ترقی پسند تحریک کی ابتدا 1936 میں ہوتی ہے لیکن ’انگارے‘ کی اشاعت1932کو ترقی پسند ادبی تحریک کا پیش خیمہ کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ’سوز وطن‘ کے بعد یہ پہلا افسانوی مجموعہ ہے جس میں منظم اور شعوری طور پر، معاشرے پر چھائے ہوئے جمود کے خلاف اضطراب کا اظہار کیا گیا تھا۔ ورنہ بیسویں صدی کی اولین دہائیوں میں اردو افسانہ، داستانوی فضا اور اصلاحی و رومانوی رنگ سے یکسر آزاد نہیں ہو سکا تھا۔ ایک طر ف پریم چند اور ان کے اخلاقی و اصلاحی رنگ سے متاثر ہوکے سدرشن، اعظم کریوی، حامداللہ افسر، علی عباس حسینی اور پروفیسر محمد مجیب افسانے لکھ رہے تھے؛ جن کے یہاں زمین کی سوندھی مٹی سے اپنے صنم تراشنے کا فن ملتا ہے تو دوسری طرف سجاد حیدر یلدرم اور ان کے ہم نوا سلطان حیدر جوش اور ادب لطیف کے نمائندے، نیاز فتحپوری اور مجنوں گورکھپوری اپنے افسانوں کے ذریعے تخیلی فضا اور سماوی دنیا کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے۔ بقول وزیرآغا—
”یہ سب افسانہ نگار ایک تخیلی فضا میں سانس لے رہے تھے اور محبت کے افلاطونی نظریے کی عکاسی، حسن کے غیر ارضی تصور کی نقاب کشائی اور مظاہر پر ایک چھچھلتی سی نظر دوڑانے کے عمل میں مبتلا تھے۔“ (۱)
ان افسانہ نگاروں کے یہاں حقیقت نگاری کی بہ نسبت تخیل آفرینی کے رجحان نے زیادہ شدت اختیار کرلی تھی۔ اسلوب پر بھی جذباتی کوائف کا غلبہ تھا۔ آل احمد سرور نے اس کی تاویل یوں پیش کی ہے کہ
”یہ لوگ دراصل شاعر تھے جو افسانے کی سرحد میں آزادانہ گھس آئے تھے۔ انھیں قصہ کی تنظیم اور کردار کے ارتقا سے زیادہ دلچسپی نہ تھی۔ انھوں نے اپنے جنسی میلانات سے سارے ادب کو جذبات کی دلد ل بنادیا تھا۔“(۲)
دراصل، افسانے کا فن مغرب سے جب مستعار لیا گیا تو اس کے ساتھ ہی انیسویں صدی کے ’زندگی برائے ادب‘ کا نظریہ آسکر وائلڈ اور والٹر پیٹر کے توسط سے اردو میں سرایت کرگیا تھا۔ ان افسانہ نگاروں کے یہاں حال سے فرار، حقیقت سے گریز، ماضی پرستی اور نور ونغمہ میں پناہ لینے کا میلان عام تھا۔ (یہ بھی پڑھیں ماورائے ازدواج رفاقتوں کا بیانیہ (پرویز شہریار کے دو افسانوں کے حوالے سے) – حقانی القاسمی )
لیکن یہ حالات زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکے۔ انقلاب زمانہ نے مغرب میں چیخوف، ترگنیف، گورکی، لارنس، موپاساں اور جوائس جیسے مختلف افسانہ نگاروں کو جنم دیا۔ اردو میں ان کے ترجمے ہوئے۔ ان ترجموں کے اردو افسانہ نگاروں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک، 1929کے اقتصادی بحران اور یورپ میں پہلی جنگ عظیم کی تباہ کردہ حالات نے نئے دور کے افسانے کے لیے راہیں ہموار کرنا شروع کردی تھیں۔ ان ہی حالات میں اردو افسانے پر چھائی ہوئی رومانوی اور اصلاحی انتہا پسندی کے خلاف، بغاوت کے طور پر نفرت اور بیزاری سے بھرے ہوئے ’انگارے‘ کی اشاعت ہوئی۔
’انگارے‘ میں کل دس افسانے تھے پانچ سجاد ظہیر کے، دو احمد علی کے، دو رشید جہاں کے اور ایک افسانہ محمود الظفر کا تھا۔ ’انگارے‘ تو ضبط ہوگیا لیکن اس کا ادبی حلقوں پر زبردست اثر پڑا۔ بقول قمر رئیس—
”اس کی کہانیوں میں جو گستاخانہ بے باکی، برہمی اور تلخ نوائی تھی وہ ایک نئی نسل کے طرز فکر و احساس اور ایک تصور فن کی آمد کا اعلان تھی۔“(۱)
نئی نسل کے ساتھ اعتدال پسند ادیبوں نے بھی اسے بہت سراہا۔ اسی کے اثر سے’شعلے‘، ’محبت اور نفرت‘، ’منزل‘، ’انوکھی مصیبت‘،’عورت‘، ’کیمیاگر‘ اور اسی نوع کے دوسرے افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔
’انگارے‘ اردو افسانے کے ارتقائی سفر کا وہ پہلا سنگ میل ہے، جس کے پیچھے تخیل کی پرسکون وادیوں میں پناہ لینے والے افسانہ نگاروں کا ایک قافلہ چھوٹ جاتا ہے اور آگے خاردار حقیقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے والے افسانہ نگاروں کا ایک تازہ دم کارواں رواں دواں ہے۔
’انگارے‘ اور پھر پریم چند کے ’کفن‘ سے بے باک اور جرأت مند’حقیقت نگاری‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا جسے ترقی پسند افسانہ نگاروں نے آگے چل کر ایک عظیم الشان روایت میں منتقل کردیا۔
یہاں ایک بات نشان خاطر رہنی چاہئے کہ حقیقت نگاری، حقیقت کو پیش کرنے کے صرف ایک طریقے کا نام ہے۔ حقیقت کو بیان کرنے کے لیے بیانیہ، وضاحتی یا حقیقت پسندانہ پیرایہ واحد ذریعہ اظہار نہیں ہے۔ حقیقت کا اظہار دوسرے طریقوں سے مثلاً اشاروں، کنایوں اور استعاروں کے ذریعہ بھی ہوسکتا ہے۔ پھر یہ کہ حقیقت نگاری کے بھی کئی روپ یا رجحان ہوسکتے ہیں مثلاً سماجی حقیقت نگاری یا نفسیاتی حقیقت نگاری وغیرہ— ترقی پسند تحریک کے دوران جس طرح کی حقیقت نگاری کے رجحانات سامنے آئے وہ تین خاص حصوں میں رکھے جا سکتے ہیں۔
پہلا رجحان سماجی حقیقت نگاری کا ہے، جس کی ابتدا پریم چند اور ان کے معاصرین کے اثر سے ہوتی ہے۔ اس طرز کے افسانہ نگاروں میں حیات اللہ انصاری، سدرشن، اعظم کریوی، علی عباس حسینی، رشیدجہاں، احمد علی، اوپندرناتھ اشک، راجندرسنگھ بیدی، اختر اورینوی، سہیل عظیم آبادی، ہاجرہ مسرور، بلونت سنگھ، پرکاش پنڈت، ہنس راج رہبر اور شوکت صدیقی کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں عصمت چغتائی: کھلے پنکھ والی افسانہ نگار – ڈاکٹرپرویز شہریار )
دوسرا، انقلابی رومانیت کا رجحان ہے۔ اس قسم کی حقیقت نگاری کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، خواجہ احمد عباس، مہندر ناتھ، اے۔حمید، ابراہیم جلیس،ا نور عظیم، سید انور اور دیویندر ستیارتھی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
تیسرا رجحان بے باک حقیقت نگاری کا ہے۔ اس طرح کی حقیقت نگاری کی ابتدا سعادت حسن منٹو سے ہوتی ہے۔ اس طرز کی نمائندگی کرنے والوں میں عصمت چغتائی، عزیز احمد، غلام احمد عباس اور خدیجہ مستور کے نام اہم ہیں۔
پریم چند نے افسانے کا رشتہ عام زندگی سے استوار کیا اور اسے سماجی حقیقت کا متحمل بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں ہندوستان کے عوام کے مسائل، ان کی جذباتی کشمکش کے ساتھ اتنے روشن طریقے سے پیش کیے کہ اردو افسانہ متداول سماج کا آئینہ دار بن گیا ہے۔
ان کا پہلا مجموعہ ’سوزوطن‘ان کی موجودہ سماجی نظام سے بیزاری کا مظہر ہے۔ وہ آزادی، انصاف اور ترقی کے خواہاں تھے۔ ان کا آخری افسانہ ’کفن‘ ان کی ترقی پسندانہ فکر اور ان کے فن کی معراج ہے۔ بقول سید احتشام حسین—
”بھارت کی آتما دیہی زندگی کے، جیسے عمدہ عکس انھوں نے کھینچے ہیں، اس کا موازنہ کسی اور ادیب سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔(۱)
سماجی حقیقت نگاری کے نمائندہ افسانہ نگاروں کے یہاں زندگی کی سچائیوں کو بے لاگ و لپیٹ، ان کے صحیح سیاق وسباق میں پیش کردینے کا رجحان ملتا ہے۔
حیات اللہ انصاری کے افسانے سماجی حقیقت نگاری کے بہترین مرقعے ہیں۔ ان کے افسانوں میں انسان کے بنیادی مسائل کا عرفان وادراک، سنجیدہ تفکر، گہری معنویت کے ساتھ موجود ہے۔ عام طور سے سماج کے پس ماندہ طبقے کی افراد ان کے افسانوں میں اپنے اصلی خدو خال کے ساتھ رونما ہوتے ہیں۔ ’آخری کوشش‘، ’ڈھائی سیر آٹا‘،’موزوں کا کارخانہ‘ اور ’شکرگزارآنکھیں‘ ان کے فن کے اہم نمونے ہیں۔ ’ڈھائی سیر آٹا‘ کا شمار اردو کے اولین مارکسسٹ افسانہ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن جس افسانے نے انھیں صف اول کا افسانہ نگار بنایا وہ ’آخری کوشش‘ ہے۔
پریم چند کے نقش قدم پر چل کے سدرشن، اعظم کریوی، علی عباس حسینی،اوپندر ناتھ اشک، احمد ندیم قاسمی اور سہیل عظیم آبادی نے اپنے افسانوں میں اپنے یہاں کے دیہات کو پیش کرنے کی کوشش کی اور اس کی ایک روایت قائم کردی— (یہ بھی پڑھیں پرویز شہریار: منفرد افسانہ نگار – ڈاکٹر سید احمد قادری )
سدرشن نے دیہات کے ساتھ ساتھ شہروں میں رہنے والے متوسط طبقہ کے ہندوؤں کی زندگی کو اپنا موضوع فن بنایا ہے۔ ان کے افسانے سادے اور حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ اعظم کریوی نے اپنے افسانوں میں کسانوں کی حسرتیں، مایوسیاں اور ناکامیاں بڑے موثر ڈھنگ سے پیش کی ہیں۔ علی عباس حسینی نے پریم چند کے اثر سے دیہات کے موضوع کو لے کر مثالیت پسند اور اصلاحی افسانے لکھے۔ لیکن بعد میں قومیت اور عوام کی معاشی بدحالی ان کے افسانوں میں جگہ پانے لگیں۔ انسان دوستی اور زندگی کا رجائی نظریہ ان کے افسانوں کو ترقی پسندی کی طرف لے جاتا ہے۔ ’رفیق تنہائی‘، ’باسی پھول‘، ’میلہ گھومنی‘اور ’آئی سی ایس‘ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔
پریم چند کے نو عمر ہم عصر احمد علی، رشیدجہاں اور اختر حسین رائے پوری کے افسانے بھی حقیقت کے ترجمان ہیں۔ احمد علی نے حقیقت کے اظہار میں نفسیاتی تجزیے سے کام لیا ہے۔ ان کے افسانوں میں دلی کی تہذیب، پرانے آداب اور وضع داریاں نیز پرانے محاورے اور روزمرہ بڑے اہتمام سے بیان ہوتے ہیں۔ ’ہماری گلی‘،’شعلے‘ اور ’قید خانہ‘ا ن کے افسانوی مجموعے ہیں۔ رشید جہاں، زندگی کی مبہم تمناؤں اور جذبوں کی افسانہ نگار ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ:
”گندگی کو چھپانے کے بدلے اسے سب کے سامنے رکھ دینا چاہیے۔ جس سے وہ سماج کی بگڑی ہوئی حالت کو سمجھ لیں اور انقلاب کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔“(۱)
انھوں نے اردو ادب میں پہلی بار عورت کے مسائل اور معاملات کو ایک عورت کی حیثیت سے پوری بے باکی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مگر فنی نقطہ نظر سے ان کے افسانے کمزور ہیں۔ ’نئی بہو کے نئے عیب‘، ’غریبوں کے بھگوان‘ اور ’نئی مصیبتیں‘ ان کے اہم افسانے ہیں۔ اختر حسین رائے پوری ایک comitted ترقی پسند افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے بنگلہ اور ہندی سے متاثر ہوکر بہت سے نئے اور نفیس افسانے لکھے ہیں۔ ان میں ’جسم کی پکار‘، ’مجھے جانے دو‘، ’بیزاری‘ اور ’مرگھٹ‘ ایسے افسانے ہیں جو اپنے عہد کی صداقتوں کے امین ہیں۔
اوپندرناتھ اشک اور اختر انصاری کے افسانوں میں سماجی حقیقت، اصلاح اور مثالیت پسندی کے نقوش موجود ہیں۔ ’کونپل‘، ’قفس‘، ’ڈاچی‘ اور ’چٹان‘ اوپندرناتھ اشک کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔ حقیقت نگاری ان کے افسانوں کی روح ہوتی ہے۔ اختر انصاری نے اپنے افسانوں میں گہرے اورفکر انگیز مسائل بیان کیے ہیں۔ جن میں وحدت تاثر کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ’اندھی دنیا‘، ’خونی‘، ’یہ زندگی‘ اور ’ناری‘ ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔ لیکن ’لو ایک قصہ سنو‘ ان کا منفرد افسانہ مانا جاتا ہے۔
سہیل عظیم آبادی اور اختر اورینوی کے افسانوں میں بہار کی علاقائی تہذیب بالخصوص دیہی اور شہری زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ سہیل نے دیہی سماج کے مسائل پر لکھتے وقت پریم چند کی روایت کو تقویت بخشی ہے۔ لیکن وہاب اشرفی کا خیال ہے کہ ’ایک، الاؤ، کی بنیادپر انھیں پریم چند کا خوشہ چیں کہنا مناسب نہیں ہے۔‘(ترقی پسند ادب، پچاس سالہ سفر ص۔ نمبر 338) اختر اورینوی نے زندگی کی مصوری میں نفسیات سے کام لیا ہے۔ ’کلیاں اور کانٹے‘، ’ایک کاروباری‘ اور ’تاریک سائے‘ ان کے نمائند ہ افسانے ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کے فن پر چیخوف کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسلوب احمد انصاری کے قول کے مطابق—”ان کی کہانیوں میں اس ہندوستان کی تصویر جھلکتی ہے جو کروڑوں جاہل،غریب اور توہم پرست انسانوں کا ملک ہے مگر جن میں ان تمام کمزوریوں اور موانعات کے باوجود ایک توانائی، ایک کس بل، زندگی کی بنیادی اچھائی میں یقین اور بعض تہذیبی قدروں کا عکس ملتا ہے۔“ بیدی اپنے کرداروں کے ذہنی کوائف اور اچھوتے پہلوؤں کی پیشکش میں کمال کی قدرت رکھتے ہیں۔ ’اپنے دکھ مجھے دے دو‘، ’گرہن‘، ’لاجونتی‘،’لمبی لڑکی‘، ’ہڈیاں اور پھول‘ اور ’بھولا‘ ان کے فکر وفن کے اعلیٰ نمونے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں راجندر سنگھ بیدی کے افسانہ ـ’کوارنٹین‘کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر پرویز شہریار)
بلونت سنگھ کے افسانوں کے ذریعے پہلی بار اردو ادب میں سکھوں کی معاشرت کا بھرپور احساس ہوتا ہے۔ ’جگا‘، ’سزا‘، ’پنجاب کا البیلا‘ اور ’بابو مانک لال‘ ان کے اہم افسانے ہیں۔ خدیجہ مستور کے افسانوں کی فضا عموماً سنجیدگی اور افسردگی سے معمور ہوتی ہے۔ جب کہ ان کی بہن ہاجرہ مسرور کے یہاں تبسم، شوخی اور بے باکی بھی ملتی ہے۔ ہاجرہ نے اپنے افسانوں میں اودھ کے متوسط طبقے کی زندگی کے مسائل اور خواتین کے نفسیاتی کوائف اور جنسی رشتوں کی نزاکتوں کو بڑے سلیقے سے بیان کیاہے۔’امت مرحوم‘ اور ’اندھیرے اجالے‘ ان کے یادگار افسانے ہیں۔ پرکاش پنڈت کا ’میراث‘ بامقصد اور طبقاتی استحصال کا پردہ فاش کرنے والے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ہنس راج رہبر نے اپنے افسانوں میں سماج کی بربریت اور معاشی استحصال کو بیان کیا ہے۔ ’نیا افق‘ اور ’ہم لوگ‘ ان کے اہم افسانے ہیں۔ شوکت صدیقی، حیات انسانی کے تاریک اور المیہ پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے بیشتر افسانوں میں ظالم ومظلوم کے درمیان تصادم اور کشمکش کو پیش کیا گیا ہے۔ ’تیسرا آدمی‘، ’غم دل اگر نہ ہوتا‘، ’خدا داد کالونی‘ اور ’نوچندی جمعرات‘ ان کے ممتاز افسانے ہیں۔ ابوالفضل صدیقی کا خاص موضوع برصغیر کا زوال آمادہ جاگیردارانہ معاشرہ ہے۔ ’جب لاٹھی چلی‘ اور ’یزداں بکمند آور‘ جیسے افسانے ان کی فنی تکمیلیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
انقلابی رومانیت کے علمبردار افسانہ نگاروں کے یہاں موجودہ نظام سے جذباتی حد تک بیزاری اور نفرت کا احساس ملتا ہے۔ ان کے یہاں استحصالی قوتوں کویکسر چکنا چور کرکے معاشرے کی تعمیر نو کا رجحان ملتا ہے۔
کرشن چندر جو انقلابی رومانیت کے امام ہیں۔ ان کی کہانیوں میں بقول قمر رئیس:
”زندگی کی المناک تلخیوں کے گرد رومان کا ایک ایسا نورانی ہالہ نظر آتا ہے جو سماجی حقیقتوں کی موثر نقش کاری میں مانع ہوتا ہے۔“(۱)
لیکن آل احمد سرور رقم طراز ہیں کہ
”ان کے یہاں رومان بھی ہے۔ افسانویت بھی، زندگی کی تصویریں بھی، ایک تندرست رجائیت بھی اور ایک دل دوز شعریت بھی اور ان کے جدید افسانوں میں ایک روشن سیاسی تصور کی جھلک بھی ہے۔“(۲)
کرشن چندر کی رومانیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انقلابی فکر سے ہم آہنگ ہوکر ایک زبردست فنی قوت بن کر ابھرتی ہے۔ عوام سے سچی محبت، ان کے مفاد کی حفاظت، انسان کے مستقبل پر اعتماد اور ناانصافی کے خلاف اظہار نفرت اور غم انگیز زندگی سے امرت نکال لانا کرشن چندر کے افسانوں کے نمایاں اوصاف بن گئے۔ ’زندگی کے موڑ پر‘، ’بالکونی‘، ’ان داتا‘، ’مہالکشمی کا پل‘، ’دو فرلانگ لمبی سڑک‘ اور ’گرجن کی ایک شام‘ ان کے ایسے مقبول عام افسانے ہیں جو انقلابی رومانیت کا درک فراہم کرتے ہیں۔ ان میں موجودہ سیاسی اور معاشی نظام سے بیزاری اور ان استحصالی قوتوں کو تہس نہس کردینے کا بے پناہ جذبہ اور ایک نئی دنیا کی تعمیر کی بے کراں آرزو مندی پنہاں ہے۔
احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں بھی موجود ہ نظام سے بیزاری اور اسے تبدیل کرنے کی خواہش موجو د ہے۔ ان کے شروع کے افسانے رومانوی موضوعات کے گرد گھومتے ہیں مگر بعد میں ا نھوں نے ترقی پسند اور سماجی موضوعات پر افسانے لکھے اور آخر میں ان کے افسانوں پر انقلابی رومانیت نے اپنی مہر ثبت کردی۔ ان کے افسانوں میں سماج کے مظلوم اور بے کس عوام کی غم انگیز روح مضمر ہوتی ہے۔ ’چوپال‘، ’بگولے‘، ’گرداب‘، ہیروشیما سے پہلے،ہیروشیما کے بعد‘ اور ’کفن دفن‘ ان کے فن کے اہم مظاہر ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں پرویز شہریارکے افسانوں میں احتجاج- ڈاکٹرنعمان قیصر )
خواجہ احمد عباس کی روش (Approach) صحافیانہ ہے۔ ان کے افسانوں میں تاریخی بصیرت، سیاسی ومعاشرتی شعور اور انقلابی پہلوؤں کے ساتھ ہلکی سی رومان کی آمیزش ہوتی ہے۔ انھوں نے افسانے میں کئی ایک تجربے بھی کیے۔ ’ابابیل‘، ’ایک پائیلی چاول‘، ’سردارجی‘ اور ’زعفران کے پھول‘ ان کے نمائندہ افسانے کہے جا سکتے ہیں۔
دیویندر ستیارتھی کی حقیقت نگاری میں بھی رومانیت کی آمیزش ہے۔ ’ان کے افسانوں سے‘، بقول بیدی ’پتہ چلتا ہے کہ قدر ت کی مثبت طاقت یعنی زندگی ہمیشہ اپنا راگ جاری رکھتی ہے۔‘ ’لال دھرتی‘، ’اگلا پڑاؤ‘، ’قبروں کے بیچو بیچ‘ اور ’نئے دھان سے پہلے‘ ا ن کے فکروفن کی مثالیں ہیں۔ انور عظیم کے افسانوں میں انقلابی رومانیت کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ ان کے افسانے روشن مستقبل کے نقیب معلوم ہوتے ہیں۔ ’قصہ ایک رات کا‘، ’لڑھکتی چٹان‘، ’اونگھی ڈیوڑھی جاگتے کھیت‘، ’درد کا کوئی ساحل نہیں ہے‘ اور ’سات منزلہ بھوت‘ ان کے فن کے اہم نمونے ہیں۔ سید انور کے افسانے بھی انقلابی رومانیت کے مظہر ہیں۔ ان کے افسانوں میں سماجی رشتوں کو مختلف زاویہ نگاہ سے پیش کرنے کا فن ملتا ہے۔ ان کے افسانے حسین اور پرامن مستقبل کی آرزومندی کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ ’آگ کی آغوش میں‘ اور ’منزل کی طرف‘ ان کے افسانوں کے یادگار مجموعے ہیں۔اے- حمید کے یہاں کرشن چندر کے افسانوں جیسی رومانیت اورفطری مناظر کا بیان ملتا ہے لیکن کرشن کے افسانوں کی سی گہرائی اور اثرپذیری نہیں ہے۔ ان کے افسانے ماضی کی یادوں کے سہارے چلتے ہیں۔ ’خزاں کا گیت‘ ان کا اہم نمونہ فن ہے۔ مہندر ناتھ نے شہروں میں رہنے والے متوسط طبقے کے لوگوں کے جنسی اور معاشی مسائل کو اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔ ’جہاں میں رہتا ہوں‘، ’آدمی اور سکے‘ اور ’چاندی کے تار‘ ان کے قابل ذکر افسانے ہیں۔ ابراہیم جلیس کے یہاں مظلوم اور مفلوک الحال انسانوں سے ہمدردی ملتی ہے۔ ان کے افسانوں میں موجودجذباتیت بھی اثر سے خالی نہیں ہوتی ہے۔ ’زردچہرے‘، ’چراغوں کا سفر‘ ’چالیس کروڑ بھکاری‘ ان کے اہم افسانے ہیں۔
اردو افسانہ میں حقیقت نگاری کا تیسرا اہم رجحان نفسیاتی گرہ کشائی کا بے باکانہ تجزیہ اور جنسی مسائل کو قدرے کھول کر بیان کرنے سے عبارت ہے۔ سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، عزیز احمد، غلام عباس اور خدیجہ مستور اسی نوع کی حقیقت نگاری کے لیے اپنے قارئین کے حلقوں میں مشہور ومقبول رہے ہیں۔
سعادت حسن منٹو کو بے باک حقیقت نگاری میں اجتہادی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے زندگی کی بدہیئت اور کریہہ صداقتوں اور عورت مرد کے جنسی رشتوں یا نفسیاتی پیچیدگیوں کو اپنا موضوع اظہار بنایا ہے۔ وہ انسانی زندگی کے ان پہلوؤں کو پوری عصری صداقتوں کے ساتھ ان کے اصل تناظر میں جوں کا توں پیش کردینے کی غیر معمولی قدرت رکھتے ہیں۔ عموماً واقعات کو پیش کرتے وقت ان کا نجی نقطہ نظر بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ سماج کے معذور اور مظلوم افراد مثلاً طوائف وغیرہ سے انتہائی درجہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ احتشام حسین لکھتے ہیں:
”ایک ہی موضوع پر اتنے انوکھے انداز میں بہت سی کہانیاں لکھ ڈالنا منٹو کا ہی کام ہے۔ عیش وعشرت میں سرمست جوان لڑکوں اور لڑکیوں، طوائفوں اور سماج کے گرے ہوئے لوگوں کی تصویر کشی منٹو سے بہتر اب تک اردو کا کوئی فنکار نہیں کرسکا ہے۔“(۱)
اس کے علاوہ قمر رئیس نے اس بات کی تاویل یوں پیش کی ہے کہ
”دراصل….. چونکا دینے والے تحیر زا واقعات ان کی کہانی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور اس لیے عام یا معمولی انسانوں سے زیادہ منٹو کی کہانیوں میں ایسے غیر معمولی انسان ہی جگہ پاتے ہیں جو اعصابی یا ذہنی طور پرAbnormal ہوتے ہیں۔ ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘،’ٹھنڈا گوشت‘، ’نیا قانون‘، ’کھول دو‘، ’کالی شلوار‘ اور ’بابو گوپی ناتھ‘ ایسے افسانے ہیں جو فنی اور موضوعی اعتبار سے منٹو کے نمائندہ افسانے کہے جاسکتے ہیں کیوں کہ یہ ا فسانے بے باکانہ حقیقت نگاری اور فنی ضبط وتوازن کی بہترین مثالیں ہیں۔
عصمت چغتائی نے پہلی بار عورت کے مسائل کو احساس کی شدت کے ساتھ عورت ہی کے زاویہ نگاہ سے پیش کیا ہے۔ انھوں نے متوسط طبقہ کی پردہ نشین مسلم خواتین کی اس تہذیبی اور گھریلو زندگی کے بعض موانعات کو اپنا موضوع بنایا ہے جس میں عورت کی شخصیت کا خمیر تیا ر ہوتا ہے۔ عنفوان شباب کے منازل سے گزرتی ہوئی لڑکیوں کے نفسیاتی پیچ وخم اور جنسی پیچیدگیوں کی ماہرانہ واقفیت کو انھوں نے پوری بے باکی کے ساتھ فن کا اعتبار بخشا ہے۔ بقول احتشام حسین:
”عورتوں کی بول چال، ان کا رہن سہن، ان کی خواہشوں اور تمناؤں کی عکاسی عصمت سے اچھا کوئی نہیں کرسکتا۔“(۱)
منٹو کی طرح عصمت چغتائی کے افسانے پر بھی سفاکانہ حقیقت نگاری کی وجہ سے فحاشی کے فتوے لگائے گئے تاہم فنکارانہ خلوص، رشتوں کا احترام، حقیقت کے اظہار کی جرأت اور انسان دوستی کے جذبے ان پر غالب رہے ہیں۔ ’ڈائن‘، ’گیندا‘، ’لحاف‘ اور ’چوتھی کا جوڑا‘ ان کے اہم نمائندہ افسانے ہیں۔
عزیز احمد کے افسانوں کی شناخت ان کی تکنیک اور اسلوب کے انوکھے پن سے ہوتی ہے۔ انھوں نے جنسی خواہشات اور تمناؤں کو پیچیدہ ذہنی کوائف اور مخلوط باطنی تجربات کے تجزیے کے ذریعے پیش کیا ہے۔ وہ حقیقت کے اظہار میں بے باک ہیں لیکن فحاشی سے صاف دامن بچالے جاتے ہیں۔ ’مدن سینا اور صدیاں‘ اور ’تصور شیخ‘ ان کے یادگار افسانے ہیں۔
عزیز احمد کی طرح غلام عباس نے بھی بہت کم افسانے لکھے ہیں۔ لیکن فن کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ انھوں نے ماحول کی پیش کش اس انداز سے کی ہے کہ اس سے زندگی کے مسائل خود بخود منظر عام پر آجاتے ہیں۔ ’آنندی‘ نہ صرف ان کا بلکہ اردو کے بہترین افسانوں میں سے ایک ہے۔ ’جاڑوں کی چاندنی‘ اور ’دھنک‘ ان کے عبرتناک افسانے ہیں۔
خدیجہ مستور، عصمت چغتائی سے متاثر ہیں، لیکن انھوں نے متوسط اور ادنی طبقے کی عورتوں کے مسائل اور ان کی گھریلو زندگی کی الجھنوں کو اس طرح گہری سنجیدگی اور متوازن انداز سے بیان کیا ہے کہ ان کی اپنی علاحدہ شناخت بن چکی ہے۔ وہ انسان، سماج اور نظام سب کی ناہمواریوں پر بے باکی سے طنز کے وار کرتی ہیں۔ ’مینولے چلا بابلا‘، ’مکھی‘ اور ’لالہ صحرائی‘ ان کے ناقابل فراموش افسانے ہیں۔
اس کے بعد ساتویں اور آٹھویں دہائیوں میں افسانہ نگاروں کی جونئی نسل سامنے آئی، ان میں سے بیشتر افسانہ نگاروں نے آزادی کے بعد سے لکھنا شروع کردیا تھا، لیکن ان کی شناخت ان ہی دہائیوں میں بنتی ہے۔ اس دور کے ا فسانہ نگاروں کے یہاں حقیقت نگاری کے تینوں اہم رجحانات،مختلف انداز میں، دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن جہاں تک موضوعات کا سوال ہے۔ اس نسل کے ا فسانہ نگار، ترقی پسند افسانے کے روایتی موضوعات سے دانستہ طور پر گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس نئی پود کے سامنے نئے حالات نے، نئے نئے مسائل لا کھڑے کیے تھے۔ ان نئے مسائل کے بیان سے ان کے افسانوں میں موضوعات بھی نئے نئے آئے اور ان میں ہیئت کے نئے تجربے بھی کثرت سے ہوئے۔ اس دور کے افسانوں میں پلاٹ، کردار، مناظر، جزئیات، زبان کی تراش خراش اور ماجرا بندی کے بجائے تجرید، علامت اور استعارے کی طرف عام میلان نظر آتا ہے۔ افسانے میں، انفرادی مسائل پر زور سے، خودکلامی اور خطابت کا رنگ غالب ہوگیا۔ پھر بھی اس نسل نے حقیقت نگاری کی نفی نہیں کی بلکہ انقلاب زمانہ کے ساتھ حقیقت کی پیشکش کا انداز بھی یکسر بدل گیا۔ عصری آگہی اور زندگی کی بصیرت کی ایک نئی سطح سامنے آئی۔ جسے بقول پروفیسر صادق— ”ترقی پسند روایت کی تنسیخ کی بجائے توسیع ہی کا نام دیا جائے گا۔“ پانچویں سے ساتویں دہائی تک نام پیدا کرنے والے نئی نسل کے افسانہ نگاروں میں قرۃ العین حیدر، قاضی عبدالستارک، جوگند رپال، جیلانی بانو، رام لعل، غیاث احمد گدی، ا قبال متین، کلام حیدری، شکیلہ اختر، بلراج مینرا، سریند پرکاش، عابد سہیل، رشید امجد، اقبال مجید اور احمد یوسف کے نام اہم ہیں اور اسی طرح آٹھویں دہائی کے افسانہ نگاروں میں سلام بن رزاق، انور خان، شوکت حیات، ساجد رشید، حسین الحق، کنور سین، ابن کنول اور عبدالصمد کے نام لیے جا سکتے ہیں جنھوں نے کسی نہ کسی سطح پر ترقی پسندی کی زندہ وتابندہ روایت سے خود کو الگ نہیں کیا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ اس دور کے افسانے میں اب نہ وہ دلچسپی باقی رہی اور نہ ہی انھیں وہ مقبولیت مل سکی جو ترقی پسند تحریک کے عروج کے زمانے میں افسانے کو حاصل تھی۔ اس کی وجہ افسانے کا زوال قطعی نہیں ہے بلکہ اردو تہذیب جس عبوری دور سے گزر رہی ہے اس میں ادب کے جملہ اصناف متاثر ہوئے ہیں۔
پھر بھی مسرت زا حیرت ہوتی ہے کہ صرف نصف صدی کے عرصے میں اردو افسانے نے اس بلندی کو چھولیا تھا، جہاں اسے عالمی افسانے کی ہمسری حاصل ہوجاتی ہے۔ اس مختصر مدت میں تر قی پسند افسانے کو جو فروغ اور مقبولیت حاصل ہوئی، وہ اردو کی کسی نثری صنف میں کم نظر آتی ہے۔ اس پر آشوب دور میں ہندوستانی سماج اور تہذیب کا کارواں جن پر پیچ راہوں سے گزرا، اس کا ایک اک نقش ترقی پسند افسانے نے ا پنے دامن میں محفوظ کرلیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دور کے افسانوں سے زندگی کے اعلیٰ مقاصد کی حصولیابی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے تبلیغ کا کام لیا گیا۔ عوام کو اس کے ذریعے انسانیت امن اور آزادی کی دعوت دی گئی۔ ان کے عقل وشعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی۔ ذات پات کی تفریق اور رنگ ونسل کے تعصبات سے مبرا ایک غیر طبقاتی نظام کے خواب سنجوئے گئے۔ رجائیت اور روشن مستقبل کی طرف اشارے اور رہنمائی کی گئی۔ مظلوم اور مفلوک کی حمایت کی گئی۔ جنسی استحصال مٹانے کی غرض سے عورت کو کارزار حیات میں برابر کا شریک بنایاگیا۔ جس سے عشق کا نیا تصور سامنے آیا جو مادی ہوتے ہوئے بھی خالص انسانی اور غیر طبقاتی تھا۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی مسائل کے بھی حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئیں۔ (یہ بھی پڑھیں ناقدین کے عجائب خانوں کاقیدی:میراجی- پروفیسر ابوبکرعباد)
فن اور تکنیک کے لحاظ سے بھی افسانے میں نو بہ نو تجربے ہوئے اور اس صنف کے تمام امکانات کو بروئے کار لانے کی سعی کی گئی۔ اس تحریک کے افسانہ نگاروں نے ایک نوع کے راست بیانیہ اسلوب کو فروغ دیا۔ جس سے افسانوی زبان کا ایک مخصوص مزاج تیار ہوگیا جو، ہر طرح سے شاعری کی زبان سے اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔عام طور سے کہاجاتا ہے کہ ’ادب اپنے دور کا تہذیبی دستاویز ہوتا ہے۔‘ یوں دیکھیں تو ترقی پسند اردو افسانوں کو بھی، برصغیر کی، ایک ایسی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے جس میں انسانی تاریخ کے جملہ احوال مرقوم ومحفوظ ہوگئے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت عمدہ مضمون ہے