امیر خسرو کی جمالیات – پروفیسر شکیل الرحمٰن

by adbimiras
1 comment

امیر خسرو کے کلام کی رومانیت اور جمالیات کو ممتاز درجہ حاصل ہے۔ اس رومانیت اورجمالیات میں ’ہیومنزم’ کے جوہر ہی سے مختلف رنگوں کی شعاعیں پھوٹی ہیں، ’ہیونزم‘ کلام کی روح ہے۔ امیر خسرو نے انسان کوبلند تر درجہ عطا کر کے اسے کائنات کے مرکز پرکھڑا کردیا ہے۔ تمام رومانی افکار و خیالات اورجمالیاتی تصورات کا سرچشمہ انسان ہے۔ حسن مطلق اور حسن کائنات دونوں کو محسوس کرنے اور دیکھنے کا ’وژن‘ انسان ہی رکھتا ہے، انسان اور انسان کا رشتہ عظیم ہے۔ اسی رشتے اور اسی محبت سے کائنات کا حسن و جمال قائم ہے۔ انسان کو ’دُرپاک‘ کہہ کرمخاطب کیا ہے اور کہا ہے اے در پاک (انسان) تیری تلاش میں آسمان، مدتوں خاک چھانتا رہا، تب کہیں تو ملا ہے:

چنبر نہ چرخ بسے بیخت خاک

تا تو بروں آمدی ای درِّ پاک!

(مطلع الانوار)

انسان پر نگاہ ڈالتے ہیں، اس کے ذہن کے کرشموں اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں پر سوچتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک قطرے سے گوہر بنا وجود اپنے اندر نو سمندر رکھتا ہے، ایک قطرے میں نو سمندروں کا جلال و جمال ہے:

ساخت زیک قطرہ چو مردم گہر

طرفہ کہ نُہ بحر بیک قطرہ دکر

(مطلع الانوار)

امیر خسرو کی نظر میں انسان کائنات کی زندگی ہے، وہ روح کی مانند کائنات میں سما جاتا ہے اور اس میں تحرک پیدا کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی سچائی ہے کہ یہ دنیا اتنی چھوٹی ہے کہ انسان کا وجود اس میں سما ہی نہیں سکتا۔

جان و جہانِ ہمہ عالم توئی

وانک نگجند بجہاں ہم توئی!

(مطلع الانوار)

امیر خسرو علم و حکمت، عقل و شعور و آگہی اور شخصی آزادی اور آزادی روح وغیرہ کی اہمیت کے اس وقت قائل ہیں جب یہ سب انسانی مرتبے کی بلندی میں حصہ لیں۔ انسانی مرتبے کی بلندی کے لیے انسان کی نظر کی کشادگی اور تہہ داری کو اہم تصور کرتے ہیں، فکر و نظر کی گہرائی ہی سے انسان فقیری میں امیری کرتا ہے، اہل نظر اور صاحب فکر و نظر کو گدڑی میں لپٹا دیکھتے ہیں تو لگتا ہے وہ گدڑی میں لعل دیکھ رہے ہیں، اسے دنیا کا حاکم اور ملک کا پاسباں تصور کرتے ہیں۔

مرد بینا در گلیم و بادشاہ عالم است

تیغ خفتہ در نیام و پاسبان کشور است!

(نہایۃ الکمال)

تلوار میان میں سوئی رہے، چھپی رہے مگر ملک کی پاسبانی تو وہی کرتی ہے، اسی طرح مرد بینا گلیم میں دنیا کی بادشاہت کرتا ہے! (یہ بھی پڑھیں اساطیر کی جمالیات – پروفیسر شکیل الرحمن )

امیر خسرو فکر و نظر کی کشادگی اور تہہ داری یا ’وژن‘ کی تیز اور تیز تر شعاعوں کی قدر و قیمت جانتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو صاحب نظر دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں یقین ہے کہ اسرار کائنات کی خبر صرف صاحب نظر کو ملتی ہے۔ کائنات کی سچائیاں صرف اس وقت بے نقاب ہوتی ہیں جب صاحب نظر کے ’وژن‘ کی تیز کرنیں پڑتی ہیں، فرماتے ہیں:

چشم حاصل کن کہ آنگہ می نماید بے حجاب

آنچہ پنہاں در پسِ ایں شیشۂ صافی دراست

(نہایۃ الکمال)

کائنات کے پردے کی ہر سچائی بے نقاب ہوجائے اگر تم صاحب نظر بنو۔

امیر خسرو نے بار بار تکبر اور غرور سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا ہے اور انسانی رشتوں اور محبت کی قدر و قیمت سمجھائی ہے ، ایک جگہ کہتے ہیں وہ لوگ جو تکبر اور غرور کی علامت تھے مخلوق کے سر کے تاج بنے ہوئے تھے آج وہ سب پائوں کے دھول بن گئے ہیں، جنہوں نے انتہائی غرور کے ساتھ حکومت کی، اب کہاں ہیں؟ زمین کے اندر جانے کہاں! ان کے تو نام و نشان مٹ گئے ہیں:

آں سروراں کہ تاج سر خلق بودہ اند

اکنوں نظارہ کن کہ ہمہ خاک پاشدند

سری کہ زیرِ زیں شدنہفتہ شاہاں را

ہماں سراست کہ بر آسماں فراختہ اند!

نفس کی غلامی پسند نہیں کرتے، انہیں تو وہ لوگ عزیز ہیں جو نفس کی غلامی پر اپنی آزادی کو فوقیت دیتے ہیں:

اے من غلام ہمت آپ پاک بندۂ

کز بندگیٔ نفس بد آزاد می رود!

امیر خسرو کے نزدیک صاحب نظر تو وہ ہے کہ جو حسن و جمال کا اعلیٰ ترین نظریہ اور تصور رکھتا ہو۔ کائنات کی ہر شے کے جمال کا عاشق ہو، زندگی کے تمام رنگوں کا عاشق ہو، وہ نابینا ہے جو عاشق میں شمار کیا جائے، لیکن سیاہ فام شخص کے حسن کو نہ پہچان سکے، سیاہی کے حسن کے جلوے کو بھی جس نے پہچان لیا دراصل وہی صاحب فکر و نظر ہے، جلال وجمال کا رسیا ہے، خالق کی تخلیقات کے حسن کا حصہ اور جوہر ہے۔ فرماتے ہیں:

نزدیک اہل بینش کو رست و کور بیشک

عاشق کی پیش چشمش زنگی صنم نہ باشد!

وہ عاشق ہی کیا ہوا کہ جس نے سیاہ فام فرد کے جمال کو نہ پہچانا اور اس کی پرستش نہ کی، جمال کا یہ تصور پوری انسانیت کو ایک دائرے میں کھینچ لیتا ہے، بنیادی تصور یہ ہے:

جمال مطلق آمد جلوہ آہنگ

مقید گشت یک رنگی بصد رنگ

ابدی اور ازلی حسن نے اپنا جلوہ دکھانا چاہا تو اپنے رنگ کو سیکڑوں رنگوں کے سانچے میں ڈھال دیا۔

’ہیومنزم‘ انسان اور انسان کی محبت اور انسان اور جمال حیات و کائنات کا عشق امیر خسرو کے فن کی روح ہے، اسی سے ان کے شعری تجربوں میں گہرائی اور تہہ داری آئی ہے، ایمان کے لیے عشق و محبت کو ضروری جانتے ہیں، محبت نہیں تو پھرایمان کہاں۔فرماتے ہیں: عشق و محبت ہی نشان صحت ایماں ہے، کوئی نہ ملے تو گھر کی بلی سے محبت کرو، یہ بھی ممکن نہ ہو تو اپنے دل کو پتھر سے کچل دو اس لیے کہ وہ مرچکا ہے:

دلت برگربہ ای گرمہر بانست

نشان صحت ایماں ہمانست

دلت را گربہ برد، دگز نہ بردست

بروپیش سنگ اندازش کہ مردست!

انسان سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں تو خدا کے خزانوں کی کنجی ہے تو کوئی کھلونا نہیں کہ اس سے کھیلنے کے سوا اور کوئی کام نہیں لیا جاسکتا:

گنج خدا را تو کلید آمدی

نز پی بازیچہ پدید آمدی!

زندگی حاصل ہوئی ہے تو دریا میں غوطے لگاؤ اور قیمتی موتی نکالتے رہو، اتنے موتی نکالو کہ دریا خالی ہوجائے اور دنیا موتیوں سے بھر جائے، کہتے ہیں جب فیصلہ کرلیا کہ دریا میں غوطے لگانا اور موتی نکالنا ہے تو غور وفکر کے دریا میں غوطے لگائے اور ہر بار اتنے موتی نکال لائے کہ دریا خالی ہوگیا اور دنیا میرے تجربوں کے موتیوں سے بھرگئی:

دلَم چوں بہ گوہر کشی خاص گشت

بدریایٔ اندیشہ غواص گشت

بہر غوطہ چنداں بروں ریخت دُر

کہ دریا تہی گشت و آفاق پُر!

بہتر رشتے کے لیے زبان شیریں ضروری ہے، میٹھی زبان ’ہیومنزم‘ کے لیے ہردَم بہترین آہنگ ہے۔ یہ رشتے قائم کرتی ہے، اسے مضبوط اور مستحکم بناتی ہے:

خسرو گر انگبیں می خواہی اور شکّر لباں

اول اندر کام شیریں کن زبان خویش را

امیر خسرو کے رومانی ذہن اور جمالیاتی شعور کی تشکیل میں ترک ہندی روایات و اقدار، ہندوستان کے خوب صورت ماحول کے جلوؤں، مذہب کی روشنی اور پاکیزگی اور تصوف کی داخلی آنچ نے نمایاں حصہ لیا ہے۔ ان کے کلام میں احساس جمال کی گہرائی اور رومانیت کی صحت مندی اورلطافت توجہ کا مرکز ہے۔ وہ حسن ازلی، حسن انسانی اور حسن حیات و کائنات کے ایک بڑے شاعر ہیں۔ حسن کے ہر مظہر کے عاشق ہیں۔ ان کے نزدیک عشق جوہرِ زندگی ہے ، عشق ہی سے انسان اور انسان کے رشتے قائم ہوتے ہیں۔ انسان دوستی کا جذبہ باطن سے ابھرتا ہے، ’ہیومنزم‘ ہی وہ نگاہ عطا کرتی ہے کہ جس سے کائنات کے حسن کی نئی تشکیل ہوتی نظر آتی ہے اور جمالیاتی انبساط حاصل ہوتا رہتا ہے۔ جلوہ نمائی کے لیے مضطرب حسن نے منادی کرادی ہے کہ جو جان دے بس اسی عاشق کا منتظر اور مشتاق ہوں:

منادی کرد حسن جلوہ مشتاق

کہ ایک درما کو جان عاشق

حسن و جمال کے حوالے سے تغزل کی چاشنی لیے ہوئے کلام کا یہ رُخ دیکھئے:

چوں جمالت آیت رحمت شد اندر شان خلق

آخر ایں چندیں زبہر کشتم تاویل چیست

اس حیرت کی لطافت کا اندازہ کرنا مشکل ہے کہ جب خلق میں تیرا جمال رحمت کی نشانی ہے تو پھر جو میں نظارۂ جمال کی تاب نہ لا کے ختم ہوگیا یا قتل ہوگیا تو اس کا سبب کیا ہے؟ (یہ بھی پڑھیں شکیل الرحمن سے ادبی مکالمہ – حقانی القاسمی )

کبھی حسن حقیقی کی لامحدودیت کا احساس ہوتا ہے تو انہیں یقین آجاتا ہے کہ یہ حسن انسان کی عقل و فہم میں سما نہیں سکتا:

در نیایٔ بہ فہم عالمیاں

ورنہ گنجی بہ وہم آدمیاں

معبود حقیقی اور اس کے جمال کو بھلا کوئی اپنی عقل سے پہچان سکتا ہے، اس کے لیے ظاہر ہے وجدان کو خود ایک لطیف ترین مظہر بننا پڑے گا، وجدان بھی شاید ایک پہلو کو کسی حد تک محسوس کرلے ، پورے حسن کو دیکھنا قطعی ناممکن ہے۔ عقل میں بھلا اتنا دم کہاں کہ وہ جمال حقیقی تک پہنچے۔ امیر خسرو ان فلسفیوں کی باتوں پر ماتم کرتے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جمال خالق کو عقل سے پہچانتے ہیں:

حکیم گفت شناسم بہ عقل یزداں را

زہے کمال حماقت و ایں چہ گفتار است!

عاشق کو محبوب کی خوشبو ملتی رہتی ہے، معبود حقیقی کے جمال کا ذکر ہر جگہ ہے اور وہ ہے کہ بس اپنے چہرے کو چھپائے رہتا ہے، پھول سیکڑوں ہزاروں پردے میں رہے اس کی خوشبو اسے پردے میں رہنے نہیں دیتی۔

رُخ چہ پوشی چوں حدیت حسن تو پنہاں نماند

گل بصد پردہ دراواز بوئے خود مستور نیست!

خالق کائنات جو حسن حقیقی ہے ، کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی پوشیدہ رہتا ہے، حسن کے چند پہلو اجاگر ہوتے ہیں تو جانے کتنے پہلو پوشیدہ رہتے ہیں، اگر وہ مکمل طور سامنے آجائے تو ہوش اڑ جائیں، سانس رُک جائے، جان نکل جائے۔

چہ پوشی پردہ برویٔ کہ آں پنہاں نمی ماند

وگربی پردہ می واری تنی راجاں نمی ماند!

اگر یہ حسن بے نقاب ہوجائے تو مسیح و خضر کی جان بھی جاتی رہے:

مسیح و خضر راں آں رویٔ بنمائی

بکُش جانم مرا گر زندہ مانند

امیر خسرو کے نزدیک یہ ایک بڑی سچائی ہے کہ جس سے آدم کی تخلیق ہوئی اس قطرے کے دل میں ایک عالم ایک جہاں پوشیدہ اور پنہاں ہیں:

قطرہ آبے کہ تن مردم است

در دل آں قطرہ جہانے گم است

یہ بہت بڑی سچائی ہے، اسی کے احساس و شعور کی وجہ سے کائنات اور حسن کائنات انسان کے وجود اور باطن میں سمٹ آیا ہے، اسی نے عارف کی وہ نگاہ عطا کی ہے کہ جس سے نئی شعاعیں پھوٹتی رہتی ہیں۔ اسی نگاہ کے جادو سے عشق پیدا ہوتا ہے اور عشق کی سرمستی جنم لیتی ہے اور وجدان حسن حقیقی کے بعض جلوؤں کو دیکھ لیتا ہے۔ خالق کا حسن، جلال و جمال کا مرکز اور انسان کی نگاہ عشق کا سرچشمہ! یقینا حسن حقیقی نے عشق کو جنم دیا ہے لیکن یہ عشق ہی ہے کہ جس کی وجہ سے سوز و گداز پیدا ہوتا ہے اور معبود حقیقی سے رشتے کی پہچان ہوتی ہے۔ امیر خسرو کا خیال یہ ہے کہ کائنات اور اس کے جلال و جمال کا عرفان حاصل ہوجائے تو انسان اس سے پرے چلا جاتا ہے اور محبوب کے حسن اور اس کی لطیف شعاعوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، اس کی نگاہیں مجازی اورمادی جلوؤں میں گم ہوکر نہیں رہ جاتیں:

تا تو نمودی جمال نقش ہمہ نیکواں

رفت بروں از دلم نقشِ تو از جاں نہ رفت!

عشق کیا ہے یہ عاشق ہی جانتا اور محسوس کرتا ہے، عشق میں گرفتار ہونا یا خود کو عشق میں ڈبو دینا بظاہر جس قدر بھی نشان بخت بد نظر آئے حقیقت یہ ہے کہ وہ ابدی سعادت ہے، کہتے ہیں:

عشق اگرچہ نشان بخت بداست

نزد عاشق سعادت ابداست!

حضرت محبوب الٰہی شیخ خواجہ نظام الدین چشتیؒ امیر خسرو کے مرشد تھے، آپ کی ہستی عشق و محبت کی علامت تھی۔ امیر خسرو کو عزیز تر جانا اور عزیز تر رکھا۔ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہیؒ نے فرمایا تھا کہ روز قیامت ہر فرد سے سوال ہوگا تم کیا لائے ہو، مجھ سے دریافت کیا جائے گا تو کہوں گا کہ اس ترک اللہ (امیر خسرو) کے سینے کا سوز لایا ہوں— اور جب حضرت محبوب الٰہی کا وصال ہوا تو امیر خسرو دیوانے سے ہوگئے اپنے آنسوؤں کے قطروں کو ان لفظوں میں جذب کردیا:

گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس

چل خسرو گھر آپنے سانج بھئی چوندیس

یعنی میرا محبوب سیج پر سوگیا ہے، مکھڑے پر گیسو بکھر گئے ہیں چل خسرو تو بھی اپنے گھر چل ہر جانب شام ہورہی ہے! دو مصرعوںمیں عاشق کا درد سمٹ آیا ہے!

امیر خسرو کو تصور کا سرچشمہ حضرت محبوب الٰہی کی چوکھٹ ہی پر ملا تھا، خواجگان چشت کی افضل روایات کو اسی چوکھٹ کے آس پاس پایا تھا۔ عشق الٰہی کا سبق اسی مقام پر پڑھا تھا، عشق کے سوز و گداز کو اسی مقام پر جانا تھا۔ یہی وہ چوکھٹ تھی کہ جہاں انسان اور انسان کے بہتر رشتوں، محبت کی قدر و قیمت، انسان دوستی کے جوہر ، عوام کی خدمت اور دل نوازی کی بابت خبر اورنظر دونوں ملی تھی، غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا سبق حاصل ہوا تھا۔ ان اسباق کو پڑھ کر امیر خسرو کے احساس و شعور اور پورے وجود میں چراغاں کی سی کیفیت ہوگئی۔

امیر خسرو کے اپنے تجربے یقینا بہت قیمتی ہیں لیکن ان اسباق کا رول کم اہم نہیں ہے، ’ہیومنزم‘ اورانسان کی قدر و قیمت اور انسان دوستی کے جذبے نے انہیں ملک کی مٹی کی خوشبو سے آشنا کیا۔ وہ اپنے ملک کی ہر شے کے حسن پر فریفتہ ہوگئے، ہر شے اور ہر اندازکو پسند کرنے لگے۔ مثنوی ’نُہ سپہر‘ میں کہتے ہیں: ہندو اتنا وفادار ہے کہ اپنی وفاداری میں تلوار اور آگ سے کھیل سکتا ہے اور ہندو عورت اپنے شوہر سے اس قدر محبت کرتی ہے کہ اپنی وفاداری میں اس کی چتا میں جل کر مرجاتی ہے۔ ہندو مرد اپنے دیوتا کے لیے اپنی زندگی قربان کردیتا ہے، اسلام میں ان باتوں کی اجازت نہیں ہے۔ اگر اجازت ہوتی توبہت سے افراد اس سعادت مندی کو حاصل کرنے کے لیے قربان ہوجاتے۔ بلاشبہ یہ باتیں قابل ستائش ہیں۔ ہندوؤں کے عقیدے کو دیکھتے ہوئے اسے دوسرے کئی مذاہب کے ماننے والوں کے عقیدوں سے برتر تصور کرتے ہیں۔ ہندوؤں کی توحید پرستی کی اہمیت کا احساس اس طرح دلایا ہے:

نیست ہنوز ار چہ کہ دیندار چوما

ہست بسے جائے باقرار چوما

معترف وحدت و ہستی وقدم

قدرت ایجاد ہمہ بعد عدم

رازق ہر پُر ہنرو بے ہنری

عمر بروجاں وہ ہر جا نوری

خالق امغاں بہ نیکی و بدی

حکمت و حکمش ازلی و ابدی

فاعل مختارو مجازی بہ عمل

عالم ہر کلّی و جزوی ز ازل

عیسویاں روح و دلدبستہ برد

ہندو ازیں جنس نہ پیوستہ برد

اختریاں ہفت خدا کردہ یقیں

ہندویٔ توحید سرا منکر ازیں

عنصریاں چار خدا بردہ گماں

گفتہ یکی ہندو ثابت بہماں

خلق دگر نور وظلم خواندہ بدل

ہندو از ینہا ہمہ پیوند گل

وانچہ کہ معبود برہمن بفرق

معترف است اور کہ نہ مثلی است ز حق

معتقد انند بتقلید دراں

کانچہ رسیدہ است بما از پدراں

(مثنوی نُہ سپہر)

امیر خسرو کہتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ توحید پرست ہیں، دین مختلف ہے لیکن اکثر عقیدے وہی ہیں کہ جو ہمارے ہیں، وہ خالق کو واحد اور ازلی و ابدی مانتے ہیں اور اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ خدا عدم سے ہر شے کو وجود میں لاسکتا ہے، خدا رازق ہے، ہر شّخص کا رازق و ہُنر مند ہو یا بے ہنر، ہر جاندار کی جان اسی کی دی ہوئی ہے اور ہر جان دار کی جان وہی لیتا ہے، وہ خالق ہے نیک و بَد افعال کا اور اس کی حکمت ازلی و ابدی ہے، عمل میں تنہا حاکم و مختار ہے، کُل اور جزو کا علم ازل سے ہے۔ امیر خسرو کہتے ہیں کہ نصرانیوں نے روح اوربیٹے کو شامل کرلیا۔ ہندوؤں نے ایسا نہیں کیا۔ ہندو ستارہ پرستوں کی طرح سات خدائوں کو نفہیں مانتے، عنصری کا گمان ہے کہ خدا چار ہیں، لیکن ہندو ایک ہی خالق کو مانتے ہوئے توحید پر قائم رہے، پارسی (زرتشتی) ثنویت کے قائل ہیں دو خدا کو مانتے ہیں، ہندو ایسا نہیں سمجھتے، وہ (ہندو) مختلف اشیاء و عناصر کی عبادت کرتے ہیں، لیکن اس بات کو مانتے ہیں کہ سب ایک ہی خالق کی تخلیق و مخلوق ہیں، ’حق‘ تنہا ہے، ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، مختلف اشیاء و عناصر کی پوجا دراصل تقلیدی عمل ہے۔ وراثت میں جو حاصل ہوا اس کی پیروی کی۔ (یہ بھی پڑھیں مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات: شکیل الرحمن – پروفیسر کوثر مظہری)

امیر خسرو کی ’ہیومنزم‘ اییک مثبت رجحان ہے، کون سا عقیدہ درست ہے اور کون سا غلط، کوئی بھی شخص وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔ حقیقت یا سچائی کی بنیادی صورت اور فطرت کے متعلق فیصلہ نہیں کرسکتے، مختلف عقائد اور نظریات ہیں اور ہوسکتے ہیں، اس مثبت رجحان کے مطابق ایک بڑی سچائی زندگی ہے۔ یہ ہے اور ہم اسے بسر کرتے ہیں۔ لہٰذا اس زندگی کو آگے بڑھانے، نکھارنے اور اسے زیادہ سے زیادہ حقین اور خوبصورت بنانے کی کوشش ضروری ہے۔ مشائخ چشت کی روایات میں یہ ’ہیومنزم‘ یا انسان دوستی، یہ محبت اور یہ عشق بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ احتجاج بھی ہے اورانسان کے لہو کے رنگ کی پہچان کا خوبصورت تجربہ بھی۔ اس مثبت رجحان نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ دنیا اور یہ زندگی ہماری بنیادی دلچسپی کا مرکز ہے اور ہیومنزم ہمارا نصب العین یا آئیڈیل ہے۔ انسان اور انسان کے باہمی رشتوں کی ہم آہنگی ’ہیومنزم‘ کا تقاضا ہے۔ اللہ کا جلوہ ہر شخص میںودیعت ہے۔ اس جلوے سے رشتہ قائم کرنا خالق سے رشتہ قائم کرنا ہے۔ انسان سب سے بڑی قوم ہے، انسانیت جو عشق و محبت کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے، اسی قوم کی زندگی ہے۔ اس رجحان سے وہ ’تیبوز‘ (Taboos) ٹوٹ سکتے ہیں کہ جن کی وجہ سے ہماری  رگوں سے لہو جاری ہوتا رہتا ہے۔ اخلاقیات کی سب سے بہتر بنیاد ’ہیومنزم‘ ہی ہوسکتی ہے۔ امیر خسرو کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے اس حقیقت کی پہچان ہوجاتی ہے کہ ’ہیومنزم‘ کے تصور میں توازن ہے، وہ داخلی موزونیت یا ’ہارمونی‘ کو ضروری جانتے ہیں۔ ہزار برس پہلے چین کے معروف مفکر اور دانشور کنفیوسیش (Confucius) نے اس رجحان کو بڑی شدت سے نمایاں کیا تھا اس نے کہا تھا انسان کا وجود ایک بہت بڑی حقیقت اور سچائی ہے۔ انسان اور انسان کے متوازن رشتوں اورانسانی قدروں کی اہمیت کا احساس دیا ہے۔ انسانی قدریں، ’ہیومنزم‘ میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔انسان ہونے کا احساس و شعور اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ رشتوں کا احساس نہ ہو۔ انسان کی بنیادی خواہشوں یا بنیادی جبلتوں میں ایک جبلت یہ ہے کہ دوسروں سے خوبصورت رشتے قائم ہوں۔ امیر خسرو رشتوں کا احترام کرتے ہیں۔ ان کا جمالیاتی شعور حسن کو ٹٹول لیتا ہے اور جمال زندگی کی وحدت کو عزیز جانتا ہے۔ کلام خسرو میں فن کار کا ذہن اعلیٰ اور عمدہ قدروں کی تلاش میں سرگرداں ہے، حسن اور وحدت حسن کی تلاش ہی زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔ حسن اور وحدت حسن ہی میں سب کچھ ہے۔ عشق حسن کامعاملہ یہ ہے:

کافر عشقم مسلمانی مرا درکار نیست

ہر رگِ من تار گشتہ حاجتِ زنّار نیست

یعنی میں عشق کا مارا کافر، مجھے مسلمانی کی بھلا کیا ضرورت، میری ہر رگ تار بن گئی ہے، مجھے زنّار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انسان وجود کُل کے حسن کا حصہ ہے، اپنے حسن کا عاشق، امیر خسرو کہتے ہیں میں نہ گل ہو ںاورنہ بلبل، نہ شمع نہ پروانہ، اپنے حسن کا عاشق اور دیوانہ ہوں، میرا وجود بھی دراصل حصہ ہے وجود کُل کے حسن کاء

نے گلم نے بلبلم نے شمع نے پروانہ ام

عاشق حسن خودم پر حسن خود دیوانہ ام

قبلہ ہو یا بُت کدہ ہر جگہ محبوب کا عشق میرے ساتھ رہتا ہے، دوست کے عاشقوں کو بھلا کفر و ایماں سے کیا سروکار:

ما و عشقِ یار اگر در قبلہ گر در بتکدہ

عاشقانِ دوست را باکفر و ایماں کار نیست

سیاہ رنگ کو تو آنکھوں میں جگہ دی گئی ہے اور آنکھ کی پتلی میں تو ہر فرد سیاہ ہی دکھائی دیتا ہے، سیاہ رنت پر طعنہ زن کیوں ہو۔ اس رنگ میں (ہندوستانیوں کے سیاہ رنگ میں) آب حیات (چشمۂ ظلمات یا بحر ظلمت— سیاہی کا دریا چشمہ) کی آمیزش ہے:

سیہ را خود بدیدہ جانگاہ است

کہ اندر دیدہ ہم مردم سیاہ است

 

ہند را اے مدعی طعنہ بہ تاریکی مزن

زانکہ اندر ظلمتِ او اْبِ حیواں مدغم است!

(دول رانی خضر خاں)

کہتے ہیں:

باکہ دمہ صحبت از انساں گزیں

یعنی میل جول اورمحبت اور دوستی سے عقل بڑھتی ہے، تجربہ وسیع ہوتا ہے۔

خسرو کعبہ میں ہو یا بُت خانہ میں، ہر جگہ اس کا دل تیرے در پر رہتاہے، تیری دیوار دل میں بسی ہوتی ہے:

در کعبہ و بُت خانہ ہر جاکہ رود خسرو

دل با درِ تو بد خو دیوار ہماں در دل!

اور تیرے چہرے کے ہزار نام ہیں:

یک روئے ترا ہزار نام اس

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

1 comment

ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر - نثار علی بھٹی - Adbi Miras جون 13, 2021 - 8:04 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

Leave a Comment