نو تنقید اور نئےتنقیدی رجحانات (ایک تجزیہ) –  ڈاکٹر عرفان رضا

by adbimiras
0 comment

ایجاد واختراع کی شوق کی ترقی کے ساتھ اردو ادب میں بہت سی ِصنفیں پیدا ہوئیں۔ اسی میں سےتنقید و تحقیق بھی اردو ادب میں مقبول ہوئیں۔بلکہ ابتدا میں بعض مشہور و کہنہ مشق اساتذہ نے ےاس پر طبع آزمائ نہیں کی ۔لیکن جیسے ہی اردو شاعری میں جدّتیں آئیںاورجدید رنگ جلوہ گر ہوا تو ایک شارع عمل تنقید کے تعاون نے تیار کردیا۔جس راستے پرچل کر اردو ادب و شاعری ودیگر اصناف میں اصلاح ہو سکے۔جوں جوں اردو ادب میں جدید رنگ پھیلتا گیا اور قوی ہوتا گیا  تو پھر تنقید کی با ضابطہ بنیاد پر گئ۔پہلے پہل تو صرف اردو تذکروں میں ہی تنقید ی عناصر پائے جاتے تھےلیکن حالی نے نو تنقید کو اردو ادب کی ایک مفید صنف ہی بنا دیا جسکی مثال   ’’مقدمہ شعرو شاعری ،، ہے۔

نئی تنقید(New Criticism )

نئی تنقید کا لفظ(Joe L.E. Spingarn) ۱۹۱۰ءمیں کولمبیا یونیورسٹی میں ایک متنازعہ لیکچر کے دوران استعمال کیا تھا جس کا عنوان ہی New Criticism تھا لیکن نئی تنقید کا باقاعدہ تعارف جان کروورینسم( JOHN CROW RANSOM)نے ۱۹۴۱ءمیں اپنی کتابThe New Criticism میں کرایا۔  ولارڈ تھراپ نے بڑے احترام کے ساتھ نئی تنقید کے بانیوں میں آئی۔ اے۔ رچرڈز، ٹی ۔ایس۔ ایلیٹ۔، ولیم۔ ایمپسن۔ او ر  اپورونٹر کے نام لیے ہیں، اور اُنھیں ”نو تنقید“ کے چار ستون قرار دیا ہے۔ نئی تنقید کو پروان چڑھانے والوں میں کلینتھ بروکس(Cleanth Brooks) ایلین ٹیٹ(Aleen Tate) رابرٹ پین وارن(Robert Pann Warren) ڈبلیو کے ومساٹ(W.K. Wimsatt) کے نام قابلِ ذکر ہیں لیکن ان سب کے تنقیدی نقطہ نظر میں اختلاف کی وجہ سے نئی تنقید کا کوئی کلیہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔ڈاکٹر حامد کاشمیری نئی تنقید کی خوبی بیان کرتے ہیں:

”یہ فن کو مرکز توجہ بنانے کی سعی کرتی ہے۔ اِس سے فن کی تفہیم و تحسین کے لیے نئے تناظر فراہم ہوتے ہیں۔ “

( ڈاکٹر حامد کاشمیری ، تفہیم و تنقید: تنقیدی مقالات، ص۱۲۶)

نئی تنقید  یا نو تنقید کے نظریات:

1        شاعری کو محض شاعری ہی سمجھا جائے اِس سے کسی قسم کے اخلاق کی توقع نہ کی جائے۔

2        تخلیقات کو تجزیاتی اور تقابلی عمل سے گزرنا چاہیے تاکہ ادیب کے پیش کردہ ابہام رمز و ایمائیت ، تمثیل، علامت اور تشبیہات و استعارات کی وضاحت ہو سکے۔

3        نئی تنقید نے متن کے گہرے مطالعے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ پلاٹ اور کہانی سے زیادہ اسلوب کو اہمیت دی جاتی ہے۔

4        نئی تنقید نے لفظ اور معنی کی دوئی کا خاتمہ کیا ہے کہ معنی جسم ہے اور لفظ روح لہٰذا دونوں کا مطالعہ الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔

5        نئی تنقید نے ادیب کے سوانحی اور سماجی پس منظر کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ تخلیق کے وجود میں آجانے کے بعد ادیب کا اِس سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ وہ عام طور پر تخلیق کی ظاہری ساخت اور اِس کے اندرونی تسلسل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کسی صفحے پر لگا ہوا متن اپنی ساخت میں خود اپنے تئیں مطالعے کا ایک موضوع ہے۔

تنقید تعریف اور تنقیص کے سیدھے سادھے دو خانوں میں منقسم تھی لیکن مختلف علوم نے انسانی معلومات میں جو اضافے کئے ہیں ان سے تنقید کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئ ہے۔کیونکہ زمانے کے تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے۔اور ہر زمانے کی تحقیق الگ الگ طرح کی ہوتی ہے ۔اسی لئے علمی اور سائنسی انکشافات کے تحت پرانی حقیقتیں تبدیل ہوئیں ہیں۔اور نئ حقیقتیں سامنے آئیں ہیں۔اس صورتحال میں تنقیدکے معیار میں تبدیلی بھی ایک فطری بات ہے ۔ اردو تنقید پر بھی ان تبدیلیوں کا اثر ہوا اور ادبی پرکھ کے نئے رجحانات سامنے آئے جن میں’’نئی تنقیدیانو تنقید‘‘قابل ذکرہیں۔نوتنقید ایک امریکی تنقیدی رجحان ہے جس کی ابتدا بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے اختتام پر ہوئی ۔ادبی تنقید میں یہ اصطلاح’’ جان کر و رینسمJOHN CROW RANSOM‘‘ کی کتاب ’’نو تنقید(NEW CRITICIS )کی  ۱۹۴۱ء  میں اشاعت کے بعد رائج ہوئی۔تنقید کے اس رجحان کو ۔آئی۔اے۔رچرڈس۔ ،  ٹی۔ایس۔ایلیٹ ، وغیرہ کی تحریروں سے بہت فروغ حاصل ہوا ۔نو تنقید کے کوئی با قائدہ اصول یا ضابطے نہیں تھے  ’’  رینسم‘‘ کی کتاب کی اشاعت کی بعد اس رجحان کو زیادہ اعتبار ملا اور ۱۹۵۰-۵۵ء کے درمیان یہ یورپ کا ایک اہم اور مقبول تنقیدی رجحان رہا ۔اس نے بہت زیادہ عمر نہیں پائی ۔’’ رینی ویلک‘‘ نے ۱۹۶۱ء میں لکھا ہے کہ ’’  نو تنقید ‘‘  اپنی توانائی کے نقطہ اختتام پر پہنچ گئ ہے۔ یہ رجحان   ۱۹۶۵ء  سے   ۱۹۶۰ء  تک یورپ اور امریکہ میں رائج رہا ۔لیکن یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ   ’’ نوتنقید ‘‘ نے ادبی شہ پاروں کے متن کی گہرے مطالعے پر زور دیا۔اور اسکی لسانی محاسن کی طرف توجہ دلائی۔اردر ناقدین پر ’’نو تنقید ‘‘ کے اثرات کم نظر آتے ہیں ۔شاید اسکا سبب اردو میں سماجی اور نفسیاتی مطالعے کی مقبولیت رہی ہو۔پھر بھی اس کڑی میں ڈاکٹر وزیر آغا اور شمس الرحمٰن فاروقی کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں لسانی تاریخ نویسی اور محمود خاں شیرانی (’پنجاب میں اردو‘کے حوالے سے) – پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ )

وزیر آغا نے اردو میں نفسیاتی نقاد کی حیثیت سے اپنی شناخت پیدا کی تھی اور اپنی تصانیف ’’ نظم جدید کی کروٹیں ‘‘  اور  ’’اردو شاعری کا مزاج‘‘  کے ذریعے انہوں نے مصنف کی تخلیق کردہ رموز کو واضح کرنے کی کوشِش کی ۔ لیکن ان کے بعد کی تحریر وں میں یہ تبدیلی نظر آتی ہے کہ انہوں نے متن کے مطالعے پر زور دیا۔اور یہ ہونا بھی چاہیے کیونکہ جب تک ہم متن کواچھی طرح سمجھ نہ لیں اور گہرا مطالعہ نہ ہو تب تک ہماری تنقید بیکار ہے۔کیا معلوم ہم جس عبارت کے نوک پلک پر تنقیدی بساط قائم کرنے کی سوچ رہے ہیں اسکا تجزیہ مصنف کی اگلی یعنی آنے والی تحریروں میں چھپا ہو ۔جیسا کہ عربی زبان و ادب میں یہ اکثر دیکھا اور پایا جاتا ہے۔لہٰذا متن کا گہرا مطالعہ ہماری ’’  نو تنقید  یا  نئ  تنقید  ‘‘کی اصل پہچان اور مقصد ہے۔وزیر آغا کے مطابق متن کا گہرا مطالعہ (CLOSE READING) خود ظاہر کرتا ہے کہ اسکی پرکھ کیے لئے کونسا طریقہ استعمال کیا جانا چاہئے۔اور کسی بھی متن کو اس کے اندر سے ابھرنے والے مطالبات سے پرکھنا چاہئے۔پہلے سے بنائے کلّیے ،اصول اور ضابطے یا خارج کے نقطہ نظر سے کسی ادبی تخلیق کو پرکھنا غلط ہیے ۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق :

’’میرے نزدیک نقاد کا اصل کام یہ ہے کہ جب وہ کسی فن پارے کا تنقیدی جائزہ لے تو اپنے ذہن سے جملہ ذاتی اور نظریاتی تعصبات کو خارج کرکے ایسا کرے اور اس بات کو ملحوظ رکھے کہ تنقید اگرفن پارے کی جمالیاتی چکا چوند میں اضافے کا موجب نہیں بن پائی تو اسکا کوئ جوازموجود نہیں ۔مراد یہ کہ نقاد اپنے مطالعے میں اولین حیثیت  فن پارے کو دے      ۔اور فن پارے کے اندر چھپے امکانات کی روشنی میں اپنی تنقیدی حس کو بروئےکار لائے ‘‘                                                                 (وزیر آغا‘  تنقید‘  مشمولہ پاکستانی ادب و تنقید۔جلد ۵ ‘ ص ۴۹)

مذکورہ اقتباس اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وزیر آغا کا نظریہ وہی ہے جو نظریہ نو ناقدین کا ہے انہوں نے بھی فن پارے کو اولین حیثیت دیا۔اور اسی کے ذریعے معیار واقدار کا تعین بھی کیا ۔دوسرے لفظوں میں وہ متن کے بنیادی معنی پر زور دیا اور فن پارے میں کسی خارجی اثر کی نفی کیا۔البتہ ہمارے ادب میں جو تنقید کے مختلف دبستان پائے جاتے ہیں انہیں نظریات کی بنیادوں پر متن کے معیار کو بلند کرنا ضروری ہے ۔اب زمانہ سائنس و ٹکنالوجی کا ہے اور نئے نئے مسائل کی تخلیق ہورہی ہے ۔نو ناقدین کا یہی نظریہ ہے اور متن پر زور دینےکا یہی سبب ہے۔ اسی لئے کسی بھی فنی تخلیق کا مطالعہ پہلے سے بنے معیار واصول پر نہیں کیا جا سکتا ۔اردو میں نو ناقدین کے سلسلے میں دوسرا نام شمس الرحمٰن فاروقی کا لیا جاسکتا ہے۔جن کا اردو   ادب پر بہت احسانات ہیں ، آج کے دور میں اردو ادب میں تنقید کے ایک استاد ہی نہیں بلکہ مکمل ایک دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں ۔نو تنقید پر ان کا گہرا مطالعہ ہے ۔شمس الرحمٰن فاروقی اردو کے ان ناقدین میں ہیں جن کا مطالعہ بہت وسیع اور مغربی ادبیات پر گہری نگاہ ہے۔وہ تنقید میں  آئ۔اے۔رچرڈس۔ سے بہت زیادہ متاثر ہیںاور آئ۔اے۔رچرڈس ۔کو با بائے نو تنقید کہا گیا ہے۔لیکن اردوادب کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو ’’نو تنقید ‘‘ کی صحیح آبیاری شمس الرحمٰن فاروقی نے کی۔اردو ادب انکی مرہون ِمنت ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی نے نو تنقید کے بعض اصولوں پر زور دیا اور متن کے مطالعے کو اہم قرار دیا ۔انکے خیال میں متن کے مطالعہ سے ہی ہم فن پارے کے بارے میں کوئ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں ۔انہوں نے لکھا ہے:     ’’اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ ادب کیا ہے اور اسکو حل کرنے کی صورت یہ ہیکہ بجائے نظری اور عملی تنقید کی  خشک کتابوں کی ورق گردانی کی جائےاور پرکھا جائے ۔‘‘

(شمس الرحمٰن فاروقی ‘  لفظ ومعنی‘  ص۱۱)                          ان کی نگاہ میں صرف ادب کا مطالعہ ادب کی خوبیوں کو واضح کر سکتا ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی خاص طور پر نفسیاتی اور سیاسی نقطہ نظر یا اثرات کے قطعاً قائل نہیں وہ نو ناقدین کی طرح ادبی پرکھ کے سلسلے میں کسی فلسفے اور نظریئےکو نہیں مانتے ، وہ بھی ادبی تخلیق کی (CLOS READING )کے قائل ہیں  تاکہ متن میں موجود پوشیدہ مفاہیم کو تلاش کیا جاسکے  اور شعری ساخت میں استعارے، علامات، رعایت لفظی کی نشاندہی کی جا سکے ۔نو تنقید کے اثرات ان کی بیشترتحریروں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔لیکن ان ہیں سب سے اہم کتاب ’’ شعر شور انگیز‘‘اور ’’تفہیم غالب ‘‘ ہے ۔اگر چہ یہ دونوں شرحیں ہیں لیکن اردو میں متن کے مطالعے کی بہت کامیاب مثالیں ہیں ۔(یہ بھی پڑھیں "دیوان غالب: نسخہ عرشی”  کا تجزیاتی مطالعہ – صائمہ پروین )

ان دونوں کتابوں سے ان کا ادبی نقطہ نظر بہت واضح شکل میں سامنے آتا ہے۔انہوں نے ان متون کی (CLOSE READING )

کے ذریعے  میر ؔ  اور غالبؔ کے محاسن کلام کو اچھی طرح واضح کیا ۔وہ اردو ادب میں ’’ نو تنقید‘‘اور نئے تنقیدی رجحانات کی بہت عمدہ کلاسیکی مثال ہے۔اب رہا سوال کہ نوتنقیدکسی ادبی تخلیق کےتعین قدرمیں کس حد تک مددگار ہو سکتی ہے ،تو میں کہ سکتا ہوں کہ وہ پوری طرح مددنہیں نہیں کرتی۔نو تنقید تشریح وتعبیر کی حد تک بعض جمالیاتی ادبی تخلیقات کو ضرور واضح کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جیساکہ شمس الرحمٰن فاروقی کی عمدہ مثال’’  شعر شور انگیز‘‘اور ’’تفہیم غالب ‘‘ ہے ۔نقادوںکی مانے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ نو تنقید نے اپنے کو تکنیک میں الجھائے رکھا اس لئے اس کا بہت دیر پا اثر نہیں ہوا ۔اس لئے آج اسکے اثرات بہت کم نظر آتے ہیں۔شمس الرحمٰن فاروقی نے بغیر مرعوب مغربی ادب سے مغربی اور مشرقی ادب میں ایک جامع تطبیق کی راہ اپنائ اور نو تنقید پر اپنا گہرا اثر چھوڑا۔اور اپنی تحریروں کے ذریعے حتی الامکان نئ تنقید سے اصل متون کی خدو خال کو گہرائ سے ناپا اور تولا ۔با الخصوص شاعری کے عمیق مطالعہ پر اپنی توجہ مرکوز کیا اور قا رئین کو اپنی توجہ متن کی ورق گردانی ہی نہیں بلکہ گہرائ سے مطالعہ پر زور دیا کیونکہ نئ تنقید یا نو تنقید کا مکمل انحصار اسکے محاسن یا معایب کے بارے میں اپنی جانبدارانہ رائے پیش کرنے سے ہے،کیونکہ ہر متن اپنے آپ میں خود کفیل ہوتا ہے ۔نئ تنقید کی راہ کو استوار کرنے میں اور قاری کو اپنی گرفت میں لینے میں ،متن میں علم معانی وبیان کے جملہ اقسام مثلاً اظہاروابلاغ،صنائع وبدائع نے اسکی راہ کو ہموار کیا ۔جیسے نو تنقید نے متن کے گہرے مطالعہ کو واضح کردیا۔اس سے پیشتر ادبی تنقید نے متن کی تفہیم وتشریح وتعبیر کے ذریعے زبان وادب کے ارتقا کو ایک تاریخی اور تخلیقی قررار دیا گویا کہ نو تنقید در اصل ایک تحریک کا نام ہے جسکی ابتدا اور آبیاری میں ممتازامریکی ادیب ’’ جان کروورینسم‘‘نے اپنی کتاب سے کی ہے ۔اسی لئے تنقید کے میدان میں ’’جان کروورینسم‘‘کی خدمات کو بہت سراہا گیا،اور نئ تنقید کےفلاسفر جنرل کے نام سے موسوم کیا گیا۔نئ تنقید کے ذریعےمتن کی اہمیت کااندازہ لگایا گیا ،خاص کر مخطوطات کے وہ اوراق جو بوسیدہ ہوگئے یا پھر آبی رطوبت یا کسی اور وجہ سے پڑھنے کے قابل یا لائق نہیں رہے ،جسے ہم سیاق وسباق کے ذریعےان اوراق کی ترتیب یاان سطو کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بدل کے طور پر ایسے متبادل الفاظ کا استعمال کرکے متن کے اصلی روح کو باقی رکھتے ہوئے مصنف کی اصل نیت کو بروئے کار لایا جاتا

ہے تاکہ کسی طرح کی متن میں نا انصافی نہ ہو ،اور ساتھ ہی اس نئ تنقید کے ذریعےہم متن کا تجزیاتی مطالعہ کرکے افہام وتفہیم کی اچھی بساط قائم کرسکتے ہیں۔جیسا کہ شمس الرحمٰن فاروقی بھی نو ناقدین کی طرح متن کے گہرے مطالعے کو اہم قرار دیتے ہیں۔ڈاکٹر نریش چندر کے مطابق :

’’نو ناقدین کے یہاں شاعری میں توجہ کی چیزاسکی ہئیت ،نغمگی،موزونیت،الفاظ کی ترتیب،  ان کا خوشگوار استعمال،تراکیب،پیکر تراشی،اندازبیان،جذبات کو ابھارنے کی طاقت،اور مجموعی بناوٹ ہے۔‘‘

(Dr.Naresh Chandra, New criticism.page,165 )

کشش کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو نوتنقید میں تاریخی محرکات یا مصنف کے حوالے سے کسی خارجی چیز کی ضرورت نہیں تھی،متن ہر ایک کے سامنے ہے اور ہر متن پر سب کی رائے الگ الگ ہو سکتی ہے،جس قاری کے اندر جتنا استفہام کا مادّہ ہوگا اسکا افہام وتفہیم اتنا ہی قوی ہوگا۔یعنی تنقید خود کسی ضابطے کا نام نہیں ،ہر شخص کے مطالعہ اور اصول پر منحصر ہےکہ اس نقاد کی ادبی گرفت کتنی مظبوط اور انکا شعور کتنا تربیت یافتہ ہے۔

خلاصہ کلام مذکورہ تحریر سے یہ بات واضح ہے کہ’’نو تنقید یا نئی تنقید‘‘میں بنیادی اہمیت صرف متن کو ہے ،کیونکہ اس تنقید اور اسکے ناقدین کا زیادہ تعلق کلاس روم سے رہا۔ان میں سے بیشتر ناقدین یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے،یا پھر بعد میں یونیورسٹی سے    متعلق ہوئے۔انکے لئے یہ اہم سوال تھا کہ کلاس میں ان کے سامنے جو متن ہے اسکو کس طرح سمجھا جائے۔اسکا سب سے کامیاب تجربہ ہی متن کی تعریف وتنقیص کو ظاہر کرتا ہے۔جدید نظریات کے تحت آزادی کے بعد اردو ادب کی ہر صنف میں ایک انقلاب برپا ہوا،مشرقی ادب کلی طور پر مغربی تہذیب وتمدّن کے آغوش میں آگیا،تو ترقی پسند ناقدین نےتنقید ونقادوں کی بنیادیں استوار کی اورادبیات کے جمود کو توڑڈالا،اور جدید رجہانات میں ایک نیا موڑدیا۔لہٰذاانہیں تناظر میں سائنسی،سماجی و معاشی،اقتصادی،تاریخی،مادّی حالات طبقاتی کشمکش کو بنیاد بنائے تاکہ نوتنقید یا نئی تنقید کی افادیت ومقصدیت کو اہمیت دیا جا سکے،تا کہ اردو ادب میں نئ تنقیدی رجحانات کوفروغ ملے

۔

 

                                                  ڈاکٹر عرفان رضا

                                                شعبہ اردو

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئ دہلی۔۲۵

                                                Email: iraza3819@gmail.com

                                                9891299930

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment