دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی۔پوری دنیا کو غیر متوقع طورپرایک چھوٹے سے موبائل (Mobile)میں بند کرلیا گیا،نصف انچ سے بھی چھوٹے ایک پین ڈرائیو(Pen Drive)میں رکھ لیا گیا اور رتی بھر کے میموری کارڈMemory Card) (میں قید کرلیا گیا۔مگر ہم ہیں کہ آج بھی کلکتہ پید ل جانے پر مُصرہیں۔
2017 میں فیس بک پر آنے کے بعد خاکسار نے اپنے20 سال پرانے اس حالیائی تصور کو ایک اور اضافے سے گذارا جس کی اختصاری خصوصیت سے علمی و تنقیدی نثر کی دنیا میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ یعنی فکشن میں 20سال پرانی حالیائی اختصاری خصوصیت کے اضافے کے بعد اب علمی نثرکی دنیا میں بھی مختصر ترین ہیئتوں سے انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ خاکسار نے اس پر غور کیا کہ عدیم الفرصتی کے جس عہد سے ہم گذر رہے ہیں اس کا ایک بہت بڑاتقاضہ یہ ہے کہ ادب کی تمام صنفوں بالخصوص تنقید ومضمون کو بھی اب مختصر ترین ہوجانا چاہئے۔سمندر کو کوزے میں بند کرنا بہت پہلے سے ادب میں مستحسن رہاہے۔جب کہ خاکسار سمندر بھر سوچ کر قطرہ بھر لکھنے کی تلقین ابتدائے حالیہ سے کرتا رہا ہے۔ مگرآج کی تاریخ میں اس پر زیادہ سے زیادہ عمل پیرا ہونے کی بڑی سخت ضرورت آن پڑی ہے۔ بات یہ ہے کہ مختصر ترین کلام یاخلاصۂ کلام کو چند لمحوں میں بڑی سرعت وآسانی کے ساتھ دیکھا،سنا، پڑھا، سمجھا، سمجھایا اور فوری طور پر اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔اگر چہ یہ مقدمۂ تنقید چہ ہے مگر اس میں مضمون چہ کی مختصر ترین ہیئت بھی بنیادی طور پر زیر بحث آئے گی۔
ایک عمدہ شعر، اپنی مختصر ترین ہیئت یعنی محض دومصرعوں کے انتہائی اختصار کے باوجود اپنے اندر ایک مکمل جہانِ معانی اور ایک کراماتی اثر آفرینی رکھتاہے۔کسی عمدہ شعر کی ہزارہا خوبیوں میں سے یہ ایک اکیلی بنیادی ہیئتی خوبی ایسی ہے جوکسی شعر کو قارئین وسامعین کی فوری توجہ(Attraction) اور فوری مقبولیت تک ایک لمحے میں پہنچادیتی ہے۔حالانکہ ایک عمدہ شعر کی تشریح میں بعض اوقات دفتر کے دفتر بھی کم پڑجاتے ہیں اور ایک لمحے کاوقت لینے والے شعر کے لئے نسل در نسل صدیوں کی تفہیم بھی ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ایک شعر میں محض دو مصرعے ہوتے ہیں یعنی نثر کے محض دو جملے مگر نثر میں ایسی کوئی صنف آپ کو نہیں ملتی جو دومختصرجملوں کی ایسی عظیم اور لاجواب صنف رہی ہو۔الاّ”حالیہ“کے، جسے خاکسار فکشن میں ایک نئی اختراعی صنف کے طور پر 2004 (مجموعہ حالیہ ”سحر مبین“) کے پہلے سے متعارف کراتا رہا ہے۔فی الوقت عرض یہ کرنا ہے کہ خاکسار ابتدا ہی سے متذکرہ مختصر ترین شعری ہیئت کا عاشق، مدّاح اور معترف رہاہے۔مگرچونکہ شعرکی عظیم ترین متذکرہ خصوصیت کے باوجود روز اوّل سے شعر کی حیثیت سنجیدہ علمی نثر کی بہ نسبت دستاویزی نہیں رہی ہے بلکہ اسے تفنن طبع تک محدود رکھا گیاہے،اسی لئے سنجیدہ علمی مضامین کی ہیئت میں بھی انتہائے اختصار کی اختراعی ضرورت کو خاکسار محسوس کرتا رہا ہے۔
آج،اخبارات ورسائل میں شائع ہونے والے یاسیمیناروں میں پیش کئے جانے والے طویل /طویل ترین مضامین کو پڑھنے کی طرح پڑھنے اور سمجھنے کی طرح سمجھنے کے لئے جتنی اور جیسی فرصت بلکہ اطمینان بخش فرصت کی ضرورت ہے وہ شاذ ہی کسی کو نصیب ہو۔خواہ اخبارات کے قلم کار ہوں کہ کتب ورسائل کے،لکھنے والوں پر دنیا بھر کی ضروریات ومشغولیات کا اس قدر دباؤ رہتا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی تحریر ی ذمہ داریوں سے فارغ ہونا چاہتے ہیں۔حالانکہ وہ لکھنے کی ذمہ داریوں سے دوچار منٹوں میں کبھی فارغ نہیں ہوسکتے۔دراصل ان کے پیش نظرکسی ”مضمون“ کی تکمیل کیلئے تین چار صفحات سے کم کا کوئی حجم نہیں ہوتا،جسے مکمل کرنے میں کئی گھنٹے یاکئی دن لگ جاتے ہیں۔ اگرلکھنے والے روایت کے برخلاف نصف صفحہ کا کوئی مضمون قلم بند کربھی لیں تو ایسے نصف صفحاتی مضمون کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور پھر پَون صفحاتی یا دو چار جملوں کے مختصر ترین مضمون کی قبولیت کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔ لہٰذا طوعاً وکرہاً دہرائی تہرائی باتوں کو کئی صفحات پر مشتمل مضمون کی روایتی صورت میں لکھنا یاپھر اپنا قیمتی وقت نکال کر (اگر نکال سکے) پڑھنا اور آخر تک پہنچتے پہنچتے اپنا سر پیٹ لینا ہماری اجتماعی مجبوری بن چکی ہے۔لکھنے والا تو کچھ مجبور ومحکوم ہوسکتا ہے کیوں وہ کسی دفتر کا ملازم بھی ہوسکتا ہے مگر پڑھنے والامجبور و محکوم نہیں ہوتا۔نتیجہ یہ کہ اب اخبارات ورسائل میں شائع ہونے والے مضامین اکثر وبیشتر نہیں پڑھے جاتے،محض ایک نظر دیکھ لئے جاتے یا ایک ذرا سونگھ کر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عدیم الفرصتی،طوالت ِ مضمون اور کچھ بے زارئی نفس مضمون کے سبب کسی مضمون کو محض ایک نظر دیکھنے یا ایک ذرا سونگھنے سے اکثر جوغلط تاثر پید اہوتا ہے، ہمارے مطالعہ کا نچوڑ اور غلط نتیجہ اخذ کرنے کا باعث ہوتاہے۔ اخبار ورسائل کے لمبے لمبے ادارئے اوربھرتی کے طول وطویل مضامین کے پیش نظر اگر ان اداریوں اور مضامین کو مختصر ترین صورتوں میں ڈھالا جاسکے تو میں سمجھتا ہوں کہ صحافت وادب کی دنیا میں ایک بہت بڑا انقلاب اور ایک نفع بخش معیار پیدا ہوسکتاہے، جب کہ عام قارئین کو بہت سے نقصانات سے بچایا جاسکتاہے۔ چنانچہ ادب وصحافت کے قلم کاروقارئین کے ایسے زمینی مسائل کے حل کے پیش نظر خاکسار کے ذہن میں پہلے سے موجود مختصر ترین تنقید و مضمون کا خاکہ 2017 میں مکمل ہوگیا۔یہاں یہ سوال بھی پید ا ہوا کہ خالص علمی وادبی اور تنقیدی وتحقیقی قسم کے مضامین جو عموماً تفصیل طلب اور طویل ہواکرتے ہیں ان کے شانہ بشانہ مختصرترین تنقید نگاری و مضمون نگاری کی بساط واہمیت کیا ہوگی؟تو درون خانہئ دل سے یہ جواب ملاکہ ع
عجو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے
یعنی تنقیدی مضامین کی ضرورت واہمیت اور روایت وعظمت اپنی جگہ مسلم ہے اور رہے گی مگر مختصر ترین تنقید ومضمون کی ضرورت واہمیت اور جدت وحکمت بھی اپنی جگہ مسلم ہوگی۔روایت اور جدت کے طریقۂ کار اور پیرایۂ اظہارمیں اگرچہ اک ذرا فرق ہوسکتا ہے، مگر دونوں کی اہمیت وافادیت اورضرورت اپنی اپنی جگہ مقدم ہوگی۔ایک کے سامنے دوسرے کا وجود کسی بُعد،ٹکراؤ، مخاصمت یا دشمنی کا موجب نہ ہوگا۔ بلکہ دونوں ایک دوسرے کے معاون ومددگار ہی ہونگے۔یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ اگر روایتی مضمون نگاری کا تفصیلی نمونہ ہمارے پاس نہ ہوتا تو آج مختصر ترین تنقید ومضمون کی ضرورت بھی ہمارے پاس نہ پہنچتی۔ جس طرح افسانہ کی طویل،مقبول اور شاندار روایت کے بعد ہی افسانچہ کی ضرورت سامنے آئی ہے اسی طرح مفصل مضمون نگاری کی قدیم، مظبوط اور شاندار روایت کے بعد ہی مختصر ترین تنقید بہ اصطلاح تنقیدچہ اور مختصر ترین مضمون بہ اصطلاح مضمون چہ کا خاکہ تیار ہواہے۔ داستان طویل کے بطن سے ناول، ناول کے بطن سے کہانی،کہانی کے بطن سے افسانہ اور افسانہ کے بطن سے افسانچہ پیدا ہوا تو تذکرہ کے بطن سے مضمون اور مضمون کے بطن سے مختصر مضمون کی متعدد صورتوں کے بعد آج تنقید چہ و مضمون چہ کو وجود مل رہاہے۔ ثابت ہواکہ تنقید چہ ومضمون چہ،مضمون سے الگ وجود نہیں رکھتے بلکہ مضمون نگاری کے ہی مختصرترین اقدام ہیں جواپنی انفرادی ہیئت اور اختصار ی خصوصیت کے باعث نئی اختراعی صنف کہلانے کاحق رکھتے ہیں۔( یہ بھی پڑھیں عصمت کے افسانوں میں بیانیہ کے مسائل – ڈاکٹر شہناز رحمٰن)
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ روایتی مضمون نگاری میں حوالہ جات کی جوضرورت ہوتی ہے تنقیدچہ ومضمون چہ کے مختصر ترین حجم میں اس کی گنجائش کیوں کر ممکن ہوسکتی ہے۔اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ ایک شعر کے محض دومصرعوں میں جس طرح تفصیلِ حوالہ کی ضرورت کو،اشارے، کنائے، تشبیہ اور استعارے وغیرہ کے ذریعہ پورا کیا جاتاہے اسی طرح تنقید چہ ومضمون چہ میں بھی اشارے، کنائے، تشبیہ اور استعارے وغیرہ سے تفصیلِ حوالہ کی ضرروت ایک حد تک پوری ہوسکتی ہے۔
جب اقبال ایسے تاریخی اشعار کہتے ہیں (اور تاریخی اشعار کہنے میں اقبال کا کوئی ثانی نہیں، ان کی شاعری حقیقی تاریخی حوالوں سے بھری ہے)کہ،
دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑادیئے گھوڑے ہم نے
توبحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کی حقیقی تاریخ ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ جولوگ ان تاریخی حوالوں سے ناواقف ہیں وہ کسی علم والے سے پوچھ سکتے ہیں۔الغرض، ایسی بہت سی حقیقتیں، بہت سی سچائیاں،دنیا بھر کی خبر یں اور حادثات وواقعات ہیں جوہمارے اجتماعی شعور میں موجودہیں،جنہیں تفصیلِ حوالہ کے بغیر بھی ہم اشارے کنائے میں محسوس کرلیتے ہیں۔پس، ہم اپنے اجتماعی شعور، اکتسابی اشاروں اور حسب ضرورت ایک آدھ مختصر حوالے سے تنقید چہ و مضمون چہ کو مزین کرکے حوالہ جات کا ممکنہ حد تک نعم البدل پیش کرسکتے ہیں۔
تنقید چہ ومضمون چہ کاخاکہ وتصور ۷۱۰۲ء میں خاکسار نے مکمل کیا تو اس کی باضابطہ تشکیل کے طورپر مزید نمونے بھی قلم بند کئے۔خاکسار کی پہلی اختراع، فکشن میں اختراعی صنف ”حالیہ“ہے جسے تیس برس پہلے قلم بند کیا گیا۔پہلا”حالیہ“ ماہنامہ شاعرممبئی نے ”ہری کونپلیں“ کے عنوان سے جون 1991میں شائع کیا۔حالیوں کا تیسرا تازہ ترین مجموعہ ”ایجادات“2018میں شائع ہوا۔حالیہ پرشمس الرحمن فاروقی سے لیکر تاحال سینکڑوں اہل قلم حضرات نے اپنے تاثرات قلم بند کئے ہیں۔بہر حال طویل وقفے کے بعد 2017 سے اب تک خاکسار نے متعدد تنقید چے اورمضمون چے قلم بند کئے۔جن میں سے بیشتر،مشہور روز نامہ ”قومی تنظیم“میں بلا عنوان شائع ہوتے رہے ہیں۔ حالانکہ ناچیز کا پہلا نمونۂ تنقید چہ ”فن اور تنقید کے مابین“سہ ماہی استعارہ دہلی کے تنقید نمبر جنوری تا مارچ2002میں یعنی اب سے 18 سال قبل شائع ہوچکا ہے جسے اپنے تنقیدی مضا مین کے مجموعہ ”اکسیر“ مطبوعہ 2008 میں اولین تنقیدی مضمون کے طور پر شامل رکھا ہے۔اس طرح، دیکھا جائے تو کوئی 20 سال پہلے ہی ناچیز نے مختصر ترین تنقید یعنی تنقید چہ کا اولین نمونہ قلم بند کیا ہے۔ اب چونکہ روایتی مضمون کی طرح تنقید چہ و مضمون چہ بھی اصناف ِزبان وادب میں شامل ہوں گے لہٰذاان میں زبان وبیان کی فصاحت وبلاغت اور ادبیت کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ آج کل برقی میڈیاTwitter, Facebook, Watsapp وغیرہ میں پڑھے لکھے اور ناخواندہ سب شامل ہیں مگر سبھی کچھ نہ کچھ پوسٹ کرتے رہتے ہیں، اس لئے یاد رہے کہ زبان وادب کے آداب ومعیار سے عاری کسی تحریر کو خواہ مختصر ترین ہی کیوں نہ ہو تنقید چہ و مضمون چہ کے دائرے میں نہیں رکھ سکتے۔ البتہ تنقید یا مضمون کے طور پر لکھی گئی زبان وبیان کی فصاحت وبلاغت اور درستگی کو ملحوظ خاطر رکھنے والی بامقصد ومختصرترین تحریر کوتنقید چہ یامضمون چہ کہہ سکتے ہیں۔مضمون کے ضمن میں دانشور ادیب ونقاد جناب سلیم شہزاد کی کتاب فرہنگ ادبیات کو اک ذرا دیکھتے چلیں:
۱۔ مضمون۔لفظی معنی کسی ضمن میں یا کسی ضمن کے تعلق سے، انگریزی فقرہ ”Essay on“ اس مفہوم کے مترادف ہے۔ اصطلاحاً کسی ادبی یا غیر ادبی موضوع پر نثری تحریری اظہار۔ آرٹیکل اور مقالہ مترادف اصطلاحات اور پیش لفظ،تقریظ، تبصرہ اور مقدمہ وغیرہ اس کے مختلف اسالیب ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں "جدید اُردو افسانے میں فنتاسی ” ایک مطالعہ – ڈاکٹر کامران شہزاد )
۲۔مضمون نگار۔ کسی ادبی یا غیر ادبی موضوع پر نثری تحریری اظہار کرنے والا فنکار۔انشائیہ نگار، صحافی، کالم نویس، محقق، مبصر، مقالہ، نگار اور ناقد سب مضمون نگار ہوتے ہیں۔
۳۔ مضمون نگاری۔ کسی ادبی یا غیر ادبی موضوع پر نثر میں تحریر ی اظہار خیال کرنا۔ اخباریا رسالہ کا اداریہ، فیچر، تحقیق، انشائیہ،تبصرہ، تنقیدی،یاتحقیقی مقالہ لکھنا مضمون نگاری کی ذیل میں آتاہے۔ (فرہنگ ادبیات ۹۵۔۷۵۶)
مضمون کے متعلق مذکورہ حوالے کے بعد اب یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ تنقیدی وتحقیقی مضامین کو بوجوہ غیر معمولی و خصوصی درجات حاصل ہیں۔ چوں کہ تنقید وتحقیق میں ٹھوس ثبوت وشواہد،دلیل وحجت اور بحث ومباحثہ کی بنیاد پر گہرے اور باریک تجزیے سے گذر نے کے بعد ہی کسی سخت فیصلہ یا نتیجہ تک پہنچاجاتاہے، اسی لئے تنقید و تحقیق میں دیگر اقسام مضامین کی بہ نسبت زیادہ عرق ریزی، بے باکی،باریکی اور سختی ہواکرتی ہے۔ خلاصہئ کلام یہ کہ تنقید کی مختصر ترین صورت، جسے خاکسار نے تنقیدچہ کی اصطلاح سے موسوم کیاہے، مضمون چہ کی بہ نسبت زیاہ مشکل اور سمندر کو کوزہ میں بند کرنے کے فن کی متقاضی ہے۔ چوں کہ تنقیدچہ کو مختصراً اوراشارتاًہی سہی دلیل وحجت اور کچھ حوالہ وتجزیہ سے گذرنا ہوگا لہٰذا تنقید چہ کا حجم مضمون چہ کے حجم سے نسبتاً بڑا ہوگا۔ مگر طویل تنقیدی مضمون کی بہ نسبت ہمیشہ ہی مختصر ترین یعنی تنقید چہ ہی ہوگا۔ جہاں مضمون چہ کا حجم اے فورسائزکے نصف صفحہ کے آس پاس ہونا چاہئے وہیں تنقید چہ کا حجم ایک صفحہ کے آس پاس ہوسکتا ہے۔یادرہے کہ تنقید کی طرح تنقیدچہ کی بہتری بھی اسی میں ہے کہ کسی موضوع پر حسن وقبح کے دونوں پہلوؤں کو انصاف اور برابری کے ساتھ تجزیہ وتقابل سے گذاراجائے نہ کہ یک طرفہ و انتہا پسندانہ۔ ناچیز کے خیال میں حقائق سے چشم پوشی، استہزا، دورغ گوئی، مبالغہ آرائی او رمحض تنقیص نگاری تنقید کے اوصاف نہیں ہیں، لہٰذا تخریبی تنقید سے بچاجائے۔ تحقیقِ حق اور فروغِ انصاف کو تنقیدچہ وتحقیق چہ میں قائم رکھنے کے لئے اپنی پوری طاقت وصلاحیت اورشفافیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ تنقیدچہ کا نصب العین جانچ پرکھ اور مثبت نکتہ چینی کے ذریعہ فوری طور پر حقیقت تک رسائی اور صداقت کی نقاب کشائی ہے۔ چنا نچہ مضمون چہ و تنقیدچہ لکھنے والے بلا مبالغہ لکھیں اور حق کو حق کہنے، سمجھنے اورسمجھانے کی ہمت وصلاحیت پیداکریں۔بہت غور خوض کے بعد اصطلاح مضمون چہ کو عاجزنے انگریزی میں Micro Essayاور تنقیدچہ کو Micro Criticismکانام دیا ہے۔تو آیئے، ناچیز کے چندمختصر ترین نثر ی نمونے ملاحظہ فرمائیں:۔ ( یہ بھی پڑھیں آل احمد سرور کی اقبال فہمی – پروفیسر کوثر مظہری )
(۱)اختراعی ادب کا تحفہ
اختراعی ادب کی تعریف میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ادب کی روایتی اصناف، روایتی ہیئت وتکنیک او رطرزو ترکیب کے شانہ بہ شانہ اختراعی اصناف، اختراعی ہیئت وتکنیک اور اختراعی طرزو ترکیب میں پیش ہونے والے ادب کو اختراعی ادب کہتے ہیں۔ مثلاً صنف افسانہ کے شانہ بہ شانہ اختراعی صنف افسانچہ، صنف نظم کے شانہ بہ شانہ اختراعی صنف نثری نظم اور افسانہ وڈراما کی انضمامی صورت کے بطورخاکسار کی اختراعی صنف حالیہ اورصنف مضمون وتنقید کے شانہ بہ شانہ اختراعی صنف مضمون چہ وتنقیدچہ!اسی طرح روایتی اصناف کے سامنے اسلم حنیف کی دوبیتی، مثلثی، شکل ساز نظم، موشح نما غزل، آزاد اور نثری توشیح، شارق عدیل کی سورٹھاغزل اور تضمینی نظم اور جاوید ندیم کا فکر پارہ وغیرہ۔
آج، فرہنگ ادبیات میں اختراعی ادب کے تمام تازہ ترین اختراعی اصناف و اصطلاحات مثلاً خاکسارکا حالیہ، نظریہئ تصور،تصور کی شعریات، نظریہئ حالیہ، مضمون چہ،تنقیدچہ، ایجادیت اور اکسیریت جیسی تمام نئی اصطلاحات کا اندراج کرنے، ان کی تاریخ لکھنے، روایتی اصناف کے ساتھ اختراعی اصناف کا خصوصی تقابلی مطالعہ پیش کرنے اور روایتی اصناف کے فروغ کی طرح اختراعی اصناف کے فروغ کو یقینی بنانے کی بیش از بیش ضرورت ہے۔(نظریہ تصوراور نظریہ حالیہ کے لئے مجموعہ حالیہ”ایجادات“ اور اکسیرکی اصطلاح کے لئے تنقیدی مضامین کا مجموعہ”اکسیر“ از مبین صدیقی ملاحظہ فرمائیں۔)
بات یہ ہے کہ روایتی اصناف کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک غلط اور صریح ناانصافی ہے جب تک کہ اس کے متعلقہ اختراعی اصناف سے اس کا تقابلی مطالعہ وموازنہ پیش نہ کیا جائے۔ مثلاً کسی افسانہ پر کوئی فیصلہ نقد کرنے سے قبل کسی حالیہ، کسی افسانچہ سے اس کا تقابلی مطالعہ وموازنہ پیش کرنا چاہئے تاکہ فکشن کی صنف میں ہونے والی اختراعات وایجادات کی خوبیوں کو تذکرہ عام سے محروم بھی نہ کیا جاسکے اور ان کے تقابلی درجات کا تعین کرتے ہوئے ہر ایک کے ساتھ انصاف بھی قائم کیاجاسکے۔
بے شک روایتی علوم وفنون سے محبت رکھیں مگر محض اس محبت کے سبب جدید تر علوم وفنون، جدید ترین اصناف ادب، جدید تر انکشافات،جدید ترین ایجادات، نئی جہتیں، نئے آفاق، مثبت افکار،تعمیری نظریات اور تازہ ترین نقطہ نگاہ کو نظر انداز نہ کریں کہ یہ صریح ناانصافی ہوگی۔ انصاف یہی ہوگا کہ علمی خصوصیت وعمدگی اور انفراد میں تازہ ترین ادبی ارتقاء کی علامات یعنی اختراعی ادب کو بطور خاص عزت بخشیں کہ یہ بھی ملک وقوم بلکہ تمام دنیا اور پوری انسانیت کے لئے قابل فخر تحفہ ہوگا! (یہ بھی پڑھیں امیر خسرو کی جمالیات – پروفیسر شکیل الرحمٰن )
(۲)تنقید چہ اور مضمون چہ
عدیم الفرصتی کے اس عہد میں اہل قلم اور قارئین کی ہمہ جہت مصروفیت اور وقت کی انتہائی قلت کے پیش نظر خاکسار نے طوالت مضمون کی جگہ اختصار مضمون کو فوقیت اور ترجیح دیتے ہوئے مختصر ترین مضمون بہ اصطلاح مضمون چہ (Micro Essays) اور مختصر ترین تنقید بہ اصطلاح تنقید چہ (Micro Criticism) کی بنیاد رکھی ہے۔2002 کے بعد 2017 سے خاکسار نے مختصر ترین مضامین کے طور پر تنقید چہ ومضمون چہ کومسلسل قلم بند کرنا شروع کیا، جن کے باضابطہ اصطلاحی تعارف کا شرف آج کی تاریخ کو حاصل ہو رہا ہے۔
ایک مختصر ترین نشست میں تنقید چہ یامضمون چہ کی قرأت مکمل ہوسکتی ہے۔مستثنیٰ کو چھوڑکر عام طور پر ایک مضمون چہ کو پانچ منٹ کے اندر جب کہ تنقید چہ کو دس منٹ کے اندر پڑھا جاسکتاہے۔ ایک مضمون چہ کا حجم اے فور سائز کے نصف صفحہ تک پہنچ سکتا ہے جب کہ تنقید چہ کا حجم ایک صفحہ کے آس پاس ہوسکتاہے۔ مضمون کی طرح مضمون چہ بھی حجت وحوالہ کے بغیرلکھا جاسکتاہے مگر تنقید کی طرح تنقید چہ مختصراًہی سہی حجت وحوالہ کے کچھ اشاروں کے ساتھ ہی قلم بند ہوگا۔ مضمون کی طرح مضمون چہ کی زبان دل کش ودلنشیں، پرکشش وسحرآفریں، نرم و لچک دار اور تخلیقی ہوسکتی ہے مگر تنقید کی طرح تنقید چہ کی زبان سخت، دوٹوک، بے باک، غیر تخلیقی، صاف و شفاف، نتیجہ خیز اور فیصلہ کن ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ مضمون چہ وتنقیدچہ کے باضابطہ تعارف و تصور، ادبی معیار وصنفی شرائط اور اصطلاح سازی سے قبل ہی ہرکس وناکس، خواندہ وناخواندہ اور عوام وخواص کی فوری ضرورتوں کی تکمیل کے سبب برقی میڈیا میں مختصر ترین نثری اظہار کا رواج عام ہوچکا ہے۔
(۳)ایجادیت کی تحریک
ایجاد ترقی کا سنک میل ہے۔ سائنس، آرٹ اور زبان وادب میں بھی۔مگر صدافسوس کہ ترقی کے اس کائناتی وعالمی سنگ میل کی، جس نے دنیا کو ارتقاء کے بام عروج پر پہنچادیا، ہر شعبۂ حیات میں تکنیکی سہولیات اور نفع بخش انقلابات سے دنیا کو فیضیاب کیا، ادب میں شروع سے بڑی ناقدری اور حق تلفی ہوتی رہی ہے۔ ادب میں آج تک ایک موجدو مخترع ایسا نہیں گذرا جسے اسکی اختراع وایجاد ہی کے سبب علاقائی سطح کا چھوٹے سے چھوٹا کوئی ایوارڈ دیاگیا ہو۔ پدم بھوشن، پدم شری، گیا ن پیٹھ اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کا تو ذکر ہی کیا۔ حالانکہ سائنسدانوں کی طرح ادب کا ایک موجد اپنی مایۂ ناز اختراعی خدمات کی بناء پر نوبل پرائز پانے کا حق رکھتاہے۔
سائنس اور ٹکنا لوجی میں اختراع وایجاد کے احترام میں واجب قدر افزائی کے عملی نمونے پیش کئے جاتے رہے ہیں مگر زبان وادب میں ایسی ایک مثال نہیں ملتی۔سائنس میں طلباء کو ایجادات کا قابل فخر درس دیا جاتاہے مگر انہیں طلباء کو ادبی ایجادات کی تدریس سے محروم رکھا جاتاہے۔سائنس میں ایجادات کی پرکھ، حوصلہ افزائی اور فروغ کے لئے خصوصی شعبے قائم ہیں مگر زبان وادب کے بڑے سے بڑے ادارے میں بھی ایسا کوئی نظام وانتظام نہیں۔سائنس میں ایجادات پر ورک شاپ، سیمینار اور مسلسل تحقیق جاری ہے جب کہ ادب میں ایسا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔
چنانچہ، سرکاری وغیرسرکاری اداروں ہی نہیں ہر خاص وعام کو زبان وادب میں اختراع وایجادکی اہمیت وعظمت سے روشناس کرانے اوراس کی قدروفروغ کی جانب متوجہ کرنے کے لئے ”ایجادیت“ کی اصطلاح اور تحریک کا آغاز واعلان کرتا ہوں۔ ”ایجادیت“کی ایک مختصر ترین تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ اس کے تحت تمام تر قدیم وجدید بلکہ تازہ ترین ادبی اختراعات و ایجادات کے فنی نمونوں اور صنفی وہیئتی کاوشوں پر مثبت فیصلے لئے جائیں گے تاکہ قابل فخر اختراعی کارناموں کے واجب حق کے ساتھ ان کا عالم گیر فروغ انہیں حاصل ہوسکے۔یادرہے کہ ۰۸ء کے بعد کے عہد کو بجا طور پر ”ایجادیت“ کا عہدِ ذریں کہا جاسکتاہے۔حسن اتفاق سے 80 کے بعد والوں کے پاس اختراعیت وایجادیت کی ایسی عظیم مثالیں ہیں جن کی بناء پر وہ خود کو ترقی پسندوں اور جدیدیوں سے مختلف ومنفرد اور ممتاز ثابت کرسکتے ہیں۔البتہ ایجادیت کی تحریک کو ہر خاص وعام تک پہنچانے کی شدید ضرورت ہے۔
(۴)حالیہ کیا ہے
لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ حالیہ کیا ہے؟حالیہ کو صنفی طور پر سمجھنے اورآسانی سے سمجھانے کے لئے اسے افسانہ وڈراما کی ایک انضمامی صنف یا ڈرامائی افسانہ (Drametic Story) بھی سمجھاجاسکتاہے۔کہہ سکتے ہیں کہ ازاول تا آخر زمانۂ حال کے اسلوب میں ڈھلا ہوا ڈرامائی افسانہ، حالیہ ہے۔حالیہ وہ ہے جس کے اثرات سے صاحب ِکشف و کرامات پر بھی حال طاری ہوجائے، حالیہ وہ ہے جس کی قربت سے ایک سنجیدہ قاری بھی صاحب ِحال ہوجائے۔ حالیہ اپنے ہر لفظ، ہرجملے میں ازاول تا آخر زمانۂ حال کی عطاسی کرتاہوا ماضی ومستقبل کی سیر کرانے کی کرامت رکھتاہے۔ حالیہ کے موضوعات خاص طورپر عالمی سطح کے بنیادی مسائل ہیں۔ حالیہ کا اپروچ آفاقی وکائناتی ہے۔ حالیہ میں معمولی باتیں بھی مخصوص حالیائی رنگ وآہنگ اور باریک حالیائی فن واسلوب کے سبب آفاقی بلندیوں اور کائناتی گہرائیوں کا احساس کراتی ہیں۔ حالیائی آرٹ میں مناظر فطرت کی کردار سازی مثلاً روشنی وتاریکی کو کردارکی صورتوں میں،مجسم وجود میں پیش کرنا فکشن کی تاریخ کا اولین اور انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔
حالیہ میں Cloning Enter generationalاور Genetic Experimentsکی حالیائی صورتیں، فکشن کی پوری دنیا کو حیران کرنے کے لئے کافی ہیں۔ حالیہ، اندھیرے سے روشنی کشید کرنے کا فن ہے۔ حالیہ، ریگ زار میں پھول کھلانے، شکست خوردگی کو غیر متوقع فتح یابی میں بدلنے اورخوشخبری تک پہنچانے کا فن ہے۔ حالیہ، ایک نئی اختراعی صنف کی شکل میں فکشن کے روایتی ڈھانچے کے لئے تازہ ترین رہنمائی کافن ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ناقدین کے عجائب خانوں کاقیدی:میراجی- پروفیسر ابوبکرعباد )
مضمون چہ وتنقیدچہ کی مقدور بھر اصطلاح سازی، نظر یہ سازی اور تعارف مع نمونہ کے بعد اب میرا فرض ہے کہ بے نام اور بلا عنوان مختصر ترین تحریروں کی ایک بہت بڑی دنیا سے آپ کامختصراً تعارف کرادوں۔ناچیز کی ادنیٰ معلومات کے مطابق مختصرترین نثری اظہار کی اصطلاح سازی اور باضابطہ تعارف سے پہلے ہی بے نام اوربلا عنوان طور پر ہزاروں کی تعداد میں اس کے لکھنے والے قابل لوگ بھی موجود ملیں گے۔یہ الگ بات کہ ان قلم کاروں کو یہ احساس قطعی نہ ہوگا کہ یہ اپنی بے نام /بلاعنوان تحریروں کا کوئی صنفی نام اور ہر تحریر کا ایک عنوان بھی تجویز کریں اور متعلقہ طرز تحریر کے حدودو معیار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نئی صنف کے طور پر اس کا تعارف ومقدمہ پیش کرنے کی سعی کرسکیں۔ جس طرح لفظ ”اختراعی ادب“ کی تعریف، جواز اور نظریہ و اصطلاح سازی کو آج تک اس خاکسار کے سوا کسی اور نے روشن نہیں کیا اسی طرح لفظ ”مضمون چہ“ممکن ہے کسی تحریر میں اتفاقاً مل جائے مگر نظریہئ مضمون چہ،مقدمہئ مضمون چہ، توجیہاتِ مضمون چہ، تعریف سازی واصطلاح سازی، بوطیقااور اولین تصورات اس خاکسار سے پہلے کہیں اور آپ کو نہیں مل سکتے جنہیں آپ مضمون چہ کے رہنما خطوط کا نام دے سکیں۔پھر بھی جن کی گفتگو یا مضمون میں صرف لفظ اختراعی ادب یا مضمون چہ اتفاقاً بھی آیاہو تو ان کا ذکر خیر کیا جائے گا۔ حالانکہ ادب اردو میں آفتاب احمد آفاقی سے لے کر یعقوب یاور تک سینکڑوں ایسے مشاہیرادب اور ہزاروں قلم کار ہیں جو برقی میڈیا(Twitter, Facebook, Watsapp Etc)میں مسلسل وروزانہ اپنے مختصر ترین اظہارات کے لئے پوسٹ(Post)لکھ رہے ہیں۔ انہیں خاصی تعداد میں Likesاور Commentsبھی مل رہے ہیں، جو ان بے نام تحریروں کی اہمیت وافادیت اور مقبولیت کا بین ثبوت ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی تحریروں (Post)کو تنقید چہ ومضمون چہ کے سانچے میں ڈھال دیں تو ادب کی تاریخ میں یہ ان کا ایک تعاون تسلیم کیا جائے گا۔یہ ایک حقیقت ہے کہComputer Mediaکی دنیا میں دنیا بھر کے لاکھوں لوگ آج لاکھوں کی تعداد میں اپنے پوسٹ لگارہے ہیں جس سے دنیا کی سینکڑوں زبانوں میں ہرقسم کے پیغامات کا تبادلہ ہورہاہے اور پوری دنیا محض منٹ دو منٹ کے اندر ان سے مستفید وفیضیاب ہورہی ہے۔ برقی میڈیا آج کی سب سے زیادہ مقبول اور استعمال میں 24/ گھنٹے رہنے والی سب پرغالب میڈیاہے۔ ایک چھوٹے سے Mobileکے ذریعہ Computer Technologyکی پوری دنیا ہماری مٹھی میں ہے۔ایک عظیم نعمت ہمہ وقت ہمارے پاس ہے، جس میں بے شمار غیر متوقع حیران کن اور جدید ترین سہولیات بہم ہیں۔برقی میڈیا میں نہ صرف فوری پوسٹ کی سہولت ہے بلکہ اس میں Likesاور Commentsکے علاوہ EditاورDeleteوغیرہ کے Optionsبھی ہیں۔جن کا موں کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھاوہ منٹوں میں ہورہے ہیں، خواہ جواب الجواب تحریر کرنے کی ضرورت ہی کیو ں نہ ہو۔ اس ذریعہئ ابلاغ نے ہماری ضرورتوں کی تکمیل کو اس قدر آسان تر اور نفع بخش بنادیا ہے جس کا تصوربھی پہلے کبھی ممکن نہ تھا۔اس اختراعی ذریعہ ابلاغ کے بے شمار فائدے ہیں جن کے شمار کا یہ موقع نہیں۔اب سے بیس برس قبل اپنے مضمون”تصور کی شعریات“ مطبوعہ ماہنامہ شب خون الٰہ آباد شمارہ مئی 2002 اور اپنے مجموعہ حالیہ”سحر مبین“ مطبوعہ 2004 میں خاکسار نے برقی میڈیا کے ممکنہ غلبے کی پیشن گوئی کی تھی۔ آئیے اک ذراملاحظہ فرمائیں:
”اب یہ بات تقریباًصاف ہوتی جارہی ہے کہ پرنٹ میڈیا سے جس طرح قارئین دور ہوتے جارہے ہیں اور الیکڑانک میڈیا کے ناظرین وسامعین میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے وہ پرنٹ میڈیا کے لئے تشویش ناک ہے۔پرنٹ کی اہمیت وافایت کا گراف اس تیزی سے رُوبہ زوال ہے کہ یہ خدشہ کہ ممکن ہے آئندہ یہ میوزیم کی چیز بن کر رہ جائے، فطری ہوتا جارہا ہے۔کم ازکم یہ تو قبول کرنا ہی چاہئے کہ الیکٹرانک میڈیا فی الحال حاوی میڈیا ہے……….فی الوقت آڈیو،ویژول میڈیااپنی مختلف شکلوں میں دیگر ذرائع ابلاغ پر حاوی کہے جائیں گے۔“
میں عرض کررہاتھا کہ اگر صرف زبان اردو میں اور ہما شما کو درکنار کرتے ہوئے صرف پڑھے لکھے قلم کاروادیب حضرات کی مختصر ترین تحریروں (پوسٹ) کو مد نظر رکھا جائے تو بھی پوسٹ ہونے والی تحریروں کی تعداد روزانہ سینکڑوں میں ہوگی۔ اس لحاظ سے اردو کے ہر قلم کار کے پاس ابتک سینکڑوں تحریریں (پوسٹ) جمع ہوچکی ہوں گی۔ان تحریروں میں سیاسی، سماجی، صحافتی، مذہبی، علمی وتحقیقی اور خالص ادبی قسم کے موضوعات پرکار آمد تحریریں ہوں گی۔ اگر ان تحریروں کو ادبی معیار کی کسوٹی سے گذار کر منتخب کرلیں، ان کی زبانی فصاحت وبلاغت، ان کی ادبیت اور طرز بیان پر نظر ثانی کرلیں اور ہر تحریر کا ایک مناسب عنوان تجویز کر کے اسے مختصرترین مضمون کی صورت فائنل کرلیں تو میں سمجھتا ہوں ہزاروں کی تعداد میں سینکڑوں اہل قلم کے تنقید چے یامضمون چے ہمیں دستیاب ہوسکتے ہیں، جنہیں ہم فخر کے ساتھ انتخابِ تنقید چہ ومضمون چہ کے طور پر کتابی صورت میں بھی محفوظ کرسکتے ہیں۔ بہرحال ہرصورت میں یہ ایک بڑاتاریخی کارنامہ ثابت ہوسکتاہے۔
یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ آج برقی میڈیا میں شعروشاعری سے کہیں زیادہ ہر خاص وعام کے ذ ریعہ مختصر ترین تحریریں پیش کی جارہی ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے بے نام مختصر ترین تحریریں (جنہیں میں تنقید چہ و مضمون چہ کا نام دے رہاہوں)سب سے زیادہ مقبول ہورہی ہیں۔ اب تنقید چہ ومضمون چہ کو آج کی مقبول ترین نئی نثری صنف کی حیثیت سے تسلیم کر لینے اور ان پر مہر قبولیت ثبت کردینے کے سوا کسی کے پاس کوئی چارہ، قیل وقال یا حیلہ وبہانہ نہیں بچا ہے۔لہٰذا،تنقیدچہ ومضمون چہ کی صنفی حیثیت وقبولیت پر سب سے پہلی مہر مَیں ثبت کرتا ہوں۔اگر چہ ناچیز کے تفصیلی مضامین20/ برس قبل سے شب خون، شاعر اور آج کل جیسے رسالوں میں نہ صرف شائع ہوتے رہے ہیں، بلکہ طویل،طویل ترین تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ”اکسیر“کے نام سے 2008 میں شائع ہو کرمعاف کیجئے گا،پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔
آج پوری دنیا ایک غیر اعلانیہ ایمرحنسی میں گھری ہوئی ہے۔ ہر شخص اندر سے کھول رہا ہے، ابل رہاہے، دہل رہاہے، لرزاں وپریشاں ہے۔دنیاکے ہر دوسرے شخص پربدترین حالات کیEmergencyکا غلبہ ہے۔ اس ایمرجنسی کے ہمہ جہت اثرات سے دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ آقا ہو کہ غلام،حاکم ہو کہ محکوم، بادشاہ ہوکہ رعایا، امیر ہوکہ غریب، عالم ہوکہ جاہل، محفوظ نہیں ہے۔ایسے غیر محفوظ، غیر اطمینان بخش حالات میں طویل چیزوں کو سمجھنا، پڑھنا اور نتیجہ اخذ کرنا اکثر وبیشتر ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ آج کے اعلانیہ وغیر اعلانیہ جنگی حالات اور متذلزل مستقبل کے لئے بھی مختصر ترین چیزوں سے استفاہ کرنے کی شدید ضرورت کے پیش نظر مختصرترین تحریریں بڑی نعمت ہیں۔ مکرر عرض کرتاہوں کہ روایتی / تفصیلی مضامین کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، لیکن عام استعمال کے لئے مختصرترین مضمون یعنی تنقید چہ ومضمون چہ کو فوراً سے پیشتر بطور صنف قبول کرلینا چاہئے، کہ اسی میں انسانیت کی، قلم کاروں کی، قارئین کی، پوری دنیاکی اور ہم سب کی بھلائی ہے۔برقی میڈیا میں زبان اردو کے سرگرم اصحاب قلم میں سے محض چند کے اسمائے گرامی بطور مثال درج کرتا ہوں جیسے آفتاب احمد آفاقی، آفتاب اشرف، آفتاب رشک مصباحی، آفاق عالم صدیقی، ابرار رحمانی، ابرار مجیب، ابراہیم اشک،ابوالکلام قاسمی، ابوبکر عباد، اجئے مالؤیہ، احسن الہدیٰ سلفی، احسان عالم، احمد بن نذر، احتشام الحق، احتشام الدین، احمد جاوید احمد سہیل، احمد سجاد، احمد صغیر، احمد عارف،انام الحق بیدار،افسر کاظمی، اقبال حسن آزاد،اقبال نیازی، احمد کفیل، احمد کمال حشمی، احمد محفوظ، اخترآزاد، اخلاق احمد آہن، ارشد عبدالحمید، اسداللہ،اسامہ حسن، اسرارگاندھی، اسلم آزاد، اسلم جاوداں،اسلم حنیف، اسنیٰ بدر، اشرف مولانگر، اشرف یعقوبی، اکرم نقاش، اشہد کریم الفت، اعجاز علی ارشد،امام اعظم،امتیاز احمد کریمی، انور ادیب، انور آفاقی، انور اپرج،انور شمیم، اویناش امن، ایم اے حق،ایم مبین،بسمل عارفی،پرتپال سنگھ بیتاب،پرویز مظفر،پرویز شہریار،پرویز اختر، تسنیم عارف،تسلیم نیازی، توصیف بریلوی،ثناء اللہ ساگر تیمی،ثناء اللہ الکافی، جابر حسین، جاوید رحمانی،جاویدہمایوں،جمیل منظر، جمال اویسی، جمیل اختر شفیق،جرنلسٹ اقبال، حامد اقبال صدیقی، حبیب مرشدخان، حسن امام رضوی، حسین الحق،حقانی القاسمی، خالد جاوید، خالد جمال، خان محمدرضوان، خنجر عظیم آبادی، خورشید اکبر، خورشید اکرم، خورشید طلب، خورشید عالم، خورشیدملک، دانش ریاض، دانش کمال سرگرم، راشداحمد، راشداحمدراشد، رحمان عباس، رضوان الحق، رئیس صدیقی، رفیع حیدر انجم، رسول ساقی، رونق شہری، رئیس انور رحمان، زمردمغل، ساجدحمید، ساجدہ علیگ، سیتہ پال آنند، سرفراز خالد،سفیر صدیقی، سلام بن رزاق، سید تاج حسن رضوی، سلمان عبدالصمد، سید محمداشرف، سلیم سرفراز، سلیم انصاری، سیفی سرونجی،شارق عدیل، شبیر احمد، شمیم قاسمی، شفیع ایوب، شعیب غازی،شاہدجمیل شکیل سہسرامی، شکیل اعظمی، شکیل سلفی، شنکر کیموری،شہاب ظفر اعظمی، شاہد اختر، شہنشاہ عالم،شیدا بگھونوی، صدف اقبال، صفدر امام قادری، صادق جمیل تیمی، صدیق عالم،ضمیر درویش، عادل رضا منصوری،عاصم شہنواز شبلی،عالم خورشید، عاقل زیاد،عائشہ صدیقہ، عبدالرحمن، عبدالرحمن بنارسی، عبد الرافع، عبدالصمد، عبدالسمیع، عبالقارد شیخ، عبدالمتین قاسمی،عبید صدیقی، عبد المنان طرزی، عبدالمنان،عبد الودود قاسمی، عتیق اللہ، عتیق انظر، عرش منیر،عرفان ستار، عزیزبرنی، عزیز نبیل، عرفان احمد پیدل،عشرت معین سیما، علیم اللہ حالی، عصمت آراء،عطا عابدی، علی عباس امید، عقیل احمد صدیقی، عین تابش، غفنضر علی، غلام نبی کمار،کامران غنی صباؔ، کوثر مظہری، فاروق ارگلی، فخر الدین عارفی، فردوس علی، فیاض احمدو جیہہ، قاسم خورشید، قمر صدیقی، قیصر زماں،کہکشا ں تبسم، مبین صدیقی، مجاہد الاسلام، مجیر احمد آزاد، محسن خان، محسن رضا رضوی، محمد بن طاہر، محمدنور عالم مرزا خلیل احمد بیگ، مستفیض احد، مسعودبیگ، مراق مرزا، مشتاق احمد، مشتاق احمدنوری، مشتاق دربھنگوی، مشتاق شمسی،مصداق اعظمی، معراج رعنا، معیدرشیدی،منصور خوشتر، منصور قاسمی،ندیم احمد،مہتاب عزیزارزق، نسیم احمد نسیم، نگارعظیم، نوشاد احمدکریمی، نوشاد منظر، نوشاد مومن، واصف جمال، ہما خان علیگ،یعقوب یاور،ابرار عالم،ابصار الحق،اسرار دانش، اشعرنجمی،امن ذخیروی،بدر الدین انصاری،جاویدندیم، رضی شہاب، رضی حیدر اجالا،سلمان غنی، شمیم خرم اعظمی،صفدر حسین،ضیا فاروقی، صدیقی عقیل،طیب فرقانی،ظہیر انور، ظفر انور،عبداللہ دانش، عبدالمنان صمدی،کاظم رضا،فاروق سید، محمد حسان سلفی، محمد کاظم، مسعود حساس، نرگس سلطانہ، واحد نظیر، ہاجرہ خاتون،یامین انصاری وغیرہ۔
بالآخر، مَیں تمام اصحاب قلم سے، جن کے نام چھوٹ گئے ہیں ان سے بھی ان کی مختصر ترین تحریروں کو جلدازجلدتنقیدچہ ومضمون چہ کرلینے کی گذارش کرتاہوں۔جتنی جلد اہل قلم حضرات اپنی مختصر ترین تحریروں میں تنقید چہ یامضمون چہ کے لحاظ سے Editکرلیں گے یا نئے تنقید چے لکھ کر پیش کردیں گے اتنی جلد انشاء اللہ ایک تاریخی انتخابِ تنقید چہ ومضمون چہ کتابی صورت میں شائع کرانے کی کوشش کروں گا۔مولانا حالیؔنے مقدمہ شعروشاعری میں نیچرل شاعری کی وکالت اور سفارش کرتے ہوئے حالت جنگ میں بھی نیچرل ادب کی اہمیت کا احساس دلایا تھا۔ناچیز بھی زبان وادب کے اعلیٰ عہدہ داران وذمہ داران سے آج کے سنگین ومتزلزل حالت کے پیش نظرتنقیدچہ و مضمون چہ کی فوری قبولیت کی سفارش کرتاہے۔وما علینا الا البلاغ۔
!!!
(مصنف مبین صدیقی ادب اردو میں نئی اختراعی صنف حالیہ کے موجد اور تنقید چہ و مضمون چہ کے بانی ونظریہ ساز ہیں)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] متفرقات […]
[…] متفرقات […]