خواجہ احمد عباس کا افسانہ کا نمائندہ افسانہ ابابیل انسان کے خود ساختہ حصار کو توڑ کر فطرت کی طرف مراجعت کی کہانی ہے۔افسانے کا مرکزی کردار رحیم خان ایک ظالم کسان ہے۔یہ اپنے بیوی بچوں کے علاوہ جانوروں کے ساتھ بھی برا سلوک کرتا ہے۔تنگ آکر اس کے دونوں بچے گھر سے بھاگ جاتے ہیں اور بیوی میکے چلی جاتی ہے۔تنہائی کے ا یام میں ایک معمولی واقعہ اس کی کایا کلپ کر دیتا ہے۔گھر کی چھت صاف کرتے ہوئے اسے ابابیل کا گھونسلہ دکھائی دیتا ہے جس میں پرندے کے دو بچے بھی موجود ہیں۔وہ گھونسلے کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے بچوں کے نام پر ابابیل کے بچوں کے نام نورو اور مندو رکھ دیتا ہے۔وہ اب ابابیلوں اور اپنے بیلوں سے دوستی کر لیتا ہے۔ایک دن شدید بارش میں گھونسلے کو بچانے کی کوشش میں وہ بری طرح بھیگتا ہے تو بیمار پڑ جاتا ہے اور ہذیان بکتا ہوا مر جاتا ہے۔یہ کہانی انسانی شخصیت کے سیاہ اور سفید منطقوں کے بیچ اس سرمئی منطقے کو تلاش کرتی ہے جہاں ایک ظالم اور بے درد انسان کے دل میں فطرت کے لیے ازلی محبت چھپی ہوتی ہے۔رحیم خان کسی تکبر اور برتری میں اپنے ہم جنسوں سے محبت نہ کر سکا لیکن انسانی دنیا سے الگ ہو کر جیسے ہی وہ اس خود ساختہ حصار سے باہر آتا ہے؛فطرت سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔تنہائی اور اداسی میں جب کوئی مونس و غم خوار نہیں رہتا تو فطرت اس کا آخری سہارا ثابت ہوتی ہے۔
(یہ بھی پڑھیں ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 1- ڈاکٹراورنگ زیب نیازی)
(یہ بھی پڑھیں ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 2 – ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی )
غیاث احمد گدی کے افسانے آخ تھو اور سورج ہیومنزم کی اجارہ داری پر جھنجلاہٹ کا تخلیقی اظہاریہ ہیں۔یہ افسانے ایک طرف انسان اور حیوانات کی مشترک جبلتوں کی وضاحت کرتے ہیں تو دوسری طرف جانورون کے ساتھ انسانی سلوک اور اشرف المخلوق ہونے کے زعم میں مبتلا انسان کی اصلیت کو بھی منکشف کرتے ہیں۔آخ تھو کی یہ سطور دیکھیے:
کُھر کی جگہ پنجے ہو جائیں تو؟پنجے ہو جائیں تو وہ بے مروت قصائی پر جوجھ پڑے اور اس کی تکا بوٹی کر کے۔۔۔۔۔بات اُلٹی ہو گئی نا!۔۔۔لوگ بکری کو تکا بوتی کرکے کھاتے ہیں مگر بکری اگر یاسا سوچ لے،وہ بھی تکا بوٹی کرنے والے قصاب کے لیے تو۔۔۔۔۔
افسانے کے یہ الفاظ فطرتی دنیا میں انسان اور فطرت کی ترجیحی ترتیب پر گہرا طنز ہیں۔خود شعوریت،عقل،زبان اور کچھ دوسری خصوصیات کی بنیاد پر انسانی موضوعیت انسان پسند فلسفے کا من پسند موضوع ہے۔بہ قول کرسٹوفر مینز:
انسان پسند فلسفی ایک کمزور خواہش کے باوجود یہ اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے کہ فطرت میں کچھ بھی بلند یا پست،اول یا دوم،بہتر یا بد تر نہیں ہوتا۔یہاں صرف زندگی ایک کے بعد دوسری شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔زندگی کی یہ شکلیں بعض خصوصیات کے اشتراک سے(کم یا زیادہ) جینیاتی طور پر ایک دوسرے سے وابستہ رہتی ہیں۔کائنات میں انسانی برتری کے تصور کو لاحق خطرات کے انسداد کے لیے ضیائی تالیف،زہریلے دانت یا نسل افزائی کی نسبت عقل اور خود شعوریت کو زیادہ اہمیت دینا اگرچہ خوش کن معلوم ہوتا ہے لیکن نظریہ ء ارتقا یا قابل مشاہدہ فطرت میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔(15)
کُرۂ ارض پر موجود بے شمار مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے حقیر یا افضل ہونے کا تصور خالص انسانی تصور ہے۔انسان نے خود سے یہ طے کر لیا کہ وہ ناگزیر ہے حالاں کہ حیاتیاتی سائنس اس دعوے کی تائید نہیں کرتی،اس کے مطابق تمام مخلوقات کا اپنا اپنا ایک غیر محسوس لیکن ناگزیر کردار ہے۔عین ممکن ہے کہ اس کُرے سے نوع انسانی کی معدومیت سے کرے کے توازن پر کوئی فرق نہ پڑے لیکن یہاں ایسی اشیا/ مخلوقات بھی موجود ہیں جن کی نابودگی پورے کرے کی تباہی یا کم ازکم سانس لینے والی ذی روح مخلوقات کی نابودگی کا سبب بن سکتی ہے۔کچھ اضافی خصوصیات کی بنا پر انسان نے فطرت کو تسخیر اور دیگر مخلوقات کو زیر کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے مگر اس کا اُلٹ ہو جانا غیر فطری یا ناممکن عمل نہیں ہے۔بکری کے کُھر ہیں،پنجے نہیں ہیں۔اگر پنجے ہوتے تو وہ قصائی کی تکا بوٹی کر سکتی تھی،جیسے قصائی اس کی تکا بوٹی کرتا ہے۔وہ قصائی کی تکا بوٹی نہیں کر سکتی لیکن کچھ اور ایسی مخلوقات موجود ہیں جو ایسا کر سکتی ہیں۔بکری کو جس قدر اختیار حاصل ہے وہ اسے استعمال کرتے ہوئے قصائی کے ظالمانہ رویے پر احتجاج کرتی ہے۔وہ دودھ دینے سے انکار کر دیتی ہے۔قصائی کے پاس ایسی کوئی قوت نہیں کہ وہ بکری کو دودھ دینے پر مجبور کر سکے۔وہ اپنی ایک اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بکری کو ذبح کر دیتا ہے۔یہاں بکری بے بس ہو جاتی ہے۔وہ قصائی کو ایسا کرنے سے روک نہیں سکتی۔وہ زبان حال سے احتجاج کرتی ہے مگر قصائی اس کی زبان سمجھنے سے قصر ہے یا سمجھنا نہیں چاہتا۔بکری کے پاس مزاحمت کی آخری صورت یہ ہے کہ وہ مسلسل دودھ روک کر اپنے گوشت کا ذائقہ خراب کر دیتی ہے۔یہاں انسان(قصائی)کی تدبیر اور طاقت اسے روک نہیں پاتی۔افسانے سورج میں انسان اور کتے کی ایک مشترک جبلت پر اصرار سے انسانی برتری کے تصور کو چیلنج کیا گیا ہے۔افسانے کا مرکزی کردار رفو ایک آوارہ کتے کو اپنا عادی کر لیتا ہے۔وہ روزانہ کتے کو روٹی کھلاتا ہے۔کتا اس کی حرکات و سکنات کی نقل کرنا سیکھ جاتا ہے۔رفو اس کی حرکتوں سے محظوظ ہوتا ہے۔ایک روز کتا اس کے ہاتھ سے روٹی لے کر بھاگ جاتا ہے۔رفو اس کے پیچھے بھاگتا ہے۔یہ منظر دیکھ کر راستے میں بیٹھے دو افراد کا تبصرہ بہت معنی خیز ہے:
ارے میاں صاحب کہیں دیکھا بھی ہے ایسا۔۔۔؟
ایسا نہیں دیکھا تو۔۔۔ایسا بھی نہیں دیکھا کہ روٹی کے لیے آدمی کتے کے پیچھے دوڑ جائے۔۔۔
انسانی دنیا میں کتے کا روٹی کے لیے آدمی کے پیچھے بھاگنا ایک معمولی بات ہے لیکن آدمی کا کتے کے پیچھے بھاگنا غیر معمولی ہے۔لیکن ٹھہریے! یہ انسانی دنیا کا قائم کردہ معیار یا مفروضہ ہے۔ایسے معیارات بناتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کر دی جاتی ہے بھوک مشترک حیوانی جبلت ہے۔اگر کتے کا روٹی کے لیے انسان کے پیچھے بھاگنا غیر معمولی بات نہیں ہے تو انسان کا روٹی کے لیے کتے کے پیچھے بھاگنا کیوں کر معیوب ہے؟جب کہ افسانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ رفو روزانہ کتے کے لیے تندور سے ایک گرم روٹی خریدتا ہے اور کافی دیر تک اسے للچانے پر مجبور کرتا ہے۔بازار میں بیٹھے تمام افراد روز اس کھیل کو دیکھتے ہیں لیکن انھیں اس میں کچھ بھی غیر معمولی یا معیوب نظر نہیں آتا مگر رفو کو کو روٹی کے لیے کتے کے پیچھے بھاگتا دیکھ کر وہ حیر ت و استعجاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔یہ حیرت انسانی سماج کے ان مروجہ معیارات کی پیدا کردہ ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات اور کتے کو ایک حقیر مخلوق باور کراتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انسان کا روٹی کے لیے کتے کے پیچھے دوڑنا انسانوں کے لیے ایک انوکھا واقعہ ہے۔متمدن معاشرت تک پہنچنے کے لیے انسان نے ایک طویل ارتقائی سفر طے کیا ہے۔اس سفر کا ماحصل بنیادی حیوانی جبلتوں کی تہذیب ہے۔انسان کی بنیادی جبلتیں معدوم یا منسوخ نہیں ہوئیں لیکن وہ انھیں اپنی مرضی سے رو بہ عمل لانے پر قادر ہے جب کہ کتے یا دوسری حیوانی مخلوقات میں جبلت حاوی ہے اگرچہ بعض اوقات اس کا مظاہرہ شعور و ارادے کے تحت بھی ہوتا ہے۔رفو اور کتے کے کھیل میں انسان اور حیوان ایک درمیانی نقطہ ء توازن کی طرف سفر کرتے ہیں۔رفو کی حرکات و سکنات کی نقل سے کتا حیوانی دنیا سے اوپر اُٹھ کر انسانی دنیا کے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے۔دوسری جانب کسی قدر احساس برتری کے باوجود رفو کا کتے کے ساتھ راحت محسوس کرنا مہذب انسانی دنیا سے واپس جبلی دنیا کی طرف مراجعت کا اشارہ ہے۔بھوک کی جبلت جب پوری طرح بیدار ہوتی ہے تو رفو اپنے انسانی منصب،افضلیت اور تہذیب کے استھان سے اتر کر کتے کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔یہ عمل بہ ظاہر غیر فطری نظر آتا ہے لیکن درحقیقت فطرت کے عین مطابق ہے۔سورج اس افسانے کا موٹف ہے۔یہ قوانین فطرت کی ابدیت کی علامت ہے۔افسانے کے آخر میں یہ سوال کہ اگر سورج ڈوب کر نہ نکلے یا نکلے بھی تو وہاں سے جہاں ڈوبا تھا؟؛اس افسانے کی کلید ہے۔سورج کا مشرق سے نکلنا اور مغرب میں غروب ہونا قانونِ فطرت ہے لیکن سورج کا نہ نکلنا یا مغرب کے بجائے مشرق میں ڈوبنا خلاف فطرت واقعہ ہو گا۔بعینہٖ انسان کی فطرت کی طرف مراجعت یا فطرت سے ہم آہنگی قانون فطرت کے عین مطابق ہے چناں چہ رفو کا کتے کے پیچھے بھاگنا انسان پسند دنیا کے لیے غیر معمولی واقعہ ہو سکتا ہے مگر فطرت پسند دنیا کے لیے غیر معمولی نہیں ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عصمت کے افسانوں میں بیانیہ کے مسائل – ڈاکٹر شہناز رحمٰن )
منشا یاد کا افسانہ خواہش کا اندھا کنواں بھوک جیسی جبلت کے تناظر میں انسانی سماج کے تضادات اور انسان کی خود غرضی و بے حسی کو ایک دوسرے رنگ میں منکشف کرتا ہے۔یہ انسانی آبادی میں رہنے والے ایک کتے کی کہانی ہے۔ہمارے سماج میں کتا شاید سب شاید سب سے بد قسمت جانور ہے۔انسان سے اپنی وفاداری اور وابستگی کے لیے مشہور ہونے کے باوجود یہ ایک حقیر،قابل نفرت اور پلید مخلوق شمار ہوتا ہے۔مذکورہ افسانے کا مرکزی کردار کتا اسی احساس محرومی کا شکار ہے۔وہ اپنی ابتر حالت کا شاکی رہتا ہے یہاں تک کہ اسے بکریوں اور بلیوں پر بھی رشک آتا ہے کہ انھیں تو قبولیت حاصل ہے لیکن کتے کو نہیں۔وہ جائز طریقے سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جواب میں اسے دھتکار ملتی ہے۔مجبوراََ وہ ایک بوڑھے شخص سے روٹی چھین لیتا ہے۔زندگی میں پہلی بار اسے پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہوتا ہے مگر یہ کھانا اس کا آخری کھانا ثابت ہوتا ہے۔اس معمولی جرم کی پاداش میں اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔انسان کی دنیا میں انسان سے روٹی چھیننا اس کا ناقابلِ معافی جرم بن جاتا ہے۔یہاں کتے کی موت انسان کے احساس برتری،جانوروں کے ساتھ اس کے تحقیر آمیز رویے کے ساتھ بعض سماجی معیارات اور قوانین کو بھی معرض استفسار میں لے آتی ہے۔ایک ہی سماج میں رہنے کے باوجود اس کے ہم جنسوں (پالتو کتوں)کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے جب کہ اس جیسے لاوارث کتوں کے حصے میں پھٹکار اور موت آتی ہے۔دنیا کے مہذب معاشروں میں جانوروں کے حقوق کا تعین کیا جاتا ہے اور انھیں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں بے سہارا جانوروں کے لیے واضح قوانین کا نہ ہونا بذات خود انسان پسند معاشروں کے نظام انصاف پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔منشا یاد کا ایک اور افسانہ پھلوں سے لدی شاخیں حیوانی نفسیات بالخصوص بلی کی وطن پرستی اور مقام سے وابستگی کو موضوع بناتا ہے۔گھر کی بزرگ خاتون بلی سے محبت کرتی ہے مگر گھرکے دیگر افراد کا رویہ تحقیری ہے۔خاس طور پر چھوٹی بہو کا،جو بلی کو نہ نکالنے پر گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتی ہے۔اس کی ضد پر گھر کا ملازم بلی کو چلتی ریل کے ڈبے میں پھینک دیتا ہے اور وہ بہت دور پہنچ جاتی ہے۔فاصلوں کی دوری بلی کے اندر سے اپنے پرانے مسکن کی یاد اور محبت نہیں نکال سکتی۔وہ گھومتی پھرتی ایک طویل عرصے کے بعد گھر واپس پہنچ جاتی ہے۔اس کی لگن دیکھ کر گھر کے لوگ اسے قبول کر لیتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں امیر خسرو کی جمالیات – پروفیسر شکیل الرحمٰن )
دام شنیدن کا متکلم گوشت خوری چھوڑ کر Vagetarian ہو چکا ہے۔اپنے بیٹے کے عقیقے پر بکرے ذبح کرنے کا ایک واقعہ اس کی قلب ماہیت کر دیتا ہے۔اس کا کہنا ہے:”میں نے اللہ اکبر کہہ کر چھری چلا دی اور وہ حلال ہو گیا مگر جب کھانے کا وقت آیا تو مجھے اس کے گوشت سے ویسی ہی بو آئی جیسی اپنے نومولود بیٹے سے آتی تھی اور میں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا“۔محض یہ ایک واقعہ اسے گوشت سے متنفر کرتا ہے نہ ہی وہ کسی تحریک،نظریے یا تبلیغ کے زیر اثر گوشت خوری سے توبہ کرتا ہے۔اس کے پیچھے اس کا پورا بچپن ہے جو اس نے بکریوں کے یعنی فطرت کے قریب رہ کر گزارا ہے۔بکریوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے وہ ان کی زبان اور جذبات کو سمجھنے لگتا ہے اس لیے وہ انھیں ایک افادی شے سمجھنے سے زیادہ ایک ناطق مخلوق سمجھتا ہے۔افسانے میں بلا وسطہ طور پر مذہبی عقائد کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔متکلم کو قربانی کی رسم یا فلسفے پر اعتراض نہیں مگر وہ اس عمل سے دور بھاگتا ہے۔بیٹے کی پیدائش پر اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ عقیقے کی رسم کے لیے اپنے ہاتھ سے بکرے ذبح کرے۔وہ رات کے وقت ان بکروں کی باتیں سن لیتا ہے۔اسے ان پر ترس آتا ہے مگر عقیدے اور رواج کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ اپنا عہد توڑ دیتا ہے اور بکروں کو ذبح کر دیتا ہے۔ اس کے گھر والوں کا خیال ہے کہ اس نے سبزی خور ہو کر اپنا عقیدہ بدل لیا ہے۔تاہم اس کا اصرار ہے کہ اس نے عقیدہ نہیں بدلا صرف گوشت خوری ترک کی ہے۔اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتا تھا؟عقائد اور نظریات کو بدلنا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔اس کے اختیار میں صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی ذات کی حد تک اپنے فیصلے کو لاگو کرے اور اس نے ایسا ہی کیا۔احساس اور تعلق کے جس مقام پر وہ پہنچ چکا تھا،معاشرہ اس کی بات نہیں سمجھ سکتا تھا۔اس کا کہنا ہے:
ذبح ہونے سے پہلے بکرے جس طرح آہ و بکا کرتے ہیں وہ صرف میں ہی سُن اور سمجھ سکتا ہوں اور صرف مجھے ہی اس بات کا اندازہ ہے کہ کسی ہم زبان کو ذبح کرنا کتنا مشکل ہے۔یہ کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔عام آدمی کسی ہم زبان اور ہم جنس کو قتل تو کر سکتا ہے،ذبح نہیں کر سکتا۔اس کے لیے پیغمبر کا دل اور ھوصلہ درکار ہوتا ہے۔انھیں بھی اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنی پڑتی ہے۔مجے اکثر خیال آتا ہے کی کاش مجھے بکروں کی زبان نہ آتی اور میں اس قدر بزدل نہ ہوتا۔ (یہ بھی پڑھیں پنڈت آنند نرائن ملا کی ترجمہ نگاری – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
یہاں مفاہمت اور تفریق دونوں زبان کی وجہ سے پیدا ہورہے ہیں۔متکلم کے گھر والوں یا معاشرے کے لیے بکرے بے زبان ہیں۔نطقی آوازوں اور انسانی آواز پر ردعمل کے باوجود بکرے کی آواز کو بے زبانی پر محمول کرنا باعث حیرت ہے۔غیر انسانی آواز کے مفاہیم کا تعین نہ کر سکنا انسان کی کمزوری یا عدم صلاحیت ہے،جس کا اعتراف کرنے کے بجائے انسان پسند فلسفہ دوسری مخلوقات کو بے زبان قرار دے کر راہ فرار اختیار کر لیتا ہے۔افسانے کے متکلم کا تجربہ اپنے آس پاس موجود دوسرے انسانوں سے مختلف تھا۔چونکہ وہ اس زبان کو سمجھنے کا دعویدار ہے اس لیے معاشرتی مسلمات سے انکار کر دیتا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

