بین الاقوامی ادبی جرید ہ سہ ماہی”ورثہ“- ڈاکٹر عرفان رضا
سہ ماہی ورثہ،اردو مرکز نیویارک سے نکلنے والا ایک ایسا بین الاقوامی ادبی جریدہ ہے، کہ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ میرے پاس سہ ماہی ”ورثہ“ کا جلد 1،شمارہ2،مارچ تا جون 2021ء۔اور دوسرا یعنی ”سہ ماہی ورثہ“ کا تازہ شمارہ جلد 2،شمارہ 3، جولائی تا ستمبر 2021ء پی۔ڈی۔ایف۔کی شکل میں ہے،بعد مطالعہ نہایت خوشی ہوئی۔مدیر اعلیٰ محترم جناب رئیس وارثی اور مدیر محترم جناب نصیروارثی صاحبان ایک بہترین قلم کار،کہنہ مشق شاعر،مذہبی اسکالر اورکالم نگار کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں اور صحافتی میدانوں کے اچھے منتظم بھی ہیں۔ نیز ”سہ ماہی ورثہ“ سے وابستہ ادیب،معاونین،نمائندہ گان اور جملہ منتظمین یقیناً مبارکبادکے مستحق ہیں،کہ دیار غیر میں اردو ادب کی ترویج واشاعت میں بہت ہی انہماک سے لگے ہوئے ہیں،اور یہ اِنہیں لوگوں کی کاوش کا نتیجہ ہے کہ آج اردو زبان امریکہ میں پھل پھول رہا ہے۔جس کی سب سے اہم کڑی اور ثبوت اردو ادب کا مشہور ومعروف بین الاقوامی ادبی جریدہ ”ورثہ“ ہے۔جو نہایت کم عرصے میں ترقی کے منازل طے کرلیااور معیاری بین الاقوامی ادبی جریدہ ہونے کا شرف حاصل کیا۔کیونکہ اردو زبان وادب سے بین الاقوامی اردوادبی جریدہ”ورثہ“کے مذکورہ دونوں شماروں کا مطالعہ کیا۔دونوں شماروں کی تزئین کاری نہایت دلکش اندازمیں کی گئی ہے۔سر ورق کو ادیب/ادیبہ اور قلم کار حضرات کے تصاویر سے سجایا گیا ہے جو لائق دید ہے۔معلوماتی مضامین،خوبصورت اور دلچسپ افسانے،بہترین جدید شاعری اور پر کشش حمد و نعت و منقبت سے مزّین ایک معتبر علمی،ادبی اور تحقیقی جریدہ ہے۔ اجمالی طور پر دوسرے شمارے کا اداریہ نہایت جامع اور مبسوط ہے۔اداریہ کسی بھی رسالہ کی روح ہوتی ہے۔محترم ریئس وراثی صاحب کا اداریہ”زبان و ادب کے فروغ میں سوشل میڈیا کا کردار“بہت اہم ہے“ کے عنوان سے نہایت مختصر اور جامع ہے۔خاص کر اردو زبان وادب کے فروغ میں سوشل میڈیاکیا کردار نبھا رہا ہے اور کس طرح اردو زبان وادب کا دائرہ مستحکم ہو رہا ہے۔ادارتی صفحہ پر فرمان اٖلٰہی سبحانہ تعالیٰ احادیث نبویﷺ اورکلام گہر بارشیر خدا حضرت علی مشکل کشاکرّم اللہ وجہہ الکریم بھی شامل ہے۔زیر نظر شمارہ آٹھ گوشے پر مشتمل ہے۔ابتدا میں حمد باری تعالٰی،نعت نبی ﷺ اور منقبت در شان حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ الکریم شامل ہے۔1گوشہ ء انٹر ویو:اس کے تحت ڈاکٹر حنا خراسانی رضوی(سویڈن)کا ڈاکٹر فاطمہ حسن سے گفتگو شامل ہے،جوانکی شخصیات پر محیط ہے اور معلوماتی بھی ہے۔2گوشہء مضامیں:اس کے تحت بارہ مضامین ہیں جو اردو زبان وادب، تحقیق،شاعری،غیر افسانوی ادب،اور شخصیات پر مبنی ہیں۔ اس گوشہ میں ایک مضمون محمد طفیل احمد مصباحی کا ”میر تقی میر کی منقبت نگاری“ہے جو کافی معلوماتی ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔یقیناًمیر تقی میرؔکی سیرت پر تصوّف کی اصل جھلک ان کی منقبت نگاری میں ملتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ وہ کسی کے سامنے سر جھکانا،یا کسی سے اظہار مدّعا کرناان کے یہاں سب سے بڑی معصیت تھی۔میر کو انکے صوفیانہ ماحول نے ہی منقبت نگاری کی طرف مائل کیا،موصوف نے بڑے ہی عمدہ طریقے اور خوبصورت پیرائےمیں میرؔ کی منقبت نگاری کا جائزہ لیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں نو تنقید اور نئےتنقیدی رجحانات (ایک تجزیہ) – ڈاکٹر عرفان رضا
سر کسو سے فرو نہیں ہوتا حیف بندے ہوئے خدا نہ ہوئے
ایک اور مضمون محترم نصیر وارثی صاحب کا”مظہر حسین سیّد،شاعری سے آن لائن اردوٹیچنگ تک“ہے۔جدیدیت کے تقاضوں کو مدّ نظر رکھتے ہو ئے انکی شاعری پر عمدہ مضمون ہے،راقم السطور نے اپنی ہنر مندی اور حالات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے صد فیصد انصاف کیا ہے۔اس طرح کے مضمون کی اشاعت سے طلبہ اور ریسرچ اسکالرمستفید ہوسکتے ہیں۔ڈاکٹر رخسانہ صبا،کامضمون ”اردو کے طویل شہر آشوب“اپنے تفہیمی وتعبیری لحاظ سے منظّم اور لائق مطالعہ ہے۔اردو زبان و ادب کو تقویت دینے کے لئے اس طرح کے مضمون چشم کشا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ایک اور مضمون جناب محی الدین ہمدم (بنگلہ دیش) کا ”بنگلہ دیش میں اردو“ہے۔جو کہ اردو زبان وادب کی ترویج واشاعت،سمت ورفتار کے صورتحال کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔مجموعی طور پر اس گوشہ کے تمام نگارشات و تخلیقات اپنی اپنی نوعیت اور مزاج کے اعتبار سے معیاری ہیں۔3گوشہ نعتیہ ادب:اس کے تحت دومضامین ہیں۔ڈاکٹر ریاض مجید کا مضمون ”قبلہ مقال: مقصود علی شاہ“اور دوسرا مضمون ڈاکٹر شبّیر احمد قادری کا ”غالب کی فارسی نعت میں اسم محمد کی تجلّیات“مذکورہ دونوں مضامین پیکر تراشی اور تقابلی تناظر میں ایک انوکھی نگارش ہے،اور نعتیہ شاعری کی فنی خوبیوں کا احاطہ کیا ہے۔جس کے لئے دونوں حضرات قابل مبارکباد ہیں۔ 4گوشہء غزلیات:اس میں پندرہ شعراء کے کلام کو شامل کیا گیا ہے جو بہترین شاعری کا نمونہ ہے۔5گوشہء نظم:یہ گوشہ سات شعراء کے نظم سے مزیّن ہے،جو جدید شاعری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔6گوشہء طنزومزاح: ڈاکٹر ایس۔ایم۔معین قریشی کا مضمون ”تیرے کھیسے میں ’پے‘ باقی نہیں ہے“شامل ہے،جو کافی دلچسپ ہے۔7گوشہء افسانہ: اس عنوان کے تحت تین افسانے شامل ہیں۔”مانوس خوشبو، عشرت معین سیما“۔”بھیگے کاغذ میں لپٹے ہوئے لمحات،سلمیٰ صنم“۔”شاید، رومانہ تبسّم“۔جو لائق توجہ ہے۔رومانہ تبسّم کا افسانہ”شائد“ اردو ادب کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی بھی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔خاص کر زبان کے پیچ و خم کو بڑے بے باکانہ انداز میں پیش کیا ہے۔کل ملا کر یہ افسانہ ہندوستانی سماج اور عورتوں کے سماجی و معاشرتی مسائل کے ارد گرد گھومتی ہے،اس عمدہ تخلیق کے لئے افسانہ نگار لائق تحسین ہیں۔ 8گوشہء کتب:اس کے تحت کتابوں پر معلومات افزا تبصرہ شامل ہے،گوشہء اخبار،اور گوشہء خطوط شامل ہیں۔
دوسرا یعنی ”سہ ماہی ورثہ“ کا تازہ شمارہ جلد 2،شمارہ 3، جولائی تا ستمبر 2021ء بھی اپنی ایک الگ پہچان لئے قارئین کے لئے شائع ہوچکا ہے۔اس شمارہ میں محترم جناب رئیس وارثی صاحب کا اداریہ کچھ مختلف ہے۔جو گہرے دکھ کی غمّازی کرتاہے اور دِلدُوز بھی ہے،یعنی کرونا کے سبب زندگی کے تمام شعبوں میں کافی ہل چل رہی اور یکِ بعد دیگرے ہمارے درمیان سے بہت سارے ادیبوں،تخلیق کاروں،اور مذہبی پیشواؤوں کو”موت جو برحق ہے“اپنی اَبدی آغوش میں لے لیا،انکو خراج تحسین پیش کیا ہے۔نیز اردو ادب پر جو منفی اثرات مرتب ہوئے انکا بھی ذکر کیا ہے۔پچھلے کئی ماہ سے کرونائی وبا نے نہ صرف رسالوں اور مجلّات کو متائثر کیا ہے،بلکہ طباعت اشاعت اور ترسیل وتشہیر کے کام کے لئے بھی ایک سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔یاد رفتگان کے لئے ایک اچھاادریہ بطور خراج تحسین ہے۔یہ بھی شمارہ آٹھ گوشوں پر منقسم ہے۔1گوشہء انٹرویو:۔2 گوشہء مضامین:۔اس کے تحت کل پندرہ مضامین ہیں،تقریباً سارے مضامین جدید نوعیت کے حامل ہیں- ( یہ بھی پڑھیں مخطوطہ شناسی میں رسم الخط ، مہریں اور روشنائی کی اہمیت (ایک جائزہ) -ڈاکٹر عرفان رضا )
”جدید اردو غزل پر میر کے اثرات“ ڈاکٹر فاطمہ حسن صاحبہ نے اپنے اس مضمون کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے،کہ ہر آنے والا ادیب شاعر کہیں نہ کہیں میر تقی میرؔسے متائثر ہے۔ جدید شعراء کی ایک بڑی جماعت ان کو اپنا مقلد مانتی ہے،چاہے وہ جدیدیت کے علم بردار ہو یا پھر ما بعد جدیدیت۔ڈاکٹر فاطمہ حسن صاحبہ نے عمدہ طریقے سے میر تقی میرؔ کی شاعری کا ادبی خاکہ پیش کیا ہے۔
محترم نصیر وارثی صاحب کامضمون ”کلامِ اقبال میں ذِکرِ اہلِ بیت“اس مضمون کی تمام تر رعنائیاں عقیدتِ اہل بیت میں پیوستہ ہے۔موصوف نے علّامہ اقبال کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ جس سے اس موضوع میں حسن اور رعنائی پیدا ہو گئی ہے۔اس جگہ مجھے یہ شعر کہنا پر رہا ہے کہ:
درمیانِ امت آں کیواں جناب ہمچو حرفِ قْل ھْوَ اللہ در کتاب
چنانچہ اس امت میں اْس امام عالی مقامؑ کی وہی حیثیت ہے جو قرآن میں سورہ اخلاص کی ہے۔ جیسے یہ سورہ قرآن کی تعلیمات کا نچوڑ اورسلالہ ہے، ایسے ہی امام حسینؑ کی ذات بھی تعلیمات اسلام کا سلالہ ہے۔ سورۂ اخلاص میں توحید پیش کی گئی ہے جو کہ قرآنی تعلیمات کا مرکزی نکتہ ہے،اسی طرح امام حسینؑ کو بھی امت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔:اس سے پتہ چلتا ہے کہ محترم نصیر وارثی صاحب کثیر الجہات شخصیت ہیں،کیونکہ اہل بیت عظام و سادات کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محبت، ان سے نسبت و وابستگی بلا شبہ ایک گنج گراں مایہ ہے،بیش بہا ذخیرہ ہے۔جو موصوف کی سا دات کرام و اہلِ بیت سے بے پناہ محبت و عقیدت کی ترجمانی ہے۔بڑے ہی خوبصورت پیکر میں اپنے مضمون کو پیش کیا ہے۔اس مضمون کے ضمن میں مجھے امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃکا قصیدہ نور سے ایک شعر یاد آرہا ہے کہ:
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا۔ تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانہ نور کا۔
اس کے علاوہ مذکورہ مضامین مثلاً”ڈاکٹر محمد طاہر بوستان و ڈاکٹر سائرہ ارشاد کا مضمون”فیض کی غزل کا تنقیدی مطالعہ“فیض احمد فیضؔ نے ہر شعبے میں اپنی عظمت کے نقوش چھوڑے ہیں،موصوف نے فیص کی عظمت کی شناخت اور اس کے اعتراف کو جو کہ ایک عصری فریضہ ہے بڑے ہی رنگا رنگ زاویے سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے۔ڈاکٹر وِلا جمال العسیلی کا مضمون ”مصر میں اردو زبان وادب“کی ترویج واشاعت نیز موجودہ عصری تقاضوں کو،کہ جس سے مصر میں اردو زبان کی سرگرمیاں کیسے بحال ہو اُسے اجاگر کرنے کی عمدہ اور اچھی کوشش کی ہے۔مضمون نگار کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ڈاکٹر شاہ زماں کا مضمون”فرانسیسی دھن“پر ایک انوکھا مضمون ترتیب دیا ہے،جو کہ ایک ادبی سفر نامہ کا خاکہ پیش کیا ہے نہایت جامع ہے۔ڈاکٹر محمد اشرف کمال کا مضمون”مِشرف عالم ذوقی:فکشن اور نئی نسل کے مسائل“اس مضمون میں مشرف عالم ذوقیؔ صاحب کے اسلوب اور نئی نسل کی تعلق سے ان کے حقیقت پسندانہ انداز کوڈاکٹر محمد اشرف کمال صاحب نے باکمال انداز میں پیش کیا ہے۔ڈاکٹر راشد میاں کا مضمون”عہدِ حاضر کا ایک کلاسیکی شاعر: بسمل سعیدی“۔ڈاکٹر وسیم رضا کا مضمون ”فیض: غم جاناں سے غمِ دوراں تک“۔ڈاکٹر شہناز قادری صاحبہ کے مضمون ”شمس الرحمٰن فاروقی:؎ تخلیق کی دریافت سے حسن تک“یہ مضمون مختلف زاویے سے بہت ہی کار آمد ہے خاص کر طلبہ اور ریسرچ اسکالر کے لئے،ڈاکٹر شہناز قادری صاحبہ نے کما حقّہ ایک مسلّم الثبوت ادیب کے ہر ادبی گوشے کا جائزہ بحسن خوبی لیاہے۔مظفر نازنین صاحبہ کا مضمون”آہ! ڈاکٹر کلیم عاجز،ایسا شاعر کون ہے،ایسی غزل کون گائے گا“۔ڈاکٹر منور حسین صاحب کا مضمون”قائم چاند پوری جزئیہ تشکیلات کا جائزہ“۔ڈاکٹرارشد اقبال کا مضمون ”پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی:بحیثیت محقق“۔محی الدین ہمدمؔصاحب کا مضمون ”مآل کار“۔ریسرچ اسکالر فردوس احمد صاحب کا مضمون ”نو آبادیاتی ہندوستان میں تعلیم نسواں کا علم بردار:ڈپٹی نذیر احمد“۔ڈاکٹر احمد علی جوہر صاحب کا مضمون ”اردو کے بلند پایہ طنزومزاح نگار: مجتبیٰ حسین“۔بحر حال مذکورہ تمام مضامین اپنی اپنی خصوصیت اور مختلف النوع ہونے کے سا تھ جملہ نقائص سے مبرّا نفیس اورمؤثراور پر مغز بھی ہے نیز ”سہ ماہی ”ورثہ“ میں ایک جان ڈال دی ہے۔3گوشہ ء نعتیہ ادب:اس عنوان کے تحت ”نعت کا درخشندہ ستارہ: عباس عدیم قریشی“ گہر ملسیانی صاحب نے اس مضمون کو اپنے قلم سے ایک نغمگی اور شاعر کے حسن ِتغزّل کو پر کیف انداز میں پیش کیا ہے۔ساتھ ہی مضمون کے آغاز کو نعتیہ ادب کے نشیب و فراز کا مرکز بنا یا ہے، جو لائق تحسین ہے۔4 گوشہ نعت: اس میں محترم ڈاکٹرسعید وارثی صاحب کی نعت چھوٹی چھوٹی بحروں میں اپنے عاجزانہ انداز کا اظہار کرتی ہے،۔نیز ادبی و لسانی رخ کوآشنائی بخشی ہے، اورغنائیت و نغمگی بھی عطا کیا ہے۔اس کے علاوہ اُمید فاضلی، جاذب قریشی،رشید وارثی،ریاض مجید،سمیعہ ناز، وغیرہ نے بھی بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کیئے۔ 5گوشہء غزل:اس عنوان کے تحت بارہ شعراء کی غزل ہے۔ ہر ایک شاعر کی غزل اپنی انفرادیت لئے ہوئے ہے، باذوق حضرات کے لئے عمدہ انتخاب ہے۔ ڈاکٹر نزہت شاہ،فاروق انجم،ڈاکٹر اشرف کمال،ذکیہ غزل،افتخار شاہدابو سعد،ذکی طارق بارہ بنکوی،مقصود آفاق، مرزا حفیظ اوج،شیر افگن خان جوہر،سلمان رسول،ندیم رضا فارق، اور عمر شاہد تگہ،مذکورہ شعرا نے اپنی غزلوں کے ذریعے ”عالمی وادبی جریدہ ورثہ“ کو حسن بخشا ہے۔6گوشہء نظم:اس عنوان کے تحت شاہ زماں حق،سعدیہ دِیا قریشی،پروفیسر بلال خاکی،عارش خان،نے جدید تقاضوں کو سامنے رکھ کر اچھی شاعری کا نمونہ پیش کیا ہے۔7گو شہ ء طنزومزاح: ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کا مضمون”آم کھپّے، کھپّے!مزاح کا اعلیٰ نمونہ ہی نہیں بلکہ حقیقت پر بھی مبنی ہے۔جناب محسن نقوی صاحب کا مضمون”عقل مند بیوی“اس میں بھی طنزومزاح کی چاشنی کم نہیں ہے۔ 8گوشہ افسانہ، اس عنوان کے تحت تنزیلہ احمد کا افسانہ”میری برکت“ اور رضیہ فصیح احمد کا ”مالِ مفت‘’قابل ذکر ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مخطوطہ شناسی میں رسم الخط ، مہریں اور روشنائی کی اہمیت (ایک جائزہ) -ڈاکٹر عرفان رضا )
مذکورہ نقد و تبصرہ کی بنیاد پرکہا جاسکتا ہے کہ بین الاقوامی ادبی جریدہ ”ورثہ“اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اور اپنی تمام ترذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے مجلس ادارت نے مضامین کے معیار کا خیال کرتے ہوئے ایک عمدہ نمونہ پیش کیا ہے۔اوراردو زبان و ادب کی بیش بہا خدمات انجام دے رہی ہے۔اردو زبان وادب وثقافت کا غیر معمولی خزانہ اس کے صفحات میں موجود ہیں جسکی قدر ہمیشہ کی جائیگی۔اگر رسالے کی مجموعی خوبی پر نظر ڈالی جائے تو علم وادب کی ترویج واشاعت مشاہیر اہل قلم و ریسرچ اسکالر کے ذریعے اردو کلاسیکی ادب سے لے کر جدیدادب تک کے مضامین گل بوٹے کی طرح شامل رسالہ ہیں،اور بحسن خوبی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے ہر طرح کے مواد شائع کر رہی ہے،جس سے اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ثقافت کی بھی نمائندگی کر رہا ہے۔
ڈاکٹر عرفان رضا
جامعہ ملیہ اسلامیہ
نئی دہلی، انڈیا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ڈاکٹر عرفان رضا صاحب !.
سہ ماہی ” ورثہ” کے دو شماروں پر ایک ساتھ تبصرہ پڑھنے کا موقع ملا ۔ آپ نے اس اہم ادبی رسالے کے مندرجات و مشتملات سے خوب متعاف کرایا ہے ۔ آپ کو دلی مبارک ۔
ڈاکٹر شبیر احمد قادری ، چیئرمین شعبہ اردو ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ، فیصل آباد
03006643887
dr.shabbirahmadqadri@yahoo.com