زبان ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کی طرف لوگوں نے شروع ہی سے توجہ دی۔ اس کی اہمیت سے انکار اس وقت بھی نہیں کیا گیا جب انسان اپنے ابتدائی دور میں بغیر کسی الجھائو کے جی رہا تھا۔ دنیا جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی، اس کے مسائل بھی اسی طرح سے پنکھ وبازو پھیلانے لگے۔ زبان انسانی ضرورت کی پہلی سیڑھی ہے۔ یہاں زبان سے مراد گوشت کے ایک ٹکڑے سے نہیں ہے، بلکہ وہ چیزہے جس سے انسان اپنا اظہار کرتا ہے۔ وہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے اور آواز کی صورت میں بھی۔ لیکن آخرالذکر اول الذکر سے زیادہ معنی خیز ہے اور اسی کے پیش نظر انسان اپنے مافی الضمیرکی ادائیگی خوب سے خوب تر انداز میں ادا کرتا ہے۔ یہ تو ہوئی ہم زبان کی بات، لیکن وہ کون سا ذریعہ ہے، جس سے ہم ان لوگوں کی زبان سمجھ لیتے ہیں، جس سے ہم نابلد ہوتے ہیں۔ یقینا وہ ترجمہ ہے۔ اب اس کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ بات چیت کی حد تک، کسی اقتباس کو سمجھنے کی حد تک اور کسی کے تخیلات کو اس کے تمام تر بنیادی ضرورتوں کے ساتھ۔ ظاہر ہے کہ آخری حصے سے وہی لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں، جو دونوں زبانوں کی باریکیوں اور محاوروں پر پوری طرح قدرت رکھتے ہوں۔ ترجمہ کسی کا بھی ہوسکتا ہے، چاہے اس کا تعلق ادب سے ہو، مذہب سے ہو، یا کسی دوسرے علوم وفنون سے ۔ ہم نے اپنے مذہب کو جتنا بھی جانا وہ ترجمہ ہی کے ذریعہ جانا۔ اسی طرح سے ہم کبھی کسی ایسے شخص سے محو گفتگو ہوتے ہیں، جن کی زبان سے ہمیں بھرپور واقفیت نہیں ہوتی، وہ ترجمہ ہی ہے جو پہلے ہمارے دماغ میں ہوتا ہے، اس ترجمے کے ذریعہ ہم سامنے والے کی باتوں کا جواب دیتے ہیں۔ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا جائے گا، ہر میدان کی طرح ترجمے میں بھی وسعت اور بڑھے گی۔
اردو میں ادبی ترجمے کی روایت شروع سے ر ہی ہے۔ یہ ترجمے جزوی نوعیت ہیں، یعنی کسی بھی مصنف کی پوری تصنیف کا ترجمہ نہیں ہوا۔ لیکن یہ روایت جب آگے بڑھی تو بڑے بڑے کارنامے وجود میں آئے۔ گولکنڈہ میں محمد قلی قطب شاہ کے زمانے میں حافظ کی کچھ غزلوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ لیکن بعد کے زمانے میں ترجمہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترجمے کے لیے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج اور حیدرآباد میں عثمانیہ یونیورسٹی کا وجود عمل میں آیا۔ قرآن مجید اور احادیث نبویؐ کے ترجمے نہ جانے دنیا کی کتنی زبانوں میں ہوچکے ہیں، ایک زبان میں کئی کئی لوگوں نے اپنی اپنی فہم وفراست کے اعتبار سے ترجمہ اور تشریح کی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مائل گورکھپوری کی اردو شاعری – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض (
اردو میں بہت سے ادیبوں کے فن پارے کا ترجمہ ہوا ۔ انگریزی، بنگالی، ہندی، فارسی، عربی اسی طرح سے اور بھی بہت سی زبانوں کے ادب پارے کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ٹیگور کے فن پارے کا ایک بڑا حصہ اردو میں ترجمہ ہوا ، ایسا نہیں ہے کہ صرف دوسری زبانوں کے ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ،بلکہ اردو کے ادیب وشاعر کے فن پاروںکا بھی دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اور اس ضمن میں اگر پنڈت آنند نرائن ملا کو دیکھا جائے تو ان کی ادبی زندگی کا آغاز ترجمے ہی کے ذریعہ ہوا۔ انھوں نے ابتدامیں غالب اور اقبال کے اشعار کاانگریزی ترجمہ کیا ،لیکن جب انھوں نے نہرو کے مضامین کا انگریزی سے اردومیں ترجمہ کیا تو وہ ترجمہ نہ ہو کر اصل کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اور بحیثیت ترجمہ نگار ان کی جو بھی شہرت ہے وہ اسی کتاب ’’مضامین نہرو‘‘ کی وجہ سے ہے۔
آنند نرائن ملا کو اردو زبان وادب کے ساتھ انگریزی زبان وادب پربھی دسترس حاصل تھی۔ ترجمے کے لیے جن تین بنیادی چیزوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے، اگر آنند نرائن ملا کایہ ترجمہ پڑھا جائے تو انداز ہوتا ہے کہ وہ ان شرطوں سے بخوبی واقف تھے۔ وہ تینوں شرط یہ ہیں: پہلی شرط جس زبان سے ترجمہ کیا جارہا ہے، اس زبان کی لغت، اصطلاحات، محاورات، لسانی تاریخ اور ادبیات پر عبور حاصل ہو۔ دوسرے یہ کہ جس زبان میں ترجمہ کیا جارہا ہے، اس پر قدرت حاصل ہو، تاکہ اصل کو دوسری زبان میں بخوبی ترجمہ کیا جاسکے۔ تیسرے :خیال اور مفہوم کی پوری ادائیگی کے ساتھ ساتھ اصل موضوع سے مناسب حد تک بہرہ ور ہو۔ اب اگر اس ضمن میں دیکھا جائے تو آنندنرائن ملا اردو زبان وادب، الفاظ و محاورے اور اس کے قواعد وضوابط پر مکمل دسترس رکھتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ انگریزی زبان میں بھی انھیں ملکہ حاصل تھا۔ ان کی شخصیت اور فکروخیال کی عکاسی ان کے اس ترجمے سے بھی ہوتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مائل گورکھپوری کی اردو شاعری – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
آنند نرائن ملا کی عام شہرت و مقبولیت ایک ’’شاعر کی ہے ۔لیکن انھوں نے نثر میں بھی اپنی یادیں چھوڑی ہیں۔ کچھ نثر میں بھی، یہ ان کے خطبات، ریڈیائی ٹاکس اور کچھ دوسرے مضامین کا مجموعہ ہے۔ مضامین چکبست کو انھوں مرتب کیا اور ’’مضامین نہرو‘‘ کے نام سے نہرو کے چند مضامین کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ ان کے پانچ شعری مجموعہ ہیں۔ وہ الہ آباد ہائی کورٹ میں جج تھے۔ یوپی اردو اکادمی انھیں کی مرہون منت ہے۔ انجمن ترقی اردو سے وابستہ ہو کر انھو ں نے بہت سے کام کیے۔ جے پور کے اجلاس میں انھوں نے جو بے باکانہ تقریر کی تھی، وہ ایک سچے محب اردو ہی سے ممکن ہے، ایک جج ہونے کے باوجود انھوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان وادب کی وکالت میں گزاری۔ وہ اردو کے کتنے بڑے شیدائی تھے کہ یہاں تک کہہ دیا کہ ’’میں مذہب چھوڑ سکتا ہوں، لیکن اردو نہیں‘‘ اس طرح کے جملے ان ہی سے ممکن ہیں، جنھیں دلی لگاؤ ہوتا ہے۔ اردو کے تئیں ان کی عقیدت ومحبت کا اندازہ ان کے اس جملے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
آنندنرائن ملا ’’نہرو کے مضامین‘‘ کو ترجمہ کرتے وقت نہ صرف ان کے ذہن کو سامنے رکھا، بلکہ وہ پورا عہد اور سماج ان کے پیش نظر رہا ہوگا۔ کیوں کہ ملا مکمل طور پر نہرو کے ہم خیال، ہم جذبہ اور ہم قلم تھے۔ ہر زبان کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے، اس زبان کے مزاج کو پالینا ترجمے کے سلسلے میں ایک اہم جز ہے۔ اسی لیے ملا کے ترجمہ شدہ مضامین بسا اوقات پڑھنے سے ان کا اپنا خیال معلوم ہوتا ہے۔ جس سلاست اور سادگی کے ساتھ انھوں نے ان چند مضامین کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے، وہ کئی اعتبار سے کافی اہم ہے۔ اس کتاب میں کل 13مضامین شامل ہیں۔ جن میں سے پانچ مضامین (۱)ٹرین میں(2)اپنے دوستوں اور نکتہ چینوں سے(3) تامل ناڈو کو خیرباد کہتے ہوئے (4)کانگریس اور اشتراکیت (5)پیامات، انتخاب کے موقع پر،کو احتشام حسین نے ترجمہ کیا ہے اور ایک مضمون ’’زبان کا مسئلہ‘‘ صلاح الدین احمد نے کیا ہے۔ باقی سات مضامین کو انھوں نے خود کیا ہے۔ ترجمہ کرتے وقت کن دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا، آنندنرائن ملا کی زبانی ملاحظہ ہو:
’’میرا خیال تھا کہ جو دشواریاں مجھے شروع شروع میں پیش آئی تھیں وہ آگے چل کر جب مجھے ترجمہ کرنے کی عادت ہو جائے گی، باقی نہ رہیں گی۔ لیکن میرا یہ خیال غلط نکلا اور آخروقت تک مجھے ان مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ اردو زبان پر مجھے کافی عبور نہیں۔ مجھے تو ہر جملے پر کافی اٹکنا پڑتا تھا اور جس طرح کوئی امتحان کا پرچہ کرتا ہے، اس طرح میں نے یہ ترجمہ کیا ہے۔ قدم قدم پر مجھے اردو کی ’کوتا ہی ٔداماں‘ کا احساس ہوتا تھا اور کچھ دیر کے لیے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس خیال کا اظہار اردو میں ناممکن ہے لیکن کسی نہ کسی طرح ترجمہ ہو ہی جاتا تھا اور میں آگے بڑھتا تھا۔‘‘
(مضامین نہرو، مترجم، آنند نرائن ملا، دہلی اردو اکادمی، 1992، صفحہ:17)
ان چند مضامین کے ترجمہ کا خیال ملا کے ذہن میں 1936-37 میں آیا اور یہ کتاب پہلی بار 1940 میں الہ آباد سے غلام ہندوستان میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت اردو اکاڈمیز کا وجود بھی نہیں تھا۔ لیکن دوسری بار آزاد بھارت میں تقریباً پچاس سال بعدیہ کتاب اردو اکادمی دہلی سے شائع ہوئی۔ آنندنرائن ملا ترجمہ کرتے وقت جن دشواریوں سے دوچارہوئے، اس کا ذکر انھوں نے بہت صاف لفظوں میں واضح کردیا ہے۔ اب ایک سوال ذہن میں یہ بھی اٹھتا ہے کہ نہرو نے تو بہت سے مضامین لکھے ،لیکن آنند نرائن ملا نے انھیں چند کا کیوں انتخاب کیا؟ ان مضامین کو انتخاب کرتے وقت ان کے پیش نظر کیا تھا۔ اس تعلق سے انھوں نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’…انتخاب کرتے وقت میں نے دو باتوں کا خاص طور پر خیال رکھا ہے، اول تو میں نے وہ مضامین انتخاب کیے ہیں جو میری رائے میں ان کے شاہکار کہے جاسکتے ہیں، جن میں انھوں نے ہماری سیاسی یا اقتصادی زندگی کے اہم سوالات کاحل پیش کیا ہے اور پس پردہ کام کرنے والی حقیقتوں کو بے نقاب کیاہے۔ ہم ان کی رائے مانیں یا نہ مانیں۔ انھیں نتیجوں پر خود پہنچے یا نہ پہنچے۔ لیکن یہ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو حل وہ پیش کرتے ہیں وہ ایک مخصوص نظریہ کی بہترین ترجمانی پیش کرتا ہے اور ہمارے لیے ان کی دلیلوں کا جواب دینا آسان نہیں۔ دوسرے وہ مضامین میں جن میں انھوں نے کسی قدر اپنی ذات کو نمایاں کیاہے اور ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم ایک حد تک ان کے قریب پہنچ سکیں۔‘‘ (ایضاً ، صفحہ:19) (یہ بھی پڑھیں حامد حسن قادری کی زندگی کے چند روشن پہلو – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتخاب کرتے وقت آنند نرائن ملا کے پیش نظر نہرو کے حالات اور اس وقت کا پورا معاشرہ بشمول دیگر چیزوں کے رہا ہے، اس کتاب میں شامل پہلا مضمون ’’ہندوستان کدھر ہے‘‘ اور آخری مضمون ’’حقیقت اور حکایت‘‘کے عنوان سے ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں دو مسجدیں، ایک جج کی ذہنیت، کانگریس اور مسلمان، کانگریس اور اشتراکیت، زبان کا مسئلہ، قیدخانے کی دنیا، اپنے دوستوں اور نکتہ چینوں سے، سرمحمد اقبال کے سوالوں کا جواب، تامل ناڈو کو خیرباد کہتے ہوئے اور پیامات؛ انتخاب کے موقع پر ، جیسے اہم مضامین شامل ہیں۔ مضامین کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب میں نہرو اور اس وقت کا پورا ہندوستان اپنے تمام تر بنیادی خصوصیات یا سوالوں کے ساتھ پوری طرح موجود ہے۔ یہاں ایک چیز کا ذکر ضروری ہے کہ آنند نرائن ملا نے لفظوں کے ساتھ خیالات و تصورات کو بھی ترجمے میں بروئے کار لایا ہے۔ زبان کی سادگی اور سلاست نے اس ترجمے کو اصل سے قریب تر کر دیا ہے۔ آنند نرائن ملا جواہرلال نہرو سے عمر میں دس سال سے زیادہ چھوٹے تھے ۔لیکن اس وقت کے حالات دونوں کی نظروں میں تھے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ملا نہرو سے سیاسی و سماجی اعتبار سے بھی قریب تھے۔ دونوں کی ملاقاتیں ہوتی تھیں اور دونوں بے تکلفی سے بات چیت بھی کرتے تھے۔ اس بے تکلفی کے سبب دونوں نے ایک دوسرے کے ذہن و خیالات کو پوری طرح سمجھ لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب ملا نے ترجمہ شروع کیا تو خیالات دوہرے ہوگئے، اس لیے ان مضامین میں اور بھی گہرائی و گیرائی پیدا ہوگئی۔ ’ہندوستان کدھر ہے‘میں مشرق اور مغرب کا فرق نمایاں کیا ہے، ملا نے ترجمہ کرتے وقت جن لفظیات کا استعمال کیا ہے، اس سے انھوں نے ترجمے کوتخلیق سے بہت قریب کردیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ہم کو اکثر بتایا جاتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مغرب کو مادہ پرست کہا جاتا ہے اور مشرق کو روحانیت اور مذہب کا گہوارہ قرار دیا جاتا ہے۔ لفظ مشرق سے دراصل کیا مراد ہے، اس کا پتہ بڑی مشکل سے چلتا ہے کیوں کہ اس لفظ میں عربی ریگستانوں کے بدو، ہندوستان کے ہندو، سائبریا کے جنوبی میدانوں کے خانہ بدوش، منگولیا کی گل بان قومیں، چین کے اسلاف پرست کافر اور جاپان کے پشتینی امراء سب شامل ہیں۔ ان مختلف ایشیائی ممالک میں بھی یورپ کے ملکوں کی طرح بڑے زبردست قومی اور معاشرتی اختلافات موجود ہیں۔ لیکن مشرق اور مغرب دو بالکل مختلف چیزوں کی حیثیت سے محض ان لوگوں کے دماغ میں ہیں جو یا تو سامراجی حکومت کے لیے بہانے تلاش کرتے ہیں یا جن کو یہ خیال بطور قصہ یا روایت کے اپنے پریشان خیال بزرگوں سے ترکہ میں ملا ہے۔ اختلافات تو یقینا ہیں لیکن یہ زیادہ تر اقتصادی ترقی کی مختلف منزلوں پر ہونے کی وجہ سے ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ:27-28)
یہ ترجمہ نہرو کے الفاظ کے اور خیالات سے کتنا قریب ہے، اس کا اندازہ اصل متن سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ نہرو کے الفاظ درج ذیل ہیں:
We are often told that there is a world of difference between the East and the West. The West is said to be materialistic, the East spiritual, religious, etc. What exactly the East signifies is seldom indicated, for the East includes the Bedouins of the Arabian deserts, the Hindus of India, the nomads of the Siberian Steppes, the pastoral tribes of Mongolia, the typically irreligious Confucians of China, and the Samurai of Japan. There are tremendous national and cultural differences between the different countries of Asia as well as of Europe; but there is no such thing as East and West except in the minds of those who wish to make.
(Recent Essays and writings. by Jawahar lal Nehru,Kitabistan Allahabad 1934, Pg.9)
درج بالا اصل متن کے ساتھ اگر ترجمہ پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ آنند نرائن ملا کو دونوں زبانوں پر یکساں دسترس حاصل تھی۔ کیونکہ جتنی خوبصورتی اور سادگی سے نہرو نے اپنی بات کہی ہے، اسی ذہنیت اور سادگی کے ساتھ خیالات نہرو کو اردو داں طبقے کے لیے ترجمہ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ لفظی ترجمہ کے علاوہ ملا نے مفہوم کی ادائیگی پر خاص دھیان دیا ہے۔ اس مضمون کا عنوان انگریزی میں (Whither India?) ہے اور اس کا ترجمہ ملا نے ’’ہندوستان کدھرہے‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ Whither کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ بطور خاص کدھر کے ساتھ کہاں بھی ،لیکن ملا کی نظریں اس باریک فرق سے پوری طرح واقف تھیں کہ دونوں کے بیچ میں کیا نمایاں فرق ہے۔ ترجمہ کے جن بنیادی اصولوں سے واقفیت ضروری ہے، آنند نرائن ملا اس سے واقف تھے۔ جس زمانے میں نہرو نے یہ مضمون لکھا تھا، اس وقت مشرق ومغرب میں بہت نمایاں فرق تھا۔مشرقی تہذیب اور پاکیزگی کی مثال دی جاتی تھی۔ لیکن مغرب میں کچھ غروب نہیں ہوا، وہ اپنی اسی حالت میں مزید اضافے کے ساتھ برقرار ہیں، البتہ وہاں کا رہن سہن اور دیگر چیزیں مشرق میں بھی طلوع ہوگئی ہیں۔ کم یا زیادہ، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ البتہ گائوں دیہات کے لوگوں نے اپنی مشرقی تہذیب کو مغربی تہذیب سے اب بھی بہت حد تک دور رکھا ہے۔ ہم اپنی بہت سی تہذیبی وراثت فیشن کے نام پرختم کرنے کے درپے ہیں، لیکن ہم جسے ختم کرنا چاہتے ہیں، دراصل وہ ہماری شناخت ہے اور انسان کو کبھی بھی اپنی شناخت نہیں ختم کرنی چاہئے۔ ظاہر ہے کہ نہرو کے پیش نظر مشرقی اور مغربی تہذیب کا نمایاں فرق تھا۔ اسی لیے انھوں نے اس حوالے سے گفتگو نہ کرکے سیاسی نقطہ ٔ نگاہ سے بات کی ہے۔ قومی ومعاشرتی اختلافات ہر جگہ اور ہمیشہ سے رہے ہیں، لیکن اس اختلاف کے باوجود اپنی شناخت ختم کرنے کا تصور کبھی بھی نہیں رہا ہوگا۔ اب ہم جسے ترقی کا نام دے رہے ہیں، اس میں بہت سی چیزیں وقتی ہیں اور سماجی ومعاشرتی طور پر اس کا نقصان بھی اٹھانا پڑرہا ہے، بات جو بھی ہو ملا نے نہرو کے خیالات کو انھیں کے پیرائے میں اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ وہ دونوں زبانوں کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف تھے۔
پنڈت نہرو اپنے ایک مضمون ’’سرمحمد اقبال کے سوالوں کا جواب‘‘ میں کہتے ہیں کہ میں مذہب کے نام پر ہندوستان کو تقسیم ہونے کا قائل نہیں ہوں۔ البتہ موجودہ صوبوں کی ساخت اور شکل تبدیل کردی جائے تاکہ خاص گروہوں کو اپنی تہذیب کو ترقی دینے کا پورا موقع ملے۔ یہاں خاص گروہوں سے کیا مراد ہے؟ اور کون سے تہذیبی اقدار ساتھ رہ کرپامال ہو رہے تھے، جس کو ترقی دینے کی بات کررہے ہیں ۔ صوبوں کی ساخت اور شکل تبدیل کرنے سے کیا مراد ہے؟ جس کے قائل وہ بالواسطہ نہیں بلاواسطہ دکھ رہے ہیں۔ نہرو کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
Nor do I believe in the religious distribution of India. Such divisions are most undesirable and cannot take place in the modern world. But I am not against redistribution or reshaping of different provinces which will give different cultural groups the fullest opportunity for self-develop- ment.
)Ibid-P.No.60)
اس مضمون کو پنڈت نہرو نے 1937 کے آخر میں لکھا تھا۔ اب آنندنرائن ملا نے اس کا جو ترجمہ کیا ہے، وہ ملاحظہ ہو تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ ان کا ترجمہ نہرو کے اصل متن سے کتناقریب ہے۔
’’میں ہندوستان کو مذہبی طور پر تقسیم کرنے کا بھی قائل نہیں ہوں۔ ایسے فرق پیدا کرنا نہایت نامناسب ہیں اور موجودہ دنیا میں ان کی کوئی گنجائش نہیں لیکن میں اس کے مخالف نہیں ہوں کہ موجودہ صوبوں کی ساخت اور شکل تبدیل کردی جائے تاکہ خاص گروہوں کو اپنی تہذیب کو ترقی دینے کا پورا موقع ملے۔‘‘ (مضامین نہرو،صفحہ:53)
اصل متن اور ترجمے کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ پنڈت نہرو نے لفظی ترجمہ نہ کرکے اس پورے خیال کواردو کے قابل میں ڈھالا ہے۔ ورنہ سیدھے سیدھے کہتے کہ ’’میں ہندوستان کو مذہبی طور پر تقسیم کرنے کا قائل نہیں ہوں‘‘۔ بھی لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔اگر ’’بھی‘‘کے ساتھ ہی ترجمہ کرنا تھا تو پھر’میں اس کے مخالف نہیں ہوں‘‘کے بجائے’’ اس کا مخالف بھی نہیں ہوں‘‘کرنا چاہیے تھا۔تاکہ مفہوم اور واضح ہو سکے۔اسی طرح سے پنڈت نہرو نے ’’Modern world‘‘ لکھا ہے اور ملا نے اس کا ترجمہ ’’موجودہ دنیا‘‘ کیا ہے، جب کہ اس کو ’’ترقی یافتہ دور‘‘ بھی لکھ سکتے تھے، اسی طرح کی اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔البتہ یہ کوئی آسان کام نہیں کہ کسی کے تخیل کو اس کے پورے رموز واوقاف کے ساتھ ترجمہ کیا جائے۔ پنڈت آنند نرائن ملا نے ترجمے میں بہت حد تک اصل کی پیروی کی ہے۔ معنی ومفہوم کی ترسیل کے ساتھ زبان وبیان کی شگفتگی کو بھی پوری طرح قائم رکھا ہے۔
بحیثیت مجموعی کہا جاسکتا ہے کہ اردو میں ترجمے کی جو روایت ہے، آنند نرائن ملا نے اس روایت کو اور بھی استحکام بخشا۔ ویسے انھوں نے اس میدان میں بہت زیادہ کچھ نہیں کیا ۔ لیکن جو بھی ہے وہ مختصر اور جامع کی مثال ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک شاعر تھے لیکن انھوں نے ترجمے میں کمال کا فنی مظاہرہ کیا ۔ ملانے انگریزی الفاظ کے اردو مترادف موقع محل اور مناسبت کے لحاظ سے استعمال کیا ہے۔ ملا نے اپنے ترجمے میں انگریزی کے طویل جملوں کو مختصر اور مسلسل جملوں میں اس طرح سے تبدیل کیا ہے کہ معنی زیادہ برجستہ اور قوت کے ساتھ واضح ہوتا ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ پنڈت آنند نرائن ملا نے ترجمے میں خلاقانہ شان کا ثبوت دیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ملا کے ترجمہ شدہ حصے کو تلاش کر کے شائع کیا جائے، جو اب تک پردۂ خفامیں ہیں،تاکہ بحیثیت ترجمہ نگار ان کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


3 comments
Achcha mazmoon
[…] تراجم […]
[…] تراجم […]