ناقدین کے عجائب خانوں کاقیدی:میراجی- پروفیسر ابوبکرعباد

by adbimiras
0 comment

میراجی کی ماں زینت بیگم عرف سردار بیگم ان کے باپ منشی مہتاب الدین کی دوسری بیوی تھیں۔ دونوں میں عمراور مزاج کاکافی فرق تھا جس کی وجہ سے میراجی کو اپنی ماں پر بڑا ترس آتا تھا وہ باپ کو ظالم اور ماں کو مظلوم سمجھتے تھے ،تاہم اس بنا پر انھوں نے باپ کو کبھی ناپسند نہیں کیا۔ منشی مہتاب الدین پہلے ریلوے کے ٹھیکہ دار پھر ریلوے میں اسسٹنٹ انجینیئرکے عہدے پر فائز ہوئے اور برج انسپکٹر کے فرائض انجام دیتے تھے۔وہ پابند شرع اورحد درجہ لبرل انسان تھے ۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد انھوں نے اپنی بقیہ زندگی انجمن حمایت اسلام کی خدمت میں گزاردی۔

میراجی کو اسکول کے زمانے سے ہی شاعری ،کرکٹ، موسیقی اورمطالعے کا شوق تھااور قدرتی مناظر میں کوئی تخلیقی یا رومانی پہلو تلاش کرنے کی لگن۔ وہ بچپن میں بہت اچھا گایا کرتے تھے اور مطالعے کے بے انتہا شوقین تھے ۔ان کے پاس جب بھی پیسے ہوتے وہ کتابیں خریدتے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے میں ان کی لائبریری کا ذخیرہ پانچ سو کتابوں کی تعداد سے تجاوز کرگیا ۔ نویں جماعت سے شعر کہنے لگے تھے اور ساحری ؔ تخلص اختیار کیاتھا۔جس کمرے میں ان کی رہائش تھی اس کانام انھوں نے ساحر خانہ رکھاہوا تھا۔ اسکول کی ادبی مجلس کے سکریٹری تھے ، ڈراموں میںحصہ لیا کرتھے اور کئی انعامات جیت چکے تھے ۔جب وہ سات سال کے تھے توگجرات میں زبردست قحط پڑا تھا۔ اس وقت ان کے والد نے جو شاعر اور ڈرامہ نگارتھے اور مہتابؔ تخلص کرتے تھے ؛ دو ڈرامے لکھے اور انھیں اسٹیج کیا تاکہ ان کی آمدنی سے قحط کے متاثرین کی مددکی جا سکے ۔ ان ڈراموں میں میرا جی نے بھی بطورایکٹرحصہ لیاتھا۔یہ پہلا موقع تھا جب میرا جی نے ادب اور آرٹ کو بہت ہی قریب سے دیکھاہوگا ۔ قدرتی مناظر کے حوالے سے وہ اپنی نامکمل سیلف پورٹریٹ میں لکھتے ہیں:

’’میرے زمانہ طفلی میں اباجان بندھیاچل سے آگے گجرات کاٹھیاواڑ کے علاقے میں ملازم تھے ۔یہ وہی علاقہ ہے جس میں کچھ عرصہ کے لیے مہارانی میرا بائی بھی اپنے گیتوں کا جادوجگانے آئی تھیں۔لیکن بچپن میں زمین کے اس حصے میں مجھے ان گیتوں کاسامنا نہیں ہوا۔ہمارے والد وہاں ایک چھوٹی لائن پر اسسٹنٹ انجینئر تھے۔مشہور مقام چمپانیر کے قریب (ہالول میں )ہم رہا کرتے تھے ۔جہاں سے چار پانچ میل ہی دور پاوا گڑھ کا پہاڑ تھا جس کی چوٹی پر کالی کاایک مندر تھا۔ہمارے بنگلے سے صبح میں یہ پہاڑ دکھائی دیتا تھا۔میرا ایک مصرع ہے:’’پربت کو اک نیلا بھید بنایا کس نے؟ دوری نے‘‘۔لیکن یہ پہاڑ کا منظر نزدیک ہوتے ہوئے بھی میرے لیے ایک نیلا بھید تھا۔ایک ایسا راز جس کی دلکشی ذہن پر ایک گہرا نقش چھوڑتی ہے۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں  لسانی تاریخ نویسی اور محمود خاں شیرانی (’پنجاب میں اردو‘کے حوالے سے) – پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ )

یقین کیجیے کہ میراجی کی ان خارجی اور نفسیاتی کیفیتوں نے ان کی پوری زندگی کو ایک ایسا تجسس آمیز بھید بنادیا تھا جسے آج تک اردوکے قارئین جاننے ،بوجھنے اور حل کرنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں لیکن ان کے ہر بھید سے ایک نیا بھید جنم لے لیتا ہے اور ان کی زندگی مزید ساحرانہ بنتی چلی جاتی ہے ۔ ان کے اعمال وافعال،ان کی بودوباش،ان کی وضع قطع،ان کی سوچ وفکر،ان کے عشق،جنس اور ان کی آسودگی کا تصور، ان کی نظموں اورگیتوں کے استعارات وعلامات ،سبھی کچھ تو۔بھلا میرا جی کی کون سی ایسی شے ہے جس میں بھید نہ ہو، ابہام نہ ہو ، پیچیدگی نہ ہو، تہہ داری نہ ہواور جو کثرت تعبیر سے مبرا ہو؟ ماں کو مظلوم سمجھتے تھے لیکن ان کی لاکھ منت سماجت کے باوجود زندگی بھر ان سے ملنا گوارہ نہ کیا،باپ کو ظالم جانتے تھے لیکن پل بھر کو بھی ان سے نفرت نہیں کی۔
تسلیم یہ بھی کیجیے کہ جس کسی نے بھی میرا جی کی زندگی، ان کی شخصیت،ان کی شاعری ،ان کی تنقید ،ان کے تجزیے ایک بارپڑھ لیے تو پھر ممکن نہیں کہ پڑھی ہوئی چیزوں میں سے بیشتر چیزیں پڑھنے والے کے ذہن پر نقش نہ ہوجائیں،انھیں سوچنے پر مجبور نہ کریں۔ میرا جی کا مخبوط الحواس کی طرح گرمیوں میںبھی اوور کوٹ پہنے رہنا، علامہ کی مانند مطالعے میں غرق ہونا،صوفیوں جیسے لمبے بال ،ڈاکوؤں کی سی گھنی اور بڑی بڑی مونچھیں ، بنجاروں کی مانندکانوں میں بالے ، مانجھی کی طرح سر پر رومال ، بچوں کی طرح ہر وقت ہاتھوں میں سگریٹ کی چمکدارپنّیاں لپٹے لوہے کے تین گولے اور گلے میں جوگیوںکا سا بڑے منکوں کی مالا،وحشیوں کے سے میل بھرے ناخون اور دانشوروں جیسی باتیں ،یہ سب میرا جی کے ظاہری شناخت نامے ہیں۔ قیام دہلی کے زمانے میں وہ خانہ بدوشوں کی طرح محض ایک اٹیچی کیس رکھتے تھے جس میں ایک آدھ کپڑے ، کچھ کاغذ،چند پنسلیں، شراب کی دوخالی بوتلیں اورصابن کی ایک استعمال شدہ ٹکیہ ہوتی تھی ۔ اس اٹیچی کیس کو وہ’ آل بندوبست‘ کہا کرتے تھے۔یہی تو میرا جی کی ہئیت کذائی تھی ،ظاہری اعمال وافعال اوراسباب زندگی تھے۔ (یہ بھی پڑھیں جمالیات کیا ہے؟ – شازیہ بتول )

پوری اردو تنقید یہ کہتی آرہی ہے کہ ’ثناء اللہ ڈار‘ نے میراسین کے عشق میں اپنانام بدل کر ’میراجی‘رکھ لیاتھا۔لیکن یقین کیجیے کہ ’ثناء اللہ ڈار ‘نے میراسین کے عشق میں نام نہیں تبدیل کیا،بلکہ شعروادب کی تخلیق کے لیے انھوں نے ’میراجی‘ کو خلق کیاتھا۔ یا یوں کہیے کہ اپنے آپ سے انھوں نے ایک نئی شخصیت کو جنم دیا،جس کی انھوں نے بچے کی مانندنگہداشت کی، محبوبہ کی طرح اس سے تاعمر محبت کرتے رہے اور شعر و ادب سے اسے اس طور آشنائی بخشی کہ منشی مہتاب کی تخلیق ثناء اللہ ڈار کو لوگ بھو ل گئے ،مگر ثناء اللہ ڈار کی تخلیق ’میراجی‘ کو چاہ کر بھی کوئی بھلا نہ پایا ، کہ عاشقان ادب آج بھی ان کی شخصیت کوحیرت واستعجاب سے دیکھتے اورتجسس آمیزشوق سے پڑھتے ہیں ۔ میراجی کی تحریر سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’لوگ مجھ سے میرا جی کو نکالنا چاہتے ہیں مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔یہ نکل گیا تو کیسے لکھوں گا ، کیا لکھوں گا؟یہ کمپلیکس ہی تو میری تحریریں ہیں۔‘‘(اخترالایمان ،میراجی کے آخری لمحے،مشمولہ نقوش، لاہور، شمارہ، 27-28 ، دسمبر1952،ص،123) اور اپنے انتقال سے چند دنوں پہلے انھوں نے یہ بھی کہا تھاکہ: ’’میں ایسا علاج نہیں چاہتا جس سے میراجی مرجائے اور ثناء اللہ خاں ڈار زندہ رہے۔‘‘(ایضاً)
ہمارے ناقدین نے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی کہ میراسین کے حقیقی وجود سے میرا جی کا عشق محض تصوراتی تھا اور وہ اس عشق سے مطمئن اور آسودہ بھی تھے، لیکن یہ سچ نہیں ہے ۔نہ تو میراجی کا عشق تصوراتی تھا ،نہ ہی وہ اُس عشق سے مطمئن تھے۔وہ میرا سین کو پانا چاہتے تھے ، لیکن تب نہ تو ان کی عمربہت پختہ تھی ، نہ حوصلہ جوان تھا۔اور شاید اُس زمانے میںاس سے زیادہ اظہار عشق کی نہ تو روایت تھی ، نہ اجازت۔ میراجی نے صرف اکیلی میرا سین سے ہی عشق نہیںکیا تھا ،ساحرؔ کی طرح انھوں نے بھی متعدد عشق کیے تھے ،اور تصوراتی نہیں حقیقی عشق کیے تھے۔ محض غائبانہ ہی نہیں ،علی الاعلان کیے تھے ۔رشید امجد کی تحقیق کے مطابق:
دہلی میں ریڈیو کی ملازمت کے زمانے میںمیراجی کو دو لڑکیوں میں خصوصی دلچسپی پیدا ہوگئی ۔ ایک اناؤنسر سحاب قزلباش سے جس کووہ پیار سے بلی خانم بلاتے تھے اور دوسری ڈرامہ آرٹسٹ صفیہ معینی سے ،جس کو وہ بدلی یا بادلی بیگم کہا کرتے تھے ۔ان کے علاوہ دو تین خواتین اور بھی تھیں جن سے میرا جی کو دلچسپی تھی۔لیکن تعلق کسی سے کبھی استوار نہیں ہوا۔نتیجتاً ڈپریشن کا شکار ہوئے ،حالت پہلے سے زیادہ خراب رہنے لگی۔ ایسے وقتوں میں ن۔م راشد اور محمود نظامی نے ان کی بہت مدد کی۔ راشدنے تو ان کے بڑے نخرے اٹھائے ۔یہی وجہ ہے کہ ن۔م راشد کے ایران جانے کے بعد میرا جی کی حالت ابتر ہوگئی اور وہ تقریباًروز ہی خود کشی کا ارادہ کرتے۔ ۔۔۔یوں وہ بادلی بیگم سے شادی کرنے کی سنجیدہ کوشش کررہے تھے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ ۔۔۔ اسی طرح وہ لکھنؤ میں اپنے دوست ایم۔اے لطیف کی بیوہ بہن سے بھی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن مراد وہاں بھی پوری نہ ہوئی۔۔۔۔۔ ممبئی میں بھی انھیں ایک لڑکی سے عشق ہوا مگر باقیوں کی طرح یہ عشق بھی ناکام رہا۔ (میراجی :شخصیت اور فن،رشید امجد)
میراجی کی شخصیت کے گرد نیرنگیوں اور بوالعجبیوں کے جالے تننے والوں نے کبھی اُن کے اندر برپا اس دنیا میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی جس میں میرا جی زندگی کر رہے تھے ،ذہنی اور جسمانی آسودگی کے لیے کوشاں تھے اور اپنے آپ سے اور ساری دنیا سے لڑ رہے تھے ۔ یہ جاننے کی بہت ہی کم کوشش کی گئی کہ میراجی کو فتح کے مقابلے شکست کیوں ملتی رہی ،کیوںکامیابی کے بجائے ناکامیوں سے سابقہ پڑتاگیا،اورکیوں ان کی سچی عظمتوں کو جھوٹی شہرتوں میں چھپانے کی کوششیں کی گئیں۔وجہیں تلاش کرتے ہوئے ان باتوں کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ خاندان سے کٹ کر لاوارثوں کی سی زندگی جی رہے تھے،عسرت وتنگ دستی نے (خاص طور سے ن۔م راشد کے ایران چلے جانے کے بعد) انھیں کافی حد تک بے بضاعت بنا دیا تھا اور وسائل کی کمی ان کے افتخاراور عظمت و وقار کو دیمک کی طرح چاٹ رہی تھی۔ (یہ بھی پڑھیں ما بعد نو آبا دیات :حدود ، تعارف ،اہمیت – امبرین کوثر )

میراجی نے بغاوت صرف روایتی شاعری،شاعری کے مروجہ موضوعات ،مواد اور اس کی ہیئت وتکنیک سے ہی نہیں کی ۔انھوں نے دنیا اور دنیاکی بخشی ہوئی تمام چیزوںسے انکار کیا۔ یہاں تک کہ ماں باپ،ان کے مکان ،ان کی جائیداداور ان کے بیٹے ثناء اللہ ڈار کو بھی انھوں نے قبول نہیں کیا۔ میرا جی نے جو چاہا حاصل کیا، جو مل گیا اس پر قناعت کی،جہاں کامیابی نہیں ہوئی کوششیں کیں، محروم رہ جانے پر بے چین رہے ، تڑپا کیے ، ترسا کیے۔
ہمارے ناقدین نے بڑے بھونڈے پن سے ان کی جنسی آسودگی کے طریقے کو استہزا اور طنز کا نشانہ بنایا ہے اوراس کی غیر ضروری تشہیر کی ہے ،لیکن ان حضرات نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ باغی میراجی نے اپنے عمل اور اپنی نظموں کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرایاکہ سیکس کی چوائس ہر شخص کی اپنی ہوتی ہے ، میراجی کی بھی اپنی ہے ۔جنس کے حوالے سے میرا جی کی شخصیت کو مجروح کرنے والے ہمارے ناقدین کیا واقعی اتنے ہی بھولے تھے کہ انھیںمتضاد جنسی مباشرت کے علاوہ کسی اور جنسی طریقے کا علم نہ تھا؟کیاسچ مچ انھوں نے کسی سے نہیں سنا ،یا کہیں نہیں پڑھا تھا کہ جنسی آسودگی کا واحدطریقہ محض مخالف جنس کی شراکت نہیں،بلکہ دسیوں دوسرے طریقے بھی ہیں۔مثلاً ہم جنسی ،امرد پرستی ،خود لذتی بلکہ قوت سامعہ، باصرہ، لامسہ، شامہ اور فنٹاسی (تخیل)تو نہ جانے کب سے رائج طریقے رہے ہیں ۔ فکشن کے علاوہ اردو کی کلاسیکی شاعری ان چیزوں سے اٹی پڑی ہے۔ مظہر امام نے اپنے کسی مضمون میں لکھا ہے کہ’ نناوے فیصد مرد زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں جنسی خود لذتی کے عمل سے گزرتے ہیں، اور ایک فیصد لوگ جو کہتے ہیں کہ وہ اس عمل سے نہیں گزرے وہ در اصل جھوٹ بولتے ہیں۔ ‘ تنقید کی دنیا میں میرا جی کو اس حوالے سے اس قدر بدنام کرنایقیناً ادبی ،اخلاقی اور انسانی لحاظ سے معقول رویہ نہیں کہلایا جا سکتا۔ (یہ بھی پڑھیں کلیم الدین احمد:ایک مثالی نقاد – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

اس میں کوئی شک نہیں کہ میراجی کی تخلیقات اور ان کی تنقیدی،تجزیاتی اور صحافتی تحریریں متاع بے بہا ہیں ، مگر ان کی زندگی اب بھی ایک لا ینحل معمہ ہے۔کہ اپنی ہیئت کذائی،اپنے معمولات اور معاملات کے حوالے سے انھوںنے یہ رویے شعوری طور پر رکھے یا لاشعوری طور پراپنائے ۔ان سب کی وجہ نفسیاتی تھی یاناکافی وسائلِ زندگی،یا پھر ناقدوں کی فسانہ طرازی ۔ یا یہ کہ میرا جی نے خود اپنے اور اپنی زندگی کے ساتھ ڈرامہ رچا، یا دوستوںنے اسے داستانوی رنگ دیا؟ جو بھی ہو ،دو باتیں طے ہیں:ایک تو یہ کہ اردو شعروادب کی تاریخ میں میراجی کی زندگی آج بھی بھیدوں بھری اور ان کی شخصیت افسانوی کردار بنی ہوئی ہے ۔ دوسرے یہ کہ ان کے چند دوستوں اور بعض ناقدوں نے جھوٹے سچے واقعات کی آمیزش سے میرا جی کی بوالعجبیوں کو نمایاں کرکے ان کی علمی،تفہیمی، تخلیقی، صحافتی اور تنقیدی جہتوں کو دھندلانے اور ان کے تجرباتی ،تجزیاتی کارناموں پر پردہ ڈالنے کی ہمدردانہ اور مخلصانہ سازشیں کیں؛ اوریہ بھی کہ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور دوسری خوبیوں کو قارئین کے ذہنوں سے یکسر اوجھل کرنے کے لیے گل افشانیِ گفتار کا کھیل رچا۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ میٹرک فیل ثناء اللہ ڈار جس نے سخت محنت اور مسلسل مطالعے کی بنا پر خود کو میراجی کے نام سے نئی زندگی دی تھی، اور ایک بے حد پڑھے لکھے انسان، زیرک طالبعلم، ذہین صحافی،بڑے ادیب، اہم ناقد، انوکھے تجزیہ نگار،جدت پسند شاعراور بانیِ تحریک کی حیثیت سے اپنی ایک زبردست شناخت قائم کی تھی ، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایاتھا، وہ کوئی مخبوط الحواس اور بوالعجب انسان نہیں ، بحر علوم ومعانی کا غواص تھا،آسمان شعروادب کا درخشندہ ستارہ اور اپنے عہد میں مشرق ومغرب کی ادبی دنیا کا کولمبس تھا ۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ بظاہربے اعتدالیوں کے شکار میراجی کا تصوراتی نظام بے حد منظم ، فکر حد درجہ مرتب اور شاعری انتہائی منضبط ہے۔ اگر یہ روایت درست ہے کہ نشے کی حالت میںمیراجی نے اپنی کئی تخلیقات اور مسودے سڑک پر اچھال کر ضائع کردیے ، تو یہ بات بھی سچ ہے کہ جب وہ رسالہ ’ادبی دنیا‘ اور آل انڈیا ریڈیوسے منسلک تھے یا جب انھوں نے حلقہ ارباب ذوق کا عہدہ سنبھالاہوا تھا،ان زمانوں میں انھوں نے جس سنجیدگی، احساس ذمہ داری اورسلیقے کا مظاہرہ کیا اس کی شہادتیں ان کے دشمن بھی دیتے ہیں۔ وہ اپنی آخری عمر میں قرآنی امثال پربھی کام کرنے کے خواہشمند تھے۔اخترالایمان نے لکھا ہے کہ’’ میرا جی نے جوائز کی کتاب Finnegan’s Wakeمیں قرآن کو تلاش کیا ہے اور اس پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
ہمارے بیشتر ناقدوں نے اپنے یک رخے پن،اپنی چالاکیوں اور کوتاہیوں کا ساراالزام میرا جی کے سر یہ کہہ کر منڈھ دیا کہ ’میراجی نے اپنی بوالعجبیوں سے خود اپنا نقصان کیا۔‘اب ان ناقدوں سے کون کہے کہ ایسی ہی بوالعجبیوں اور کج رویوں کے شکارجدید مغربی شاعری کے پیش رو رانیاماریارلکے،فرانسیسی شاعر چارلس بودلیئر،فرانس کے جدیدادیب ژاں ژینے، امریکی شاعر اورافسانہ نگار ایڈگر ایلن پو اور مشہور روسی فکشن نگار دستہ ئفسکی بھی تھے ؛ لیکن ان تخلیق کاروں کے ناقدین نے ان کی بوالعجبیوں کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کے فنی امتیازات،ان کے فن پاروںمیں فکر وحسن کی دریافت، ان کے تجربات اوران کے موضوعات و مواد کے تجزیے پر جس قدر توجہ صرف کی ہے، کاش میراجی کے ناقدین ان تحریروں کو ایک نظر دیکھ لیتے یا کم از کم ہمارے یہ ناقدین میراجی کی تنقید ہی پڑھ لیتے۔ میراجی کے مضمون ’’امریکہ کا تخیل پرست شاعر:ایڈگر ایلن پو‘‘ کے اس اقتباس کو دیکھیے اور چند لمحے ٹھہر کر غور کیجیے کہ میرا جی درج ذیل چند جملوں میں اپنی داستان حیات اور اپنے بارے میںناقدین کے رویوں کی پیشن گوئی تو رقم نہیں کرگئے؟:
ــ’’پو کی زندگی کی سب سے تلخ حقیقت جو ہمیں دکھائی دیتی ہے وہ اس کی بد نصیبی ہے ۔ایسے بدنصیب انسان جن کی ذہانت میں عظمت کا جوہر موجود ہو خاص طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ان کی شخصیت ایک حکایت بن جاتی ہے ،ان کی زندگی کے ارد گرد روایات کاایک جال تن جاتا ہے اور اس حکایت اور ان روایات کی ہر کوئی من مانی شرح کرنے پر اتر آتا ہے۔ایسے لوگوں کی ذہانت میں کوئی پیچیدگی نہیں ہوتی ۔اپنے طور پر وہ خوش قسمت ذہین لوگوں ہی کی مانند ہوتے ہیں، لیکن بظاہران کی ذات میں دنیا کو کئی الجھنیں دکھائی دیتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کی ذہانت اور زندگی کی متضاد کیفیتیں بیرونی دنیامیں بھی متضاد عکس ڈالتی ہیں۔۔۔۔۔۔ جو بھی کتاب اس کے متعلق لکھی گئی ہے، ایک نئے نقطۂ نظر سے ۔کوئی اسے شرابی کہتا ہے، کوئی اعصابی مریض،کوئی اذیت پرست کہتا ہے اور کوئی جنسی لحاظ سے ناکارہ ثابت کرتا ہے؛اور ان رنگا رنگ خیال آرائیوں کی وجہ سے اصلیت پر ایسے پردے پڑگئے ہیں کہ اٹھائے نہیں بنتا۔۔۔۔۔۔ پہلی نظر میں پو کو نہ تو شرابی کے لحاظ سے دیکھناچاہیے نہ اعصابی مریض کے لحاظ سے اور نہ اس کی آوارہ مزاجی کا ذکر کرناچاہیے۔حقیقت تک زینہ بہ زینہ پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے پہلی نظر میں ایک صحافی ،ایک اخبار نویس سمجھیں۔انیسویں صدی کے ابتدائی زمانے کا ایک محنتی اخبار نویس۔‘‘(مشرق و مغرب کے نغمے،ص، 186-187،دوسری اشاعت ،1999 ،کراچی،پاکستان)
یقین کیجیے کہ میراجی کی حیثیت آئس برگ کی ہے ، کہ جتنا وہ سطح سمندر پر دکھتا ہے اس سے کہیں زیادہ سمندر کی تہہ میں ہوتا ہے۔ میرا جی کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ ان کے ایک دو بہی خواہوں،چنددوست نماؤں اور کچھ ناقدوں نے میراجی کا صرف وہ حصہ دیکھااور دکھایا جو سطح سمندر سے اوپر ہے ۔ سمندر کی تہہ میں موجود میرا جی کے وجود کو ان حضرات نے دانستہ،یا نادانستہ نظر انداز کیا، یا بے چارے دیکھ ہی نہ سکے ، یادیکھ سکے تو اوروں سے چھپائے رکھا۔ شاید اس لیے کہ میرا جی کا عالمی شعروادب کا مطالعہ،ان کی سیاسی بصیرت،ان کا تنقیدی شعور،ان کی ذہنی بالیدگی، ان کے تجزیاتی کارنامے،ان کی انتظامی صلاحتیں،ان کی پروازتخیل،ان کی عمیق نظراور ان کی جدت فکروغیرہ اگر واقعتاً پوری طرح سامنے آجاتے تو اُس عہد کے بہت سے صحافی، شاعر،ادیب،ناقد،تجزیہ نگاراور آفاقی مطالعے کے دعویدار شہرت ومقبولیت کی اُن بلندیوں پر شاید نہ پہنچ سکتے ،اور پہنچے ہوئے شاید ٹک نہ پاتے ۔ سو، یقین جانیے کہ خدشے کی بھی اپنی جمالیات ہوتی ہے ، خطرے کی بھی نفسیات ہوتی ہے، اور جب مد مقابل سامنے ہو توا نسان اپنے تحفظات کے لیے کیا کچھ نہیں کرگزرتا۔ (یہ بھی پڑھیں متن، معنی اور نقد  بنیادی مسائل و مباحث – ڈاکٹر شاکر علی صدیقی )

میراجی 1939سے 1942تک ’ادبی دنیا ‘سے وابستہ رہے۔اس عرصے میں انھوں نے رسالے کو نئی ترتیب دی ،مواد کے معیار کو بہتر بنایا،ان میں دنیا بھر کے منتخب شعرا کے کلام کے ترجمے شائع کیے اور ان کے تجزیے تحریر کیے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ اسی رسالے میں وہ بسنت سہائے کے نام سے سیاسی مضامین بھی لکھتے تھے۔ ان مضامین سے ان کے سیاسی اور سماجی رویوں کی بالیدگی کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے اور یہ نتائج بہ آسانی اخذ کیے جا سکتے ہیں کہ میرا جی ایک فعال سیاسی ذہن اوراعلیٰ صحافیانہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ 1942 میں ’ادبی دنیا‘ سے الگ ہو کر وہ آل انڈیا ریڈیو سے بطور اسٹاف آرٹسٹ منسلک ہوگئے ۔ یہاں انھوں نے ایک طرف اپنی غزلوں،نظموں اور گیتوں پر مبنی کئی نئے پروگرام متعارف کرائے اور ’خرابات‘ کے زیر عنوان معروف شاعروں اور فنکاروں کے غیر رسمی انٹرویوز کیے ،جس میں فیض احمد فیض، استاد غلام علی ، دینا ناتھ زتشی، ملکہ پکھراج وغیرہ سے ان کے فن پر غیر رسمی باتیں کیں،تو دوسری جانب دیہاتوں کے لیے بھی پروگرام مرتب کیے ۔ اس عرصے میں وہ ماہنامہ’ساقی‘ دہلی کے لیے ’باتیں ‘ کے مستقل عنوان سے دو برس تک کالم بھی لکھتے رہے۔1948میں انھوں نے اخترالایمان اور مدھوسودن کے ساتھ مل کر رسالہ  ’خیال‘ نکالا، جس کے لیے وہ اداریے لکھتے، ترجمے کرتے اورنظمیں اور غزلیں بھی لکھتے تھے ۔ رسالہ اخترالایمان کی ملکیت تھا اور بطور معاوضہ میراجی کو سات سو روپے ماہانہ ملتے تھے۔ اتفاق سے اس رسالے کی عمر بھی سات شماروں تک ہی وفا کر سکی ۔ ان کے کچھ خاکے، افسانے اور ہلکے پھلکے مضامین ’ساقی‘ ، ’خیال‘،’ہمایوں‘ اور شیرازہ‘ میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔
میراجی کی شاعری اور شخصیت ایک طرف فرانسیسی شاعر بودلیئر سے ملتی جلتی ہے تو دوسری جانب امریکن فکشن نگار ایڈگر ایلن پوکا پر تو ان میںنظر آتا ہے ۔ میراجی نے اپنی شاعری کے لیے انسان کے ظاہر کے بجائے اس کے باطن کو چنااور جسم اور جسم کے تقاضوں کے اظہارسے شرمانے کے بجائے انھیں شعری پیکروں میں ڈھالا۔میراجی نے شعور ، لاشعور اور تحت الشعور کی کیفیات اور عمیق جذباتی اور فکری ترسیل کے لیے نئی زبان خلق کی ، نئی اصطلاحیں وضع کیں اور نئی علامتوں کو جنم دیا۔وہ مغربی مطالعے کے باوجود اپنی شاعری میں مشرق سے بے حد قریب ہیں۔ چنانچے وہ شاعری کی بنت کے لیے نفسیات کی دروںبینی کے ساتھ ساتھ قدیم ہندی ثقافت اور ہندو فلسفے سے بھی موضوعات و ماحو ل اخذ کرتے ہیں۔ ان کی شاعری ویشنو مت سے کافی متاثر ہے ،جس میں شری رام اور سیتا جی کی روایتی یا ازدواجی محبت کے برخلاف کرشن اور رادھا کے غیر روایتی یاکہیے غیر ازدواجی عشق کو فوقیت حاصل ہے۔ ظاہر ہے کرشن اور رادھا کی محبت ملن سے زیادہ فراق کی ہے جو مرد وعورت کی جنسی محبت کے والہانہ پن اور شدت کواجاگر کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی بھٹی )

میراجی کی شاعری میں غیر محسوس طورپر ’ کالی‘اور ’شیو‘کا اسطوری حوالہ بھی بار بار آیا ہے ۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہندو فلسفے میں ان دونوں یعنی مرد وعورت کے جنسی اعضا کی پرستش کی جاتی ہے۔ سو،اس نوع کی چیزیں میراجی کی شاعری میں جابجا موجود ہیں۔خاص طور سے ’عدم کا خلا‘ ،’دورکنارہ‘،’حرامی‘، ’دوسری عورت‘، ’خود لذتی‘، ’اجنبی انجان عورت رات کی‘، ’اے ریا کاروں‘، ’دکھ دل کا دارو‘، ’رتجگا‘ اور ’دورنزدیک‘ جیسی نظمیں مثال کے لیے دیکھی جا سکتی ہیں۔ میراجی کی ذہنی تربیت اورہندی فلسفے سے ان کی رغبت نے انھیں گیان، دھیان اور تیاگ کی طرف متوجہ کیا جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں ان کے ہم عصروں کے مقابلے ہندوستانی فضا کی بوباس،رنگ وصوت،اصطلاحات ولفظیات ،کردار و واقعات اور چہل پہل کہیں زیادہ ہے۔ مثلاً :
دل بے چین ہوا رادھاکاکون اسے بہلائے گا
جمنا تٹ کی بات تھی ہونی ،اب تو دیکھا جائے گا
چپکی سہے گی رنگ وہ رادھا جو بھی سرپر آئے گا
اودھوشیام پہیلی رہتی دنیا کو سمجھائے گا
پہلے مجموعے کے بعدمیرا جی کی شاعری میں ایک اور انداز فکر سامنے آتا ہے۔اب ان میں ہندی الفاظ کے ساتھ اردو، فارسی کے الفاظ آنے لگتے ہیں اور شاعری کی ہند آریائی فضا میں عجمی موسم کی آہٹ بھی سنائی دینے لگتی ہے۔ ’خدا‘،’ طالبعلم‘، ’جزو اورکل‘ ، ’آبگینہ کے اس پار کی ایک شام‘،’روح انسانی کے اندیشے‘،’صدا بہ صحرا‘اور ’لمحے‘جیسی نظموں اور رسالہ ’خیال‘ میں شائع ہونے والی غزلوں میں بکثرت فارسی ترکیببوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے ۔ میراجی اس تصور کے قائل تھے کہ شاعری کی کوئی مخصوص زبان نہیں ہوتی۔ واقعہ بھی یہ ہے کہ شاعری کی زبان تو دراصل ہوتی نہیںخلق کی جاتی ہے ،یوں کہ جونسے بھی الفاظ جذبات و احساسات اور فکروخیالات کو خوبصورتی اور معنی خیزی کے ساتھ بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں دراصل وہی شاعری کی زبان ہوتی ہے۔
میراجی کے یہاں بعد کی شاعری میں موضوعاتی سطح پریہ وسعت آئی کہ جنس اور نفسیات کے ساتھ مابعدالطبعیاتی مسائل بھی مرکزی حوالہ بننے لگے اور ہند آریائی فضا کے ہم دوش آریائی عجمی فضا بھی اپنی جانب متوجہ کرنے لگی۔ سو، ان شعری فضا،مسائل اور ان کے رنگ و صوت کی تبدیلی کوبھی حالات و واقعات کی مناسبت ،موضوعات کے تقاضے اور بیانیے کے تنوع کا زائیدہ سمجھنا چاہیے ۔
میرا جی کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے مروجہ اردو شاعری کی ہیئت ،لفظیات،اس کے لہجے،پیکر،علامات اور اسلوب کو تبدیل کر کے اسے جدیدمغربی طرزاحساس سے ہم آمیز کیا اور انسانی شعور ، لاشعور اور تحت الشعور کے مختلف گوشوں کو دریافت کرکے انھیں شاعری کا موضوع بنایا۔ میراجی کی بیشتر نظمیں اس شعور کی روئداد ہیں جوبیک وقت انفرادی محرومیوں اور معاشرتی تنہائیوں کا شکار ہے۔وہ بالعموم اپنی نظموں میں کسی مسئلے کو حل نہیں کرتے ،نہ ہی روایتی نظموں کی طرح کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔وہ بیک وقت مختلف جذبات اور بسااوقات متضاد جذبات کو بیان کرتے ہیں۔ صفات کے مقابلے میں وہ افعال کا استعمال زیادہ کرتے ہیںجس کی وجہ سے ان کے یہاں ایک نوع کا تحرک ہے،ایک خاص طرح کی روانی ہے۔
میراجی کا کلام انتہائی عام فہم زبان اور آسان اسلوب میں ہے اس کے باوجود ان کی شاعری کو مشکل قراردیا جاتا رہا ہے۔ان کی شاعری پر بالعموم دو الزامات لگائے جاتے ہیں۔ایک تو یہ کہ ان کی شاعری میں فحاشی ہے، اور دوسرا یہ کہ ان کی شاعری مبہم اور پیچیدہ ہے۔ یہ دونوں الزامات میرا جی کی شاعری میں جنس کے اظہار کو بنیاد بناکر لگائے گئے اور بعض روایتوں کے مطابق ایسے زیادہ تر الزامات ترقی پسندوں کی جانب سے عائد ہوئے۔ ممکن ہے اُن لمحوں میں ایسے ناقدین کے پیش نظر ہندوستانی فلسفے میں مردوعورت کے جنسی اعضا کی پرستش کا تصور نہ رہا ہو،یا ان حضرات کے ذہن اس نکتے کی طرف نہ گئے ہوں کہ جنس کے بیان میں جمالیاتی سطح تبھی قائم رہ سکتی ہے جب اسے ابہام کے لطیف پردے میں بیان کیاجائے ۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیے:
یاد ہے اب بھی مجھ کان ہوئے تھے بیدار
خشک پتوں سے جب آئی تڑپنے کی صدا
اوردامن کی ہر اک لہر چمک اٹھی تھی،پڑرہا تھا اسی تلوار کا سایہ شاید
جونکل آئی اک پل میں نہاں خانے سے
میراجی کی ایک اور بدنام زمانہ نظم ’لب جوئے بار‘میں بھی جنس اور ابہام کی آمیزش کودیکھیے جس کے موضوع اور مواد کو سمجھنے میں ہمارے ناقدین کوبرسوں لگ گئے:
ایک ہی پل کے لیے بیٹھ کے پھر اٹھ بیٹھی
آنکھ نے یہ دیکھا کہ نشستہ بت ہے
پھر بصارت کو نہ تھی تاب کہ وہ دیکھ سکے ،کیسے تلوارچلی کیسے زمیں کا سینہ
ایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بنا
جنس، نفسیات اور ابہام کو میرا جی کی زندگی اور ان کی شاعری سے اس طرح منسلک کردیا گیا کہ معلوم ہوتا ہے یہ تینوں لازم و ملزوم یاشعر و ادب کی دنیا کا ایک دائمی مثلث ہیں۔کسی ایک کا خیال آتے ہی تینوں بیک وقت ذہن میں آموجود ہوتے ہیں۔یہ درست ہے کہ میراجی کی شاعری میں کسی قدرابہام اوران کے موضوعات میں نفسیاتی الجھن اور جنس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لیکن نہیں بھولنا چاہیے کہ بہت سے انسانی جذبات و احساسات اور خیالا ت غیر واضح، مبہم بلکہ مغلق ہوتے ہیں جنھیں لاشعور کی بھول بھلیاں یا شخصیت کے اسرارسے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ میرا جی کی ہنرمندی یہ ہے کہ انھوں نے ایسے مبہم اور پُراسرار احساسات و خیالات کو ان کی خاصیتوں کے ساتھ اردو نظم کے قالب میں ڈھالنا سکھایا۔اسی طرح جنس ان کے یہاں صرف جسمانی لذت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ محبت کے مختلف مظاہر کی صورت میں بھی ظاہر ہوتاہے اورروح کی بالیدگی اور سکون کے متلاشی کے بطور بھی۔
لیکن کیا کیجیے گاکہ ہمارے ناقدوں نے میراجی کی بوالعجبیوں کوایسے چٹخارے دار طریقے سے ابھارااور ان کی شاعری میں ابہام، پیچیدگی ، جنسی غلاظت کے ذکر اورمشکل پسندی پراس شدت اور مبالغے سے اصرارکیاکہ اردو کے قارئین میرا جی کی بوالعجبیوں کے تو اسیر وعاشق ہوگئے، مگر ان کی شاعری کو ذہن تو جانے دیجیے ،یہ سوچ کر دیدہ ودہن تک بھی آنے نہ دیاکہ ایسی مشکل اورلایعنی شاعری کون پڑھے اور کیوں پڑھے؟ اگر ناقدوں کی نیت ومنشا پر ہم شک نہ کریں، تو اس کی ایک وجہ یہ اجنبی پن تھا کہ میراجی کے ذریعے اس نوع کی خالص جنسی،جسمانی،اورنفسیاتی شاعری ابہام کی ہلکی رنگین دھند میں پہلی بار عکس ریز ہورہی تھی ،اوردوسری وجہ یہ کہ تب روایتی ناقدین کے پاس فنی ،فکری اور تکنیکی طور پر روایت سے منحرف نئی شاعری کو’ڈی کوڈ‘ کرنے کے نئے تنقیدی ٹولس نہ تھے ، بالکل ویسے ہی جیسے تب منٹو کے افسانے ’پھندنے‘ کو’ ڈی کوڈ ‘کرنے کے ٹولس ہمارے فکشن کے ناقدوں کے پاس نہیں تھے۔ جنسی الجھن کے موضوع پر ان کی نظمیں ’دھوکا‘، شام کو راستے پر‘ ،’الجھن کی کہانی‘، دھوبی گھاٹ‘،’کروٹیں‘اور ’دوسری عورت‘ وغیرہ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ میرا جی نے جنس کو پست سطح سے بلند کرکے اسے کس سلیقے سے اجتماعی زندگی کے ایک اہم پہلو کا خوبصورت مظہر بنایاہے۔ میراجی نے کہیں لکھا ہے کہ : ’’جنسی فعل اور اس کے متعلقات کو میں قدرت کی بڑی نعمت اور زندگی کی سب سے بڑی راحت اور برکت سمجھتا ہوں۔جنس کے گرد جو آلودگی تہذیب و تمدن نے جمع کر رکھی ہے وہ مجھے ناگوار گزرتی ہے۔۔۔‘‘وہ اپنی نظم ’اے ریاکاروں ‘ میں ایسے ہی لوگوں کو مخاطب کرتے ہیں:
انداز نظر کی الجھن کو تم شرم و حیا کیوں کہتے ہو
جنسی چاہت کی برکت کو ملعون خدا کیوں کہتے ہو
فعلوں کے نشے میں بہتے ہو جب آشائیں اکساتی ہیں
اور بن جاتے ہو تنگ نظر لفظوں کی جو بحثیں آتی ہیں
میراجی کی شاعری کا منظر نامہ بڑا ہی وسیع اور رنگا رنگ ہے ۔ ان کے یہاں داخلیت اور خارجیت کا متوازن اور حسین امتزاج ہونے کے باوجود ہمارے ناقدین نے نہ جانے کیوں انھیں خالص داخلیت کا شاعر قراردیا ہے۔ جب کہ ان کی شعری کائنات میں داخل ہوتے ہی آپ دیکھیں گے کہ اس میںگھنے جنگل،اونچے پہاڑ،نیلا آکاش ،کاجل بھری کالی آنکھیں، سرسراتے ملبوسات ، سمندر، تالاب، صحرا، پھول، سورج، چاند ، اور ستارے جیسے خارجی مناظر کثرت سے موجود ہیں۔یہ اشعار دیکھیے:
یہ بستی ،یہ جنگل، یہ بہتے ہوئے راستے اور یہ دریا،یہ پربت
اچانک نگاہوں میں آتی ہو ئی کوئی اونچی عمارت
یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور
یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے
یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہواکوئی اندھامسافر
شاعری کے بعد میراجی کی تنقید خاصے کی چیز ہے ۔یوں تو میراجی کے تنقیدی تصورات ان کے مختلف مضامیں میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن ’اس نظم میں‘ اور ’مشرق ومغرب کے نغمے‘ میں ان کی تنقیدی صلاحیت ا ورتجزیاتی بصیرت اپنے عروج پر ہے۔’اس نظم میں ‘ انھوں نے قدیم و جدید ہیئتوں میں لکھی ہوئی سیاسی، معاشرتی، جنسی اور نفسیاتی زندگی سے متعلق نظموں کو تجزیے کے لیے منتخب کیا ہے، جو ان کی مشکل، جدت اور تنوع پسندی کی غماز ہیں۔ انھوں نے بعض نظموں کے تجزیے میںمصرعوں کے دروبست میں تقدیم وتاخیر اور تبدیلی کرکے یہ بتایا ہے کہ کون سا مصرعہ کس جگہ زیادہ موزوں اور بامعنی ہوگا۔ آپ چاہیں اسے عملی تنقید کہیں، یااصلاحی اور ہدایتی تنقید کانام دے لیں۔ ’مشرق ومغرب کے نغمے ‘ میں انھوں نے تخلیقات کو ان کے تلازمات ، فنکاروں کے عہد اور ان کے ذاتی کوائف کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے، اور تجزیے میں تقابلی تنقید،مروج فنی معیار اور زبان کے بنیادی اقدار کو پیش نظر رکھا ہے ۔ کہنا چاہیے کہ میراجی نے جس طرح شاعری میں الگ راہ نکالی اسی طرح انھوں نے تنقید میں نفسیاتی دبستان اورہدایتی تنقید کا آغاز کرکے اردو تنقید کی ثروت مندی میں اہم اضافے کیے ہیں۔
تراجم میں بھی میرا جی کو انفرادی حیثیت حاصل تھی ۔ وہ باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر انھیں کئی زبانوں پر عبور تھا۔ میرا جی نے شعروادب کے ترجموں کے علاوہ سماجی،سیاسی اور اقتصادی نوعیت کے مضامین کے بھی ترجمے کیے ہیں۔ان کے ترجمے مختلف ممالک کے شعرا کے تعارفی وتجزیاتی مضامین اورشاعری کا ترجمہ’مشرق ومغرب کے نغمے، عمر خیام کی رباعیوں کا ترجمہ ’خیمے کے آس پاس‘،دامودر گپت کے ’نٹنی متم‘ کا ترجمہ ’نگار خانہ‘اور بھرتری ہری کے چند شتکوں کے تراجم ان کے علم اور مختلف زبان و ثقافت کے شعر وادب سے ان کے شوق ومحبت کی شہادت دیتے ہیں۔ ’ مشرق ومغرب کے نغمے ‘میں بیس مضامین شامل ہیں۔اس نوع کے چار اور مضامین ہیں جو ’ادبی دنیا‘ میں شائع ہوچکے تھے لیکن کسی وجہ سے یہ ’مشرق ومغرب کے نغمے‘ میں شامل نہیں ہیں۔خیام کی رباعیوں کے ترجمے میں انھوں نے جن جن جگہوں پر مناسب سمجھا وہاں ہندی مزاج پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے ان میں کبیر کے دوہوں کا رنگ آگیا ہے۔ظاہر ہے اسے عمدہ ترجمے کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ بھرتری ہری کے شتکوں کے ترجمے کی غایت میرا جی نے یہ لکھی ہے کہ: ’’ میرا مقصد بھرتری ہری کی شاعرانہ حیثیت کو بتانے کے علاوہ ہندوستان میں محبت کی شاعری کا ایک اور نمونہ پیش کرنا بھی ہے۔‘‘تاہم وہ ترجمہ مکمل نہیں کرسکے۔ ’نگار خانہ‘سنسکرت کے شاعر دامودر گپت کے نٹنی متم کا نثری ترجمہ ہے۔اس میں ایک جہاندیدہ طوائف کہانی کی ہروئن اور نوعمر طوائف مالتی کو اس پیشے سے متعلق مردوں کو لبھانے، رجھانے اور پھسلانے کے گر سکھاتی ہے۔ اس نظم کو نثری ترجمے کا رنگ دے کر میراجی نے ایک خوبصورت کہانی میں ڈھال دیاہے۔
ان تمام خوبیوں کے باوجود میراجی کے ساتھ ان کے بعض دوستوں اور ادیبوں کی تحریریں،رویے اور ہمارے بیشتر ناقدوں کی تنقید نے اچھا سلوک نہیں کیا،گو کہ میراجی نے اردوشاعری کے موضوعات،اس کی تکنیک،اس کے ڈکشن اور اسلوب کو نئی وسعتوں سے ہمکنار کیااور اسے نئی سوچ وفکر سے آگاہی بخشی۔ اپنے تنقیدی اور تجزیاتی مضامین کے ذریعے تنقید کو نئی جہت سے آشنا کیا،اسے عالمی پس منظر عطاکیااورشاعری کی تفہیم کے نئے در واکیے ۔اس کے علاوہ انھوں نے ہندوستانی زبانوں مثلاً سنسکرت، بنگلہ،اور میتھلی شاعری اور غیرملکی جیسے رومی، یونانی، انگلستانی، کوریائی ، چینی، جاپانی، فرانسیسی، لاطینی، جرمن، روسی اور امریکن شاعری کے ترجموں سے اردو شعروادب کے ذخیرے میں بے بہا اضافہ کیا اورعالمی شعور سے آگاہی بخشی۔یہ وہ اوصاف و اکتسابات ہیں جس کی وجہ سے اردوشعر وادب کی تاریخ اپنے وجودکی بقاتک میراجی کی احسان مند رہے گی۔ یقین کیجیے کہ بوالعجبیوں کے پردے میں میرا جی کے تعلق سے تمسخرات و تعصبات کو محور بناکر لکھی گئی ناقدوں کی تحریریں رد کی جارہی ہیں،کی جاتی رہیں گی، لیکن میرا جی کی تخلیق وتحریر کی تردید نہ پہلے آسان تھی ،نہ اب ممکن ہے۔کہ رنگ برنگے خوشنما بادل روشن ماہتاب کے شفاف نور کو کتنی دیر چھپائے رکھ سکتے ہیں؟قصے کہانیوںکے زور پر صداقت کی دریافت کو آخر کیوں کر روکا جاسکتا ہے؟ اور ناقدین کے تعمیر کردہ عجائب خانوں میں کسی جینوئن تخلیق کارکو بھلا کب تک قید رکھا جاسکتا ہے؟

 

پروفیسر ابوبکر عباد

شعبۂ اردو،

دہلی یونیورسٹی،دہلی

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment