشف الحقائق۔ امداد امام اثرؔ ص:48 )
امداد امام اثرؔ کے یہاں مطالعے کی وسعت کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنی اس کتاب میں پہلی دفعہ تقابلی مطالعے کا وہ ماڈل پیش کیا جس سے آگے چل کر معروف نقاد پروفیسر کلیم الدین احمد اور دوسرے کئی ناقدین نے بھر پور استفادہ کیا۔ اثرؔ صرف اردو کی تنقیدی روایت سے نہیں بلکہ مختلف مشرقی اور مغربی زبانوں کی ادبی اور تنقیدی روایت اور پس منظر سے بھی براہ راست واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تقابلی مطالعہ (Comparative study) کے ذریعے ایک زبان سے دوسری زبان کے شعرائ کا موازنہ اور تقابل کرکے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آج ان کے اخذ کئے گئے نتائج سے بعض ناقدین کو اختلاف ہو، لیکن ان کی وسعت نظری سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ ’’کاشف الحقائق‘‘ میں انھوں نے پہلی مرتبہ رومی شاعر ورجلؔ، ہوریسؔ، لوکنؔ، اور یونانی شعرائ میں سیفوؔ، اسکائس، سوفوکلیز اور اریسٹوفیز وغیرہ کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے عرب میں زمانہ جاہلی اور اس کے بعد کی شاعری کا مفصل محاکمہ پیش کیا۔ اس کتاب میں امراؤ القیسؔ، متنبی ؔ اور فرزدقؔوغیرہ کے کلام کے وافر نمونے موجود ہیں۔ کتاب کا دوسرا حصہ فارسی کے شعرا حافظؔ، سعدیؔ، خسروؔ، فغانیؔ، شیرازیؔ، فردوسیؔ، سنائیؔ، انوریؔ، خاقانیؔ وغیرہ پر مشتمل ہے اور تمام شعرائ کا ذکر تقابلی انداز میں ہوا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ شوق نیموی کی غزل گوئی – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )
امداد امام اثر دراصل اپنی اس تصنیف کو اردو میں نظریاتی تنقید کا ایک قابلِ قبول ماڈل بنانا چاہتے تھے۔ ساتھ ہی وہ تقابلی مطالعے کے لئے بھی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے تاکہ آنے والے وقتوں میں فن پاروں کے مطالعے کے بعد جو بھی نتائج اخذ کئے جائیں وہ ہوا میں معلق نہ ہوں بلکہ ٹھوس دلائل پر مبنی ہوں…۔ اپنی اس تصنیف میں اثرؔ نے پہلی دفعہ تنقید کے لئے Criticism اور نقاد کے لئے Critic جیسے الفاظ کا استعمال کیا جن کو بعد کے ناقدین نے خوب استعمال کیا اور ہنوز کررہے ہیں۔ وہ پرانی تذکروں والی تنقید سے نامطمئن تھے۔ وہ تنقید کو بھی ایک مستقل اور اہم صنف کے طور پر متعارف کرانا چاہتے تھے۔
جیساکہ عرض کیا گیا کہ وہ تذکروں میں موجود تنقید سے نالاں تھے۔ اس لئے تذکروں کی تنقید کو اکثر اپنا ہدف بنایا کرتے تھے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں:
’’اس وقت تک جو تذکرے فارسی یا اردو کے فقیر کی نظروں سے گزرے ہیں، ان سے کسی شاعر کے حسن و قبحِ کلام کا پتہ نہیں لگتا۔ مثلاً سمجھ میں نہیں آتا کہ خاقانیؔ اور انوریؔ کے قصائد کے امتیازی حسن و قبح کیا ہیں۔ اردو کے شعرائ کی نسبت کوئی تالیف و تصنیف ایسی نہیں دیکھی جاسکتی۔ جو غالبؔ اور مومنؔ کی غزل کا فرق دکھلائے، یا ان کے کلاموں کے حسن و قبح کو واضح طور پر بتلائے‘‘۔
(کاشف الحقائق، ص:48)
وہ مغربی ادبیات سے مرعوبیت پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’دماغ پر یوروپی ادب اس طرح غالب ہے کہ ایشیا کے ادب میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی‘‘۔
(ایضا،ص:48)
چنانچہ وہ مغربی اور مشرقی ادبیات کا براہ راست تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے کچھ بنیادی اصول و ضوابط مرتب کرتے ہیں اور اسی کسوٹی پر فن پاروں کو کستے ہیں۔ اردو شاعری کے حصے میں ولیؔ، سوداؔ، دردؔ، میرؔ، مومنؔ، آتشؔ، ذوقؔ، غالبؔ، اور ناسخؔ وغیرہ کا ذکر وہ اسی انداز میں کرتے ہیں۔ قصیدہ کے باب میں فارسی قصیدہ گویوں کے ساتھ اردو کے قصیدہ گویوں میں سوداؔ کا ذکر وہ تفصیل اور صراحت کے ساتھ کرتے ہیں۔ رباعی نگاری کے باب میں انیسؔ، دبیرؔ، مومنؔ اور مثنوی کے حصے میں میرؔحسن اور دیاشنکر نسیمؔ کا ذکر مثال کے ساتھ کرتے ہیں نیز عملی تنقید کا بہترین نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ اثرؔ کی اس تنقیدی روش اور طریقہ کار کو شبلیؔ نے بھی آگے چل کر اپنی کتاب میں برتا۔ یعنی شبلیؔ سے لے کر کلیم الدین احمد تک کے بیشتر ناقدین نے اثرؔ سے استفادہ کیا اور ایک طرح سے ان کی اولین اور تاریخی خدمات کا اعتراف بھی کیا۔ آپ موازنہ انیسؔ و دبیرؔ کا مطالعہ کریں۔ اس میں شاعرانہ خصوصیات پر تفصیلی روشنی ملتی ہے لیکن اس کے بنیادی مباحث کاشف الحقائق سے ہی مستعار ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں رامائن کا منظوم اردو ترجمہ – نسیم احمد نسیم)
اردو میں تذکروں کی تنقید اور عملی تنقید پر کلیم الدین احمد نے مغربی ادبائ اور ناقدین کے حوالے سے بہت ہی پر مغز اور مدلل گفتگو کی ہے۔ مگر ان مباحث کا آغاز امداد امام اثرؔ ان سے بہت پہلے اور بہت عمدہ طریقے سے کرچکے تھے۔
آج ادب میں تقابلی طرز مطالعہ کی بہت اہمیت ہے۔ مگر اس کا نمونہ آج سے سواسال پہلے امداد امام اثر نے اس طرح پیش کردیا تھا جس کی دوسری نظیر اس مدت میں کسی کے یہاں نہیں ملتی۔ ان کے تقابلی مطالعے کا دوٹوک اور مدلل انداز پوری کتاب میں صاف جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں چند مثالیں مشتے نمونہ از خروارے ملاحظہ فرمائیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’لاریب شیکسپیئر کو معاملات ذہنی کے بیان کی لازوال قدرت ہے۔ مگر معاملات خارجی کی مصوری میرؔحسن کے برابر شیکسپیئر نہیں کرسکتا۔ راقم الحروف کی دانست میں اس قدرت کے اعتبار سے میرؔ حسن کو شیکسپیئرپر یقینی ترجیح ہے‘‘۔
(کاشف الحقائق۔ ص:656)
ایک مقام پر اردو اور فارسی کی مثنویوں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’بے نظیر کے کنویں میں بند ہونے کے مضامین بھی نہایت شاعرانہ خوبیاں رکھتے ہیں اور اس عاجز کی دانست میں جامیؔ کے ’’بیان قیدِ چاہ‘‘ (مثنوی یوسف زلیخا) میں پایاجاتاہے، سے زیادہ حسن شاعرانہ رکھتے ہیں‘‘۔
(ایضا۔ص:627)
’’راقم کی دانست میں میرؔ انیس کی کیرکٹر نگاری ہومرؔ کی کیرکٹر نگاری سے بڑی معلوم ہوتی ہے۔ اگر ہومرؔ سیر تھے تو میرؔ انیس سواسیر تھے‘‘۔
(ایضا۔ ص:689)
اس کی بڑی وجہ غالباً یہ تھی کہ انیس ایک بہترین کردارنگار تھے اور پھر وہ ایک ایسے موضوع پر مرثیہ لکھ رہے تھے جس پایے کا موضوع ہومرؔیا کسی اور مغربی شاعر کو میسر نہ تھا۔
امداد امام اثرؔ نے مِلٹنؔ کی مشہور زمانہ تصنیف کا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہوئے بہت ہی بے باکی کے ساتھ اس کی خامیوں کی گرفت کی ہے۔ ’’پیرا ڈائزلاسٹ‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اس کتاب مین ملٹنؔ شانِ خداوندی کو قائم نہ رکھ سکا۔ اس کے مطابق شیاطین نے خدا سے بغاوت کی اور جبرئیل و میکائیل اور دوسرے فرشتوں پر ایسی زبردست یورش کی کہ وہ سب بری طرح زخمی ہوگئے۔ اس واقعے پر خدا بہت رنجیدہ اور فکر مند ہوئے اور انھوں نے حضرت مسیح سے ملاقات کی اور سارا دکھڑا کہہ سنایا۔ یہ سن کر حضرت عیسی مسیح نے خدا صاحب کو دلاسادیا، اور اس کے بعد وہ نور کے تخت پر سوار ہوکر نکلے اور فوراً ہی شیاطین کو شکست دے دی…۔ ملٹنؔ کی اس قصہ گوئی پر امداد امام اثرؔ کی تنقیدیہ ہے کہ اس کتاب میں پیش کئے گئے واقعات میں حددرجہ بے ترتیبی ہے نیز خدا کی عظمت ظاہر ہونے کے بدلے ایک تنفر کا احساس جاگزیں ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر خدا کو بہت مذموم طریقے سے کم تر اور مجبور دکھایا گیا ہے۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ میرؔ انیس کے یہاں ملٹنؔ کے برعکس ہر مقام پر خدا کی عظمت اور بڑائی دکھائی گئی ہے اور اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی قوت اور شانِ کبریائی مزید واضح ہوکر سامنے آئی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اُردو رباعی کا سفر (عہدِرفتہ سے عہدِ موجودہ تک) – ڈاکٹر یوسف رامپوری )
امداد امام اثرؔ کا بڑا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے جس وقت اس نوع کی تنقید کی بنیاد رکھی، اس وقت ان کی باتیں تمام اہل علم کے لئے بالکل نئی اور انوکھی تھیں۔ لوگ تنقید اور Comparative study کی باریکیوں سے کلیتاً ناواقف تھے۔ مشرقی ادب پر نوآبادیاتی اثرات اس قدر گہرے تھے کہ اپنے جواہر پارے خزف ریزے معلوم ہوتے تھے اور مغرب کا کم تر ادب بھی ادب عالیہ کا بے مثل نمونہ نظر آتا تھا۔ لہٰذا اس صورتحال میں امداد امام اثرؔ ہمیں ایک Anti colonial نقاد کی حیثیت سے پہلی دفعہ منظر نامے پر ابھرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر وہ نوآبادیاتی سحر کو توڑتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
جیساکہ گزشتہ سطور میں عرض کیا گیا کہ اثرؔ نے ’’کاشف الحقائق‘‘ میں حالیؔ ہی کی طرح اردو شاعری کو اپنا موضوع بنایا۔ لیکن ان کے مباحث حالیؔ سے مختلف اور مفصل ہیں۔ انھوں نے شاعری کی قسموں اور اس کے لئے بنیادی شرطوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شاعری عبادت کا درجہ رکھتی ہے اس لئے جو شاعری انسان کی سوچ اور کردار کو خراب کرے وہ مذموم اور قابل نفریں ہے۔ وہ شاعری کو دو خانوں یعنی فطری اور غیر فطری میں تقسیم کرتے ہیں۔ان کے مطابق: فطری شاعری کی اہمیت مسلم ہے، اس لئے اس میں فطری زبان کا استعمال ہونا چاہیئے۔ اعتدال اور تناسب کا اہتمام ہونا چاہیئے۔ تشبیہات و استعارات کو بھی فطری ہونا چاہیئے، مبالغہ سے پرہیز ہونا چاہیئے۔ مختلف تاریخی واقعات اور رسم و رواج کا بیان صحت کے ساتھ ہونا چاہیئے، قصہ یا واقعہ سے اخلاقی تعلیم کا اظہار ہونا چاہیئے۔ اسلوب و ادا بالکل فطری ہونا چاہیئے تاکہ معلوم ہوکہ کوئی بھی عنصر فطرت سے الگ یا اس کے منافی نہیں ہے۔
امداد امام اثرؔ حالیؔ کی طرح ہی نیچرل شاعری کی وکالت کرتے ہوئے اسے ہر طرح کے تصنعات سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ادب کی افادی حیثیت مستحکم ہوسکے۔ وہ ادب کو اخلاق آموزی کا کارگر وسیلہ گردانتے ہیں اور اس ضمن میں وہ اتنے سخت گیر ہیں کہ کسی کو بھی نہیں بخشتے۔ ایک مقام پر وہ میرحسنؔ کی گرفت کرتے ہوئے بدر منیرؔ اور بے نظیرؔ کے وصل کو غیر اسلامی، غیراخلاقی اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہیں۔ اخلاقی تنزل اور پستی کو وہ ادب کے لئے حددرجہ ضرر رساں تصور کرتے ہیں۔
امداد امام اثرؔ کی انفرادیت اور عظمت اس امر میں بھی مضمر ہے کہ نظریاتی بنیادوں پروہ جو عملی تنقید کے پیمانے وضع کرتے ہیں اس میں تمام اصناف سخن آجاتی ہیں۔ ان کی نظر میں وہ چھوٹی چھوٹی صنف سخن بھی اہمیت کی حامل ہیں، جنھیں اکثر ناقدین نظرانداز کردیتے ہیں۔ وہ غزل ، مثنوی، مرثیہ اور قصیدوں کے ساتھ ساتھ قطعہ، رباعی، مسدس، مثلث، تضمین اور واسوخت وغیرہ پر بھی صراحت کے ساتھ باتیں کرتے ہیں۔ وہ ان اصناف کے لئے جو شرائط متعین کرتے ہیں ان کے مطابق قطعہ نگاری کے لئے وہ داخلی کیفیات کے اظہار کو ضروری نہیں مانتے۔ اسے وہ غزلیہ رنگ و آہنگ سے علاحدہ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ رباعی کو وہ حکیمانہ مضامین کے لئے وقف تصور کرتے ہوئے اس میں پست خیالی کو مضر قرار دیتے ہیں۔ رباعی کا سانچہ چونکہ محدود ہوتا ہے اس لئے وہ کم الفاظ میں جامع اور پراثر باتوں کے حامی ہیں۔ مثنوی کو وہ تمام اصناف سخن میں سب سے زیادہ کارآمد اور نیچرل تصور کرتے ہیں۔ اس میں موجود حقیقت بیانی کا اعتراف کرتے ہوئے وہ فارسی مثنویوں پر اردو مثنویوں کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔
امداد امام اثرؔ مرثیے میں بطور خاص اخلاقی پہلوؤں پر زور دیتے ہیں۔ ساتھ ہی تاریخی حقائق کو ربط اور صحت کے ساتھ بیان کرنے کو لازمی مانتے ہیں۔ قصیدہ اصناف سخن میں مغز سخن کا درجہ رکھتا ہے۔ اس لئے وہ بندش مضامین، شوکت لفظی کے ساتھ نیچر سے روابط کے بھی متقاضی ہیں۔ غزل میں وہ سلیس اور عام فہم زبان کے حامی ہیں۔ مبالغہ، پھکڑپن، رعایت لفظی، دورازکار تشبیہات و استعارات اور بیجا صنائع بدائع کے بھی سخت مخالف ہیں۔وہ وصل اور ملن کے بہانے بے حیائی، عریانیت اور ہوا و ہوس کو ردکرتے ہوئے شاعری کو عشق حقیقی کا آئینہ بنانا چاہتے ہیں۔
مختصر یہ کہ اثرؔ نے اپنے عہد میں جس قدر اہم کام کیا اور اردو تنقید کو جس قدر واضح اور روشن راہ دکھائی اس کی دوسری نظیر نہیں ملتی۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان کو قصداً نظر انداز کیا گیا۔ اس بابت اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر وہاب اشرفیؔ نے بہت ہی بیباکی کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’… مجھے اب بھی احساس ہے کہ ’’کاشف الحقائق‘‘ کو اردو والوں نے وہ اہمیت نہیں دی جو اس کا حق تھا…۔ شعریات کی بحث میں مقدمہ شعروشاعری ہمیشہ مقدم رہا ہے…۔ لیکن کاشف الحقائق کو جس طرح نظر انداز کیا گیا وہ اردو تاریخ وتنقید کا بہت بڑا سانحہ اور المیہ ہے‘‘۔
(کاشف الحقائق: ایک مطالعہ۔ وہاب اشرفیؔ 1993 ص:4)
اس کتاب کے بنیادی اوصاف کو اجاگر کرتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
’’اس کتاب میں اردو کی شعری صنفوں کے محاسن و عیوب پر مباحث توہیں ہی عربی فارسی روایات سے ان کا مقابلہ و موازنہ خاصے کی چیز ہے۔ پھر عالمی سطح کے بعض شاعروں اور فنکاروں سے بحث یا تعارف اس کتاب کے اختصاصِ اہمیت اور انفرادیت پر دال ہے…۔ کچھ زمانہ پہلے یہ دو جلدوں میں چھپی تھی، پھر ایسا سناٹا رہا کہ اہل نظر کی کجی یاتعصب کا المیہ ازخود سامنے آجاتا ہے‘‘۔
(ایضا۔ ص:4)
اس کتاب میں پروفیسر وہاب اشرفیؔ نے کاشف الحقائق کا فنی جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کے عالمی منظرنامے کو بیان کیا ہے۔ انھوں نے اردو شعرائ کا مفصل اور مدلل ذکر کرتے ہوئے اثرؔ کی عملی اور تقابلی تنقید نگاری کے بنیادی نکات پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔
امداد امام اثرؔ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے دائرہ المعارف نے لکھا ہے کہ:
’’انھوں نے انگریزی کا براہ راست مطالعہ کیا تھا لہٰذا ان کی تحریروں میں ٹھہراؤ اور توازن نظر آتا ہے۔ جن معنوں میں عہد حاضر میں عملی تنقید لکھی جاتی ہیں یہ ایک انتقادی مکتب فکر ہے۔ لہٰذا ان کو (امدادامام اثرؔ) اس دبستان سے منسلک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ان کی کتاب (کاشف الحقائق) کو نتقیدی اجتہاد کا نمونہ بھی قرار دیا جاتا ہے‘‘۔
(امداد امام اثرؔ آزاد دائرہ المعارف۔ تعارفی نوٹ)
امداد امام اثرؔ کی خدمات کے اعتراف میں درج بالا اصحاب کے علاوہ پروفیسر اختر قادری، عبادت بریلوی، شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹر امتیاز عالم اور ڈاکٹر سرورالہدیٰ کی کتابیں بھی حددرجہ اہم ہیں۔ پاکستان سے احمد سہیل اور ناصر عباس نیر نے بھی نو آبادیاتی پس منظر میں مطالعہ پیش کرکے ان کی مابہہ الامتیاز خدمات کا اعتراف کیا ہے۔(یہ بھی پڑھیں ذوق کا رنگ سخن: اعجاز و امتیاز – امتیاز رومی)
مگر اتنا ہی کافی نہیں ہے۔ اثرؔ اس پائے کے نقاد اور اردو تنقید کے بنیاد گزار ہیں کہ ان پر مزید انہماک اور تواتر کے ساتھ تحقیقی کام ہونا چاہیئے تاکہ ان کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کا خاطر خواہ ازالہ ہوسکے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]