لسانی تاریخ نویسی اور محمود خاں شیرانی (’پنجاب میں اردو‘کے حوالے سے) – پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ

by adbimiras
5 comments

جس طرح تہذیبیں کروٹیں بدلتی ہیں اسی طرح زبانیں بھی تبدیلی کے عمل سے گذرتی ہیں۔ ہر زندہ زبان میں عہد بہ عہد مختلف النوع لسانی تبدیلیاں رو نما ہوتی رہتی ہیں جن کے زیرِ اثر زبان کی ہیئت مسلسل بدلتی رہتی ہے، اور رفتہ رفتہ اس کا ڈھانچا اور کینڈا اس حد تک تبدیل ہوجاتا ہے کہ ایک دوسری زبان کی نمایاں شکل نمودار ہوجاتی ہے جسے ہم ’نئی زبان‘ یا ’جدید زبان‘ سے تعبیر کرتے ہیں، اور جس کی سلسلہ وار تاریخ کو ’لسانی تاریخ‘ کا نام دیتے ہیں۔

لسانی تاریخ نویسی کے اب تک کوئی اصول مرتب نہیں کیے گئے ہیں۔ مسعود حسین خاں  (1919-2010)نے اردو زبان کی تاریخ ضرور لکھی، لیکن لسانی تاریخ نویسی کے اصول مرتب نہیں کیے۔ یہی حال دوسرے عالموں کا بھی ہے۔ شوکت سبزواری (1908-1973) نے بھی اردو زبان کی تاریخ مرتب کی، لیکن تاریخ مرتب کرنے کے اصول مرتب نہیں کیے۔ گیان چند جین (1923-2007)اورعبدالستار دلوی نے ہر چند کہ اردو زبان کی تاریخ پر باضابطہ طور پر کوئی کتاب نہیں لکھی، لیکن لسانیاتی موضوعات پر مضامین و مقالات ضرور قلم بند کیے، مگر انھیں بھی لسانی تاریخ نویسی کے اصول مرتب کرنے کا خیال نہیں آیا۔ سید محی الدین قادری زور (1904-1962)نے مغرب کی دانش گاہوں میں لسانیات کی اعلیٰ تربیت حاصل کی تھی، اور انگریزی اور اردو میں اس موضوع پر ان کی دو کتابیں بھی یادگار ہیں، لیکن انھوں نے لسانی تاریخ نویسی کے  اصول مرتب کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ حافظ محمود خاں شیرانی (1880-1946)نے جب ’پنجاب میں اردو‘(1928)تصنیف کی اس وقت ان کے پیشِ نظر لسانی تاریخ نویسی کے اصول نہ تھے،اور انھوں نے بھی وضع نہیں کیے، اسی لیے ان کی یہ کتاب تاریخ نویسی کے اصولوں کے لحاظ سے مکمل کتاب نہیں ہے۔

راقم السطور کی رائے میں کسی زبان کی لسانی تاریخ موٹے طور پر چار اصولوں پر کا ر بند ہوتی ہے جو درجِ ذیل ہیں:

1-      متعلقہ زبان کے لسانی خاندان یا خاندانِ السنہ (Language Family)کا تعین، یعنی اس امر کا تعین کہ نسبی اعتبار سے (Geneologically)اس زبان کا تعلق کس لسانی خاندان سے ہے اور اس خاندان کا پس منظر کیا ہے۔

2-      اس زبان کی ابتدا یا پیدائش کے نظریے کی تشکیل، یعنی اس بات کا تعین کہ متعلقہ زبان کب، کہاں اور کیسے پیدا ہوئی؟

3-      اس زبان کے عہد بہ عہد ارتقا کا جائزہ اور اس کے مختلف ادوار —قدیم، وسطی اور جدید دور کاتعین۔

4-      زبان کے دستیاب شدہ نمونوں اور مواد کاجائز اور ہر دور میں زبان کی ہیئت و ساخت میں تبدیلی کے عمل کا مطالعہ— صوتی، صرفی، نحوی، قواعدی اور معنیاتی تبدیلیاں۔

اس امر کا ذکر بیجا نہ ہوگا کہ لسانی تاریخ نویسی کے لیے لسانیات (Linguistics) بالخصوص تاریخی و تقابلی لسانیات (Historical and Comparative Linguistics)سے کما حقہ واقفیت ضروری ہے، تبھی ایک لسانی مؤرخ لسانی تاریخ نویسی کے اصولوں پر کاربند رہ سکتا ہے۔ شومیِ قسمت کہ اردو کے جن عالموں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، ان میں سے بیشتر لسانیات (جو ایک جدید علم ہے) کی واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ حافظ محمود خاں شیرانی کا شمار انہی اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ بیشک وہ ایک اعلیٰ پایے کے ماہرِ السنہ(Philologist) کہے جاسکتے ہیں، لیکنِ ماہر لسانیات (Linguist)نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں جمالیات کیا ہے؟ – شازیہ بتول)

اردو زبان کی مربوط و مدلل اور مکمل تاریخ جس میں لسانی تاریخ نویسی کے تمام اصولوں کی پابندی کی گئی ہو اور جو تحقیق کے تقاضوں کو بھی بدرجۂ اتم پوری کرتی ہو، بہت کم لکھی گئی ہے۔

یہاں اس امر کا ذکر بیجا نہ ہوگا کہ اردو کی بعض قدیم کتابوں میں اور اکثر عصری تحریروں میں بھی اردو کی ابتدا اور ارتقا سے متعلق کچھ ’’منتشر‘‘ خیالات اور’ ’سطحی‘‘ باتیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں، مثلاً اردو کو کھچڑی زبان بتایا گیا۔ اردو کے بارے میں کہا گیا کہ یہ برج بھاشا سے نکلی ہے۔ اردو کی جائے پیدائش صوبۂ سندھ بتائی گئی، اور یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اردو دکن میں پیدا ہوئی۔ اردو کی ابتدا کو پالی اور پراکرت سے بھی جوڑاگیا۔ اردو کو لشکری زبان کہنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ساری باتیں ہمارے اکابرین کی قیاس آرائیوں کا نتیجہ تھیں جن کی زمانۂ مابعد میں تردید کی گئی، لیکن جب حافظ محمود خاں شیرانی نے اردو کی ابتدا کو اپنی کتاب ’پنجاب میں  اردو‘  (1928)میں پنجاب سے منسوب کیا تو بعض لوگوں کو اس میں کچھ سچائی نظر آئی۔ لیکن اس کے بیس سال بعد مسعود حسین خاں نے، جو ایک ماہرِ لسانیات تھے، ’مقدمۂ تایخِ زبانِ اردو‘(1948) لکھ کر شیرانی کے اس نقطۂ نظر کو کہ اردو پنجا ب میں پیدا ہوئی، تمام و کمال خارج کردیا۔(1)

’پنجاب میں اردو‘ ایک تحقیقی تصنیف ہے جو بنیادی طور پر اس لسانی نظریے کی تائید میں لکھی گئی ہے کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی ۔ یہ اصلاً محمود خاں شیرانی کا نظریہ نہیں، بلکہ ان سے قبل شیرعلی خاں سرخوش اس نظریے کو اپنے تذکرے ’اعجازِ سخن‘ (1923)میں پیش کرچکے تھے۔چونکہ شیرانی نے اپنی متذکرہ کتاب میں اس نظریے کو تاریخی و لسانی استدلال کے ساتھ نہایت تحقیقی انداز سے پیش کیا ہے، اس لیے اہلِ علم کی اکثریت اسے انہی کا نظریہ سمجھتی ہے۔ شیرانی نے اس کتاب کے ’’انتساب‘‘ ہی میں یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ کتاب ’’از اول تا آخر پنجاب اور اردو کے باہمی تعلقات کے تذکروں سے لبریز ہے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے صاف طور پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’اردو اورپنجابی زبانوں کی ولادت گاہ ایک ہی مقام ہے۔ دونوں نے ایک ہی جگہ تربیت پائی ہے اور جب سیانی ہوگئی ہیں تب ان میں جدائی واقع ہوئی ہے۔‘‘(2)

شیرانی یہ بھی لکھتے ہیں:

’’اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں، بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے اور چونکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کرکے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے کر گئے ہوں؟‘‘(3)

شیرانی نے مسلمانوں کے پنجاب سے ہجرت کرکے دہلی جانے کے سلسلے میں بغیر کسی ثبوت کے محض قیاس آرائی سے کام لیا ہے۔ وہ خود بھی اس امر کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’اس نظریے کے ثبوت میں اگرچہ ہمارے پاس کوئی قدیم شہادت یا سند نہیں۔‘‘(4)

اس قیاسی تاریخی استدلال کے علاوہ محمود شیرانی نے لسانی شہادتیں بھی پیش کی ہیں، اور کہا ہے کہ ’’پنجابی اور اردو اپنی صرف و نحو میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں‘‘(5)،لیکن مسعود حسین خاں جیسے محتاط محقق اور ماہرِ لسانیات کو اس بات سے اتفاق نہیں۔ انھوں نے اردو کے پنجاب میں پیدا ہونے کے محمود خاں شیرانی کے نظریے کی اپنی کتاب ’مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو‘ (1948) میں تردید تو کی ہی ہے، شیرانی کی اس دلیل کو بھی خارج کردیا ہے کہ اردو اور پنجابی زبانیں لسانی اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔ مسعود حسین خاں نے اپنے ایک مضمون ’’اردو زبان کی ابتدا اور ارتقاکا مسئلہ‘‘ میں ان لسانی اختلافات کی نشاندہی کی ہے جو پنجابی اور جدید و قدیم اردو میں پائے جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اردو اور پنجابی کے اختلافات کے صرف چند نمونے دیے گئے ہیں ورنہ صوتیاتی اور صرفی و نحوی سطحات پر دونوں زبانوں کے اختلافات اس قدر واضح  ہیں کہ دونوں زبانوں کو ایک دوسرے سے مشتق بتانا صریح طور پر غلط ہے۔‘‘(6)

محمود خاں شیرانی کی متذکرہ کتاب لسانی تاریخ نویسی کے ان چار اصولوں پر پوری نہیں اترتی جن کا ذکر گذشتہ سطور میں کیا گیا ہے۔ شیرانی نے اردو کے ہند آریائی پس منظر سے پورے طور پر صرفِ نظر کیا ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا ہے کہ اردو ایک ہند آریائی زبان ہے یا اس کا تعلق ہند آریائی خاندانِ السنہ سے ہے۔ شیرانی کی لسانی تحقیق کا سب سے کمزور پہلو یہی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب کے ’’مقدمہ‘‘ میں صرف ایک  مقام پر ’’مغربی ہندی‘‘ کا ذکر کیا جسے  ’’قدیم پراکرت سوراسینی [شور سینی]کی یادگار‘‘ بتایا ہے، لیکن مغربی ہندی میں انھوں نے ’’برج بھاشا‘‘، ’’ہریانی‘‘ (=ہریانوی) اور ’’اردو‘‘ کے ساتھ ’’راجستھانی‘‘ اور ’’پنجابی‘‘ کو بھی شامل کرلیا ہے جو ہرگزصحیح نہیں ہے۔ مغربی ہندی کی پانچ بولیاں کھڑی بولی (یعنی اردو اور ہندی)، ہریانوی، برج بھاشا، بندیلی اور قنوجی ہیں جن میں نہ راجستھانی شامل ہے اور نہ پنجابی۔ پنجابی مغربی ہندی سے باہر کی زبان ہے۔ اسے مغربی ہندی کی ’’شاخ‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔ جارج گریرسن نے جدید ہند آریائی زبانوں کو ان کی خصوصیات کی بنیاد پر اندرونی اور بیرونی زبانوں میں تقسیم کیا ہے۔ مغربی ہندی، پنجابی اور راجستھانی کا شمار اندرونی زبانوں میں ہوتا ہے۔ جس طرح اردو (= کھڑی بولی)، مغربی ہندی کی شاخ ہونے کی وجہ سے راجستھانی سے مختلف ہے اسی طرح اردو پنجابی سے بھی مختلف زبان ہے۔  دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کھڑی بولی (یعنی اردو) اور ہریانوی میں جو لسانی قربت ہے وہ اردو اور پنجابی میں نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اردو (=کھڑی بولی) اور ہریانوی مغربی ہندی کی دو ملتی جلتی شاخیں ہیں۔ خود شیرانی نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ’’اس میں [ہریانوی میں] اور اردو میں بہت کم فرق ہے۔(7)(یہ بھی پڑھیں تحقیقی خاکہ نگاری – نثار علی بھٹی

شیرانی نے اردو کا تقابل پنجابی سے کرنے کے علاوہ ملتانی سے بھی کیا ہے جسے لہندا بھی کہتے ہیں۔ سندھی کی طرح ملتانی (لہندا) کا تعلق بھی شمال مغربی اپ بھرنش سے ہے، جب کہ پنجابی(جسے مشرقی پنجابی بھی کہتے ہیں)، مغربی ہندی اور راجستھانی کی طرح شورسینی اپ بھرنش سے پیدا ہوئی ہے۔ مشرقی پنجابی کو لاہوری بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ لاہور اور اس کے نواحی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ یہی پنجابی ہندوستانی صوبے پنجاب کی بھی زبان ہے۔ شمال مغربی اپ بھرنش دو زمروں میں منقسم ہے:  1)  بڑاچڈ اپ بھرنش، اور 2)  کیکیئی اپ بھرنش۔ بڑاچڈ اپ بھرنش کا ارتقا سندھ کے علاقے میں ہوا اور اس سے سندھی زبان پیدا ہوئی۔ کیکیئی اپ بھرنش سے مغربی پنجابی پیدا ہوئی جسے لہندا کہتے ہیں۔ ملتانی بھی اسی کا نام ہے۔ سندھی اور لہندا یا ملتانی میں گہرا لسانیاتی رشتہ پایا جاتا ہے۔ شیرانی مغربی پنجابی اور مشرقی پنجابی کے درمیان فرق کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ انھوں نے اس تقسیم کو ’’ناجائز‘‘ بتایا ہے۔(8) چنانچہ یہ بات بلا تامل کہی جاسکتی ہے کہ شیرانی، ہرچند کہ ایک جید عالم تھے، لیکن ہند آریائی لسانیات بالخصوص جدید ہند آریائی زبانوں کے ارتقا سے متعلق ان کا علم ’’محدود‘‘ تھا۔

لسانیاتی تاریخ نویسی کا دوسرا اصول متعلقہ زبان کے آغاز و  ارتقا کے نظریے کی تشکیل ہے۔ شیرانی نے بہ حیثیتِ لسانی مؤرخ اردو کے آغاز و ارتقا کا جو نظریہ پیش کیا ہے اس کی رو سے اردو عہد ِ غزنوی میں پنجاب میں پیدا ہوتی ہے، پھر ایک سو ستر سال بعد غوریوں کے عہد میں لاہور سے دہلی ہجرت کرجاتی ہے، پھر وہاں سے گجرات اور دکن کا رخ کرتی ہے۔ اس سلسلے میں شیرانی نے پنجابی اور قدیم اردو (دکنی اردو) کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے اور ان دونوں زبانوں کے درمیان لسانی اشتراک اور قربت کی وجہ سے اردو کے پنجاب میں پیدا ہونے کا نظریہ تشکیل دیا ہے۔ لیکن انھوں نے تقابلی مطالعہ ان دونوں زبانوں کے درمیان صرف چند مماثلتوں ہی کو مدِ نظر رکھ کر کیا ہے، اور اختلافات کو وہ تمام و کمال نظر انداز کرگئے ہیں۔ ایک محقق کی حیثیت سے انھیں ان دونوں زبانوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات پر بھی نظر رکھنی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے ان کی یہ تحقیق عدم توازن اور نا ہمواری (Lopsidedness)کا شکار ہوکر رہ گئی۔چنانچہ مسعود حسین خاں کو یہ کہنا پڑا کہ ’’پنجابی اور اردو میں بعض  ایسے اہم ختلافات تا حال موجود ہیں جن کی بنیاد پر اردو کا پنجابی سے ماخوذ ہونا کسی طرح تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔‘‘(9)

اردو کے آغاز و ارتقا کی نظریہ سازی کرتے وقت شیرانی جیسے بالغ نظر محقق سے ایک سہو یہ بھی ہوا کہ انھوں نے پنجابی کو اہمیت دینے کے پیشِ نظر کھڑی بولی اور ہریانوی کو یکسر نظر ا نداز کردیا۔ یہ دونوں مغربی ہندی کی ’الف‘ پر ختم ہونے والی بولیاں ہیں،  اور ان کا ارتقا 1000سنہِ عیسوی کے بعد دہلی و نواحِ دہلی میں شورسینی اپ بھرنش سے ہوا ہے۔ ان بولیوں کے ارتقا کا زمانہ وہی ہے جو پنجابی کے ارتقا کا ہے۔ جس زمانے میں پنجاب میں شورسینی اپ بھرنش سے پنجابی ارتقا پارہی تھی تقریباً اسی زمانے میں دہلی و نواحِ دہلی میں کھڑی بولی، ہریانوی اور بعض دوسری بولیاں بھی نموپذیر ہورہی تھیں۔ ہریانوی ہریانہ کے علاوہ دہلی کے شمال مغرب کی بھی بولی ہے۔ اسی طرح کھڑی بولی مغربی اترپردیش(یو پی) کے علاوہ شمال مشرقی دہلی میں بھی بولی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ دہلی کے جنوب میں ذرا دوری پر مغربی ہندی کی ایک اور بولی برج بھاشا مل جاتی ہے۔ اسی طرح دہلی کے جنوب مغرب میں راجستھانی کی بولی میواتی کا چلن پایا جاتا ہے۔ یہ چاروں بولیاں نواحِ د ہلی کی بولیاں ہیں اور دہلی ان کا سنگم ہے۔ اردو کے آغاز و ارتقا میں ان بولیوں کا اہم کردار رہا ہے۔ بقولِ مسعود حسین خاں ’’نواحِ دہلی کی بولیاں اردو کا اصل منبع اور سرچشمہ ہیں، اور حضرتِ دہلی اس کا حقیقی مولد و منشا۔‘‘(10)

آغازِ اردو کے نظریے کی تشکیل میں امیر خسرو کی لسانی شہادت سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ امیر خسرو نے اپنی فارسی مثنوی ’’نہ سپہر‘‘ (1318)میں ہندوستان میں اپنے عہد میں بولی جانے والی بارہ زبانوں کا سلسلہ وار ذکر کیا ہے جن میں بارھویں زبان ’’دہلی و پیرامنش‘‘ ہے جس سے مراد دہلی و نواحِ دہلی میں رائج بولیاں ہیں۔ خسرو نے ان بولیوں کے نا م نہیں گنائے ہیں، لیکن یہ وہی بولیاں ہیں جن کا ذکر ا وپر آچکا ہے، یعنی کھڑی بولی، ہریانوی، برج بھاشا اور میواتی۔ یہ بولیاں مسلمانوں کے داخلۂ دہلی (1193)سے قبل ارتقا پاچکی تھیں۔ جب ان نو وارد مسلمانوں نے دہلی کو اپنا مستقر بنایا تو انہی بولیوں کی بنیاد پر دہلی میں ایک نیا محاورہ وجود میں آیا جسے انہی مسلمانوں نے اسے ’’ہندوی‘‘ اور ’’ہندی‘‘ کا نام دیا۔ یہ نیا محاورہ بنیادی طور پر کھڑی بولی کا تھا، لیکن اس پر نواحِ دہلی کی دوسری بولی ہریانوی کے بھی گہرے اثرات پڑے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں ممتن، معنی اور نقد  بنیادی مسائل و مباحث – ڈاکٹر شاکر علی صدیقی )

امیرخسرو کی ’’دہلی و پیرا منش‘‘ کی شناخت کے باوصف، شیرانی کا یہ کہنا کہ ’’یہ تحقیق معلوم نہیں کہ جب مسلمان دہلی میں آباد ہوئے اس وقت علاقہ میں کیا زبان بولی جاتی تھی‘‘،(11)باعثِ حیرت و استعجاب ہے۔ شیرانی نے یا تو مثنوی ’’نہ سپہر‘‘ دیکھی ہی نہیں، اور اگر دیکھی ہے تو خسرو کے متذکرہ لسانی بیان سے صرفِ نظر کیا ہے۔ آگے چل کر شیرانی پھر وہی سوال دہراتے ہیں: ’’اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ دہلی میں مسلمانوں کی آمد کے وقت کون سی زبان بولی جاتی تھی؟‘‘ وہ قیاس کی بنیاد پر خودہی کہتے ہیں: ’’یا وہ راجستھانی ہوگی یا برج!‘‘ (12)انتہائی حیرت کی بات ہے کہ شیرانی نے برج بھاشا کو تین صدی قبل دو آبۂ گنگ و جمن میں رائج زبان بتایا ہے۔ اس سے بڑھ کر بے سر و پا بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اس میں شک نہیں کہ آج دہلی، میرٹھ، مظفر نگر، سہارنپور یا دوسرے الفاظ میں یوں کہنا چاہیے کہ دو آبہ میں اردو بولی جاتی ہے، لیکن اب سے تین صدی پیشتر اس علاقہ کی یہ زبان نہ تھی بلکہ یہاں برج کا طوطی بول رہا تھا۔‘‘(13)

شیرانی کی یہ بھی دلیل ہے کہ جب اردو مسلمانوں کے ساتھ پنجاب سے دہلی آئی تو اس نے ’’ان علاقوں سے رفتہ رفتہ برج کو خارج کردیا ہے۔‘‘(14)شیرانی کے ان مفروضات کو بھلا کون تسلیم کرے گا۔ اس سے پہلے وہ یہ بھی کہہ چکے تھے کہ ’’راقم کی رائے میں ہریانوی کوئی علیٰحدہ زبان کہلانے کی مستحق نہیں ہے۔‘‘(15)نواحِ دہلی کی بولیوں کے وجود سے انکار کے بعد شیرانی کے لیے یہ ثابت کرنا آسان ہوگیا کہ ’’اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں، بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے،‘‘ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

جب امیر خسرو نے اپنی مثنوی ’’نہ سپہر‘‘ میں ’’لاہوری‘‘ (پنجابی) اور ’’دہلی‘‘ (نواحِ دہلی کی بولیاں) کی شناخت علیٰحدہ طور پر قائم کردی تو شیرانی یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی۔ خسرو کی شہادت کے مطابق اردو دہلی میں، د ہلی و نواحِ دہلی کی بولیوں کے خمیر سے پیدا ہوئی، اور پنجابی جسے خسرو نے ’’لاہوری‘‘ کہا ہے، وہ پنجاب میں پیدا ہوئی۔ اگر اردو پنجاب میں پیدا ہوئی ہے (جیسا کہ محمود شیرانی کی دلیل ہے)، تو پنجاب کے لوگ آج اپنی مادری زبان کے طور پر اردو کیوں نہیں بولتے؟

حقیقتِ حال یہ ہے کہ شیرانی قدیم اردو یا دکنی اردو کی جن لسانیاتی خصوصیات کو پنجابی زبان سے منسوب کرتے ہیں وہ تمام خصوصیات ہریانوی اور کھڑی بولی میں بھی پائی جاتی ہیں، اور یہ دونوں دہلی و نواحِ دہلی کی بولیاں ہیں۔ اس بات کا واضح اشارہ خسرو کی فارسی مثنوی ’’ نہ سپہر‘‘ میں موجود ہے۔ ا ردو کا ڈھانچا انہی بولیوں سے مل کر تیار ہوا ہے۔ ابتدا میں اردو جب سیال حالت میں تھی تو ہریانوی کے اثرات اس پر زیادہ نمایاں تھے۔ چونکہ جغرافیائی اعتبار سے ہریانہ (جہاں کی بولی ہریانوی ہے) بہ جانبِ مغرب پنجاب سے متصل ہے، اس لیے دکنی اردو پر ہریانوی کے اثرات کو شیرانی پنجابی کے اثرات سمجھ بیٹھے۔ مسعودحسین خاں نے دکنی اردو پر ان اثرات کو ہریانوی سے منسوب کیا ہے جو دہلی کے شمال مغرب کی ایک بولی ہے۔ ہریانہ کی حد بھی یہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔ شیرانی نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ قدیم اردو ہریانوی سے قریب ہے، پھر بھی وہ دکنی اردو پر ہریانوی کے اثرات کے منکر ہیں۔ اور ان اثرات کو وہ پنجابی سے منسوب کرتے ہیں۔ شیرانی کو دکنی اردو میں جو ’’پنجابی پن‘‘ نظر آتا ہے وہ در حقیقت اس کا ’’ہریانوی پن‘‘ ہے، کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے دہلی سے ہریانہ قریب ہے، پنجاب نہیں۔اس لیے دہلی میں نمو پذیر ہونے والی زبان پر ہریانوی کا اثر پڑنافطری اور لازمی ہے۔ اس سلسلے میں مسعود حسین خاں کا یہ نقطۂ نظر کافی حقیقت پسندانہ ہے کہ ’’قدیم اردو کا پنجابی پن کھڑی /ہریانی کے ا ثرات کی وجہ سے تھا نہ کہ براہِ راست مسلمانوں کے پنجاب سے دہلی ہجرت کرنے کی وجہ سے۔‘‘(16)انھوں نے بہ حیثیت ماہر ِلسانیات نہایت وثوق کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ’’دکنی اردو کی کوئی بھی صوتیاتی، صرفی یا نحوی خصوصیت ایسی نہیں جس کی لسانیاتی توجیہ نواحِ دہلی کی دو بولیوں کھڑی اور ہریانی سے نہ کی جاسکے۔‘‘(17)اس واضح لسانی بیان سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ جسے شیرانی ’’پنجابی اور اردو کا اشتراک‘‘ کہتے ہیں وہ اصلاً ہریانوی اور اردو کا اشتراک ہے، اور ہریانوی نواحِ دہلی کی بولی ہے نہ کہ پنجاب کی۔یہ عجیب بات ہے کہ شیرانی ہریانوی کو ’’پرانی اردو‘‘ کہتے ہیں، لیکن ہریانوی کی لسانیاتی خصوصیات کو جو پرانی اردو میں نفوذ کرگئی ہیں، تسلیم نہیں کرتے۔ اگر وہ ہریانوی کے جائز مقام اور اس کی لسانیاتی خصوصیات کو تسلیم کرلیں تو ’پنجابی‘کا سارا تنازع ختم ہوسکتا ہے۔

علاوہ ان باتوں کے جن کا ذکر سطورِ بالا میں کیا گیا ہے، شیرانی کی متذکرہ کتاب تضادات کا بھی شکار ہوگئی ہے۔ ان کے چند متضاد بیانات کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے:

1-     شیرانی ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ ’’ہریانوی کوئی علیٰحدہ زبان کہلانے کی مستحق نہیں ہے‘‘،دوسری جانب وہ یہ فرماتے ہیں کہ ’’ وہ پرانی اردو ہے۔‘‘(ص18)

2-      شیرانی ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ’’اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں، بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے‘‘(ص19)، لیکن ہریانوی کے حوالے سے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’وہ پرانی اردو ہے، یعنی وہی اردو ہے جو گیارھویں صدی ہجری میں خود دہلی میں بھی بولی جاتی تھی۔‘‘ (ص18)۔ جب اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں تو یہ گیارھویں صدی ہجری میں دہلی میں کیونکر بولی جاتی تھی؟

3-      شیرانی کا یہ نقطۂ نظر کہ ’’وہ[اردو] مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے اور چونکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کرکے جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے کر گئے ہوں!‘‘ (ص 19)، لیکن دوسری طرف ان کا یہ کہنا کہ ’’بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ زبان [اردو]اسلامی دور میں دہلی کے اثرات میں بنتی ہے‘‘(ص18)، متضاد باتیں ہیں۔

4-      شیرانی کہتے ہیں کہ ’’اردو اور پنجابی زبانوں کی ولادت گاہ ایک ہی مقام ہے۔ دونوں نے ایک ہی جگہ تربیت پائی ہے اور جب سیانی ہوگئی ہیں تب ان میں جدائی واقع ہوئی ہے۔‘‘ (ص99)۔ دوسری جانب وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جس زبان سے اردو ارتقا پاتی ہے وہ نہ برج ہے، نہ ہریانی، اور نہ قنوجی ہے۔ وہ زبان ہے جو صرف دہلی اور میرٹھ کے علاقوں میں بولی جاتی تھی۔‘‘ (ص18)۔ جب اردو کی پنجابی کے ساتھ ہی پنجاب میں ’’ولادت‘‘ ہوجاتی ہے تو پھر اس کا دہلی اور میرٹھ میں بولی جانے والی زبان سے پیدا ہونے کے کیا معنی؟ کیا ان دونوں بیانات میں تضاد نہیں؟

یہ بات بلا تامل کہی جاسکتی ہے کہ محمود خاں شیرانی نے اردو کی ابتدا سے متعلق جس نظریے کی تشکیل کی ہے اس کے داخلی و خارجی شواہد اور دلائل نہایت کمزور اور غیر منطقی ہیں، اس لیے یہ نظریہ کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی،ناقابلِ قبول اور قابلِ رَد ہے!

لسانی تاریخ نویسی کے تیسرے اصول کے تحت متعلقہ زبان کے ارتقا کے مختلف ادوار کا تعین کیا جاتا ہے اور پورے دور کو زمانی اعتبار سے قدیم، وسطی اور جدید دور میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ شیرانی کی کتاب میں اردو کے مختلف ادوار کی زمانی اعتبار سے صراحت موجود نہیں ہے، یعنی انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اردو کا قدیم دور کب سے کب تک ہے، وسطی دور کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوجاتا ہے، اور جدید دور کی ابتدا کب سے ہوتی ہے؟ شیرانی کی اس کتاب میں اردو کے قدیم دور کا حوالہ تو ملتا ہے، لیکن یہ دور کب سے کب تک کا ہے، اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ شیرانی قدیم اردو کو دکنی اردو بھی کہتے ہیں اور اس کا موازنہ پنجابی سے کرتے ہیں۔اردو کی ابتدا کو مسعود حسین خاں مسلمانوں کی فتحِ دہلی (1193)سے مانتے ہیں، لیکن شیرانی لکھتے ہیں:

’’اصل یہ ہے کہ اردو کی داغ بیل اسی دن سے پڑنی شروع ہوگئی ہے، جس دن سے مسلمانوں نے ہندوستان میں توطن اختیار کرلیاہے۔‘‘(18)

اردو کی ابتدا کو مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد سے نسبت دینا ایک گمراہ کن نظریہ ہے۔ اردو ایک جدید ہند آریائی زبان ہے۔ اس کی ابتدا کے لیے شورسینی اپ بھرنش کے دورِ آخر کی لسانی تبدیلیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے انہی تبدیلیوں کے زیر اثر مدھیہ دیشہ(Midland)کی جدید ہند آریائی زبانوں کے سوتے پھوٹے۔ اردو انہی جدید ہند آریائی زبانوں میں سے ایک ہے۔ مسلمانوں کی 1000سنہِ عیسوی کے قریب ہندوستان میں آمد سے جدید ہند آریائی زبانوں کے ارتقا میں تیزی ضرور آئی، لیکن انھوں نے یہاں آکر کسی نئی زبان کو جنم نہیں دیا۔ اگر بعض ا ہلِ علم یہ سوچتے اور سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے لائے ہوئے چند عربی فارسی الفاظ سے اردو بن گئی تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ زبانیں مفرد الفاظ سے نہیں بنا کرتی ہیں، خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، بلکہ یہ قواعدی ڈھانچوں اور قواعدی اصولوں کی بنیاد پر تشکیل پذیر ہوتی ہیں۔ اردو کا تمام تر قواعدی ڈھانچا اور کینڈا انڈک (Indic)یعنی ہندی الاصل ہے، نیز قواعد کے اصول اور بنیادی الفاظ بھی ہندوستانی نژاد ہیں، اور دکنی اردو کے ذخیرۂ الفاظ کا تو معتد بہ حصہ تتسم (سنسکرت کے خالص الفاظ) اور تدبھو (بدلے ہوئے الفاظ) پر مشتمل تھا۔ ان میں سے بیشتر الفاظ و تراکیب بعد کے دور میں دہلی میں تحریکِ اصلاحِ زبان کے نام پر خارج کردیے گئے۔

لسانی تاریخ نویسی کا آخری مرحلہ جس کا ذکر اس کے چوتھے اصول کے تحت کیا گیا ہے، متعلقہ زبان کے دستیاب شدہ نمونوں اور مواد کا جائزہ اور ان کی بنیاد پر لسانی تبدیلیوں (صوتی، صرفی، نحوی، قواعدی تبدیلیوں) کا مطالعہ ہے۔

شیرانی نے، اردو زبان میں جو عہد بہ عہد تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، صرف پنجابی اور قدیم اردو/دکنی اردو کی لسانی مماثلتوں ہی پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے اور دکنی اردو کے لسانی امتیازات کو (جو در حقیقت ہریانوی کے اثرات کا نتیجہ ہیں) پنجابی کے اثرات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’پنجابی اور اردو [اردوئے قدیم/دکنی اردو] اپنی صرف و نحو میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔‘‘(19)

لیکن یہی بات وہ ہریانوی اور  اردو کے لیے بھی کہہ چکے ہیں،ملاحظہ ہویہ بیان:

’’اس میں [ہریانوی میں] اور اردو میں بہت کم فرق ہے۔‘‘(20)

ہریانوی اور اردو کے بارے میں ان کا یہ قول بھی ملاحظہ ہو:

’’ہریانی زبان در اصل ایک قسم کی اردو ہے۔‘‘(21)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب شیرانی ہریانوی اور قدیم اردو میں قربت دیکھتے ہیں، بلکہ ہریانوی ہی کو ’’اردو‘‘ یا ’’پرانی اردو‘‘ تسلیم کرتے ہیں تو قدیم اردو کی لسانی خصوصیات کو ہریانوی کی لسانی خصوصیات کیوں نہیں مان لیتے؟ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پنجابی، اردو اور ہریانوی کے باہمی رشتوں کے بارے میںخاصی الجھن (Confusion)میں مبتلا ہیں۔

حقیقتِ حال یہ ہے کہ پنجابی ایک علیٰحدہ زبان ہے اور اردو اس سے ایک علیٰحدہ زبان۔ نہ تو پنجابی سے اردو پیدا ہوئی ہے اور نہ اردو سے پنجابی، اور ہریانوی نواحِ دہلی کی ایک بولی ہے جس کا شمار کھڑی بولی کی طرح مغربی ہندی کی ’الف‘ پر ختم ہونے والی بولیوں میں ہوتا ہے۔ اس نے قدیم اردو کو جب کہ وہ سیال حالت میںتھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ شیرانی دکنی اردو کو دیکھ کر یہ سمجھ بیٹھے کہ اس پر پنجابی کے اثرات ہیں ا ور فوراً یہ نظریہ قائم کرلیا کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی، لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی۔ شیرانی اس لسانی حقیقت کو فراموش کر جاتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی (971-1030)کے عہد میں اور اس کے بعد بھی پنجاب میں شورسینی اپ بھرنش سے جس ہندآریائی زبان کی تشکیل عمل میں آرہی تھی وہ پنجابی تھی، نہ کہ اردو۔ یہی وجہ ہے کہ آج پنجاب کا بچہ بچہ پنجابی بولتا ہے جو ایک فطری عمل ہے۔

شیرانی کی اس تصنیف میں اردو زبان میں عہد بہ عہد رو نما ہونے والی لسانی تبدیلیوں کے عمل کا جائزہ نہیں ملتا۔ کہیں کہیں انھوں نے صوتی و صرفی تبدیلیوں سے مبہم انداز میں بحث کی ہے اور یہ دکھلایا ہے کہ پنجابی اوردکنی میں الفاظ کی صورت یوں تھی اور بعد کے دور میں یوں ہوگئی۔ پنجابی اور اردو میں جو لسانی فرق پایا جاتا ہے اسے وہ ’’اختلاف‘‘ کا نام دیتے ہیں اور لکھتے ہیں:

’’ان زبانوں [پنجابی اور اردو] میں جو اختلاف دیکھا جاتا ہے وہ اکثر اس وقت واقع ہوا ہے جب اردو کی پرورش شعراء اور تعلیم یافتہ طبقہ نے دہلی اور لکھنؤ میں شروع کی ہے۔‘‘(22)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ محمود خاں شیرانی نے اپنی معرکہ آرا تصنیف ’پنجاب میں اردو‘ میں دو زبانوں، پنجابی اوردکنی اردو کے تقابلی مطالعے کی جو کوشش کی ہے وہ یقینا لائقِ تحسین ہے، لیکن اس سے انھوں نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ کئی وجوہ سے ماہرینِ لسانیات کے نزدیک نا قابلِ قبول ہے۔ دوسری قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شیرانی نے بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ پنجاب اورہریانہ کے قدیم اردو کے نمونوں کو تلاش کیا ہے اور ان تصانیفِ نثر و نظم کو ڈھونڈ نکالا ہے جن کی اردو زبان کے تاریخی مطالعے میں بیحد اہمیت ہے۔ شیرانی کے نظریے کی کئی محققین اور ماہرینِ لسانیات نے تردید کی ہے جن میں مسعود حسین خاں پیش پیش رہے ہیں۔ اب اس نظریے کی لسانیاتی نقطۂ نظر سے کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ یوں بھی شیرانی کی اس تحقیق کو چند سال بعد پوری ایک صد ی کا عرصہ گذر چکا ہوگا اورعلمی دنیا جانتی ہے کہ تحقیق میں کوئی بھی چیز مستقل یا حتمی نہیں ہوا کرتی!

 

حواشی

1-      مسعود حسین خاں کی تحقیقی تصنیف ’مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو‘ پہلی بار 1948میں دہلی سے شائع ہوئی، لیکن جب 1987میں اس کا ساتواں ایڈیشن شائع ہوا تو اس میں انھوں نے نئی معلومات کی روشنی میں کچھ ترمیمات اور اضافے کیے اور اس کا تیسرا باب ا زسرِ نو لکھا۔ علاوہ  ازیں اردو کے ماخذ کے بارے میں ’’تھوڑی سی نظریاتی ترمیم‘‘ بھی کی۔

2-      حافظ محمود خاں شیرانی، ’پنجاب میں اردو‘ (لکھنو: نسیم بک ڈپو، لاٹوش روڈ، 1970)، ص 99۔

3-      ایضاً، ص 19۔

4-      ایضاً، ص 19۔

5-      ایضاً، ص 84۔

6-      مسعود حسین خاں، ’’اردو زبان کی ابتدا اور ارتقا کا مسئلہ‘‘، مشمولہ ’اردو زبان کی تاریخ‘، مرتبہ مرزا خلیل احمد بیگ (علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، ری پرنٹ2007)، ص90۔

7-      حافظ محمود خاں شیرانی، محولۂ بالا کتاب، ص 19۔

8-      ایضاً، ص 80۔

9-      مسعود حسین خاں، محولۂ بالا مضمون، مشمولۂ ’اردو زبان کی تاریخ، مرتبہ مرزا خلیل احمد بیگ، ص 88۔

10-    مسعود حسین خاں، ’مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو‘، ساتواں ایڈیشن(علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1987)، ص 262۔

11-    حافظ محمود خاں شیرانی، محولۂ بالا کتاب، ص 81۔

12-    ایضاً، ص 18۔

13-    ایضاً، ص 19۔

14-    ایضاً، ص 19۔

15-    ایضاً، ص 18۔

16-    مسعود حسین خاں، ’’اردو کی ابتدا سے متعلق چند مشاہدات‘ مشمولۂ ’اردو زبان کی تاریخ‘، مرتبہ مرزا خلیل احمد بیگ، ص37۔

17-    ایضاً، ص 19۔مسعود حسین خاں، ’’اردوزبان کی ابتدا اور ارتقا کا مسئلہ‘‘، مشمولہ ’اردو زبان کی تاریخ‘، مرتبہ مرزا خلیل احمد بیگ،ص87۔

18-    حافظ محمود خاں شیرانی، محولۂ بالا کتاب، ص54۔

19-    ایضاً، ص 84۔

20-    ایضاً، ص 18۔

21-    ایضاً، ص 25۔

22-    ایضاً، ص 99۔

—————

 

Prof. Mirza Khalil Ahmad Beg

C/o Dr. Asna Ashraf

Ujala Medical Center

B-2247, Indira Nagar

LUCKNOW – 226016 (U.P.)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

5 comments

Dr. Sajid Javed جون 1, 2021 - 12:48 شام

ایک بہت اہم لسانی تحقیق اور ماہرانہ لسانی تنقیدی تبصرہ۔ عصر حاضر میں مرزا خلیل احمد بیگ کا نام بہت بڑی عطا ہے۔

Reply
فتح محمد ملک کی تنقید نگاری - محمد آصف - Adbi Miras جون 1, 2021 - 7:11 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

Leave a Comment