کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں
کہ وہ قادر مطلق کن فیکوں
وہ کوزہ گر عرش
قضا و قدر کا ماہر
تخلیق کی چاک پہ گردش کرتی اس کی مٹی
تبھی کیوں ختم ہوگئی
جب اس نے عورت کی تخلیق کی
کیوں آخر
ایک انسان کے خلیے کے لیے
دوسرے انسان کے جسم کا سہارا
قادر مطلق
ایسا بھی تو ہوسکتا تھا کہ
تو آدم کی جگہ حوا کی تخلیق کرتا
اور پھر حوا کی تنہائیوں کی فکر
تیری راتوں کی نیند اڑا دیتی
لیکن تو بھی تو مذکر ہی ہے
تو کہتا ہے
"الھم البنون و لی اناث”
لیکن ایسا تو میں سوچتی ہوں نا
ایسا ہوا نہیں
اور جو ایسا ہوتا تو شاید
تیری اس دھرتی کا رنگ روپ ہی کچھ اور ہوتا
یہاں تخریب نہیں
زرخیزی اور شادابی کی باتیں ہوتیں
"لٹل بوائے” اور "فیٹ مین” کی نہیں
بلکہ Breathtaking beauty اور Mesmerizing girl کے قصے ہوتے
تاریخ زخموں سے چور
جنگ، تخریب اور قتل کے کاندھوں پہ سفر نہ کرتی
بلکہ امن کے خوش رنگ پروں کے ہمراہ پرواز کرتی
تاریخ کا کردار تلوار، سپاہ، پیادے، گھڑسوار، جنگی طیارے، نیوکلیر ہتھیار اور کیمیائی زہر نہیں
بلکہ پھول، خوشبو، تتلی، بچے، رنگین آنچل، کھلتے چہرے اور ہنستی دھرتی ہوتے
لیکن یہ تو تب ہوتا
جب تیری مٹی کم نہ پڑتی
ایسا ہوا نہیں سو اب
دیکھ اپنے شاہکار کا تانڈو

